کیا عورت کا چہرہ بھی فحاشی کے زمرے میں آتا ہے؟

Zinda_Rood

Minister (2k+ posts)

ہم اکیسویں صدی میں رہ رہے ہیں اور ہمارے سماج میں پدرسری جبر کا یہ عالم ہے کہ ہم نے آج بھی اپنی عورتوں کو منہ چھپانے پر مجبور کیا ہوا ہے، کوئی صاحبِ دانش میرے علم میں اضافہ کرے کہ آخر عورت کا منہ چھپانا کیوں ضروری ہے، جہاں تک میرا مشاہدہ ہے عورت کے چہرے پر ایسی کوئی اضافی چیز نہیں ہوتی جو مرد کے چہرے پر نہ ہو، عورت کا بھی ایک ناک ہوتا ہے، مرد کا بھی ایک ناک ہوتا ہے، عورت کی بھی دو آنکھیں ہوتی ہیں، ایک منہ ہوتا ہے، مرد کی بھی دو آنکھیں اور ایک منہ ہوتا ہے، جب دونوں کا چہرہ ایک ہی جیسا ہوتا ہے تو پھر کیا وجہ ہےکہ عورتوں کیلئے نقاب اور پردے کے ذریعے منہ چھپانے کی ترغیب جبکہ مرد کو کھلے منہ گھومنے کی آزادی۔

ہم نے عورت پر صدیوں کے جبر کے ذریعے منہ چھپانے کی روایت کو اس قدر راسخ کردیا ہے کہ عورت بھی اس کو اپنی زندگی کا لازمی جزو سمجھنے لگی ہے، اس کے ذہن میں یہ سوال ہی نہیں اٹھتا کہ آخر اس نے کونسا ایسا جرم یا گناہ کردیا ہے جو اس کو منہ چھپا کر رہنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ منہ تو وہ چھپاتا ہے جس نے کوئی جرم کیا ہو، کوئی گناہ کیا ہو، جس کو کوئی شرمندگی ہو، جو دنیا کا سامنا کرنے سے کتراتا ہو، وہ منہ چھپاتا ہے، عورت نے ایسا کیا گناہ کیا ہے کہ اس پر منہ چھپانے کی روایت مسلط کی جاتی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس معاشرے کے مردوں کے نزدیک عورت کا وجود ہی گناہ ہے ، جرم ہے، اسی لئے عورت کو کالے کپڑوں سے ڈھانپ کر اس "جرم" پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔۔

اگر دیکھا جائے تو ڈیپ ڈاؤن یہی سبب ہے، کسی زمانے میں گھروں میں لڑکی پیدا ہوتی تھی تو گھر پر اداسی چھا جاتی تھی اور لڑکے کے پیدا ہونے پر خوشیاں منائی جاتی تھیں، عورت کے منہ کو چھپانے کی مردانہ روایت کے پیچھے یہی ذہنیت کارفرما ہے۔ دراصل ہمارے سماج کے مرد کی فرسودہ ذہنیت عورت کے ساتھ اپنا تعلق اپنی شناخت جوڑتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتی ہے، ہمارے مردوں کو شرم آتی ہے دوسروں کے سامنے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ ان کے گھر میں کوئی بہن ہے یا بیٹی ہے، یہ پدرشاہی ذہنیت رکھنے والا سماج عورت کے وجود سے تعلق کی بنا پر ایک دوسرے سے ہی شرمندہ ہوتے پھررہے ہیں ، وگرنہ جس باپ کو اپنی بیٹی کے وجود سے شرمندگی نہ ہو، وہ کیوں اسے کہے گا کہ تم نے باہر جانا ہے تو منہ چھپا کر جانا ہے، جس بھائی کو اپنی بہن کے وجود سے شرمندگی نہ ہو، وہ کیوں اسے کہے گا کہ تم نے خود کو کالے کپڑے میں لپیٹ کر رکھنا ہے۔ اپنے گھر کی عورتوں کو ، اپنی بہن کو، اپنی بیٹی کو منہ چھپانے کی یا برقعہ اوڑھنے کی تلقین تو وہی مرد کرے گا نا جس کو ان عورتوں کے ساتھ اپنا تعلق ظاہر کرتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہو۔ ایک بھائی جس کیلئے اپنی بہن کا وجود باعثِ شرمندگی ہو، وہی اپنی بہن کو یہ تلقین کرتا ہے کہ تم نے باہر نکلنا ہے تو منہ چھپا کر نکلنا ہے، برقعہ اوڑھ کر نکلنا ہے، کسی کو پتا نہیں چلنا چاہئے کہ تم کون ہو، کسی کو یہ علم نہیں ہونا چاہئے کہ تمہارا مجھ سے کوئی تعلق ہے، اسی طرح جس باپ کو اپنی بیٹی کا وجود شرمندگی کا سبب لگتا ہے، وہی اپنی بیٹی کو کہتا ہے کہ تم نے باہر نکلنا ہے تو خود کو کالے کپڑوں میں لپیٹ کر ایک بے شناخت وجود کے طور پر باہر نکلنا ہے، باہر کسی کو یہ جاننے کا یہ کہنے کا موقع نہیں ملنا چاہئے کہ یہ فلاں کی بیٹی ہے، تمہارا وجود میرے لئے کلنک ہے، شرمندگی ہے۔۔

آپ لوگوں کو شاید عجیب لگے، مگر ذرا اپنا سائیکو انالسس کریں تو اندرخانے یہی ذہنیت ہے جو ہمارے سماج کے ذہنوں میں اس قدر راسخ ہوچکی ہے کہ خود ان کو احساس نہیں ہے۔ ہمارا مردانہ سماج عورت کے وجود سے شرمندہ ہے۔ وگرنہ اور کیا وجہ ہوسکتی ہے کہ عورت کو چہرہ چھپا کر رکھنے پر مجبور کیا جائے۔ کیا عورت کا چہرہ بھی فحاشی کے زمرے میں آتا ہے؟ اگر کسی کو عورت کے چہرے میں فحاشی نظر آتی ہے تو ایسا شخص بیمار ذہنیت کا مالک ہے، ایسے بیمار ذہن شخص سے سب سے زیادہ خطرہ اس کے اپنے گھر کی عورتوں کو ہے، ایسے شخص کو پہلی فرصت میں نفسیاتی امراض کے ہسپتال میں داخل کروا دینا چاہئے۔ نارمل ذہن کے انسان کو نہ عورت کے چہرے میں فحاشی نظر آنی چاہئے اور نہ ہی عورت کے وجود سے شرمندہ ہونا چاہئے۔۔
 
Advertisement

Diabetes

Politcal Worker (100+ posts)
I don't think so it is because of man society. Hiding faces is only in Muslim societies. In the same region, there are other religions like Hindu, Christians, Sikh etc. They don't force their women to hide their faces.
 

