پندرہ شعبان کی حقیقت

الرضا

Senator (1k+ posts)
راوی حدیث کے ثقہ ہونے کا اصول دونوں گروپس نے صدیوں پہلے ہی رائج کر دیا ہے اگر آپ کے اصول کو مان لیا جاے تو پھر ایک سو چالیس راویوں کے نام میں نے بزبانی قاری حنیف ڈار کے ہی دکھا دیے ہیں اس حساب سے تو پھر آپ اپنی تمام کتب کو بند ہی کردیں کیوں کے ایک سو چالیس کا ہندسہ بہت بڑا ہوتا ہے
اور بات میری آپ کی مرضی سے نہیں چلتی ہے مجھے دکھ کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے
رہی بات ام المومنین یا اصحاب کی تو امی جان کے واقعہ افک کو ہی لے لیا جاے تو بات اصحاب پر جا پہنچتی ہے آپ نے اس پر غور کیا ہی نہیں ہے
جن اہلسنت کے ساتھ میں اٹھا بیٹھا ہوں اور پڑھا ہے آپ کی کتب میں تو نواصب اور خوارج بھی راوی ہیں حتہ کے قاتلان حسین بھی راوی ہیں کیا آپ کو ان باتوں کا علم ہے ؟ نہیں تو ذرا چیک تو کریں ڈال پوری کی پوری ہی کالی ملے گی محترم الرضا صاحب اس لیے گزارش کروں گا کے جو اصول رائج ہوے ہیں ان پر ہی چلا جاے کیوں کے اس وقت جب راویوں کو جانچ جاتا تھا تو اصول جو ہوتا تھا اس میں بہت چھان بین ہوتی تھی
پی ٹی ای یا نوں لیگ والا اصول ادھر لاگو نہیں ہوتا ہے
جناب اگر میں شیعہ راوی کو مسترد کرنے کی بات کر رہا ہوں تو اس کا مطلب یہی ہے کہ صرف نیوٹرل بندہ لیا جائے۔ ناصبی، خارجی سب کو نکال باہر کیا جائے۔ جن لوگوں پر بھی فتنہ پردازی کا الزام ہے، اور کسی طرح ثابت بھی ہے ان سے کوئی حدیث نہ لی جائے۔ حدیثوں کو اور ان کے مصنفین کو بچانے کے چکر میں دین کا بیڑا غرق نہ کیا جائے۔
زہری شیطان کے علاوہ جس کسی نے بھی افک کا واقعہ روایت کیا ہے اس کی نئے سرے سے جانچ پڑتال کی جائے۔
 

الرضا

Senator (1k+ posts)
بلکل تحقیق کرتے ہیں اور ہمارے ہاں ہوتا رہا ہے جو دشمن زہرہ سلام الله ہو وہ ہمارے لیے مردود ہے لیکن امی جان پر جنہوں نے تہمت لگائی ان کو تو آپ رضی الله لکھتے ہیں آخر کیوں ؟
تبھی تو میں ان سنّیوں کو جاہل کہتا ہوں۔ کہ ایک دو ٹکے کا راوی صحابہ کرام اور امہات المؤمنین تو دور کی بات، نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرے، قرآن کی حقانیت پر حملے کرے اور یہ اس کی روایت کو حدیث کے نام پر قبول کر لیتے ہیں۔ اللہ کے بندو، تحقیق تو کرو، کہیں یہ کوئی شیطان منافق تو نہیں۔
 

الرضا

Senator (1k+ posts)
میرا آپ سے سوال ہے امی جان حضرت عایشہ اپنے بھائی محمد بن ابو بکر کے قاتل پر بد دعا کریں وہ آپ کے نزدیک رضی الله اور امیر کیسے بن جاتا ہے ؟
امام حسین کا قاتل آپ کے ہاں ثقہ راوی کیوں ہوتا ہے ؟
دوہرا میعار تو نہیں چلنا چاہیے ہے
اور یہ روایت کیا ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہ نے محدث صاحب کو سنائی تھی یا کوئی راوی اس کو ام المؤمنین سے روایت کر رہا ہے؟ اگر کوئی راوی روایت کر رہا ہے تو ایسی فتنہ پرداز بات اس کے منہ پر مارنی تھی نہ کہ حدیث کے نام پر تحریر کرنی تھی؟
حسین رضی اللہ عنہ کا قاتل کسی طور ثقہ راوی نہیں ہوسکتا۔ جس نے مانا اس نے زیادتی کی، نبی ﷺ کے ماننے والوں کو دکھ پہنچایا۔
 

Tabbot Mein Keel

Voter (50+ posts)
سر , الرضا

سر آپ کو سلام آپکی ہمت کوسلام لیکن اللہ سے دعا ہے کہ ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے , یے سمجھنے سے عاری ہے ، کیونکہ ان کا عقیدہ غلاظت سے بھرا ہو ہے ، ایک اور چھوٹا سا نمونہ

شیعوں کی نرت انگیز اور کفریہ روایات

’’اصول کافی ‘‘میں کتاب الحجہ باب (ان الارض کلھا للامام )کے تحت ابوبصیر سے روایت ہے کہ ان کے ایک سوال کے جواب میں امام جعفرصادق نے فرمایا :
(اما علمت انّ الد ینا والاخرۃ للامام یضعھا حیث یشاء ویدفعھا الی من یشاء )
’’کیا تم کو یہ بات معلوم نہیں کہ دنیا اور آخرت سب امام کی ملکیت ہے ۔وہ جس کو چاہیں دے دیں اور جو چاہیں کریں ‘‘ (اصول کافی :ص ۲۵۹)
شیعوں کے کثیر التصانیف بزرگ اورمجتہد مُلّا باقر مجلسی اپنی تصنیف ’’حیاۃ القلوب‘‘میں تحریر فرماتے ہیں:
’’امامت بالاتر از رتبہ پیغمبری ‘‘امامت کا درجہ نبوت و پیغمبری سے بالا تر ہے ‘‘۔
(حیات القلوب :ملا باقر مجلسی ج۳ ص۱۰)
اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ ازل سے ابد تک ساری باتوں کا علم (ما کان وما یکون کا علم)اﷲتعالیٰ کے سوا کسی کو حاصل نہیں اور اس کا علم ساری کائنات کو محیط ہے:وانّ اﷲ قد احاط بکل شي ء علما (الطلاق:۱۲) یہودی ذہن وفکر نے اپنی افتاد طبع کے مطابق ’’غلو عقیدت ‘‘کے نظریہ کو فروغ دینے کے لیے پہلے رسول اﷲﷺ کے لیے (ماکان وما یکون)کے علم کا پروپیگنڈا کیا اور پھر آپ ﷺ کے بعد شیعہ حضرات کے خود ساختہ ’’ائمہ معصومین ‘‘اس علم کے وارث اور امین ٹہرائے گئے ،شدہ شدہ یہمشرکانہ نظریہ عقیدت رسول کے بھیس میں عامۃ المسلمین کے ایک خاص طبقہ یعنی ’’اہل بدعت ‘‘کا بھی اوڑھنا بچھونا بن گیا۔
ملاحظہ کیجئے شیعی روایت :امام جعفر صادق نے اپنے خاص رازداروں کی ایک محفل میں ارشاد فرمایا :
(لو کنت بین موسی والخضر لأخبرتھما انی اعلم منھما ولانباتھما ما لیس فی اید یھما لأن موسیٰ والخضر علیھما السلام اعطیا علم ما کان ولم یعطیا علم ما یکون وما ھو کائن حتی تقوم الساعۃ وقد ورثناہ من رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ السلام وآلہ وراثۃ )
’’اگر میں موسیٰ اور خضر کے درمیان ہوتا تو ان کو بتا تا کہ ان دونوں سے زیادہ علم رکھتا ہوں ،اور ان کو اس سے باخبر کرتا ہوں جو ان کے علم میں نہیں تھا ۔کیونکہ موسیٰ وخضر علیہما السلام کو صر ف ’’ماکان‘‘کا علم حاصل ہوا تھا اور ’’ما یکون ‘‘اور جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے اس کا علم ان کو نہیں دیا گیا تھا ۔اور ہم کو وہ علم رسول اﷲﷺ اور آپ کی آل سے وراثت میں حاصل ہوا ہے ‘‘ (اصول کافی :ص:۱۶۰)
اہل تشیع کا یہ عقیدہ ہے کہ دنیا کبھی امام سے خالی نہیں رہ سکتی ،اصول کافی میں ابوحمزہ سے روایت ہے کہ انہوں نے چھٹا امام جعفر صادق سے دریافت کیا کہ یہ زمین بغیر امام کے باقی اور قائم رہ سکتی ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر زمین پر امام کا وجود باقی نہ رہے تو وہ دھنس جائے گی باقی نہیں رہے سکے گی۔ (اصول کافی ،ص:۱۰۴)
اسی طرح اما م باقر سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ اگر امام کو ایک گھڑی کے لئے بھی زمین سے اٹھالیا جائے تو وہ اپنی آبادی کے ساتھ ایسے ڈولے گی جیسے سمندرمیں موجیں آتی ہیں۔
اہل کتاب (یہود ونصاریٰ)کا دعویٰ ہے کہ یہود ونصاریٰ کے علاوہ کوئی دوسراگروہ جنت میں داخل نہیں ہوپائے گا ۔اہل تشیع کے یہاں بھی یہ دعویٰ اسی کروفر کے ساتھ پایا جاتا ہے ان کے نزدیک ائمہ معصومین کو ماننے والے (یعنی شیعہ حضرات )اگر ظالم اور فاسق بھی ہیں تب بھی جنت ہی میں جائیں گے اور ان کے علاوہ مسلمان اگرچہ متقی اور پرہیز گار بھی ہوں اس کے باوجود دوزخ میں ڈالیں جائیں گے ۔اصول کافی میں امام باقر سے روایت کی گئی ہے آپ نے فرمایا:
( ان اﷲ لا یستحي ان یعذب امۃ وانت بامام لیس من اﷲ ، وان کانت في اعمالھا برۃ تقیۃ وانّ اﷲ لیستحی ان یعذب امۃ وانت بامام من اﷲ وان کانت فی اعمالھا ظالمۃ مسیئۃ ) (اصول کافی :ص،۲۳۸)
اﷲتعالیٰ ایسی امت کو عذاب دینے سے نہیں شرمائے گا جو ایسے امام کو مانتی ہو جو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے نامزد نہیں کیا گیا ہے ،اگرچہ یہ امت اپنے اعمال کے لحاظ سے نیکو کار اور متقی وپرہیز گار ہو،اور ایسے لوگوں کو عذاب دینے اﷲتعالیٰ احتراز فرمائے گا جو اﷲتعالیٰ کی طرف سے نامزد اماموں کو مانتے ہوں ۔اگرچہ یہ لوگ اپنی عملی زندگی میں ظالم و بدکردار ہوں‘‘


"ائمہ معصومین" کے متعلق شیعوں کے عقائد و نظریات

1. مخلوق پر اللہ کی حجت امام کے بغیر قائم نہیں ہوتی (لیکن اللہ نے تو حجت قائم کر دی ہے اماموں کے بغیر... اب کیا ہوگا)
2. امام کے بغیر یہ دنیا قائم نہیں رہ سکتی... (لیکن دنیا تو آج بھی قائم ہے)
3. اماموں کو ماننا اور پہچاننا شرط ایمان ہے (نہ مانا جائے تو؟)
4. اماموں اور امامت پر ایمان لانے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حکم سب پیغمبروں اور آسمانی کتب کے ذریعے آیا ہے (کون کون سی آسمانی کتاب میں یہ خوش خبری ملی آپ لوگوں کو؟)
5. ائمہ کی اطاعت رسولوں ہی کی طرح فرض ہے (پھر کرتے کیوں نہیں؟)
6. ائمہ کو اختیار ہے جس چیز کو چاہیں حلال یا حرام قرار دیں (اسی لئے تو ہم کہتے ہیں نا کہ شیعہ یہودیوں کے دودھ شریک بھائی ہیں، جس کام پر اللہ نے یہودی احبار و رہبان پر لعنت بھیجی ہے وہی کام اگر آپ اپنے ائمہ کے تعلق سے روا رکھیں گے تو آپ اللہ کی لعنت کے مستحق ہیں)
7. انبیاء کی طرح ائمہ بھی معصوم ہوتے ہیں (ھاتوا برھانکم)
8. اماموں کا حمل ماؤں کے رحم میں نہیں بلکہ پہلو میں قائم ہوتا ہے (کس نے چیک کر کے دیکھا بھائی؟)
9. ائمہ معصومین کو ماننے والے (شیعہ) اگر ظالم اور فاسق و فاجر بھی ہیں تو بھی جنتی ہیں اور ان کے علاوہ مسلمان اگر متقی و پرہیزگار ہیں تو بھی جہنمی ہیں (ارے بزرگو! آپ لوگوں کو نظر ثانی کی ضرورت ہے)
10. ائمہ کا درجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر اور دوسرے تمام انبیاء سے برتر و بالاتر ہے (اللہ کی سنت اور اس کے قانون سے کھلواڑ کرنا کوئی آپ سے سیکھے)
11. ائمہ کو "ما کان وما یکون" کا علم ہے (پھر اللہ اور ائمہ میں فرق کیا رہ گیا ہے؟)
12. ائمہ پر بھی بندوں کے دن رات کے اعمال پیش ہوتے ہیں (یہ تحقیق کس نے کی؟)
13. ائمہ کے پاس فرشتوں کی آمد و رفت ہوتی رہتی ہے (ہاں تمہارا کوئی اپنا بنایا ہوا فرشتہ ہوگا... نعوذ باللہ من ذلك)
14. ہر جمعہ کی رات ائمہ کو معراج ہوتی ہے، وہ عرش تک پہنچائے جاتے ہیں اور وہاں ان کو بےشمار نئے علوم عطا کئے جاتے ہیں (یہ لو، میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری زندگی صرف ایک بار معراج ہوئی اور یہاں یہ ہر ہفتے ایک بار چکر لگا رہے ہیں)
15. ائمہ وہ سب علوم جانتے ہیں جو اللہ کی طرف سے فرشتوں، نبیوں اور رسولوں کو عطا ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ بہت سے ایسے علوم بھی جو نبیوں اور فرشتوں کو بھی عطا نہیں ہوئے (نبیوں اور فرشتوں کو تمہارے فرسودہ علوم کی ضرورت ہی نہیں)
16. ائمہ پر ہر سال کی شب قدر میں اللہ کی طرف سے ایک کتاب نازل ہوتی ہے جس کو فرشتے اور الروح لے کر اترتے ہیں (اب تک کتنی کتابیں جمع ہو گئی ہیں؟)
17. ائمہ اپنی موت کا وقت بھی جانتے ہیں اور ان کی موت ان کے اپنے اختیار میں ہوتی ہے (وما تدري نفس بأي أرض تموت؟؟)
18. ائمہ دنیا و آخرت کے مالک ہیں جس کو چاہیں دے دیں اور بخش دیں (پھر کس کس کو دیا انہوں نے اب تک اور کس کس کو بخشا ہے؟؟)
19. اللہ نے آسمانوں، زمینوں اور پہاڑوں پر جو امانت پیش کی تھی اور جس کا بوجھ اٹھانے سے ان سب نے انکار کر دیا تھا وہ "امامت کا مسئلہ" تھا (جو بات کی، خدا کی قسم لا جواب کی... پاپوش میں لگائی کرن آفتاب کی)
20. قرآن میں پنجتن پاک اور تمام ائمہ معصومین کے نام تھے وہ نکال دیئے گئے اور تحریف کی گئی.... (پوری امت مسلمہ پر بہتان تراشی)

محترم قارئین! یہ تھے شیعوں کے وہ عقائد و نظریات جو وہ اپنے ائمہ معصومین کے تعلق سے رکھتے ہیں، آپ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ کس قدر کفریہ عقائد و نظریات کے حامل ہیں یہ لوگ کہ ائمہ کو انہوں نے نبیوں، رسولوں سے بہتر بتایا بلکہ انہیں اللہ کی مختلف خصوصیات میں بھی شریک و ساجھی بنا دیا... آپ ابھی حیران نہ ہوں، یہ تو ابھی آغاز ہے... ایسے ہی بے شمار غلط عقائد ہیں ان کے کہ جن کو پڑھنے اور سننے کے بعد ان کے تعلق سے کسی قسم کی نجات کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا... ہاں توبہ کا دروازہ ابھی بھی کھلا ہے جو چاہے اس دروازے کا استعمال کر سکتا ہے....
ایک اور مذموم عقیدہ "موجودہ قرآن مکمل نہیں ہے" کی وضاحت کرنے کی کوشش کرتاہوں ......... لیکن ان کے عقیدے کو بیان کرنے سے پہلے ہمارے لئے اس بات کا جاننا نہایت ہی ضروری ہے کہ "اہل سنت والجماعت کے نزدیک قرآن مجید ایک مکمل کتاب ہے، اس میں کسی بھی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، نہ اس میں کسی آیت یا لفظ کا اضافہ ہوا اور نہ ہی کمی، شروع زمانے سے لے کر اب تک یہ کتاب اپنی حقیقی شکل و صورت اور عبارت کے ساتھ باقی ہے، صرف یہی نہیں بلکہ قیامت تک قرآن مجید کے کسی ایک حرف کو بھی تبدیل نہیں کیا جا سکے گا".... ان شاء اللہ...... یہ تو اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ ہے.... جہاں تک شیعہ قوم کا تعلق ہے تو ان کے نزدیک قرآن مجید اپنی اصلی شکل و صورت میں محفوظ نہیں ہے، بلکہ ان کے عقیدے کے مطابق قرآن کی بہت سی آیات میں تبدیلی کر دی گئی ہے اور قرآن مجید کا ایک بہت بڑا حصہ حذف کر دیا گیا ہے،ان کے نزدیک موجودہ قرآن اصلی قرآن نہیں ہے..... اب آیئے ہم اپنی اس بات کے لئے شیعوں ہی کی کتاب سے چند نصوص اور بنیادی باتوں کا تذکرہ کرتے ہیں:

نص نمبر 1. شیعوں کا ایک معتبر عالم کلینی اپنی کتاب "الکافی فی الاصول" میں حضرت جعفر صادق کی طرف منسوب کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ انہوں نے کہا: "وہ قرآن جو حضرت جبرئیل علیہ السلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے تھے اس کی 17 ہزار آیات تھیں" (الکافی فی الاصول للکلینی ج 2 ص 634)......جبکہ موجودہ قرآن کی کل آیات کی تعداد چھ ہزار سے کچھ اوپر ہے جس طرح کہ خود شیعہ مفسر ابو علی الطبرسی نے اپنی تفسیر میں اس بات کا یوں اقرار کیا ہے کہ "قرآن کی آیات کی تعداد 6236 ہے" (تفسیر مجمع البیان للطبرسی ج 10 ص 407)........ (مستفاد از "الشیعہ والسنۃ" علامہ احسان الہی ظہیر رحمہ اللہ ص 87)

نص نمبر 2. شیعہ محدث صفار (کلینی کا استاد) کی کتاب میں حضرت باقر سے روایت ہے کہ: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منی میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ"اے لوگو! میں تمہارے پاس تین چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں... قرآن مجید.... اہل بیت...... کعبہ...... یہ اللہ کی طرف سے مقدس شعائر ہیں لہذا تم ان کی حفاظت کرنا"..... حضرت باقر اس روایت کے آگے فرماتے ہیں کہ "مگر افسوس! انہوں نے قرآن میں تبدیلی کر دی، کعبہ کو منہدم کر دیا اور اہل بیت کو قتل کر ڈالا" (بصائر الدرجات للصفار جزء 8 باب 17)
 

Pakistani1947

Minister (2k+ posts)
اور یہ روایت کیا ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہ نے محدث صاحب کو سنائی تھی یا ------
سر , الرضا

سر آپ کو سلام آپکی ہمت کوسلام لیکن اللہ سے دعا ہے کہ ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے , یے سمجھنے سے عاری ہے ، کیونکہ ان کا عقیدہ غلاظت سے بھرا ہو ہے ، ایک اور چھوٹا سا نمونہ

شیعوں کی نرت انگیز اور کفریہ روایات

-------
These days anyone who is interested in discussion on Islamic subjects will come across a lot of discussion boards where there are a long and often-pointless debates going on between Shia Muslims and Mainstream Muslims (I prefer to use the term “Main Stream” rather than Sunnis which gives an impression of sectarianism).
The features of these kinds of debates are as follow:
1. They seem to be endless
2. In some point one of the sides starts using offensive language and usually this is the reason for ending the debate
3. They are repeated material that are posted every now and then in many websites

Before explaining what is an appropriate way to discuss with Shia I need to make an important point and then refer to some facts.

The point:

It is a pity to see engaging in long and often fruitless debates over Internet wastes the valuable time of a Muslim youth. Long debates like this result in making the heart and soul dry and very materialistic. I think the time of a responsible Muslim should be devoted to his/her efforts to more effective things like education, prayer and reading Qur'an, Improving his/her purity for the God, increasing practically useful Islamic knowledge, making him/herself a good example of a Muslim, helping others and of course, enjoying life and family and friends without committing any sins.

Now some facts:

1.
After the revolution in Iran, the Shia scholars became very powerful and they invested a lot to spread Shia’ism in Islamic countries. What they are doing in Africa, in Saudi Arabia during Hajj, in Western countries and over the net are only parts of these activities.

2. Every belief usually has a main stream followers and then sectarian followers. It is a simple fact that the sectarian followers always need to defend themselves against the main stream while the main stream feels less necessary to challenge the sects. This results in mainstreams having less idea about the belief of sects while sects have a rather good idea about the belief of the mainstream. This in terms results in the main stream being less prepared to discuss with the sects while sects are always prepared to discuss with the mainstream. For instance: Among Christians, Mormons have a strong discussion material when entering a debate with mainstream Christians while the Mainstream Christians have less idea about what are the Mormons all about. In the same way Shia is more prepared to discuss with mainstream Muslims. The same rule applies to Shia themselves. The Shia that are usually starting debate with mainstream Muslims are Imami (12er) Shia. However, among them there are minorities like Zaidi Shia or Ismaili Shia. These minorities usually are very much prepared to enter a debate with Imami Shia while an ordinary Imami Shia usually has no idea about the belief of these minorities.

3. The above fact results that some of the mainstream Muslims have wrong idea about the belief of Shia and their practices.

4. The three points above leads us to the fourth fact: One of the reasons you find that Shia people are very much engaged in discussion with mainstream Muslims, particularly over internet is that there are lots of material available for them that they usually find a relevant answer to any question and copy and paste it in reply. These materials are loaded systematically in many shia sites and online books like: Shia Encyclopedia - Tijani’s works – Peshawar Nights – website and the rest. They can simply print out a short article and nicely fold it like a catalog and leave it in a mosque. Comparing to this vast activities, mainstream Muslims do not have such an access to good material.

5. Shia is far better in debate in English websites. This is because while most of the Shia propaganda books are translated to English, unfortunately less good Arabic books of the mainstream Muslims that provide answers have been translated to English.

6. Unfortunately due to some prejudice from some of the Scholars, many of the mainstream Muslims now a days have opinions that put them in a fragile position when debating with Shia. These opinions are not backed by any strong evidences and many of them are newly emerged opinions rather than old opinions. Among them are:

a) The belief that what ever is in Sahihayn is authentic
b ) The belief that any one who has seen the Prophet even for a short while can be considered Sahabi and thus can be trusted.
c) The belief that anything that Sahabeh and others have done during and after the death of the Prophet pbunh are right or that all their behavior has to be justified (please note that I am not suggesting criticizing Sahabeh, I am just saying that we don’t need to feel responsibility to justify anything they have done. Our responsibility is to defend Islam, Qur'an and the holy Prophet pbuh not the Sahabeh who after all were fallible. If we do this, then we are automatically defending the Sahabeh (RA) as well.
d) The idea that there were absolutely no conflicts between the Sahabeh after the passing away of the Prophet pbuh and that they all loved each other.
e) The idea of giving the title of Kafir to anyone who is not among the mainstream Muslims.
Another point I need to make before saying how is an appropriate approach in discussing with Shia in my opinion:

I think a very big mistake that some of the Mainstream Muslims have, when discussing with Shia, is that they fall in their trap by being engaged with issues that are not really directly relevant to Shia doctrine.

All the issues below are among these directly irrelevant issues:

1. The story of Fadak
2. The story of Omar (ra) and Pen and Paper
3. The battles of Siffin, Jamal
4. The attitude of Mawiyah (RA) against Ali (ra)
5. Karbala and the martyrdom of Hussain (ra)
6. The story of Ghadire Khom (this is more relevant than others but still far away from the main issue)
7. The debates about Tahrif of Quran
8. The debates about Bukhari and Muslim and their collections
9. The stories regarding our mother Ayesha (ra)
10. The stories regarding Saqifah of Bani Saedeh
11. Combining the prayers, issues about Azan, ablution and so on
12. Things like visiting graves, calling a dead and so on
13. Etc.

The above and many other issues are important but not directly relevant to Shia doctrine. At least in theory, you may find a Muslim who is not a Shia but has an opinion about the above issues that is very similar to the opinion of Shia. Interestingly enough among some moderate Shia scholars too you might find some one who has opinions about the above issues which is very similar to the opinion of the main stream Muslims. One might be interested to have a search about the above issues but to me no matter what is your opinion about them, they have nothing to do with 12er Shia doctrine.

The above are the issues for which there are lots of material provided by Shia in Internet and Shia feels very easy and comfortable to find the relevant material and copy and paste it in a discussion. Actually, for them it is like repeating a same prescription. Most of the above issues at the end rely on Hadith and what happens is that Shia base the argument on certain Hadith and mainstream Muslims base their argument on another sort of Hadith and they will ended up with fighting to prove a Hadith is authentic and the other one is not. From there they usually get no where, because first of all, people generally do not have enough knowledge about verifying if a Hadith is authentic and even if they do so, they still cannot prove their points cause verifying if a Hadith is authentic is itself depending to the words of mouths of fallible scholars. While I agree that in many of the above cases, Shia people try to disfigure the story and very ruthlessly attack great Sahaba on the basis of their biased understanding of these stories, I still remain in my position that talking about the above leads the two sides to no where.

After this rather long introduction I would like to start the main issue that is:

So How to discuss with Shia!! ? ?


------------------ continued below -------------
 
Last edited:

Pakistani1947

Minister (2k+ posts)
اور یہ روایت ------
سر , الرضا
-------
So How to discuss with Shia!

Let us review the doctrine of 12er Shia first, this is the doctrine that makes 12er Shia a SECT different from the mainstream Muslims and different from other Shia sects:

“The doctrine of Imamat: Apart from Prophets, there are another group of God appointed persons called Imams. These are people who are infallible and have access to a knowledge that is not accessible by ordinary people. The world cannot be empty of an Imam otherwise it will be destroyed. In the Islamic context, these individuals are 12 people among the descendants of the Holy Prophet who are appointed by no one but God to lead Muslims. Any one who chooses any leader other than these 12 is misguided and not a complete believer. The twelfth (last) of the above Imams is Mahdi and is alive and in occultation (now) for more than 1000 years and will come out of his occultation when God wants”.

The above is the core belief of 12er Shia. They consider 5 articles of belief as fundamentals of their religion. These are: Tawhid (Oneness of God) – Nabuwwat (Prophet hood) – Ma’ad (Day of Judgement) – Adl (Justice of God) and IMAMAT (The above doctrine).

In another way to put it they some times refer to 5 pillars of Islam to be: Prayer, Zakat, Fasting, Hajj and Imamat. They further hold that the latter (Imamat) is the most important one.

The above shows the importance of Imamat in Shia doctrine. And when I say Imamat I don’t mean Leadership. Certainly leadership is an important issue not only for Muslims but also for any group of people. Imamat here means the above specific doctrine.

Now let me tell you:

When you want to help a Shia to realize how deviated he/she is from Islam or to help a fellow Muslim from the mainstream not to be deceived by Shia, there are TWO QUESTIONS that completely do the job for you:

Question One: Where is the doctrine of Imamat in Quran?

Question Two: How does the current Imam lead Shia?


I elaborate on each of these here:

Question One: Where is the doctrine of Imamat in Quran?

This is a very sound question. Qur'an is the book of guidance and we have been told by the Prophet pbuh that whenever we felt lost we can consult Qur'an and it will never betray us. The above doctrine is not a minor issue, it is very important. It’s importance is to the extend that Shia holds that because of not believing in this doctrine, 80% of Muslims are misguided and in fact not true believers. Well, which verses of Qur'an have given us this doctrine?

Ask Shia to ONLY give you the verses with NO additions to the translation and NO Hadith to support a certain interpretation of the verse and NO personal commentaries. Do this and you will see how helpless the arguments will be.

Now when you ask this from a Shia you receive different sorts of answers (and it is interesting that because the discussion is over the net, usually people cannot coordinate among themselves and you will receive responses from Shia that are in contradiction to each other and this in turns shows how baseless are the discussions).

Here are the most popular answers that you get:

1. There are also no verses in Quran to tell us how to pray. We learn some of our duties from Hadith not Quran.
2. There are certain verses but you need to look at Hadith to understand their true meaning cause we are advised to learn Quran from the Prophet and Hadith is his teachings.
3. Long and complicated analysis of certain verses of Quran to prove that even without the help of Hadith, they are proving Imamat.
4. There are no mention of the name of our Prophet pbuh in Bible but still Christians need to believe in the Prophet.
5. The verses of Quran are usually general and it is not the style of Quran to name people (i.e. Imams)
6. Qur'an says “follow the Prophet”. There are Hadith from the Prophet that prove the doctrine of Imamat and this should be enough for a Muslim if he wants to follow the Prophet.
7. There are not explicit verses because if there were, Qu'ran was in danger of fabrication.
8. Finally among the classic scholars of Shia at the old times there were some of them who hold that Qur'an is changed by Sahabah and that certain verses are removed from it.
9. Where in Qur'an it is said that Muslims should choose a khalifah by themselves?
10. Show us the names of the prophets between ... and ... in Quran if you think that every thing should be in Qur'an
11. It is a test that's why it is not mentioned in Qur'an
12. Arguments that use few verses of Qur'an out of the context.
13. Sunnies believe in Mahdi while he is not mentioned in Qur'an.
14. Imamat is not the fundamental belief of 12ers, the appointment of Ali is the fundamental of belief.

Now I’m sure most of you realize the weakness of all the above replies but let me write a brief for each of them. Using the same order of numbers:

1. There are also no verses in Quran to tell us how to pray. We learn some of our duties from Hadith not Quran:
Prayer has been referred to EXPLICITLY and STRONGLY NINTY EIGHT TIMES (98) in Quran. In each of these verses one of the aspects of prayer is covered. Many of these verses talk about the details of prayer, like how to come prepared for prayer (ablution), prayer in travel, etc. Certainly with such a vast and strong reference from Quran, Muslims will refer to the Prophet to know the details like how many prayers per day and how, etc.. In comparison, the total number of the verses that Shia refers to for Imamat is no more than 5 or 6 and yet non of them can be interpreted by a non-biased mind in the way that 12ers interpret it. In fact none of them are explicit and strong enough to prove Imamat doctrine. This is while Prayer is not at all comparable with Imamat. Imamat is the fundamental of belief. Shia calls it one of the Osoole Din (Fundamental of religion). Prayer however according to Shia is one of the Foroo’e Din (Subsidiary article of religion). Imamat is important enough to convince Shia to separate themselves from the mainstream Islam. If the only difference between Shia and the Mainstream Islam was the way they perform prayer they would never become a sect out of the mainstream Islam.

2. There are certain verses but you need to look at Hadith to understand their true meaning cause we are advised to learn Quran from the Prophet and Hadith is his teachings.
Why only when it comes to Imamat, we need Hadith to help us? We don’t need a Hadith to understand from Quran that reading prayer, performing Hajj, fasting, Jihad etc. are obligatory upon Muslims. We don’t need Hadith to understand from Quran that a Muslim needs to believe in Oneness of God and his Prophets and the Hereafter. We don’t need Hadith to understand from Quran that God has angels, there were Prophets in the history of mankind and some of them had books, and that the destiny of man is in the hands of God. All of the sudden when it comes to Imamat, Hadith becomes a vital tool to understand Quran. Quran how ever does not need a tool to be understandable. It is written in Quran that this book has been made easy to get guidance from. It is true that the Prophet explains certain verses of Quran but explaining is different from interpreting. Explaining means giving the details. Interpreting means giving the meaning. Quran needs no tool to be meaningful otherwise it wasn’t the book of guidance. Also there are many contradictory Hadith in explaining verses of Quran and at the end of the day it is impossible to verify exactly which ones are authentic. How could God expect people of our time to use Hadith to understand the MEANING of Quran? Is this the way that God says in Quran that Truth and False are separated and clear evidences have been shown? I don’t think so.

3. Long and complicated analysis of certain verses of Quran to prove that even without the help of Hadith, they are proving Imamat.
Same argument goes here. Quran is not a book of riddles and puzzles. God does not expect an ordinary Muslim to have a search in Quran and have a professional analysis of the verses of Quran to understand what should be his belief and what are his duties as a Muslim. Of course, it is very beneficial to analyse the verses of Quran to understand more from it. Quran is like an ocean. However to say that our fundamental belief can only derived from Quran after such an analysis is in contradiction with the use of Quran as a book of guidance. (For a detailed review of the verses that 12ers usually use and the discussion of the way they attempt to misinterpret these verses.

4. There are no mention of the name of our Prophet in Bible but still Christians need to believe in the Prophet
I know that this one is very funny. But because I have heard it, I am going to address it here: Firstly we believe that Bible in fact gave the information about our Prophet but these verses were removed (Quran tells us). However the most important thing is that Christians are not expected to accept the Prophet only based on their Bible. Christians along with other human being are given a brand new guidance that is Qur'an. It is Qur'an that challenges Christians not merely their own book. The last point is that the comparison is illogical. We are asking for proof of the Shia doctrine from our book of guidance, what does it have to do with the proof of our Prophet in the Bible?! There are many belief that Christians have but are not in their Bible, we however as Muslims have to disregard any belief that is not supported by Qur'an. On the other hand, another misunderstanding here is that we are not asking about the name of a particular Imam. We are asking about the CONCEPT of Imamat. The concept of prophet hood is well established in Bible (both old and new testaments). It is only after the establishment of this concept in the Christian holy book that they are expected to believe in ANOTHER prophet that is Mohammad (pbuh). The CONCEPT of Imam (in the way that 12er Shia put it) however has not even referred to (in a convincing way) in Bible, let alone being established. Therefore from this respect too, the comparison is illogical.

5. The verses of Qur'an are usually general and it is not the style of Quran to name people (i.e. Imams)
No body asked for names. Only some general verses that give us the above doctrine. Something as simple as: “Oh Muslims, be aware that there will be certain Imams for you after the Prophet from his generation who are appointed by Allah and you need to follow them”. It is as if (Allah Forbid) God was worried about talking about Imamat explicitly. Having said that, we have the name of Zaid (ra) in Quran who was a Sahabi and his name is there to refer to a very minor issue. It is not unfair to ask for a single verse with the name of Ali (RA) in it if (according to Shia) he had such an important role (Imam).

6. Quran says “follow the Prophet”. There are Hadith from the Prophet that prove the doctrine of Imamat and this should be enough for a Muslim if he wants to follow the Prophet.
Again, why is that only for this article of faith we need to consult Hadith? Let’s test something. Take Qur'an in your hand and open it by chance. I can guarantee that no matter where it is opened, few verses before or after are about one of the Oneness of God, Prophet hood, Day of Judgement, Destiny of Human Being, or Duties of Muslims. Now how far you need to go in order to find a verse that (with the help of certain Hadith) could be interpreted as Imamat in the 12er doctrine? How come for our other fundamental believes Quran is quite direct, even for our main duties as Muslims but when it comes to Imamat, we need to refer to Hadith? This is inconsistency and Allah is far greater than having inconsistency in his perfect book. Hadith is not the second volume of Qur'an. Authentic Hadith is explanation of Qur'an not a second Quran. This is why we are advised to disregard any Hadith that is not inline with the teachings of Qur'an. Quran itself advises people to read the book and think on it. If it was the case that we had to get certain parts of our FUNDAMENTAL belief from Hadith and not Qu'ran then for sure this would have been told to us quite clearly. Such an opinion however lowers down the position of Qur'an as our book of guidance. After all what kind of book of guidance is this that some parts of our fundamental belief (and in fact the most important parts, rejecting of which could leave us in hell, according to Shia) is not addressed enough by it? On the other hand, there are no clear, strong and explicit Hadith from the Prophet pbuh to prove the 12ers DOCTRIBE of IMAMAT. Yes there are few narrations in some secondary and unreliable sources but does really Allah expect us to look at every corner and all the collections of Hadith to see what is our religion? This is even more difficult when bare in mind that for every Hadith that Shia use to prove Imamat, there are other Hadith that are in contradiction with it. In fact even Hadith (as a whole) are not structured in a way that could prove Imamat. Such an opinion is in fact the main reason for having different sects in Islam. Zaidis too have their own Hadith, same for Ismailis and same for Bahayees. All have the same problem, they are trying to understand their religion from the sources other than Qur'an. Please note that I am not denying the importance of Hadith (I am not a Quranist). However believing that certain parts of our fundamental belief has to be derived from Hadith rather than Quran is far different from using Hadith as a source to Prophet’s Sunnat.

7. There are not explicit verses because if they were, Quran was in danger of fabrication
This is actually guessing Allah’s intentions and is very close to Kufr. From where one could come to this conclusion? Is there any verse in Qur'an that says Allah has not revealed certain things because if he does, you will change Qur'an? In fact, the verses of Qu'ran are supportive to the opinion that nothing has been left out for us from Qur'an and that Allah keeps Qur'an safe and that the Prophet pbuh should not be worried about delivering the verses. This is in fact attributing Taqqiyyah to Allah himself (Allah forbid).

------------------ continued below -------------​
 
Last edited:

Pakistani1947

Minister (2k+ posts)
اور یہ روایت ------
سر , الرضا
-------
- ,------------------ continued from above -------------

8. Finally among the classic scholars of Shia at the old times there were some of them who hold that Quran is changed by Sahabah and that certain verses are removed from it.
In fact this is the most logical reply that one can get. However no Shia scholar these days refer to this response. They have changed their minds about this opinion (although among them there are still some individuals that do not deny the possibility). However every one knows that this is opposed to the verse of Qur'an where Allah promises to keep the book. Also if this is the case then how we know that there weren’t some verses in Qur'an in support of (say) Baha’ollah or (say) George w. Bush? By this assumption no basis will remain to hold any opinion as a Muslim. On the other hand, Allah could reveal as much as needed about Imamat (like 98 verses about prayer). Just imagine how difficult would it be if some one wanted to remove all the verses about prayer from Quran . Allah could do the same for Imamat.

9. Where in Quran it is said that Muslims should choose a khalifah by themselves?
Firstly, it is not appropriate to answer a question with a question. Shia needs to adjust their doctrine with Qur'an and only after that it is appropriate to ask such a question.
Any way, this question only shows the misunderstanding of some brothers about the belief of the mainstream Muslims. Believing in Khulfa e Rashideen is not a fundamental element of Islam. According to the main stream Muslims, there are only 6 Articles of Faith and 5 pillars of Islam and believing in khilafat of Abu Bakr (ra) is not part of either of them.
Any groups of people tend to elect some one as their leader. And the rational and most reasonable way to do so is by election. This is a routine social/political practice. Certainly no system of public election was established at that time and the election of Abu Bakr (ra) was done through negotiation of present people. You might think that it was not a good choice or that not all qualified people were presented at the time, that's your opinion but it has nothing to do with looking for evidences in Qu'ran about it. It's just a routine social practice that was and is and will be done in any society and no logical mind would expect a divine evidence for that.

Having said that, once the Sahabeh of the holy prophet pbuh agree on a great Sahabi like Abu Bakr (ra) to become the Khalifah, then it is the duty of all Muslims to obey him for the sake of Islam and unity.
If a Shia asks me what is my proof about this, I will give him/her a source that Shia holds as a very strong proof:
Nahjul balagha, letter No. 6 of Imam Ali to Mawiyah (note that in some versions of Nahjul balagha. This letter is few numbers before or after):
"People who did Beyat to Abu Bakr (ra) and Omar (ra), did beyat with me in the same way. So the one who is present cannot select any one else for Kahlifah and the one who is absent cannot disobey people in their selection. Shora belongs to Mohajer and Ansar, so if they gather around a person and appoint him as their Imam this is to the satisfaction of Allah. If any one disapprove them on this or innovate something about it he should be taken back to the people who he has left (by accepting the appointed Khalifah), and if he refused to do so people has to fight with him as he is going to a path other than of Muslims."
(note that in the Shia websites like al-islam.org, certain words have been inserted in the translation –like the word “suppose” – without putting them in the brackets in an attempt to change the meaning of the text.)
Now it's up to the Shia brothers/sisters whether they want to attribute Taqiyah or lie or politics or what ever to their Imam and whether they like to justify his comment in the same way that they justify verses of Qur'an.
(also please bear in your mind that we have an explicit verse in Qur'an that says:

(Qur'an 42:38) وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ​
Those who hearken to their Lord, and establish regular Prayer; who (conduct) their affairs by mutual Consultation; who spend out of what We bestow on them for Sustenance;
اور وہ جو اپنے رب کا حکم مانتے ہیں اور نماز ادا کرتے ہیں اور ان کا کام باہمی مشورے سے ہوتا ہے اور ہمارے دیے ہوئے میں سے کچھ دیا بھی کرتے ہیں

Surely the question of leadership is one of the affairs of Muslims. However I won't use this verse to prove anything about Khelafat in Islam. Unlike the Shia brothers and sisters, I am quite cautious about playing Lego with the verses of Quran)

So let us not compare apple with orange. Imamat doctrine is a fundamental belief of Shia, election or selection of Khulfa e Rashideen is just a routine and common socio-political practice.

On the other hand, let's look at the present situation is Iran. Is there any divine command about how to establish a leadership in the occultation of Mahdi? Let's remember that there were no religious system of governing after the occultation of Mahdi for about 1000 years after the recent revolution of Iran and emerging of the theory of Welayate Faqih. Those who know about Shia and Iran appreciate that Welayate Faqih of Khomeini was only a theory that he derived from some Ahadith. Not all Shia scholars agree with that (like Khoiee and his followers). Among the classic Shia scholars only few had referred to this theory and most like Sheikh Ansari had the opinion that it is difficult to derive such a theory from ahadith (refer to Makaseb of Sheikhe Ansari). Also among those recent scholars who accept the theory there are non-agreements about the extend of the theory and that how it could be put in practice (Like Montazeri, late Shirazi, etc.). Shia too ended up with the same situation as the mainstream Muslims that is to elect a leader by themselves in the absence of any direct divine command.

10. Show us the names of the prophets between ... and ... in Quran if you think that every thing should be in Quran
The Shia who sends this question cannot realize or does not want to realize that what is the main issue. The issue is not about NAMES. It is about a CONCEPT. The concept of prophet-hood has been addressed in Qur'an in many verses and there are a few verses that tells Muslims that they need to believe in all the prophets. Allah has given use the story of the main prophets and have left the story of others. There is no need to know the NAME of the (as they say) 124,000 prophets in order to obey Allah. The question is about the concept of Imamat not the names of Imams. Qur'an has established the concept of prophet-hood and its function for us through many many verses. There is however not a single verse in Qur'an that explicitly tells us that there is another position called Imamat which refers to infallible God appointed individuals who are not prophets and that their existence are necessary and there will be such Imams after the prophet.

11. It is a test that's why it is not mentioned in Qur'an
This claim puts the function of Qur'an as a guidance under a serious doubt. By this claim there is no use to read Qur'an to get any guidance because who knows may be there is a fundamental part of your belief that is not mentioned in Qur'an because Allah wants to test you! By the same token Bahayees claim that Qur'an talks about their prophet Baha'Ollah. When you ask them but where in Quran they will show you some verses that have nothing to do with their claim. When you say but these verses are not clear about your claim they say Oh because Allah is testing you, Nice!

This is again playing with divinity. Who are we to decide for Allah that what is a test and what is not a test? The prophet-hood of Mohammad (pbuh) was also a test but there are many verses in Qur'an that directly tells people that Muhammad (pbuh) is a prophet. A test is different from a puzzle. Allah says in Qur'an that he makes things clear for people. Even a teacher first makes it clear for his students that what are the material of exam and then designs a test based on those material. We need to read Qur'an to see what are these material that Allah is going to ask us about in the day of judgement. Is believing in the doctrine of Imamat one of the materials that Qur'an commanded us about? Allah makes things clear for you and sends you enough evidences and then test you to see if you can be humble enough to obey his guidance. The claim that this sorts of answers are making is like we expect Qur'an to be empty of any verses about the day of judgement and then say that Allah wants to test people to see if they can GUESS or DEDUCT that there is a day of judgement. No way, Allah makes it clear in Qur'an that we need to believe in him and his prophet and to do good things and to pray etc. and the test is whether we obey these commands. God does not play game with us. He does not expect us to solve puzzles and riddles. I wonder why Shia cannot see this in another way around. Imamat is not explicitly referred to in Qur'an but still Shia insists to be separate from the mainstream Muslims because of this doctrine. Aren't they under a test by Allah? Allah knows best.

12. Arguments that use few verses of Qur'an out of the context
Here Shia tries to refer to any verse in which the words Imam or Khalifa are used. It is interesting that most of the verses in this category are those that even Shia scholars do not use them to prove their doctrine cause Shia tafasir are clear about the commonly agreed meaning of these verses. There are however non-Scholar Shia youths, those who spend all their youth over internet debating with others that use these verses. To be more specific, these are the verses where the term Khalifa/Kholafa have been used or the verses that the term Imam has been used in the meaning other than Leader. The Shia friends simply think any reference to Imam or khalifa means what they think. The best way to answer them in this category is to refer them to their own tafasir like Almizan and Majmaolbayan. Also to remind him of the warning that Allah gives us in Quran about taking the verses out of their context :


(Qur'an 4:46)
مِّنَ الَّذِينَ هَادُوا يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِ وَيَقُولُونَ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَاسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ وَرَاعِنَا لَيًّا بِأَلْسِنَتِهِمْ وَطَعْنًا فِي الدِّينِ ۚ وَلَوْ أَنَّهُمْ قَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَاسْمَعْ وَانظُرْنَا لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَأَقْوَمَ وَلَـٰكِن لَّعَنَهُمُ اللَّهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا​
Of the Jews there are those who displace words from their (right) places, and say: "We hear and we disobey"; and "Hear what is not Heard"; and "Ra'ina"; with a twist of their tongues and a slander to Faith. If only they had said: "What hear and we obey"; and "Do hear"; and "Do look at us"; it would have been better for them, and more proper; but Allah hath cursed them for their Unbelief; and but few of them will believe.
یہودیوں میں بعض ایسے ہیں جو الفاظ کو ان کے محل سے پھیر دیتے ہیں او ر کہتے ہیں ہم نے سنا اور نہ مانا او رکہتے ہیں کہ سن نہ سنایا جائے تو اور کہتے ہیں راعِنا اپنی زبان کو مروڑ کر اور دین میں طعن کرنے کے خیال سےاور اگر وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور ہمنے مانا اور سن تو اور ہم پر نظر کو تو ان کے حق میں بہتر اور درست ہوتا لیکن ان کے کفر کے سبب سے الله نے ا ن پر لعنت کی سو ان میں سے بہت کم لوگ ایمان لائیں گے


13. Sunnies believe in Mahdi while he is not mentioned in Quran:
Firstly, the concept of Mahdi for the mainstream Muslims is totally different from the concept that Shia holds for Mahdi. However, the more important thing is that we cannot compare the belief of the mainstream Mulims about Mahdi with the belief of Imamat in Shia. Imamat is one of the main articles of faith for Shia but belief in Mahdi is not one of the main articles of belief of the mainstream Muslims. The articles of belief of the mainstream Muslims have been listed by the scholars and Alhamdolillah all of them are based on explicit verses of Qur'an. These are 6 (or 7 depending on the phrasing) articles of belief: Belief in Allah and his Oneness - Belif in Angels - Belief in Allah's books (Bible, Qur'an, etc.) - Belief in Allah's messengers - Believe in the day of resurrection - Believe in Qadar (i.e. every thing and event has been written). All of these are derived form explicit verses of Qur'an. The very reason that we cannot see THE BELIEF IN MAHDI being listed among the articles of belief of the mainstream Muslims is that this has not been commanded and explained and established in Qur'an in the same way that other articles of belief are established in Qur'an.

14. Imamat is not the fundamental belief of 12ers, the appointment of Ali is the fundamental of belief.
If one cannot appreciate (in line with the conscious of all the scholars of Shia) that Ali being appointed by the prophet is the direct consequence of the concept of Imamat and that Imamat is the core belief of 12er Shia that’s fine. I would ask the same question about Ali. The question is a generic one that can be applied to any fundamental of belief:
Where are explicit verses of Quran without any Tafsir or Hadith that clearly command us about what ever is the fundamental of 12ers’ belief that distinguishes them from the mainstream Muslims, being Imamat or the Khilafat of Ali after the holy prophet pbuh. There is no escape from this question as long as one believes that Qur'an is the ultimate guidance. And if a Muslim is not able to find this in Qur'an then by Allah he/she needs to answer Allah in the day of judgement that why he/she separate him/herself from the mainstream Muslims.

So as you see, none of the above responses are really answering the question. These responses are actually escaping from the truth. Give Qur'an (a translation) to an English man with no idea about Islam and ask him to read it and write down 5 important articles of Islamic belief based on his understanding from Qur'an. I can imagine that he will write down oneness of God, Prophet-hood, the Day of Judgment, perhaps the rewards and punishments, prayer, Zakat, … but is there any chance that he writes the doctrine of Imamat as 12ers put it? I don’t think so.

The very reason that Shia needs to include lots of explanation and commentaries and Hadith to prove his doctrine from verses of Qur'an proves that Qur'an is not explicit and direct about Imamat and when a book of guidance is not explicit and direct about some thing, that “thing” CANNOT be a fundamental of guidance and people who have chosen to be separated from the mainstream Muslims because of that “thing” are responsible for their sectarianism attitude.

The above is the weakest link of 12er Shia and repeating it over and over is the only ways that we could make some of them realize this weakness. Verily as Qur'an says (25:30):

(Qur'an 25:30)
وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَـٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا​
Then the Messenger will say: "O my Lord! Truly my people took this Qur'an for just foolish nonsense."
اور رسول کہے گا اے میرے رب بےشک میری قوم نے اس قرآن کو نظر انداز کر رکھا تھا

While I think that we are all subject to this complain and we all need to re-establish the role of Qur'an in our belief, I should say that to me 12er Shia are one of the best examples of such complain.

Question Two: How does the current Imam leads Shia?

The first question should be enough for any one to consider 12er Shia as a group that is biased from the original Islam. However it is helpful to have a word about the concept of occultation of Mahdi.

When you ask a Shia that why we need an infallible Imam, he says we need it because it is not justice from Allah to leave us without any divine leadership. When you say okay then where is this divine leader now, the Shia will say: Oh he has been hidden for more than 1000 years and will come out near the end of the world. Nice!

This means that the theory of Justice of Allah in terms of guidance worked only for about 300 years (before the occultation)!

Imam means a leader, how can you be led when the leader is not contactable and accessible? It is a conscious of Shia that no one has direct contact with Mahdi during his greater occultation (they believe he had about 70 years smaller occultation during which direct contact was possible). So what is the point of all this debate?

Shia believes in Imamat and accused others for not having a leadership system, well at the end of the day we all ended up at the same point didn’t we? Shia had no leadership system up to the Iranian revolution and the system of Welayate Faqih that is the leadership system in the current Iran is nothing but a man made system in which people elect certain scholars to elect a leader for them. Well this is exactly what happened in Saqufeye Bani Saedeh when people elected Hazrat Abu Bakr (ra), so, what is all the fuss about? Some of the Muslims have elected Osamah Ben Laden to be their leader, does Khameneyee the leader of Shia has any divine advantages to Osamah?

The point is that if Shia had a live Imam who was supposedly infallible and had access to extra ordinary knowledge than we did not need this much waste of time. Instead of all these debates I would have asked a Shia to take me to his infallible Imam and there surely the Imam could prove me his right by his extra ordinary knowledge and attitude. This is not the case now. If some one becomes a Shia these days, nothing will be changed for him in terms of guidance. He/she will combine the prayers and attend ceremonies for Hussain and pay Khums to scholars and rub his feet in ablution and start a debate over Internet by a user name like Ex-Sunni but nothing in terms of being directed by a divine Imam. So what? Shia says it is obligatory to know the Imam of your time, but from the so-called Imam of their time what do they know? Anything more than his name and the fact that he will not come out till near the end of the world? So is it all about knowing a name rather than actual guidance?

We are fighting over a closed file .

The Ghaybat of Imam is in 100% in variance with the very basis of the reason Shia claims we need an Imam. The Shia belief is in fact not self consistent.

Honestly I have not received any considerable reply for this question to elaborate on, let me only address two semi-replies:

1.
The guidance of Imam is not restricted to direct guidance. There are other functions of Imamat that we cannot fully understand except that his existence is a must for universe.

2. Imam’s benefit in occultation is like the benefit if sun when it’s behind the cloud.

I answer them in the same order:

1. The guidance of Imam is not restricted to direct guidance. There are other functions of Imamat that we cannot fully understand except that his existence is a must for universe.
This is just a philosophical argument (being affected by pre-Islamic belief) that has absolutely no support from Qur'an and Hadith. We have been told that certain angels are arranging certain things for the universe but we have heard nothing about such an extra ordinary claim. If this is the case then who was the Imam immediately before the Prophet? Did the Prophet ever meet him?! And why we need some one being alive in the earth to do the job? Imam Reza the 8th Imam of Shia said to people (who thought his father is not dead but is alive and in occultation) a very interesting point: “if Allah wanted to extend the life of any of his servants for the need of people to him, he would have extended the life of his Prophet(Kashshi –a Shia author- Marefatorrejal P. 379).

Furthermore by the above reply in fact the 12ers are stepping down and surrender their main argument that says in every time there is a need for an Imam to direct and lead people (i.e. tangible direction and leading not philosophical direction). In fact the earlier 12er scholars nearer to the beginning of the time that the 12ers refer to as the greater occultation of Mahdi has used the same argument to prove the existence of Mahdi. They even go as far to say that this ‘obvious’ argument suffices them from referring to any ahadith to prove the existence of Mahdi.

Let’s see what is the argument of one of the classic gurus of 12ers:
"... Rationality tells us that surely there should be an infallible leader at every time who is not relying on people in matters and science -of religion- because it is impossible that people live in a time when there are no leaders to bring them closer to good and farther from bad and every non-complete human needs some one to advise him and every oppressor needs some one to control him ... and there should be some one who teaches those who don't know and waken up ignorant, advise misguided and perform the Hodood (Punishments of Shariat) ... and solve the differences of opinion and appoint governors and defend the borders and protect properties ... and gather people for Eids and collective prayers. (Ershad by Mofid - Section 36).

As it can be seen, this scholar who was one of the ones who established 12er doctrine clearly says that there always need to an infallible Imam at all times who could practically (and in a tangible way) direct and guide people (look at the bold words). It seems that to people like Mofid who was quite close to the beginning of what 12ersa refer to as the greater occultation of Mahdi. The expectation was that the occultation will not last for a long period and Mahdi will appear shortly otherwise all the above argument (knowing that Mahdi is not accessible) had no points.

The above is the understanding of other classic 12er scholars as well but I preferred to quote from one of the main ones that is considered as one of the pillars of the 12er scholars.

As you see, the Mahdi that is the subject of our debate with 12ers is the one that the classic 12er Shia believed in as some one who practically and in a tangible way leads people. If an Imam could be hidden and not available to people then what is the point of arguing for the necessity of having a Allah appointed leader at the first place?
To change the function of Mahdi to be able to justify his long occultation is nothing but changing the whole story to be able to escape from the truth. It is exactly like changing the function of Qur'an (from the book of guidance to a book that is only completed by Hadith and needs the explanation of 12er Imams) to be able to justify why the 12er theory of Imamat is not mentioned in Qur'an.

2. Imam’s benefit in occultation is like the benefit if sun when it’s behind the cloud.
This is nothing but a poetic justification of the problem. What is exactly meant by sun behind clouds? Even sun behind the clouds has many benefits. You can still find your way when the sun is behind the cloud. However is there any clue from Mahdi now days to direct the Shia in Iran in any way? There are lots of controversy issues in Iran these days among the scholars in terms of Islam and modernism, the extend of the power of Walaye Faqih (the leader), etc. There are certain Shia scholars (Mojtaheds) that are in home arrest because they are not agree with the current policies and leader. Were there any letters, voices, what ever from Mahdi to clear up a bit of these difficulties? Which one of these Majtaheds who are in sever disagreement with each other are directed and led by Mahdi and how are the 12er people suppose to realize that?

There is a difference between a fairy tale and reality and I hope some Shia could realize it.
To conclude, I think by refraining from entering never ending debates about minor issues and sticking to the major issue both Shia and mainstream Muslims will be able to come to conclusions faster. I tried to explain in my post that the main issue in debate with 12er Shia is their doctrine of Imamat.

I further described that the best never answered question for Shia is to ask them for prove for their doctrine of Imamat from Quran (simply by pasting the verse with no commentary) and to ask them about the practicability of their doctrine in the absent of an accessible Imam. These remain as two severe problems with Shia belief and no answer could be given for them unless new verses of Qur'an come down and their so called Imam of Time come out of his occultation. As I don’t think that any of these would happen.
 
Last edited:

منتظر

Minister (2k+ posts)
جناب اگر میں شیعہ راوی کو مسترد کرنے کی بات کر رہا ہوں تو اس کا مطلب یہی ہے کہ صرف نیوٹرل بندہ لیا جائے۔ ناصبی، خارجی سب کو نکال باہر کیا جائے۔ جن لوگوں پر بھی فتنہ پردازی کا الزام ہے، اور کسی طرح ثابت بھی ہے ان سے کوئی حدیث نہ لی جائے۔ حدیثوں کو اور ان کے مصنفین کو بچانے کے چکر میں دین کا بیڑا غرق نہ کیا جائے۔
زہری شیطان کے علاوہ جس کسی نے بھی افک کا واقعہ روایت کیا ہے اس کی نئے سرے سے جانچ پڑتال کی جائے۔
تبھی تو میں ان سنّیوں کو جاہل کہتا ہوں۔ کہ ایک دو ٹکے کا راوی صحابہ کرام اور امہات المؤمنین تو دور کی بات، نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرے، قرآن کی حقانیت پر حملے کرے اور یہ اس کی روایت کو حدیث کے نام پر قبول کر لیتے ہیں۔ اللہ کے بندو، تحقیق تو کرو، کہیں یہ کوئی شیطان منافق تو نہیں۔
اور یہ روایت کیا ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہ نے محدث صاحب کو سنائی تھی یا کوئی راوی اس کو ام المؤمنین سے روایت کر رہا ہے؟ اگر کوئی راوی روایت کر رہا ہے تو ایسی فتنہ پرداز بات اس کے منہ پر مارنی تھی نہ کہ حدیث کے نام پر تحریر کرنی تھی؟
حسین رضی اللہ عنہ کا قاتل کسی طور ثقہ راوی نہیں ہوسکتا۔ جس نے مانا اس نے زیادتی کی، نبی ﷺ کے ماننے والوں کو دکھ پہنچایا۔
محترم الرضا صاحب آپ نے ابھی تلک میرے سوالوں کا جواب ہی نہیں دیا میں آپ سے گزارش کر رہا ہوں کے مجھے آپ آگاہ تو کریں کے آپ کس عقیدے پر ہیں ؟ اور ہیں تو کس نے آپ کی رہنمائی فرمائی
احادیث کو آپ مانتے ہیں بھی کے نہیں ؟
جس زھری کو آپ شیطان سے ملا رہے ہیں وہ تو آپ کے ہاں بلند ترین مقام رکھتا تھا کیا آپ سمجھتے ہیں کے آپ اپنے دین کے پیشواؤں سے زیادہ بہتر سمجھتے ہیں ؟
اگر آپ کی تمام کتب ہی اس طرح کی خرافات سے بھری ہے تو پھر سلمان رشدی کو ہی کیوں مورد الزام دیتے ہیں ؟ اس طرح کی کتب ہوں گی تو اس طرح کے گستاخ پیدا ہوتے ہی رہیں گے
آپ نے امی جان حضرت عایشہ کے بارے پوچھا تو جناب جب شام کے حاکم نے ان کے بھائی کو شہید کیا تو وہ ہر نماز کے بعد اس پر بد دعا کرتی تھیں یہ ایک حقیقت ہے یہ سب کچھ تاریخ طبری الکامل فی التاریخ میں درج ہے اس کو اب جھٹلایا نہیں جا سکتا ہے
کچھ پوسٹ پہلے ہی آپ امی جان کی گستاخی کرنے والوں پر بات کر رہے تھے تو محترم دوست ادھر تو امی جان کو جس بندے نے تکلیف پہنچائی وہ اس کو بد دعا کرتی ہیں اب آپ کو تو کم از کم ان کا ساتھ دینا چاہیے ہے تاریخ کو آپ یا میں بدل نہیں سکتے ہیں

اب یہ حقیقت ہی ہے محترم دوست کے آپ کے ہاں نواصب خوارج اور قاتل رضی الله بھی ہیں اور ثقہ راوی بھی کیا یہ اس بات کو ثابت نہیں کرتا کے یہ مذھب قاتلوں نواصب خوارج کو صحیح العقیدہ سمجھتا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کے آپ کے مذھب میں حقانیت ہی نہیں ہے کیا بہتر نہیں کے آپ دوبارہ رجوع کریں ؟
ادھر دوسرے دو ممبرز کی مداخلت ثابت کر رہی ہے کے میرے دلائل بہت مظبوط ہیں اسی لیے ایک صاحب جن کے بارے مجھے معلوم ہے کے وہ اصل میں کون ہیں وہ کاپی پیسٹ کرے جا رہے ہیں ان کا جھوٹ جب پکڑا تو بجاے اس کے کے وہ معافی مانگتے وہ مختلف سائٹ سے کاپی کر کر کے ادھر پیسٹ فرما رہے ہیں میں ان کے دکھ کو اچھی طرح سمجھتا ہوں

دوسرے صاحب بھی یہی فرما رہے کاپی پیسٹ جس کو پڑھنے کے لیے عرصۂ دراز کی ضرورت ہے اس طرح کی پوسٹ ثابت کرتی ہیں کے میرا موقف مظبوط ہے
 
Last edited:

الرضا

Senator (1k+ posts)
محترم الرضا صاحب آپ نے ابھی تلک میرے سوالوں کا جواب ہی نہیں دیا میں آپ سے گزارش کر رہا ہوں کے مجھے آپ آگاہ تو کریں کے آپ کس عقیدے پر ہیں ؟ اور ہیں تو کس نے آپ کی رہنمائی فرمائی
احادیث کو آپ مانتے ہیں بھی کے نہیں ؟
جس زھری کو آپ شیطان سے ملا رہے ہیں وہ تو آپ کے ہاں بلند ترین مقام رکھتا تھا کیا آپ سمجھتے ہیں کے آپ اپنے دین کے پیشواؤں سے زیادہ بہتر سمجھتے ہیں ؟
اگر آپ کی تمام کتب ہی اس طرح کی خرافات سے بھری ہے تو پھر سلمان رشدی کو ہی کیوں مورد الزام دیتے ہیں ؟ اس طرح کی کتب ہوں گی تو اس طرح کے گستاخ پیدا ہوتے ہی رہیں گے
آپ نے امی جان حضرت عایشہ کے بارے پوچھا تو جناب جب شام کے حاکم نے ان کے بھائی کو شہید کیا تو وہ ہر نماز کے بعد اس پر بد دعا کرتی تھیں یہ ایک حقیقت ہے یہ سب کچھ تاریخ طبری الکامل فی التاریخ میں درج ہے اس کو اب جھٹلایا نہیں جا سکتا ہے
کچھ پوسٹ پہلے ہی آپ امی جان کی گستاخی کرنے والوں پر بات کر رہے تھے تو محترم دوست ادھر تو امی جان کو جس بندے نے تکلیف پہنچائی وہ اس کو بد دعا کرتی ہیں اب آپ کو تو کم از کم ان کا ساتھ دینا چاہیے ہے تاریخ کو آپ یا میں بدل نہیں سکتے ہیں

اب یہ حقیقت ہی ہے محترم دوست کے آپ کے ہاں نواصب خوارج اور قاتل رضی الله بھی ہیں اور ثقہ راوی بھی کیا یہ اس بات کو ثابت نہیں کرتا کے یہ مذھب قاتلوں نواصب خوارج کو صحیح العقیدہ سمجھتا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کے آپ کے مذھب میں حقانیت ہی نہیں ہے کیا بہتر نہیں کے آپ دوبارہ رجوع کریں ؟
ادھر دوسرے دو ممبرز کی مداخلت ثابت کر رہی ہے کے میرے دلائل بہت مظبوط ہیں اسی لیے ایک صاحب جن کے بارے مجھے معلوم ہے کے وہ اصل میں کون ہیں وہ کاپی پیسٹ کرے جا رہے ہیں ان کا جھوٹ جب پکڑا تو بجاے اس کے کے وہ معافی مانگتے وہ مختلف سائٹ سے کاپی کر کر کے ادھر پیسٹ فرما رہے ہیں میں ان کے دکھ کو اچھی طرح سمجھتا ہوں

دوسرے صاحب بھی یہی فرما رہے کاپی پیسٹ جس کو پڑھنے کے لیے عرصۂ دراز کی ضرورت ہے اس طرح کی پوسٹ ثابت کرتی ہیں کے میرا موقف مظبوط ہے
میں اپنے آپ کو صرف مسلمان کہتا ہوں۔ سنّی یا شیعہ نہیں کہتا۔ دیوبندی، بریلی، وہابی کسی مذہب کے پیچھے نہیں جاتا۔ یہ سارے فرقے مسلمانوں کو ڈیوائیڈ کرتے ہیں۔ اس لیے ان کو نہیں مانتا۔
حدیث کا جہاں تک معاملہ ہے، میں حدیث کو ظنّی چیز سمجھتا ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ حدیث چاہے کتنی ہی متواتر ہو، چاہے اس کے بیسیوں راوی ہوں، اس کی تالیف و ترسیل میں انسان ملوث ہیں جنہیں ہم نہیں جانتے۔ ہم نے ان حدیث کے راویوں، بخاری، مسلم، یا یعقوب کلینی کا کلمہ نہیں پڑھا۔ اللہ کے ساتھ محمد ﷺ کا کلمہ پڑھا ہے۔ ہم بس محمدﷺ کو اپنا امام مانتے ہیں۔ اب اگر کوئی محمد ﷺ سے ایک بات منسوب کرتا ہے تو ہم دیکھیں گے کہ وہ بات اللہ کی کتاب کے مطابق ہے کہ نہیں۔ فرض کرو وہ حدیث، قرآن سے ٹکراؤ نہیں کھارہی۔ اور اس کے اندر کوئی متنازعہ بات بھی نہیں تو اس حدیث کو سیکنڈری سورس کے طور پر لیا جاسکتا ہے۔ تاہم اس کی صحت پر بحث رہے گی۔ کامن سینس یہ کہتا ہے کہ حدیثوں کا وجود ہے، لوگوں نے اپنے پیارے نبی ﷺ کی باتیں لکھی ہیں۔ اور لکھی جانی چاہیے بھی تھیں۔ حدیثوں سے آپ انکار نہیں کر سکتے، ان کی بہ ہر حال ضرورت پڑتی ہے۔ لیکن کسی حدیث میں متنازعہ بات ہو، صحابہ کرام کے باہم اختلاف، کسی کی تذلیل، کسی کو آسمان پر پہنچانے والی باتیں ہوں تو ایسی فتنہ پرداز حدیثوں کو لازمی رد کردینا چاہیے۔ صحابہ کرام اور امہات المؤمنین کے عمومی درجات قرآن کریم میں مذکور ہیں۔ ہمیں علی رضی اللہ عنہ یا عائشہ رضی اللہ عنہا کے درجات کے پیچھے پڑ کر اپنا وقت نہیں ضایع کرنا چاہیے۔ یہ دین محمد ﷺ لے کر آئے ہیں، علی یا عائشہ لے کر نہیں آئے۔

اب بات کرتے ہیں عائشہ رضی اللہ عنہا سے متعلق متنازعہ احادیث کی۔ دیکھیے یہ تو طے ہے کہ شیعوں کا فرقہ دو امہات المؤمنین سے شدید نفرت کرتا ہے۔ شروع کے تین خلفاء راشدین اور ان کے رفقاء بھی اس نفرت کا شکار ہیں۔ یہ بات آپ بھی مانیں گے کہ حدیثیں جس زمانے میں لکھی گئیں وہ خلافت بنو امیہ کے بعد کا زمانہ تھا، جب شیعہ لوگ بنو عباس کو استعمال کر کے بنو امیہ کو ہٹانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ اس کا مطلب ہوا کہ شیعہ لوگ اس زمانے میں سیاسی طاقت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ پھر آپ یہ بھی مانیں گے کہ تقیہ عام طور پر شیعوں کے ہاں چلا آرہا ہے۔ یہ لوگ سنّیوں کے بیچ سنّی بنے ہوتے تھے اور اپنا مذہب بوجوہ چھپاتے تھے۔ تو اب ایک شیعہ محدث یا راوی حدیث بتا رہا ہے اور سنّی اسے سچ سمجھ کر لکھ رہا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔
اسی لیے جب بھی صحابہ کرام اور امہات المؤمنین کے بارے میں متنازعہ بات ہوگی، یہ دیکھا جائے گا کہ راویوں میں کوئی شیعہ تو نہیں۔ اس کے اندر کم سے کم تشیع تو نہیں۔ تشیع مطلب جو عقیدے کے حساب سے شیعہ نہ ہو مگر شیعہ لوگوں سے ہمدردی رکھتا ہو۔ تو ایسے بندے کی گواہی رد کرنی ہوگی۔ اس کی حدیثیں نہیں ماننی چاہیئیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے معاملات بہت سنگین ہیں۔ ان کے حوالے سے جتنی بھی متنازعہ احادیث ہیں، وہ سب فتنہ اور فساد پھیلاتی ہیں۔ امت کو تقسیم کرتی ہیں۔ ان سب کو رد کرنا چاہیے۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد سے حضرت علی کے اور حسن و حسین کے دور تک کے حالات و واقعات کے حوالے سے اتنا فساد پھیلایا گیا ہے جتنا آج تک نہیں پھیلایا گیا۔ اسلام کا اصل چہرہ مسخ کر کے مسلمانوں کو شخصیات کے پیچھے لگا دیا گیا۔ حالانکہ یہ دین محمد ﷺ کا دین ہے، علی، ابوبکر، عمر، حسن و حسین کا نہیں ہے۔ ہم نے شہادہ میں اللہ کے ساتھ بس نبی ﷺ کا کلمہ پڑھا ہے، اور کسی کا نہیں پڑھا۔

 
Last edited:

Pakistani1947

Minister (2k+ posts)
میں اپنے آپ کو صرف مسلمان کہتا ہوں۔ سنّی یا شیعہ نہیں کہتا۔ دیوبندی، بریلی، وہابی کسی مذہب کے پیچھے نہیں جاتا۔ یہ سارے فرقے مسلمانوں کو ڈیوائیڈ کرتے ہیں۔ اس لیے ان کو نہیں مانتا۔
حدیث کا جہاں تک معاملہ ہے، میں حدیث کو ظنّی چیز سمجھتا ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ حدیث چاہے کتنی ہی متواتر ہو، چاہے اس کے بیسیوں راوی ہوں، اس کی تالیف و ترسیل میں انسان ملوث ہیں جنہیں ہم نہیں جانتے۔ ہم نے ان حدیث کے راویوں، بخاری، مسلم، یا یعقوب کلینی کا کلمہ نہیں پڑھا۔ اللہ کے ساتھ محمد ﷺ کا کلمہ پڑھا ہے۔ ہم بس محمدﷺ کو اپنا امام مانتے ہیں۔ اب اگر کوئی محمد ﷺ سے ایک بات منسوب کرتا ہے تو ہم دیکھیں گے کہ وہ بات اللہ کی کتاب کے مطابق ہے کہ نہیں۔ فرض کرو وہ حدیث، قرآن سے ٹکراؤ نہیں کھارہی۔ اور اس کے اندر کوئی متنازعہ بات بھی نہیں تو اس حدیث کو سیکنڈری سورس کے طور پر لیا جاسکتا ہے۔ تاہم اس کی صحت پر بحث رہے گی۔ کامن سینس یہ کہتا ہے کہ حدیثوں کا وجود ہے، لوگوں نے اپنے پیارے نبی ﷺ کی باتیں لکھی ہیں۔ اور لکھی جانی چاہیے بھی تھیں۔ حدیثوں سے آپ انکار نہیں کر سکتے، ان کی بہ ہر حال ضرورت پڑتی ہے۔ لیکن کسی حدیث میں متنازعہ بات ہو، صحابہ کرام کے باہم اختلاف، کسی کی تذلیل، کسی کو آسمان پر پہنچانے والی باتیں ہوں تو ایسی فتنہ پرداز حدیثوں کو لازمی رد کردینا چاہیے۔ صحابہ کرام اور امہات المؤمنین کے عمومی درجات قرآن کریم میں مذکور ہیں۔ ہمیں علی رضی اللہ عنہ یا عائشہ رضی اللہ عنہا کے درجات کے پیچھے پڑ کر اپنا وقت نہیں ضایع کرنا چاہیے۔ یہ دین محمد ﷺ لے کر آئے ہیں، علی یا عائشہ لے کر نہیں آئے۔

اب بات کرتے ہیں عائشہ رضی اللہ عنہا سے متعلق متنازعہ احادیث کی۔ دیکھیے یہ تو طے ہے کہ شیعوں کا فرقہ دو امہات المؤمنین سے شدید نفرت کرتا ہے۔ شروع کے تین خلفاء راشدین اور ان کے رفقاء بھی اس نفرت کا شکار ہیں۔ یہ بات آپ بھی مانیں گے کہ حدیثیں جس زمانے میں لکھی گئیں وہ خلافت بنو امیہ کے بعد کا زمانہ تھا، جب شیعہ لوگ بنو عباس کو استعمال کر کے بنو امیہ کو ہٹانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ اس کا مطلب ہوا کہ شیعہ لوگ اس زمانے میں سیاسی طاقت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ پھر آپ یہ بھی مانیں گے کہ تقیہ عام طور پر شیعوں کے ہاں چلا آرہا ہے۔ یہ لوگ سنّیوں کے بیچ سنّی بنے ہوتے تھے اور اپنا مذہب بوجوہ چھپاتے تھے۔ تو اب ایک شیعہ محدث یا راوی حدیث بتا رہا ہے اور سنّی اسے سچ سمجھ کر لکھ رہا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔
اسی لیے جب بھی صحابہ کرام اور امہات المؤمنین کے بارے میں متنازعہ بات ہوگی، یہ دیکھا جائے گا کہ راویوں میں کوئی شیعہ تو نہیں۔ اس کے اندر کم سے کم تشیع تو نہیں۔ تشیع مطلب جو عقیدے کے حساب سے شیعہ نہ ہو مگر شیعہ لوگوں سے ہمدردی رکھتا ہو۔ تو ایسے بندے کی گواہی رد کرنی ہوگی۔ اس کی حدیثیں نہیں ماننی چاہیئیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے معاملات بہت سنگین ہیں۔ ان کے حوالے سے جتنی بھی متنازعہ احادیث ہیں، وہ سب فتنہ اور فساد پھیلاتی ہیں۔ امت کو تقسیم کرتی ہیں۔ ان سب کو رد کرنا چاہیے۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد سے حضرت علی کے اور حسن و حسین کے دور تک کے حالات و واقعات کے حوالے سے اتنا فساد پھیلایا گیا ہے جتنا آج تک نہیں پھیلایا گیا۔ اسلام کا اصل چہرہ مسخ کر کے مسلمانوں کو شخصیات کے پیچھے لگا دیا گیا۔ حالانکہ یہ دین محمد ﷺ کا دین ہے، علی، ابوبکر، عمر، حسن و حسین کا نہیں ہے۔ ہم نے شہادہ میں اللہ کے ساتھ بس نبی ﷺ کا کلمہ پڑھا ہے، اور کسی کا نہیں پڑھا۔

gheego​
Following are few points to understand the Processes of Transmission and Preservation of Hadiths:

1. The attention and care scholars gave to the vast literature of Hadith to ensure that the efforts of their predecessors were not in vain is truly awe-inspiring. They were methodical in their treatment of the Hadith literature. They laid out guidelines on issues like book authorization, auditions, and the handling of manuscripts and registers.

2. Muslims rightfully pride themselves on the countless volumes Hadith scholars produced in order to detail the lives of the narrators whose names fill the chains of transmissions of Hadiths. But they did not stop there. They also wrote biographical dictionaries on the lives of the narrators who transmitted the collections that contained these Hadiths.

3. The tradition of oral transmission ensured the preservation of the literature. Hadith scholars disseminated their works by teaching them to students, who in turn taught them to their students, ensuring scholarly supervision of Hadith books as they were being transmitted.

4. Public reading sessions of Hadith books also helped to ensure their textual integrity. Apart from the cross-analysis of the auditioned books, details about the participants in these reading sessions were methodically documented.

5. Considering the minutiae noted about the attendees, one gets a sense of how scrupulous Hadith scholars were in their analyses of the books they were dictating.

6. The fact that countless manuscripts of these Hadith collections in various parts of the Muslim world concur on the presence of their Hadiths, and that multiple commentaries, secondary sources, and supplementary works throughout history all converge on referencing these Hadiths to their respective compilations establishes confidence in the credibility of their authorship.

7. Following the transition to transcription and Hadith composition, scholars turned their focus to verifying the authenticity of collections and authorial ascriptions. The process of evaluating manuscripts involves much more than just relying on their chains of transmission or dating their parchment; rather, it is judged by “holistic study of structure, technique, and scribal notes in addition to comparative analysis of cross-references and collated texts.”

8. Far from ignoring the literary heritage of their predecessors, Hadith scholars expended considerable energy in maintaining its integrity. From the tradition of oral transmission, to careful handling of manuscripts, to meticulous dictation sessions, the Islamic civilization’s unparalleled precision, the Hadith literature develops confidence in its authorship within the hearts of its readers.

Sahih Bukhari also have the similar standard of authenticity as Sahih Muslim. Both of these Books are most authentic source of Hadiths as the writer kept the very high standard of authenticity. Beside above book there are four other books of Hadeeths consists of high number of authentic Hadths but there are some weak Hadiths as well. Muhaddiseen has worked over the centuries to distinguish weak hadiths included in following four Books.

- Sunan an-Nasa'i al-Sughra
- Sunan Abu Dawood
- Sunan al-Tirmidhi
- Sunan ibn Majah

Keeping in mind above points now read the following summarized "Muqaddama" , (preface) Imam Muslim wrote at the beginning of his Book Sahih Muslim. After reading this preface one can easily visualize the challenges Imam Muslim faced to collect most authentic Hadeeths humanly possible.




 
Last edited:

There is only 1

Chief Minister (5k+ posts)
Unfortunately due to some prejudice from some of the Scholars, many of the mainstream Muslims now a days have opinions that put them in a fragile position when debating with Shia. These opinions are not backed by any strong evidences and many of them are newly emerged opinions rather than old opinions. Among them are:

a) The belief that what ever is in Sahihayn is authentic
b ) The belief that any one who has seen the Prophet even for a short while can be considered Sahabi and thus can be trusted.
c) The belief that anything that Sahabeh and others have done during and after the death of the Prophet pbunh are right or that all their behavior has to be justified (please note that I am not suggesting criticizing Sahabeh, I am just saying that we don’t need to feel responsibility to justify anything they have done. Our responsibility is to defend Islam, Qur'an and the holy Prophet pbuh not the Sahabeh who after all were fallible. If we do this, then we are automatically defending the Sahabeh (RA) as well.
d) The idea that there were absolutely no conflicts between the Sahabeh after the passing away of the Prophet pbuh and that they all loved each other.
e) The idea of giving the title of Kafir to anyone who is not among the mainstream Muslims.
Another point I need to make before saying how is an appropriate approach in discussing with Shia in my opinion:
Believe it or not, I have read all your explanation. You deserve credit for acknowledging this above part.
Here are the most popular answers that you get:

1. There are also no verses in Quran to tell us how to pray. We learn some of our duties from Hadith not Quran.
2. There are certain verses but you need to look at Hadith to understand their true meaning cause we are advised to learn Quran from the Prophet and Hadith is his teachings.
3. Long and complicated analysis of certain verses of Quran to prove that even without the help of Hadith, they are proving Imamat.
4. There are no mention of the name of our Prophet pbuh in Bible but still Christians need to believe in the Prophet.
5. The verses of Quran are usually general and it is not the style of Quran to name people (i.e. Imams)
6. Qur'an says “follow the Prophet”. There are Hadith from the Prophet that prove the doctrine of Imamat and this should be enough for a Muslim if he wants to follow the Prophet.
7. There are not explicit verses because if there were, Qu'ran was in danger of fabrication.
8. Finally among the classic scholars of Shia at the old times there were some of them who hold that Qur'an is changed by Sahabah and that certain verses are removed from it.
9. Where in Qur'an it is said that Muslims should choose a khalifah by themselves?
10. Show us the names of the prophets between ... and ... in Quran if you think that every thing should be in Qur'an
11. It is a test that's why it is not mentioned in Qur'an
12. Arguments that use few verses of Qur'an out of the context.
13. Sunnies believe in Mahdi while he is not mentioned in Qur'an.
14. Imamat is not the fundamental belief of 12ers, the appointment of Ali is the fundamental of belief.
I have studied all of your answers to above points also. These were really funny to me.
However, I offer you to talk on imamat with your set of rules, like you put forward a rule earlier
Ask Shia to ONLY give you the verses with NO additions to the translation and NO Hadith to support a certain interpretation of the verse and NO personal commentaries.
If you agree, we can have a healthy debate on imamat. e.g I will either present an aayat or I will prove your rule invalid. But only if you agree to talk first.
 

Tabbot Mein Keel

Voter (50+ posts)

کثیر نوار کہتے ہیں کہ میں نے امام باقر رضہ سے دریافت کیا کہ میرے جان آپ پر قربان ہو۔کیا ابوبکر عمر نے آپ اھل بیت کے حقوق کے بارے میں ذرا بھی ظلم کیا تھا یا آپ کے حق دبائے رکھے۔تو امام باقر رضہ نے فرمایا نہیں۔اس اللہ کی قسم جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا۔تا کہ تمام جہانوں کے لیے وہ زندہ نذیر بن جائے۔ہمارے حقوق میں سے ایک رتی برابر بھی ان دونوں ابوبکر عمر نے ہم پر ظلم نہی کیا۔میں نے امام باقر رضہ سے کہا کہ آپ پر قربان جائوں ۔کیا میں ان دونوں ابوبکر عمر سے محبت رکھوں تو امام باقر رضہ نے فرمایا ہاں۔تو برباد ہوجائے ۔تو ان دونوں ابوبکر عمر سے دونوں جہانوں میں دوست رکھ۔اور اگر اس وجہ سے تجھے کوئی نقصان ہو تو وہ میر ے ذمہ ہے ۔پھر امام باقر رضہ نے فرمایا مغیرہ اور بنان سے خدا نپٹے ان دونوں نے ہم اھل بیت پر جھوٹ گھڑا۔

شیعہ کتاب:السقیفہ و فدک صفحہ نمبر ۱۱۰


 

Tabbot Mein Keel

Voter (50+ posts)

شیعوں کا صاحب الامر (بارھواں امام) ظھور کیوں نہیں کرتا؟

---------------
شیعہ کا بارھواں امام اس وجہ سے ظھور نہیں کرتا کیونکہ اسے اپنے قتل ہو جانے کا خوف ہے
کتاب الغیبہ - الصفحہ 206
--------------
اب ہم عقلمند شیعوں سے پوچھتے ہیں کہ ایک ڈرپوک انسان جو اس ڈر سے چھپا ہوا ہو کہ وہ قتل نہ کر دیا جایے تو وہ تم لوگوں کی مدد کیسے کرتا ہے؟
شیعہ جاگو اور حق کی طرف آو اسی میں نجات ہیں
اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو حق کی رھنمائی کرے - آمین

 

Tabbot Mein Keel

Voter (50+ posts)
شیعہ کے مطابق امام کو غسل امام ہی دیتا ہے
اصول الکافی / جلد 1 / صفحہ 240

اب عقلمند شیعوں سے سوال؟

اگر مان بھی لیا جائے تو پھر جب تمھارا بارہویں 12 نمبر والا امام مرے گا تو اسے غسل کون دے گا۔ اگر تیرواں 13 نمبر والا امام ہے تو مہربانی کر کے بتائیں؟

 

Pakistani1947

Minister (2k+ posts)
Believe it or not, I have read all your explanation. You deserve credit for acknowledging this above part.
a) The belief that what ever is in Sahihayn is authentic
Qur'an is the only Book available to mankind free of any errors. No book on this earth except Qur'an can claim that it is free of any error. Sahihayn , except a few, has almost all Hadith authentic. Read my above post # 70 about Maqaddama Sahi Muslim, which tells how amazingly the science of hadith was designed by the authors of Sahihayn. On the other hand, read my old thread How Reliable is The History of at-Tabari? (Post#56) which tells us that "According to the Shiite scholars, The Science of Hadith in the Madhab of The Twelvers has never existed nor was it implemented before the 900s Hijri. "

However, I offer you to talk on imamat with your set of rules, like you put forward a rule earlier
Ask Shia to ONLY give you the verses with NO additions to the translation and NO Hadith to support a certain interpretation of the verse and NO personal commentaries.
If you agree, we can have a healthy debate on imamat. e.g I will either present an aayat or I will prove your rule invalid. But only if you agree to talk first.
Read my previous post#23 I wrote "I noticed that arguing with a Shia members just create a bitter atmosphere on this forum so I avoid it. ".
Anyhow, we both have already discussed the topic of Imamat about four years in the same forum. See an old thread Namaz ke tareeqay per itna ikhtalaf (Post # 37)
where you quoted following irrelevant verse to support Shia Doctrine of Immat:

إِنَّا نَحْنُ نُحْيِي الْمَوْتَىٰ وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ ۚ وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُّبِينٍ
36:12

"In above verse 36:12, the word “imam” is used to refer to Lauhul Mahfudh, the Preserved Tablet in which all deeds are recorded.
The top Shia commentaries of Majma ul Bayan by Allamah Tabbarsi and Tibbyan by Shaykh Tusi also echo this view, and do not present any “human Imam” as a possibility in this case. In Tafseer Al-Mizan, Allamah Tabatabai mentions this as the best possible meaning for this phrase. In addition, Ayatullah Makarem Shirazi in his commentary mentions the Preserved Tablet as his view of what “Imaamin Mubin” refers to in this verse.
(Tafseer Tibbyan, Volume 8, p.447-448; Tafseer Al Mizan, Volume 17, p.66-68; Naser Makarem Shirazi Commentary, Volume 5, p.271-272) " see my post#42 in the same thread.

So I find it useless to debate with Shias as they have the mentality "Main na manoo" (میں نہ مانوں), this mentality create unnecessary bitter environment on this forum and hence as I said earlier I avoid it. In my earlier post in this thread I was just giving advise to new members of this forum to avoid wasting time in debating with Shia and if they still want to debate I just gave them some guidelines to minimize the wastage of time.

اور یہ روایت ------
سر , الرضا
-------
 
Last edited:

There is only 1

Chief Minister (5k+ posts)
Qur'an is the only Book available to mankind free of any errors. No book on this earth except Qur'an can claim that it is free of any error. Sahihayn , except a few, has almost all Hadith authentic. Read my above post # 70 about Maqaddama Sahi Muslim, which tells how amazingly the science of hadith was designed by the authors of Sahihayn. On the other hand, read my old thread How Reliable is The History of at-Tabari? (Post#56) which tells us that "According to the Shiite scholars, The Science of Hadith in the Madhab of The Twelvers has never existed nor was it implemented before the 900s Hijri. "
We never claimed that any of our hadeth book is authentic.
We believe that any hadith is authentic, if and only if, it is verified by Quranic verse.
You see, how simple and powerful method it is.
Anyhow, we both have already discussed the topic of Imamat about four years in the same forum. See an old thread Namaz ke tareeqay per itna ikhtalaf (Post # 37)
where you quoted following irrelevant verse to support Shia Doctrine of Immat:

إِنَّا نَحْنُ نُحْيِي الْمَوْتَىٰ وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ ۚ وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُّبِينٍ
36:12
I remembered all this discussion. You could not give reference from dictionary and all you did was "Interpret the words Imam and Mubeen" according to your belief. So i ask you to alter your set of rule accordingly
Ask Shia to ONLY give you the verses with NO additions to the translation and NO Hadith to support a certain interpretation of the verse and NO personal commentaries.
You need to add two key points in order to prove yourself.
  1. No Interpretation is allowed from Shia.
  2. Interpretation is allowed from Sunni/Majority (whatever you call yourself)
. . . . . . . . . . . . . . . . . .
I guarantee you if you talk with me, I will never use harsh words ever. If you want to talk off course.
 

منتظر

Minister (2k+ posts)
شیعوں کا صاحب الامر (بارھواں امام) ظھور کیوں نہیں کرتا؟

---------------
شیعہ کا بارھواں امام اس وجہ سے ظھور نہیں کرتا کیونکہ اسے اپنے قتل ہو جانے کا خوف ہے
کتاب الغیبہ - الصفحہ 206
--------------

اب ہم عقلمند شیعوں سے پوچھتے ہیں کہ ایک ڈرپوک انسان جو اس ڈر سے چھپا ہوا ہو کہ وہ قتل نہ کر دیا جایے تو وہ تم لوگوں کی مدد کیسے کرتا ہے؟

شیعہ جاگو اور حق کی طرف آو اسی میں نجات ہیں
اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو حق کی رھنمائی کرے - آمین

او بے غیرت انسان تم ہمارے امام کی توہین پر اتر اے ہو تماری بکواسیات کو میں نے بہت اگنور کیا تھا پر لتا ہے تم کو عزت راس نہیں نہ ہی اس فورم کے کرتا دھرتوں کو
جہاں تک ڈرپوک کی بات ہے تو ڈرپوک تمارے تینوں خلفا تھے جو تمام جنگوں میں رسول خدا کو اکیلا چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے تم جیسے بے گھٹ انسان جو جھوٹی روایات جن کی کوئی سند نہیں ہوتی ادھر کاپی پیسٹ کر کے سمجھتے ہو کے تم حق پر ہو یہ تم لوگوں کی بیوقوفی ہے
ڈرپوک وہ ہوتا ہے جو اسلام لانے کے بعد گھر چھپر کر بیٹھ جاے کفار کے خوف سے اور باہر نہ نکلے میںنہیں چاہتا تھا اور نہ ہی مزید چاہوں گا کے کسی بھی مسلک کے بڑوں کی توہین کا ادھر ہو لیکن ہمارے اماموں کی توہین کوئی کرے گا تو پھر ہمیں بھی حق ہے کے جھوٹ کے مقابلے میں حق کو ظاہر کیا جاے لو اپنی کتاب جس کو صحیح بخاری کہتے ہواس کو پڑھ کر مزید کاپی پیسٹ سے اجتناب کرو میں تم سے بات کر ہی نہیں رہا کیوں کے تم جھوٹے ثابت ہو چکے ہو معافی مانگو مجھ سے اس تھریڈ پر پھر مجھ سے انسانوں کی طرح بات کرو نہ کے کاپی پیسٹ



شجاعت عمر بن الخطاب :
روایت میں صاف واضح ہے کہ آپ تب تک ایمان نہ لائے جب تک آپ کو حفاظت کی سند نہ مل گئی۔یعنی رسول ص کے کہنے پر ایمان نہیں لائے بلکہ کفر سے ملے ہوئے اطمینان پر ۔
(میں نے اگر اسلام قبول کر لیا تو مجھے قتل کر دینگے ) یہ جملہ بتا رہا ہے کہ ابھی تک اسلام نہیں لائے تھے ۔
ان کے اسلام لانے میں اور جناب سمیہ س کے ایمان لانے میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ اسلام قبول کرنے کر بعد شدید ترین موت ملی مگر اسلام پہ ثابت رہیں۔


اگر مزید بات کرنے کا شوق ہے تو پہلے ضعییف حوالہ لگانے کی معافی مانگو اور مجھ سے شیخین کی بہادری کے موضوع پر ہی بات کر لو میرا دعوه ہے کے انہوں نے کسی بھی غزوہ میں کسی کافر کو مارنا تو دور کی بات ہے کسی کو خراش تک نہیں لگائی

 

منتظر

Minister (2k+ posts)
[Q
میں اپنے آپ کو صرف مسلمان کہتا ہوں۔ سنّی یا شیعہ نہیں کہتا۔ دیوبندی، بریلی، وہابی کسی مذہب کے پیچھے نہیں جاتا۔ یہ سارے فرقے مسلمانوں کو ڈیوائیڈ کرتے ہیں۔ اس لیے ان کو نہیں مانتا۔
حدیث کا جہاں تک معاملہ ہے، میں حدیث کو ظنّی چیز سمجھتا ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ حدیث چاہے کتنی ہی متواتر ہو، چاہے اس کے بیسیوں راوی ہوں، اس کی تالیف و ترسیل میں انسان ملوث ہیں جنہیں ہم نہیں جانتے۔ ہم نے ان حدیث کے راویوں، بخاری، مسلم، یا یعقوب کلینی کا کلمہ نہیں پڑھا۔ اللہ کے ساتھ محمد ﷺ کا کلمہ پڑھا ہے۔ ہم بس محمدﷺ کو اپنا امام مانتے ہیں۔ اب اگر کوئی محمد ﷺ سے ایک بات منسوب کرتا ہے تو ہم دیکھیں گے کہ وہ بات اللہ کی کتاب کے مطابق ہے کہ نہیں۔ فرض کرو وہ حدیث، قرآن سے ٹکراؤ نہیں کھارہی۔ اور اس کے اندر کوئی متنازعہ بات بھی نہیں تو اس حدیث کو سیکنڈری سورس کے طور پر لیا جاسکتا ہے۔ تاہم اس کی صحت پر بحث رہے گی۔ کامن سینس یہ کہتا ہے کہ حدیثوں کا وجود ہے، لوگوں نے اپنے پیارے نبی ﷺ کی باتیں لکھی ہیں۔ اور لکھی جانی چاہیے بھی تھیں۔ حدیثوں سے آپ انکار نہیں کر سکتے، ان کی بہ ہر حال ضرورت پڑتی ہے۔ لیکن کسی حدیث میں متنازعہ بات ہو، صحابہ کرام کے باہم اختلاف، کسی کی تذلیل، کسی کو آسمان پر پہنچانے والی باتیں ہوں تو ایسی فتنہ پرداز حدیثوں کو لازمی رد کردینا چاہیے۔ صحابہ کرام اور امہات المؤمنین کے عمومی درجات قرآن کریم میں مذکور ہیں۔ ہمیں علی رضی اللہ عنہ یا عائشہ رضی اللہ عنہا کے درجات کے پیچھے پڑ کر اپنا وقت نہیں ضایع کرنا چاہیے۔ یہ دین محمد ﷺ لے کر آئے ہیں، علی یا عائشہ لے کر نہیں آئے۔

اب بات کرتے ہیں عائشہ رضی اللہ عنہا سے متعلق متنازعہ احادیث کی۔ دیکھیے یہ تو طے ہے کہ شیعوں کا فرقہ دو امہات المؤمنین سے شدید نفرت کرتا ہے۔ شروع کے تین خلفاء راشدین اور ان کے رفقاء بھی اس نفرت کا شکار ہیں۔ یہ بات آپ بھی مانیں گے کہ حدیثیں جس زمانے میں لکھی گئیں وہ خلافت بنو امیہ کے بعد کا زمانہ تھا، جب شیعہ لوگ بنو عباس کو استعمال کر کے بنو امیہ کو ہٹانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ اس کا مطلب ہوا کہ شیعہ لوگ اس زمانے میں سیاسی طاقت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ پھر آپ یہ بھی مانیں گے کہ تقیہ عام طور پر شیعوں کے ہاں چلا آرہا ہے۔ یہ لوگ سنّیوں کے بیچ سنّی بنے ہوتے تھے اور اپنا مذہب بوجوہ چھپاتے تھے۔ تو اب ایک شیعہ محدث یا راوی حدیث بتا رہا ہے اور سنّی اسے سچ سمجھ کر لکھ رہا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔
اسی لیے جب بھی صحابہ کرام اور امہات المؤمنین کے بارے میں متنازعہ بات ہوگی، یہ دیکھا جائے گا کہ راویوں میں کوئی شیعہ تو نہیں۔ اس کے اندر کم سے کم تشیع تو نہیں۔ تشیع مطلب جو عقیدے کے حساب سے شیعہ نہ ہو مگر شیعہ لوگوں سے ہمدردی رکھتا ہو۔ تو ایسے بندے کی گواہی رد کرنی ہوگی۔ اس کی حدیثیں نہیں ماننی چاہیئیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے معاملات بہت سنگین ہیں۔ ان کے حوالے سے جتنی بھی متنازعہ احادیث ہیں، وہ سب فتنہ اور فساد پھیلاتی ہیں۔ امت کو تقسیم کرتی ہیں۔ ان سب کو رد کرنا چاہیے۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد سے حضرت علی کے اور حسن و حسین کے دور تک کے حالات و واقعات کے حوالے سے اتنا فساد پھیلایا گیا ہے جتنا آج تک نہیں پھیلایا گیا۔ اسلام کا اصل چہرہ مسخ کر کے مسلمانوں کو شخصیات کے پیچھے لگا دیا گیا۔ حالانکہ یہ دین محمد ﷺ کا دین ہے، علی، ابوبکر، عمر، حسن و حسین کا نہیں ہے۔ ہم نے شہادہ میں اللہ کے ساتھ بس نبی ﷺ کا کلمہ پڑھا ہے، اور کسی کا نہیں پڑھا۔

محترم الرضا صاحب آپ کی باتیں تضادات سے بھری پڑی ہیں آپ ایک طرف کہتے ہیں کے میں شیعہ سنی کسی مذھب پر نہیں جاتا تو پھر آپ اہلسنت کے بناے ہوے رستے پر کیوں کاربند ہیں ؟
جب کے یہ ثابت ہے کے چاروں ائمہ ایک دوسرے کی تکفیر تک کرتے رہے ان سب کی نماز کا طریقہ بھی ایک نہیں یہ ایک مثال دے رہا ہوں باتیں تو اور بھی بہت کچھ ہیں
اگر آپ انصاف کرتے تو کہتے کے میں دونوں مذاہب میں موجود اچھی باتوں کو لے لیتا ہوں لیکن سوال پھر اے گا کے کیا آپ یہ دعوه کر سکتے ہیں کے آپ قران کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور ان آئمہ سے زیادہ علم رکھتے ہیں ہر موضوع پر ؟

مولا علی کی شان رسول خدا نے بیان کر دی تھی اور اصحاب بھی اس بات کو مانتے تھے کے مومن منافق کی پہچان بغض علی ہے یعنی کے موجودہ دور کی بات کروں جب کے آپ بظاہر ہم میں نہیں ہیں ذکر علی جب ھو گا تو مومن کے چہرے پر رونق آ جاے گی اور منافق کا چہرہ اتر جاے گا
بات جن امہات کی آتی ہے دونوں کی تو ہماری ان سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں جو ازواج رسول خدا کو اذیت دیتی تھیں بعد میں وہ مولاے کائنات کے ساتھ لڑی ہم ان سے دوری رکھتے ہیں نہ کے ان پر بہتان لگائیں امی جان حضرت عایشہ پر تہمت لگانے والوں میںکوئی شیعہ یا ان کا امام نہیں تھا بلکہ نعت خواں رسول حسان بن ثابت اور مستح بن اساسہ اور حمنہ بنت حجش کچھ جگہ ملتا ہے کے انکو کوڑے بھی لگے
ہمارے ہاں کردار اہمیت رکھتا ہے نہ کے رشتے جیسا کے ابو سفیان کی بیٹی زوجہ رسول خدا ہم ان کی قدر کرتے ہیں کیوں کے وہ رسول خدا کے ساتھ مخلص رہیں دوسری طرف محمد بن ابو بکر جو کے پہلے حاکم مدبنہ کے بیٹے تھے ہماری آنکھوں کے تارے ہیں

آپ کو اعتراض اس بات پر ہے کے شیعہ راوی کیوں ہیں اہلسنت کی کتب پر تو پھر میرے محترم دوست آپ اس مذھب کی تمام باتوں سے تائب ہو جائیں ایسا نہیں ہو سکتا کے کچھ باتیں آپ ان کی لیں جس سے کے آپ کی تسکین ہو مذھب شیعہ اور انکے ائمہ سے دوری اختیار کرنے کے لیے اور دوسری طرف آپ ان کی وہ روایات اپنا لیں جس میں کے وہ آپس میں رضامند بھی نہیں ان کی نماز مختکف ہے یہ ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنا نہیں چاہتے کیوں کے قبول ہی نہیں ہو گی ان چاروں کی نماز کے مختف حصوں کو ملایا جاے تو شیعہ کی نماز بنتی ہے جن کا وضو ہی قران کے مخالف ہو جب وضو ہی باطل ہو تو نماز کیسے قبول ہو گی ؟

مولا علی کی شان میں کوئی بھی حدیث جب صحیح السند ہو اور دونوں فرقوں نے بھی ان کو لیا ہو و متنازعہ کیسے بن سکتی ہیں اور جو احادیث جھوٹی گھڑی گیں آل امیہ خصوصی طور پر معاویہ اور شیخین کے حق میں بھی آپ لوگوں کے لیے صحیح کا درجہ رکھتی ہیں خدا را انصاف کریں خود کے ساتھ علی قل ایمان ہے فرمان رسول خدا ہے جو ان کی منزلت ہے وہ کسی اور کی نہیں ہے نہ ہو سکتی ہے یہ خوارج اور نواصب کا عقیدہ ہے بنی امیہ نے جن کو استمعال کیا قوٹ بہت لمبا ہو جاے تو بوریت ہوتی ہے میں اس کو ادھر ہی ختم کرتا ہوں شکریہ
 

Tabbot Mein Keel

Voter (50+ posts)
او بے غیرت انسان تم ہمارے امام کی توہین پر اتر اے ہو تماری بکواسیات کو میں نے بہت اگنور کیا تھا پر لتا ہے تم کو عزت راس نہیں نہ ہی اس فورم کے کرتا دھرتوں کو
جہاں تک ڈرپوک کی بات ہے تو ڈرپوک تمارے تینوں خلفا تھے جو تمام جنگوں میں رسول خدا کو اکیلا چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے تم جیسے بے گھٹ انسان جو جھوٹی روایات جن کی کوئی سند نہیں ہوتی ادھر کاپی پیسٹ کر کے سمجھتے ہو کے تم حق پر ہو یہ تم لوگوں کی بیوقوفی ہے
ڈرپوک وہ ہوتا ہے جو اسلام لانے کے بعد گھر چھپر کر بیٹھ جاے کفار کے خوف سے اور باہر نہ نکلے میںنہیں چاہتا تھا اور نہ ہی مزید چاہوں گا کے کسی بھی مسلک کے بڑوں کی توہین کا ادھر ہو لیکن ہمارے اماموں کی توہین کوئی کرے گا تو پھر ہمیں بھی حق ہے کے جھوٹ کے مقابلے میں حق کو ظاہر کیا جاے لو اپنی کتاب جس کو صحیح بخاری کہتے ہواس کو پڑھ کر مزید کاپی پیسٹ سے اجتناب کرو میں تم سے بات کر ہی نہیں رہا کیوں کے تم جھوٹے ثابت ہو چکے ہو معافی مانگو مجھ سے اس تھریڈ پر پھر مجھ سے انسانوں کی طرح بات کرو نہ کے کاپی پیسٹ



شجاعت عمر بن الخطاب :
روایت میں صاف واضح ہے کہ آپ تب تک ایمان نہ لائے جب تک آپ کو حفاظت کی سند نہ مل گئی۔یعنی رسول ص کے کہنے پر ایمان نہیں لائے بلکہ کفر سے ملے ہوئے اطمینان پر ۔
(میں نے اگر اسلام قبول کر لیا تو مجھے قتل کر دینگے ) یہ جملہ بتا رہا ہے کہ ابھی تک اسلام نہیں لائے تھے ۔
ان کے اسلام لانے میں اور جناب سمیہ س کے ایمان لانے میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ اسلام قبول کرنے کر بعد شدید ترین موت ملی مگر اسلام پہ ثابت رہیں۔


اگر مزید بات کرنے کا شوق ہے تو پہلے ضعییف حوالہ لگانے کی معافی مانگو اور مجھ سے شیخین کی بہادری کے موضوع پر ہی بات کر لو میرا دعوه ہے کے انہوں نے کسی بھی غزوہ میں کسی کافر کو مارنا تو دور کی بات ہے کسی کو خراش تک نہیں لگائی


اس سے تم کیا ثابت کرنا چاہتے ہو ؟ کہ جیسے حضرت عمر ؒ گھر میں ڈرکے بیٹھ گئے اسی طرح تمھارا امام ڈر کے مارے غار میں چھپے ہوئے ہیں ؟، اور بیغرت باوُلاکیوں ہوتےہو ؟ تم اگر پیدائشی بد تمیزہو ،توکیا ضروری اس فورم پے بھی اس کا اظھار کرو ؟ میری پو سث کاپی اورتو اپنی گاف میں سے نکال رہے ہو ؟ چل اب دیکھ لے اپنی اوقات



شیعہ کفار روئے زمین کے بد ترین کفار ہے جو اسلام اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے دشمن ہے اللہ تعالی جن صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں قرآن میں فرماتا ہے

وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْ ہُمْ بِاِحْسَانٍِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوْا عَنْہُ وَاَعَدَّ لَہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا اَبَدًا ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمْ

اور جو مہاجرین و انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیروکار ہیں اللہ تعالیٰ ان سب پہ راضی اور وہ اس پر راضی ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ عظیم کامیابی ہے۔

(سورۃ التوبہ ۱۰۰)

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے متعلق فرمایا :

حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ قَالَ سَمِعْتُ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ تَابَعَهُ جَرِيرٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ وَمُحَاضِرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "میرے اصحاب کو بُرا بھلا نہ کہو کیونکہ تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرے تو وہ ان کے مد یا نصف مد کے برابر نہیں پہنچ سکتا۔ " حضرت جریر، عبداللہ بن داود، ابو معاویہ اور محاضر نے اعمش سے روایت کرنے میں شعبہ کی متابعت کی ہے۔

(صحيح البخاري: کِتَابُ فَضَائِلِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ، حدیث ۳٦۷۳)

اللہ نے قرآن میں ان سے راضی ہونے اور ان کے لیے جنت کا وعدہ فرمایا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو برا کہنے سے منع فرمایا لیکن یہ شیعہ روافض کفار انہی جنتی صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے کہتے ہیں

"جناب رسول ﷲ ﷺ کی وفات کے بعد سب صحابہ مرتد ہو گئے تھے۔(العیاذ باﷲ تعالیٰ) مگر صرف تین۔(روای کا بیان ہے کہ) میں نے سوال کیا وہ تین کون تھے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ مقداد بن الاسواد ابوذر غفاری اور سلمان فارسی اﷲ تعالیٰ کی ان پر رحمت اور برکتیں ہوں۔"

(فروع کافی ج ۸ ص۲۴۵، کتاب الروضة ص ۱۱۵)

یہ شیعہ رافضی کفار اہل بیت سے محبت کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں لیکن یہ کافر گروہ اہل بیت کا بھی دشمن ہیں چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ جنہیں شیعہ کفار خلیفہ اول مانتے ہیں انہی علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کی فضیلت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا :

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ أَبِي رَاشِدٍ حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ عُمَرُ وَخَشِيتُ أَنْ يَقُولَ عُثْمَانُ قُلْتُ ثُمَّ أَنْتَ قَالَ مَا أَنَا إِلَّا رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ

"حضرت محمد ابن حنفیہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد گرامی (حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ کے بعد سب سےافضل کون ہیں؟ توانھوں نے جواب دیا: حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ میں نے پوچھا: پھر کون؟توا نھوں نے فرمایا: اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ مجھے اس بات کا اندیشہ ہوا کہ اب آپ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام ذکر کریں گے تو میں نے کہا: اس کے بعد پھر آپ (افضل) ہیں؟ یہ سن کر انھوں نے فرمایا: میں تو صرف عام مسلمانوں جیسا ایک آدمی ہوں۔"

(‌صحيح البخاري: کِتَابُ فَضَائِلِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ ، حدیث ۳٦۷۱)

اس حدیث میں خود علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کو اپنے سے زیادہ افضل کرار دیا ہے لیکن شیعہ کفار علی رضی اللہ عنہ کی مخالفت کرتے ہوئے انکی گستاخی کرتے ہیں

شیعہ کفار کا ایک بہت بڑا عالم ملا باقر مجلسی مرتد کافر خبیث اپنے دل کی نجاست کو باہر نکالتے ہوئے لکھتا ہے :

ہر دو ابو بکر وعمرؓ کافر بودنددہر کہ ایشان رادوست دارد کافراست
"ابوبکر و عمرؓ دونوں کافر تھے اور جو ان سے دوستی رکھے وہ بھی کافر ہے۔"

(حق الیقین ص ۵۲۲)

شیعوں نے مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے شیعہ سنی بھائی بھائی کا نعرہ لگاتے ہوئے ہمیشہ ہر دور میں ہر جگہ میں امت مسلمہ کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ تاریخ ثابت کرتی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف یہود و نصاری اور دیگر دشمنان اسلام کی طرف سے ہونے والی ہر جارحیت اور حملے میں ان کا ساتھ دیا ہے۔ یہ سب حقائق کے باوجود کچھ سادہ مسلمان ایسے ہیں جو اب بھی شیعوں سے دھوکے میں مبتلا ہیں اور ان کو کافر کہنے میں تذبذب کا شکار ہیں۔
ایسے ہی لوگوں کے لیے ہم یہاں سلف صالحین رحمہم اللہ کے انتہائی اختصار کے ساتھ فتاوی پیش کر رہے ہیں جن میں انہوں نے شیعوں کے کافر ہونے کے فتاوی جاری کرکے امت مسلمہ کو کئی صدیوں پہلے مسلمانوں کو کافروں کی اس نئی نسل شیعہ کی اصلیت بتاتے ہوئے ان سے خبردار کیا۔

امام الفریابی رحمہ اللہ کا فرمان ہے

عن موسی بن هارون بن زياد قال: سمعت الفريابي وهو محمد بن يوسف الفريابي ورجل يسأله عمن شتم أبا بكرٍ قال: كافر، قال: فيصلى عليه؟ قال: لا، وسألته كيف يُصنع به وهو يقول: لا إله إلا الله؟ قال: لا تمسوه بأيديكم، ارفعوه بالخشب حتى تواروه في حفرته

“موسی بن ھارون بن زیاد روایت کرتے ہیں کہ میں نے امام محمد بن یوسف الفریابی سے سنا کہ ان سے ایک شخص نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو گالی دینے والے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے جواب دیا کہ وہ کافر ہے۔ اس نے پوچھا کہ کیا اس کی نماز جنازہ پڑھی جا سکتی ہے تو آپ نے جواب دیا: نہیں۔ میں نے پھر آپ سے پوچھا کہ(اگر اس کی نمازہ جنازہ نہیں پڑھی جائے گی) تو پھر اس کی لاش کے ساتھ کیا کیا جائے گا جبکہ وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار کرتا ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ اس کے جسم کو ہاتھ بھی نہ لگایا جائے۔ لکڑی کے ذریعے اسے اٹھا کر اس کی قبر میں ڈال دو۔”

(کتاب السنة للخلال، روایت نمبر: ۷۹۴)

(یعنی شیعی کافر پلید کی لاش کو ہاتھ بھی نہ لگایا جائے)

الخلال نے ابو بکر المروذی سے روایت کیا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو عبداللہ کو یہ بتاتے ہوئے سنا کہ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا:

الذي يشتم أصحاب النبي صلی اللہ عليہ وسلم ليس لھم اسم أو قال : نصيب في الإسلام.

“جو نبی ﷺ کے صحابہ کو گالی دیتے ہیں ان کا برائے نام بھی اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی اسلام سے ان کا کوئی حصہ ہے۔”

(السنۃ، للخلال، ج ۲/ ص ۵۵۷)

امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے اللہ تعالی کے اس فرمان {محمد رسول اللہ والذين معہ أشداء علی الكفار} سے لیکر اس فرمان الہی تک {ليغيظ بھم الكفار} کی شرح میں لکھا ہے کہ:

ومن ھذه الآيۃ انتزع الإمام مالك رحمۃ اللہ عليہ في روايۃ عنہ بتكفير الروافض الذين يبغضون الصحابۃ رضي اللہ عنھم قال : لأنھم يغيظونھم ومن غاظ الصحابۃ رضي اللہ عنھم فھو كافر لھذهہالآيۃ ووافقہ طائفۃ من العلماء رضي اللہ عنھم علی ذلك۔

“اس آیت سے امام مالک رحمہ اللہ نے صحابہ رضی اللہ عنھم سے بغض رکھنے والے روافضہ (شیعہ) کی تکفیر کا استنباط کیا ہے کیونکہ یہ صحابہ کرام کو غیظ دلاتے ہیں اور جو صحابہ کو غیظ دلائے تو وہ اس آیت کی رو سے کافر ہے۔ علماء کی ایک جماعت اللہ ان سے راضی ہو نے اس پر امام مالک کی موافقت کی ہے۔”

(تفسير ابن كثير: ج ۴/ ص ۲۱۹)

مسلمان کہلوا کر اسلام سے خارج کرنے والے امور کا ارتکاب کرنے والے کو مسلمان نہیں بلکہ کافر کہا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کا انکار کرنے والے، امہات المؤمنین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دشمن شیعہ کسی بھی لحاظ سے نہ مسلمان ہیں اور نہ ہی اسلام سے ان کا کوئی تعلق ہے اور یہی وجہ ہے کہ سلف صالحین نے شیعہ روافض کو کافر قرار دیتے ہوئے ان شیعہ کفار کی تکفیر کی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مسلمانوں کو شیعیت کے کفر سے بچائے اور ان شیعہ روافض کفار کی تکفیر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمیں

 

منتظر

Minister (2k+ posts)
اس سے تم کیا ثابت کرنا چاہتے ہو ؟ کہ جیسے حضرت عمر ؒ گھر میں ڈرکے بیٹھ گئے اسی طرح تمھارا امام ڈر کے مارے غار میں چھپے ہوئے ہیں ؟، اور بیغرت باوُلاکیوں ہوتےہو ؟ تم اگر پیدائشی بد تمیزہو ،توکیا ضروری اس فورم پے بھی اس کا اظھار کرو ؟ میری پو سث کاپی اورتو اپنی گاف میں سے نکال رہے ہو ؟ چل اب دیکھ لے اپنی اوقات


شیعہ کفار روئے زمین کے بد ترین کفار ہے جو اسلام اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے دشمن ہے اللہ تعالی جن صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں قرآن میں فرماتا ہے

وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْ ہُمْ بِاِحْسَانٍِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوْا عَنْہُ وَاَعَدَّ لَہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا اَبَدًا ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمْ

اور جو مہاجرین و انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیروکار ہیں اللہ تعالیٰ ان سب پہ راضی اور وہ اس پر راضی ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ عظیم کامیابی ہے۔

(سورۃ التوبہ ۱۰۰)

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے متعلق فرمایا :

حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ قَالَ سَمِعْتُ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ تَابَعَهُ جَرِيرٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ وَمُحَاضِرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "میرے اصحاب کو بُرا بھلا نہ کہو کیونکہ تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرے تو وہ ان کے مد یا نصف مد کے برابر نہیں پہنچ سکتا۔ " حضرت جریر، عبداللہ بن داود، ابو معاویہ اور محاضر نے اعمش سے روایت کرنے میں شعبہ کی متابعت کی ہے۔

(صحيح البخاري: کِتَابُ فَضَائِلِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ، حدیث ۳٦۷۳)

اللہ نے قرآن میں ان سے راضی ہونے اور ان کے لیے جنت کا وعدہ فرمایا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو برا کہنے سے منع فرمایا لیکن یہ شیعہ روافض کفار انہی جنتی صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے کہتے ہیں

"جناب رسول ﷲ ﷺ کی وفات کے بعد سب صحابہ مرتد ہو گئے تھے۔(العیاذ باﷲ تعالیٰ) مگر صرف تین۔(روای کا بیان ہے کہ) میں نے سوال کیا وہ تین کون تھے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ مقداد بن الاسواد ابوذر غفاری اور سلمان فارسی اﷲ تعالیٰ کی ان پر رحمت اور برکتیں ہوں۔"

(فروع کافی ج ۸ ص۲۴۵، کتاب الروضة ص ۱۱۵)

یہ شیعہ رافضی کفار اہل بیت سے محبت کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں لیکن یہ کافر گروہ اہل بیت کا بھی دشمن ہیں چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ جنہیں شیعہ کفار خلیفہ اول مانتے ہیں انہی علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کی فضیلت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا :

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ أَبِي رَاشِدٍ حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ عُمَرُ وَخَشِيتُ أَنْ يَقُولَ عُثْمَانُ قُلْتُ ثُمَّ أَنْتَ قَالَ مَا أَنَا إِلَّا رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ

"حضرت محمد ابن حنفیہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد گرامی (حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ کے بعد سب سےافضل کون ہیں؟ توانھوں نے جواب دیا: حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ میں نے پوچھا: پھر کون؟توا نھوں نے فرمایا: اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ مجھے اس بات کا اندیشہ ہوا کہ اب آپ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام ذکر کریں گے تو میں نے کہا: اس کے بعد پھر آپ (افضل) ہیں؟ یہ سن کر انھوں نے فرمایا: میں تو صرف عام مسلمانوں جیسا ایک آدمی ہوں۔"

(‌صحيح البخاري: کِتَابُ فَضَائِلِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ ، حدیث ۳٦۷۱)

اس حدیث میں خود علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کو اپنے سے زیادہ افضل کرار دیا ہے لیکن شیعہ کفار علی رضی اللہ عنہ کی مخالفت کرتے ہوئے انکی گستاخی کرتے ہیں

شیعہ کفار کا ایک بہت بڑا عالم ملا باقر مجلسی مرتد کافر خبیث اپنے دل کی نجاست کو باہر نکالتے ہوئے لکھتا ہے :

ہر دو ابو بکر وعمرؓ کافر بودنددہر کہ ایشان رادوست دارد کافراست
"ابوبکر و عمرؓ دونوں کافر تھے اور جو ان سے دوستی رکھے وہ بھی کافر ہے۔"

(حق الیقین ص ۵۲۲)

شیعوں نے مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے شیعہ سنی بھائی بھائی کا نعرہ لگاتے ہوئے ہمیشہ ہر دور میں ہر جگہ میں امت مسلمہ کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ تاریخ ثابت کرتی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف یہود و نصاری اور دیگر دشمنان اسلام کی طرف سے ہونے والی ہر جارحیت اور حملے میں ان کا ساتھ دیا ہے۔ یہ سب حقائق کے باوجود کچھ سادہ مسلمان ایسے ہیں جو اب بھی شیعوں سے دھوکے میں مبتلا ہیں اور ان کو کافر کہنے میں تذبذب کا شکار ہیں۔
ایسے ہی لوگوں کے لیے ہم یہاں سلف صالحین رحمہم اللہ کے انتہائی اختصار کے ساتھ فتاوی پیش کر رہے ہیں جن میں انہوں نے شیعوں کے کافر ہونے کے فتاوی جاری کرکے امت مسلمہ کو کئی صدیوں پہلے مسلمانوں کو کافروں کی اس نئی نسل شیعہ کی اصلیت بتاتے ہوئے ان سے خبردار کیا۔

امام الفریابی رحمہ اللہ کا فرمان ہے

عن موسی بن هارون بن زياد قال: سمعت الفريابي وهو محمد بن يوسف الفريابي ورجل يسأله عمن شتم أبا بكرٍ قال: كافر، قال: فيصلى عليه؟ قال: لا، وسألته كيف يُصنع به وهو يقول: لا إله إلا الله؟ قال: لا تمسوه بأيديكم، ارفعوه بالخشب حتى تواروه في حفرته

“موسی بن ھارون بن زیاد روایت کرتے ہیں کہ میں نے امام محمد بن یوسف الفریابی سے سنا کہ ان سے ایک شخص نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو گالی دینے والے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے جواب دیا کہ وہ کافر ہے۔ اس نے پوچھا کہ کیا اس کی نماز جنازہ پڑھی جا سکتی ہے تو آپ نے جواب دیا: نہیں۔ میں نے پھر آپ سے پوچھا کہ(اگر اس کی نمازہ جنازہ نہیں پڑھی جائے گی) تو پھر اس کی لاش کے ساتھ کیا کیا جائے گا جبکہ وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار کرتا ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ اس کے جسم کو ہاتھ بھی نہ لگایا جائے۔ لکڑی کے ذریعے اسے اٹھا کر اس کی قبر میں ڈال دو۔”

(کتاب السنة للخلال، روایت نمبر: ۷۹۴)

(یعنی شیعی کافر پلید کی لاش کو ہاتھ بھی نہ لگایا جائے)

الخلال نے ابو بکر المروذی سے روایت کیا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو عبداللہ کو یہ بتاتے ہوئے سنا کہ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا:

الذي يشتم أصحاب النبي صلی اللہ عليہ وسلم ليس لھم اسم أو قال : نصيب في الإسلام.

“جو نبی ﷺ کے صحابہ کو گالی دیتے ہیں ان کا برائے نام بھی اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی اسلام سے ان کا کوئی حصہ ہے۔”

(السنۃ، للخلال، ج ۲/ ص ۵۵۷)

امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے اللہ تعالی کے اس فرمان {محمد رسول اللہ والذين معہ أشداء علی الكفار} سے لیکر اس فرمان الہی تک {ليغيظ بھم الكفار} کی شرح میں لکھا ہے کہ:

ومن ھذه الآيۃ انتزع الإمام مالك رحمۃ اللہ عليہ في روايۃ عنہ بتكفير الروافض الذين يبغضون الصحابۃ رضي اللہ عنھم قال : لأنھم يغيظونھم ومن غاظ الصحابۃ رضي اللہ عنھم فھو كافر لھذهہالآيۃ ووافقہ طائفۃ من العلماء رضي اللہ عنھم علی ذلك۔

“اس آیت سے امام مالک رحمہ اللہ نے صحابہ رضی اللہ عنھم سے بغض رکھنے والے روافضہ (شیعہ) کی تکفیر کا استنباط کیا ہے کیونکہ یہ صحابہ کرام کو غیظ دلاتے ہیں اور جو صحابہ کو غیظ دلائے تو وہ اس آیت کی رو سے کافر ہے۔ علماء کی ایک جماعت اللہ ان سے راضی ہو نے اس پر امام مالک کی موافقت کی ہے۔”

(تفسير ابن كثير: ج ۴/ ص ۲۱۹)

مسلمان کہلوا کر اسلام سے خارج کرنے والے امور کا ارتکاب کرنے والے کو مسلمان نہیں بلکہ کافر کہا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کا انکار کرنے والے، امہات المؤمنین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دشمن شیعہ کسی بھی لحاظ سے نہ مسلمان ہیں اور نہ ہی اسلام سے ان کا کوئی تعلق ہے اور یہی وجہ ہے کہ سلف صالحین نے شیعہ روافض کو کافر قرار دیتے ہوئے ان شیعہ کفار کی تکفیر کی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مسلمانوں کو شیعیت کے کفر سے بچائے اور ان شیعہ روافض کفار کی تکفیر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمیں
او کسی ہندہ کی نسل تیری اوقات پہلی پوسٹ میں ہی پتہ لگ گئی تھی جب تو نے ایک ضعییف ترین پوسٹ لگائی جس کے بعد بجاے اس کے تم ادھر مجھ سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتے کاپی پیسٹ پر لگ گئے اور میرے رد کا جواب نہیں دیا
اب کی بار تم نے ہمارے امام کی توہین کی تم کو شروع میں ہی بتا چکا تھا کے آئمہ کی توہین مت کرنا ہم پہل کرنے کے قائل نہیں ہیں پر کسی کو اجازت بھی نہیں دیں گے کے وہ ہمارے سچے ائمہ کی توہین کریں اور ہم جواب میں ان کے بڑوں کو جو کے رسول خدا کی توہین کرتے رہے انکی نبوت پر شک کر کے اور غزوات میں مشکل وقت جب آیا تو ان کو چھوڑ کر فرار ہو گئے
تم کو جو جواب دیا اس میں کوئی بدتمیزی نہیں تھی بلکہ تم کو آئنہ دکھایا تھا یہ جو جھوٹی حدیثیں گھڑی گیں کے فلاں کو رسول خدا نے منگا کے ان کے آنے سے اسلام مظبوط ہو گا میری وہ پوسٹ اس کا بھی بخوبی رد کرتی ہے

اب تم کو فائنل وارننگ دے رہا ہوں میری عادت تو نہیں ہے گالم گلوچ یا توہین کرنے کی دوسروں کے سچے جھوٹے ائمہ پر لیکن کوئی نہ کوئی فدائی آ کر وہ تمارا حال کرے گا کے تم یاد کرو گے یاد رکھو کے اس کے زمیدار تم خود ہو گے
اس لیے بہتر ہے مجھ سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگو اور کوئی ایک ٹاپک پر بات کرو کاپی پیسٹ مت رو یہ ایک ای ڈی سے نیک پارسی دوسری سے بد تمیزیاں زیب نہیں دیتی ہیں
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں