کیا حکومت کا سپرٹیکس لگانے کا فیصلہ درست ہے؟

shehbaz111112.jpg



وزیرِاعظم شہباز شریف نے بڑی صنعتوں پر 10 فیصد سپر ٹیکس لگانے کا اعلان کردیا۔یہ ٹیکس سیمنٹ، چینی، تیل و گیس، کھاد، ایل این جی ٹرمینل، ٹیکسٹائل، بینکنگ، آٹوموبائل، سگریٹ، اسٹیل، کیمیکل، بیوریجز پر لگایا گیا ہے۔

وزیراعظم شہبازشریف کے مطابق یہ ٹیکس غریب ختم کرنے کیلئے لگایا گیا ہے لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس ٹیکس سے غربت کیسے ختم ہوگی اور یہ پیسہ کیسے خرچ ہوگا؟

اس اعلان کے ہونے کی دیر تھی کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج یکایک دھڑام سے نیچے آگری اور 2000 سے زائد پوائنٹس کی کمی دیکھنے میں آئی۔ سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کئی گھنٹے معطل رہا۔ سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے جو یہ ظاہر کرتا تھا کہ سرمایہ کار اور صنعت کار اس ٹیکس سے اتفاق نہیں کرتے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ ٹیکس امیروں پر لگاکر غریبوں کو غربت سے نکالنے میں مددگار ثابت ہوگا؟ اگر ن لیگ کے حامی صحافیوں اور سپورٹرز سے بات کریں تو وہ اسکا جواب ہاں میں دیں گے ۔ انکے پاس جواز یہ ہے کہ سگریٹ، آٹوموبل ، بیوریجز امیروں کے چونچلے ہیں لیکن کیا باقی ماندہ صنعتیں کھاد، سیمنٹ، چینی، ٹیکسٹائل، بینکنگ، سٹیل، کیمیکل بھی امیروں کے چونچلے ہیں؟ تو اسکا جواب نفی میں ہے۔

میری رائے یہ ہے کہ اس ٹیکس سے غربت بالکل ختم نہیں ہوگی، آپ چاہے 7500 کی بجائے 1500 ٹیکس بھی اکٹھا کرلیں پھر بھی غربت ختم نہیں ہوگی۔ غربت ہمیشہ ختم ہوتی ہے روزگار کے مواقع فراہم کرنے سے اور اسکے لئے ضروری ہے کہ صنعتوں کا پہیہ ٹھپ نہ ہو، عوام کی قوت خرید میں اضافہ ہو، اشیائے ضروری پر کنٹرول ہو۔

دنیا بھر میں روزگار ہمیشہ صنعتوں سے ملتا ہے، بنکنگ سیکٹر بھی تب ہی مضبوط ہوتا ہے جب صنعتوں کا پہیہ چلتا رہے۔ میرے گھر کے پاس پاکستان کی ایک معروف ٹیکسٹائل مل ہے جس میں 5000 سے زائد افراد کام کرتے ہیں ۔پاکستان میں ایسی کئی ٹیکسٹائل ملز، سیمنٹ ملز، سٹیل ملز ، کیمیکل انڈسٹریز ہیں جہاں لاکھوں افراد کام کرکے روزگار کماتے ہیں، کسی میں تعداد سینکڑوں میں ہے، کسی میں ہزاروں میں ہے ۔

نہ صرف ان صنعتوں سے لاکھوں افراد کا براہ راست روزگار لگا ہوا ہے بلکہ لاکھوں افراد کا بالواسطہ (ان ڈائریکٹ ) روزگار بھی لگا ہوا ہے، کوئی ان صنعتوں کو مشینیں ٹھیک کرنے، مال لانے اور لیجانے کیلئے ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرتا ہے، کوئی خام مال فراہم کرتا ہے، کوئی پیکجینگ، آئی ٹی سروس، کاغذ، ورکرز کیلئے قیام وطعام کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ بنکوں کا سارا دارومدار بھی انہی صنعتوں پر ہے اور حکومت کو بھی سب سے زیادہ ٹیکس چاہے انکم ٹیکس ہو، سیلز ٹیکس ہو، کسٹم ڈیوٹی یہی صنعتیں دیتی ہیں۔

پاکستان میں 2 طرح کی صنعتیں ہیں۔ ایک پیداواری صنعتیں اور دوسری غیرپیداواری صنعتیں۔۔

غیر پیداواری صنعتوں میں بیوروکریسی، عدلیہ، پولیس، فوج شامل ہیں ان کا کام ملک میں امن وامان قائم رکھنا، عوام کے مسائل حل کرنا ہیں لیکن بدقسمتی سے بیوروکریسی نہ تو عوامی مسائل ڈھنگ سے حل کرتی ہے اور عدالتوں میں لاکھوں کیسز سالہا سال سے التواء میں پڑے ہیں۔

پیداواری صنعتیں بھی 2 قسم کی ہیں۔ ایک وہ صنعتیں جو پاکستان کیلئے ڈالرز کماتی ہیں اور دوسری وہ صنعتیں جو ڈالرز نہیں کماتیں اور انکا انحصار یا تو امپورٹس پر ہوتا ہے یا ملک میں بنی اشیاء پر۔

پاکستان کو 4 قسم کی صنعتیں ڈالرز کماکردیتی ہیں، ایک فیکٹریاں جن میں ٹیکسٹائل ملز سب سے نمایاں ہیں، اسکے علاوہ سٹیل، ٹوائے انڈسٹری، شوانڈسٹری اور دیگر مینوفیکچرنگ انڈسٹریز شامل ہیں۔

دوسری انڈسٹری آئی ٹی سیکٹر ہے جو آج سے 4 سال پہلے ملین ڈالرز میں آئی ٹی برآمدات کرتا ہے لیکن اب اسکی برآمدات 2 ارب ڈالر کے قریب ہوگئی ہیں یعنی برآمدات میں 100 سے 120 فیصد اضافہ۔۔ اگر ماضی کی حکومتیں اس پر توجہ دیتیں تو شاید یہ ٹیکسٹائل کے بعد دوسری بڑی انڈسٹری ہوتی۔

تیسری انڈسٹری اوورسیز پاکستانی ہیں جنہیں موجودہ حکومت سے ماضی میں بہت طعنے سننا پڑےکہ تم لوگوں کو ملکی حالات کا کیا پتہ۔۔ اگر ملک سے اتنی محبت ہے توپاکستان آؤ پھر تمہیں پتہ چلے گا کہ یہ کیسے جی رہے ہیں۔

یہ اوورسیز پاکستانی ہی ہیں جو سالانہ 30 ارب ڈالرز سے زائد رقوم پاکستان بھیجتے ہیں، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں ساڑھے چار ارب ڈالر انہی کا ہے جن کی شہبازشریف تعریفیں کررہے تھے۔ موجودہ حکومت نے ان اوورسیز پاکستان کو دیا کچھ نہیں لیکن ان سے ووٹ کا حق چھین لیا کہ تمہیں کیا پتہ پاکستان کا ۔

چوتھی انڈسٹری جو نہ صرف پاکستان کو ڈالرز کماکر دیتی ہے بلکہ پاکستان کے اربوں ڈالرز بچاتی ہے اور اس پر توجہ دی جاتی تو یہ پاکستان کے مزید اربوں ڈالرز بچاسکتی ہے۔ یہ انڈسٹری زراعت ہے۔ اگر کسان ملکی ضرورت کی گندم پیدا نہ کرے تو ہمیں اربوں ڈالرز خرچ کرکے بیرون ملک سے گندم منگوانی پڑے گی، اگر کسان ملکی ضرورت کے مطابق کپاس پیدا نہ کرے تو ٹیکسٹائل ملز ڈالرز خرچ کرکے کپاس باہر سے منگوانے پر مجبور ہوں گی۔

اسی طرح کسان گنا ، چاول پیدا نہ کرے تو چینی باہر سے منگوانا پڑے گی۔ پاکستانی کسان کا چاول، کینو، آم، سیب باہر جاتا ہے تو ڈالرز کی شکل میں زرمبادلہ آتا ہے، بدقسمتی سے پچھلی حکومتوں نے زراعت پر توجہ نہ دیکر اسے اتنا تباہ کردیا ہے کہ پاکستان کو 30 سے 50 فیصد گندم باہر سے منگوانا پڑتی ہے، دالیں، خوردنی تیل بیرون ملک سے آتا ہے، بعض اوقات ٹماٹر، پیاز کی شارٹیج ہوجائے تو وہ بھی ہم ایران یا بنگلہ دیش سے منگواتے ہیں۔

کسان کو حکومتوں نے پیس کر رکھ دیا ہے، مہنگی بجلی، مہنگی کھاد، مہنگے بیج، مہنگے سپرے کی شکل میں۔۔۔ اوپر سے ان پر ظلم غیرپیداواری انڈسٹری نے کیا ہے، بیوروکریسی انکے مسائل ڈھنگ سے حل نہیں کرتی، انکی زرعی زمینوں پر ہاؤسنگ سوسائٹیاں بن رہی ہیں۔

اگر زراعت انڈسٹری پر بھرپور توجہ دی جاتی، ان پر محنت کی جاتی تو آج پاکستان کو دالوں، خوردنی تیل، گندم، چائے ، مصالحہ جات اور دیگر اجناس باہر سے نہ منگوانا پڑتیں۔ خوردنی تیل جس پر سالانہ 3 ارب ڈالر سے زائد خرچ ہوتے ہیں، یہ پاکستان میں بھی پیدا ہوسکتا ہے سورج مکھی، سویابین، سرسوں، کینولا کی صورت میں

ہماری حکومتوں نے کسان کو انتہائی غیر محفوظ کردیا ہے، اگر کسان پیدا کربھی لے تو اسے بیچے کیسے؟ کوئی نظام نہیں۔اس لئے کسان گندم، گنا، چاول یا کپاس بیچنے کو ترجیح دیتا ہے۔

حاصل بحث:
میری نظر میں سپر ٹیکس ان پیداواری انڈسٹریز پر لگانے کی ضرورت نہیں تھی بلکہ انہیں مزید مراعات دیکر اور ٹیکس چھوٹ دیکر مضبوط کیا جاتا۔ اگر پیسہ اکٹھا کرنا ہی تھا تو غیرپیداواری انڈسٹری سے اکٹھا کرتے، بڑے بڑے بیوروکریٹس، فوجی افسران، ججز کی تنخواہیں 10 لاکھ سے کم نہیں، ایک غریب مزدور کو ماہانہ تنخواہ کی مد میں 20 ہزار دیکر کہا جاتا ہے کہ اس میں سے اپنے گھر کا خرچ چلاؤ، کیا اتنی تنخواہ میں انکے گھر کا خرچہ پورا نہیں ہوتا؟

انہیں گاڑیوں کیلئے پٹرول کیوں فراہم کیا جاتا ہے؟ ماہانہ سینکڑوں یا ہزاروں مفت بجلی کے یونٹس کیوں ملتے ہیں؟ انکے بچوں کو تعلیم کی مدد میں الاؤنس کیوں دیاجاتا ہے؟ کیا یہ بندکرکے ، اللے تللے چھوڑ کر سپرٹیکس کی مد میں پیسہ نہیں بچایا جاسکتا؟

پاکستان کی اصل اشرافیہ تو یہ غیرپیداواری انڈسٹری کے بڑے بڑے عہدیدار ہیں۔ ایک صنعت کار کی فیکٹری سے تو کئی گھروں کا چولہا جلتا ہے اس پر ظلم کیوں؟ اگر پان، سگریٹ پر ٹیکس لگانا ہے تو بے شک لگائیں لیکن باقی انڈسٹریز کو تو معافی دیدیں۔
 
Advertisement

JusticeLover

Minister (2k+ posts)
حکومت کا مینڈیٹ نھیں تھا یہ ان کو انتخابی اصلاحات کرا کے الیکشن کرنا تھا۔

عوام بدلہ لے گی ان تمام مظالم ٹایم آنے دو۔
 

ahameed

Minister (2k+ posts)
shehbaz111112.jpg



وزیرِاعظم شہباز شریف نے بڑی صنعتوں پر 10 فیصد سپر ٹیکس لگانے کا اعلان کردیا۔یہ ٹیکس سیمنٹ، چینی، تیل و گیس، کھاد، ایل این جی ٹرمینل، ٹیکسٹائل، بینکنگ، آٹوموبائل، سگریٹ، اسٹیل، کیمیکل، بیوریجز پر لگایا گیا ہے۔

وزیراعظم شہبازشریف کے مطابق یہ ٹیکس غریب ختم کرنے کیلئے لگایا گیا ہے لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس ٹیکس سے غربت کیسے ختم ہوگی اور یہ پیسہ کیسے خرچ ہوگا؟

اس اعلان کے ہونے کی دیر تھی کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج یکایک دھڑام سے نیچے آگری اور 2000 سے زائد پوائنٹس کی کمی دیکھنے میں آئی۔ سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کئی گھنٹے معطل رہا۔ سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے جو یہ ظاہر کرتا تھا کہ سرمایہ کار اور صنعت کار اس ٹیکس سے اتفاق نہیں کرتے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ ٹیکس امیروں پر لگاکر غریبوں کو غربت سے نکالنے میں مددگار ثابت ہوگا؟ اگر ن لیگ کے حامی صحافیوں اور سپورٹرز سے بات کریں تو وہ اسکا جواب ہاں میں دیں گے ۔ انکے پاس جواز یہ ہے کہ سگریٹ، آٹوموبل ، بیوریجز امیروں کے چونچلے ہیں لیکن کیا باقی ماندہ صنعتیں کھاد، سیمنٹ، چینی، ٹیکسٹائل، بینکنگ، سٹیل، کیمیکل بھی امیروں کے چونچلے ہیں؟ تو اسکا جواب نفی میں ہے۔

میری رائے یہ ہے کہ اس ٹیکس سے غربت بالکل ختم نہیں ہوگی، آپ چاہے 7500 کی بجائے 1500 ٹیکس بھی اکٹھا کرلیں پھر بھی غربت ختم نہیں ہوگی۔ غربت ہمیشہ ختم ہوتی ہے روزگار کے مواقع فراہم کرنے سے اور اسکے لئے ضروری ہے کہ صنعتوں کا پہیہ ٹھپ نہ ہو، عوام کی قوت خرید میں اضافہ ہو، اشیائے ضروری پر کنٹرول ہو۔

دنیا بھر میں روزگار ہمیشہ صنعتوں سے ملتا ہے، بنکنگ سیکٹر بھی تب ہی مضبوط ہوتا ہے جب صنعتوں کا پہیہ چلتا رہے۔ میرے گھر کے پاس پاکستان کی ایک معروف ٹیکسٹائل مل ہے جس میں 5000 سے زائد افراد کام کرتے ہیں ۔پاکستان میں ایسی کئی ٹیکسٹائل ملز، سیمنٹ ملز، سٹیل ملز ، کیمیکل انڈسٹریز ہیں جہاں لاکھوں افراد کام کرکے روزگار کماتے ہیں، کسی میں تعداد سینکڑوں میں ہے، کسی میں ہزاروں میں ہے ۔

نہ صرف ان صنعتوں سے لاکھوں افراد کا براہ راست روزگار لگا ہوا ہے بلکہ لاکھوں افراد کا بالواسطہ (ان ڈائریکٹ ) روزگار بھی لگا ہوا ہے، کوئی ان صنعتوں کو مشینیں ٹھیک کرنے، مال لانے اور لیجانے کیلئے ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرتا ہے، کوئی خام مال فراہم کرتا ہے، کوئی پیکجینگ، آئی ٹی سروس، کاغذ، ورکرز کیلئے قیام وطعام کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ بنکوں کا سارا دارومدار بھی انہی صنعتوں پر ہے اور حکومت کو بھی سب سے زیادہ ٹیکس چاہے انکم ٹیکس ہو، سیلز ٹیکس ہو، کسٹم ڈیوٹی یہی صنعتیں دیتی ہیں۔

پاکستان میں 2 طرح کی صنعتیں ہیں۔ ایک پیداواری صنعتیں اور دوسری غیرپیداواری صنعتیں۔۔

غیر پیداواری صنعتوں میں بیوروکریسی، عدلیہ، پولیس، فوج شامل ہیں ان کا کام ملک میں امن وامان قائم رکھنا، عوام کے مسائل حل کرنا ہیں لیکن بدقسمتی سے بیوروکریسی نہ تو عوامی مسائل ڈھنگ سے حل کرتی ہے اور عدالتوں میں لاکھوں کیسز سالہا سال سے التواء میں پڑے ہیں۔

پیداواری صنعتیں بھی 2 قسم کی ہیں۔ ایک وہ صنعتیں جو پاکستان کیلئے ڈالرز کماتی ہیں اور دوسری وہ صنعتیں جو ڈالرز نہیں کماتیں اور انکا انحصار یا تو امپورٹس پر ہوتا ہے یا ملک میں بنی اشیاء پر۔

پاکستان کو 4 قسم کی صنعتیں ڈالرز کماکردیتی ہیں، ایک فیکٹریاں جن میں ٹیکسٹائل ملز سب سے نمایاں ہیں، اسکے علاوہ سٹیل، ٹوائے انڈسٹری، شوانڈسٹری اور دیگر مینوفیکچرنگ انڈسٹریز شامل ہیں۔

دوسری انڈسٹری آئی ٹی سیکٹر ہے جو آج سے 4 سال پہلے ملین ڈالرز میں آئی ٹی برآمدات کرتا ہے لیکن اب اسکی برآمدات 2 ارب ڈالر کے قریب ہوگئی ہیں یعنی برآمدات میں 100 سے 120 فیصد اضافہ۔۔ اگر ماضی کی حکومتیں اس پر توجہ دیتیں تو شاید یہ ٹیکسٹائل کے بعد دوسری بڑی انڈسٹری ہوتی۔

تیسری انڈسٹری اوورسیز پاکستانی ہیں جنہیں موجودہ حکومت سے ماضی میں بہت طعنے سننا پڑےکہ تم لوگوں کو ملکی حالات کا کیا پتہ۔۔ اگر ملک سے اتنی محبت ہے توپاکستان آؤ پھر تمہیں پتہ چلے گا کہ یہ کیسے جی رہے ہیں۔

یہ اوورسیز پاکستانی ہی ہیں جو سالانہ 30 ارب ڈالرز سے زائد رقوم پاکستان بھیجتے ہیں، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں ساڑھے چار ارب ڈالر انہی کا ہے جن کی شہبازشریف تعریفیں کررہے تھے۔ موجودہ حکومت نے ان اوورسیز پاکستان کو دیا کچھ نہیں لیکن ان سے ووٹ کا حق چھین لیا کہ تمہیں کیا پتہ پاکستان کا ۔

چوتھی انڈسٹری جو نہ صرف پاکستان کو ڈالرز کماکر دیتی ہے بلکہ پاکستان کے اربوں ڈالرز بچاتی ہے اور اس پر توجہ دی جاتی تو یہ پاکستان کے مزید اربوں ڈالرز بچاسکتی ہے۔ یہ انڈسٹری زراعت ہے۔ اگر کسان ملکی ضرورت کی گندم پیدا نہ کرے تو ہمیں اربوں ڈالرز خرچ کرکے بیرون ملک سے گندم منگوانی پڑے گی، اگر کسان ملکی ضرورت کے مطابق کپاس پیدا نہ کرے تو ٹیکسٹائل ملز ڈالرز خرچ کرکے کپاس باہر سے منگوانے پر مجبور ہوں گی۔

اسی طرح کسان گنا ، چاول پیدا نہ کرے تو چینی باہر سے منگوانا پڑے گی۔ پاکستانی کسان کا چاول، کینو، آم، سیب باہر جاتا ہے تو ڈالرز کی شکل میں زرمبادلہ آتا ہے، بدقسمتی سے پچھلی حکومتوں نے زراعت پر توجہ نہ دیکر اسے اتنا تباہ کردیا ہے کہ پاکستان کو 30 سے 50 فیصد گندم باہر سے منگوانا پڑتی ہے، دالیں، خوردنی تیل بیرون ملک سے آتا ہے، بعض اوقات ٹماٹر، پیاز کی شارٹیج ہوجائے تو وہ بھی ہم ایران یا بنگلہ دیش سے منگواتے ہیں۔

کسان کو حکومتوں نے پیس کر رکھ دیا ہے، مہنگی بجلی، مہنگی کھاد، مہنگے بیج، مہنگے سپرے کی شکل میں۔۔۔ اوپر سے ان پر ظلم غیرپیداواری انڈسٹری نے کیا ہے، بیوروکریسی انکے مسائل ڈھنگ سے حل نہیں کرتی، انکی زرعی زمینوں پر ہاؤسنگ سوسائٹیاں بن رہی ہیں۔

اگر زراعت انڈسٹری پر بھرپور توجہ دی جاتی، ان پر محنت کی جاتی تو آج پاکستان کو دالوں، خوردنی تیل، گندم، چائے ، مصالحہ جات اور دیگر اجناس باہر سے نہ منگوانا پڑتیں۔ خوردنی تیل جس پر سالانہ 3 ارب ڈالر سے زائد خرچ ہوتے ہیں، یہ پاکستان میں بھی پیدا ہوسکتا ہے سورج مکھی، سویابین، سرسوں، کینولا کی صورت میں

ہماری حکومتوں نے کسان کو انتہائی غیر محفوظ کردیا ہے، اگر کسان پیدا کربھی لے تو اسے بیچے کیسے؟ کوئی نظام نہیں۔اس لئے کسان گندم، گنا، چاول یا کپاس بیچنے کو ترجیح دیتا ہے۔

حاصل بحث:
میری نظر میں سپر ٹیکس ان پیداواری انڈسٹریز پر لگانے کی ضرورت نہیں تھی بلکہ انہیں مزید مراعات دیکر اور ٹیکس چھوٹ دیکر مضبوط کیا جاتا۔ اگر پیسہ اکٹھا کرنا ہی تھا تو غیرپیداواری انڈسٹری سے اکٹھا کرتے، بڑے بڑے بیوروکریٹس، فوجی افسران، ججز کی تنخواہیں 10 لاکھ سے کم نہیں، ایک غریب مزدور کو ماہانہ تنخواہ کی مد میں 20 ہزار دیکر کہا جاتا ہے کہ اس میں سے اپنے گھر کا خرچ چلاؤ، کیا اتنی تنخواہ میں انکے گھر کا خرچہ پورا نہیں ہوتا؟

انہیں گاڑیوں کیلئے پٹرول کیوں فراہم کیا جاتا ہے؟ ماہانہ سینکڑوں یا ہزاروں مفت بجلی کے یونٹس کیوں ملتے ہیں؟ انکے بچوں کو تعلیم کی مدد میں الاؤنس کیوں دیاجاتا ہے؟ کیا یہ بندکرکے ، اللے تللے چھوڑ کر سپرٹیکس کی مد میں پیسہ نہیں بچایا جاسکتا؟

پاکستان کی اصل اشرافیہ تو یہ غیرپیداواری انڈسٹری کے بڑے بڑے عہدیدار ہیں۔ ایک صنعت کار کی فیکٹری سے تو کئی گھروں کا چولہا جلتا ہے اس پر ظلم کیوں؟ اگر پان، سگریٹ پر ٹیکس لگانا ہے تو بے شک لگائیں لیکن باقی انڈسٹریز کو تو معافی دیدیں۔
بالکل درست ھے، ہم صرف ڈنڈے کی زبان سمجھتے ہیں
 
Sponsored Link