Sohail Shuja

Chief Minister (5k+ posts)

ہم اکیسویں صدی میں رہ رہے ہیں اور ہمارے سماج میں پدرسری جبر کا یہ عالم ہے کہ ہم نے آج بھی اپنی عورتوں کو منہ چھپانے پر مجبور کیا ہوا ہے، کوئی صاحبِ دانش میرے علم میں اضافہ کرے کہ آخر عورت کا منہ چھپانا کیوں ضروری ہے، جہاں تک میرا مشاہدہ ہے عورت کے چہرے پر ایسی کوئی اضافی چیز نہیں ہوتی جو مرد کے چہرے پر نہ ہو، عورت کا بھی ایک ناک ہوتا ہے، مرد کا بھی ایک ناک ہوتا ہے، عورت کی بھی دو آنکھیں ہوتی ہیں، ایک منہ ہوتا ہے، مرد کی بھی دو آنکھیں اور ایک منہ ہوتا ہے، جب دونوں کا چہرہ ایک ہی جیسا ہوتا ہے تو پھر کیا وجہ ہےکہ عورتوں کیلئے نقاب اور پردے کے ذریعے منہ چھپانے کی ترغیب جبکہ مرد کو کھلے منہ گھومنے کی آزادی۔

ہم نے عورت پر صدیوں کے جبر کے ذریعے منہ چھپانے کی روایت کو اس قدر راسخ کردیا ہے کہ عورت بھی اس کو اپنی زندگی کا لازمی جزو سمجھنے لگی ہے، اس کے ذہن میں یہ سوال ہی نہیں اٹھتا کہ آخر اس نے کونسا ایسا جرم یا گناہ کردیا ہے جو اس کو منہ چھپا کر رہنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ منہ تو وہ چھپاتا ہے جس نے کوئی جرم کیا ہو، کوئی گناہ کیا ہو، جس کو کوئی شرمندگی ہو، جو دنیا کا سامنا کرنے سے کتراتا ہو، وہ منہ چھپاتا ہے، عورت نے ایسا کیا گناہ کیا ہے کہ اس پر منہ چھپانے کی روایت مسلط کی جاتی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس معاشرے کے مردوں کے نزدیک عورت کا وجود ہی گناہ ہے ، جرم ہے، اسی لئے عورت کو کالے کپڑوں سے ڈھانپ کر اس "جرم" پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔۔

اگر دیکھا جائے تو ڈیپ ڈاؤن یہی سبب ہے، کسی زمانے میں گھروں میں لڑکی پیدا ہوتی تھی تو گھر پر اداسی چھا جاتی تھی اور لڑکے کے پیدا ہونے پر خوشیاں منائی جاتی تھیں، عورت کے منہ کو چھپانے کی مردانہ روایت کے پیچھے یہی ذہنیت کارفرما ہے۔ دراصل ہمارے سماج کے مرد کی فرسودہ ذہنیت عورت کے ساتھ اپنا تعلق اپنی شناخت جوڑتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتی ہے، ہمارے مردوں کو شرم آتی ہے دوسروں کے سامنے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ ان کے گھر میں کوئی بہن ہے یا بیٹی ہے، یہ پدرشاہی ذہنیت رکھنے والا سماج عورت کے وجود سے تعلق کی بنا پر ایک دوسرے سے ہی شرمندہ ہوتے پھررہے ہیں ، وگرنہ جس باپ کو اپنی بیٹی کے وجود سے شرمندگی نہ ہو، وہ کیوں اسے کہے گا کہ تم نے باہر جانا ہے تو منہ چھپا کر جانا ہے، جس بھائی کو اپنی بہن کے وجود سے شرمندگی نہ ہو، وہ کیوں اسے کہے گا کہ تم نے خود کو کالے کپڑے میں لپیٹ کر رکھنا ہے۔ اپنے گھر کی عورتوں کو ، اپنی بہن کو، اپنی بیٹی کو منہ چھپانے کی یا برقعہ اوڑھنے کی تلقین تو وہی مرد کرے گا نا جس کو ان عورتوں کے ساتھ اپنا تعلق ظاہر کرتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہو۔ ایک بھائی جس کیلئے اپنی بہن کا وجود باعثِ شرمندگی ہو، وہی اپنی بہن کو یہ تلقین کرتا ہے کہ تم نے باہر نکلنا ہے تو منہ چھپا کر نکلنا ہے، برقعہ اوڑھ کر نکلنا ہے، کسی کو پتا نہیں چلنا چاہئے کہ تم کون ہو، کسی کو یہ علم نہیں ہونا چاہئے کہ تمہارا مجھ سے کوئی تعلق ہے، اسی طرح جس باپ کو اپنی بیٹی کا وجود شرمندگی کا سبب لگتا ہے، وہی اپنی بیٹی کو کہتا ہے کہ تم نے باہر نکلنا ہے تو خود کو کالے کپڑوں میں لپیٹ کر ایک بے شناخت وجود کے طور پر باہر نکلنا ہے، باہر کسی کو یہ جاننے کا یہ کہنے کا موقع نہیں ملنا چاہئے کہ یہ فلاں کی بیٹی ہے، تمہارا وجود میرے لئے کلنک ہے، شرمندگی ہے۔۔

آپ لوگوں کو شاید عجیب لگے، مگر ذرا اپنا سائیکو انالسس کریں تو اندرخانے یہی ذہنیت ہے جو ہمارے سماج کے ذہنوں میں اس قدر راسخ ہوچکی ہے کہ خود ان کو احساس نہیں ہے۔ ہمارا مردانہ سماج عورت کے وجود سے شرمندہ ہے۔ وگرنہ اور کیا وجہ ہوسکتی ہے کہ عورت کو چہرہ چھپا کر رکھنے پر مجبور کیا جائے۔ کیا عورت کا چہرہ بھی فحاشی کے زمرے میں آتا ہے؟ اگر کسی کو عورت کے چہرے میں فحاشی نظر آتی ہے تو ایسا شخص بیمار ذہنیت کا مالک ہے، ایسے بیمار ذہن شخص سے سب سے زیادہ خطرہ اس کے اپنے گھر کی عورتوں کو ہے، ایسے شخص کو پہلی فرصت میں نفسیاتی امراض کے ہسپتال میں داخل کروا دینا چاہئے۔ نارمل ذہن کے انسان کو نہ عورت کے چہرے میں فحاشی نظر آنی چاہئے اور نہ ہی عورت کے وجود سے شرمندہ ہونا چاہئے۔۔
اسلامی اقدار میں غیر شادی شدہ عورت کے لیئے اجازت ہے کہ وہ اگر اپنا چہرہ نہ چھپانا چاہے تو اجازت ہے۔
شادی شدہ عورتوں کے لیئے نقاب کرنا افضل ہے۔
لیکن ان عورتوں کے لیئے بھی اجازت ہے جو ایک خاص عمر سے گزر چکی ہوں اور انھیں احتمال نہ ہو کہ وہ کسی اپنی شکل دکھا کر کسی گلی کے کونے میں کھڑے تاڑو کو اپنے پیچھے لگا لیں گی جو روز گھر تک چھوڑنے آئے گا۔

اسلام میں حجاب پر زیادہ زور ہے۔
اسکی سائنسی تاویلات بھی اب انسان کو مل چکی ہیں۔

اور عورت کے وجود سے کبھی اسلام تو نہیں شرمندہ ہوتا بلکہ ایک اچھی عورت کو کسی قوم کا بہترین اثاثہ کہتا ہے۔

بہرحال، یہ لب و رخسار، پر شاعری فرمانے والوں کا بھی بہت قصور ہے اس میں۔

اب آپ اپنی لگائی ہوئی تصویر کو ہی دیکھ لیں۔
کیا اسمیں خوبصورتی نہیں ہے؟

اور انتہائی افسوس کے ساتھ۔۔۔۔۔ مردوں کا منہ کھلا کیوں چھوڑا گیا ہے، کیونکہ ۔۔۔۔ اپنی خوبصورتی سے میں تو واقف ہوں، آپ کو شائد ابھی تک کسی نے اصل حقیقت سے آگاہ نہیں کیا۔

 

Sohail Shuja

Chief Minister (5k+ posts)

ہم اکیسویں صدی میں رہ رہے ہیں اور ہمارے سماج میں پدرسری جبر کا یہ عالم ہے کہ ہم نے آج بھی اپنی عورتوں کو منہ چھپانے پر مجبور کیا ہوا ہے، کوئی صاحبِ دانش میرے علم میں اضافہ کرے کہ آخر عورت کا منہ چھپانا کیوں ضروری ہے، جہاں تک میرا مشاہدہ ہے عورت کے چہرے پر ایسی کوئی اضافی چیز نہیں ہوتی جو مرد کے چہرے پر نہ ہو، عورت کا بھی ایک ناک ہوتا ہے، مرد کا بھی ایک ناک ہوتا ہے، عورت کی بھی دو آنکھیں ہوتی ہیں، ایک منہ ہوتا ہے، مرد کی بھی دو آنکھیں اور ایک منہ ہوتا ہے، جب دونوں کا چہرہ ایک ہی جیسا ہوتا ہے تو پھر کیا وجہ ہےکہ عورتوں کیلئے نقاب اور پردے کے ذریعے منہ چھپانے کی ترغیب جبکہ مرد کو کھلے منہ گھومنے کی آزادی۔

ہم نے عورت پر صدیوں کے جبر کے ذریعے منہ چھپانے کی روایت کو اس قدر راسخ کردیا ہے کہ عورت بھی اس کو اپنی زندگی کا لازمی جزو سمجھنے لگی ہے، اس کے ذہن میں یہ سوال ہی نہیں اٹھتا کہ آخر اس نے کونسا ایسا جرم یا گناہ کردیا ہے جو اس کو منہ چھپا کر رہنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ منہ تو وہ چھپاتا ہے جس نے کوئی جرم کیا ہو، کوئی گناہ کیا ہو، جس کو کوئی شرمندگی ہو، جو دنیا کا سامنا کرنے سے کتراتا ہو، وہ منہ چھپاتا ہے، عورت نے ایسا کیا گناہ کیا ہے کہ اس پر منہ چھپانے کی روایت مسلط کی جاتی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس معاشرے کے مردوں کے نزدیک عورت کا وجود ہی گناہ ہے ، جرم ہے، اسی لئے عورت کو کالے کپڑوں سے ڈھانپ کر اس "جرم" پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔۔

اگر دیکھا جائے تو ڈیپ ڈاؤن یہی سبب ہے، کسی زمانے میں گھروں میں لڑکی پیدا ہوتی تھی تو گھر پر اداسی چھا جاتی تھی اور لڑکے کے پیدا ہونے پر خوشیاں منائی جاتی تھیں، عورت کے منہ کو چھپانے کی مردانہ روایت کے پیچھے یہی ذہنیت کارفرما ہے۔ دراصل ہمارے سماج کے مرد کی فرسودہ ذہنیت عورت کے ساتھ اپنا تعلق اپنی شناخت جوڑتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتی ہے، ہمارے مردوں کو شرم آتی ہے دوسروں کے سامنے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ ان کے گھر میں کوئی بہن ہے یا بیٹی ہے، یہ پدرشاہی ذہنیت رکھنے والا سماج عورت کے وجود سے تعلق کی بنا پر ایک دوسرے سے ہی شرمندہ ہوتے پھررہے ہیں ، وگرنہ جس باپ کو اپنی بیٹی کے وجود سے شرمندگی نہ ہو، وہ کیوں اسے کہے گا کہ تم نے باہر جانا ہے تو منہ چھپا کر جانا ہے، جس بھائی کو اپنی بہن کے وجود سے شرمندگی نہ ہو، وہ کیوں اسے کہے گا کہ تم نے خود کو کالے کپڑے میں لپیٹ کر رکھنا ہے۔ اپنے گھر کی عورتوں کو ، اپنی بہن کو، اپنی بیٹی کو منہ چھپانے کی یا برقعہ اوڑھنے کی تلقین تو وہی مرد کرے گا نا جس کو ان عورتوں کے ساتھ اپنا تعلق ظاہر کرتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہو۔ ایک بھائی جس کیلئے اپنی بہن کا وجود باعثِ شرمندگی ہو، وہی اپنی بہن کو یہ تلقین کرتا ہے کہ تم نے باہر نکلنا ہے تو منہ چھپا کر نکلنا ہے، برقعہ اوڑھ کر نکلنا ہے، کسی کو پتا نہیں چلنا چاہئے کہ تم کون ہو، کسی کو یہ علم نہیں ہونا چاہئے کہ تمہارا مجھ سے کوئی تعلق ہے، اسی طرح جس باپ کو اپنی بیٹی کا وجود شرمندگی کا سبب لگتا ہے، وہی اپنی بیٹی کو کہتا ہے کہ تم نے باہر نکلنا ہے تو خود کو کالے کپڑوں میں لپیٹ کر ایک بے شناخت وجود کے طور پر باہر نکلنا ہے، باہر کسی کو یہ جاننے کا یہ کہنے کا موقع نہیں ملنا چاہئے کہ یہ فلاں کی بیٹی ہے، تمہارا وجود میرے لئے کلنک ہے، شرمندگی ہے۔۔

آپ لوگوں کو شاید عجیب لگے، مگر ذرا اپنا سائیکو انالسس کریں تو اندرخانے یہی ذہنیت ہے جو ہمارے سماج کے ذہنوں میں اس قدر راسخ ہوچکی ہے کہ خود ان کو احساس نہیں ہے۔ ہمارا مردانہ سماج عورت کے وجود سے شرمندہ ہے۔ وگرنہ اور کیا وجہ ہوسکتی ہے کہ عورت کو چہرہ چھپا کر رکھنے پر مجبور کیا جائے۔ کیا عورت کا چہرہ بھی فحاشی کے زمرے میں آتا ہے؟ اگر کسی کو عورت کے چہرے میں فحاشی نظر آتی ہے تو ایسا شخص بیمار ذہنیت کا مالک ہے، ایسے بیمار ذہن شخص سے سب سے زیادہ خطرہ اس کے اپنے گھر کی عورتوں کو ہے، ایسے شخص کو پہلی فرصت میں نفسیاتی امراض کے ہسپتال میں داخل کروا دینا چاہئے۔ نارمل ذہن کے انسان کو نہ عورت کے چہرے میں فحاشی نظر آنی چاہئے اور نہ ہی عورت کے وجود سے شرمندہ ہونا چاہئے۔۔
ویسے وہ پوچھنا یہ رہ گیا تھا کہ اسلامی معاشی نظام پر آپ کو قرض کی فراہمی کا ریفرنس مل گیا تھا تب خاموش ہو گئے یا پھر ۔۔۔۔ خدانخواستہ ترکش کے تیر ختم ہوگئے؟
 

hello

Senator (1k+ posts)
کیا پردہ صرف دل کا ہوتا ہے؟
جو چیز جتنی قیمتی ہوتی ہے اس کی اتنی ہی حفاظت کی جاتی ہے،
اللہ پاک نے انسان کی رہنمائی و ہدایت کے لیے قرآن پاک کو نازل فرمایا اور انسان کو اشرف المخلوقات کے اعلیٰ منصب پر فائز فرما کر انسانیت کو معراج بخشی اور مرد وعورت کو مختلف رشتوں کے ذریعے ایک دوسرے کا ہمدرد بنایا، مرد کو عورت پر قوت عطا فرمائی جیسا کہ اس کا فرمان ہے۔

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ ترجمۂ کنز الایمان: مرد افسر ہیں عورتوں پر۔ (پارہ5، نساء، آیت34)

صدرالافاضل حضرت علامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی اس آیت کی تفسیر کے تحت فرماتے ہیں: عورتوں کو شوہر کی اطاعت لازم ہے۔ مردوں کو حق ہے کہ وہ عورتوں پر رعایا کی طرح حکمرانی کریں اور ان کے مصالح اور تدابیر اور تادیب و حفاظت کی سر انجام دہی کریں۔(تفسیر خزائن العرفان، پارہ5، نساء، آیت34، ص164)

مرد کو باہر جاکر کھانے اور باہر کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بنایا گیا ہے جبکہ عورت کو گھر میں رہ کر اندرونی زندگی سنبھالنے کی ذمہ داری عنایت کی گئی ہے۔ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ عورتوں کا گھروں میں قید رکھنا ان پر ظلم ہے جب مرد باہر کی ہوا کھاتے ہیں تو ان کو اس نعمت سے کیوں محروم رکھا جاتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ گھر عورت کیلئے قید خانہ نہیں بلکہ اس کا چمن ہے۔ گھر کے کام کاج اور اپنے بال بچوں کی دیکھ بھال کر کے وہ ایسی خوش رہتی ہے جیسے چمن میں بلبل۔ گھر میں رکھنا اس پر ظلم نہیں، بلکہ عزت و عصمت کی حفاظت ہے۔ جیسے بکری اسی لیے ہے کہ رات کو گھر رکھی جائے اور شیر، چیتا اور محافظ کتا اس لیے ہے کہ ان کو آزاد پھرایا جائے، اگر بکری کو آزاد کیا تو اس کی جان خطرے میں ہے اس کو شکاری جانور پھاڑ ڈالیں گے۔ (اسلامی زندگی، ص۱۰۴)

قرآن پاک میں اللہ پاک نے مختلف احکامات بیان فرمائے ہیں، انہی احکامات میں سے ایک حکم پردے کا بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پردہ کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے تاکہ معاشرے سے بدنگاہی، بدکاری ختم کی جاسکے اور انسان کو اس بات کا پابند بنایا جاسکے کہ اللہ پاک کی حرام کردہ اشیا کو دیکھنا ممنوع ہے۔

اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ (پارہ18، سورۃ نور،آیت30)

اسی طرح عورتوں کو پردہ کا حکم ارشاد فرماتا ہے: اے نبی اپنی بیبیوں اور صاجزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان ہوتو ستائی جائیں۔ (پارہ 22، احزاب،آیت59)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: پہلے نظر بہکتی ہے، پھر دل بہکتا ہے، پھر ستر بہکتا ہے۔ (انوار رضا، ص۳۹۱)

کن اعضا کا پردہ ضروری ہے:

پردہ کا معنی: ڈھانپنا، چھپانا ہے۔ مرد کو ناف کے نیچے سے لے کر گھٹنوں سمیت چھپانا لازمی ہے، جس میں ناف شامل نہیں، عورت کو دونوں ہتھیلیوں، دونوں پاؤں کے تلوؤں،پاؤں اور ہاتھوں کی پشت اور منہ کی ٹکلی کے علاوہ سارا جسم چھپانا ضروری ہے۔ (الدرالمختار، کتاب الصلوۃ، ج۱، ص۶۵)

حکم شرعی:

آج کل یہ بات سماعت کے دروازے پر بار بار دستک دیتی ہے کہ پردہ تو صرف دل کا ہوتا ہے، جب کہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس جملے میں قرآن پاک کی اس واضح آیت کے انکار کا پہلو موجود ہے، جس میں ظاہری جسم کو چھپانے کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم کے پارہ22، سورۃ احزاب، آیت33 میں ارشاد فرماتا ہے: اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی۔

بے حیائی کے حیا سوز سمندر کی موجیں ٹھاٹیں مارتی ہوئی بے لگام ہو چکی ہیں اور لوگ اپنی ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کو خوب سجا سنوار کر کار کی فرنٹ سیٹ پر اور بائیک پر پیچھے بٹھاکر سفر کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں جبکہ ہمارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشاد فرما تے ہیں: تین شخص جنت میں نہ جائیں گے ماں باپ کا نافرمان اوردیوث اور مردانی وضع کی عورت۔(المستدرک للحاکم، ج۱، ص۷۲)

حضرت علامہ علاؤالدین حصکفی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ در مختار میں دیوث کی تعریف یوں کرتے ہیں : دیُّوث وہ شخص ہوتا ہے جو اپنی بیوی یا کسی محرم پر غیرت نہ کھائے۔ (رد المحتارعلی الدرالمختار،کتاب الحدود،ج۶،ص۱۱۳)

اگرشوہر واقعی دیکھتا اور اس پر راضی ہوتا ہے یا بقدرِ قدرت منع نہیں کرتا تو دیوث ہے اور دیوث پر جنت حرام ہے، نیز اقارب فریقین جو منع نہیں کرتے شریک گناہ و مستحق عذاب ہیں، جیسا کہ رب تعالی کا فرمان ہے: وہ ان بدکرداروں کو برائی سے منع نہ کرتے تھے البتہ جو وہ کرتے تھے بہت برا ہے۔(پارہ6، مائدہ، آیت79)۔ (فتاوٰی رضویہ)

دور حاضر میں بے پردگی کے اسباب

دور حاضر میں بے پردگی کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں فلمیں، ڈرامے بھی ہیں کیونکہ ان میں پردہ کا نام و نشان ہی نہیں ہوتا اور شرعی نکتہ نگاہ سے دیکھا جائے تو فلمیں ڈرامے دیکھنا حرام ہے۔ بنت حوا کے سر سے چادر اتروانے میں بہت بڑا کردار موبائل اور انٹرنیٹ کا بھی ہے۔ رہی سہی کسر کیبل اور سستے کال اور ایس ایم ایس پیکجز نے پوری کردی۔ سیر و تفریح کے نام پر پارکس اور مخلوط تعلیمی نظام نے بھی پردے کی پاکیزگی کو سراسر روند کر رکھ دیا ہے۔ پہلے بھی عشق و محبت کیا جاتا تھا لیکن چھپ کر مگر اب تو بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کا ناپاک رشتہ قائم کرکے پارکس اور یونیورسٹی میں کھلم کھلا حیا کا جنازہ نکالا جاتا ہے اور یہ بے تکلف دوستی اس خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے کہ نہ ہونے کا ہو جاتا ہے۔ پھر والدین کو شادی کے لئے مجبور کیا جاتا ہے، اگر والدین راضی نہ ہوں تو گھر سے بھاگ کر شادی کی جاتی ہے۔ ان تمام کی وجوہات کو اگر ایک لفظ میں تحریر کیا جائے تو اسے بے پردگی کا نام دیا جائے گا۔

میرا جسم میری مرضی:

کچھ دنوں پہلے سوشل میڈیا پر یہ عنوان زیر بحث رہا مگر ایسا ہرگز نہیں ہمارا جسم ہماری مرضی نہیں کیونکہ ہمارا خالق و مالک اللہ پاک ہے۔ اس نے ہمیں صرف اور صرف عبادت کے لئے پیدا فرمایا اور ہمیں دین اسلام کی نعمتِ عظمیٰ سے سرفراز فرمایا، اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جس طرح ہر مذہب، ہر تنظیم اور ہر ادارے کے کچھ اصول و ضوابط ہوتے ہیں، اسی طرح اسلام بھی اپنے ماننے والوں سے اللہ پاک اور رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بتائے ہوئے احکامات پر عمل پیرا ہونے کا تقاضا کرتا ہے، اسلام نے عورت کو پردہ کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ جو چیز جتنی قیمتی ہوتی ہے اس کی اتنی ہی حفاظت کی جاتی ہے، ہمارا جسم، ہماری روح، ہمارے اعضا کا ایک ایک ذرہ اُسی کی تابع ہے، لہذا ہمیں اللہ پاک اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اطاعت کرتے ہوئے پردہ کو اپنانا چاہئے کیونکہ جو کار کپڑے سے ڈھکی ہوئی ہو، مٹی سے محفوظ رہتی ہے، اپنی آنکھوں کو جھکا کر رکھیں، اس طرح ہم بدنگاہی سے بچنے میں کسی حد تک کامیاب ہوسکتے ہیں۔

دنیا بہت آگے نکل چکی ہے!

بعض لوگوں کا کہنا ہے: دنیا بہت آگے نکل چکی ہے، پردے کے معا ملے میں اتنی زیادہ سختی نہیں کرنی چاہئے تو ان کی خدمتوں میں عرض ہے کہ اللہ پاک اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا کوئی بھی حکم ایسا نہیں جو مسلمان پر اس کی طاقت سے زائد ہو۔ جیسا کہ پارہ3، سورۃ البقرہ، آیت286 میں ارشادِ خُداوَندی ہے: اللہ تعالیٰ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔

موجودہ دور کی بے پردگی کو دیکھیں تو اکبر الہ آبادی کی روح تڑپ کر کہتی ہے:

بے پردہ کل جو آئیں نظر چند بیبیاں اکبر زمیں میں غیرت ِقومی سے گڑگیا

پوچھا جو اُن سے آپ کا پردہ! وہ کیا ہوا؟ کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑگیا

گھر کے سربراہ کو چاہئے کہ اپنے گھر کی خواتین کو پردہ کروائے اور اپنے گھر والوں کی کی اِصلاح کی ہر ممکن کوشش کرے۔ پارہ28، سورۃ التحریم کی چھٹی آیت کریمہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔

ایک حدیث مبارکہ میں حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں: تم سب اپنے متعلقین کے سردار و حاکم ہو اور ہر ایک سے اس کے ماتحت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (مجمع الزوائد، ص۳۷۴)

یاد رکھئے! شوہر اپنی بیوی کا، باپ اپنے بچوں کا اور ہر شخص اپنے ماتحتوں کا ایک طرح سے حاکم ہے اور ہر حاکم سے قیامت کے دن اُس کے ماتحتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں پردہ کرنے اور دیگر شرعی احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
 

Umar_LA

MPA (400+ posts)
کیا پردہ صرف دل کا ہوتا ہے؟
جو چیز جتنی قیمتی ہوتی ہے اس کی اتنی ہی حفاظت کی جاتی ہے،

اللہ پاک نے انسان کی رہنمائی و ہدایت کے لیے قرآن پاک کو نازل فرمایا اور انسان کو اشرف المخلوقات کے اعلیٰ منصب پر فائز فرما کر انسانیت کو معراج بخشی اور مرد وعورت کو مختلف رشتوں کے ذریعے ایک دوسرے کا ہمدرد بنایا، مرد کو عورت پر قوت عطا فرمائی جیسا کہ اس کا فرمان ہے۔

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ ترجمۂ کنز الایمان: مرد افسر ہیں عورتوں پر۔ (پارہ5، نساء، آیت34)

صدرالافاضل حضرت علامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی اس آیت کی تفسیر کے تحت فرماتے ہیں: عورتوں کو شوہر کی اطاعت لازم ہے۔ مردوں کو حق ہے کہ وہ عورتوں پر رعایا کی طرح حکمرانی کریں اور ان کے مصالح اور تدابیر اور تادیب و حفاظت کی سر انجام دہی کریں۔(تفسیر خزائن العرفان، پارہ5، نساء، آیت34، ص164)

مرد کو باہر جاکر کھانے اور باہر کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بنایا گیا ہے جبکہ عورت کو گھر میں رہ کر اندرونی زندگی سنبھالنے کی ذمہ داری عنایت کی گئی ہے۔ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ عورتوں کا گھروں میں قید رکھنا ان پر ظلم ہے جب مرد باہر کی ہوا کھاتے ہیں تو ان کو اس نعمت سے کیوں محروم رکھا جاتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ گھر عورت کیلئے قید خانہ نہیں بلکہ اس کا چمن ہے۔ گھر کے کام کاج اور اپنے بال بچوں کی دیکھ بھال کر کے وہ ایسی خوش رہتی ہے جیسے چمن میں بلبل۔ گھر میں رکھنا اس پر ظلم نہیں، بلکہ عزت و عصمت کی حفاظت ہے۔ جیسے بکری اسی لیے ہے کہ رات کو گھر رکھی جائے اور شیر، چیتا اور محافظ کتا اس لیے ہے کہ ان کو آزاد پھرایا جائے، اگر بکری کو آزاد کیا تو اس کی جان خطرے میں ہے اس کو شکاری جانور پھاڑ ڈالیں گے۔ (اسلامی زندگی، ص۱۰۴)

قرآن پاک میں اللہ پاک نے مختلف احکامات بیان فرمائے ہیں، انہی احکامات میں سے ایک حکم پردے کا بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پردہ کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے تاکہ معاشرے سے بدنگاہی، بدکاری ختم کی جاسکے اور انسان کو اس بات کا پابند بنایا جاسکے کہ اللہ پاک کی حرام کردہ اشیا کو دیکھنا ممنوع ہے۔

اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ (پارہ18، سورۃ نور،آیت30)

اسی طرح عورتوں کو پردہ کا حکم ارشاد فرماتا ہے: اے نبی اپنی بیبیوں اور صاجزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان ہوتو ستائی جائیں۔ (پارہ 22، احزاب،آیت59)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: پہلے نظر بہکتی ہے، پھر دل بہکتا ہے، پھر ستر بہکتا ہے۔ (انوار رضا، ص۳۹۱)

کن اعضا کا پردہ ضروری ہے:

پردہ کا معنی: ڈھانپنا، چھپانا ہے۔ مرد کو ناف کے نیچے سے لے کر گھٹنوں سمیت چھپانا لازمی ہے، جس میں ناف شامل نہیں، عورت کو دونوں ہتھیلیوں، دونوں پاؤں کے تلوؤں،پاؤں اور ہاتھوں کی پشت اور منہ کی ٹکلی کے علاوہ سارا جسم چھپانا ضروری ہے۔ (الدرالمختار، کتاب الصلوۃ، ج۱، ص۶۵)

حکم شرعی:

آج کل یہ بات سماعت کے دروازے پر بار بار دستک دیتی ہے کہ پردہ تو صرف دل کا ہوتا ہے، جب کہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس جملے میں قرآن پاک کی اس واضح آیت کے انکار کا پہلو موجود ہے، جس میں ظاہری جسم کو چھپانے کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم کے پارہ22، سورۃ احزاب، آیت33 میں ارشاد فرماتا ہے: اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی۔

بے حیائی کے حیا سوز سمندر کی موجیں ٹھاٹیں مارتی ہوئی بے لگام ہو چکی ہیں اور لوگ اپنی ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کو خوب سجا سنوار کر کار کی فرنٹ سیٹ پر اور بائیک پر پیچھے بٹھاکر سفر کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں جبکہ ہمارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشاد فرما تے ہیں: تین شخص جنت میں نہ جائیں گے ماں باپ کا نافرمان اوردیوث اور مردانی وضع کی عورت۔(المستدرک للحاکم، ج۱، ص۷۲)

حضرت علامہ علاؤالدین حصکفی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ در مختار میں دیوث کی تعریف یوں کرتے ہیں : دیُّوث وہ شخص ہوتا ہے جو اپنی بیوی یا کسی محرم پر غیرت نہ کھائے۔ (رد المحتارعلی الدرالمختار،کتاب الحدود،ج۶،ص۱۱۳)

اگرشوہر واقعی دیکھتا اور اس پر راضی ہوتا ہے یا بقدرِ قدرت منع نہیں کرتا تو دیوث ہے اور دیوث پر جنت حرام ہے، نیز اقارب فریقین جو منع نہیں کرتے شریک گناہ و مستحق عذاب ہیں، جیسا کہ رب تعالی کا فرمان ہے: وہ ان بدکرداروں کو برائی سے منع نہ کرتے تھے البتہ جو وہ کرتے تھے بہت برا ہے۔(پارہ6، مائدہ، آیت79)۔ (فتاوٰی رضویہ)

دور حاضر میں بے پردگی کے اسباب

دور حاضر میں بے پردگی کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں فلمیں، ڈرامے بھی ہیں کیونکہ ان میں پردہ کا نام و نشان ہی نہیں ہوتا اور شرعی نکتہ نگاہ سے دیکھا جائے تو فلمیں ڈرامے دیکھنا حرام ہے۔ بنت حوا کے سر سے چادر اتروانے میں بہت بڑا کردار موبائل اور انٹرنیٹ کا بھی ہے۔ رہی سہی کسر کیبل اور سستے کال اور ایس ایم ایس پیکجز نے پوری کردی۔ سیر و تفریح کے نام پر پارکس اور مخلوط تعلیمی نظام نے بھی پردے کی پاکیزگی کو سراسر روند کر رکھ دیا ہے۔ پہلے بھی عشق و محبت کیا جاتا تھا لیکن چھپ کر مگر اب تو بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کا ناپاک رشتہ قائم کرکے پارکس اور یونیورسٹی میں کھلم کھلا حیا کا جنازہ نکالا جاتا ہے اور یہ بے تکلف دوستی اس خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے کہ نہ ہونے کا ہو جاتا ہے۔ پھر والدین کو شادی کے لئے مجبور کیا جاتا ہے، اگر والدین راضی نہ ہوں تو گھر سے بھاگ کر شادی کی جاتی ہے۔ ان تمام کی وجوہات کو اگر ایک لفظ میں تحریر کیا جائے تو اسے بے پردگی کا نام دیا جائے گا۔

میرا جسم میری مرضی:

کچھ دنوں پہلے سوشل میڈیا پر یہ عنوان زیر بحث رہا مگر ایسا ہرگز نہیں ہمارا جسم ہماری مرضی نہیں کیونکہ ہمارا خالق و مالک اللہ پاک ہے۔ اس نے ہمیں صرف اور صرف عبادت کے لئے پیدا فرمایا اور ہمیں دین اسلام کی نعمتِ عظمیٰ سے سرفراز فرمایا، اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جس طرح ہر مذہب، ہر تنظیم اور ہر ادارے کے کچھ اصول و ضوابط ہوتے ہیں، اسی طرح اسلام بھی اپنے ماننے والوں سے اللہ پاک اور رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بتائے ہوئے احکامات پر عمل پیرا ہونے کا تقاضا کرتا ہے، اسلام نے عورت کو پردہ کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ جو چیز جتنی قیمتی ہوتی ہے اس کی اتنی ہی حفاظت کی جاتی ہے، ہمارا جسم، ہماری روح، ہمارے اعضا کا ایک ایک ذرہ اُسی کی تابع ہے، لہذا ہمیں اللہ پاک اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اطاعت کرتے ہوئے پردہ کو اپنانا چاہئے کیونکہ جو کار کپڑے سے ڈھکی ہوئی ہو، مٹی سے محفوظ رہتی ہے، اپنی آنکھوں کو جھکا کر رکھیں، اس طرح ہم بدنگاہی سے بچنے میں کسی حد تک کامیاب ہوسکتے ہیں۔

دنیا بہت آگے نکل چکی ہے!

بعض لوگوں کا کہنا ہے: دنیا بہت آگے نکل چکی ہے، پردے کے معا ملے میں اتنی زیادہ سختی نہیں کرنی چاہئے تو ان کی خدمتوں میں عرض ہے کہ اللہ پاک اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا کوئی بھی حکم ایسا نہیں جو مسلمان پر اس کی طاقت سے زائد ہو۔ جیسا کہ پارہ3، سورۃ البقرہ، آیت286 میں ارشادِ خُداوَندی ہے: اللہ تعالیٰ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔

موجودہ دور کی بے پردگی کو دیکھیں تو اکبر الہ آبادی کی روح تڑپ کر کہتی ہے:

بے پردہ کل جو آئیں نظر چند بیبیاں اکبر زمیں میں غیرت ِقومی سے گڑگیا

پوچھا جو اُن سے آپ کا پردہ! وہ کیا ہوا؟ کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑگیا

گھر کے سربراہ کو چاہئے کہ اپنے گھر کی خواتین کو پردہ کروائے اور اپنے گھر والوں کی کی اِصلاح کی ہر ممکن کوشش کرے۔ پارہ28، سورۃ التحریم کی چھٹی آیت کریمہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔

ایک حدیث مبارکہ میں حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں: تم سب اپنے متعلقین کے سردار و حاکم ہو اور ہر ایک سے اس کے ماتحت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (مجمع الزوائد، ص۳۷۴)

یاد رکھئے! شوہر اپنی بیوی کا، باپ اپنے بچوں کا اور ہر شخص اپنے ماتحتوں کا ایک طرح سے حاکم ہے اور ہر حاکم سے قیامت کے دن اُس کے ماتحتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں پردہ کرنے اور دیگر شرعی احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
Bohat Shukeriya doost, by intaha Khushi hote hy aap jysy loog hain jo itne zahmat krty hain ky aisy logo ko jawab dain jo mashray ko beharna chahtay hain, takay agar kisi main koi doubt payda hota hy to duur ho jae, ilawa ais ky , ky vo khud jaan booj ke behakna chahay

aik baar phir shukeriya , ALLAH aap ko ais ka byintaha aaj e azeem aata farmai
 

Umar_LA

MPA (400+ posts)

ہم اکیسویں صدی میں رہ رہے ہیں اور ہمارے سماج میں پدرسری جبر کا یہ عالم ہے کہ ہم نے آج بھی اپنی عورتوں کو منہ چھپانے پر مجبور کیا ہوا ہے، کوئی صاحبِ دانش میرے علم میں اضافہ کرے کہ آخر عورت کا منہ چھپانا کیوں ضروری ہے، جہاں تک میرا مشاہدہ ہے عورت کے چہرے پر ایسی کوئی اضافی چیز نہیں ہوتی جو مرد کے چہرے پر نہ ہو، عورت کا بھی ایک ناک ہوتا ہے، مرد کا بھی ایک ناک ہوتا ہے، عورت کی بھی دو آنکھیں ہوتی ہیں، ایک منہ ہوتا ہے، مرد کی بھی دو آنکھیں اور ایک منہ ہوتا ہے، جب دونوں کا چہرہ ایک ہی جیسا ہوتا ہے تو پھر کیا وجہ ہےکہ عورتوں کیلئے نقاب اور پردے کے ذریعے منہ چھپانے کی ترغیب جبکہ مرد کو کھلے منہ گھومنے کی آزادی۔

ہم نے عورت پر صدیوں کے جبر کے ذریعے منہ چھپانے کی روایت کو اس قدر راسخ کردیا ہے کہ عورت بھی اس کو اپنی زندگی کا لازمی جزو سمجھنے لگی ہے، اس کے ذہن میں یہ سوال ہی نہیں اٹھتا کہ آخر اس نے کونسا ایسا جرم یا گناہ کردیا ہے جو اس کو منہ چھپا کر رہنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ منہ تو وہ چھپاتا ہے جس نے کوئی جرم کیا ہو، کوئی گناہ کیا ہو، جس کو کوئی شرمندگی ہو، جو دنیا کا سامنا کرنے سے کتراتا ہو، وہ منہ چھپاتا ہے، عورت نے ایسا کیا گناہ کیا ہے کہ اس پر منہ چھپانے کی روایت مسلط کی جاتی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس معاشرے کے مردوں کے نزدیک عورت کا وجود ہی گناہ ہے ، جرم ہے، اسی لئے عورت کو کالے کپڑوں سے ڈھانپ کر اس "جرم" پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔۔

اگر دیکھا جائے تو ڈیپ ڈاؤن یہی سبب ہے، کسی زمانے میں گھروں میں لڑکی پیدا ہوتی تھی تو گھر پر اداسی چھا جاتی تھی اور لڑکے کے پیدا ہونے پر خوشیاں منائی جاتی تھیں، عورت کے منہ کو چھپانے کی مردانہ روایت کے پیچھے یہی ذہنیت کارفرما ہے۔ دراصل ہمارے سماج کے مرد کی فرسودہ ذہنیت عورت کے ساتھ اپنا تعلق اپنی شناخت جوڑتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتی ہے، ہمارے مردوں کو شرم آتی ہے دوسروں کے سامنے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ ان کے گھر میں کوئی بہن ہے یا بیٹی ہے، یہ پدرشاہی ذہنیت رکھنے والا سماج عورت کے وجود سے تعلق کی بنا پر ایک دوسرے سے ہی شرمندہ ہوتے پھررہے ہیں ، وگرنہ جس باپ کو اپنی بیٹی کے وجود سے شرمندگی نہ ہو، وہ کیوں اسے کہے گا کہ تم نے باہر جانا ہے تو منہ چھپا کر جانا ہے، جس بھائی کو اپنی بہن کے وجود سے شرمندگی نہ ہو، وہ کیوں اسے کہے گا کہ تم نے خود کو کالے کپڑے میں لپیٹ کر رکھنا ہے۔ اپنے گھر کی عورتوں کو ، اپنی بہن کو، اپنی بیٹی کو منہ چھپانے کی یا برقعہ اوڑھنے کی تلقین تو وہی مرد کرے گا نا جس کو ان عورتوں کے ساتھ اپنا تعلق ظاہر کرتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہو۔ ایک بھائی جس کیلئے اپنی بہن کا وجود باعثِ شرمندگی ہو، وہی اپنی بہن کو یہ تلقین کرتا ہے کہ تم نے باہر نکلنا ہے تو منہ چھپا کر نکلنا ہے، برقعہ اوڑھ کر نکلنا ہے، کسی کو پتا نہیں چلنا چاہئے کہ تم کون ہو، کسی کو یہ علم نہیں ہونا چاہئے کہ تمہارا مجھ سے کوئی تعلق ہے، اسی طرح جس باپ کو اپنی بیٹی کا وجود شرمندگی کا سبب لگتا ہے، وہی اپنی بیٹی کو کہتا ہے کہ تم نے باہر نکلنا ہے تو خود کو کالے کپڑوں میں لپیٹ کر ایک بے شناخت وجود کے طور پر باہر نکلنا ہے، باہر کسی کو یہ جاننے کا یہ کہنے کا موقع نہیں ملنا چاہئے کہ یہ فلاں کی بیٹی ہے، تمہارا وجود میرے لئے کلنک ہے، شرمندگی ہے۔۔

آپ لوگوں کو شاید عجیب لگے، مگر ذرا اپنا سائیکو انالسس کریں تو اندرخانے یہی ذہنیت ہے جو ہمارے سماج کے ذہنوں میں اس قدر راسخ ہوچکی ہے کہ خود ان کو احساس نہیں ہے۔ ہمارا مردانہ سماج عورت کے وجود سے شرمندہ ہے۔ وگرنہ اور کیا وجہ ہوسکتی ہے کہ عورت کو چہرہ چھپا کر رکھنے پر مجبور کیا جائے۔ کیا عورت کا چہرہ بھی فحاشی کے زمرے میں آتا ہے؟ اگر کسی کو عورت کے چہرے میں فحاشی نظر آتی ہے تو ایسا شخص بیمار ذہنیت کا مالک ہے، ایسے بیمار ذہن شخص سے سب سے زیادہ خطرہ اس کے اپنے گھر کی عورتوں کو ہے، ایسے شخص کو پہلی فرصت میں نفسیاتی امراض کے ہسپتال میں داخل کروا دینا چاہئے۔ نارمل ذہن کے انسان کو نہ عورت کے چہرے میں فحاشی نظر آنی چاہئے اور نہ ہی عورت کے وجود سے شرمندہ ہونا چاہئے۔۔
suuub choro yea batao tum or kon kon sy forums main logo ko gumrah krny ke koshish krty ho, or apny leyean agay jahan main mushkil payda krna chah rahay ho.

sachay dil sy ALLAH sy hedayat maango wrna yea duniya chand lamho ke hy phir akhirat ke na khatam hony wali zindi Khud soocho bhai
 

atensari

President (40k+ posts)
کیا مغرب کا مرد ابھی اتنا مہذب نہیں ہوا کے خواتین کو مختصر ترین چیتھڑوں کے بغیر دیکھ کر جذبات پر قابو نا پا سکے
 

There is only 1

Chief Minister (5k+ posts)
کمال ہے آپ جیسا بندہ یہ سوال پوچھ رہا ہے
جس نے ناجانے کیا کچھ زندگی میں کیا ہوا ہے
، . . . .
نوٹ : ہمارے ہان کچھ گناہوں کا ذکر بھی گناہ ہے اس لئے میں آپ کے ان اعمال کا ذکر نہیں کر رہا جو آپ اپنے کمنٹس میں قبول کیے
 

Zinda_Rood

Minister (2k+ posts)
ویسے وہ پوچھنا یہ رہ گیا تھا کہ اسلامی معاشی نظام پر آپ کو قرض کی فراہمی کا ریفرنس مل گیا تھا تب خاموش ہو گئے یا پھر ۔۔۔۔ خدانخواستہ ترکش کے تیر ختم ہوگئے؟

حضرت! میں نے آپ کو پہلے بھی فرمایا تھا کہ میرا وقت بہت قیمتی ہے اور میں کسی کے ساتھ صرف تب ہی محو کلام ہوتا ہوں جب وہ دلیل سے بات کرتا ہے ، جب میں دیکھتا ہوں کہ اب مدمقابل منطق اور فکری دیانت کو چھوڑ کر بیان بازی پر اتر آیا ہے اور پانی میں مدھانی پھیرنے کے علاوہ کچھ نہیں کررہا تو میں بحث سے ہاتھ کھینچ لیتا ہوں۔
 

Diabetes

Politcal Worker (100+ posts)
پردہ سے فحاشی، بےحیائ، بدکاری سے قابو پائے جاتا ھے؟ پاکستان مین تو عورتیں قبروں میں محفوظ نھیں۔ مردہ عورتیں کونسی بے پردہ بیٹھی ھیں جنکا ریپ ھوا۔
 

atensari

President (40k+ posts)
پردہ سے فحاشی، بےحیائ، بدکاری سے قابو پائے جاتا ھے؟ پاکستان مین تو عورتیں قبروں میں محفوظ نھیں۔ مردہ عورتیں کونسی بے پردہ بیٹھی ھیں جنکا ریپ ھوا۔
فحاشی، بے حیائی اور بدکاری کا علاج بے پردگی ہوتی تو می ٹو کا آغاز میرا جسم میری مرضی کے مرکز سے نا ہوتا​
 

Zinda_Rood

Minister (2k+ posts)

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ ترجمۂ کنز الایمان: مرد افسر ہیں عورتوں پر۔ (پارہ5، نساء، آیت34)۔

نیوزی لینڈ میں تو عورت افسر ہے مردوں پر۔۔ اور بڑی کامیاب افسر ہے۔۔۔
 

Sohail Shuja

Chief Minister (5k+ posts)

حضرت! میں نے آپ کو پہلے بھی فرمایا تھا کہ میرا وقت بہت قیمتی ہے اور میں کسی کے ساتھ صرف تب ہی محو کلام ہوتا ہوں جب وہ دلیل سے بات کرتا ہے ، جب میں دیکھتا ہوں کہ اب مدمقابل منطق اور فکری دیانت کو چھوڑ کر بیان بازی پر اتر آیا ہے اور پانی میں مدھانی پھیرنے کے علاوہ کچھ نہیں کررہا تو میں بحث سے ہاتھ کھینچ لیتا ہوں۔
صاحب، اگر یاد داشت کمزور ہو تو یہاں بھی دوبارہ عرض کر دوں کہ مسئلہ کہاں سے کہاں گیا؟

آپکا سوال: اسلام میں پیداور وغیرہ پر ٹیکس ہے یا نہیں یا صرف زکوٰۃ ہے؟

اسکا مدلّل جواب: عشر، خمس، خراج وغیرہ۔

آپکا سوال: اسلام میں قرض سے کاروبار نہیں کیا جاسکتا، اسلام بینکنگ کے حساب سے کیا نظام پیش کرتا ہے؟

اسکا مدلّل جواب: جناب اسلام صرف سود کو منع کرتا ہے۔ باقی پرافٹ اینڈ لاس شئیرنگ کو نہیں۔ ذرا پرافٹ اور لاس شیئرنگ کو پڑھ لیجیئے۔

اس کے بعد۔۔۔۔ آپ غائب

اس میں پانی میں کس نے مدھانی پھیری ہے صاحب؟ اس نے جس نے جوابات دیئے یا اس نے جو بغیر کچھ پڑھے اور جانے اٹھ کر آگیا سوالات کرنے اور جواب ملنے کے بعد بھاگا ۔۔۔۔ کہ جناب آپ تو جذباتی بیان بازی کر رہے ہیں۔

اب پرافٹ اینڈ لاس شئیرنگ کا سسٹم جذباتی سسٹم ہے؟ یا بینکنگ کا سسٹم ہے؟

اگر آپ اسے جذباتی سسٹم کہتے ہیں۔ تو میرا خیال ہے کہ ڈکشنری نئی لے لیں۔ نہیں تو اگلی مرتبہ کسی کے دینی مسائل پر اعتراضات اٹھانے سے پہلے خود کچھ پڑھ کر آیا کریں۔
 

Sohail Shuja

Chief Minister (5k+ posts)
پردہ سے فحاشی، بےحیائ، بدکاری سے قابو پائے جاتا ھے؟ پاکستان مین تو عورتیں قبروں میں محفوظ نھیں۔ مردہ عورتیں کونسی بے پردہ بیٹھی ھیں جنکا ریپ ھوا۔
صاحب
Necrophilia

کا نام صرف مشرق میں ہی نہیں، مغرب میں بھی جانا جاتا ہے۔
ادھر کیا مسئلہ درپیش ہے؟
 
Last edited:

Diabetes

Politcal Worker (100+ posts)
Profit & loss is too risky for everyone. Retired people, even general public does not go for P/L. It can ruin their whole life savings. Retired people are dependent on income, if it’s lost, where would they seek for money. So, I am sorry, P/L does not satisfy the needs of general public.
 

Diabetes

Politcal Worker (100+ posts)
صاحب
Necrophilia

کا نام صرف مشرق میں ہی نہیں، مغرب میں بھی جانا جاتا ہے۔
ادھر کیا مسئلہ درپیش ہے؟
Woh to “behaya” hein, wahan parda nahi, Quran o sunnat nahi. Lekin aapke haan to pardah hai, Islam hai, yahan kiyon aisa hota hai???? Phir parda ka kya faida jab yeh problem resolve nahi ker saka.
 

Sohail Shuja

Chief Minister (5k+ posts)
Woh to “behaya” hein, wahan parda nahi, Quran o sunnat nahi. Lekin aapke haan to pardah hai, Islam hai, yahan kiyon aisa hota hai???? Phir parda ka kya faida jab yeh problem resolve nahi ker saka.
تو آپ کے کمنٹ سے ثابت ہوا کہ پردے کا کوئی لینا دینا نہیں اس مسئلے سے۔
پچھلا کمنٹ پڑھیں جہاں آپ پردے کو ہی کوس رہے ہیں کہ اس کے ہونے کی وجہ سے لوگ اتنے دیوانے ہوئے جا رہے ہیں کہ لاشوں کے ساتھ بے حرمتی کرتے ہیں۔

محترم، باتوں میں نہ گھمائیں۔ اصل بات پر آئیں۔
 
Last edited:

Sohail Shuja

Chief Minister (5k+ posts)
Profit & loss is too risky for everyone. Retired people, even general public does not go for P/L. It can ruin their whole life savings. Retired people are dependent on income, if it’s lost, where would they seek for money. So, I am sorry, P/L does not satisfy the needs of general public.
The question was whether there is a system for getting an investment for business in Islam or not? The answer is YES, there is and it is known as PLS (Profit and Loss Sharing).

Moreover, people buy shares in organizations? It is also the same. Banks invest in organizations. Have any knowledge of the Preferred stock and the Common stock?

And this is the main idea in Islam. Islam shares "Risk", it is not about just lending the money and if the business does not pay back then you get its assets liquidated at dirt cheap prices and get your money back. Islam allows you to invest in business with full knowledge and belief that your investment is going to work and if it fails, then do not make a decision hastily and liquidate everything. It is like killing a whole goat for just one pound of your flesh. This accumulates to more loss.

By the way, Islam is not going to design a system of your choice and wants. It is not subservient to you.

Zinda_Rood


محترم آپ بھی پڑھ لیجیئے۔ ایسے ہی کھسیانے ہوئے میری پوسٹوں پر ہنستا ہوا لائک مارنے سے حقیقت کہیں نہیں جا رہی۔

مزید تعلیم شروع کی جائے اسلامی معاشی نظام پر؟
 
Last edited:
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں