چوری تو کی قانون نہیں توڑا

bhaibarood

Chief Minister (5k+ posts)
وزیراعظم عمران خان اور اُن کے ہم نوائوں کا خیال ہے کہ اُنہوں نے بڑا کمال کر دیا ہے۔ وزیراعظم صاحب نے اتوار کو دوپہر اپنی تعریف میں خود ہی ٹویٹ کر دیا اور کہا کہ میں نے چینی اور آٹے کی قیمتوں میں اچانک اضافے کی وجوہات جاننے کے لئے جو کمیٹیاں بنائی تھیں اُن کی ابتدائی رپورٹس جاری کر دی گئی ہیں جس کی پاکستان کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی،

ماضی کی حکومتوں نے اخلاقی جرأت کے فقدان کے باعث ایسی رپورٹس جاری کرنے سے گریز کیا۔ بڑے ادب سے جناب وزیراعظم کی خدمت میں عرض ہے کہ ایف آئی اے کے افسر واجد ضیا کی سربراہی میں قائم کی جانے والی کمیٹیوں کی رپورٹ میں ایسی کوئی نئی بات نہیں جو پاکستانی عوام کو پہلے سے معلوم نہ تھی۔ پاکستان کا گستاخ اور بدتمیز میڈیا پچھلے کئی ماہ سے وہ تمام حقائق عوام کو بتا رہا تھا جو واجد ضیا کی رپورٹ میں بھی شامل ہیں اور میڈیا کی ان گستاخیوں سے تنگ آکر حکومت نے فروری 2020میں دو کمیٹیاں تشکیل دیں تاکہ چینی اور آٹے کی قیمتوں میں ناجائز اضافہ کرکے منافع خوری کرنے والوں کو بےنقاب کیا جا سکے۔

وفاقی کابینہ کے پچھلے اجلاس میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے وزیراعظم کو یاد دلایا تھا کہ آپ نے چینی اور آٹے کا بحران پیدا کرنے والوں کو بےنقاب کرنے کے لئے جو کمیٹیاں تشکیل دی تھیں ان کی رپورٹیں عوام کے سامنے لانے کا وقت آگیا ہے۔ علی محمد خان کے اس مطالبے پر کئی پیشانیوں پر بل پڑ گئے اور بات ختم ہو گئی لیکن پھر یہ ہوا کہ واجد ضیا کی یہ رپورٹیں میڈیا تک پہنچ گئیں۔ ’’ہم ٹی وی‘‘ پر محمد مالک نے ان رپورٹوں کو بریک کر دیا اور جب میڈیا پر ان رپورٹوں کا چرچا شروع ہو گیا تو حکومتی ترجمان مشکل میں پڑ گئے۔

تردید کرتے تو میڈیا ان رپورٹوں کا متن دکھانا شروع کر دیتا، تردید نہ کرتے تو بھی مصیبت بنتی، لہٰذا مجبوری کے عالم میں حکومت نے ابتدائی رپورٹ کو جاری کرنے کا فیصلہ کر لیا تاکہ کچھ داد سمیٹی جا سکے۔ اصل کریڈٹ حکومت کا نہیں‘ میڈیا کا ہے جس نے حکومت سے پہلے اس رپورٹ کو بےنقاب کر دیا۔ حکومت کا کریڈٹ یہ ہے کہ اس نے یوٹرن لینے سے گریز کیا، لہٰذا یوٹرن نہ لینے پر یہ خاکسار بھی دل کی گہرائیوں سے وزیراعظم صاحب کا شکر گزار ہے۔ وزیراعظم جانتے ہیں کہ کون کون ان رپورٹوں کو جاری نہ کرنے کا مشورہ دے رہا تھا۔



واجد ضیا کی مرتب کردہ دو رپورٹوں کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق چینی اور آٹے کے خود ساختہ بحران کی ذمہ دار شخصیات کا تعلق وفاقی حکومت، پنجاب حکومت اور خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ ہے لیکن تمام ذمہ داروں کے نام ان رپورٹوں میں شامل نہیں ہیں۔ رپورٹ میں جہانگیر ترین، خسرو بختیار کے بھائی، شریف گروپ اور اومنی گروپ کا ذکر تو کردیا گیا لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی اور شوگر ایڈوائزری بورڈ نے چینی کی برآمد کا فیصلہ کیوں کیا، کس کے کہنے پر کیا؟ کیا شوگر ایڈوائزری بورڈ کے اہم اجلاسوں کی صدارت وزیراعظم کے مشیر تجارت رزاق دائود نہیں کرتے رہے؟ یہ تو بتایا گیا کہ شوگر ملوں کو سبسڈی دینے کا فائدہ کس کس نے اٹھایا لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ سبسڈی کا فیصلہ مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کس کے کہنے پر کیا؟ واجد ضیا کی حتمی رپورٹیں 25اپریل تک مکمل ہوں گی اور پھر وزیراعظم کا اصل امتحان شروع ہوگا کیونکہ عوام کو صرف چینی چوروں اور آٹا چوروں کے نام جاننے میں دلچسپی نہیں،

عوام کو یہ نام گستاخ میڈیا پہلے ہی بتا چکا ہے، عوام کو یہ انتظار ہے کہ چوروں کے خلاف عمران خان نے کیا کارروائی کی اور جن اربابِ اختیار کے احکامات سے ان چوروں نے اربوں روپے کمائے ان اربابِ اختیار کو عبرت کی مثال بنایا جائے گا یا نہیں؟ یہ معاملہ صرف چینی اور آٹے کی مصنوعی قلت پیدا کرکے منافع خوری کا نہیں بلکہ قومی خزانے کو لوٹنے اور پاکستان کی زراعت کو برباد کرنے کا بھی ہے اور اس جرم میں صرف موجودہ حکومت نہیں ماضی کی حکومتیں بھی ملوث رہی ہیں۔ شوگر مافیا نے صرف عمران خان کے دور میں لوٹ مار نہیں کی، یہ مافیا پرویز مشرف کے دور سے لوٹ مار کر رہا ہے اور اس مافیا کے کرتا دھرتا سیاسی وفاداریاں تبدیل کرکے ہر حکومت میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اس مافیا کا سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اس نے کپاس کے کاشتکار کو گنے کی کاشت پر مجبور کیا اور گنے کی قیمت بھی اپنی مرضی کے مطابق دی، یوں کپاس پیدا کرنے والے ملک کو کپاس درآمد کرنے پر لگا دیا اور شوگر ملوں کے ذریعے ایک طرف کاشتکاروں کو لوٹا دوسری طرف حکومت سے سبسڈی اور ریبیٹ لے کر چینی برآمد کی اور اربوں روپے کما لیے۔ قابلِ غور بات یہ ہے

کہ ایک طرف شوگر ملز ایسوسی ایشن کاشتکاروں کو گنے کی وہ قیمت ادا نہیں کرتی جو حکومت مقرر کرتی ہے دوسری طرف آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن بھی کپاس کی امدادی قیمت مقرر نہیں ہونے دیتی تاکہ کاشتکار سے کپاس نہ خریدنی پڑے۔ ہر حکومت کے دور میں وفاقی کابینہ میں گروپنگ پیدا ہو جاتی ہے۔ ایک گروپ کاشتکاروں کیلئے روتا ہے، دوسرا گروپ صنعت کاروں کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے، لیکن تحریک انصاف کی حکومت میں چند بیورو کریٹ صنعتکار گروپ کو دبانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ واجد ضیا رپورٹ کے ذریعہ حکومت میں شامل چند بااثر صنعت کاروں کو بےنقاب کرنا کاشتکارروں کی نہیں بلکہ وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کی فتح قرار دی جا رہی ہے۔ اعظم خان کا اصل نشانہ جہانگیر ترین ہیں لیکن واجد ضیا نے حتمی رپورٹ اعظم خان سے پوچھ کر نہیں لکھنی۔ وہ اس معاملے میں عبدالرزاق دائود، عبدالحفیظ شیخ اور عثمان بزدار کے کردار کا جائزہ بھی لیں گے اور اگر ان کرداروں کو نظر انداز کریں گے تو پھر گستاخ میڈیا کے سوالات سے بچ نہیں پائیں گے۔

واجد ضیا کی حتمی رپورٹ 25اپریل تک سامنے آئے گی لیکن یقین رکھیے 25اپریل سے پہلے پہلے بہت سے حقائق سامنے آنے والے ہیں اور یہ حقائق بھی میڈیا سامنے لائے گا۔ جن لوگوں پر الزامات کا بوجھ ہے وہ کہتے ہیں ہم نے کوئی قانون نہیں توڑا۔ میڈیا کو اس بحث میں الجھایا جائے گا کہ جن ’’معزز‘‘ شخصیات کو چور قرار دیا جا رہا ہے انہوں نے غیراخلاقی فائدہ تو اٹھایا لیکن کوئی غیرقانونی کام نہیں کیا۔ میڈیا کو اس بحث میں نہیں الجھنا کیونکہ قانون کے دائرے میں رہ کر ناجائز منافع خوری دراصل چوری ہے، ہمیں چور کو چور ہی کہنا ہے لیکن اس بات کا خیال رہے کہ کسی پر غلط الزام نہ لگے۔
 
Advertisement
Last edited by a moderator:

Reason

Minister (2k+ posts)
You know whats so demoralizing, is leadership of our country failing to inspire and unite in these tough times. When Obama took over in 2008, America was facing the worst economic crisis in its history at the time. He did not divide or spread hatred. He instead got America out of the crisis, and left with the highest approval ratings of any President.

In Pakistan, we have turd like Bongi Khan. Who has nothing to offer? All he does is cry and moan? He is no tiger, he is a pussy cat.
 

ForReal

Citizen
وزیراعظم عمران خان اور اُن کے ہم نوائوں کا خیال ہے کہ اُنہوں نے بڑا کمال کر دیا ہے۔ وزیراعظم صاحب نے اتوار کو دوپہر اپنی تعریف میں خود ہی ٹویٹ کر دیا اور کہا کہ میں نے چینی اور آٹے کی قیمتوں میں اچانک اضافے کی وجوہات جاننے کے لئے جو کمیٹیاں بنائی تھیں اُن کی ابتدائی رپورٹس جاری کر دی گئی ہیں جس کی پاکستان کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی، ماضی کی حکومتوں نے اخلاقی جرأت کے فقدان کے باعث ایسی رپورٹس جاری کرنے سے گریز کیا۔ بڑے ادب سے جناب وزیراعظم کی خدمت میں عرض ہے کہ ایف آئی اے کے افسر واجد ضیا کی سربراہی میں قائم کی جانے والی کمیٹیوں کی رپورٹ میں ایسی کوئی نئی بات نہیں جو پاکستانی عوام کو پہلے سے معلوم نہ تھی۔ پاکستان کا گستاخ اور بدتمیز میڈیا پچھلے کئی ماہ سے وہ تمام حقائق عوام کو بتا رہا تھا جو واجد ضیا کی رپورٹ میں بھی شامل ہیں اور میڈیا کی ان گستاخیوں سے تنگ آکر حکومت نے فروری 2020میں دو کمیٹیاں تشکیل دیں تاکہ چینی اور آٹے کی قیمتوں میں ناجائز اضافہ کرکے منافع خوری کرنے والوں کو بےنقاب کیا جا سکے۔ وفاقی کابینہ کے پچھلے اجلاس میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے وزیراعظم کو یاد دلایا تھا کہ آپ نے چینی اور آٹے کا بحران پیدا کرنے والوں کو بےنقاب کرنے کے لئے جو کمیٹیاں تشکیل دی تھیں ان کی رپورٹیں عوام کے سامنے لانے کا وقت آگیا ہے۔ علی محمد خان کے اس مطالبے پر کئی پیشانیوں پر بل پڑ گئے اور بات ختم ہو گئی لیکن پھر یہ ہوا کہ واجد ضیا کی یہ رپورٹیں میڈیا تک پہنچ گئیں۔ ’’ہم ٹی وی‘‘ پر محمد مالک نے ان رپورٹوں کو بریک کر دیا اور جب میڈیا پر ان رپورٹوں کا چرچا شروع ہو گیا تو حکومتی ترجمان مشکل میں پڑ گئے۔ اگر تردید کرتے تو میڈیا ان رپورٹوں کا متن دکھانا شروع کر دیتا، تردید نہ کرتے تو بھی مصیبت بنتی، لہٰذا مجبوری کے عالم میں حکومت نے ابتدائی رپورٹ کو جاری کرنے کا فیصلہ کر لیا تاکہ کچھ داد سمیٹی جا سکے۔ اصل کریڈٹ حکومت کا نہیں‘ میڈیا کا ہے جس نے حکومت سے پہلے اس رپورٹ کو بےنقاب کر دیا۔ حکومت کا کریڈٹ یہ ہے کہ اس نے یوٹرن لینے سے گریز کیا، لہٰذا یوٹرن نہ لینے پر یہ خاکسار بھی دل کی گہرائیوں سے وزیراعظم صاحب کا شکر گزار ہے۔ وزیراعظم جانتے ہیں کہ کون کون ان رپورٹوں کو جاری نہ کرنے کا مشورہ دے رہا تھا۔


واجد ضیا کی مرتب کردہ دو رپورٹوں کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق چینی اور آٹے کے خود ساختہ بحران کی ذمہ دار شخصیات کا تعلق وفاقی حکومت، پنجاب حکومت اور خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ ہے لیکن تمام ذمہ داروں کے نام ان رپورٹوں میں شامل نہیں ہیں۔ رپورٹ میں جہانگیر ترین، خسرو بختیار کے بھائی، شریف گروپ اور اومنی گروپ کا ذکر تو کردیا گیا لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی اور شوگر ایڈوائزری بورڈ نے چینی کی برآمد کا فیصلہ کیوں کیا، کس کے کہنے پر کیا؟ کیا شوگر ایڈوائزری بورڈ کے اہم اجلاسوں کی صدارت وزیراعظم کے مشیر تجارت رزاق دائود نہیں کرتے رہے؟ یہ تو بتایا گیا کہ شوگر ملوں کو سبسڈی دینے کا فائدہ کس کس نے اٹھایا لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ سبسڈی کا فیصلہ مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کس کے کہنے پر کیا؟ واجد ضیا کی حتمی رپورٹیں 25اپریل تک مکمل ہوں گی اور پھر وزیراعظم کا اصل امتحان شروع ہوگا کیونکہ عوام کو صرف چینی چوروں اور آٹا چوروں کے نام جاننے میں دلچسپی نہیں، عوام کو یہ نام گستاخ میڈیا پہلے ہی بتا چکا ہے، عوام کو یہ انتظار ہے کہ چوروں کے خلاف عمران خان نے کیا کارروائی کی اور جن اربابِ اختیار کے احکامات سے ان چوروں نے اربوں روپے کمائے ان اربابِ اختیار کو عبرت کی مثال بنایا جائے گا یا نہیں؟ یہ معاملہ صرف چینی اور آٹے کی مصنوعی قلت پیدا کرکے منافع خوری کا نہیں بلکہ قومی خزانے کو لوٹنے اور پاکستان کی زراعت کو برباد کرنے کا بھی ہے اور اس جرم میں صرف موجودہ حکومت نہیں ماضی کی حکومتیں بھی ملوث رہی ہیں۔ شوگر مافیا نے صرف عمران خان کے دور میں لوٹ مار نہیں کی، یہ مافیا پرویز مشرف کے دور سے لوٹ مار کر رہا ہے اور اس مافیا کے کرتا دھرتا سیاسی وفاداریاں تبدیل کرکے ہر حکومت میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اس مافیا کا سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اس نے کپاس کے کاشتکار کو گنے کی کاشت پر مجبور کیا اور گنے کی قیمت بھی اپنی مرضی کے مطابق دی، یوں کپاس پیدا کرنے والے ملک کو کپاس درآمد کرنے پر لگا دیا اور شوگر ملوں کے ذریعے ایک طرف کاشتکاروں کو لوٹا دوسری طرف حکومت سے سبسڈی اور ریبیٹ لے کر چینی برآمد کی اور اربوں روپے کما لیے۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ ایک طرف شوگر ملز ایسوسی ایشن کاشتکاروں کو گنے کی وہ قیمت ادا نہیں کرتی جو حکومت مقرر کرتی ہے دوسری طرف آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن بھی کپاس کی امدادی قیمت مقرر نہیں ہونے دیتی تاکہ کاشتکار سے کپاس نہ خریدنی پڑے۔ ہر حکومت کے دور میں وفاقی کابینہ میں گروپنگ پیدا ہو جاتی ہے۔ ایک گروپ کاشتکاروں کیلئے روتا ہے، دوسرا گروپ صنعت کاروں کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے، لیکن تحریک انصاف کی حکومت میں چند بیورو کریٹ صنعتکار گروپ کو دبانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ واجد ضیا رپورٹ کے ذریعہ حکومت میں شامل چند بااثر صنعت کاروں کو بےنقاب کرنا کاشتکارروں کی نہیں بلکہ وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کی فتح قرار دی جا رہی ہے۔ اعظم خان کا اصل نشانہ جہانگیر ترین ہیں لیکن واجد ضیا نے حتمی رپورٹ اعظم خان سے پوچھ کر نہیں لکھنی۔ وہ اس معاملے میں عبدالرزاق دائود، عبدالحفیظ شیخ اور عثمان بزدار کے کردار کا جائزہ بھی لیں گے اور اگر ان کرداروں کو نظر انداز کریں گے تو پھر گستاخ میڈیا کے سوالات سے بچ نہیں پائیں گے۔

واجد ضیا کی حتمی رپورٹ 25اپریل تک سامنے آئے گی لیکن یقین رکھیے 25اپریل سے پہلے پہلے بہت سے حقائق سامنے آنے والے ہیں اور یہ حقائق بھی میڈیا سامنے لائے گا۔ جن لوگوں پر الزامات کا بوجھ ہے وہ کہتے ہیں ہم نے کوئی قانون نہیں توڑا۔ میڈیا کو اس بحث میں الجھایا جائے گا کہ جن ’’معزز‘‘ شخصیات کو چور قرار دیا جا رہا ہے انہوں نے غیراخلاقی فائدہ تو اٹھایا لیکن کوئی غیرقانونی کام نہیں کیا۔ میڈیا کو اس بحث میں نہیں الجھنا کیونکہ قانون کے دائرے میں رہ کر ناجائز منافع خوری دراصل چوری ہے، ہمیں چور کو چور ہی کہنا ہے لیکن اس بات کا خیال رہے کہ کسی پر غلط الزام نہ لگے۔

Release volume X all previous govt reports that weren't because of corrupt MAFIA including lifafa mafia. You guys will NEVER WIN. TIDE has changed in FAVOR OF PAK. IA all you losers will be buried in this avalanche.
 

Wake up Pak

Chief Minister (5k+ posts)
AND THIS MARDOOD JIS KEY GAAND HER WAQT PHATI HOTI HAY KABHI RANDI GUL BOKHARI KAY TWEET POST KARTA HAY KABHI MIR JAAFAR KAY. YEH HINDU BHARWA GAO MUTTAR PEE KAR MARWAANAY AATA HAY....
 

Wake up Pak

Chief Minister (5k+ posts)
LYING MOTHER FUCKER MARDOOD WITH BAROOD UP HIS ASS KEEPS POSTING THE FAKE PICTURES.

Rations given in Governor House yesterday were by private organizations and not by Punjab Govt. PM and CM attended the event to inspire other organizations to also come forward and help deserving people in these testing times...






 

ahameed

Minister (2k+ posts)
You know whats so demoralizing, is leadership of our country failing to inspire and unite in these tough times. When Obama took over in 2008, America was facing the worst economic crisis in its history at the time. He did not divide or spread hatred. He instead got America out of the crisis, and left with the highest approval ratings of any President.

In Pakistan, we have turd like Bongi Khan. Who has nothing to offer? All he does is cry and moan? He is no tiger, he is a pussy cat.
اوبامہ افغانستان سے فوج واپس بلانے کا وعدہ کر کے آیا تھا، کیا اس نے وہ وعدہ پورا کیا تھا؟
 

ARSHAD2011

Senator (1k+ posts)
حامد میر
06 اپریل ، 2020

وزیراعظم عمران خان اور اُن کے ہم نوائوں کا خیال ہے کہ اُنہوں نے بڑا کمال کر دیا ہے۔ وزیراعظم صاحب نے اتوار کو دوپہر اپنی تعریف میں خود ہی ٹویٹ کر دیا اور کہا کہ میں نے چینی اور آٹے کی قیمتوں میں اچانک اضافے کی وجوہات جاننے کے لئے جو کمیٹیاں بنائی تھیں اُن کی ابتدائی رپورٹس جاری کر دی گئی ہیں جس کی پاکستان کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی، ماضی کی حکومتوں نے اخلاقی جرأت کے فقدان کے باعث ایسی رپورٹس جاری کرنے سے گریز کیا۔ بڑے ادب سے جناب وزیراعظم کی خدمت میں عرض ہے کہ ایف آئی اے کے افسر واجد ضیا کی سربراہی میں قائم کی جانے والی کمیٹیوں کی رپورٹ میں ایسی کوئی نئی بات نہیں جو پاکستانی عوام کو پہلے سے معلوم نہ تھی۔

پاکستان کا گستاخ اور بدتمیز میڈیا پچھلے کئی ماہ سے وہ تمام حقائق عوام کو بتا رہا تھا جو واجد ضیا کی رپورٹ میں بھی شامل ہیں اور میڈیا کی ان گستاخیوں سے تنگ آکر حکومت نے فروری 2020میں دو کمیٹیاں تشکیل دیں تاکہ چینی اور آٹے کی قیمتوں میں ناجائز اضافہ کرکے منافع خوری کرنے والوں کو بےنقاب کیا جا سکے۔ وفاقی کابینہ کے پچھلے اجلاس میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے وزیراعظم کو یاد دلایا تھا کہ آپ نے چینی اور آٹے کا بحران پیدا کرنے والوں کو بےنقاب کرنے کے لئے جو کمیٹیاں تشکیل دی تھیں ان کی رپورٹیں عوام کے سامنے لانے کا وقت آگیا ہے

۔ علی محمد خان کے اس مطالبے پر کئی پیشانیوں پر بل پڑ گئے اور بات ختم ہو گئی لیکن پھر یہ ہوا کہ واجد ضیا کی یہ رپورٹیں میڈیا تک پہنچ گئیں۔ ’’ہم ٹی وی‘‘ پر محمد مالک نے ان رپورٹوں کو بریک کر دیا اور جب میڈیا پر ان رپورٹوں کا چرچا شروع ہو گیا تو حکومتی ترجمان مشکل میں پڑ گئے۔ اگر تردید کرتے تو میڈیا ان رپورٹوں کا متن دکھانا شروع کر دیتا، تردید نہ کرتے تو بھی مصیبت بنتی، لہٰذا مجبوری کے عالم میں حکومت نے ابتدائی رپورٹ کو جاری کرنے کا فیصلہ کر لیا تاکہ کچھ داد سمیٹی جا سکے۔ اصل کریڈٹ حکومت کا نہیں‘

میڈیا کا ہے جس نے حکومت سے پہلے اس رپورٹ کو بےنقاب کر دیا۔ حکومت کا کریڈٹ یہ ہے کہ اس نے یوٹرن لینے سے گریز کیا، لہٰذا یوٹرن نہ لینے پر یہ خاکسار بھی دل کی گہرائیوں سے وزیراعظم صاحب کا شکر گزار ہے۔ وزیراعظم جانتے ہیں کہ کون کون ان رپورٹوں کو جاری نہ کرنے کا مشورہ دے رہا تھا۔

واجد ضیا کی مرتب کردہ دو رپورٹوں کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق چینی اور آٹے کے خود ساختہ بحران کی ذمہ دار شخصیات کا تعلق وفاقی حکومت، پنجاب حکومت اور خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ ہے لیکن تمام ذمہ داروں کے نام ان رپورٹوں میں شامل نہیں ہیں۔ رپورٹ میں جہانگیر ترین، خسرو بختیار کے بھائی، شریف گروپ اور اومنی گروپ کا ذکر تو کردیا گیا لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی اور شوگر ایڈوائزری بورڈ نے چینی کی برآمد کا فیصلہ کیوں کیا، کس کے کہنے پر کیا؟ کیا شوگر ایڈوائزری بورڈ کے اہم اجلاسوں کی صدارت وزیراعظم کے مشیر تجارت رزاق دائود نہیں کرتے رہے؟ یہ تو بتایا گیا کہ شوگر ملوں کو سبسڈی دینے کا فائدہ کس کس نے اٹھایا لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ سبسڈی کا فیصلہ

مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کس کے کہنے پر کیا؟ واجد ضیا کی حتمی رپورٹیں 25اپریل تک مکمل ہوں گی اور پھر وزیراعظم کا اصل امتحان شروع ہوگا کیونکہ عوام کو صرف چینی چوروں اور آٹا چوروں کے نام جاننے میں دلچسپی نہیں، عوام کو یہ نام گستاخ میڈیا پہلے ہی بتا چکا ہے، عوام کو یہ انتظار ہے

کہ چوروں کے خلاف عمران خان نے کیا کارروائی کی اور جن اربابِ اختیار کے احکامات سے ان چوروں نے اربوں روپے کمائے ان اربابِ اختیار کو عبرت کی مثال بنایا جائے گا یا نہیں؟ یہ معاملہ صرف چینی اور آٹے کی مصنوعی قلت پیدا کرکے منافع خوری کا نہیں بلکہ قومی خزانے کو لوٹنے اور پاکستان کی زراعت کو برباد کرنے کا بھی ہے اور اس جرم میں صرف موجودہ حکومت نہیں ماضی کی حکومتیں بھی ملوث رہی ہیں۔ شوگر مافیا نے صرف عمران خان کے دور میں لوٹ مار نہیں کی، یہ مافیا پرویز مشرف کے دور سے لوٹ مار کر رہا ہے اور اس مافیا کے کرتا دھرتا سیاسی وفاداریاں تبدیل کرکے ہر حکومت میں شامل ہو جاتے ہیں۔

اس مافیا کا سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اس نے کپاس کے کاشتکار کو گنے کی کاشت پر مجبور کیا اور گنے کی قیمت بھی اپنی مرضی کے مطابق دی، یوں کپاس پیدا کرنے والے ملک کو کپاس درآمد کرنے پر لگا دیا اور شوگر ملوں کے ذریعے ایک طرف کاشتکاروں کو لوٹا دوسری طرف حکومت سے سبسڈی اور ریبیٹ لے کر چینی برآمد کی اور اربوں روپے کما لیے۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ ایک طرف شوگر ملز ایسوسی ایشن کاشتکاروں کو گنے کی وہ قیمت ادا نہیں کرتی جو حکومت مقرر کرتی ہے دوسری طرف آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن بھی کپاس کی امدادی قیمت مقرر نہیں ہونے دیتی تاکہ کاشتکار سے کپاس نہ خریدنی پڑے۔ ہر حکومت کے دور میں وفاقی کابینہ میں گروپنگ پیدا ہو جاتی ہے۔ ایک گروپ کاشتکاروں کیلئے روتا ہے، دوسرا گروپ صنعت کاروں کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے،

لیکن تحریک انصاف کی حکومت میں چند بیورو کریٹ صنعتکار گروپ کو دبانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ واجد ضیا رپورٹ کے ذریعہ حکومت میں شامل چند بااثر صنعت کاروں کو بےنقاب کرنا کاشتکارروں کی نہیں بلکہ وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کی فتح قرار دی جا رہی ہے۔ اعظم خان کا اصل نشانہ جہانگیر ترین ہیں لیکن واجد ضیا نے حتمی رپورٹ اعظم خان سے پوچھ کر نہیں لکھنی۔ وہ اس معاملے میں عبدالرزاق دائود، عبدالحفیظ شیخ اور عثمان بزدار کے کردار کا جائزہ بھی لیں گے اور اگر ان کرداروں کو نظر انداز کریں گے تو پھر گستاخ میڈیا کے سوالات سے بچ نہیں پائیں گے۔

واجد ضیا کی حتمی رپورٹ 25اپریل تک سامنے آئے گی لیکن یقین رکھیے 25اپریل سے پہلے پہلے بہت سے حقائق سامنے آنے والے ہیں اور یہ حقائق بھی میڈیا سامنے لائے گا۔ جن لوگوں پر الزامات کا بوجھ ہے وہ کہتے ہیں ہم نے کوئی قانون نہیں توڑا۔ میڈیا کو اس بحث میں الجھایا جائے گا کہ جن ’’معزز‘‘ شخصیات کو چور قرار دیا جا رہا ہے انہوں نے غیراخلاقی فائدہ تو اٹھایا لیکن کوئی غیرقانونی کام نہیں کیا۔ میڈیا کو اس بحث میں نہیں الجھنا کیونکہ قانون کے دائرے میں رہ کر ناجائز منافع خوری دراصل چوری ہے، ہمیں چور کو چور ہی کہنا ہے لیکن اس بات کا خیال رہے کہ کسی پر غلط الزام نہ لگے۔
 
Last edited by a moderator:

Vulcan Vendetta

MPA (400+ posts)
00:39
/
01:19





Replay














You know whats so demoralizing, is leadership of our country failing to inspire and unite in these tough times. When Obama took over in 2008, America was facing the worst economic crisis in its history at the time. He did not divide or spread hatred. He instead got America out of the crisis, and left with the highest approval ratings of any President.

In Pakistan, we have turd like Bongi Khan. Who has nothing to offer? All he does is cry and moan? He is no tiger, he is a pussy cat.
dude u r a patwari nobody can inspire u lol.
as for others, IK inspires us plenty n we r with him.
now coming to ur other claims u r wrong.USA didnt have his worst recession it was actually back in 1920s n 1930s n it was so bad its still called "the great depression" .
after that there was another recession in 1970s that almost doubled inflation in USA.
n when obama left he had a good rating because he had already ruled for 8 years n non white community loved him. but wat was his rating in 1st n 2nd year?
also it was a recession by their standards but they were still biggest economy with all their institutions working on standards n sole super power of the world with their currency being used in every corner of every country.
wat did IK get when he came into power? literally a bankrupt country n not a single institution worth reliance.
tell me 1 other ruler of modern world who was handed this kinda economy n was still popular in 1st two years. Erdogan comes closer but even he didnt have it this rough.
so dont even try to sound logical and do wat u do best. GHULAMI
 

Reason

Minister (2k+ posts)
dude u r a patwari nobody can inspire u lol.
as for others, IK inspires us plenty n we r with him.
now coming to ur other claims u r wrong.USA didnt have his worst recession it was actually back in 1920s n 1930s n it was so bad its still called "the great depression" .
after that there was another recession in 1970s that almost doubled inflation in USA.
n when obama left he had a good rating because he had already ruled for 8 years n non white community loved him. but wat was his rating in 1st n 2nd year?
also it was a recession by their standards but they were still biggest economy with all their institutions working on standards n sole super power of the world with their currency being used in every corner of every country.
wat did IK get when he came into power? literally a bankrupt country n not a single institution worth reliance.
tell me 1 other ruler of modern world who was handed this kinda economy n was still popular in 1st two years. Erdogan comes closer but even he didnt have it this rough.
so dont even try to sound logical and do wat u do best. GHULAMI
Imran Khan can inspire by taking action against JKT, Khusra Baktiar for corruption.
 

Zaidi Qasim

Prime Minister (20k+ posts)
They are dumping JKT today as if he never existed before. Obviously it is a high time liability . Till yesterday ,JKT was their biggest Financier , Spent money like anything to bought Lotas for Bongi Khan . Even when he was disqualified , Bongi khan still kept him in his company nd allowed him to preside over the cabinet Meetings . He has lot of influence on all the lotas he bought for Bongi and Boots. The cries for punishment from the poor of the nation have become too powerful . Now, the policy statement is that dump him as quickly as possible and don't even remember him .. But for one thing, JKT said and he is correct , he didn't approve the subsidy himself. It was the whole Cabinet which was involved including Bongi Khan ...
 

Wake up Pak

Chief Minister (5k+ posts)
00:39
/
01:19





Replay















dude u r a patwari nobody can inspire u lol.
as for others, IK inspires us plenty n we r with him.
now coming to ur other claims u r wrong.USA didnt have his worst recession it was actually back in 1920s n 1930s n it was so bad its still called "the great depression" .
after that there was another recession in 1970s that almost doubled inflation in USA.
n when obama left he had a good rating because he had already ruled for 8 years n non white community loved him. but wat was his rating in 1st n 2nd year?
also it was a recession by their standards but they were still biggest economy with all their institutions working on standards n sole super power of the world with their currency being used in every corner of every country.
wat did IK get when he came into power? literally a bankrupt country n not a single institution worth reliance.
tell me 1 other ruler of modern world who was handed this kinda economy n was still popular in 1st two years. Erdogan comes closer but even he didnt have it this rough.
so dont even try to sound logical and do wat u do best. GHULAMI
He belongs to Altaf kaalia . He is his left TATTA...
 
Sponsored Link

Latest Blogs Featured Discussion اردوخبریں