کڑوا سچ اور وہ بھی آدھا

Sohail Shuja

Minister (2k+ posts)
#1
کڑوا سچ اور وہ بھی آدھا

کہتے ہیں سچ خاصہ کڑوا ہوتا ہے۔ لیکن سچ کو اگر ادھورا بتایا جائے، تو یہ مزید کڑوا ، بلکہ ساتھ ہی نیم چڑا بھی ہو جاتا ہے۔
سچ تو یہ بھی ہے کہ قرآن میں ہی لکھا ہوا ہے کہ ’’مت جاوٗ نماز کے نزدیک‘‘، لیکن یہ تو پوری بات نہیں، پوری بات تو یہ ہے کہ ’’مت جاوٗ نماز کے نزدیک جبکہ حالت نشہ میں ہو‘‘۔ اب دونوں سچ آپکے سامنے ہیں، دیکھ لیں کہ اولذکر سے کیسے معنیٰ کو یکسر بدل کر گھمایا جاسکتا ہے۔

اب جب بات آئی گھمانے کی تو ہمیں یکلخت خیال آیا ہمارے بھاڑو نسل کے بکاوٗ میڈیا کا، جو کہ کچھ ایسے ہی کچھ چیزوں کو ایسے گھماتے ہیں کہ مطلب اولذکر سچ کی طرح ہی برآمد ہوتا ہے، یعنی ’’مت جاوٗ نماز کے نزدیک‘‘۔ بہرحال کیا گھمانا ہے اور کتنا گھمانا ہے، اسکا انحصار لفافے کے وزن، لمبائی، چوڑائی اور اونچائی کو دیکھ کر ماپا جا سکتا ہے۔

جیسے شاہد مسعود صاحب معاشرے کے ایک خاص طبقے کو بدمعاشیہ کا لقب دیتے ہیں، اسی تناظر میں اس زرد صحافتی ٹولے کو اگر ’’لفافیہ‘‘ کہا جائے تو غالباً ڈاکٹر صاحب بھی اس بات سے اتفاق کریں گے اور اپنے کاپی رائٹس میں اتنی گنجائش پیدا کریں گے کہ اس ایک لفظ کو بھی بامقصد و با معنیٰ اسم گردانا جاوے۔

حال ہی میں ریمنڈ ڈیوس کی کتاب ’’ٹھیکیدار‘‘ کو جو کلاسرا صاحب نے گھمایا، ہمیں کتاب کا ازخود مطالعہ کرنے کے بعد اندازہ ہوا کہ غالباً یہ لفافہ[FONT=&quot] کلاسرا[/FONT] صاحب نے ہاتھ نہیں بلکہ منہ سے پکڑا ہوگا، کیونکہ جہاں سے انھوں نے یہ لفافہ حاصل کیا، اس دربار میں یہ لفافیہ دونوں ہاتھوں اور گھٹنوں کو زمین پر ہی ٹیک رکھتی ہے۔ میں شرط لگاتا ہوں کہ ان سے گر کسی کو شرف ملاقات حاصل ہو، تو وہ انکی سانسوں سے اٹھتی اس لفافے کی مہک کو ابھی بھی دور سے ہی محسوس کر لے گا۔

اب ذرا ملاحظہ ہو کہ اس لفافیہ کے امام زمانہ جناب[FONT=&quot] کلاسرا[/FONT] صاحب نے کیسے اس کتاب کی باتوں کو گھمایا اور کیسے آدھا سچ بتاتے ہوئے اس پوری لفافیہ کو اس لائن پر لگایا کہ وہ سب بھی یک آواز ہو کر کہیں ’’مت جاوٗ نماز کے نزدیک‘‘، کیونکہ بس یہی سچ ہے، کیونکہ کتاب میں ایسا ہی لکھا ہوا ہے۔

شجاع پاشا کا کردار

ذرا سب سے پہلا الزام ملاحظہ ہو:



کنٹریکٹر، صفحہ نمبر ۱۳۲

اب یہاں اگر دیکھا جائے تو ریمنڈ ڈیوس خود یہ کہہ رہا ہے کہ میں نے اس سلسلے میں دو کہانیاں بعد میں سنی تھیں کہ دیت کے تحت اسکی رہائی کیسے ممکن بنائی جائے۔ اس میں ایک کہانی کہتی ہے کہ حسین حقانی اور جان کیری کے درمیان یہ طے ہوا تھا، اور دوسری کہانی یہ کہتی ہے کہ شجاع پاشا اور منٹر کے درمیان یہ بات ہوئی تھی اور یہ ان کا پلان تھا۔

اب یہاں آدھا سچ دیکھیں اس[FONT=&quot] کلاسرا [/FONT]کا، جو اپنے پروگرام میں صرف اور صرف شجاع پاشا کا نام لیتا رہا اور کہتا رہا کہ یہ بات ریمنڈ ڈیوس نے اپنی کتاب میں حتمی طور لکھی ہے کہ منٹر اور شجاع پاشا نے ہی یہ کام کیا۔ مطلب کہ ’’مت جاوٗ نماز کے نزدیک‘‘۔

اس امام لفافیہ نے یہ بھی بتانا مناسب نہ سمجھا کہ اس بات پر ریمنڈ ڈیوس خود کہتا ہے کہ مجھے اصل حقائق کا علم نہیں، بلکہ اس سلسلے میں میں نے بھی متضا باتیں سنی ہیں۔ اب لفافے کے وزن کا آپ اندازہ لگا ہی سکتے ہیں۔

جنرل کیانی کی عمان میں ٹاپ سیکرٹ میٹنگ

امام لفافیہ جناب[FONT=&quot] کلاسرا [/FONT] صاحب اپنے پروگرام میں فرماتے ہیں کہ ریمنڈ ڈیوس نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اس کی رہائی کے سلسلے میں جنرل کیانی خاص طور عمان تشریف لے گئے اور وہاں امریکی وفد سے ٹاپ سیکرٹ ملاقات کی۔ صدقے جاوں اس منہ کے جو اپنی کشادگی میں مگرمچھ کے منہ کو بھی کہیں پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔ ملاحظہ ہو کہ دراصل لکھا کیا گیا تھا۔




جی ہاں، لکھا یہ گیا تھا کہ یہ میٹنگ خاص طور سے ریمنڈ ڈیوس کے لیئے نہیں کی گئی تھی بلکہ اسکی گرفتاری سے بھی مہینوں پہلے سے یہ میٹنگ طے تھی اور اسکا ایجنڈا ریمنڈ ڈیوس کی رہائی نہیں، بلکہ خطے میں افغانستان کے سیکیورٹی کے حالات کا جائزہ تھا۔ اب اسکو خاص و خاص ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے معاملے کے ساتھ مشروط کرنا تو ریمنڈ ڈیوس کو بھی جھوٹا کرنے کے مترادف ہے۔

یہ بات البتہّ کہ جا سکتی ہے کہ اس میٹنگ میں ریمنڈ ڈیوس والا مسئلہ ضرور زیر بحث آیا تھا، لیکن یہاں سے کیانی صاحب کوئی خاص اور خفیہ طور ریمنڈ ڈیوس کی مدد کے لیئے مسقط نہیں چلے گئے تھے۔


اب ذرا وہ نقاط دیکھتے ہیں جو کہ اس کتاب میں لکھے ہوئے ہیں لیکن انکو امام لفافیہ جناب[FONT=&quot] کلاسرا [/FONT] صاحب نے کسی طور کوئی اہمیت اس لیئے نہیں دی کہ اس سے تو یہ بھی پتہ چل جاتا کہ ’’مت جاو نماز کے نزدیک، جبکہ حالت نشہ میں ہو‘‘۔ جی ہاں، آیئے ذرا کچھ اس طرف بھی نظر ڈالتے ہیں کہ کتاب کے مضمرات کچھ عیاں ہوں۔

مارے جانے والوں کی حقیقت اور خون بہا یا دیت کا شرعی و قانونی اطلاق:

ریمنڈ ڈیوس کی کتاب کے مطابق، مارے جانے والے دونوں اسلحہ بردار، فیضان اور اسکا ساتھی پیشہ ور مجرم تھے، اور انکے قبضے سے پولیس نے نہ صرف دوسرے چوری شدہ موبائل فون برآمد کیئے بلکہ انکے کم از کم پچاس مرتبہ ان جرائم میں پکڑے جانے کا ریکارڈ بھی پولیس کے پاس تھا، جو کہ عدالت میں کبھی پیش نہ کیا گیا۔

اگر عدالت میں یہ ریکارڈ چالان کے ساتھ جمع کروا دیا جاتا، تو ریمنڈ ڈیوس صاف بے قصور نکلتا تھا۔ اس ضمن میں صرف ایک شخص کی حادثاتی موت ان کے گلے پڑتی، جس میں کم از کم سزائے موت یا عمر قید کی سزا تو نہیں بنتی ، بلکہ غلطی تصور کرتے ہوئے معاملہ دیت یا خون بہا پر ہی آجاتا ہے۔




کنٹریکٹر صفحہ نمبر ۵۶

اب یہاں فوج سے عمومی کدورت پسند یہ بات کہیں گے کہ جناب یہ فوج نے خود کیا تھا ورنہ انکو امریکن پیسہ کیوں دیتے؟ تو جناب عرض پہلی تو یہ کہ فوج کو پیسہ تو پہلے ہی مل رہا تھا اور اگر ان کے اخراجات کو دیکھیں تو دیت کے تحت دیئے جانے والے پیسے تھے ہی کتنے ؟ قریباً بیس سے پچیس کروڑ؟ اتنے میں تو کسی کا کچھ نہیں بنتا۔

مزید یہ کہ اگر ہماری فوج اور خاصکر جنرل پاشا امریکہ کے آگے اتنے ہی لیٹے ہوئے تھے، تو پھر تو سیدھی سی بات ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کی ایف آئی آر بھی نہیں لکھی جانی تھی۔ تقابل کے لیئے ماڈل ٹاوٗن اور گلو بٹ کا کیس آپکی نظروں کے سامنے ہے۔ آپکا خیال ہے کہ اس صورت حال میں ہماری پولیس، بلکہ پنجاب کی گلو پولیس اپنے تئیں کوئی ایف آئی آر کاٹ سکتی تھی؟ ان کے ہاتھ نہ جل جاتے؟

اب دیکھتے ہیں تصویر کے ایک دوسرے رخ کی طرف۔ اس کے بارے میں کچھ اشارے ریمنڈ ڈیوس نے بھی دیئے ہیں کہ جنکی وجہہ سے احمد شجاع پاشا اور جنرل کیانی نے امریکیوں کو ٹف ٹائم دیا۔ یہ رخ کبھی آپکو گلاسڑا جیسے امام انجمن لفافیہ کبھی نہیں بتایئنگے، بلکہ یہ پڑھتے ہوئے انکی اپنی آنکھیں اندھی ہو سکتی ہیں لہٰذا ان الفاظ و صفحات کو وہ خود بھی نہیں دیکھتے۔

ریمنڈ ڈیوس کی غلط بیانی کا اعتراف:

ریمنڈ ڈیوس خود یہ بات لکھتا ہے کہ پولیس نے زیادہ دیر اسکو اپنی حراست میں نہیں رکھا بلکہ واقعہ کے کچھ گھنٹوں بعد ہی تفتیش کے لیئے اسے عسکری اداروں کے حوالے کردیا گیا تھا۔

یہاں سے اصل کہانی شروع ہوتی ہے جس کی وجہ سے ریمنڈ ڈیوس کے کیس کو اتنا سنجیدہ بنایا گیا اور امریکی سی آئی اے اور بلیک واٹر جیسی تنظیموں کو نہ صرف ملک میں بلکہ بین الاقوامی طور پر ہائی لائٹ کیا گیا۔
ریمنڈ ڈیوس خود لکھتا ہے کہ جب اس سے اسکی رہائش گاہ کے بارے میں سوال ہو تو اس نے جان بوجھ کر جھوٹ بولا




اب ذرا اس بات پر سوچیں کہ ایک شخص جو سفارتی مدافعت کا دعویدار ہو، اسی ملک میں اپنی رہائش گاہ یا ساتھیوں کے متعلق جھوٹ کیوں بولے گا؟ ہماری فوج یا آئی ایس آئی سے ان کی جان کو کیا خطرہ ہو سکتا ہے؟ ہم تو بہ قول[FONT=&quot] کلاسرا [/FONT]صاحب کے ویسے ہی ان کے آگے لیٹے ہوئے لوگ ہیں، تو پھر ڈر کاہے کا بھائی؟ ہم وہاں پر بھی اس کے ساتھیوں کی حفاظت پر چار گارڈ لگا دیتے۔ نقصان ہم کیسے پہنچا سکتے تھے؟

معلوماتی خرد برد کا اعتراف:

اس بات کا اعتراف تو ریمنڈ ڈیوس نے خود کیا کہ معلوماتی خرد برد امریکہ کی طرف سے یہاں پر بہت سارے لوگوں کے ریکارڈ کے ساتھ کی گئی۔ اب اس کے پیچھے کیا عوامل تھے؟ وہ تو اسے محظ ریکارڈ کی غلطی کہتا ہے۔ پڑھنے اور سمجھنے والے اس بات کو جانتے ہیں کہ ایسی غلطیاں تو کبھی پاکستان کا سفارتخانہ دبئی اور سعودیہ میں مقیم پچاس ہزار سے زائد پاکستانیوں کے ریکارڈ میں نہیں کرتا،

امریکہ کیسے کر سکتا ہے اور وہ بھی اتنے خاص بندے کے سلسلے میں جو کہ پاکستان میں امریکی حکام کی خاص سیکیورٹی پر تعینات ہو؟

اور چلیں اگر پاکستان میں امریکی سفارتخانے میں اسکی معلومات غلط نکل بھی آئی تھیں، تو کتنی دیر لگتی تھی ایک ای میل یا فون کال کر کے امریکہ کے ہوم لینڈ ڈیپارٹمنٹ سے صحیح معلومات حاصل کرنے میں؟


[FONT=&amp]صفحہ ۴۵[/FONT]

لیکن ایک منٹ، اب اگر ہم اپنی توجہ اس کتاب سے ایک منٹ کے لیئے ہٹایئں اور اس واقعے کے کچھ ہی عرصہ بعد کے ایک اور واقعے کی طرف مبذول کریں، تو بات قدرے صاف ہو جاتی ہے کہ ہم نے کیا قیمت وصول کی تھی ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کی؟

Source

Source 2

یہ کیا؟ ۲۵ فروری ۲۰۱۱ کو ارون مارک نامی ایک اور سیکیورٹی کنٹریکٹر پشاور سے پکڑا گیا؟ کیا ایک سیکیورٹی کنٹریکٹر کو نہیں پتہ ہوتا کہ اس کا ویزا ختم ہو چکا ہے اور اسکو دوسرے ویزے کی ضرورت ہے؟ اور وہ پھر بھی امریکی حکام کی سیکیورٹی پر پشاور جیسی جگہہ پر تعینات تھا؟ کیا ٹائمنگ ہے؟ ۲۵ فروری، ۲۰۱۱، ذہن میں رکھیئے گا۔ مزید یہ کہ جناب کی کمپنی کے دفاتر کابل اور دبئی میں بھی پائے جاتے تھے۔

اب ذرا پاکستان میں ۲۰۱۱ کا وقت یاد کریں، کیا یہ وہی وقت نہیں تھا جبکہ پاکستان کے اپنے اندر یہاں کے اپنے فوجی حکام بغیر وردی کے دفاتر جاتے تھے؟ ڈیفنس کی تمام گاڑیوں کو پرائیویٹ نمبر پلیٹیں لگ گئی تھی؟ ایسے اوقات میں آپ ایک امریکی کنٹریکٹر کا ویزے بغیر پشاور جیسی جگہہ پر قیام کرنا، سمجھ ہی سکتے ہونگے۔

جی ہاں، یہ ہے وہ قیمت جو پاکستان کی افواج نے ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے لیئے حاصل کی۔

آخر میں وہ بات یاد آجاتی ہے[FONT=&quot] کلاسرا [/FONT] کی کہ جناب ریمنڈ ڈیوس نے یہ بھی لکھا ہے کہ شجاع پاشا کمرہ عدالت سے کیمرون منٹر کو میسج کر رہے تھے۔ جی ہاں لکھا ہے اس نے، لیکن یہ امام لفافیہ برادری کبھی یہ نہیں بتائے گا کہ اس نے یہ بھی لکھا ہے کہ وہ اس وقت ایک پنجرے میں قید تھا۔ اب وہاں سے اسکی رسائی کیسے ہو گئی شجاع پاشا کے فون تک؟

کیسے اسے پتہ چلا کہ پاشا صاحب منٹر کو ہی میسج کر رہے تھے؟ اب یہ تو یا منٹر بتا سکتا ہے یا شجاع پاشا، ریمنڈ ڈیوس کی اس بات پر ان کے اندھے اعتماد کی وجہ میں تو سوائے لفافے کے کچھ اور نہیں سمجھ سکا۔ اور ویسے بھی، چلیں بلفرض مان بھی لیا جائے کہ جناب مطلع کر بھی رہے تھے پاشا صاحب گر منٹر کو، تو اس میں کونسی ایسی بات ہے

جس سے ان کے بکاوٗ مال ہونے کا ثبوت حاصل ہوتا ہو؟ وہ ایک انٹیلیجنس محکمے کے سربراہ تھے، اور ایسے موقع پر اگر وہ عدالتی کاروائی کی خبر منٹر کو دے بھی رہے تھے تو اسکی بہت سی اور وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ہو سکتا ہے وہ انھیں اس لیئے یہ معلومات فراہم کر رہے ہوں کہ منٹر اپنے جہاز اور باقی چیزیں تیار رکھے اور جلد از جلد ریمنڈ ڈیوس کو لے کر یہاں سے د ف ع ہو جائے۔

بہرحال یہ بھی ایک مفروضہ ہی ہے، کیونکہ ریمنڈ ڈیوس نے خود لکھا ہے کہ اس کے ساتھ عدالت میں کاروائی سمجھنے اور اسکو بھی سمجھانے والے امریکی حکام بیٹھے ہوئے تھے، لیکن کیا ہی حیرت کی بات ہے کہ ان میں سے کوئی بھی کیمرون منٹر کو میسج نہیں کر رہا تھا؟

میرے لیئے تو کم از کم یہ بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ کیا امریکی حکام منٹر کے خلاف علم بغاوت بلند کر چکے تھے یا ان کے پاس اپنے فون نہیں تھے یا کریڈٹ نہیں تھا یا منٹر کا نمبر ہی نہیں تھا؟

تو میرے عزیز ہم وطنوں، اگ ان باتوں کو زیز غور لایئں تو آپکو اندازہ ہو جائے گا کہ اس وقت اس کتاب کے اتنے چرچے کیوں ہو رہے ہیں پاکستانی میڈیا میں؟ یہ مگرمچھ کے منہ کو بھی پچھاڑنے والی لفافیہ آخر کیوں ہمیں ایک ہی بات باور کروانے میں لگی ہوئی ہے کہ ’’مت جاوٗ نماز کے نزدیک‘‘، انکی سوئی صرف اسی ایک سچ پر کیوں اڑی ہوئی ہے؟

نوٹ: اس امام لفافیہ کا طریق واردات ہی کچھ ایسا ہے کہ لوگوں کو اکثر لبھا لے جاتا ہے۔ ویسے تو خیر اس طریق کے موجد جناب پٹواری اعظم جاوید چودھری صاحب ہیں کہ دو پروگراموں میں کچھ سچ بول دیتے ہیں

اور بعد از ایک پروگرام لفافیہ ہی ہوتا ہے، لیکن
[FONT=&quot] کلاسرا [/FONT] صاحب نے اس تکنیک کو عروج و خاص دوام بخشا۔ یہ ایک پروگرام نواز شریف کے خلاف کرتے ہیں اور دوسرے پروگرام میں نواز شریف کی تعریف تو نہیں کرتے ، لیکن اس کے دشمنوں کی لفافیہ تضحیک کر کے اپنے آپ کو نیوٹرل پٹواری کی کیٹگری میں لے جاتے ہیں۔


اللہ ہم سبکو سچ کو جاننے، پرکھنے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس ملک خداداد کی جو بھی جڑیں کھوکھلی کرنے میں لگا ہوا ہے، اللہ اس کے ساتھ بھی پورا پورا انصاف کا معاملہ فرمائے (آمین)۔۔۔۔ پاکستان پائندہ باد

(jhanda)​
 
Advertisement
Featured Thumbs
http://www.unewstv.com/tarimgs/rauf-klasra-views-on-imran-khan-s-attitude-in-india-meeting-with-modi.jpg
Last edited:

Zaidi Qasim

Chief Minister (5k+ posts)
#3



کس کا گماشتہ ہے امیرِ سپاہ شہر

کن معرکوں میں ہے صفِ لشکر لگی ہوئ

برباد کر کے بصرہ و بغداد کا جمال

اب چشمِ بد ہے جانبِ خیبر لگی ہوئ
غیروں سے کیا گِلہ ہو کہ اپنوں کے ہاتھ سے

ہے دوسروں کی آگ میرے گھر لگی ہوئ

 

Sohail Shuja

Minister (2k+ posts)
#6



کس کا گماشتہ ہے امیرِ سپاہ شہر

کن معرکوں میں ہے صفِ لشکر لگی ہوئ

برباد کر کے بصرہ و بغداد کا جمال

اب چشمِ بد ہے جانبِ خیبر لگی ہوئ
غیروں سے کیا گِلہ ہو کہ اپنوں کے ہاتھ سے

ہے دوسروں کی آگ میرے گھر لگی ہوئ

مکرمی او محترمی، قبلہ و کعبہ، محترم عالی جناب، نگاہ رو برو، بندہ جسارت سوال پر نادم تو ہے، لیکن یہ عقل ناتواں ابھی اتنے بال و پر نہیں رکھتی کہ آپکے کہے خیبر کی صحیح طور نقشے پر نشاندہی کر سکے۔
لہٰذا درخواست ناہنجار یہی ٹھہری کہ تھوڑی سلاست کے ساتھ نشاندھی فرمایئں۔ تا کہ ہمیں موثر طور آپکی نگاہ و نشانے کا اندازہ ہو سکے۔
نوٹ: صفائی کے پانچ نمبر ہیں
 

Desibaba

Politcal Worker (100+ posts)
#8
Well Written.
But unfortunately, the damage has been done by Kalasra.
Nobody will read this
but sources are correct.
 

atensari

Prime Minister (20k+ posts)
#9
کرائے کے قاتل کی آپ بیتی نے صف اول کے جن لفافیوں اور سویلین سپاہیوں کو منہ کھولنے کا موقع فراہم کیا ہے ان سے گزارش ہے کے پاکستان جیسا چھوٹا ملک جو افغانستان پر حملہ کرنے لئے امریکا کو منہ مانگا تعاون فراہم کرنے کی فرمائیش رد نہیں کر سکا، پے در پے ڈرون حملوں کے رد عمل میں امریکا بہادر کو یہ بھی نہیں کہہ سکا کے حضور بہت ہو گئی اب بہت دکھتا ہے، یہاں تک کے سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ کا جواب بھی علامتی ہرتال سے آگے نا بڑھ سکا. ان لوگوں نے کیسے تصور کر لیا کے پاکستان میں اتنی سکت ہے کے وہ دو پاکستانیوں کے امریکی قاتل کو سزا دیتا

کیا پاکستان میں اتنی ہمت اور پاکستانیوں میں اتنی حمیت ہے کے دو معمولی سے پاکستانی مقتولین کے ورثا کو کسی بھی قیمت پر انصاف دلا سکیں. چھوڑیں جناب ایک بار پھر اپنی جان بچائیں دو پاکستانیوں کے لئے سترہ کروڑ عوام کو کیوں داو پر لگاتے ہیں
 

wadaich

Prime Minister (20k+ posts)
#10
@Sohail Shujah There is no doubt that 95% of media is on pay roll of hostile forces with an agenda to demoralize the nation at first place and then turn it into a soft target for the enemy. They will always blow the the weaker sides out of proportion. This process is at full swing since the advent of electronic media in Pakistan as there reach has multiplied; earlier on they could affect and infect only the ones who have access to print media. However, they won't succeed in their evil designs; they have done considerable damage though.
 

Rajarawal111

Chief Minister (5k+ posts)
#11
پا جی ہم لوگ ایک وقت میں بہت زیادہ پانی بھری گڑویوں میں مدانی ڈال کر رکھتے ہیں - ہماری فوج کے جو کارنامے میں ان سے کوئی انکار نہیں کر سکتا - ایس ایس جی کے سب سے بڑے چوھے عرف مشرف نے بلیک واٹر والا گند خود ڈالا - جب اس سے فوج کی اپنی پوچل سڑنے لگی تو اس کا کنٹریکٹ ختم کرنے کے لئے - اسلام آباد میں ان کے ہیڈ کواٹر پر حملہ کروایا جس کو سب بھول گئے ہیں

https://www.theguardian.com/world/2009/dec/11/blackwater-in-cia-pakistan-base

https://www.democraticunderground.com/discuss/duboard.php?az=view_all&address=389x7672750





جہاں تک دیت کا معاملہ ہے - جب لواحقین نے ہی مان لیا تو ہم لوگ کون ہوتے ہیں چکاں مارنے الے - کڈو ھن اس پانی بھری گڑ وی وچوں مدانی




جی میں سہیل شجاع تو ہوں، لیکن پاشا کبھی سے نہیں ہوں
 

spain say

MPA (400+ posts)
#12
رؤوف کلاسرا اور لفافہ ہوں خوں،
آپکی ساری باتیں ٹھیک ہوں گی لیکن یہ ماننے کو دل نہیں کرتا۔
 

tariisb

Chief Minister (5k+ posts)
#13

تحقیق سے لبالب تحریر کا شکریہ ، ناشتہ ثقیل ہو تو ، تسلی سے پڑھی جانے والی چیز ہے ، صرف دیکھ لینے سے گزارا نہیں

ریمنڈ ڈیوس کا معاملہ / حادثہ / واقعہ ، آخر تک ایک "پیکیج" تھا ، جس پر ایک تفصیلی فلم بنائی جا سکتی ہے ، کردار بہت زیادہ ہیں ، کون سا کردار کیا کر رہا ہے ، یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ، لیکن عجیب بات سب کردار ، اپنا کردار بچانے میں بھی مصروف ، لیکن حتمی بات یہی ، یہ ایک "پیکیج" تھا ، جس میں سب نے مل کر اپنا حصہ ڈالا ، کسی ایک کے بس کا یہ کام بھی نہیں تھا ، سکرپٹ کی خوبی بھی یہی تھی کہ ، سب کو ملوث رکھا جاۓ ، تا کہ بعد میں کوئی بھی سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش نا کر سکے

رؤف کلاسرا کے پروگرام کا سائیڈ ایفکٹ ، پاشا پر نکلا ، یا نکالا گیا ، جبکہ وفاقی حکومت ، صوبائی حکومت ، عدلیہ ، حسین حقانی ، تک سب ہی تو "آن بورڈ" تھے

:)طاقتور (سول ملٹری) اسٹیبلشمنٹ ، میں آئ ایس آئ ایک "آپریشنل" سہولت کار ادارہ ہے ، اور باقی سب انتظامی سطح پر اپنی اپنی زمہ داری پر مامور


 

sakayani

Senator (1k+ posts)
#19
Klasra is a very good analyst but at the same time he tries to analyze subjects over which he has minimum or no authority at all. He is good on local politics and understands it quite well but when it comes to international scenarios, he loses the plot. Its ok to criticize your institutions but at the same time you have to give a better alternative too.
 

gorgias

Chief Minister (5k+ posts)
#20
میں رؤف کلاسرہ کا پروگرام شوق سے دیکھتا ہوں کہ اس کی کہانیاں بڑی جاندار ہوتی ہیں خصوصاً مالیاتی سکینڈلز کی کہانیاں۔ جو اکثر سچ ہی ہوتی ہیں۔ لیکن یہ الگ بات کہ ہمارے ہاں مالیاتی کرپشن پر سزا تو کیا کوئی پکڑا بھی نہیں جاتا۔
لیکن کلاسرہ کے سیاسی نظریات سے بعض اوقات شدید اختلاف رکھتا ہوں۔ اس کے باوجود کلاسرہ کا لفافہ ہضم نہیں ہوتا کہ کلاسرہ کی بیوی سینٹ میں ملازمہ ہے اور وہ اکثر اوقات سرکاری ملازمہ ہونے کے باوجود ان استحقاقات سے محروم رہی جو تمام سینٹ کے ملازمین کا حق ہے کہ اس کا شوہر ایک انوسٹیگیٹیو جرنلسٹ ہے

جہاں تک کلاسرہ کی اس بات کا تعلق ہے کہ شجاع پاشا عدالت میں بیٹھا تھا۔ واقعی عجیب بات ہے کہ ریمنڈ ڈیوس نے اس دور سے دیکھا۔ لیکن اتنے سے بیان سے کلاسرہ نے کیسے یہ اندازی لگایا کہ جنرل پاشا کس کو میسجز کر رہا ہے اور کیا لکھ رہا ہے۔
 
Last edited:
Sponsored Link

Featured Discussions