پولیس تشدد کا نشانہ بننے کے بعد عمر ایوب اور پی ٹی آئی رہنماؤں کا ردعمل

umai1i1i21.jpg


پنجاب پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بننے والے سابق وفاقی وزیر عمر ایوب کا کہنا ہے کہ جو مرضی کرنا ہے کرو، پر ہمیں نہیں روک سکتے۔


انہوں نے اپنے اوپر ہونے والے تشدد کو پنجاب پولیس کی دہشت گردی کا منہ بولتا ثبوت کہا اور مزید لکھا کہ برہان پل کو پنجاب پولیس سے کلئیر کرتے ہوئے پولیس کی لاٹھی چارج کا سامنا کیا پر اپنے ٹارگٹ کو حاصل کیا الحمدللہ اس چوک کو صاف کرا کے آزادی مارچ کو اسلام آباد کی طرف رواں کر دیا۔

دوسری جانب ان پر تشدد کیے جانے کیخلاف ردعمل میں شہباز گل نے کہا کہ تحریک انصاف اپنے تمام کارکنوں کی بے مثال قربانی کی مقروض ہے۔


سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے جاری کردہ ٹوئٹ پیغام میں رہنما شہباز گل نے لکھا کہ ریاستی غنڈہ گردی ،تشدد ،بربریت کا یہ مظاہرہ سابقہ وفاقی وزیر عمر ایوب خان کے ساتھ کیا گیا۔ عام ورکر اور کارکن کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا ہے اسکا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

ادھر اینکر عمران خان کے مطابق عمرایوب خان پر تشدد اس وقت ہوا جب وہ اپنے قافلے کیساتھ ایبٹ آباد سے پنجاب کی حدود میں داخل ہورہے تھے، ایک طرف اٹک سے زلفی بخاری نے پولیس کو انگیج رکھا جبکہ دوسری طرف سے عمرایوب خان نے جس کی وجہ سے عمران خان کے قافلے کو اسلام آباد داخل ہونے میں مدد ملی۔

 
Advertisement

atensari

President (40k+ posts)
نا دیواریں پھلانگی گئیں، نا گرفتاریاں ہوئیں. جھوٹا اعظم

 

shafali

Chief Minister (5k+ posts)
غنڈا لیگ کا آخری وقت قریب آ رہا ہے۔ یہ اب وینٹیلیٹر پر ہے۔
 

samisam

Chief Minister (5k+ posts)
یہ امرتسری چکلے رام گلی کی پیداور گشتی کا بچہ۔ مقصود چپڑاسی حرام کا نطفہ۔ اپنی ماں کے خصم کالے رانے ثنا کنجر منشیات فروش اور ماڈل ٹاؤن کے قاتل جنرل باجوے رانے کے ساتھ ہی اب جہم رسید ہوگا دونوں گشتی کے بچے حرام کے نطفے قاتل ہیں
 

Chacha Basharat

MPA (400+ posts)

پولیس اور رینجرز پر پتھراؤ کرنے والے، غلیلوں اور کیلیں لگی لاٹھیوں سے حملے کرنے والے، پولیس پر گولیاں چلا کر جان لینے والے، املاک، گاڑیاں جلانے اور نقصان کرنے والے آرٹیکل 16 کے تحت پرامن احتجاج کرنے والے عوام نہیں بلکہ بلوائی ہیں۔ ان کی جگہ جیل ہے۔
 

jigrot

Minister (2k+ posts)
پولیس اور رینجرز پر پتھراؤ کرنے والے، غلیلوں اور کیلیں لگی لاٹھیوں سے حملے کرنے والے، پولیس پر گولیاں چلا کر جان لینے والے، املاک، گاڑیاں جلانے اور نقصان کرنے والے آرٹیکل 16 کے تحت پرامن احتجاج کرنے والے عوام نہیں بلکہ بلوائی ہیں۔ ان کی جگہ جیل ہے۔
ager ya sub howa hota tu bohot maza attaa
 
Sponsored Link