کراچی میں تبدیلی کب آئے گی ؟

Syed Haider Imam

Chief Minister (5k+ posts)

کراچی میں تبدیلی کب آئے گی ؟



حالیہ تھریڈ کے کمنٹس سیکشن میں میں ایک صاحب نے کراچی پر لکھنے کو کہا . اس وباء کے پہلے دو ماہ سیاسی ٹالک شوز سے جان چھڑا کر میں صرف ریسرچ ہی کرتا رہا تھا . اس مرتبہ ڈھاکہ فال پر ریسرچ کے ساتھ ساتھ ڈرامہ ارتغل غازی دیکھتا رہا . نفسا نفسی کے دور میں ماضی کوکبھی کریدنے کا موقع ہی نہیں ملتا تھا . لمبی تحریر پڑھنے کا کسی کے پاس وقت نہیں اور میں سیاق و سباق کے بغیر کچھ لکھنے کا قائل نہیں . کراچی پر لکھنے سے پہلے یایہ جاننا ضروری ہے کے وہاں کونسی قومیتیں رہتی ہے




سندھ کی آبادی پانچ کڑوڑ کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے جسکا بیشتر حصہ گاؤں اور قصبوں میں رہتا ہے . دارلحکومت کراچی کی آبادی ایک کڑوڑ ٦٠ لاکھ بتائی جاتی ہے . کراچی کی آبادی میں ٥٠ سے ٦٥ فیصد لوگ اردو بولنے والے ہیں جو انڈیا کے صوبہ بہار سے ہجرت کر کے آئے تھے . یہ ہجرت دو حصوں میں ہوئی تھی . ایک ١٩٤٧ کے بعد اور ایک ڈھاکہ فال ١٩٧١ کے بعد . پاکستان کے حصول کی خاطر سب سے زیادہ شہادت دینے والے بہار کے مسلمان تھے . ١٩٤٧ کے بٹوارے سے پہلے بہار میں بدترین ہندو مسلم فسادات ہوے تھے . ١٩٤٦ میں یہ فسادات ٢٤ اکتوبر سے لے کر ١١ نومبر ١٩٤٦ تک چلے تھے . سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس نسلی فسادات میں پانچ ہزار سے چھتیس ہزار افراد جاں بحق ھوے تھے . یہ فسادات کلکتہ ، نوا کھلی ، بہار ، یو پی ، پنجاب اور سرحد میں ہوے تھے . تاریخ دان یہ کہتے ہیں کے پاکستان کا بیج ان فسادات میں بیجا گیاتھا. نسلی اور خونی فسادات کی وجہ سے بہار کے مسلمانوں نے جان اور مال کے لئے پاکستان ہجرت کرنے میں عافیت سمجھی . نسلی فسادات کی وجہ سے انکا اعتبار مقامی لوگوں سے اٹھ گیا تھا



١٩٠٥ ء میں جس وقت لارڈ کرزن ہندوستان کے وائسرائے تھے، ان کی سفارش پر برطانوی پارلیمنٹ نے انتظامی سہولت کے پیش نظر بنگال کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ منظور کر لیا۔ کیونکہ انگریزوں کے مطابق اتنے بڑے اور وسیع صوبے کا انتظام صحیح طریقے سے چلانا ایک گورنر کے بس کی بات نہ تھی. صوبہ بہار پہلے بنگال کا حصہ تھا . صوبہ بہار کے قریب ترین بنگلہ دیش ہے .تقسیم ہند کے بعد خاندان کے ٩٥ فیصد مرد انڈیا سے ایسٹ پاکستان ہجرت کر گئے . زمیندار اور صاحب جائیداد وہیں پر رہ گئے. چونکے ایسٹ پاکستان بہار کے قریب ترین تھا لھذا بہار کے خاندانوں نے ایسٹ پاکستان ( بنگلہ دیش ) ہجرت کرنے کو ترجیح دی . شادیوں کے بعد زیادہ تر خواتین اپنے مردوں کے ساتھ انڈیا میں رہیں . میرے اندازے کے مطابق زیادہ تر یو پی ( کانپور - لکھنو – آگرہ ) والوں نے ڈائریکٹ ویسٹ پاکستان ہجرت کی تھی
. شروع میں پاکستان کے انتظامی امور چلانے والوں کا تعلق اردو بولنے والوں سے تھا

اجکل کی نسل ان معروضی حالات کی گہرائی میں نہیں جا سکتی جسکی وجہ سے کثیر تعداد نے مال و جان کو خطرہ میں سمجھ کر پاکستان جانے کا فیصلہ کیا تھا . پاکستان اور انڈیا کی تہذیب ویسے بھی ایک جیسی ہے ، فرق صرف مذہبی دیوانگی کا تھا . مذہبی دیوانگی کا فلسفہ پاکستان میں بھی ایک تلخ حققیت ہے . یہ سمجھنا انتہائی ضروری ہے کے کوئی اپنے والدین اور پرکھوں کی قبریں چھوڑ کر کیسے ہجرت کر سکتے ہیں . ایسٹ اور ویسٹ پاکستان بہرحال اپنے وقت میں بیشمار مواقع رکھتا تھا اور لوگوں کو آسانی سے وہاں نوکریاں ملیں . انڈیا کے مسلمانوں کے برعکس آج پاکستان میں لوگوں کو اپنی شناخت اور ریاست کے ساتھ ہر وقت وفاداری ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے. یہ محض حسن اتفاق نہیں ہو سکتا کے انڈیا کے بیشتر میگا مسلمان فلمی ستاروں کی شادیاں ہندو عورتوں کے ساتھ ہوئی ہیں . قصہ مختصر ، یو پی اور دوسرے صوبوں میں رہنے والے سیدھا مغربی پاکستان ہجرت کر گئے تھے اور بہار والے مشرقی پاکستان کیونکے وہ قریب ترین تھا

یہاں ایک دلچسپ بات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کے یو پی کے اردو بولنے بہار کے اردو بولنے کو کمتر سمجھتے ہیں . کراچی کے بیشتر علاقوں میں اردو کے نام پر انتہائی واہیات زبان بولی جاتی ہے جسکا کم از کم حقیقی اردو کے ساتھ کوئی تعلق نہیں بنتا . اردو بولنے والے گھرانوں میں ہر خاندان کے سربراہ کی کوشش ہوتی ہے کے انکا بیٹا ڈاکٹر بنے . اس سے کم پر کوئی راضی نہیں ہوتا . الطاف حسین کے چالیس سالہ دور کے بعد اردو خاندانوں کے بیشتر نوجوان بدمعاش اور نشہ کرنے والے بن گئے ہیں . کراچی کو اب یہ اعزاز حاصل ہے کے وہ دنیا میں سب سے زیادہ چرس استعمال کرنے والے شہروں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔ اس فہرست میں امریکہ کا شہر نیو یارک پہلے نمبر پر ہے۔

کراچی میں تبدیلی کب آئے گی ، سب سے پہلا سوال یہ ہے کے

جنہوں نے اپنے تقدیر بدمعاشی ، غنڈہ گردی اور نشے کے حوالے کر دی ہے . اگر وہ اپنی تقدیر بدلنے پر قادر نہیں تو کراچی کی تقدیر کیا بدلیں گے ؟

بہاری خاندان کی ایک نسل نے تقسیم ہند کے بعد ایسٹ پاکستان ( بنگلہ دیش ) جانے کو ترجیح دیا تھا . وہاں یہ لوگ مکتی باہنی کے ہاتھوں شہید ہوے اور کراچی میں دوبارہ سیٹلمنٹ کے بعد الطاف حسین جیسے قصاب کے ہاتھوں نہ صرف خود قتل ہوے بلکہ پاکستان کے معاشی قتل میں بھی شریک سفر ہوے . میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کے بہاری مظلوم ہیں کے ظالم . ان پر ہندوستان میں ہندؤں کے ہاتھوں ظلم ہوا اور ایسٹ پاکستان میں مکتی باہنی کے ہاتھوں . جب اس قوم کو موقع ملا تو انہیں نے ہندؤں اور بنگالیوں کے مظالم کو بھلا کر خود ظلمت کی ایک ایسی نئی تاریخ رقم کی جس سے ہلاکو خان کا ظلم بھی مانند پڑ گیا . کم از کم ہلاکو خان کا ظلم اور قہر اسکے مخالفین تھے. بلدیہ فیکٹری میں انسانوں کو زندہ جلایا جانا ظلمت کی داستانوں میں صرف ایک کڑ ی ہے

ایسی تعلیم کا کیا فائدہ جو دوست اور دشمن میں تمیز نہ کروا سکے . کہنے کو بہاری قوم ایک تعلیم یافتہ قوم ہے مگر شائد انسے پڑھا لکھا جاہل شائد اس خطے میں موجود نہ ہو. میں یہ سمجھنے سے عاجز ہوں کے کوئی پڑھی لکھی نسل اتنا زیادہ عرصہ کیسے سازشوں کے اس جال میں پھانسی اور ابھی تک پھنسی ہوئی ہے. پاکستان میں رہنے والی دوسری قوموں کی طرح اس قوم کے لوگوں میں بھی منافقت اور جہالت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے . ایک جنونی پاگل ، غدار اور قاتل مسخرے کو کیسے اس قوم نے چالیس سال تک برداشت کیا ؟

کراچی میں دہشت گردی کی خالق جماعت صرف اور صرف جماعت اسلامی ہے . اسلامی جماعت طلبہ کا طرہ امتیاز رہا ہے کے کالجز اور یونیورسٹی میں یہ لوگ بدترین دہشت گردی کرتے ہیں . اگر کراچی یونیورسٹی میں اسلامی جماعت طلبہ نے الطاف حسین کو زد کوب نہ کیا ہوتا تو شائد کراچی کی تاریخ مختلف ہوتی . الطاف حسین نے بعد میں اپنا بدلہ چالیس سال تک کراچی اور پاکستان کے لوگوں سے لیتا رہا . الطاف حسین فوجی جنرلوں اور ملکہ کی گود میں بیٹھ کر کراچی کو کرچی کرچی کر دیا اور مقامی بہاری س ظلم میں الطاف حسین کے شریک سفر رہے . جو کوئی بغاوت کرتا ، وہ کسی بوری میں سے برآمد ہوتا . جس مافیہ نے یہ بیج کراچی میں بویا تھا اور اسی نے اسکی نشونما کی تھی اور آج اسی مافیا نے اسکا قلع قمع کیا . جتنا گناہ بہاری قوم نے کراچی میں کیا ، اسکا غمیازہ تو انھیں قدرت کی طرف سے بگھتنا پڑے گا . نہ صرف اس دنیا میں بلکہ آخرت میں بھی بھگتیں گے . جب تک بھیڑے اپنے ایک جنرل کو قانون کی گرفت میں نہیں دیں گے الله پاک اس دھرتی سے خوش نہیں ہوں گے

کراچی میں تبدیلی کب آئے گی ؟

جب تک الله کے رسول کے فرمان نافذ نہیں ہوتا ، کراچی میں تبدیلی نہ ممکن ہے . جو لوگ سازشوں کا حصہ تھے ، جو لوگ بھتہ کا حصہ تھے. جن لوگوں نے کراچی کی معصوم عوام کا قتل کیا ....لازم ہے کے انصاف کے تحت انہیں قرار واقعی سزا ہو . لومڑیوں کو چاہئے کے ہر چیز پر کنٹرول حاصل کرنے کا غبط اپنے ذہنوں سے نکال دیں . یہ زمینی خدا اپنے فرائض کو پہچانیں اور زمینی معملات میں خدا کا ازلی قانون لاگو ہونے دیں . مکاروں کو اپنے پولٹیکل انجینرنگ سے مکمل کنارہ کشی اختیار کر کے الله کا قانون نافذ کرنا ہو گا ورنہ کراچی میں نہ کبھی امن ہو گا اور نہ خوشحالی ہو گی . انصاف کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں . ہر طاقتور کو سزا ملنی چاہئے چاہے اسکی پشت پناہی کوئی بڑی سے بڑی طاقت کیوں نہ کر رہی ہو .انصاف کے بغیر کبھی ترقی اور خوشحالی نہیں ا سکتی

اگر کراچی والوں کو تبدیلی چاہئے تو انہیں پہلے خیبر پختونخوا کے عوام اور انکی سیاسی بصیرت کو سلام کرنا ہو گا . کراچی والوں کو خیبر پختونخوا کی حکومت سے بہت کچھ سیکھنا ہو گا . خیبر پختونخوا کی عوام اس وقت تک حکومتیں بدلتی گئی جبتک ان پر اچھے حکمران نہ ا گئے . آج کراچی بارش میں ڈوبا ہوا ہے . ہر گھر میں پانی داخل ہو گیا ہے . خیبر پختونخوا سے آپکو یہ خبریں نہیں ملیں گی . گزشتہ پانچ سالوں میں خیبر پختونخوا گورنمنٹ نے انقلابی اقدامات کئے ہیں . بی ار ٹی کا میگا پروجیکٹ بناتے وقت مقامی گورنمنٹ نے ماسٹر پلان کے تحت سیوریج کا نظام دوبارہ بنایا . پشاور کے مین چارسدہ روڈ پر بندی نالہ پر بہت بڑا برج بنایا اور انڈ گرا ونڈ ڈرینیج پائپ لائن ڈالی جس سے اہل علاقہ کو بارشوں کے پانی سے نجات ملی .یہ نالہ پشاور والوں کے لئے درد سر تھا

٤٠ لاکھ آبادی پر مشتمل خیبر پختونخوا کی عوام اب اپنے فیصلے کے فوائد سمیٹ رہی ہے . عمران خان نے خیبر پختونخوا میں کیا کر لیا جیسے پروپوگنڈا کا جواب وہاں کے لوگوں نے تحریک انصاف کو تمام ووٹ دے کر دیا تھا . عالمی معیار کا ریپڈ ٹرانسپورٹ پروجیکٹ اپنے ساتھ بہت سے سہولتیں پشاور کو دی ہیں

تحریک انصاف نے جو میگا پروجیکٹ خیبر پختونخوا کو دیے ، ان میں

بی ار ٹی منصوبہ

مالم جبہ سکائی ریزورٹ

بلین ٹری پروجیکٹ

سوات موٹر وے

صوبائی حکومت کے فلیگ شپ منصوبے ہیں جو تمام کرپشن سے پاک ہیں. پولیس کا نظام ، صحت کا نظام ، نظام تعلیم ، پن بجلی ، صنعت ، معدنیات اور سیاحت کے پروجیکٹس پر کام مستقل جاری ہے . ایک زمانے میں کراچی پاکستان کے تمام شہروں سے ٣٠ سال اگے ہوتا تھا . الطاف حسین اور مقامی آبادی کی جہالت کی وجہ سے عشروں پیچھے چلا گیا ہے جہاں پانی اور صفائی سمیت ہر چیز نایاب ہو چکی ہے . الطاف حسین پارٹی ہر حکومت میں رہی مگر صرف منافقت اور پاکستان کے خلاف سازشیں کرتی رہی . جو قوم اپنی غلطیاں تسلیم نہیں کرتی وہ کبھی ترقی نہیں کرتی . جس قوم میں انصاف نہ ہو ، خدا اس قوم پر کبھی رحمتیں نہیں برساتا . اس قوم کے قاتل آج بھی کراچی پر قبضہ کی تگ دو میں ہیں . جب تک ظالم اپنے منطقی انجام تک نہیں پونھچیں گے ، الله کا عذاب اس قوم اور اس خطے میں مسلط رہے گا. یہ خدا کا نظام ہے اور ہر دور میں نافذ رہتا ہے . لھذا ، دلی ہنوز دور است

کراچی میں تبدیلی کب آئے گی ؟


الطاف حسین نے چالیس سال تک اپنی قوم کو کشت خوں کے سوا کچھ نہ سکا . مقامی لوگوں کو منافقت سے نکلنا ہو گا . انہیں اپنے آپکو مہاجر کہلوانے پر شرم انی چاہئے . انہیں سمجھنا ہو گا ہے قومیت کا کھیل ایک سراب ، جال اور سازش کے سوا کچھ نہیں . انکا کوئی دوسرا دشمن نہیں بلکہ یہ لوگ اپنے دشمن خود ہیں . منافقوں کی قسمت میں صرف سازشیں ہوتی ہیں اور عملوں کا دارومدار نیتوں پر ہوتا ہے . یہ خدائی فیصلہ ہے

کراچی میں تبدیلی تب آئے گی جب تک یہ عالمی سازشوں کے جال سے نہیں نکلتا . قاتل الطاف حسین کی حفاظت اس تلخ حقیقت کا مونہ بولتا ثبوت ہے . کینیڈا سمیت بیشمار ملکوں میں ایم کیو ایم والوں کو سیاسی بنیادوں کی وجہ سے شہریت ملی ہے جو الطاف حسین کے لئے نہ صرف کام کرتے ہیں بلکے پروپوگنڈا کرنے میں ید تولا رکھتے ہیں . خوش قسمتی سے کینیڈا کی حکومت اس تنظیم کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکی ہے مگر لوگ ابھی تک پاکستان کے بغاوت کے مرتکب ہیں

کراچی میں تبدیلی کب آئے گی ؟

بدقسمتی سے جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ میں غدار شامل ہیں جو ایک نیم خواندہ کو اپنی جماعت پر بطور لیڈر مسلط کرتے ہیں . جو بے شرم لیڈر ناکامی کے بعد بھی استعفیٰ نہیں دیتے . جماعت اسلامی کے کارکن ایک بہترین تربیت یافتہ کارکن ہیں مگر افسوس مولانا موددی صاحب کے بعد انہیں رہبری میسر نہیں آئی . بدقسمتی سے تحریک انصاف کو سندھ سے نا اہل سیاستدانوں کا خزانہ ملا ہے جو اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی اپنی پارٹی کو منظم نہ کر سکے . اندرو ن سندھ پیشرفت نہ کر سکے . سندھ سے اپنے اتحادی نہ ڈھونڈھ سکے . جو کر سکتا تھا ، وہ ایک بڑے منصب پر جا کر بیٹھ گیا . جو موجود ہیں انہیں ڈاکٹر لیاقت جیسا منافق ملا جسے تحریک انصاف کی ٹکٹ دلوائی گئی . شرم انکو مگر نہیں اتی ، یہ لوگ ڈھٹائی سے پارٹی میں موجود ہیں .اگر کراچی میں بلدیاتی نظام اتا ہے تو کراچی کے لئے سب سے موزوں سیاسی پارٹی صرف اور صرف جماعت اسلامی کی ہے . اللہ کرے جماعت کی مجلس شوریٰ کے ارکان کو کوئی زہر دے کر ہلاک کر دے . نئے لوگ آئیں اور اس پارٹی کی دوسری بڑی قوت بنائیں . موجودہ " سنیاسی جوکر "ایک آدھا سٹیٹمنٹ دیتا ہے جسکا سوشل میڈیا پر بھر پور مذاق اڑایا جاتا ہے

کراچی میں تبدیلی اس وقت آئے گی جب بلدیاتی نظام جماعت اسلامی کے پاس ہو گا اور صوبائی حکومت تحریک انصاف کے پاس ہو گی . جماعت اسلامی کے پاس کراچی سنبھالنے کا وسیع تجربہ ہے . اگر یہ لوگ تحریک انصاف کے ساتھ سیاسی الحاق کرتے ہیں تو یہ قدرتی پارٹنر شپ ہو گی جو دونوں پارٹیوں کے حق میں ہو گی

کراچی کو ماسٹر پلان چاہئے اور یہ صرف تحریک انصاف کی حکومت دے سکتی ہے

کراچی کو اگر منظم گورنمنٹ ملتی ہے تو وہ دنوں میں تبدیل ہو سکتا ہے. کراچی اس لحاظ سے خوش نصیب ہے کیونکے وہاں پر میمن رہتے ہیں . انکی تعداد کم ہے مگر کاروباری استعداد کسی کی سوچ سے بھی انتہائی زیادہ ہے . وہاں کے سیٹھوں کے پاس اتنی دولت ہے کے وہ درجن بھر دبئی کراچی میں بنا سکتے ہیں . کراچی کے کاروباری حضرات کو کاروبار کے لئے امن اور اچھی ایڈمنسٹریشن چاہئے . وہ دنوں میں نہ صرف کراچی کے معاشی حالات بلکہ پورا پاکستان اپنے پیروں پر کھڑا کر سکتے ہیں


کراچی والوں کی ایک بات مجھے ہمیشہ زہر لگتی ہے جب وہ کہتے ہیں کے ہم سب سے زیادہ ریونیو اکھٹا کرتے ہیں . مجھے کبھی یہ بات ہضم نہیں ہوتی کیونکے ہر وہ شہر جہاں پورٹ ہوتا ہے وہ تجارتی لحاظ سے امیر ترین ہوتا ہے . کیا اردو بولنے والے کراچی کا سمندر اور پورٹ اپنی اماں کے جہیز میں لائے تھے ؟


 
Last edited:

There is only 1

Chief Minister (5k+ posts)
!جب پی پی کا رویہ تبدیل ہو گا تب
کراچی بلکے پورے پاکستان کو جنرل مشرف جیسا حکمران گوارا نہیں تھا لہٰذا انہیں نون و پی پی کے خباثہ مل گئے
وہی بات ہے کہ یہاں کی اکثریت ساتویں درجے کو اپنا حق سمجھتے ہیں
 

atensari

Prime Minister (20k+ posts)

کراچی بلکے پورے پاکستان کو جنرل مشرف جیسا حکمران گوارا نہیں تھا لہٰذا انہیں نون و پی پی کے خباثہ مل گئے
وہی بات ہے کہ یہاں کی اکثریت ساتویں درجے کو اپنا حق سمجھتے ہیں
پی ٹی آئی کو بھی مشرف پسند نہیں تھا

نسلی تکفیری یہی سمجھتے ہیں​
 

Awan S

Minister (2k+ posts)
باقی ملک میں تو جیسے تبدیلی آ گئی ہے جو انصافیوں کو کراچی کی فکر پڑ گئی ہے - کراچی کے تو حالات نہیں بدلنے البتہ لاہور سمیت باقی ملک نے کراچی جیسا ہو جانا ہے
 

Awan S

Minister (2k+ posts)
حیدر امام صاحب آپ کی دی گئی آبادی کی ترتیب میں بہت تبدیلی آ چکی ہے - پہلے نمبر پر تو اردو بولنے والے ہی ہیں لیکن دوسرے پر پٹھان ، تیسرے پر سندھی اور پنجابی چوتھے نمبر پر جا چکے ہیں -
Syed Haider Imam
 

peoplesoft

Senator (1k+ posts)
کراچی میں تبدیلی کب آئے گی ؟
Karachiites did their part by giving 14 out of 21 seats to PTI. PTI needs to deliver back... 🙂
 

Saboo

Prime Minister (20k+ posts)
کراچی میں تبدیلی آییگی چٹی جمعرات کو
آدھی رات کو ...جب بجے رات کے بارہ
کراچی کی تاریخ بدل جائے گی
اب اس میں کیا ...😃
 

There is only 1

Chief Minister (5k+ posts)
حیدر امام صاحب آپ کی دی گئی آبادی کی ترتیب میں بہت تبدیلی آ چکی ہے - پہلے نمبر پر تو اردو بولنے والے ہی ہیں لیکن دوسرے پر پٹھان ، تیسرے پر سندھی اور پنجابی چوتھے نمبر پر جا چکے ہیں -
Syed Haider Imam
اگر لفافوں پر پابندی پر حقیقی معنی میں عمل ہو گیا تو صفائی ستھرائی کے اسی نوے فیصد معامالات خود بخود درست ہو جایئں گے
نوٹ : لفافوں سے یہاں مراد پلاسٹک کے شاپر ہیں صحافتی طوایفیں نہیں
 

Alisajid1985

Politcal Worker (100+ posts)
فیصد لوگ اردو بولنے والے ہیں جو انڈیا کے صوبہ بہار سے ہجرت کر کے آئے تھے . یہ ہجرت دو حصوں میں ہوئی تھی . ایک ١٩٤٧ کے بعد اور ایک ڈھاکہ فال ١٩٧١ کے بعد . پاکستان کے حصول کی خاطر سب سے زیادہ شہادت دینے والے بہار کے مسلمان تھے . ١٩٤٧ کے بٹوارے سے پہلے بہار میں بدترین ہندو مسلم فسادات ہوے تھے . ١٩٤٦ میں یہ فسادات ٢٤ اکتوبر سے لے کر ١١ نومبر ١٩٤٦ تک چلے تھے . سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس نسلی فسادات میں پانچ ہزار سے چھتیس ہزار افراد جاں بحق ھوے تھے . یہ فسادات کلکتہ ، نوا کھلی ، بہار ، یو پی ، پنجاب اور سرحد میں ہوے تھے . تاریخ دان یہ کہتے ہیں کے پاکستان کا بیج ان فسادات میں بیجا گیاتھا. نسلی اور خونی فسادات کی وجہ سے بہار کے مسلمانوں نے جان اور مال کے لئے پاکستان ہجرت کرنے میں عافیت سمجھی . نسلی فسادات کی وجہ سے انکا اعتبار مقامی لوگوں سے اٹھ گیا تھا

factually wrong....... India say migration rajhistan, punjab, UP, Bihar, bangal, bombay say bhe hoee......dont post your bihari menifesto here....... or bhai Bihar or bnagal mai differnece hai...sub say ziyada fasadaat, bangal or est unjab mai hoay thay.....
 

jani1

Chief Minister (5k+ posts)
اور کراچی میں تبدیلی تب آئے گی جب بلو کی ودائی ہوگی، ۔۔۔
مطلب پی پی پی کی ہمیشہ کے لیئے رخصتی۔۔

 

Pracha

Senator (1k+ posts)
Comparing Karachi with KP is like comparing Apples and Oranges. Karachi is controlled from interior Sindh. They are political orphans, unlike KP. Because of this reality, no political party goes out of their way to support the rights of Karachiites as their vote does not have much value in making them a King.

Prior to PTI, their only option was to support either PPP or PML-N. It is like choosing between death by hanging or a firing squad, as both Sindhis (PPP) and Punjabis (PML-N) were envious of their level of education and growing influence (remember 60s bureaucracy?). Because of this envy and lack of their electoral power (unlike Lahore and Peshawar), they as a society were made a pariah in national politics (despite having some powerful politicians who rose to prominence). Oppressive quota system is part and parcel of that mentality that was one of the biggest gripe of Karachiites against the prevailing system.

That was one of the reasons that they were forced to support fringe parties like JI (which used to be somewhat powerful nationally but not to the level of PPP and PML-N). They supported JI because of compulsion as they did not have a better alternative. As compared to other major cities, Karachiites do not consider themselves as hyper religious.

Although AF/MQM was the creation of establishment, but GHQ usually cashes on people's resentment and grievances to further their own nefarious goals through evil political designs. If not AF, there would have some other nationalist who would have come to the fore as the ground for it was ripe for a while.

Emergence of PTI has given them a lot of hope and that's why like KP, PTI has gained several seats from Karachi despite very little campaigning.

Karachiites have realized that they have to support a true National Party (rather than fringe parties like JI) to get their rightful dues. Before they had very little choice, but now is not the case.

Karachi will only get it's rightful dues when it's destiny and purse strings are controlled from within rather than from interior Sindh, especially since the passing of 18th amendment as Karachi is the biggest casualty of this collusion between PPP and PML-N. In other words, it should be run independently like many other megapolis or be made an independent province.
 
Last edited:
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں