پی آئی سی واقعہ افسوس ناک اور قابل مذمت ہے - چیف جسٹس

Siasi Jasoos

Minister (2k+ posts)

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا ہے کہ لاہور میں پیش آنے والا واقعہ افسوس ناک اور قابل مذمت ہے۔

سپریم کورٹ میں فوری اور سستے انصاف کی فراہمی سے متعلق قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ ڈاکٹرز اور وکیل دونوں معاشرے کا باوقار حصہ ہیں، دونوں پیشوں کےساتھ گراں قدرروایات منسلک ہیں ، لاہور میں پیش آنے والا واقعہ افسوس ناک اور قابل مذمت ہے، پی آئی سی واقعہ لاہور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے، اس لئے اس پر زیادہ بات نہیں کرنا چاہتا۔ جو کچھ ہوا وہ نہیں ہونا چاہئے تھا، معزز پیشے سے تعلق رکھنے والوں کو خود احتسابی کےعمل سے گزرنا ہوگا، امید ہے اس طرح کے واقعات مستقبل میں پیش نہیں آئیں گے، متاثرہ خاندان کےساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ ہم نے نظام میں رہتے ہوئے انصاف کے عمل کو مختصر کیا، ماڈل کورٹس کے ذریعے تیز تر انصاف کو یقینی بنایاگیا،ایسا نظام بنایا ہے کہ 17 دنوں میں چالان آجائے۔ گواہوں کو پیش کرنے کی ذمہ داری ریاست کی ہوتی ہے، ہم نے کہا کہ مدعی کے بجائے پولیس اور ریاست گواہ پیش کرے گی۔

 
Advertisement
Last edited:

Husaink

Chief Minister (5k+ posts)
آرمی چیف کی ایکسٹنشن ایک مفاد عامہ کا معاملہ تھا سو موٹو لے لیا ، وکیلوں کی دہشت گردی مفاد عامہ کا معاملہ نہیں ہے اس لئے اس کی بتی بنا کے لے لی چیف جسٹس کھوتا صاحب نے
 


اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا ہے کہ لاہور میں پیش آنے والا واقعہ افسوس ناک اور قابل مذمت ہے۔

سپریم کورٹ میں فوری اور سستے انصاف کی فراہمی سے متعلق قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ ڈاکٹرز اور وکیل دونوں معاشرے کا باوقار حصہ ہیں، دونوں پیشوں کےساتھ گراں قدرروایات منسلک ہیں ، لاہور میں پیش آنے والا واقعہ افسوس ناک اور قابل مذمت ہے، پی آئی سی واقعہ لاہور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے، اس لئے اس پر زیادہ بات نہیں کرنا چاہتا۔ جو کچھ ہوا وہ نہیں ہونا چاہئے تھا، معزز پیشے سے تعلق رکھنے والوں کو خود احتسابی کےعمل سے گزرنا ہوگا، امید ہے اس طرح کے واقعات مستقبل میں پیش نہیں آئیں گے، متاثرہ خاندان کےساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ ہم نے نظام میں رہتے ہوئے انصاف کے عمل کو مختصر کیا، ماڈل کورٹس کے ذریعے تیز تر انصاف کو یقینی بنایاگیا،ایسا نظام بنایا ہے کہ 17 دنوں میں چالان آجائے۔ گواہوں کو پیش کرنے کی ذمہ داری ریاست کی ہوتی ہے، ہم نے کہا کہ مدعی کے بجائے پولیس اور ریاست گواہ پیش کرے گی۔

Judge bhi kabhi Wakeel Tha....... Living in same bowl with different name.
 

bigfoot

Minister (2k+ posts)
آرمی چیف کی ایکسٹنشن ایک مفاد عامہ کا معاملہ تھا سو موٹو لے لیا ، وکیلوں کی دہشت گردی مفاد عامہ کا معاملہ نہیں ہے اس لئے اس کی بتی بنا کے لے لی چیف جسٹس کھوتا صاحب نے
دہشت گردی مفاد عامہ کا معاملہ ہے صاحب PIC 2 doctors Please fix both to teach lesson to others.
 

BrotherKantu

Chief Minister (5k+ posts)
کھوتوں کو بھی قبض ہو سکتی ہے. کھوتے کیا انسان نہیں ہوتے؟
اپنے پٹواریوں کو ہی دیکھ لو؟.....اب اس میں کیا ?

جی ہاں ہمارے ملک میں کھوتے بھی انسان ہوتے ہیں
دو ٹانگوں کا فرق ہے.


.
 

Bubber Shair

Senator (1k+ posts)
بہت دیر بعد بیان دیا ہے بحرحال دیر آئد درست آئد، اب دیکھنا یہ ہے کہ عدالتیں ان دھشت گردوں کو سخت سزا دیتی ہیں یا نہیں؟
کل علی احمد کرد نے جسطرح کامران خان جیسے مہذب اور کہنہ مشق صحافی کو کھلم کھلا دھمکیاں اور بدتمیزی سے بات کی ہے اس سے تو یہی معلوم ہورہا ہے کہ یہ جاہل اپنے آپ کو درست کرنے پر تیار نہیں
کسی بھی مجمع کو آج تک سزا نہیں ملی یہی وجہ ہے کہ آج حالات کنٹرول سے باہر نکل چکے ہیں
 

ranaji

Prime Minister (20k+ posts)
بہت دیر بعد بیان دیا ہے بحرحال دیر آئد درست آئد، اب دیکھنا یہ ہے کہ عدالتیں ان دھشت گردوں کو سخت سزا دیتی ہیں یا نہیں؟
کل علی احمد کرد نے جسطرح کامران خان جیسے مہذب اور کہنہ مشق صحافی کو کھلم کھلا دھمکیاں اور بدتمیزی سے بات کی ہے اس سے تو یہی معلوم ہورہا ہے کہ یہ جاہل اپنے آپ کو درست کرنے پر تیار نہیں
کسی بھی مجمع کو آج تک سزا نہیں ملی یہی وجہ ہے کہ آج حالات کنٹرول سے باہر نکل چکے ہیں
علی احمد خرد برد
ویسے ہی چھوٹی نسل اور چھوٹی عقل کے کیکڑون کی طرح اچھلتا ہے اور مینڈکوں کی ترہ ٹراتا ہے اور یہ بونی نسل کا کیکڑا اپنا راتب حلال کرنے کی کوشش می بھونکنے کی کوشش کرتا ہے مگر اسکے پچھواڑے نما مونہ سے مینڈک اور کیکڑے کی آواز نکلتی ہے
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں