کامران شاہد نے صحافی و اینکر پرسن طارق متین کو ٹویٹر پر بلاک کر دیا

11kamranshahidtariqmateen.jpg

نجی چینل دنیا نیوز کے اینکر پرسن کامران شاہد اپنے نامناسب گفتگو اور رویے کی وجہ سے اکثر ہی تنقید کی زد میں رہتے ہیں، سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے کبھی ان کے عجیب وغریب انداز سے بیٹھنے پر ان اعتراض کیا جاتا ہے تو کبھی ان کو یکطرفہ تجزیے پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

حال ہی میں صحافی طارق متین نے کامران شاہد کو پروگرام کے دوران غیر مہذب گفتگو کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے پیمرا سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ کامران شاہد اس بات کے رنج پر صحافی و اینکر پرسن طارق متین کو ٹویٹر پر بلاک کر دیا۔

صحافی طارق متین نے اپنے ٹوئٹر پر کامران شاہد کے پروگرام کا کلپ شیئر کیاتھا اور کہا تھا کہ یہ ٹی وی ہے ڈرائنگ روم اور گھروں میں خاندان کے دیکھنے کی چیز ہےسوشل میڈیا نہیں، یہ زبان نان سینس ہے اس کا نوٹس لیا جانا چاہیے، اس پر معافی نہیں تعزیر ہونی چاہیئے۔


آج دوبارہ صحافی طارق متین نے اپنے ٹوئٹر پر کامران شاہد کے ٹوئٹر کا سکرین شاٹ شیئر کیا جس میں انہوں نے طارق متین کو تنقید کرنے کی وجہ سے بلاک کر دیا، بلاک کئے جانے پر صحافی نے لکھا کہ ڈنڈا دیا، ڈنڈا چلا گیا ، یہ اینکر محترم کی زبان تھی میں نے اعتراض بھی کیا اور پیمرا کو رپورٹ بھی کیا ،کامران شاہد صاحب مجھے بلاک کر دیں گے پیمرا معافی مانگنے کا ایک اور آرڈر دے گا اس کا کیا کریں گے۔


واضح رہے کہ کامران شاہد کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی یہ ویڈیو گزشتہ سال نومبر کی ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ پانچ دن پہلے عمران خان کی سپورٹس مین سپرٹ یہ تھی کہ جب اتحادیوں کو ڈنڈا نہیں گیا تھا تو وہ اس وقت جوائنٹ سیشن تبدیل کرنا پڑا، آگے چل کر کامران شاہد مزید کہتے ہیں کہ اب اتحادیوں کو ڈنڈا جاچکا ہے تو اب اتحادی کہہ رہے ہیں کہ انہیں کوئی مسئلہ نہیں ہے جنہیں چار پانچ دن پہلے مسئلہ تھا۔

کامران شاہد کا مزید کہنا تھا کہ یہ حکومت ایک ڈنڈے پر چل رہی ہے جس کی کوئی اخلاقی حیثیت نہیں ہے۔ وزیراعظم نے کرسی پر کمپرومائز کرلیا ہے۔
 
Advertisement

sensible

Chief Minister (5k+ posts)
آزادی صرف ان کے اپنے لیے ہے چاہے اس کے نام پر غلاظت کے نچلے درجے میں جا گریں دوسرا چاہے اخلاق میں ان سے اوپر والے درجے سے بولے اسے بلاک اردو ۔یہ صحافت کے فرعون ۔
 

First Strike

Chief Minister (5k+ posts)

کامران شاہد کنجروں کی اولاد ہے اس لئے حرامخوری تو کرے گا۔ ٹوکرا صحافی دراصل صحافت کے فرعون ہیں
 

[email protected]

Politcal Worker (100+ posts)
یہ آزادی صحافت اور اخلاقیات کا درس دینے والے منافق ٹوکری اینکرز خود کو خدا سمجھنے لگ گئے ہیں، کاش یہ تمام اینکرز اپنے گریبان میں جھانک سکیں تو ان کو اپنی بدبو محسوس ہو سکے۔ یہ ڈان بن چکے ہیں اور اب تو اپنے ہی شفاف پیٹی بھائیں کو بھی برداشت نہیں کر پا رہے۔۔۔۔۔۔ جہاں عمران خان نے بد دیانت اورمدمعاش سیاسی لٹیروں کو بے نقاب کیا ہے وہاں اس کا ایک بڑا کارنامہ ان بلیک میلرز کو بے نقاب کرنا بھی یاد رکھا جاے گا۔۔۔۔۔۔
 

disgusted

Chief Minister (5k+ posts)
There are more suspect births in history of majority of these bhands who go around posing as journalists. Has Kamran Shahid forgotten Akbar Gujjar who was the paramour of his mom and allegedly 'implanted' a his seed in her? This was when Kamran Shahid's mother was working as a nurse in a Lahore hospital.
 
Sponsored Link