کن ٹُٹے اور ہسٹری شیٹر

tlp1121.jpeg


کن ٹٹوں اور ہسٹری شیٹر کی اصطلاح پنجاب میں بہت زیادہ استعمال ہوتی ہے، یہ ایسے لوگ ہیں جن کا کام غنڈہ گردی، بدمعاشی کرنا ہے، یہ اپنے علاقے میں بدنام ہوتے ہیں، کوئی انکے منہ نہیں لگتا، یہ آتے جاتے لوگوں کو چھیڑتے، ان سے چیزیں چھینتے، کسی کو بلاوجہ تھپڑمارینا، کسی ریڑھی سے پھل اٹھاکر کھانا ان کا معمول ہے۔ کوئی انکے منہ نہیں لگتا۔

انکی بدنامی کا یہ عالم ہے کہ انکے والدین اور بھائی کتنے ہی شریف اور نیک کیوں نہ ہوں، لوگ انکے بارے میں غلط رائے قائم کرتے ہیں، لوگ انکے ہاں رشتہ داری سے کتراتے ہیں۔انکا ٹھکانہ عام طور پر کوئی سنوکر یا بلئیرڈ کلب، کوئی سگریٹ پان کا کھوکھا،کوئی ڈیرہ یا گلی کی کوئی نکڑ ہوتی ہے جہاں یہ آتے جاتے لوگوں کو جھانکتے ہیں۔

یہ لوگ سیاسی جماعتوں اور شرپسندوں کے لئے بھی استعمال ہوتے ہیں، کسی جگہ نعرے لگوانا ہوں، جلسے کیلئے لوگ پورے کرنا ہوں یا ہنگامے کروانا ہوں انہی لوگوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان اور بھارت میں عام رواج ہے کہ جیسے ہی کسی علاقے میں نقص امن کا خطرہ ہو تو اس سے پہلے ہی وہاں کے کچھ مقامی کن ٹٹوں کو پولیس اٹھاکر حوالات یا جیل میں ڈال دیتی ہے، انکے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں ہوتا، جب حالات معمول پر آتے ہیں تو انہیں پولیس خود ہی چھوڑدیتی ہے۔

یہ جیل یا حوالات میں ہوں تو انکے گھروالے بھی فکرمند نہیں ہوتے کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کچھ دن بعد ہی پولیس چھوڑدے گی تو گھر واپس آجائیں گے۔

ہسٹری شیٹر ایسے شخص کو کہتے ہیں جو ایک سے زیادہ بار جرائم میں ملوث ہو، جس کے جرائم کا پولیس کے پاس ریکارڈ ہو، یہ لوگ ہر وقت پولیس کے ریڈار پر رہتے ہیں۔ کہیں چوری چکاری ہو، جرم ہوتو سب سے پہلے پولیس ان سے پوچھ گچھ کرتی ہے۔ یہ لوگ چاہے جتنا بھی جرائم سے توبہ کرلیں انکے پرانے جرائم انکا پیچھا نہیں چھوڑتے

یہ روایت پنجاب میں کافی عرصے تک چلتی رہی، نوے کی دہائی کے بعد کالعدم سپاہ صحابہ کے مخالفوں کے ساتھ فساد کی خبر پولیس کو ملتی تو پولیس پیشگی کے طور پر دونوں تنظیموں کے کارکنوں کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیتی۔

اسکے بعد یہ روایت ہی ختم ہوگئی لیکن ٹی ایل پی نے اس روایت کو زندہ کردیا۔ ن لیگ کے دور میں انہیں خاص روک ٹوک نہ تھی، انکا دھرنا فیض آباد تک آنے دیا گیا، اس جماعت کے لوگ مساجد میں بیٹھ کر الیکشن کمپین چلاتے ، سیاسی لیڈروں یا اپنے مخالفوں پر شعلہ بیانی کرتے ، من مانیاں کرتے لیکن عمران خان حکومت آنے کے بعد ان پر سختی آنا شروع ہوگئی۔

تحریک انصاف حکومت آنے کے بعد انہوں نے آسیہ بی بی کی رہائی پر دھرنا دیا، سڑکیں بلاک کردیں جس پر انکے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ بھی ہوئی، مذاکرات بھی ہوئے ۔ان کا مطالبہ تھا کہ ججز استعفیٰ دیں ۔ حکومت نے مذاکرات کے بعد دھرنا تو ختم کروادیا لیکن کچھ ہی عرصے بعد خادم رضوی اور پیر افضل قادری کو گرفتار کرلیا، خادم رضوی کئی ماہ تک جیل میں رہا جبکہ پیر افضل قادری معافی مانگ کر اس تنظیم سے علیحدہ ہوگیا۔

بعدازاں 2020 میں انہوں نے دوبارہ دھرنا دیا ، حکومت نے پھر مذاکرات کئے اور دھرنا ختم ہوگیا لیکن کچھ ہی عرصہ بعد خادم رضوی دنیا سے چلے گئے تو بیٹے نے قیادت سنبھال لی۔

اپریل 2021 میں خادم رضوی کے بیٹے نے فیض آباد میں دھرنے کی کال دی جس پر حالات کشیدہ ہوگئے، چوک یتیم خانہ جنگ کا منظر پیش کرنے لگا، جھڑپوں میں 2 پولیس اہلکاروں سمیت 5 افراد موت کا شکار ہوئے جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے۔

پولیس نے سینکڑوں کی تعداد میں ٹی ایل پی کے کارکنوں کو گرفتار کیا، جماعت کو کالعدم قرار دیا لیکن حکومت نے قرارداد اسمبلی میں لانے کی حامی بھرلی لیکن خادم رضوی کی طرح اسکے بیٹے کو بھی نہ چھوڑا اور گرفتار کرکے جیل پہنچادیا۔

بارہ ربیع الاول کے موقع پر سوشل میڈیا پر جنگوں والے نبی کے نام سے ایک ٹرینڈ چلا جس پر سب حیران ہوئے کہ یہ کس نے چلایا ہے، تحقیق کرنے پر پتہ چلا کہ یہ ٹی ایل پی نے چلایا ہے لیکن حکومت ٹی ایل پی کے ارادوں سے بے خبر رہی، کالعدم ٹی ایل پی نے 12 ربیع الاول کو محفل میلاد منعقد کی اور بعدازاں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کردیا۔۔

پولیس نے پیشقدمی کرتے ہوئے ٹی ایل پی کے ان کن ٹٹوں اور ہسٹری شیٹروں کو گرفتار کرلیا جنہیں وہ پہلے بھی گرفتار کرچکے تھے، یہ لوگ ہزاروں میں تھے، انہیں گھروں سے اٹھاکر حوالات اور جیلوں میں بند کردیا گیا۔پولیس اور رینجرز نے کالعدم تنظیم کو وزیر آباد سے آگے بڑھنے کا موقع نہ دیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 5 پولیس اہلکار اپنی جان گنوابیٹھے، سینکڑوں پولیس اور کالعدم تنظیم کے کارکن زخمی ہوئے۔

اسکے بعد ٹی ایل پی کا معاہدہ ہوا، عام خیال یہی ہے کہ یہ طے پایا ہے کہ ٹی ایل پی سے کالعدم کا لفظ ہٹادیا جائے گا، سعدرضوی کو بھی رہا کردیا جائے گا اور تحریک لبیک کو آخری اچھا بچہ بننے کا موقع دیاجائے گا۔

حکومت کے پاس اگر کسی جماعت کو کالعدم قرار دینے، کالعدم قراردینے کا فیصلہ واپس لینے کا اختیار ہے تو دوبارہ کالعدم قرار دینے کا اختیار ہے، سعد رضوی دوبارہ بھی گرفتار ہوسکتا ہے۔

ٹی ایل پی نے ماضی میں جو کیا ہے، اسکا نقصان انکے کارکنوں کو بھگتنا پڑرہا ہے جو کسی بھی واقعے سے پہلے گرفتار ہوکر جیل پہنچ جاتے ہیں، یہ لوگ ہر وقت پولیس کی لسٹ میں رہتے ہیں۔ یہ کن ٹٹے نہ سہی لیکن ہسٹری شیٹر بن چکے ہیں۔

جو مساجد کےامام انکی کھل کر حمایت کرتے تھے، اب کھل کر حمایت کرنے سے کتراتے ہیں اور وہ زیادہ تر حکومت سے شکوہ شکایت کرنے اور کوسنے تک رہتے ہیں۔ کئی ان سے کنارہ کشی کرچکے ہیں۔

پہلے جب انکے کارکن جیل سے رہا ہوتے تھے تو انہیں پھولوں کے ہار پہنائے جاتے تھے لیکن اب کی بار ایسا نہیں ہوا، جو تاجر یا دکاندار کھل کر اس تنظیم کی مالی مدد کرتے تھے ، اب کتراتے ہیں کیونکہ پولیس یا سیکیورٹی اداروں کا خطرہ ہوتا ہے۔

سال 2018 سے لیکر اب تک یہ جیسے جیسے دھرنے دے رہی یا سڑکیں ہے ویسے ویسے مضبوط ہونے کی بجائے کمزور ہورہی ہے۔ انکے دھرنوں کی وجہ سے تکلیف کا شکار ان سے متنفر ہورہے ہیں۔

میرا ذاتی خیال ہے کہ حکومت نے انکے سامنے ہار نہیں مانی، انہیں آخری موقع دیا گیا ہے، اگلی بار انہوں نے کچھ ایسا کیا تو حکومت کے پاس انکو کالعدم قرا ردینے یا انکے اکابرین کو گرفتار کرنے کا اختیار ہے۔

نوے کی دہائی میں لشکر طیبہ، سپاہ صحابہ کا ڈنکا بجتا تھا، آج اس تنظیم کا سربراہ پولیس کی تحویل میں جبکہ ایک رہنما ایک اخبار میں کالم لکھ کر جنرل باجوہ کی شاہ میں قصیدے لکھتا ہے جبکہ سپاہ صحابہ کے سربراہ مولانا اعظم طارق اچھا بننے کی کوشش کی اور قتل ہوگیا اور اسکے بعد آنیوالا مولانا لدھیانوی کہاں ہوتا ہے کچھ معلوم نہیں۔۔

یہ تنظیمیں اس وقت زوال کا شکار ہوئیں جب ان میں تشدد اور قتل وغارت کاعنصر آیا یہی وجہ ہے تحریک لبیک نے اپنے آپکو اس انجام سے بچانے کیلئے سیاسی راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی لیکن سیاست میں وہ ووٹ تو ضرور لے سکتے ہیں مگر کامیابیاں بڑی جماعتوں کو ہی ملیں گی۔
 
Advertisement

Aliimran1

Chief Minister (5k+ posts)

In beghairaton Indian agents Ghudar e watan bharwon ko jab tak sar e aam phansi par nahi latkaya jaye ga tab tak yeh mazhab kay naam par Dean aur mulk ko nuqsan detay rehein gae😡😡😡

 

Fawad Javed

Minister (2k+ posts)

In beghairaton Indian agents Ghudar e watan bharwon ko jab tak sar e aam phansi par nahi latkaya jaye ga tab tak yeh mazhab kay naam par Dean aur mulk ko nuqsan detay rehein gae😡😡😡

hahahaha, Nawaz aur Zardari jaesay corrupt logon ko tu phanssi nai hoye tu in ko kaesay ho ge
 

Bubber Shair

Chief Minister (5k+ posts)
ہمیں کسی سے کوی دلچسپی نہیں اور نہ ہی کسی سے دشمنی ہے مگر اچھا بچہ بننے سے پہلے کئے گئے قتل معاف کرنے کا اختیار تو قرآن میں صرف ورثا کو دیا گیا ہے؟
فوج یا حکومت نے کس طرح ان کو معاف کردیا؟
آپ نے خود نوے کی دہای والی تنظیموں کے بارے میں لکھا ہے جو آج موجود نہیں مگر آج ٹی ایل پی ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا جب تک آپ قانون شکنوں کو سزا نہیں دیتے یہ سلسلہ کم نہیں ہوگا کوی نئی جماعت آجایا کرے گی اور قوم اسی طرح اگلے سو سال بھی مار کھاتی رہے گی ہم بنگلہ دیش سے بہت پیچھے ہیں اور افغانستان کی کرنسی ہم سے ابھی بھی بہتر ہے۔
قوم کو کیوں سزا دی جاے ان کو پکڑ کر کیوں نہ لٹکایا جاے؟
 
Sponsored Link