پندرہ شعبان کی حقیقت

الرضا

Senator (1k+ posts)
محترم میرے لاسٹ قوٹ میں یہ حدیث کا حوالہ نہیں تھا بلکہ جو آپ سے گزارشات کی تھیں ان کا آپ نے جواب دینا تھا
آپ بات کو الجھا کر پھر اس موضوع سے ہت کر دوسری طرف کا رکھ کر لیتے ہیں
امام مہدی غیبت میں ہیں آپ کا ان پر تو ایمان نہیں پر ابلیس پر ایمان ہے حالنکہ وہ بھی آپ کو نظر نہیں آتا وہ تو وہ جنات پر بھی ایمان آپ رکھتے ہیں اور حضرت عیسیٰ پر بھی مسلمان ایمان رکھتے ہیں کے وہ آئیں گے لیکن امام مہدی پر نہیں حالنکہ اہلسنت اور مذھب آل محمد میں فرق صرف یہی ہے کے ہم ان کے ظہور کے منتظر ہیں اور اہلسنت سمجھتے ہیں کے آپ ابھی پیدا ہوں گے لیکن اس پر سب ایمان رکھتے ہیں کے وہ آئیں گے اور نسل فاطمہ سلام الله علیہ سے ہوں گے

پھر گزارش کروں گا کے آپ نے جو بخاری جی کی فضیلت بیان فرمائی تھی میں نے اس کا رد کیا ہے آپ نے اس رد کا کوئی جواب نہیں دیا بلکہ ہماری کتب پر بھی یہ الزام دھرا کوئی شک نہیں کے ہماری کتب میں بھی ضعیف احادیث موجود ہیں پر اس کا حل ہمارے امام نے بیان کر دیا تھا کے جو بھی ہماری روایت قران سے متصادم ہو اس کو دیوار پر دے مارو اس لیے ہمارے ہاں کوئی بھی کتاب صحیح کا درجہ نہیں رکھتی ہے یہ کمال اہلسنت کا ہی ہے کے انہوں نے چھ کتب کو صحاح ستہ کا نام دے دیا جن میں کے گستاخی رسول بھی ہوتی ہے جیسا کے یہ حدیث ابھی دیکھی ہے آپ بھی ملاحضہ فرمائیں


حدیث نمبر: 5254
مکررات Tashkeel Show/Hide English Show/Hide
حدثنا الحميدي، حدثنا الوليد، حدثنا الاوزاعي، قال: سالت الزهري: اي ازواج النبي صلى الله عليه وسلم استعاذت منه؟ قال:اخبرني عروة، عن عائشة رضي الله عنها،" ان ابنة الجون لما ادخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم ودنا منها، قالت: اعوذ بالله منك، فقال لها: لقد عذت بعظيم الحقي باهلك". قال ابو عبد الله، رواه حجاج بن ابي منيع، عن جده، عن الزهري، ان عروة اخبره، ان عائشة قالت.
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے امام اوزاعی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زہری سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کن بیوی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پناہ مانگی تھی؟ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ جون کی بیٹی (امیمہ یا اسماء) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں (نکاح کے بعد) لائی گئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے تو اس نے یہ کہہ دیا کہ میں تم سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تم نے بہت بڑی چیز سے پناہ مانگی ہے، اپنے میکے چلی جاؤ۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حجاج بن یوسف بن ابی منیع سے، اس نے بھی اپنے دادا ابومنیع (عبیداللہ بن ابی زیاد) سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔




براہ راست پڑھیں👇🏻

http://islamicurdubooks.com/hadith/ad.php?bsc_id=2952&bookid=1

استغفراللہ توہین رسالت
مجھے اس حدیث کے بارے میں آپ کی رائے سے 100 فی صد اتفاق ہے۔ محدثین کو امامت کا درجہ دینے والے جاہل ملّاؤں پر لعنت جو نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی پر مبنی روایات کی تاویلات پیش کرتے ہیں، صرف اس لیے کہ جن لوگوں کو انہوں نے امام بنایا ہوا ہے ان کی خدائی پہ حرف نہ آئے۔
یہی وجہ ہے میں کسی حدیث کی کتاب کو صحیح نہیں مانتا کیوں کہ انسان کی تخلیق کردہ کوئی شے غلطیوں سے مبرّا نہیں ہوسکتی۔ صحیح میں صرف قرآن کریم کو مانتا ہوں۔
یہاں میں آپ کو بتاتا چلوں کہ اس گستاخانہ روایت کا خالق زہری ہے جسے جاہل سنّی اپنا امام مانتے ہیں، حالاں کہ وہ شیعہ تھا اور اس کی روایات اصول کافی میں بھی پائی جاتی ہیں۔
تاہم میرا سوال اپنی جگہ پر موجود ہے، اور اس کا اس تھریڈ کے موضوع سے براہ راست تعلق ہے۔
شیطان اور جنات کے وجود کے ہم اس لیے قائل ہیں کہ یہ قرآن سے ثابت ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ اٹھایا جانا مشکوک ہے۔ اللہ نے لوگوں کو ان کے بارے میں شبہے میں ڈال دیا ہے۔ لیکن امام مہدی کی پیدائش، غیبت یا ظہور کچھ بھی قرآن سے ثابت نہیں۔
اور اس وجہ سے میں آپ سے پھر درخواست کروں گا کہ اس حدیث پر نظر ثانی کریں جو آپ نے بیان کی کہ اہلبیت اور قرآن ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوں گے۔ کیا مطلب ہوا اس حدیث کا؟
اس کے علاوہ میں ایک اور سوال کرنا چاہتا ہوں۔
جب 12 امام ہیں تو صرف فقہ جعفریہ ہی کیوں؟ امام جعفر کے بعد آنے والے اماموں کا اپنا فقہ کہاں گیا؟ اور امام جعفر سے پہلے والے اماموں نے کوئی فقہ ترتیب کیوں نہیں دیا؟
 

منتظر

Minister (2k+ posts)

مجھے اس حدیث کے بارے میں آپ کی رائے سے 100 فی صد اتفاق ہے۔ محدثین کو امامت کا درجہ دینے والے جاہل ملّاؤں پر لعنت جو نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی پر مبنی روایات کی تاویلات پیش کرتے ہیں، صرف اس لیے کہ جن لوگوں کو انہوں نے امام بنایا ہوا ہے ان کی خدائی پہ حرف نہ آئے۔
یہی وجہ ہے میں کسی حدیث کی کتاب کو صحیح نہیں مانتا کیوں کہ انسان کی تخلیق کردہ کوئی شے غلطیوں سے مبرّا نہیں ہوسکتی۔ صحیح میں صرف قرآن کریم کو مانتا ہوں۔
یہاں میں آپ کو بتاتا چلوں کہ اس گستاخانہ روایت کا خالق زہری ہے جسے جاہل سنّی اپنا امام مانتے ہیں، حالاں کہ وہ شیعہ تھا اور اس کی روایات اصول کافی میں بھی پائی جاتی ہیں۔
تاہم میرا سوال اپنی جگہ پر موجود ہے، اور اس کا اس تھریڈ کے موضوع سے براہ راست تعلق ہے۔
شیطان اور جنات کے وجود کے ہم اس لیے قائل ہیں کہ یہ قرآن سے ثابت ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ اٹھایا جانا مشکوک ہے۔ اللہ نے لوگوں کو ان کے بارے میں شبہے میں ڈال دیا ہے۔ لیکن امام مہدی کی پیدائش، غیبت یا ظہور کچھ بھی قرآن سے ثابت نہیں۔

اور اس وجہ سے میں آپ سے پھر درخواست کروں گا کہ اس حدیث پر نظر ثانی کریں جو آپ نے بیان کی کہ اہلبیت اور قرآن ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوں گے۔ کیا مطلب ہوا اس حدیث کا؟
اس کے علاوہ میں ایک اور سوال کرنا چاہتا ہوں۔
جب 12 امام ہیں تو صرف فقہ جعفریہ ہی کیوں؟ امام جعفر کے بعد آنے والے اماموں کا اپنا فقہ کہاں گیا؟ اور امام جعفر سے پہلے والے اماموں نے کوئی فقہ ترتیب کیوں نہیں دیا؟
محترم الرضا صاحب مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کے آپ کی معلومات نہ ھونے کے قریب ہیں احادیث اور راویان کی جب بات چلے تو آپ نے اتنی جلدی سے زھری کو شیعہ بنا ڈالا کے اس کی روایات شیعہ کتب میں بھی ہیں
محترم یہ کوئی دلیل نہیں بنتی ہے پہلی بات تو یہ ہے کے ابھی تک اپنے صرف لفاظی ہی کی ہے اور اپنی کسی بات کا کوئی حوالہ سبوت بلکل بھی نہیں دیا اس بار بھی آپ نے سنی سنائی مولویوں کی بات پر آ کر یہ بات لکھ دی تاکہ صحیح بخاری کو بچایا جا سکے اور کتنی گستاخی کی روایات زھری کے علاوہ کتنوں نے بیان کیں اس پر بعد میں بات کرتا ہوں پہلے آپ کو یہ بتاتا ہوں کے راویان دونوں مذاہب کے ایک دوسرے کی کتب میں موجود ہیں

ﺍﮬﻞ ﺳﻨﺖ علما ﻭ ﻣﺤﺪﺛﯿﻦ ﺷﯿﻌﮧ ﻣﺤﺪﺛﯿﻦ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺯﯾﺮﻭ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ۔ ﮬﻢ
ﺟﺲ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﻮ ﺍﺻﺢ ﺍﻟﮑﺘﺐ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﻣﯿﮟ ۱۰۰ ﺭﺍﻭﯼ ﺷﯿﻌﮧ ﮨﯿﮟ ۔
ﺍﺏ ﺁﭖ ﺷﯿﻌﮧ ﮐﻮ ﺷﺮ ﺍﻟﺒﺮﯾﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﯾﺎ ﮐﺎﻓﺮ ﻭ ﻣﺮﺗﺪ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ
ﺗﺸﺮﯾﻊ ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺳﺘﻮﻥ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﮯ ﮐﻨﺪﮬﻮﮞ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﮬﻮﺍ ﮬﮯ ، ﺍﻭﺭ
ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ ﮐﺎ ﻋﺎﻟﻢ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻣﺎﻡ ﺫﮬﺒﯽ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺗﻮﺟﮧ ﺟﺐ ﺍﺱ
ﻃﺮﻑ ﺩﻻﺋﯽ ﮔﺊ ﺗﻮ ﺑﮯ ﺑﺴﯽ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﮬﻢ ﺍﮔﺮ
ﺷﯿﻌﮧ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺗﺮﮎ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﺗﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﺑﭽﮯ ﮔﺎ ﮐﯿﺎ ؟ ﺟﺐ ﯾﺤﯽ
ﺍﺑﻦ ﻣﻌﯿﻦ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺷﺎﮔﺮﺩﻭﮞ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﺤﺪﺙ
ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺯﺍﻕ ﺻﻨﻌﺎﻧﯽ ﺷﯿﻌﮧ ﮬﻮ ﮔﯿﺎ ﮬﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮬﻢ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺗﺮﮎ
ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ ؟ ﺗﻮ ﺍﺑﻦ ﻣﻌﯿﻦ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺯﺍﻕ ﻣﺮﺗﺪ ﺑﮭﯽ ﮬﻮ
ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﮬﻢ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺗﺮﮎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ۔ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺟﺐ
ﺧﺮﺑﻮﺯﮦ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﺿﻄﺮﺍﺭ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺘﮯ ﮐﮧ
ﺍﺱ ﺧﺮﺑﻮﺯﮮ ﭘﺮ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﭘﻠﯿﺪ ﮨﮯ ،، ﺷﯿﻌﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺑﮭﺎﺋﯽ
ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻦ ﮐﺎ ﺳﺘﻮﻥ ﮨﮯ ،، ﺑﺎﻗﯽ ﺑﺪﻋﺘﯽ ﺷﯿﻌﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ
ﺍﮬﻠﺴﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﻤﯽ ﻧﮩﯿﮟ ۔
ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﮧ ﮐﮯ 140 ﺷﯿﻌﮧ ﺷﯿﻮﺥ ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﮧ ﮐﮯ ﻣﺼﻨﻔﯿﻦ ﮐﮯ
ﺍﺳﺘﺎﺫ ﺭﮨﮯ ،،
ﺣﺮﻑ ﺍﻷﻟﻒ
‏[ 1 ‏] ﺃﺑﺎﻥ ﺑﻦ ﺗﻐﻠﺐ ‏[ 2 ‏] ﺇﺑﺮﺍﻫﻴﻢ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻳﺤﻴﻰ‏[ 3 ‏] ﺇﺑﺮﺍﻫﻴﻢ ﺑﻦ ﻳﺰﻳﺪ
ﺍﻟﻨﺨﻌﻲ‏[ 4 ‏] ﺃﺟﻠﺢ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 5 ‏] ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺍﻟﻤﻔﻀﻞ‏[ 6 ‏]
ﺇﺳﺤﺎﻕ ﺑﻦ ﻣﻨﺼﻮﺭ ﺍﻟﺴﻠﻮﻟﻲ‏[ 7 ‏] ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﺃﺑﺎﻥ ﺍﻟﻮﺭﺍﻕ ‏[ 8 ‏]
ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﺧﻠﻴﻔﺔ‏[ 9 ‏] ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﺯﻛﺮﻳّﺎ ‏[ 10 ‏] ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ
ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 11 ‏] ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﻣﻮﺳﻰ ﺍﻟﻔﺰﺍﺭﻱ‏[ 12 ‏] ﺍﻷﺻﺒﻎ ﺑﻦ
ﻧﺒﺎﺗﺔ‏[ 13 ‏] ﺇﻳﺎﺱ ﺑﻦ ﻋﺎﻣﺮ ﺍﻟﻐﺎﻓﻘﻲ۔
ﺣﺮﻑ ﺍﻟﺒﺎﺀ ، ﺍﻟﺘﺎﺀ ، ﺍﻟﺜﺎﺀ
‏[ 14 ‏] ﺑﻜﻴﺮ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﻄﺎﺋﻲ‏[ 15 ‏] ﺗﻠﻴﺪ ﺑﻦ ﺳﻠﻴﻤﺎﻥ ‏[ 16 ‏] ﺛﻮﻳﺮ
ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻓﺎﺧﺘﺔ۔
ﺣﺮﻑ ﺍﻟﺠﻴﻢ
‏[ 17 ‏] ﺟﺎﺑﺮ ﺑﻦ ﻳﺰﻳﺪ ﺍﻟﺠﻌﻔﻲ‏[ 18 ‏] ﺟﺮﻳﺮ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺤﻤﻴﺪ‏[ 19 ‏] ﺟﻌﻔﺮ
ﺑﻦ ﺯﻳﺎﺩ ‏[ 20 ‏] ﺟﻌﻔﺮ ﺑﻦ ﺳﻠﻴﻤﺎﻥ ‏[ 21 ‏] ﺟﻤﻴﻊ ﺑﻦ ﻋﻤﻴﺮ۔
ﺣﺮﻑ ﺍﻟﺤﺎﺀ
‏[ 22 ‏] ﺍﻟﺤﺎﺭﺙ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﻬﻤﺪﺍﻧﻲ‏[ 23 ‏] ﺣﺒﻴﺐ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺛﺎﺑﺖ‏[ 24 ‏]
ﺍﻟﺤﺴﻦ ﺑﻦ ﺻﺎﻟﺢ ﺍﻟﺜﻮﺭﻱ ‏[ 25 ‏] ﺍﻟﺤﻜﻢ ﺑﻦ ﻋﺘﻴﺒﺔ ﺍﻟﻜﻨﺪﻱ ‏[ 26 ‏] ﺣﻜﻴﻢ ﺑﻦ
ﺟﺒﻴﺮ‏[ 27 ‏] ﺣﻤﺮﺍﻥ ﺑﻦ ﺃﻋﻴﻦ۔
ﺣﺮﻑ ﺍﻟﺨﺎﺀ ، ﺍﻟﺪﺍﻝ
‏[ 28 ‏] ﺧﺎﻟﺪ ﺑﻦ ﻃﻬﻤﺎﻥ ‏[ 29 ‏] ﺩﺍﻭﺩ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻋﻮﻑ‏[ 30 ‏] ﺩﻳﻨﺎﺭ ﺑﻦ
ﻋﻤﺮ ﺍﻷﺳﺪﻱ۔
ﺣﺮﻑ ﺍﻟﺮﺍﺀ ، ﺍﻟﺰﺍﻱ
‏[ 31 ‏] ﺍﻟﺮﺑﻴﻊ ﺑﻦ ﺃﻧﺲ ‏[ 32 ‏] ﺍﻟﺮﺑﻴﻊ ﺑﻦ ﺣﺒﻴﺐ ‏[ 33 ‏] ﺯﺍﺫﺍﻥ ﺃﺑﻮ ﻋﺒﺪ
ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ ‏[ 34 ‏] ﺯﺑﻴﺪ ﺑﻦ ﺍﻟﺤﺎﺭﺙ‏[ 35 ‏] ﺯﻳﺎﺩ ﺑﻦ ﺍﻟﻤﻨﺬﺭ‏[ 36 ‏] ﺯﻳﺪ
ﺑﻦ ﺍﻟﺤﺒﺎﺏ۔
ﺣﺮﻑ ﺍﻟﺴﻴﻦ
‏[ 37 ‏] ﺳﺎﻟﻢ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺣﻔﺼﺔ‏[ 38 ‏] ﺳﺎﻟﻢ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻮﺍﺣﺪ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ
‏[ 39 ‏] ﺳﻌﺎﺩ ﺑﻦ ﺳﻠﻴﻤﺎﻥ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 40 ‏] ﺳﻌﺪ ﺑﻦ ﻃﺮﻳﻒ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ
‏[ 41 ‏] ﺳﻌﻴﺪ ﺑﻦ ﺧﺜﻴﻢ ﺍﻟﻬﻼﻟﻲ‏[ 42 ‏] ﺳﻌﻴﺪ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ ‏[ 43 ‏]
ﺳﻌﻴﺪ ﺑﻦ ﻓﻴﺮﻭﺯ‏[ 44 ‏] ﺳﻌﻴﺪ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺍﻟﺠﺮﻣﻲ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 45 ‏] ﺳﻠﻤﺔ
ﺑﻦ ﺍﻟﻔﻀﻞ‏[ 46 ‏] ﺳﻠﻤﺔ ﺑﻦ ﻛﻬﻴﻞ‏[ 47 ‏] ﺳﻠﻴﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﺻﺮﺩ ﺍﻟﺨﺰﺍﻋﻲ
‏[ 48 ‏] ﺳﻠﻴﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻃﺮﺧﺎﻥ ‏[ 49 ‏] ﺳﻠﻴﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻗﺮﻡ ﺍﻟﻨﺤﻮﻱ‏[ 50 ‏]
ﺳﻠﻴﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻣﻬﺮﺍﻥ۔
ﺣﺮﻑ ﺍﻟﺸﻴﻦ ، ﺍﻟﺼﺎﺩ
‏[ 51 ‏] ﺷﺮﻳﻚ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 52 ‏] ﺷﻌﺒﺔ ﺑﻦ ﺍﻟﺤﺠﺎﺝ‏[ 53 ‏]
ﺻﻌﺼﻌﺔ ﺑﻦ ﺻﻮﺣﺎﻥ۔
ﺣﺮﻑ ﺍﻟﻄﺎﺀ ، ﺍﻟﻈﺎﺀ
‏[ 54 ‏] ﻃﺎﻭﺱ ﺑﻦ ﻛﻴﺴﺎﻥ‏[ 55 ‏] ﻇﺎﻟﻢ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ ﺍﻟﺪﺅﻟﻲ۔
ﺣﺮﻑ ﺍﻟﻌﻴﻦ
‏[ 56 ‏] ﻋﺎﺋﺬ ﺑﻦ ﺣﺒﻴﺐ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 57 ‏] ﻋﺎﺻﻢ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ ﺍﻟﺒﺠﻠﻲ‏[ 58 ‏]
ﻋﺎﻣﺮ ﺑﻦ ﻭﺍﺛﻠﺔ ‏[ 59 ‏] ﻋﺒﺎﺩ ﺑﻦ ﺍﻟﻌﻮﺍﻡ‏[ 60 ‏] ﻋﺒﺎﺩ ﺑﻦ ﻳﻌﻘﻮﺏ ‏[ 61 ‏]
ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺍﻟﺠﻬﻢ ﺍﻟﺮﺍﺯﻱ‏[ 62 ‏] ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺩﺍﻭﺩ ﺍﻟﺨﺮﻳﺒﻲ‏[ 63 ‏] ﻋﺒﺪ
ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺯﺭﻳﺮ ﺍﻟﻐﺎﻓﻘﻲ ‏[ 64 ‏] ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺷﺪﺍﺩ ‏[ 65 ‏] ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ
ﺍﻟﻘﺪﻭﺱ ﺍﻟﺮﺍﺯﻱ ‏[ 66 ‏] ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﺃﺑﺎﻥ‏[ 67 ‏] ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ
ﻋﻴﺴﻰ ﺍﻷﻧﺼﺎﺭﻱ‏[ 68 ‏] ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻟﻬﻴﻌﺔ‏[ 69 ‏] ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺠﺒﺎﺭ ﺍﻟﺸﺒﺎﻣﻲ
‏[ 70 ‏] ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺮﺯﺍﻕ ﺑﻦ ﻫﻤﺎﻡ ﺍﻟﺼﻨﻌﺎﻧﻲ ‏[ 71 ‏] ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺑﻦ ﺻﺎﻟﺢ
ﺍﻟﻬﺮﻭﻱ ‏[ 72 ‏] ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻌﺰﻳﺰ ﺑﻦ ﺳﻴﺎﻩ ﺍﻷﺳﺪﻱ‏[ 73 ‏] ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻤﻠﻚ ﺑﻦ ﺃﻋﻴﻦ
‏[ 74 ‏] ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻤﻠﻚ ﺑﻦ ﻣﺴﻠﻢ ‏[ 75 ‏] ﻋﺒﻴﺪﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺧﻠﻴﻔﺔ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 76 ‏]
ﻋﺒﻴﺪﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻣﻮﺳﻰ ‏[ 77 ‏] ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﻤﻴﺮ‏[ 78 ‏] ﻋﺪﻱ ﺑﻦ ﺛﺎﺑﺖ‏[ 79 ‏]
ﻋﻄﻴﺔ ﺑﻦ ﺳﻌﺪ‏[ 80 ‏] ﺍﻟﻌﻼﺀ ﺑﻦ ﺻﺎﻟﺢ ﺍﻟﺘﻴﻤﻲ‏[ 81 ‏] ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺑﺬﻳﻤﺔ
‏[ 82 ‏] ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺛﺎﺑﺖ ‏[ 83 ‏] ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺍﻟﺠﻌﺪ ‏[ 84 ‏] ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺍﻟﺤﺰﻭﺭ
ﺍﻟﻐﻨﻮﻱ‏[ 85 ‏] ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺯﻳﺪ ﺍﻟﺘﻴﻤﻲ ﺍﻟﺒﺼﺮﻱ‏[ 86 ‏] ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﻋﺎﺻﻢ
‏[ 87 ‏] ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﻏﺮﺍﺏ ‏[ 88 ‏] ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﻗﺎﺩﻡ‏[ 89 ‏] ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺍﻟﻤﻨﺬﺭ
‏[ 90 ‏] ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﻫﺎﺷﻢ ﺍﻟﻘﺮﺷﻲ ‏[ 91 ‏] ﻋﻤﺎﺭ ﺑﻦ ﺭﺯﻳﻖ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 92 ‏]
ﻋﻤﺎﺭ ﺑﻦ ﻣﻌﺎﻭﻳﺔ‏[ 93 ‏] ﻋﻤﺎﺭﺓ ﺑﻦ ﺟﻮﻳﻦ‏[ 94 ‏] ﻋﻤﺮﺍﻥ ﺑﻦ ﻇﺒﻴﺎﻥ
ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 95 ‏] ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﺛﺎﺑﺖ ﺍﻟﺒﻜﺮﻱ‏[ 96 ‏] ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﺣﻤﺎﺩ ﺍﻟﻘﻨﺎﺩ
‏[ 97 ‏] ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﺒﻴﺪ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ ‏[ 98 ‏] ﻋﻮﻑ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺟﻤﻴﻠﺔ
ﺍﻷﻋﺮﺍﺑﻲ۔
ﺣﺮﻑ ﺍﻟﻐﻴﻦ ، ﺍﻟﻔﺎﺀ
‏[ 99 ‏] ﻏﺎﻟﺐ ﺑﻦ ﺍﻟﻬﺬﻳﻞ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 100 ‏] ﺍﻟﻔﻀﻞ ﺑﻦ ﺩﻛﻴﻦ‏[ 101 ‏]
ﻓﻀﻴﻞ ﺑﻦ ﻣﺮﺯﻭﻕ‏[ 102 ‏] ﻓﻄﺮ ﺑﻦ ﺧﻠﻴﻔﺔ۔
ﺣﺮﻑ ﺍﻟﻘﺎﻑ ، ﺍﻟﻤﻴﻢ
‏[ 103 ‏] ﻗﻴﺲ ﺑﻦ ﻋﺒﺎﺩ ﺍﻟﺒﺼﺮﻱ ‏[ 104 ‏] ﻣﺎﻟﻚ ﺑﻦ ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ‏[ 105 ‏]
ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺟﺤﺎﺩﺓ‏[ 106 ‏] ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺭﺍﺷﺪ ﺍﻟﺨﺰﺍﻋﻲ ‏[ 107 ‏] ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ
ﺍﻟﺴﺎﺋﺐ ﺍﻟﻜﻠﺒﻲ‏[ 108 ‏] ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺍﻟﺰﺑﻴﺮ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ ‏[ 109 ‏]
ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﻴﺪﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﻘﺮﺷﻲ ﺍﻟﻬﺎﺷﻤﻲ‏[ 110 ‏] ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻓﻀﻴﻞ‏[ 111 ‏]
ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻣﻮﺳﻰ ﺍﻟﻔﻄﺮﻱ‏[ 112 ‏] ﻣﺨﻮﻝ ﺑﻦ ﺭﺍﺷﺪ‏[ 113 ‏] ﻣﺼﺪﻉ
ﺍﻟﻤﻌﺮﻗﺐ‏[ 114 ‏] ﻣﻌﺮﻭﻑ ﺑﻦ ﺧﺮﺑﻮﺫ‏[ 115 ‏] ﻣﻨﺪﻝ ﺑﻦ ﻋﻠﻲ‏[ 116 ‏]
ﻣﻨﺼﻮﺭ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺍﻷﺳﻮﺩ ‏[ 117 ‏] ﻣﻨﺼﻮﺭ ﺑﻦ ﺍﻟﻤﻌﺘﻤﺮ ‏[ 118 ‏] ﻣﻮﺳﻰ ﺑﻦ
ﻗﻴﺲ‏[ 119 ‏] ﻣﻴﻨﺎﺀ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻣﻴﻨﺎﺀ ﺍﻟﻘﺮﺷﻲ۔
ﺣﺮﻑ ﺍﻟﻨﻮﻥ ، ﺍﻟﻬﺎﺀ
‏[ 120 ‏] ﻧﺎﺻﺢ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 121 ‏] ﻧﻔﻴﻊ ﺑﻦ ﺍﻟﺤﺎﺭﺙ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ
‏[ 122 ‏] ﻧﻮﺡ ﺑﻦ ﻗﻴﺲ ‏[ 123 ‏] ﻫﺎﺭﻭﻥ ﺑﻦ ﺳﻌﺪ‏[ 124 ‏] ﻫﺎﺭﻭﻥ ﺑﻦ
ﺍﻟﻤﻐﻴﺮﺓ ‏[ 125 ‏] ﻫﺎﺷﻢ ﺑﻦ ﺍﻟﺒﺮﻳﺪ‏[ 126 ‏] ﻫﺒﻴﺮﺓ ﺑﻦ ﻳﺮﻳﻢ‏[ 127 ‏]
ﻫﺸﺎﻡ ﺑﻦ ﻋﻤﺎﺭ ‏[ 128 ‏] ﻫﺸﻴﻢ ﺑﻦ ﺑﺸﻴﺮ
ﺣﺮﻑ ﺍﻟﻮﺍﻭ ، ﺍﻟﻴﺎﺀ
‏[ 129 ‏] ﻭﻛﻴﻊ ﺑﻦ ﺍﻟﺠﺮﺍﺡ‏[ 130 ‏] ﻳﺤﻴﻰ ﺑﻦ ﺍﻟﺠﺰﺍﺭ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 131 ‏]
ﻳﺤﻴﻰ ﺑﻦ ﺳﻠﻤﺔ ‏[ 132 ‏] ﻳﺤﻴﻰ ﺑﻦ ﻋﻴﺴﻰ ﺍﻟﺠﺮﺍﺭ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 133 ‏] ﻳﺤﻴﻰ
ﺑﻦ ﻳﻌﻠﻰ ﺍﻷﺳﻠﻤﻲ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 134 ‏] ﻳﺤﻴﻰ ﺍﻟﻘﻄﺎﻥ‏[ 135 ‏] ﻳﺰﻳﺪ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ
ﺯﻳﺎﺩ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 136 ‏] ﻳﻮﻧﺲ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻳﻌﻔﻮﺭ ﺍﻟﻌﺒﺪﻱ‏[ 137 ‏] ﻳﻮﻧﺲ ﺑﻦ
ﺧﺒﺎﺏ ﺍﻻﺳﻴﺪﻱ۔
ﮐﻨﯿﺖ ﭘﺮ ﻣﺒﻨﯽ ۔
‏[ 138 ‏] ﺃﺑﻮ ﺇﺩﺭﻳﺲ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 139 ‏] ﺃﺑﻮ ﺣﻤﺰﺓ ﺍﻟﺜﻤﺎﻟﻲ‏[ 140 ‏] ﺃﺑﻮ
ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﺠﺪﻟﻲ۔
ﮐﺘﺎﺏ -: ﺭﺟﺎﻝ ﺍﻟﺸﻴﻌﺔ ﻓﻲ ﺃﺳﺎﻧﻴﺪ ﺍﻟﺴﻨّﺔ
ﺍﻟﻤﺆﻟﻒ : ﺍﻟﺸﻴﺦ ﻣﺤﻤّﺪ ﺟﻌﻔﺮ ﺍﻟﻄﺒﺴﻲ ﺍﻟﻤﺤﻘﻖ : ﺍﻟﻤﺘﺮﺟﻢ :
ﺍﻟﻤﻮﺿﻮﻉ : ﺭﺟﺎﻝ ﺍﻟﺤﺪﻳﺚ ﺍﻟﻨﺎﺷﺮ : ﻣﺆﺳﺴﺔ ﺍﻟﻤﻌﺎﺭﻑ ﺍﻹﺳﻼﻣﻴّﺔ
ISBN: 964-6289-76-2
ﺑﺸﮑﺮﯾﮧ -: ﻗﺎﺭﯼ ﻣﺤﻤﺪ ﺣﻨﯿﻒ ﮈﺍﺭ

ماخوذ از فیس بک

اب بات کرتا ہوں زھری کی تو جناب آپ نے کوئی ثبوت دلیل دی ہی نہیں مجھے لگتا ہے حسب سابق کے میں ادھر بحث نہیں کر رہا بلکہ لیکچر دے رہا ہوں.
زھری کے بارے ایک بہت اچھی تحریر ہاتھ لگی ہے وہ کافی ہے آپ کے اس دعوے کے رد کے لیے جواب میں اگر میں نہ مانوں والی بات ہو تو اس کا علاج حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھا تو میں کس گنتی میں شمار ہوتا ہوں

  1. میں ادھر لنک ہی لگا رہا ہوں تحریر کے الفاظ زیادہ ہیں جس کی بنا پر یہ پوسٹ نہیں کر سکا میں دوسرے قوٹ میں اس کو پیسٹ کرتا ہوں تاکہ باقی ممبران اس کو پڑھ سکیں
  • مجھے پوری امید ہے کے اب آپ زھری کو بنیاد نہیں بنائیں گے اب میں کچھ مزید گستاخی پر مبنی مواد ادھر لگاتا ہوں یہی وجہ ہے کے سلمان رشدی جیسے لوگ ان سو کالڈ صحاح ستہ کی کتب پڑھ کر توہین رسالت پر مبنی کتب لکھتی ہیں اس کا سارہ گناہ ان پر ہی جاے گا

قران حیض کی حالت میں کچھ اور تعلیم دے رہا ہے لیکن ان لوگوں نے صاحب شریعت کو قران کے منافی عمل کرتے ہوے دکھا دیا استغفراللہ صرف اس لیے کے امی جان حضرت عایشہ کو رسول خدا کے قریب تر دکھایا جا سکے


استغفراللہ روزے کی حالت میں کھانے پینے کی ممانعت ہے لیکنصاحب شریعت نبی خدا کو روزے کی حالت میں کھاتے دکھایا جا رہا ہے





استغفراللہ روزے کی حالت میں بوس کنار مباشرت ممنوع ہے پر یہ بات صحیح بخاری کو معلوم نہیں اس نے بس کتاب کا پیٹ بھرنا تھا

تو محترم میرے اس قوٹ میں ثابت ہوا کے زھری شیعہ بھی نہیں ہے اور اس طرح کی گستاخی پر مبنی روایات صرف زھری سے ہی نہیں ہیں اوروں نے بھی روایت کی ہیں





 

منتظر

Minister (2k+ posts)

مجھے اس حدیث کے بارے میں آپ کی رائے سے 100 فی صد اتفاق ہے۔ محدثین کو امامت کا درجہ دینے والے جاہل ملّاؤں پر لعنت جو نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی پر مبنی روایات کی تاویلات پیش کرتے ہیں، صرف اس لیے کہ جن لوگوں کو انہوں نے امام بنایا ہوا ہے ان کی خدائی پہ حرف نہ آئے۔
یہی وجہ ہے میں کسی حدیث کی کتاب کو صحیح نہیں مانتا کیوں کہ انسان کی تخلیق کردہ کوئی شے غلطیوں سے مبرّا نہیں ہوسکتی۔ صحیح میں صرف قرآن کریم کو مانتا ہوں۔
یہاں میں آپ کو بتاتا چلوں کہ اس گستاخانہ روایت کا خالق زہری ہے جسے جاہل سنّی اپنا امام مانتے ہیں، حالاں کہ وہ شیعہ تھا اور اس کی روایات اصول کافی میں بھی پائی جاتی ہیں۔
تاہم میرا سوال اپنی جگہ پر موجود ہے، اور اس کا اس تھریڈ کے موضوع سے براہ راست تعلق ہے۔
شیطان اور جنات کے وجود کے ہم اس لیے قائل ہیں کہ یہ قرآن سے ثابت ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ اٹھایا جانا مشکوک ہے۔ اللہ نے لوگوں کو ان کے بارے میں شبہے میں ڈال دیا ہے۔ لیکن امام مہدی کی پیدائش، غیبت یا ظہور کچھ بھی قرآن سے ثابت نہیں۔

اور اس وجہ سے میں آپ سے پھر درخواست کروں گا کہ اس حدیث پر نظر ثانی کریں جو آپ نے بیان کی کہ اہلبیت اور قرآن ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوں گے۔ کیا مطلب ہوا اس حدیث کا؟
اس کے علاوہ میں ایک اور سوال کرنا چاہتا ہوں۔
جب 12 امام ہیں تو صرف فقہ جعفریہ ہی کیوں؟ امام جعفر کے بعد آنے والے اماموں کا اپنا فقہ کہاں گیا؟ اور امام جعفر سے پہلے والے اماموں نے کوئی فقہ ترتیب کیوں نہیں دیا؟


  1. امام محمد بن مسلم بن عبید اللہ بن عبد اللہ بن شہاب الزہری

    نام و نسب: محمد بن مسلم بن عبيد الله بن عبد الله بن شهاب بن عبد الله بن الحارث بن زهرة القرشى الزهرى ، أبو بكر المدنى
    طبقہ: 4 – من التابعین
    میلاد: سب سے صحیح روایت کے مطابق آپ رحمہ اللہ 50 ھ کو پیدا ہوئے۔
    وفات: 17 رمضان المبارک، 124 ھ شغب نامی جگہ پر وفات پائی۔
    ان کے شاگرد امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ الزہری نے 124 ھ کو وفات پائی۔ (دیکھیں التاریخ الکبیر للبخاری: 1/220)۔ ابن سعد، خلیفہ بن خیاط، اور الزبیر وغیرہم کا بھی یہی قول ہے۔
    روی لہ: آپ کی روایات تمام کتبِ صحاح، سنن، مسانید، معاجم، مستدرکات، مستخرجات، جوامع، تواریخ اور ہر قسم کی کتب حدیث میں شامل ہیں۔
    نوٹ: امام ابن شہاب الزہری حدیث کے ایسے ستونوں میں سے ہیں جن کی احادیث دنیا کی ہر حدیث کی کتاب میں پائی جاتی ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ کوئی ایسی حدیث کی کتاب بھی ہو گی جس میں ابن شہاب کی روایت نہ ہو۔
    شیوخ و اساتذہ: زہری نے کئی صحابہ کرام سے روایات لی ہیں جن میں: جابر بن عبد اللہ، سہل بن سعد، انس بن مالک، سائب بن یزید، محمود بن الربیع، محمود بن لبید، ابو الطفیل عامر، مالک بن اوس بن الحدثان، وغیرہ رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔ اور کئی کبار تابعین مثلا سعید بن المسیب، عروہ بن الزبیر، ابو ادریس الخولانی، سالم بن عبد اللہ، ابو سلمہ بن عبد الرحمن، طاوس وغیرہ سے آپ نے شرف تلمذ حاصل کیا۔
    تلامذہ : میں عطاء بن ابی رباح (جو ان سے عمر میں بڑے تھے)، امیر المؤمنین عمر بن عبد العزیز، عمرو بن دینار، عمرو بن شعیب، قتادہ بن دعامہ، زید بن اسلم، منصور بن المعتمر، ایوب سختیانی، یحیی بن سعید الانصاری، ابو الزناد، صالح بن کیسان، عقیل بن خالد، ابن جریج، عبد العزیز بن الماجشون، معمر بن راشد، ابو عمرو الاوزاعی، شعیب بن ابی حمزہ، مالک بن انس، لیث بن سعد، فلیح بن سلیمان، ابن ابی ذئب، محمد بن اسحاق بن یسار، ہشیم بن بشیر، سفیان بن عیینہ اور خلق کثیر شامل ہیں۔
    فائدہ: عموما امام سفیان بن عیینہ اور امام سفیان الثوری کے شیوخ تقریبا ایک ہی ہوتے ہیں کیونکہ دونوں ہم عصر تھے۔ لیکن اس مسئلے میں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ امام زہری سے صرف امام سفیان بن عیینہ ہی روایت کرتے ہیں، امام سفیان الثوری کی زہری سے کوئی روایت مروی نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ امام سفیان الثوری کے پاس اتنے اخراجات نہیں تھے کہ وہ زہری کے پاس جا کر ان سے علم حاصل کرتے۔ چنانچہ امام عبد الرزاق بن ہمام الصنعانی بیان کرتے ہیں کہ الثوری سے پوچھا گیا کہ آپ امام زہری سے روایت کیوں نہیں کرتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: "لم تكن عندي دراهم ولكن قد كفانا معمر الزهري " یعنی کیونکہ میرے پاس اتنے پیسے نہیں تھے لیکن معمر ہمیں زہری کے متبادل کے طور پر کفایت کر گئے۔ (مقدمہ الجرح والتعدیل: 1/76، واسنادہ صحیح)۔

    امام زہری رحمہ اللہ زبردست ثقہ امام، حافظ، اور فقیہ تھے۔ آپ کی جلالت اور اتقان پر امت کا اتفاق ہے۔ آپ کے فضائل، مناقب، اور سیرۃ کو ایک مختصر سے مضمون میں بیان کرنا نا ممکن امر ہے، اس لے ہم ذیل میں صرف ائمہ نقاد کے چند اقوال ہی پر اکتفاء کریں گے۔
    1- امام ابن شہاب الزہری خود فرماتے ہیں: "ما استعدت حديثًا قط، ولا شككت في حديث إلا حديثًا، احدًا، فسألت صاحبي، فإذا هو كما حفظت" (جب کوئی حدیث ایک بار مجھ پر پڑھی جاتی) میں نے کبھی اس حدیث کے دہرائے جانے کا سوال نہیں کیا، اور نہ ہی مجھے کبھی کسی حدیث کے بارے میں شک ہوا سوائے ایک حدیث کے، تو میں اس کے متعلق اپنے ساتھی سے پوچھا، تو وہ حدیث ویسے ہی نکلی جیسے میں نے اسے یاد کیا تھا۔ (العلل لعبد اللہ بن احمد: 160، و حلیۃ الاولیاء: 3/363، واسنادہ صحیح)۔

    حکیم بن حکیم بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن شہاب سے کہا کہ ربیعہ بن ابی عبدالرحمن کہتے ہیں کہ سعید بن المسیب نے یہ یہ کہا ہے۔ تو زہری نے کہا: "أوهم ربيعة أنا كنت أحفظ لحديث سعيد بن المسيب من ربيعة" ربیعہ کو غلطی لگی ہے، میں سعید بن المسیب کی حدیث کا ربیعہ سے زیادہ حافظ ہوں (تاریخ دمشق لابن عساکر: 55/326، واسنادہ حسن)۔

    امام ابن اسحاق فرماتے ہیں کہ میں نے ابن شہاب الزہری سے ایک حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: "ما بقي أحد فيما بين المشرق والمغرب أعلم بهذا مني" مشرق اور مغرب کے لوگوں میں سے کوئی ایسا شخص نہیں بچا ہے جو اس حدیث کو مجھ سے زیادہ جانتا ہو۔ (ایضا)

    2- امیر المؤمنین عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ (المتوفی 101) فرماتے ہیں: "عليكم بابن شهاب هذا فانكم لاتلقون أحدا أعلم بالسنة الماضية منه" تم پر ضروری ہے کہ تم اس ابن شہاب کو لازمی پکڑو کیونکہ ان سے زیادہ ماضی کی سنت کو جاننے والا تم نے نہیں پایا ہو گا۔ (الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم: 8/72 واسنادہ صحیح)۔

    3- امام عمرو بن دینار رحمہ اللہ (المتوفی 126) فرماتے ہیں: "مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَبْصَرَ بِحَدِيثٍ مِنَ الزُّهْرِيِّ" میں نے زہری سے زیادہ حدیث کی بصیرت رکھنے والا کوئی نہیں دیکھا۔ (طبقات الکبری لابن سعد: 1/174، اسنادہ صحیح)۔

    4- امام سعد بن ابراہیم بن عبد الرحمن بن عوف رحمہ اللہ (المتوفی 125-127) فرماتے ہیں: "ما أرى أحدا بعد رَسُولِ اللهِ صَلى اللَّهُ عَلَيه وسَلم جَمَعَ ما جَمَعَ ابْن شِهاب" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میں نے کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا جس نے ابن شہاب جیسا کچھ جمع کیا۔ (التاریخ الکبیر للبخاری: 1/220، اسنادہ صحیح)۔

    5- امام ایوب سختیانی رحمہ اللہ (المتوفی 131) فرماتے ہیں: "ما رأيت أحدًا أعلم من الزهري، فقال له صخر بن جويرية: ولا الحسن: قال: ما رأيت أحدًا أعلم من الزهري" میں نے کسی کو زہری سے زیادہ اعلم نہیں دیکھا، تو صخر بن جویریہ نے ان سے کہا: حسن البصری بھی نہیں؟ انہوں نے اپنا قول دہراتے ہوئے فرمایا: میں نے کسی کو زہری سے زیادہ اعلم نہیں دیکھا۔ (العلل لعبد اللہ بن احمد: 3/313، اسنادہ صحیح)۔

    6- امام دار الہجرہ مالک بن انس المدنی رحمہ اللہ (المتوفی 179) فرماتے ہیں: "أول من أسند الحديث ابن شهاب الزهري" سب سے پہلے جس نے حدیث کی سند (پر دھیان) دیا وہ ابن شہاب الزہری تھے۔ (مقدمہ الجرح والتعدیل: 1/20، اسنادہ صحیح)۔

    7- امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ (المتوفی 198) فرماتے ہیں: "مَا أَحَدٌ أَعْلَمُ بِالسُّنَّةِ منه" سنت کو زہری سے زیادہ جاننے والا کوئی نہیں ہے۔ (الکامل لابن عدی: 1/139، اسنادہ حسن)۔

    8- قاسم بن ابی سفیان المعمری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سفیان بن عیینہ سےپوچھا: "أيما أفقه أو أعلم إبراهيم النخعي أو الزهري قال الزهري" ابراہیم النخعی اور زہری میں سے کون زیادہ بڑا فقیہ اور عالم ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: "زہری زیادہ بڑے ہیں"۔ (تاریخ دمشق لابن عساکر: 55/355، اسنادہ حسن)۔

    9- امام محمد بن سعد کاتب الواقدی رحمہ اللہ (المتوفی 230) فرماتے ہیں: "كَانَ الزُّهْرِيُّ ثِقَةً كَثِيرَ الْحَدِيثِ وَالْعِلْمِ وَالرِّوَايَةِ فَقِيهًا جَامِعًا" (طبقات الکبری لابن سعد: 1/185)۔

    10- امام احمد بن حنبل الشیبانی رحمہ اللہ (المتوفی 241) فرماتے ہیں: "الزُّهْريّ أَحْسَنُ النَّاسِ حَدِيثًا وَأَجْوَدُ النَّاسِ إِسْنَادًا" زہری لوگوں میں سب سے زیادہ اچھی حدیث والے، اور اسناد میں سب سے زیادہ اجود تھے۔ (الکامل لابن عدی: 1/139، اسنادہ حسن)۔

    11- امام ابو الحسن العجلی رحمہ اللہ (المتوفی 261) فرماتے ہیں: "تَابِعِيّ ثِقَة" (کتاب الثقات للعجلی: 2/253)۔

    12- امام ابو زرعہ الرازی رحمہ اللہ (المتوفی 264) سے پوچھا گیا: "أي الإسناد أصح؟ قال الزهري عن سالم عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عليه وسلم صحيح" کون سی اسناد سب سے زیادہ صحیح ہے؟ انہوں نے فرمایا، زہری عن سالم عن ابیہ عن النبی ﷺ سب سے زیادہ صحیح ہے۔۔۔۔ (اور پھر دو مزید اسانید بیان کیں)۔ (الجرح والتعدیل ابن ابی حاتم: 2/26)۔

    13- امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ (المتوفی275) فرماتے ہیں: "الزهري احب إلى من الاعمش، يحتج بحديثه، واثبت اصحاب انس الزهري" زہری مجھے اعمش سے بھی زیادہ پسند ہیں، ان کی حدیث سے حجت پکڑی جاتی ہے، اور انس رضی اللہ عنہ کے اصحاب میں سے زہری سب سے زیادہ ثبت (ثقہ) ہیں۔ (الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم: 8/74)۔

    14- امام ابو عبد الرحمن النسائی رحمہ اللہ (المتوفی 303) فرماتے ہیں: "أحسن أسانيد تروى عن رسول الله (صلى الله عليه وسلم) أربعة منها الزهري عن علي بن الحسين عن حسين بن علي عن علي بن أبي طالب عن رسول الله (صلى الله عليه وسلم) والزهري عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود عن ابن عباس عن عمر عن النبي (صلى الله عليه وسلم)" سب سے بہترین اسانید جو رسول اللہ ﷺ سے روایت کی جاتی ہیں چار ہیں جن میں: زہری عن علی بن الحسین عن حسین بن علی عن علی بن ابی طالب عن رسول اللہ ﷺ، اور زہری عن عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود عن ابن عباس عن عمر عن النبی ﷺ شامل ہیں۔ (آپ نے مزید دو اسانید بھی بیان کیں)۔ (تاریخ دمشق لابن عساکر: 55/339، اسنادہ حسن)۔

    15- امام ابن حبان البستی رحمہ اللہ (المتوفی 354) فرماتے ہیں: "رأى عشرَة من أَصْحَاب رَسُول اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ من أحفظ أهل زَمَانه وَأَحْسَنهمْ سياقا لمتون الْأَخْبَار وَكَانَ فَقِيها فَاضلا" (الثقات لابن حبان: 5/349)۔

    16- امام شمس الدین الذہبی رحمہ اللہ (المتوفی 748) نے سیر اعلام النبلاء میں 24 صفحات پر مشتمل امام زہری کی تفصیلی سیرۃ لکھی، اور فرمایا: "الإِمَامُ، العَلَمُ، حَافِظُ زَمَانِه" (5/326)۔

    17- حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ (المتوفی 852) فرماتے ہیں: "الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه وثبته" آپ فقیہ اور حافظ تھے، اور آپ کی جلالت، اتقان و ثبت پر امت کا اتفاق ہے۔ (التقریب التہذیب: 6296)۔
    امام زہری پر تشیع کا الزامبعض جاہل منکرین حدیث نے امام زہری پر صرف اس لئے تشیع کا الزام لگایا کیونکہ ان کا ترجمہ محض کسی شیعہ کتب رجال میں موجود ہے۔ حالانکہ کسی شخص کا شیعہ کی کتب رجال میں ذکر ہونا اس بات کا قطعی ثبوت نہیں ہے کہ وہ شخص شیعہ ہے۔ یہ الزام بالکل بے بنیاد اور جھوٹا ہے جبکہ اس کے برعکس امت میں سے کسی عالمِ دین و محدث نے کبھی ایسا نہیں کہا ہے۔ اس الزام کے تفصیلی و تسلی بخش رد کے لئے دیکھیں شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کا مضمون۔ (ماہنامہ اشاعۃ الحدیث، اگست 2004 صفحہ 43، 44، 45)۔امام زہری اور تدلیس کا الزاممتقدمین میں سے کسی بھی معتبر محدث سے ہرگز یہ ثابت نہیں ہے کہ انہوں نے امام زہری کو مدلس قرار دیا ہو۔ صرف چند متاخرین محدثین نے یہ بات بلا کسی معتبر حوالہ یا سند کے کی ہے جبکہ اس کے برعکس تمام ائمہ و محدثین نے ان کی معنعن روایات کو قبول کیا ہے۔ چنانچہ اسی لئے حافظ صلاح الدین العلائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "وقد قبل الأئمة قوله عن" ائمہ نے ان کے عن والے قول کو قبول کیا ہے (جامع التحصیل: 1/109)۔ زہری کی تدلیس کے ثبوت کے لئے جو دلائل بھی پیش کیے جاتے ہیں ان کا ذکر درج ذیل ہے۔پہلا حوالہ:حافظ ابن حجر طبقات المدلسین میں فرماتے ہیں کہ امام شافعی اور امام دارقطنی نے زہری کی طرف تدلیس کو منسوب کیا ہے۔ جبکہ یہ اقوال غیر ثابت ہونے کی وجہ سے غیر قابل قبول ہیں۔ دارقطنی کی کتب سے جو حوالے ملتے ہیں وہ ویسے ہی ہیں جیسے امام ترمذی کے بیان کردہ قول کے ہیں، جو کہ نیچے بیان کیا جائے گا، لیکن ان میں سے کوئی بھی تدلیس پر دلالت نہیں کرتا۔دوسرا حوالہ:امام ابو حاتم الرازی ایک حدیث پر کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "الزهري لم يسمع من عروة هذا الحديث، فلعله دلسه "زہری نے یہ حدیث عروہ سے نہیں سنی، شاید زہری نے تدلیس کی ہے۔ (علل الحدیث لابن ابی حاتم 3/407 رقم 968)۔شاید تدلیس کی ہے سے تدلیس ثابت نہیں ہوتی۔ امام زہری جیسے بڑے اور جلیل القدر امام کی اتنی تو حیثیت و مقام ہے کہ ان پر اتنا بڑا الزام صرف ایک شاید کی بناء پر نہ لگایا جائے۔ جو لوگ تحقیق کی باتیں کرتے ہیں ان کو تو کم از کم یہ حرکت نہیں کرنی چاہیے۔سب سے بڑھ کر بات جس روایت کی امام ابو حاتم بات کر رہے ہیں کیا اس میں امام زہری نے واقعی میں تدلیس کی بھی ہے یا ایسے ہی بنا کسی قصور کے محض امام ابو حاتم کے شک کی بنیاد پر زبردستی انہیں تدلیس کا تمغہ پہنایا جا رہا ہے!؟جس روایت میں امام ابو حاتم نے امام زہری کی تدلیس کے شک کا اظہار کیا ہے وہ حدیث مکمل سیاق و سباق کے ساتھ اس طرح ہے:حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , وَنُعْمَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْلِمًا مِنْ لَعْنَةٍ تُذْكَرُ ، وَلَا انْتَقَمَ لِنَفْسِهِ شَيْئًا يُؤْتَى إِلَيْهِ ، إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرُمَاتُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَلَا ضَرَبَ بِيَدِهِ شَيْئًا قَطُّ إِلَّا أَنْ يَضْرِبَ بِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَلَا سُئِلَ شَيْئًا قَطُّ فَمَنَعَهُ إِلَّا أَنْ يُسْأَلَ مَأْثَمًا ، فَإِنَّهُ كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ ، وَلَا خُيِّرَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا ، ۔۔۔۔۔ " .
    ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی خادم یا کسی بیوی کو کبھی نہیں مارا، اور اپنے ہاتھ سے کسی پر ضرب نہیں لگائی الایہ کہ راہ خدا میں جہاد کر رہے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی بھی گستاخی ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی سے کبھی انتقام نہیں لیتے تھے البتہ اگر محار م خداوندی کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے، اور جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں، اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الا یہ کہ وہ گناہ ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتے تھے ۔ (ترجمہ ایزی قرآن و حدیث)مسند الامام احمد بن حنبل (24985)
    ایک دوسری جگہ یہی روایت اس سند سے مروی ہے:حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ خَادِمًا لَهُ قَطُّ، وَلَا امْرَأَةً، وَلَا ضَرَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ شَيْئًا قَطُّ، إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللهِ " " وَلَا خُيِّرَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ، إِلَّا كَانَ أَحَبَّهُمَا إِلَيْهِ أَيْسَرُهُمَا، حَتَّى يَكُونَ إِثْمًا، فَإِذَا كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنَ الْإِثْمِ، وَلَا انْتَقَمَ لِنَفْسِهِ مِنْ شَيْءٍ يُؤْتَى إِلَيْهِ، حَتَّى تُنْتَهَكَ حُرُمَاتُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَيَكُونَ هُوَ يَنْتَقِمُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ "ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی خادم یا کسی بیوی کو کبھی نہیں مارا ، اور اپنے ہاتھ سے کسی پر ضرب نہیں لگائی الا یہ کہ راہ خدا میں جہاد کر رہے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی سے کبھی انتقام نہیں لیتے تھے البتہ اگر محارم خدا وندی کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے۔ اور جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں، اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے ، الا یہ کہ وہ گناہ ہو، کیونکہ وہ گناہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتے تھے۔مسند الامام احمد بن حنبل (25956)نیز دیکھیں، مؤطا امام مالک (1605)، سنن الکبری للنسائی (9163)، مصنف عبد الرزاق (17942)، مسند اسحاق بن راہویہ (812)، مسند عبد بن حمید (1481)، سنن ابو داود (4786)، وغیرہ

    یہی وہ روایت ہے جس کے متعلق امام ابو حاتم نے یہ شک ظاہر کیا ہے کہ شاید زہری نے اس میں عروہ سے تدلیس کی ہے۔ جبکہ ان کا یہ شک صحیح نہیں ہے کیونکہ امام زہری نے اس روایت میں سماع کی صراحت کر دی ہے، چنانچہ،یہی روایت اختلاف یسیر کے ساتھ اسی مخرج سے صحیح بخاری میں بھی مروی ہے:

    حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا قَالَتْ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ إِلاَّ أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا، مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا، فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ، وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِنَفْسِهِ فِي شَىْءٍ قَطُّ، إِلاَّ أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللَّهِ، فَيَنْتَقِمَ بِهَا لِلَّهِ‏.‏
    ترجمہ: عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دو امر کے درمیان جب بھی اختیار دیا تو ان میں جو آسان صورت تھی اس کو اختیار کیا بشرطیکہ وہ گناہ نہ ہو اگر وہ گناہ ہوتا تو لوگوں میں سب سے زیادہ دور رہنے والے ہوتے (یعنی سب سے زیادہ اس سے پرہیز کرتے) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ذات کی خاطر کبھی انتقام نہیں لیا مگر جو شخص حرمت الہیہ کی پردہ دری کرتا یعنی احکام الٰہی کے خلاف کرتا تو اللہ کی خاطر اس سے انتقام لیتے۔
    صحیح بخاری (6126، 3560، وغیرہ)اور صحیح بخاری کے متعلق سب کا اتفاق ہے کہ اس میں روایات سماع پر محمول ہوتی ہیں۔ اگر ابھی بھی یقین نہیں ہوتا تو یہ لیں صراحت کے ساتھ سماع بھی دکھا دیتے ہیں: صحیح بخاری ہی میں یہ روایت ایک دوسری جگہ اختصار کے ساتھ مروی ہے اور اس میں امام زہری نے سماع کی صراحت بیان کر دی ہے:حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ مَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِنَفْسِهِ فِي شَىْءٍ يُؤْتَى إِلَيْهِ حَتَّى تُنْتَهَكَ مِنْ حُرُمَاتِ اللَّهِ فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ‏.‏(صحیح البخاری: 6853)
    مسند احمد میں بھی یہ روایت قدرے تفصیل سے مروی ہے اور اس میں بھی امام زہری کی تحدیث موجود ہے:
    حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ، قَالَتْ: " مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا، حَتَّى يَكُونَ إِثْمًا، فَإِذَا كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ، وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ مِنْ شَيْءٍ انْتُهِكَ مِنْهُ، إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةٌ هِيَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَيَنْتَقِمُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا "
    (مسند الامام احمد 24830)

    کیا اس واضح تصریحِ سماع کے بعد بھی امام ابو حاتم الرازی کے شک کے غلط ہونے میں کوئی شک باقی رہتا ہے؟ بلکہ جس بنیاد پر امام ابو حاتم نے امام زہری کی تدلیس کا شک ظاہر کیا تھا وہ بنیاد ہی کھوکھلی اور غلط معلوم ہوتی ہے۔ امام ابو حاتم کے مطابق اس روایت میں زہری کی ہشام سے تدلیس کا احتمال ہے جبکہ اگر اس روایت کی تمام اسانید کو اکٹھا کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اگر کسی نے بھی اس روایت میں تدلیس کی ہے تو وہ زہری نے نہیں بلکہ الٹا ہشام نے زہری سے کی ہے۔ اور محدثین نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے۔ چنانچہ، امام حاکم بیان کرتے ہیں کہ:

    قَالَ أَبِي وَسَمِعْتُ يَحْيَى ، يَقُولُ : كَانَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ ، وَمَا ضَرَبَ بِيَدِهِ شَيْئًا قَطُّ " . الْحَدِيثِ ، قَالَ يَحْيَى : فَلَمَّا سَأَلْتُهُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ " , لَمْ أَسْمَعْ مِنْ أَبِي إِلا هَذَا ، وَالْبَاقِي لَمْ أَسْمَعْهُ ، إِنَّمَا هُوَ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الذُّهْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ ، قَالَ : ثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : قَالَ لَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، فَقِيلَ لَهُ : سَمِعْتَهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ ؟ فَقَالَ : لا ، وَلا مِمَّنْ سَمِعَهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّزَّاقِ , عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ .
    (معرفۃ علوم الحدیث للحاکم: 218)

    اس سے پتہ چلتا ہے کہ امام زہری پر ایک ایسا الزام لگایا جا رہا تھا جس میں ان کا کوئی قصور ہی نہیں تھا بلکہ الٹا انہوں نے تو خود سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔ اور زہری نے ہشام سے نہیں بلکہ ہشام نے زہری سے تدلیس کی ہے۔
    تیسرا حوالہ:امام ترمذی ایک حدیث پر کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "هذا حديث لا يصح لأن الزهري لم يسمع هذا الحديث من أبي سلمة" (سنن ترمذی: 1524)۔بعض لوگ اس قول سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ابو سلمہ امام زہری کے استاد ہیں اور اگر زہری نے یہ حدیث اپنے استاد سے نہیں سنی تو اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے تدلیس کی ہے۔ جبکہ یہ قول ہرگز تدلیس پر دلالت نہیں کرتا کیونکہ اگر یہ کہا جائے کہ زہری نے یہ حدیث ابو سلمہ سے نہیں سنی تو اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں مثلا یہ روایت زہری سے اس طریق سے ثابت ہی نہیں، یا اس طریق کو بیان کرنے میں باقیوں نے مخالفت کی ہے وغیرہ، الغرض تدلیس کے علاوہ بھی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن کی بناء پر کہا گیا کہ زہری نے یہ حدیث ابو سلمہ سے نہیں سنی۔ امام ترمذی کے اس قول میں کہیں صراحت نہیں ہے کہ انہوں نے زہری کو مدلس کہا ہو۔ اور نہ ہی کسی عالم یا محدث نے کبھی اس قول کو زہری کی تدلیس کے ثبوت کے لیے پیش کیا ہے۔ امام ترمذی کہ یہ کہنے کہ "زہری نے یہ حدیث ابو سلمہ سے نہیں سنی" سے حتی الامکان یہ بھی مراد ہو سکتا ہے کہ زہری سے یہ روایت بیان کرنے والے نے اس میں شذوز کیا ہے جبکہ یہ روایت اصلا ابو سلمہ سے نہیں بلکہ کسی اور سے مروی ہے۔ چنانچہ، اسی طرف امام ترمذی نے بھی اشارہ کیا ہے۔ امام ترمذی کا مکمل قول ملاحظہ فرمائیں:هَذَا حَدِيثٌ لَا يَصِحُّ، لِأَنَّ الزُّهْرِيَّ لَمْ يَسْمَعْ هَذَا الحَدِيثَ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ سَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْهُمْ: مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، وَابْنُ أَبِي عَتِيقٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَرْقَمَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ."یہ حدیث صحیح نہیں کیونکہ الزہری نے یہ حدیث ابو سلمہ سے نہیں سنی۔ میں نے محمد (بن اسماعیل البخاری) کو کہتے ہوئے سنا کہ ایک سے زائد رواۃ، جن میں موسی بن عقبہ اور ابن ابی عتیق بھی شامل ہیں، نے اس روایت کو زہری سے سلیمان بن ارقم عن یحیی بن ابی کثیر عن ابی سلمہ عن عائشہ عن النبی ﷺ سے روایت کیا ہے۔" (سنن الترمذی: 1524)۔اس سیاق کے بعد یہ کہنا بعید نہ ہو گا کہ امام ترمذی کے یہ کہنے کہ "زہری نے یہ روایت ابو سلمہ سے نہیں سنی" کا مطلب یہ ہو گا کہ اس روایت کو امام زہری نے اصلا ہی ابو سلمہ سے نہیں بلکہ سلیمان بن ارقم سے روایت کیا ہے جس کو بیان کرنے میں یونس کو غلطی لگی ہے، نہ یہ کہ زہری نے تدلیس کی ہے!! لہٰذا اس قول کو ہرگز امام زہری کی تدلیس کے لئے پیش نہیں کیا جا سکتا۔چوتھا حوالہ:ابو جعفر الطحاوی فرماتے ہیں: "وهذا الحديث أيضا لم يسمعه الزهري من عروة إنما دلس به"اس حدیث میں بھی زہری نے عروہ سے نہیں سنا، کیونکہ انہوں نے تدلیس کی ہے۔ (شرح معانی الآثار 1/72 رقم 429)ابو جعفر الطحاوی اگرچہ صدوق فی الحدیث ہیں لیکن متعصب حنفیوں میں سے ہیں۔ اپنے مذہب کی تائید میں بعید سے بعید تر تاویلات بھی کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ علم حدیث سے ان کا ایسا تعلق نہیں کہ صرف ان کے قول کی بنیاد پر کسی راوی پر فیصلہ کیا جائے۔شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں: "وَالطَّحَاوِيُّ لَيْسَتْ عَادَتُهُ نَقْدَ الْحَدِيثِ كَنَقْدِ أَهْلِ الْعِلْمِ ; وَلِهَذَا رَوَى فِي " شَرْحِ مَعَانِي الْآثَارِ " الْأَحَادِيثَ الْمُخْتَلِفَةَ، وَإِنَّمَا يُرَجِّحُ مَا يُرَجِّحُهُ مِنْهَا فِي الْغَالِبِ مِنْ جِهَةِ الْقِيَاسِ الَّذِي رَآهُ حُجَّةً، وَيَكُونُ أَكْثَرُهَا مَجْرُوحًا مِنْ جِهَةِ الْإِسْنَادِ لَا يَثْبُتُ، وَلَا يَتَعَرَّضُ لِذَلِكَ ; فَإِنَّهُ لَمْ تَكُنْ مَعْرِفَتُهُ بِالْإِسْنَادِ كَمَعْرِفَةِ أَهْلِ الْعِلْمِ بِهِ، وَإِنْ كَانَ كَثِيرَ الْحَدِيثِ، فَقِيهًا عَالِمًا"حدیث کی نقد طحاوی کی عادت نہیں ہے جیسا کہ اہل العلم نقد کرتے ہیں، اسی لیے انہوں نے شرح معانی الآثار میں کئی مختلف احادیث بیان کیں، اور اس میں سے جن کو بھی دوسرے پر ترجیح دیتے ہیں تو اس میں زیادہ تر قیاس کی وجہ سے ہوتا ہے جسے وہ حجت سمجھتے ہیں۔ اور ان میں سے اکثر مجروح الاسناد غیر ثابت ہوتی ہیں، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اگرچہ وہ کثیر الحدیث، اور فقیہ عالم تھے لیکن ان کی معرفتِ اسناد اہل العلم کی معرفت جیسی نہیں تھی ۔ (منہاج السنہ النبویہ لابن تیمیہ: 8/195-196)۔اس کے علاوہ امام ابو بکر البیہقی معرفۃ السنن وال آثار (1/353) میں طحاوی کا مس الذکر والی حدیث پر کلام نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: "أردت أن أُبيّن خطئه في هذا. وسَكَتّ عن كثيرٍ من أمثال ذلك. فبيّنَ في كلامه أن علم الحديث لم يكن من صناعته. وإنما أخذ الكلمة بعد الكلمة من أهله، ثم لم يُحكِمها" (نیز دیکھیں لسان المیزان: 1/277)۔ایک دوسری جگہ امام بیہقی نے علامہ طحاوی کی کتاب پر کلام کرتے ہوئے فرمایا: "فيه تضعيف أخبار صحيحة عند أهل العلم بالحديث حين خالفها رأيه، وتصحيح أخبار ضعيفة عندهم حين وافقها رأيه... وتسوية الأخبار على مذهبه، وتضعيف -ما لا حيلة له فيه- بما لا يضعف به، والاحتجاج بما هو ضعيف عند غيره " (المعرفۃ: 1/217)۔اور اگر آپ اس حدیث کو کھول کر دیکھیں جس کہ تحت طحاوی نے امام زہری پر یہ الزام لگایا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ اس حدیث میں بھی طحاوی صاحب حنفیوں کے دفاع میں ہی بے جا لگے ہوئے ہیں اور ثقہ راویوں پر بھی جرح کرنے میں مصروف ہیں۔ لہٰذا جرح و تعدیل اور علم حدیث امام ابن تیمیہ و امام بیہقی کے بقول طحاوی کا فن نہیں ہے تو کسی غیر ماہر اور متعصب شخص کی بناء پر ایسے الزام کی بنیاد رکھنا محققین کا شیوہ نہیں ہے۔مزید یہ کہ امام طحاوی نے امام زہری کی عروہ سے مس الذکر والی حدیث پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حدیث کو زہری نے عروہ سے براہ راست نہیں سنا بلکہ انہوں نے تدلیس کی ہے، اور اس تدلیس کو ثابت کرنے کے لیے طحاوی صاحب اگلی روایت زہری عن ابو بکر بن محمد بن عمرو عن عروہ سے روایت کرتے ہیں۔ گویا اگر زہری نے ایک روایت ابو بکر بن محمد عن عروہ اور عن عروہ دونوں طرق سے روایت کی تو امام طحاوی نے سمجھ لیا کہ زہری نے تدلیس کی ہے جبکہ اس میں ان کی کسی نے تائید نہیں کی ہے بلکہ الٹا امام ابن حزم نے المحلی میں اس روایت کے متعلق فرمایا ہے کہ: "فَإِنْ قِيلَ: إِنَّ هَذَا خَبَرٌ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ عُرْوَةَ، قُلْنَا: مَرْحَبًا بِهَذَا، وَعَبْدُ اللَّهِ ثِقَةٌ، وَالزُّهْرِيّ لا خِلافَ فِي أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ عُرْوَةَ وَجَالَسَهُ، فَرَوَاهُ عَنْ عُرْوَةَ وَرَوَاهُ أَيْضًا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عُرْوَةَ، فَهَذَا قُوَّةٌ لِلْخَبَرِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ" اگر یہ کہا جائے کہ اس خبر کو زہری نے عن عبد اللہ بن ابی بکر بن عمرو بن حزم عن عروہ سے روایت کی ہے، تو ہم کہتے ہیں: مرحبا بھذا اور عبد اللہ ثقہ ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ زہری نے عروہ سے سنا ہے اور ان کے پاس بیٹھے ہیں، تو انہوں نے اسے عروہ سے بھی روایت کر دیا اور عبد اللہ بن ابی بکر عن عروہ سے بھی روایت کر دیا، لہٰذا یہ خبر کے لیے قوت کا باعث ہے، والحمد للہ رب العالمین۔"چنانچہ امام طحاوی کے برعکس امام ابن حزم کے نزدیک اگر امام زہری نے ایک روایت کو عبد اللہ بن ابی بکر عن عروہ سے اور پھر براہ راست عروہ سے بھی روایت کر دیا تو یہ ان کی تدلیس کی دلیل نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب ہے کہ زہری نے یہ روایت دونوں سے لی ہے۔اس کے بعد عرض ہے کہ جس روایت میں طحاوی نے امام زہری پر تدلیس کا الزام لگایا ہے اسی روایت کے ایک دوسرے طریق میں امام زہری نے خود امام عروہ بن الزبیر سے سماع کی صراحت کر دی ہے۔ (دیکھیں تاریخ بغداد: 10/451، واسنادہ صحیح؛ ومسند الشامیین للطبرانی: 2875)۔ لہٰذا جس روایت کی بنیاد پر امام زہری پر تدلیس کا الزام لگایا گیا اس میں انہوں نے تدلیس کی ہی نہیں تو الزام کیسا!؟لہٰذا، امام ابن شہاب الزہری رحمہ اللہ پر تدلیس کا الزام غلط ہے ۔آپ تدلیس سے برئ ہیں اور آپ کی تمام معنعن روایات صحیح ہیں، والحمد للہ۔امام زہری کی مراسیلچونکہ امام زہری کبار تابعین میں سے نہیں تھے اس لئے ان کی مراسیل (وہ روایات جو انہوں نے براہ راست نبی سے روایت کیں) باقیوں کی نسبت زیادہ ضعیف اور متکلم فیہ ہیں۔1- احمد بن سنان روایت کرتے ہیں کہ امام یحیی بن سعید القطان زہری کی مراسیل کو کچھ نہیں سمجھتے تھے اور فرماتے تھے: "هُوَ بِمَنْزِلَةِ الرِّيحِ" یعنی ان کی مراسیل ہوا کی طرح ہیں۔ (المراسیل لابن ابی حاتم: 1/3، واسنادہ صحیح)۔2- امام یحیی بن معین فرماتے ہیں: "مَرَاسِيلُ الْزُّهْرِيِّ لَيْسَ بِشَيْءٍ" زہری کی مراسیل کچھ چیز نہیں ہیں۔ (المراسیل لابن ابی حاتم: 1/3، واسنادہ صحیح)۔3- احمد بن ابی شریح بیان کرتے ہیں کہ امام ابو عبد اللہ محمد بن ادریس الشافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "يقولون نحابي ولو حابينا لحابينا الزهري وإرسال الزهري ليس بشئ وذاك إنا نجده يروي عن سليمان بن أرقم" لوگ کہتے ہیں کہ ہم طرف داری کرتے ہیں، اگر ہمیں کسی کی طرف داری کرنی ہوتی تو ہم زہری کی طرف داری کرتے، لیکن زہری کا ارسال کچھ نہیں ہے،کیونکہ ہم انہیں سلیمان بن ارقم (متروک) سے بھی روایت کرتا پاتے ہیں۔ (تاریخ دمشق لابن عساکر: 55/369، واسنادہ صحیح الی احمد بن ابی شریح)۔4- امام شمس الدین الذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "قُلْتُ: مَرَاسِيْلُ الزُّهْرِيِّ كَالمُعْضَلِ؛ لأَنَّهُ يَكُوْنُ قَدْ سَقَطَ مِنْهُ اثْنَانِ، وَلاَ يَسُوغُ أَنْ نَظُنَّ بِهِ أَنَّهُ أَسقَطَ الصَّحَابِيَّ فَقَطْ، وَلَوْ كَانَ عِنْدَه عَنْ صَحَابِيٍّ لأَوضَحَهُ، وَلَمَا عَجِزَ عَنْ وَصْلِهِ، وَلَوْ أَنَّهُ يَقُوْلُ: عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وَمَنْ عَدَّ مُرْسَلَ الزُّهْرِيِّ كَمُرْسَلِ سَعِيْدِ بنِ المُسَيِّبِ، وَعُرْوَةَ بنِ الزُّبَيْرِ، وَنَحْوِهِمَا، فَإِنَّهُ لَمْ يَدرِ مَا يَقُوْلُ، نَعَمْ، مُرْسَلُه كَمُرْسَلِ قَتَادَةَ، وَنَحْوِه" میں کہتا ہوں کہ زہری کی مراسیل معضل روایت کی طرح ہیں کیونکہ اس میں انہوں نے دو راویوں کو سقط کیا ہو گا، اور یہ جائز نہیں کہ ہم یہ خیال کریں کہ انہوں نے صرف صحابی کا نام ہی سقط کیا ہو گا۔ اگر زہری نے کوئی روایت براہ راست کسی صحابی سے روایت کی ہوتی تو وہ اسے بیان کر دیتے اور اس روایت کو متصل بنانے سے عاجز نہ ہوتے اگرچہ انہوں نے عن بعض اصحاب النبی ﷺ بھی کہا ہوتا۔ جو بھی زہری کی مرسل کو سعید بن المسیب اور عروہ بن الزبیر جیسے کبار تابعین کی مرسل کے برابر گنتا ہے تو اس کو خود نہیں پتہ کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ ہاں البتہ زہری کی مرسل قتادہ جیسے (صغار تابعین) کے جیسی ہے۔ (سیر اعلام النبلاء: 5/339)۔
 

منتظر

Minister (2k+ posts)
مجھے اس حدیث کے بارے میں آپ کی رائے سے 100 فی صد اتفاق ہے۔ محدثین کو امامت کا درجہ دینے والے جاہل ملّاؤں پر لعنت جو نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی پر مبنی روایات کی تاویلات پیش کرتے ہیں، صرف اس لیے کہ جن لوگوں کو انہوں نے امام بنایا ہوا ہے ان کی خدائی پہ حرف نہ آئے۔
یہی وجہ ہے میں کسی حدیث کی کتاب کو صحیح نہیں مانتا کیوں کہ انسان کی تخلیق کردہ کوئی شے غلطیوں سے مبرّا نہیں ہوسکتی۔ صحیح میں صرف قرآن کریم کو مانتا ہوں۔
یہاں میں آپ کو بتاتا چلوں کہ اس گستاخانہ روایت کا خالق زہری ہے جسے جاہل سنّی اپنا امام مانتے ہیں، حالاں کہ وہ شیعہ تھا اور اس کی روایات اصول کافی میں بھی پائی جاتی ہیں۔
تاہم میرا سوال اپنی جگہ پر موجود ہے، اور اس کا اس تھریڈ کے موضوع سے براہ راست تعلق ہے۔
شیطان اور جنات کے وجود کے ہم اس لیے قائل ہیں کہ یہ قرآن سے ثابت ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ اٹھایا جانا مشکوک ہے۔ اللہ نے لوگوں کو ان کے بارے میں شبہے میں ڈال دیا ہے۔ لیکن امام مہدی کی پیدائش، غیبت یا ظہور کچھ بھی قرآن سے ثابت نہیں۔

اور اس وجہ سے میں آپ سے پھر درخواست کروں گا کہ اس حدیث پر نظر ثانی کریں جو آپ نے بیان کی کہ اہلبیت اور قرآن ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوں گے۔ کیا مطلب ہوا اس حدیث کا؟
اس کے علاوہ میں ایک اور سوال کرنا چاہتا ہوں۔
جب 12 امام ہیں تو صرف فقہ جعفریہ ہی کیوں؟ امام جعفر کے بعد آنے والے اماموں کا اپنا فقہ کہاں گیا؟ اور امام جعفر سے پہلے والے اماموں نے کوئی فقہ ترتیب کیوں نہیں دیا؟
محترم الرضا صاحب قران میں خشک تر کا بیان ہے لیکن ہمیں کس طرح نماز کی ادائیگی کرنی ہے یہ رسول خدا نے ہمیں سکھایا ہر فرقہ اسی کو بنیاد بنا کر ہی نماز پڑھتا ہے امام مہدی کا تصور مسلمانوں کے ادھر متفقہ عقیدہ ہے کے وہ آئیں گے ہمارا عقیدہ ہے کے وہ پیدا ہو چکے ہیں اور غیبت میں ہیں جس کو اہلسنت کی کتب نے بھی درج کیا ہے اور دوبارہ آئیں جب الله کا حکم ہو گا اہلسنت کا عقیدہ ہے کے وہ پیدا ہوں گے لیکن یہ دونوں فرقے مانتے ہیں ان کے وجود کو
عقل سے دلیل لی جاے تو تب بھی اور اس بنیاد کو بنا کر کے الله عادل ہے یہ متفقہ عقیدہ ہے تمام مسلمانوں کا کے الله عادل ہے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہی کے ایک طرف ابلیس تو موجود ہو تا قیامت گمراہی پھیلانے کے لیے اور دوسری طرف حجت خدا ہو ہی نہ ؟ لوگوں کو گمراہی سے بچانے نکالنے کے لیے یه ھو ہی نہیں سکتا کے حجت خدا سے یہ زمین ایک لمحے کے لیے بھی خالی ہو؟ قران کہتا ہے ۔و نرید ان نمن علی الذین استضعفوا فی الارض و نجعلھم ائمہ و نجعلھم الوارثین
اگر آپ حدیث کے منکر ہیں تو پھر بحث کا کوئی فائدہ ہی نہیں لیکن اگر آپ صرف اس بنا پر حدیث کو ٹھکرا دیں کے اس سے شیعہ کی حقانیت ثابت ہوتی ہے تو اس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے یہ اس بنا پر کہ رہا ہوں کیوں کے امام مہدی نسل فاطمہ سے ہوں گے یہ تمام فرقوں کا مشترکہ اور متفقہ عقیدہ ہے
اگر وہ غیب بھی ہیں تو پھر بھی کوئی مسئلہ نہیں غیب ہی ہیں نا نعوذ باللہ معدوم تو نہیںاور غیب پر تو ایمان لانا لازم ہے قرآن کی رو سے بھی۔۔۔
رہی بات اس حدیث پر نظر ثانی کی تو آپ کو حدیث رسول کا مفہوم ہی سمجھ میں نہیں آیا ہے اہل بیت ع اور قرآن کے ایک ساتھ ہونے کا مطلب ہے کہ قرآن۔کو۔سمجھنے کے لئے اہل بیت ع سے تمسک کرو ان کی احادیث سے تشریح قرآن ہی اصل تشریح ہو گی نہ کہ ایرے غیرے کی

رہی بات کے آخر فقہ جعفری ہی کیوں ؟ تو عرض ہے کےقران اور اہلبیت کبھی جدا نہیں ہوں گے اس لیے تمام آئمہ کے قول میں تضاد نہیں ہو سکتا ہے امام جعفر صادق سے پہلے کیوں دوسری فقہ نہیں تھی تو عرض یہ ہے کے پہلے تمام اماموں کو وقت ہی نہیں دیا مسلمانوں نے ان کے ساتھ قتل غارت چلتی رہی اور وہ اسی میں مصروف رہےاور فقہ کی ضرورت بھی نہیں تھی کیوں کے شیعان علی خیر البریہ ہیں فرمان رسول خدا کے مطابق
جعفری فقہ اس وجہ سے مشھور ھوا پہلی وجہ یہ کے اس وقت بنو امیہ اور بنو عباس کی آپس کی کشمکش میں لوگوں کا خوف کم ہوا اور انہوں نے آپ سے رجوع کیا اور آپ باقاعدہ درس دیتے تھے جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک ہوتے تھے
دوسری بات اس زمانے میں ابوحنیفہ امام جعفر صادق ع کا بگڑا ھوا شاگرد جس نے خلفاءکی سازش سے امام صادق ع کے مقابلے میں اپنا درس شروع کیا۔تو لوگ دو قسم کے ھوگئے ۔ایک گروہ جاتے تو لوگ کہتے فقہ جعفری سیکھ رھے ہیں۔اور دوسرا گروہ کہا جاتا کہ فقہ حنفی سیکھ رھے ہیں اسی بنا پر یہ نام مشھور ہوا یہ واحد مذھب ہے جس میں اماموں کی آپس میں تکرار نہیں ہے کیوں کے یہ الله کے بناے ہوے ہیں
اس کے برعکس مسلمانوں کے بناے ہوے آئمہ اربعہ نے ایک دوسرے کی تکفیر بھی کی کیوں کے وہ خود ساختہ تھے حجت خدا نہیں تھے حکمرانوں کے ساے تلے پلے تھے اس کے برعکس آئمہ اثنا عشری الله رسول خدا کے ہاتھوں تعلیم یافتہ تھے یہ وہ امام تھے جنہوں نے کسی مدرسے سےتعلیم حاصل نہیں کی بلکہ علم ان میں ایک امام سے دوسرے اممکی طرف منتقل ہوتا رہا اور تاریخ اسلام گواہ ہے کے تمام امام اپنے وقت کے سب سے بڑے عالم فقیہ بزرگ تھے جنکی عظمت کوسب نے تسلیم کیا
 

الرضا

Senator (1k+ posts)
محترم الرضا صاحب قران میں خشک تر کا بیان ہے لیکن ہمیں کس طرح نماز کی ادائیگی کرنی ہے یہ رسول خدا نے ہمیں سکھایا ہر فرقہ اسی کو بنیاد بنا کر ہی نماز پڑھتا ہے امام مہدی کا تصور مسلمانوں کے ادھر متفقہ عقیدہ ہے کے وہ آئیں گے ہمارا عقیدہ ہے کے وہ پیدا ہو چکے ہیں اور غیبت میں ہیں جس کو اہلسنت کی کتب نے بھی درج کیا ہے اور دوبارہ آئیں جب الله کا حکم ہو گا اہلسنت کا عقیدہ ہے کے وہ پیدا ہوں گے لیکن یہ دونوں فرقے مانتے ہیں ان کے وجود کو
عقل سے دلیل لی جاے تو تب بھی اور اس بنیاد کو بنا کر کے الله عادل ہے یہ متفقہ عقیدہ ہے تمام مسلمانوں کا کے الله عادل ہے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہی کے ایک طرف ابلیس تو موجود ہو تا قیامت گمراہی پھیلانے کے لیے اور دوسری طرف حجت خدا ہو ہی نہ ؟ لوگوں کو گمراہی سے بچانے نکالنے کے لیے یه ھو ہی نہیں سکتا کے حجت خدا سے یہ زمین ایک لمحے کے لیے بھی خالی ہو؟ قران کہتا ہے ۔و نرید ان نمن علی الذین استضعفوا فی الارض و نجعلھم ائمہ و نجعلھم الوارثین
اگر آپ حدیث کے منکر ہیں تو پھر بحث کا کوئی فائدہ ہی نہیں لیکن اگر آپ صرف اس بنا پر حدیث کو ٹھکرا دیں کے اس سے شیعہ کی حقانیت ثابت ہوتی ہے تو اس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے یہ اس بنا پر کہ رہا ہوں کیوں کے امام مہدی نسل فاطمہ سے ہوں گے یہ تمام فرقوں کا مشترکہ اور متفقہ عقیدہ ہے
اگر وہ غیب بھی ہیں تو پھر بھی کوئی مسئلہ نہیں غیب ہی ہیں نا نعوذ باللہ معدوم تو نہیںاور غیب پر تو ایمان لانا لازم ہے قرآن کی رو سے بھی۔۔۔
رہی بات اس حدیث پر نظر ثانی کی تو آپ کو حدیث رسول کا مفہوم ہی سمجھ میں نہیں آیا ہے اہل بیت ع اور قرآن کے ایک ساتھ ہونے کا مطلب ہے کہ قرآن۔کو۔سمجھنے کے لئے اہل بیت ع سے تمسک کرو ان کی احادیث سے تشریح قرآن ہی اصل تشریح ہو گی نہ کہ ایرے غیرے کی

رہی بات کے آخر فقہ جعفری ہی کیوں ؟ تو عرض ہے کےقران اور اہلبیت کبھی جدا نہیں ہوں گے اس لیے تمام آئمہ کے قول میں تضاد نہیں ہو سکتا ہے امام جعفر صادق سے پہلے کیوں دوسری فقہ نہیں تھی تو عرض یہ ہے کے پہلے تمام اماموں کو وقت ہی نہیں دیا مسلمانوں نے ان کے ساتھ قتل غارت چلتی رہی اور وہ اسی میں مصروف رہےاور فقہ کی ضرورت بھی نہیں تھی کیوں کے شیعان علی خیر البریہ ہیں فرمان رسول خدا کے مطابق
جعفری فقہ اس وجہ سے مشھور ھوا پہلی وجہ یہ کے اس وقت بنو امیہ اور بنو عباس کی آپس کی کشمکش میں لوگوں کا خوف کم ہوا اور انہوں نے آپ سے رجوع کیا اور آپ باقاعدہ درس دیتے تھے جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک ہوتے تھے
دوسری بات اس زمانے میں ابوحنیفہ امام جعفر صادق ع کا بگڑا ھوا شاگرد جس نے خلفاءکی سازش سے امام صادق ع کے مقابلے میں اپنا درس شروع کیا۔تو لوگ دو قسم کے ھوگئے ۔ایک گروہ جاتے تو لوگ کہتے فقہ جعفری سیکھ رھے ہیں۔اور دوسرا گروہ کہا جاتا کہ فقہ حنفی سیکھ رھے ہیں اسی بنا پر یہ نام مشھور ہوا یہ واحد مذھب ہے جس میں اماموں کی آپس میں تکرار نہیں ہے کیوں کے یہ الله کے بناے ہوے ہیں
اس کے برعکس مسلمانوں کے بناے ہوے آئمہ اربعہ نے ایک دوسرے کی تکفیر بھی کی کیوں کے وہ خود ساختہ تھے حجت خدا نہیں تھے حکمرانوں کے ساے تلے پلے تھے اس کے برعکس آئمہ اثنا عشری الله رسول خدا کے ہاتھوں تعلیم یافتہ تھے یہ وہ امام تھے جنہوں نے کسی مدرسے سےتعلیم حاصل نہیں کی بلکہ علم ان میں ایک امام سے دوسرے اممکی طرف منتقل ہوتا رہا اور تاریخ اسلام گواہ ہے کے تمام امام اپنے وقت کے سب سے بڑے عالم فقیہ بزرگ تھے جنکی عظمت کوسب نے تسلیم کیا
آپ نے یہاں بنیادی طور پر 3 باتیں کی ہیں۔ میں ایک ایک کر کے جواب دینے کی کوشش کرتا ہوں۔
اول آپ کا فرمانا تھا۔

الله عادل ہے یہ متفقہ عقیدہ ہے تمام مسلمانوں کا کے الله عادل ہے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہی کے ایک طرف ابلیس تو موجود ہو تا قیامت گمراہی پھیلانے کے لیے اور دوسری طرف حجت خدا ہو ہی نہ ؟
یعنی یہاں آپ لاجک لے کر آئے ہیں، قرآن سے کوئی ثبوت نہیں لائے۔ آپ کی عقل کے مطابق چوں کہ شیطان لوگوں کو بہکانے کے لیے موجود ہے اس لیے اللہ کا نمائندہ بھی لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لیے موجود ہونا چاہیے۔
اگر میں آپ کی اس لاجک سے اتفاق کروں تو آپ سے پوچھوں گا کہ وہ اللہ کا نمائندہ کون ہے۔ آپ کہیں گے کہ وہ امام مہدی ہیں۔ میں پھر عقل یعنی لاجک استعمال کرکے پوچھوں گا کہ وہ امام مہدی کدھر ہیں؟ آپ فرمائیں گے کہ جس طرح شیطان غائب ہے ویسے ہی امام مہدی بھی غائب ہیں۔ یہی ناں؟ تو میں اپنی لاجک استعمال کر کے کہوں گا کہ جب دونوں ہی غائب ہیں تو میں کیوں حاضر ہوں، مجھے بھی غائب ہوجانا چاہیے۔ کیا خیال ہے؟

اس کے بعد آپ فرماتے ہیں کہ
اہل بیت ع اور قرآن کے ایک ساتھ ہونے کا مطلب ہے کہ قرآن۔کو۔سمجھنے کے لئے اہل بیت ع سے تمسک کرو ان کی احادیث سے تشریح قرآن ہی اصل تشریح ہو گی نہ کہ ایرے غیرے کی
مگر میری مجبوری وہی ہے کہ میں اہل بیت سے تمسک کیسے کروں، وہ تو غائب ہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ اہل بیت نہیں تو ان کی حدیث سے تمسک کرو۔ مگر یہاں آپ خود کئی بار مان چکے ہیں کہ شیعوں کے ہاں کوئی صحیح حدیث کی کتاب نہیں ہے۔ گویا شیعوں کے ہاں جو حدیث ہے وہ مشکوک ہے؟ یعنی شیعہ احادیث کوئی سی بھی اٹھا لیں، اس کی صحت کے بارے میں کسی معصوم امام کا کوئی سرٹیفکیٹ موجود ہے؟
اگر نہیں ہے تو ہم کیسے مان لیں کہ محمد بن یعقوب کلینی نے اصول کافی میں جو حدیثیں جمع کی ہیں وہ صحیح ہیں، جعلی اور گھڑی ہوئی نہیں ہیں۔
آپ اس بات سے بے فکر ہوجائیے کہ میں حدیث کا منکر ہوں یا نہیں۔ فی الحال تو آپ اپنے عقیدے کی بنیاد کی وضاحت فرمائیے۔
تیسری بات آپ نے کی
رہی بات کے آخر فقہ جعفری ہی کیوں ؟ تو عرض ہے کےقران اور اہلبیت کبھی جدا نہیں ہوں گے اس لیے تمام آئمہ کے قول میں تضاد نہیں ہو سکتا ہے امام جعفر صادق سے پہلے کیوں دوسری فقہ نہیں تھی تو عرض یہ ہے کے پہلے تمام اماموں کو وقت ہی نہیں دیا مسلمانوں نے ان کے ساتھ قتل غارت چلتی رہی اور وہ اسی میں مصروف رہےاور فقہ کی ضرورت بھی نہیں تھی کیوں کے شیعان علی خیر البریہ ہیں

یعنی آپ نے شیعہ مذہب کا ایک اصول بتایا ہے کہ ائمہ کے قول میں تضاد نہیں ہوسکتا۔ جو بات امام جعفر صادق نے بتائی وہی امام علی نے بتائی ہوگی اور وہی امام حسن عسکری اپنے پیروکاروں کو بتاتے ہوں گے۔ مگر میرا سوال ہے کہ آپ کے اس عقیدے اور مفروضے کی بنیاد کیا ہے؟ کوئی کیسے مان لے کہ جو بات امام جعفر صادق نے بتائی، بعینہ وہی بات امام علی یا محمد ﷺ نے بتائی ہوگی؟ کوئی سرٹیفکیٹ ہے آپ کے پاس؟ میں کیسے مان لوں کہ امام جعفر صادق اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے نمائندے یعنی کہ معصوم امام ہیں؟
جناب آپ کے عقیدے کی ایک ایک بنیاد حدیثوں پر کھڑی ہے، اور حدیثوں کا کچھ اتا پتا نہیں ہے۔
 
Last edited:

الرضا

Senator (1k+ posts)


محترم الرضا صاحب مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کے آپ کی معلومات نہ ھونے کے قریب ہیں احادیث اور راویان کی جب بات چلے تو آپ نے اتنی جلدی سے زھری کو شیعہ بنا ڈالا کے اس کی روایات شیعہ کتب میں بھی ہیں
محترم یہ کوئی دلیل نہیں بنتی ہے پہلی بات تو یہ ہے کے ابھی تک اپنے صرف لفاظی ہی کی ہے اور اپنی کسی بات کا کوئی حوالہ سبوت بلکل بھی نہیں دیا اس بار بھی آپ نے سنی سنائی مولویوں کی بات پر آ کر یہ بات لکھ دی تاکہ صحیح بخاری کو بچایا جا سکے اور کتنی گستاخی کی روایات زھری کے علاوہ کتنوں نے بیان کیں اس پر بعد میں بات کرتا ہوں پہلے آپ کو یہ بتاتا ہوں کے راویان دونوں مذاہب کے ایک دوسرے کی کتب میں موجود ہیں

اگر میں کہہ رہا ہوں کہ زہری شیعہ ہے، اور اس کی حدیثیں اصول کافی میں پائی جاتی ہیں تو اس سے صحیح بخاری کو بچانا کہاں سے ثابت ہوتا ہے؟ زہری اگر ناقابل اعتبار راوی ٹہر جاتا ہے تو صحیح بخاری کی صحت پر سوالیہ نشان آیا کہ نہیں؟
زہری کی روایات میں نہ صرف گستاخی رسول ﷺ پائی جاتی ہے بلکہ یہ امہات المؤمنین پر الزامات الگ لگاتا ہے۔ افک کی روایات اسی مردود شیطان زہری سے منقول ہیں۔ اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہ پر الزامات لگانے والا ثقہ اور متقی نہیں ہوسکتا۔
مجھے موقع ملا تو تفصیلی علمی بحث کے ذریعے اس شیطان زہری کی پول کھولوں گا۔
 

منتظر

Minister (2k+ posts)
آپ نے یہاں بنیادی طور پر 3 باتیں کی ہیں۔ میں ایک ایک کر کے جواب دینے کی کوشش کرتا ہوں۔
اول آپ کا فرمانا تھا۔

الله عادل ہے یہ متفقہ عقیدہ ہے تمام مسلمانوں کا کے الله عادل ہے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہی کے ایک طرف ابلیس تو موجود ہو تا قیامت گمراہی پھیلانے کے لیے اور دوسری طرف حجت خدا ہو ہی نہ ؟
یعنی یہاں آپ لاجک لے کر آئے ہیں، قرآن سے کوئی ثبوت نہیں لائے۔ آپ کی عقل کے مطابق چوں کہ شیطان لوگوں کو بہکانے کے لیے موجود ہے اس لیے اللہ کا نمائندہ بھی لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لیے موجود ہونا چاہیے۔
اگر میں آپ کی اس لاجک سے اتفاق کروں تو آپ سے پوچھوں گا کہ وہ اللہ کا نمائندہ کون ہے۔ آپ کہیں گے کہ وہ امام مہدی ہیں۔ میں پھر عقل یعنی لاجک استعمال کرکے پوچھوں گا کہ وہ امام مہدی کدھر ہیں؟ آپ فرمائیں گے کہ جس طرح شیطان غائب ہے ویسے ہی امام مہدی بھی غائب ہیں۔ یہی ناں؟ تو میں اپنی لاجک استعمال کر کے کہوں گا کہ جب دونوں ہی غائب ہیں تو میں کیوں حاضر ہوں، مجھے بھی غائب ہوجانا چاہیے۔ کیا خیال ہے؟

اس کے بعد آپ فرماتے ہیں کہ
اہل بیت ع اور قرآن کے ایک ساتھ ہونے کا مطلب ہے کہ قرآن۔کو۔سمجھنے کے لئے اہل بیت ع سے تمسک کرو ان کی احادیث سے تشریح قرآن ہی اصل تشریح ہو گی نہ کہ ایرے غیرے کی
مگر میری مجبوری وہی ہے کہ میں اہل بیت سے تمسک کیسے کروں، وہ تو غائب ہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ اہل بیت نہیں تو ان کی حدیث سے تمسک کرو۔ مگر یہاں آپ خود کئی بار مان چکے ہیں کہ شیعوں کے ہاں کوئی صحیح حدیث کی کتاب نہیں ہے۔ گویا شیعوں کے ہاں جو حدیث ہے وہ مشکوک ہے؟ یعنی شیعہ احادیث کوئی سی بھی اٹھا لیں، اس کی صحت کے بارے میں کسی معصوم امام کا کوئی سرٹیفکیٹ موجود ہے؟
اگر نہیں ہے تو ہم کیسے مان لیں کہ محمد بن یعقوب کلینی نے اصول کافی میں جو حدیثیں جمع کی ہیں وہ صحیح ہیں، جعلی اور گھڑی ہوئی نہیں ہیں۔
آپ اس بات سے بے فکر ہوجائیے کہ میں حدیث کا منکر ہوں یا نہیں۔ فی الحال تو آپ اپنے عقیدے کی بنیاد کی وضاحت فرمائیے۔
تیسری بات آپ نے کی
رہی بات کے آخر فقہ جعفری ہی کیوں ؟ تو عرض ہے کےقران اور اہلبیت کبھی جدا نہیں ہوں گے اس لیے تمام آئمہ کے قول میں تضاد نہیں ہو سکتا ہے امام جعفر صادق سے پہلے کیوں دوسری فقہ نہیں تھی تو عرض یہ ہے کے پہلے تمام اماموں کو وقت ہی نہیں دیا مسلمانوں نے ان کے ساتھ قتل غارت چلتی رہی اور وہ اسی میں مصروف رہےاور فقہ کی ضرورت بھی نہیں تھی کیوں کے شیعان علی خیر البریہ ہیں

یعنی آپ نے شیعہ مذہب کا ایک اصول بتایا ہے کہ ائمہ کے قول میں تضاد نہیں ہوسکتا۔ جو بات امام جعفر صادق نے بتائی وہی امام علی نے بتائی ہوگی اور وہی امام حسن عسکری اپنے پیروکاروں کو بتاتے ہوں گے۔ مگر میرا سوال ہے کہ آپ کے اس عقیدے اور مفروضے کی بنیاد کیا ہے؟ کوئی کیسے مان لے کہ جو بات امام جعفر صادق نے بتائی، بعینہ وہی بات امام علی یا محمد ﷺ نے بتائی ہوگی؟ کوئی سرٹیفکیٹ ہے آپ کے پاس؟ میں کیسے مان لوں کہ امام جعفر صادق اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے نمائندے یعنی کہ معصوم امام ہیں؟
جناب آپ کے عقیدے کی ایک ایک بنیاد حدیثوں پر کھڑی ہے، اور حدیثوں کا کچھ اتا پتا نہیں ہے۔
محترم الرضا صاحب ابھی تک آپ نے اپنے حق میں کوئی دلیل نہ تو دی نہ ہی اس کو ثابت کیا سے اپنی یا میری کتب سے دوسری طرف جو دلیلیں میں دیتا ہوں آپ کی کتب سے ان کا علمی رد کرنے کی بجاے آپ اپنی مرضی سے انپر اشکال لگا کر رد کر دیتے ہیں بغیر کسی حوالے کے نہ تو آپ میرے کسی حوالے کا علمی رد کر سکیں ہیں نہ ہی اپنے دعوے کو ثابت کر سکے
بات آگے کیسے بڑھے گی میں آپ سے سوال کرنا چاہتا ہوں تاکہ بات آگے بڑھے کیوں کے ابھی مجھے معلوم ہی نہیں کے میں کس سے مخاطب ہوں منکر حدیث سے یا اپنی مرضی والی احادیث کو ماننے والے یعنی کے فقہ مرضیہ سے یاد رہے فرقہ مرضیہ سے مراد صرف اور صرف یہ ہے کے کچھ لوگ ہوتے ہیں جو صرف اپنی مرضی کی بات لیتے ہیں جس پر وں کا دل چاہے
مجھے آپ سے جواب چاہیے ہے کے آپ کس فقہ سے تعلق رکھتے ہیں ؟
یعنی کے چاروں اماموں میں سے کس کی تقلید میں ہیں یا پھر کوئی نئی فقہ ہے تو وہ بھی بتا دیں
اور اگر آپ قران سے ہی سارے مسلے حل کر لیتے ہیں خود ہی تو براے مہربانی یہ جو بھی ترقہ آپ نماز میں ادا کرتے ہیں اور کتنی رکعت ادا کرتے ہیں فجر ظہر عصر مغرب عشاء کی وہ مجھے قران سے ثابت کر دیں
اب وقت آگیا ہے کے میں آپ سے سوال کروں تاکہ بات کو اگے بڑھایا جا سکے
 

منتظر

Minister (2k+ posts)
اگر میں کہہ رہا ہوں کہ زہری شیعہ ہے، اور اس کی حدیثیں اصول کافی میں پائی جاتی ہیں تو اس سے صحیح بخاری کو بچانا کہاں سے ثابت ہوتا ہے؟ زہری اگر ناقابل اعتبار راوی ٹہر جاتا ہے تو صحیح بخاری کی صحت پر سوالیہ نشان آیا کہ نہیں؟
زہری کی روایات میں نہ صرف گستاخی رسول ﷺ پائی جاتی ہے بلکہ یہ امہات المؤمنین پر الزامات الگ لگاتا ہے۔ افک کی روایات اسی مردود شیطان زہری سے منقول ہیں۔ اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہ پر الزامات لگانے والا ثقہ اور متقی نہیں ہوسکتا۔
مجھے موقع ملا تو تفصیلی علمی بحث کے ذریعے اس شیطان زہری کی پول کھولوں گا۔
محترم میں نہ مانوں کا تو علاج ہی نہیں ہے امی جان عایشہ کی گستاخی اس سے بڑھ کر کیا ہو گی جو اوپر میں حوالے دے چکا ہوں جس میں وہ سب کام جس کی شریعت اجازت نہیں دیتی وہ رسول خدا اور خود سے منسوب کر رہی ہیں وہاں پر تو زھری موجود ہی نہیں ہے اس کا الزام کس پر لگے گا ؟
زہری کی توثیق ثابت کر چکا ہوں مزید اس پر آپ کی بحث بیکار ہے کیوں کے جن کے میں نے حوالے لگاے ہیں وہ آپ لوگوں کے ہی ہیں اور بلند مقام رکھتے ہیں صرف بخاری شریف کو بچانے کا کوئی فائدہ نہیں بخاری جی نے تو اور بھی کچھ لکھا ہے وہ پیش کر چکا ہوں
امی جان حضرت عایشہ کی گستاخی جس کی طرف آپ نشاندھی فرنما رہے ہیں اس میں کون کون شامل تھا کچھ معلوم بھی ہے آپ کو ؟ اس کو چھیڑنے سے آپ کے اس عقیدہ عدالت صحابہ کی سبکی ہو گی امی جان پر الزام لگانے والا ثقہ متقی نہیں ہو سکتا پھر تو جو میں نے دوسرے حوالے لگاے ہیں ان پر بھی آپ یہی دعوه کریں جناب محترم الرضا صاحب آپ کے پاس کوپی دلیل ہے ہی نہیں ہے صرف زبانی جمع خرچ کا فائدہ نہیں میں نے جو زھری کے بارے اتنی چھان بین کی اس کا رد کون کرے گا ؟
 

الرضا

Senator (1k+ posts)
محترم الرضا صاحب ابھی تک آپ نے اپنے حق میں کوئی دلیل نہ تو دی نہ ہی اس کو ثابت کیا سے اپنی یا میری کتب سے دوسری طرف جو دلیلیں میں دیتا ہوں آپ کی کتب سے ان کا علمی رد کرنے کی بجاے آپ اپنی مرضی سے انپر اشکال لگا کر رد کر دیتے ہیں بغیر کسی حوالے کے نہ تو آپ میرے کسی حوالے کا علمی رد کر سکیں ہیں نہ ہی اپنے دعوے کو ثابت کر سکے
بات آگے کیسے بڑھے گی میں آپ سے سوال کرنا چاہتا ہوں تاکہ بات آگے بڑھے کیوں کے ابھی مجھے معلوم ہی نہیں کے میں کس سے مخاطب ہوں منکر حدیث سے یا اپنی مرضی والی احادیث کو ماننے والے یعنی کے فقہ مرضیہ سے یاد رہے فرقہ مرضیہ سے مراد صرف اور صرف یہ ہے کے کچھ لوگ ہوتے ہیں جو صرف اپنی مرضی کی بات لیتے ہیں جس پر وں کا دل چاہے
مجھے آپ سے جواب چاہیے ہے کے آپ کس فقہ سے تعلق رکھتے ہیں ؟
یعنی کے چاروں اماموں میں سے کس کی تقلید میں ہیں یا پھر کوئی نئی فقہ ہے تو وہ بھی بتا دیں
اور اگر آپ قران سے ہی سارے مسلے حل کر لیتے ہیں خود ہی تو براے مہربانی یہ جو بھی ترقہ آپ نماز میں ادا کرتے ہیں اور کتنی رکعت ادا کرتے ہیں فجر ظہر عصر مغرب عشاء کی وہ مجھے قران سے ثابت کر دیں
اب وقت آگیا ہے کے میں آپ سے سوال کروں تاکہ بات کو اگے بڑھایا جا سکے
راوی حدیث کے ثقہ ہونے کا اصول وہی ہونا چاہیے جو ایک گواہی دینے والے کا ہونا چاہیے۔ راوی متقی ہو، حافظہ اچھا ہو، شیعہ سے کوئی ایسی حدیث نہ لی جائے جس کا تعلق صحابہ یا امہات المؤمنین سے ہو کیوں کہ یہ بات مسلّم ہے کہ شیعہ لوگ صحابہ کرام اور امہات المؤمنین کی غالب اکثریت سے نفرت کرتے ہیں۔ آسان زبان میں عمران خان کے بارے میں جاننا ہے تو پی ٹی آئی والے یا نون لیگی سے نہیں پوچھنا چاہیے، کسی نیوٹرل بندے سے پوچھنا چاہیے۔
کیا آپ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں؟
 

الرضا

Senator (1k+ posts)
محترم میں نہ مانوں کا تو علاج ہی نہیں ہے امی جان عایشہ کی گستاخی اس سے بڑھ کر کیا ہو گی جو اوپر میں حوالے دے چکا ہوں جس میں وہ سب کام جس کی شریعت اجازت نہیں دیتی وہ رسول خدا اور خود سے منسوب کر رہی ہیں وہاں پر تو زھری موجود ہی نہیں ہے اس کا الزام کس پر لگے گا ؟
زہری کی توثیق ثابت کر چکا ہوں مزید اس پر آپ کی بحث بیکار ہے کیوں کے جن کے میں نے حوالے لگاے ہیں وہ آپ لوگوں کے ہی ہیں اور بلند مقام رکھتے ہیں صرف بخاری شریف کو بچانے کا کوئی فائدہ نہیں بخاری جی نے تو اور بھی کچھ لکھا ہے وہ پیش کر چکا ہوں
امی جان حضرت عایشہ کی گستاخی جس کی طرف آپ نشاندھی فرنما رہے ہیں اس میں کون کون شامل تھا کچھ معلوم بھی ہے آپ کو ؟ اس کو چھیڑنے سے آپ کے اس عقیدہ عدالت صحابہ کی سبکی ہو گی امی جان پر الزام لگانے والا ثقہ متقی نہیں ہو سکتا پھر تو جو میں نے دوسرے حوالے لگاے ہیں ان پر بھی آپ یہی دعوه کریں جناب محترم الرضا صاحب آپ کے پاس کوپی دلیل ہے ہی نہیں ہے صرف زبانی جمع خرچ کا فائدہ نہیں میں نے جو زھری کے بارے اتنی چھان بین کی اس کا رد کون کرے گا ؟
اگر کسی حدیث میں سیدہ فاطمہ زہرہ کے متعلق قابل اعتراض مواد ہو تو کیا آپ تحقیق نہیں کریں گے کہ کہیں راوی فاطمہ رضی اللہ عنہا کا دشمن تو نہیں؟
ایک دو ٹکے کے راوی کی یہ اوقات نہیں ہوسکتی کہ برگزیدہ ہستیوں کے بارے میں کوئی بات کرے اور آسانی سے آگے بڑھ جائے۔ اس شخص کے بیان کی تحقیق ہونی چاہیے۔ اس شخص کے کردار اور اس کی فرقہ وارانہ وابستگی کا پتہ لگانا چاہیے۔
 

منتظر

Minister (2k+ posts)
راوی حدیث کے ثقہ ہونے کا اصول وہی ہونا چاہیے جو ایک گواہی دینے والے کا ہونا چاہیے۔ راوی متقی ہو، حافظہ اچھا ہو، شیعہ سے کوئی ایسی حدیث نہ لی جائے جس کا تعلق صحابہ یا امہات المؤمنین سے ہو کیوں کہ یہ بات مسلّم ہے کہ شیعہ لوگ صحابہ کرام اور امہات المؤمنین کی غالب اکثریت سے نفرت کرتے ہیں۔ آسان زبان میں عمران خان کے بارے میں جاننا ہے تو پی ٹی آئی والے یا نون لیگی سے نہیں پوچھنا چاہیے، کسی نیوٹرل بندے سے پوچھنا چاہیے۔
کیا آپ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں؟
راوی حدیث کے ثقہ ہونے کا اصول دونوں گروپس نے صدیوں پہلے ہی رائج کر دیا ہے اگر آپ کے اصول کو مان لیا جاے تو پھر ایک سو چالیس راویوں کے نام میں نے بزبانی قاری حنیف ڈار کے ہی دکھا دیے ہیں اس حساب سے تو پھر آپ اپنی تمام کتب کو بند ہی کردیں کیوں کے ایک سو چالیس کا ہندسہ بہت بڑا ہوتا ہے
اور بات میری آپ کی مرضی سے نہیں چلتی ہے مجھے دکھ کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے
رہی بات ام المومنین یا اصحاب کی تو امی جان کے واقعہ افک کو ہی لے لیا جاے تو بات اصحاب پر جا پہنچتی ہے آپ نے اس پر غور کیا ہی نہیں ہے
جن اہلسنت کے ساتھ میں اٹھا بیٹھا ہوں اور پڑھا ہے آپ کی کتب میں تو نواصب اور خوارج بھی راوی ہیں حتہ کے قاتلان حسین بھی راوی ہیں کیا آپ کو ان باتوں کا علم ہے ؟ نہیں تو ذرا چیک تو کریں ڈال پوری کی پوری ہی کالی ملے گی محترم الرضا صاحب اس لیے گزارش کروں گا کے جو اصول رائج ہوے ہیں ان پر ہی چلا جاے کیوں کے اس وقت جب راویوں کو جانچ جاتا تھا تو اصول جو ہوتا تھا اس میں بہت چھان بین ہوتی تھی
پی ٹی ای یا نوں لیگ والا اصول ادھر لاگو نہیں ہوتا ہے
 

منتظر

Minister (2k+ posts)
اگر کسی حدیث میں سیدہ فاطمہ زہرہ کے متعلق قابل اعتراض مواد ہو تو کیا آپ تحقیق نہیں کریں گے کہ کہیں راوی فاطمہ رضی اللہ عنہا کا دشمن تو نہیں؟
ایک دو ٹکے کے راوی کی یہ اوقات نہیں ہوسکتی کہ برگزیدہ ہستیوں کے بارے میں کوئی بات کرے اور آسانی سے آگے بڑھ جائے۔ اس شخص کے بیان کی تحقیق ہونی چاہیے۔ اس شخص کے کردار اور اس کی فرقہ وارانہ وابستگی کا پتہ لگانا چاہیے۔
بلکل تحقیق کرتے ہیں اور ہمارے ہاں ہوتا رہا ہے جو دشمن زہرہ سلام الله ہو وہ ہمارے لیے مردود ہے لیکن امی جان پر جنہوں نے تہمت لگائی ان کو تو آپ رضی الله لکھتے ہیں آخر کیوں ؟
 
Last edited:

منتظر

Minister (2k+ posts)
اگر کسی حدیث میں سیدہ فاطمہ زہرہ کے متعلق قابل اعتراض مواد ہو تو کیا آپ تحقیق نہیں کریں گے کہ کہیں راوی فاطمہ رضی اللہ عنہا کا دشمن تو نہیں؟
ایک دو ٹکے کے راوی کی یہ اوقات نہیں ہوسکتی کہ برگزیدہ ہستیوں کے بارے میں کوئی بات کرے اور آسانی سے آگے بڑھ جائے۔ اس شخص کے بیان کی تحقیق ہونی چاہیے۔ اس شخص کے کردار اور اس کی فرقہ وارانہ وابستگی کا پتہ لگانا چاہیے۔
میرا آپ سے سوال ہے امی جان حضرت عایشہ اپنے بھائی محمد بن ابو بکر کے قاتل پر بد دعا کریں وہ آپ کے نزدیک رضی الله اور امیر کیسے بن جاتا ہے ؟
امام حسین کا قاتل آپ کے ہاں ثقہ راوی کیوں ہوتا ہے ؟
دوہرا میعار تو نہیں چلنا چاہیے ہے
 

Tabbot Mein Keel

Voter (50+ posts)


محترم الرضا صاحب مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کے آپ کی معلومات نہ ھونے کے قریب ہیں احادیث اور راویان کی جب بات چلے تو آپ نے اتنی جلدی سے زھری کو شیعہ بنا ڈالا کے اس کی روایات شیعہ کتب میں بھی ہیں
محترم یہ کوئی دلیل نہیں بنتی ہے پہلی بات تو یہ ہے کے ابھی تک اپنے صرف لفاظی ہی کی ہے اور اپنی کسی بات کا کوئی حوالہ سبوت بلکل بھی نہیں دیا اس بار بھی آپ نے سنی سنائی مولویوں کی بات پر آ کر یہ بات لکھ دی تاکہ صحیح بخاری کو بچایا جا سکے اور کتنی گستاخی کی روایات زھری کے علاوہ کتنوں نے بیان کیں اس پر بعد میں بات کرتا ہوں پہلے آپ کو یہ بتاتا ہوں کے راویان دونوں مذاہب کے ایک دوسرے کی کتب میں موجود ہیں

ﺍﮬﻞ ﺳﻨﺖ علما ﻭ ﻣﺤﺪﺛﯿﻦ ﺷﯿﻌﮧ ﻣﺤﺪﺛﯿﻦ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺯﯾﺮﻭ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ۔ ﮬﻢ
ﺟﺲ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﻮ ﺍﺻﺢ ﺍﻟﮑﺘﺐ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﻣﯿﮟ ۱۰۰ ﺭﺍﻭﯼ ﺷﯿﻌﮧ ﮨﯿﮟ ۔
ﺍﺏ ﺁﭖ ﺷﯿﻌﮧ ﮐﻮ ﺷﺮ ﺍﻟﺒﺮﯾﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﯾﺎ ﮐﺎﻓﺮ ﻭ ﻣﺮﺗﺪ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ
ﺗﺸﺮﯾﻊ ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺳﺘﻮﻥ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﮯ ﮐﻨﺪﮬﻮﮞ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﮬﻮﺍ ﮬﮯ ، ﺍﻭﺭ
ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ ﮐﺎ ﻋﺎﻟﻢ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻣﺎﻡ ﺫﮬﺒﯽ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺗﻮﺟﮧ ﺟﺐ ﺍﺱ
ﻃﺮﻑ ﺩﻻﺋﯽ ﮔﺊ ﺗﻮ ﺑﮯ ﺑﺴﯽ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﮬﻢ ﺍﮔﺮ
ﺷﯿﻌﮧ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺗﺮﮎ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﺗﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﺑﭽﮯ ﮔﺎ ﮐﯿﺎ ؟ ﺟﺐ ﯾﺤﯽ
ﺍﺑﻦ ﻣﻌﯿﻦ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺷﺎﮔﺮﺩﻭﮞ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﺤﺪﺙ
ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺯﺍﻕ ﺻﻨﻌﺎﻧﯽ ﺷﯿﻌﮧ ﮬﻮ ﮔﯿﺎ ﮬﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮬﻢ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺗﺮﮎ
ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ ؟ ﺗﻮ ﺍﺑﻦ ﻣﻌﯿﻦ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺯﺍﻕ ﻣﺮﺗﺪ ﺑﮭﯽ ﮬﻮ
ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﮬﻢ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺗﺮﮎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ۔ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺟﺐ
ﺧﺮﺑﻮﺯﮦ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﺿﻄﺮﺍﺭ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺘﮯ ﮐﮧ
ﺍﺱ ﺧﺮﺑﻮﺯﮮ ﭘﺮ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﭘﻠﯿﺪ ﮨﮯ ،، ﺷﯿﻌﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺑﮭﺎﺋﯽ
ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻦ ﮐﺎ ﺳﺘﻮﻥ ﮨﮯ ،، ﺑﺎﻗﯽ ﺑﺪﻋﺘﯽ ﺷﯿﻌﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ
ﺍﮬﻠﺴﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﻤﯽ ﻧﮩﯿﮟ ۔
ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﮧ ﮐﮯ 140 ﺷﯿﻌﮧ ﺷﯿﻮﺥ ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﮧ ﮐﮯ ﻣﺼﻨﻔﯿﻦ ﮐﮯ
ﺍﺳﺘﺎﺫ ﺭﮨﮯ ،،
ﺣﺮﻑ ﺍﻷﻟﻒ
‏[ 1 ‏] ﺃﺑﺎﻥ ﺑﻦ ﺗﻐﻠﺐ ‏[ 2 ‏] ﺇﺑﺮﺍﻫﻴﻢ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻳﺤﻴﻰ‏[ 3 ‏] ﺇﺑﺮﺍﻫﻴﻢ ﺑﻦ ﻳﺰﻳﺪ
ﺍﻟﻨﺨﻌﻲ‏[ 4 ‏] ﺃﺟﻠﺢ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 5 ‏] ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺍﻟﻤﻔﻀﻞ‏[ 6 ‏]
ﺇﺳﺤﺎﻕ ﺑﻦ ﻣﻨﺼﻮﺭ ﺍﻟﺴﻠﻮﻟﻲ‏[ 7 ‏] ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﺃﺑﺎﻥ ﺍﻟﻮﺭﺍﻕ ‏[ 8 ‏]
ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﺧﻠﻴﻔﺔ‏[ 9 ‏] ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﺯﻛﺮﻳّﺎ ‏[ 10 ‏] ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ
ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 11 ‏] ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﻣﻮﺳﻰ ﺍﻟﻔﺰﺍﺭﻱ‏[ 12 ‏] ﺍﻷﺻﺒﻎ ﺑﻦ
ﻧﺒﺎﺗﺔ‏[ 13 ‏] ﺇﻳﺎﺱ ﺑﻦ ﻋﺎﻣﺮ ﺍﻟﻐﺎﻓﻘﻲ۔
ﺣﺮﻑ ﺍﻟﺒﺎﺀ ، ﺍﻟﺘﺎﺀ ، ﺍﻟﺜﺎﺀ
‏[ 14 ‏] ﺑﻜﻴﺮ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﻄﺎﺋﻲ‏[ 15 ‏] ﺗﻠﻴﺪ ﺑﻦ ﺳﻠﻴﻤﺎﻥ ‏[ 16 ‏] ﺛﻮﻳﺮ
ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻓﺎﺧﺘﺔ۔
ﺣﺮﻑ ﺍﻟﺠﻴﻢ
‏[ 17 ‏] ﺟﺎﺑﺮ ﺑﻦ ﻳﺰﻳﺪ ﺍﻟﺠﻌﻔﻲ‏[ 18 ‏] ﺟﺮﻳﺮ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺤﻤﻴﺪ‏[ 19 ‏] ﺟﻌﻔﺮ
ﺑﻦ ﺯﻳﺎﺩ ‏[ 20 ‏] ﺟﻌﻔﺮ ﺑﻦ ﺳﻠﻴﻤﺎﻥ ‏[ 21 ‏] ﺟﻤﻴﻊ ﺑﻦ ﻋﻤﻴﺮ۔
ﺣﺮﻑ ﺍﻟﺤﺎﺀ
‏[ 22 ‏] ﺍﻟﺤﺎﺭﺙ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﻬﻤﺪﺍﻧﻲ‏[ 23 ‏] ﺣﺒﻴﺐ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺛﺎﺑﺖ‏[ 24 ‏]
ﺍﻟﺤﺴﻦ ﺑﻦ ﺻﺎﻟﺢ ﺍﻟﺜﻮﺭﻱ ‏[ 25 ‏] ﺍﻟﺤﻜﻢ ﺑﻦ ﻋﺘﻴﺒﺔ ﺍﻟﻜﻨﺪﻱ ‏[ 26 ‏] ﺣﻜﻴﻢ ﺑﻦ
ﺟﺒﻴﺮ‏[ 27 ‏] ﺣﻤﺮﺍﻥ ﺑﻦ ﺃﻋﻴﻦ۔
ﺣﺮﻑ ﺍﻟﺨﺎﺀ ، ﺍﻟﺪﺍﻝ
‏[ 28 ‏] ﺧﺎﻟﺪ ﺑﻦ ﻃﻬﻤﺎﻥ ‏[ 29 ‏] ﺩﺍﻭﺩ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻋﻮﻑ‏[ 30 ‏] ﺩﻳﻨﺎﺭ ﺑﻦ
ﻋﻤﺮ ﺍﻷﺳﺪﻱ۔
ﺣﺮﻑ ﺍﻟﺮﺍﺀ ، ﺍﻟﺰﺍﻱ
‏[ 31 ‏] ﺍﻟﺮﺑﻴﻊ ﺑﻦ ﺃﻧﺲ ‏[ 32 ‏] ﺍﻟﺮﺑﻴﻊ ﺑﻦ ﺣﺒﻴﺐ ‏[ 33 ‏] ﺯﺍﺫﺍﻥ ﺃﺑﻮ ﻋﺒﺪ
ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ ‏[ 34 ‏] ﺯﺑﻴﺪ ﺑﻦ ﺍﻟﺤﺎﺭﺙ‏[ 35 ‏] ﺯﻳﺎﺩ ﺑﻦ ﺍﻟﻤﻨﺬﺭ‏[ 36 ‏] ﺯﻳﺪ
ﺑﻦ ﺍﻟﺤﺒﺎﺏ۔
ﺣﺮﻑ ﺍﻟﺴﻴﻦ
‏[ 37 ‏] ﺳﺎﻟﻢ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺣﻔﺼﺔ‏[ 38 ‏] ﺳﺎﻟﻢ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻮﺍﺣﺪ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ
‏[ 39 ‏] ﺳﻌﺎﺩ ﺑﻦ ﺳﻠﻴﻤﺎﻥ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 40 ‏] ﺳﻌﺪ ﺑﻦ ﻃﺮﻳﻒ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ
‏[ 41 ‏] ﺳﻌﻴﺪ ﺑﻦ ﺧﺜﻴﻢ ﺍﻟﻬﻼﻟﻲ‏[ 42 ‏] ﺳﻌﻴﺪ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ ‏[ 43 ‏]
ﺳﻌﻴﺪ ﺑﻦ ﻓﻴﺮﻭﺯ‏[ 44 ‏] ﺳﻌﻴﺪ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺍﻟﺠﺮﻣﻲ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 45 ‏] ﺳﻠﻤﺔ
ﺑﻦ ﺍﻟﻔﻀﻞ‏[ 46 ‏] ﺳﻠﻤﺔ ﺑﻦ ﻛﻬﻴﻞ‏[ 47 ‏] ﺳﻠﻴﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﺻﺮﺩ ﺍﻟﺨﺰﺍﻋﻲ
‏[ 48 ‏] ﺳﻠﻴﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻃﺮﺧﺎﻥ ‏[ 49 ‏] ﺳﻠﻴﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻗﺮﻡ ﺍﻟﻨﺤﻮﻱ‏[ 50 ‏]
ﺳﻠﻴﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻣﻬﺮﺍﻥ۔
ﺣﺮﻑ ﺍﻟﺸﻴﻦ ، ﺍﻟﺼﺎﺩ
‏[ 51 ‏] ﺷﺮﻳﻚ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 52 ‏] ﺷﻌﺒﺔ ﺑﻦ ﺍﻟﺤﺠﺎﺝ‏[ 53 ‏]
ﺻﻌﺼﻌﺔ ﺑﻦ ﺻﻮﺣﺎﻥ۔
ﺣﺮﻑ ﺍﻟﻄﺎﺀ ، ﺍﻟﻈﺎﺀ
‏[ 54 ‏] ﻃﺎﻭﺱ ﺑﻦ ﻛﻴﺴﺎﻥ‏[ 55 ‏] ﻇﺎﻟﻢ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ ﺍﻟﺪﺅﻟﻲ۔
ﺣﺮﻑ ﺍﻟﻌﻴﻦ
‏[ 56 ‏] ﻋﺎﺋﺬ ﺑﻦ ﺣﺒﻴﺐ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 57 ‏] ﻋﺎﺻﻢ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ ﺍﻟﺒﺠﻠﻲ‏[ 58 ‏]
ﻋﺎﻣﺮ ﺑﻦ ﻭﺍﺛﻠﺔ ‏[ 59 ‏] ﻋﺒﺎﺩ ﺑﻦ ﺍﻟﻌﻮﺍﻡ‏[ 60 ‏] ﻋﺒﺎﺩ ﺑﻦ ﻳﻌﻘﻮﺏ ‏[ 61 ‏]
ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺍﻟﺠﻬﻢ ﺍﻟﺮﺍﺯﻱ‏[ 62 ‏] ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺩﺍﻭﺩ ﺍﻟﺨﺮﻳﺒﻲ‏[ 63 ‏] ﻋﺒﺪ
ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺯﺭﻳﺮ ﺍﻟﻐﺎﻓﻘﻲ ‏[ 64 ‏] ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺷﺪﺍﺩ ‏[ 65 ‏] ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ
ﺍﻟﻘﺪﻭﺱ ﺍﻟﺮﺍﺯﻱ ‏[ 66 ‏] ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﺃﺑﺎﻥ‏[ 67 ‏] ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ
ﻋﻴﺴﻰ ﺍﻷﻧﺼﺎﺭﻱ‏[ 68 ‏] ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻟﻬﻴﻌﺔ‏[ 69 ‏] ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺠﺒﺎﺭ ﺍﻟﺸﺒﺎﻣﻲ
‏[ 70 ‏] ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺮﺯﺍﻕ ﺑﻦ ﻫﻤﺎﻡ ﺍﻟﺼﻨﻌﺎﻧﻲ ‏[ 71 ‏] ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺑﻦ ﺻﺎﻟﺢ
ﺍﻟﻬﺮﻭﻱ ‏[ 72 ‏] ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻌﺰﻳﺰ ﺑﻦ ﺳﻴﺎﻩ ﺍﻷﺳﺪﻱ‏[ 73 ‏] ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻤﻠﻚ ﺑﻦ ﺃﻋﻴﻦ
‏[ 74 ‏] ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻤﻠﻚ ﺑﻦ ﻣﺴﻠﻢ ‏[ 75 ‏] ﻋﺒﻴﺪﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺧﻠﻴﻔﺔ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 76 ‏]
ﻋﺒﻴﺪﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻣﻮﺳﻰ ‏[ 77 ‏] ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﻤﻴﺮ‏[ 78 ‏] ﻋﺪﻱ ﺑﻦ ﺛﺎﺑﺖ‏[ 79 ‏]
ﻋﻄﻴﺔ ﺑﻦ ﺳﻌﺪ‏[ 80 ‏] ﺍﻟﻌﻼﺀ ﺑﻦ ﺻﺎﻟﺢ ﺍﻟﺘﻴﻤﻲ‏[ 81 ‏] ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺑﺬﻳﻤﺔ
‏[ 82 ‏] ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺛﺎﺑﺖ ‏[ 83 ‏] ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺍﻟﺠﻌﺪ ‏[ 84 ‏] ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺍﻟﺤﺰﻭﺭ
ﺍﻟﻐﻨﻮﻱ‏[ 85 ‏] ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺯﻳﺪ ﺍﻟﺘﻴﻤﻲ ﺍﻟﺒﺼﺮﻱ‏[ 86 ‏] ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﻋﺎﺻﻢ
‏[ 87 ‏] ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﻏﺮﺍﺏ ‏[ 88 ‏] ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﻗﺎﺩﻡ‏[ 89 ‏] ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺍﻟﻤﻨﺬﺭ
‏[ 90 ‏] ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﻫﺎﺷﻢ ﺍﻟﻘﺮﺷﻲ ‏[ 91 ‏] ﻋﻤﺎﺭ ﺑﻦ ﺭﺯﻳﻖ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 92 ‏]
ﻋﻤﺎﺭ ﺑﻦ ﻣﻌﺎﻭﻳﺔ‏[ 93 ‏] ﻋﻤﺎﺭﺓ ﺑﻦ ﺟﻮﻳﻦ‏[ 94 ‏] ﻋﻤﺮﺍﻥ ﺑﻦ ﻇﺒﻴﺎﻥ
ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 95 ‏] ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﺛﺎﺑﺖ ﺍﻟﺒﻜﺮﻱ‏[ 96 ‏] ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﺣﻤﺎﺩ ﺍﻟﻘﻨﺎﺩ
‏[ 97 ‏] ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﺒﻴﺪ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ ‏[ 98 ‏] ﻋﻮﻑ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺟﻤﻴﻠﺔ
ﺍﻷﻋﺮﺍﺑﻲ۔
ﺣﺮﻑ ﺍﻟﻐﻴﻦ ، ﺍﻟﻔﺎﺀ
‏[ 99 ‏] ﻏﺎﻟﺐ ﺑﻦ ﺍﻟﻬﺬﻳﻞ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 100 ‏] ﺍﻟﻔﻀﻞ ﺑﻦ ﺩﻛﻴﻦ‏[ 101 ‏]
ﻓﻀﻴﻞ ﺑﻦ ﻣﺮﺯﻭﻕ‏[ 102 ‏] ﻓﻄﺮ ﺑﻦ ﺧﻠﻴﻔﺔ۔
ﺣﺮﻑ ﺍﻟﻘﺎﻑ ، ﺍﻟﻤﻴﻢ
‏[ 103 ‏] ﻗﻴﺲ ﺑﻦ ﻋﺒﺎﺩ ﺍﻟﺒﺼﺮﻱ ‏[ 104 ‏] ﻣﺎﻟﻚ ﺑﻦ ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ‏[ 105 ‏]
ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺟﺤﺎﺩﺓ‏[ 106 ‏] ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺭﺍﺷﺪ ﺍﻟﺨﺰﺍﻋﻲ ‏[ 107 ‏] ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ
ﺍﻟﺴﺎﺋﺐ ﺍﻟﻜﻠﺒﻲ‏[ 108 ‏] ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺍﻟﺰﺑﻴﺮ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ ‏[ 109 ‏]
ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﻴﺪﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﻘﺮﺷﻲ ﺍﻟﻬﺎﺷﻤﻲ‏[ 110 ‏] ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻓﻀﻴﻞ‏[ 111 ‏]
ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻣﻮﺳﻰ ﺍﻟﻔﻄﺮﻱ‏[ 112 ‏] ﻣﺨﻮﻝ ﺑﻦ ﺭﺍﺷﺪ‏[ 113 ‏] ﻣﺼﺪﻉ
ﺍﻟﻤﻌﺮﻗﺐ‏[ 114 ‏] ﻣﻌﺮﻭﻑ ﺑﻦ ﺧﺮﺑﻮﺫ‏[ 115 ‏] ﻣﻨﺪﻝ ﺑﻦ ﻋﻠﻲ‏[ 116 ‏]
ﻣﻨﺼﻮﺭ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺍﻷﺳﻮﺩ ‏[ 117 ‏] ﻣﻨﺼﻮﺭ ﺑﻦ ﺍﻟﻤﻌﺘﻤﺮ ‏[ 118 ‏] ﻣﻮﺳﻰ ﺑﻦ
ﻗﻴﺲ‏[ 119 ‏] ﻣﻴﻨﺎﺀ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻣﻴﻨﺎﺀ ﺍﻟﻘﺮﺷﻲ۔
ﺣﺮﻑ ﺍﻟﻨﻮﻥ ، ﺍﻟﻬﺎﺀ
‏[ 120 ‏] ﻧﺎﺻﺢ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 121 ‏] ﻧﻔﻴﻊ ﺑﻦ ﺍﻟﺤﺎﺭﺙ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ
‏[ 122 ‏] ﻧﻮﺡ ﺑﻦ ﻗﻴﺲ ‏[ 123 ‏] ﻫﺎﺭﻭﻥ ﺑﻦ ﺳﻌﺪ‏[ 124 ‏] ﻫﺎﺭﻭﻥ ﺑﻦ
ﺍﻟﻤﻐﻴﺮﺓ ‏[ 125 ‏] ﻫﺎﺷﻢ ﺑﻦ ﺍﻟﺒﺮﻳﺪ‏[ 126 ‏] ﻫﺒﻴﺮﺓ ﺑﻦ ﻳﺮﻳﻢ‏[ 127 ‏]
ﻫﺸﺎﻡ ﺑﻦ ﻋﻤﺎﺭ ‏[ 128 ‏] ﻫﺸﻴﻢ ﺑﻦ ﺑﺸﻴﺮ
ﺣﺮﻑ ﺍﻟﻮﺍﻭ ، ﺍﻟﻴﺎﺀ
‏[ 129 ‏] ﻭﻛﻴﻊ ﺑﻦ ﺍﻟﺠﺮﺍﺡ‏[ 130 ‏] ﻳﺤﻴﻰ ﺑﻦ ﺍﻟﺠﺰﺍﺭ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 131 ‏]
ﻳﺤﻴﻰ ﺑﻦ ﺳﻠﻤﺔ ‏[ 132 ‏] ﻳﺤﻴﻰ ﺑﻦ ﻋﻴﺴﻰ ﺍﻟﺠﺮﺍﺭ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 133 ‏] ﻳﺤﻴﻰ
ﺑﻦ ﻳﻌﻠﻰ ﺍﻷﺳﻠﻤﻲ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 134 ‏] ﻳﺤﻴﻰ ﺍﻟﻘﻄﺎﻥ‏[ 135 ‏] ﻳﺰﻳﺪ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ
ﺯﻳﺎﺩ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 136 ‏] ﻳﻮﻧﺲ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻳﻌﻔﻮﺭ ﺍﻟﻌﺒﺪﻱ‏[ 137 ‏] ﻳﻮﻧﺲ ﺑﻦ
ﺧﺒﺎﺏ ﺍﻻﺳﻴﺪﻱ۔
ﮐﻨﯿﺖ ﭘﺮ ﻣﺒﻨﯽ ۔
‏[ 138 ‏] ﺃﺑﻮ ﺇﺩﺭﻳﺲ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 139 ‏] ﺃﺑﻮ ﺣﻤﺰﺓ ﺍﻟﺜﻤﺎﻟﻲ‏[ 140 ‏] ﺃﺑﻮ
ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﺠﺪﻟﻲ۔
ﮐﺘﺎﺏ -: ﺭﺟﺎﻝ ﺍﻟﺸﻴﻌﺔ ﻓﻲ ﺃﺳﺎﻧﻴﺪ ﺍﻟﺴﻨّﺔ
ﺍﻟﻤﺆﻟﻒ : ﺍﻟﺸﻴﺦ ﻣﺤﻤّﺪ ﺟﻌﻔﺮ ﺍﻟﻄﺒﺴﻲ ﺍﻟﻤﺤﻘﻖ : ﺍﻟﻤﺘﺮﺟﻢ :
ﺍﻟﻤﻮﺿﻮﻉ : ﺭﺟﺎﻝ ﺍﻟﺤﺪﻳﺚ ﺍﻟﻨﺎﺷﺮ : ﻣﺆﺳﺴﺔ ﺍﻟﻤﻌﺎﺭﻑ ﺍﻹﺳﻼﻣﻴّﺔ
ISBN: 964-6289-76-2
ﺑﺸﮑﺮﯾﮧ -: ﻗﺎﺭﯼ ﻣﺤﻤﺪ ﺣﻨﯿﻒ ﮈﺍﺭ

ماخوذ از فیس بک

اب بات کرتا ہوں زھری کی تو جناب آپ نے کوئی ثبوت دلیل دی ہی نہیں مجھے لگتا ہے حسب سابق کے میں ادھر بحث نہیں کر رہا بلکہ لیکچر دے رہا ہوں.
زھری کے بارے ایک بہت اچھی تحریر ہاتھ لگی ہے وہ کافی ہے آپ کے اس دعوے کے رد کے لیے جواب میں اگر میں نہ مانوں والی بات ہو تو اس کا علاج حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھا تو میں کس گنتی میں شمار ہوتا ہوں



قران حیض کی حالت میں کچھ اور تعلیم دے رہا ہے لیکن ان لوگوں نے صاحب شریعت کو قران کے منافی عمل کرتے ہوے دکھا دیا استغفراللہ صرف اس لیے کے امی جان حضرت عایشہ کو رسول خدا کے قریب تر دکھایا جا سکے


استغفراللہ روزے کی حالت میں کھانے پینے کی ممانعت ہے لیکنصاحب شریعت نبی خدا کو روزے کی حالت میں کھاتے دکھایا جا رہا ہے





استغفراللہ روزے کی حالت میں بوس کنار مباشرت ممنوع ہے پر یہ بات صحیح بخاری کو معلوم نہیں اس نے بس کتاب کا پیٹ بھرنا تھا

تو محترم میرے اس قوٹ میں ثابت ہوا کے زھری شیعہ بھی نہیں ہے اور اس طرح کی گستاخی پر مبنی روایات صرف زھری سے ہی نہیں ہیں اوروں نے بھی روایت کی ہیں







ہم دلیل دیں تو ضعیف اور تمھاری ساری جعلسازی صحیح ؟

منکرین حدیث اس حد یث میں موجود لفظ مباشرت کا رائج اردو مطلب یعنی جماع لیتے ہیں یہ معلوم ہوتے ہوئے بھی کہ اسلامی شریعت میں پہلے دن سے مباشرت کے یہ معنی نہیں لیےگئے۔ اگر یہی معنی ہوتے یا لیے جاتے تو اسلام میں حیض و روزے کی حالت میں جماع جائز ٹھہرتا ۔ جبکہ ایسا نہیں ہے فتاوی و مسائل کی ہزاروں کتابیں گواہ ہیں کہ آج تک کسی بھی عالم نے حیض اور روزے کے دوران مباشرت کو جائز نہیں لکھا۔ حقیقت یہ ہے کہ عربی میں مباشرت مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے ۔ اس کے معنی بالمشافہہ، بلاواسطہ ، رد برد کے بھی ہوتے ہیں مثلاً علامہ احمد محمد شاکر لکھتے ہیں:ویحتمل کما قال ابن الترکمانی ان یکون سمع ھذا الحدیث من عمر مباشرۃ وسمعہ عنہ بالواسطۃ۔یعنی احتمال ہے، جیسا کہ ابن ترکمانی نے کہا ہے کہ راوی نے اس حدیث کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ”مباشرۃ” (بلاواسطہ بالمشافہہ) بھی سنا ہو اور بالواسطہ بھی سنا ہو۔

*حدیث میں لفظ مباشرت سے مراد*
عربی زبان میں اس کے اصلی معنی بدن سے بدن ملانے ہی کے ہیں اور اس کے سوا کچھ نہیں ہے۔ چنانچہ مشہور عربی لغت قاموس کی شرح تاج العروس میں لکھا ہے “جب بیوی اور خاوند دونوں ایک ہی لباس میں اکھٹے ہوجائیں اور خاوند کا جسم عورت کے جسم سے چھو جائے تو اسکو مباشرت کہتے ہیں (تاج العروس جلد 3 صفحہ 42)
اسی لیے صاحب عون المعبود (شرح سنن ابی داؤد ) ذکر فرماتے ہیں کہ :معنی المباشرۃ ھھنا المر بالید من التقاء البشرتین۔ترجمہ :یعنی یہاں مباشرت سے صرف ہاتھ سے چھونا، اور دو جسموں کا ملنا مراد ہے۔ (خالص اسلام ص۲۳۹)
اس اقتباس سے یہ بات بالکل عیاں ہے کہ مباشرت کی حقیقت جماع نہیں ہے یہ تو اس سے کنایہ ہے اور مجازا استعمال ہوتا ہے ۔اصل معنی مباشرت کا بدن کا بدن سے چھونا ہے خواہ جس حصے سے ہو۔

*حیض کی حالت میں مباشرت وجماع کی حدود*
حیض اورنفاس کی حالت میں بیوی سے جماع کے ساتھ مباشرت کی جائے ، یہ قسم تو قرآنی نص اورمسلمانوں کے اجماع کے مطابق حرام ہے ۔ناف سے اوپر اورگھٹنے سے نيچے مباشرت کرنا یعنی بوس وکنار ، اورمعانقہ وغیرہ ، اس کے حلال ہونے پر سب علماء کرام کا اتفاق ہے ۔دیکھیے شرح مسلم للنووی ۔ اورالمغنی ابن قدامہ ( 1 / 414 ) ۔
انس رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یھودیوں میں سے کوئي عورت حالت حیض میں ہوتی تو وہ اس کے ساتھ کھاتے پیتے بھی نہیں تھے اورنہ ہی انہيں اپنے گھروں میں رکھتے تھے توصحابہ کرام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارہ میں سوال کیا تو اللہ تعالی نے یہ آيت نازل فرمائی :{ آپ سے حيض کے بارہ میں سوال کرتے ہیں ، کہہ دیجیے کہ وہ گندگی ہے ، حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو ۔۔۔ آیت کے آخر تک } ۔تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جماع کے علاوہ باقی سب کچھ کرو ۔جب یہودیوں کواس کا پتہ چلا تووہ کہنے لگے اس شخص کوہمارے ہر کام میں مخالفت ہی کرنی ہوتی ہے ۔ صحیح مسلم حدیث نمبر ( 302 ) ۔
اسی لیے علماء نے لکھا ہے کہ :حیض کی حالت میں خاوند پر اپنی بیوی سے جماع حرام ہے ، لیکن اسے یہ حق ہے کہ جماع کے علاوہ وہ مباشرت کرسکتا ہے ۔ دیکھیں فتاوی اللجنۃ الدائمۃ ( 5 / 359 ) ۔
بہتر یہ ہے کہ اگر وہ بیوی سے حیض کی حالت میں استمتاع کرنا چاہے تواسے کہے کہ وہ ناف سے لیکر گھٹنوں تک کوئي چيز پہن لے پھراس کے علاوہ حصہ میں مباشرت کرلے ۔معترض نے جو پہلی حدیث پیش کی ہے یہ دلیل اسی حدیث سے پکڑی گئی ہے؛ جب حضور(ص) دوران حیض ہم سے اختلاط کرنا چاہتے تو ازار باندھنے کا حکم دیتے اور مباشرت کرتے”۔ فرمان حضرت عائشہ(ر)۔کتاب الحیض، بخاری۔ صفحہ 198۔
اسی طرح روزے کی حالت میں اپنی بیوی کے پاس اٹھنا، بیٹھنا اور خواہشات پر قابو رکھنے والے کے لیے پیار کرنا بالکل جائز ہے، اس سے نہ روزہ ٹوٹتا ہے، نہ روزہ میں کوئی خرابی آتی ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کو پیار کیا، پھر میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، تو آپ نے فرمایا:
ارأیت لو تمخمضت بما، وانت صائم قلت لا باس بذلک فقال ففیم۔ ترجمہ :یہ بتاؤ، اگر تم روزے میں پانی سے کلی کرتے تو کیا ہوتا، میں نے کہا اس میں تو کوئی حرج نہیں آپ نے فرمایا پھر اس میں کیا حرج ہے۔ (ابوداؤد کتاب الصیام)
مطلب یہ کہ معنی میں پانی لینا اگرچہ پانی پینے کا پیش خیمہ ہے، لیکن چونکہ اس سے پانی پینے کی نیت نہیں ہوتی، لہٰذا روزہ میں کوئی خرابی واقع نہیں ہوتی بالکل اسی طرح پیار کرنا جماع کا پیش خیمہ ہے۔ لیکن جب پیار کرنے سے جماع و شہوت کی نیت نہیں ہوتی، تو ایسا پیار بھی روزہ میں کوئی نقص پیدا نہیں کرتا۔
یہاں یہ یاد رہے کہ حدیث میں اجازت اس کے لیے ہے جو اپنے آپ پر کنٹرول اورقابو رکھ سکتا ہو جو شخص اپنی خواہش قابو میں نہ رکھ سکتا ہو، اس کے لیے بحالت روزہ مباشرت منع ہے ، اسی لئے عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ: “نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوس و کنار اور مباشرت کیا کرتے تھے؛ [کیونکہ] آپ اپنے نفس پر سب سے زیادہ ضبط رکھتے تھے”( صحیح بخاری: (1826) اور مسلم: (1106))
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ بوس و کنار ایسے شخص کیلئے جائز ہے جو اپنے آپ پر مکمل ضبط رکھتا ہو، اور جسے حرام کام میں واقع ہونے کا خدشہ ہو تو اس کیلئے بوس و کنار جائز نہیں ہے” (فتح الباری)یہی معاملہ حائضہ عورت کے ساتھ مباشرت کا بھی ہے۔

٭اسلام دین فطرت٭
یہود ایام حیض میں عورت سے بالکل قطع تعلق کرلیا تھے۔ ایک ساتھ اٹھنا بیٹھنا تو کجا اس کے ساتھ کھانا پینا بھی بند کردیا جاتا۔ بلکہ اس کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا بھی ناپاک خیال کیا جاتا تھا اور مشرکین عرب کا رویہ بھی تقریبا ایسا ہی تھا۔ لیکن نصاریٰ ان دنوں میں کسی قسم کا پرہیز نہیں کیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ ہم بستری سے بھی باز نہ آتے۔ اسلام دین اعتدال ہے اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن و حدیث میں ان دنوں میں صرف اس بات سے منع کیا گیا جو مرد و عورت دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں ، عورت کو ناپاکی کی وجہ سے دھتکارنے کے بجائے عزت دی ۔ چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ میں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دونوں ناپاکی کی حالت میں ایک برتن سے کھالیتے تھے اور بعض اوقات میں ناپاک ہوتی تو حضرت مجھے تہبند باندھ لینے کے لیے فرمایا اور جب میں باندھ لیتی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس لیٹ جاتے تھے اور اعتکاف کی حالت میں ( مسجد سے) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر سر نکال دیتے تو میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سر دھو دیتی تھی۔ (متفق علیہ )اور فرماتی ہیں کہ میں پانی پی کر پیالہ حضرت کو دیدیتی تھی تو آپ اس میں میرے منہ کی جگہ منہ لگا کر پانی پی لیتے تھے۔ اسی طرح میں ایک ہڈی کو چوس کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیدیتی تھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے منہ کی جگہ منہ لگا کر اسے چوس لیتے تھے۔ (مسلم) اور فرماتی ہیں کہ میری ناپاکی کی حالت میں حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری گود میں سر رکھ لیتے اور پھر قرآن شریف پڑھتے رہتے تھے۔ (متفق علیہ ) اور فرماتی ہیں کہ ایک روز حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسجد میں مجھ سے فرمایا : بوریا اٹھا دو ۔ میں نے کہا : ناپاک ہوں۔ فرمایا : تمہارے ہاتھ میں ناپاکی نہیں ہے۔ (مسلم )۔

*

مباشرت کا حقیقی معنی بدن کا بدن سے ملنا ہے اور کنایہ کے طور پر اس سے جماع بھی مراد لیا جاسکتا ہے ۔ پوری اسلامی تاریخ میں اس حدیث میں مباشرت کے لفظ سے جماع مراد نہیں لیا گیا لیکن منکرین حدیث کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ انہیں حدیث کا رد کرنا ہے چاہے اسکے لیے انہیں حدیث میں اپنی طرف سے الفاظ ڈالنے اور حذف کرنے پڑیں یا کہیں معنی اور مراد کو ہی بدل دینا پڑے۔
 

منتظر

Minister (2k+ posts)
ہم دلیل دیں تو ضعیف اور تمھاری ساری جعلسازی صحیح ؟

منکرین حدیث اس حد یث میں موجود لفظ مباشرت کا رائج اردو مطلب یعنی جماع لیتے ہیں یہ معلوم ہوتے ہوئے بھی کہ اسلامی شریعت میں پہلے دن سے مباشرت کے یہ معنی نہیں لیےگئے۔ اگر یہی معنی ہوتے یا لیے جاتے تو اسلام میں حیض و روزے کی حالت میں جماع جائز ٹھہرتا ۔ جبکہ ایسا نہیں ہے فتاوی و مسائل کی ہزاروں کتابیں گواہ ہیں کہ آج تک کسی بھی عالم نے حیض اور روزے کے دوران مباشرت کو جائز نہیں لکھا۔ حقیقت یہ ہے کہ عربی میں مباشرت مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے ۔ اس کے معنی بالمشافہہ، بلاواسطہ ، رد برد کے بھی ہوتے ہیں مثلاً علامہ احمد محمد شاکر لکھتے ہیں:ویحتمل کما قال ابن الترکمانی ان یکون سمع ھذا الحدیث من عمر مباشرۃ وسمعہ عنہ بالواسطۃ۔یعنی احتمال ہے، جیسا کہ ابن ترکمانی نے کہا ہے کہ راوی نے اس حدیث کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ”مباشرۃ” (بلاواسطہ بالمشافہہ) بھی سنا ہو اور بالواسطہ بھی سنا ہو۔

*حدیث میں لفظ مباشرت سے مراد*
عربی زبان میں اس کے اصلی معنی بدن سے بدن ملانے ہی کے ہیں اور اس کے سوا کچھ نہیں ہے۔ چنانچہ مشہور عربی لغت قاموس کی شرح تاج العروس میں لکھا ہے “جب بیوی اور خاوند دونوں ایک ہی لباس میں اکھٹے ہوجائیں اور خاوند کا جسم عورت کے جسم سے چھو جائے تو اسکو مباشرت کہتے ہیں (تاج العروس جلد 3 صفحہ 42)
اسی لیے صاحب عون المعبود (شرح سنن ابی داؤد ) ذکر فرماتے ہیں کہ :معنی المباشرۃ ھھنا المر بالید من التقاء البشرتین۔ترجمہ :یعنی یہاں مباشرت سے صرف ہاتھ سے چھونا، اور دو جسموں کا ملنا مراد ہے۔ (خالص اسلام ص۲۳۹)
اس اقتباس سے یہ بات بالکل عیاں ہے کہ مباشرت کی حقیقت جماع نہیں ہے یہ تو اس سے کنایہ ہے اور مجازا استعمال ہوتا ہے ۔اصل معنی مباشرت کا بدن کا بدن سے چھونا ہے خواہ جس حصے سے ہو۔

*حیض کی حالت میں مباشرت وجماع کی حدود*
حیض اورنفاس کی حالت میں بیوی سے جماع کے ساتھ مباشرت کی جائے ، یہ قسم تو قرآنی نص اورمسلمانوں کے اجماع کے مطابق حرام ہے ۔ناف سے اوپر اورگھٹنے سے نيچے مباشرت کرنا یعنی بوس وکنار ، اورمعانقہ وغیرہ ، اس کے حلال ہونے پر سب علماء کرام کا اتفاق ہے ۔دیکھیے شرح مسلم للنووی ۔ اورالمغنی ابن قدامہ ( 1 / 414 ) ۔
انس رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یھودیوں میں سے کوئي عورت حالت حیض میں ہوتی تو وہ اس کے ساتھ کھاتے پیتے بھی نہیں تھے اورنہ ہی انہيں اپنے گھروں میں رکھتے تھے توصحابہ کرام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارہ میں سوال کیا تو اللہ تعالی نے یہ آيت نازل فرمائی :{ آپ سے حيض کے بارہ میں سوال کرتے ہیں ، کہہ دیجیے کہ وہ گندگی ہے ، حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو ۔۔۔ آیت کے آخر تک } ۔تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جماع کے علاوہ باقی سب کچھ کرو ۔جب یہودیوں کواس کا پتہ چلا تووہ کہنے لگے اس شخص کوہمارے ہر کام میں مخالفت ہی کرنی ہوتی ہے ۔ صحیح مسلم حدیث نمبر ( 302 ) ۔
اسی لیے علماء نے لکھا ہے کہ :حیض کی حالت میں خاوند پر اپنی بیوی سے جماع حرام ہے ، لیکن اسے یہ حق ہے کہ جماع کے علاوہ وہ مباشرت کرسکتا ہے ۔ دیکھیں فتاوی اللجنۃ الدائمۃ ( 5 / 359 ) ۔
بہتر یہ ہے کہ اگر وہ بیوی سے حیض کی حالت میں استمتاع کرنا چاہے تواسے کہے کہ وہ ناف سے لیکر گھٹنوں تک کوئي چيز پہن لے پھراس کے علاوہ حصہ میں مباشرت کرلے ۔معترض نے جو پہلی حدیث پیش کی ہے یہ دلیل اسی حدیث سے پکڑی گئی ہے؛ جب حضور(ص) دوران حیض ہم سے اختلاط کرنا چاہتے تو ازار باندھنے کا حکم دیتے اور مباشرت کرتے”۔ فرمان حضرت عائشہ(ر)۔کتاب الحیض، بخاری۔ صفحہ 198۔
اسی طرح روزے کی حالت میں اپنی بیوی کے پاس اٹھنا، بیٹھنا اور خواہشات پر قابو رکھنے والے کے لیے پیار کرنا بالکل جائز ہے، اس سے نہ روزہ ٹوٹتا ہے، نہ روزہ میں کوئی خرابی آتی ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کو پیار کیا، پھر میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، تو آپ نے فرمایا:
ارأیت لو تمخمضت بما، وانت صائم قلت لا باس بذلک فقال ففیم۔ ترجمہ :یہ بتاؤ، اگر تم روزے میں پانی سے کلی کرتے تو کیا ہوتا، میں نے کہا اس میں تو کوئی حرج نہیں آپ نے فرمایا پھر اس میں کیا حرج ہے۔ (ابوداؤد کتاب الصیام)
مطلب یہ کہ معنی میں پانی لینا اگرچہ پانی پینے کا پیش خیمہ ہے، لیکن چونکہ اس سے پانی پینے کی نیت نہیں ہوتی، لہٰذا روزہ میں کوئی خرابی واقع نہیں ہوتی بالکل اسی طرح پیار کرنا جماع کا پیش خیمہ ہے۔ لیکن جب پیار کرنے سے جماع و شہوت کی نیت نہیں ہوتی، تو ایسا پیار بھی روزہ میں کوئی نقص پیدا نہیں کرتا۔
یہاں یہ یاد رہے کہ حدیث میں اجازت اس کے لیے ہے جو اپنے آپ پر کنٹرول اورقابو رکھ سکتا ہو جو شخص اپنی خواہش قابو میں نہ رکھ سکتا ہو، اس کے لیے بحالت روزہ مباشرت منع ہے ، اسی لئے عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ: “نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوس و کنار اور مباشرت کیا کرتے تھے؛ [کیونکہ] آپ اپنے نفس پر سب سے زیادہ ضبط رکھتے تھے”( صحیح بخاری: (1826) اور مسلم: (1106))
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ بوس و کنار ایسے شخص کیلئے جائز ہے جو اپنے آپ پر مکمل ضبط رکھتا ہو، اور جسے حرام کام میں واقع ہونے کا خدشہ ہو تو اس کیلئے بوس و کنار جائز نہیں ہے” (فتح الباری)یہی معاملہ حائضہ عورت کے ساتھ مباشرت کا بھی ہے۔

٭اسلام دین فطرت٭
یہود ایام حیض میں عورت سے بالکل قطع تعلق کرلیا تھے۔ ایک ساتھ اٹھنا بیٹھنا تو کجا اس کے ساتھ کھانا پینا بھی بند کردیا جاتا۔ بلکہ اس کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا بھی ناپاک خیال کیا جاتا تھا اور مشرکین عرب کا رویہ بھی تقریبا ایسا ہی تھا۔ لیکن نصاریٰ ان دنوں میں کسی قسم کا پرہیز نہیں کیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ ہم بستری سے بھی باز نہ آتے۔ اسلام دین اعتدال ہے اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن و حدیث میں ان دنوں میں صرف اس بات سے منع کیا گیا جو مرد و عورت دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں ، عورت کو ناپاکی کی وجہ سے دھتکارنے کے بجائے عزت دی ۔ چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ میں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دونوں ناپاکی کی حالت میں ایک برتن سے کھالیتے تھے اور بعض اوقات میں ناپاک ہوتی تو حضرت مجھے تہبند باندھ لینے کے لیے فرمایا اور جب میں باندھ لیتی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس لیٹ جاتے تھے اور اعتکاف کی حالت میں ( مسجد سے) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر سر نکال دیتے تو میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سر دھو دیتی تھی۔ (متفق علیہ )اور فرماتی ہیں کہ میں پانی پی کر پیالہ حضرت کو دیدیتی تھی تو آپ اس میں میرے منہ کی جگہ منہ لگا کر پانی پی لیتے تھے۔ اسی طرح میں ایک ہڈی کو چوس کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیدیتی تھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے منہ کی جگہ منہ لگا کر اسے چوس لیتے تھے۔ (مسلم) اور فرماتی ہیں کہ میری ناپاکی کی حالت میں حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری گود میں سر رکھ لیتے اور پھر قرآن شریف پڑھتے رہتے تھے۔ (متفق علیہ ) اور فرماتی ہیں کہ ایک روز حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسجد میں مجھ سے فرمایا : بوریا اٹھا دو ۔ میں نے کہا : ناپاک ہوں۔ فرمایا : تمہارے ہاتھ میں ناپاکی نہیں ہے۔ (مسلم )۔

*

مباشرت کا حقیقی معنی بدن کا بدن سے ملنا ہے اور کنایہ کے طور پر اس سے جماع بھی مراد لیا جاسکتا ہے ۔ پوری اسلامی تاریخ میں اس حدیث میں مباشرت کے لفظ سے جماع مراد نہیں لیا گیا لیکن منکرین حدیث کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ انہیں حدیث کا رد کرنا ہے چاہے اسکے لیے انہیں حدیث میں اپنی طرف سے الفاظ ڈالنے اور حذف کرنے پڑیں یا کہیں معنی اور مراد کو ہی بدل دینا پڑے۔
چل آوے پران تیرے ساتھ بحث کیا کرنی ہے تو نے ضعییف روایت لگائی تھی پہلے معافی منگ ادھر پھر کوئی دوسری بات کرنا تم کو شرم نہیں آتی اتنی دیدہ دلیری سے پھر آ موجود ہوے ہو معافی مانگ ادھر سب کے سامنے ورنہ تجھ سے کوئی بات نہیں ہو گی
 

Tabbot Mein Keel

Voter (50+ posts)


محترم الرضا صاحب مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کے آپ کی معلومات نہ ھونے کے قریب ہیں احادیث اور راویان کی جب بات چلے تو آپ نے اتنی جلدی سے زھری کو شیعہ بنا ڈالا کے اس کی روایات شیعہ کتب میں بھی ہیں
محترم یہ کوئی دلیل نہیں بنتی ہے پہلی بات تو یہ ہے کے ابھی تک اپنے صرف لفاظی ہی کی ہے اور اپنی کسی بات کا کوئی حوالہ سبوت بلکل بھی نہیں دیا اس بار بھی آپ نے سنی سنائی مولویوں کی بات پر آ کر یہ بات لکھ دی تاکہ صحیح بخاری کو بچایا جا سکے اور کتنی گستاخی کی روایات زھری کے علاوہ کتنوں نے بیان کیں اس پر بعد میں بات کرتا ہوں پہلے آپ کو یہ بتاتا ہوں کے راویان دونوں مذاہب کے ایک دوسرے کی کتب میں موجود ہیں

ﺍﮬﻞ ﺳﻨﺖ علما ﻭ ﻣﺤﺪﺛﯿﻦ ﺷﯿﻌﮧ ﻣﺤﺪﺛﯿﻦ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺯﯾﺮﻭ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ۔ ﮬﻢ
ﺟﺲ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﻮ ﺍﺻﺢ ﺍﻟﮑﺘﺐ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﻣﯿﮟ ۱۰۰ ﺭﺍﻭﯼ ﺷﯿﻌﮧ ﮨﯿﮟ ۔
ﺍﺏ ﺁﭖ ﺷﯿﻌﮧ ﮐﻮ ﺷﺮ ﺍﻟﺒﺮﯾﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﯾﺎ ﮐﺎﻓﺮ ﻭ ﻣﺮﺗﺪ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ
ﺗﺸﺮﯾﻊ ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺳﺘﻮﻥ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﮯ ﮐﻨﺪﮬﻮﮞ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﮬﻮﺍ ﮬﮯ ، ﺍﻭﺭ
ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ ﮐﺎ ﻋﺎﻟﻢ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻣﺎﻡ ﺫﮬﺒﯽ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺗﻮﺟﮧ ﺟﺐ ﺍﺱ
ﻃﺮﻑ ﺩﻻﺋﯽ ﮔﺊ ﺗﻮ ﺑﮯ ﺑﺴﯽ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﮬﻢ ﺍﮔﺮ
ﺷﯿﻌﮧ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺗﺮﮎ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﺗﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﺑﭽﮯ ﮔﺎ ﮐﯿﺎ ؟ ﺟﺐ ﯾﺤﯽ
ﺍﺑﻦ ﻣﻌﯿﻦ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺷﺎﮔﺮﺩﻭﮞ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﺤﺪﺙ
ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺯﺍﻕ ﺻﻨﻌﺎﻧﯽ ﺷﯿﻌﮧ ﮬﻮ ﮔﯿﺎ ﮬﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮬﻢ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺗﺮﮎ
ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ ؟ ﺗﻮ ﺍﺑﻦ ﻣﻌﯿﻦ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺯﺍﻕ ﻣﺮﺗﺪ ﺑﮭﯽ ﮬﻮ
ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﮬﻢ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺗﺮﮎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ۔ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺟﺐ
ﺧﺮﺑﻮﺯﮦ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﺿﻄﺮﺍﺭ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺘﮯ ﮐﮧ
ﺍﺱ ﺧﺮﺑﻮﺯﮮ ﭘﺮ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﭘﻠﯿﺪ ﮨﮯ ،، ﺷﯿﻌﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺑﮭﺎﺋﯽ
ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻦ ﮐﺎ ﺳﺘﻮﻥ ﮨﮯ ،، ﺑﺎﻗﯽ ﺑﺪﻋﺘﯽ ﺷﯿﻌﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ
ﺍﮬﻠﺴﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﻤﯽ ﻧﮩﯿﮟ ۔
ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﮧ ﮐﮯ 140 ﺷﯿﻌﮧ ﺷﯿﻮﺥ ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﮧ ﮐﮯ ﻣﺼﻨﻔﯿﻦ ﮐﮯ
ﺍﺳﺘﺎﺫ ﺭﮨﮯ ،،
ﺣﺮﻑ ﺍﻷﻟﻒ
‏[ 1 ‏] ﺃﺑﺎﻥ ﺑﻦ ﺗﻐﻠﺐ ‏[ 2 ‏] ﺇﺑﺮﺍﻫﻴﻢ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻳﺤﻴﻰ‏[ 3 ‏] ﺇﺑﺮﺍﻫﻴﻢ ﺑﻦ ﻳﺰﻳﺪ
ﺍﻟﻨﺨﻌﻲ‏[ 4 ‏] ﺃﺟﻠﺢ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 5 ‏] ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺍﻟﻤﻔﻀﻞ‏[ 6 ‏]
ﺇﺳﺤﺎﻕ ﺑﻦ ﻣﻨﺼﻮﺭ ﺍﻟﺴﻠﻮﻟﻲ‏[ 7 ‏] ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﺃﺑﺎﻥ ﺍﻟﻮﺭﺍﻕ ‏[ 8 ‏]
ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﺧﻠﻴﻔﺔ‏[ 9 ‏] ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﺯﻛﺮﻳّﺎ ‏[ 10 ‏] ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ
ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 11 ‏] ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﻣﻮﺳﻰ ﺍﻟﻔﺰﺍﺭﻱ‏[ 12 ‏] ﺍﻷﺻﺒﻎ ﺑﻦ
ﻧﺒﺎﺗﺔ‏[ 13 ‏] ﺇﻳﺎﺱ ﺑﻦ ﻋﺎﻣﺮ ﺍﻟﻐﺎﻓﻘﻲ۔
ﺣﺮﻑ ﺍﻟﺒﺎﺀ ، ﺍﻟﺘﺎﺀ ، ﺍﻟﺜﺎﺀ
‏[ 14 ‏] ﺑﻜﻴﺮ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﻄﺎﺋﻲ‏[ 15 ‏] ﺗﻠﻴﺪ ﺑﻦ ﺳﻠﻴﻤﺎﻥ ‏[ 16 ‏] ﺛﻮﻳﺮ
ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻓﺎﺧﺘﺔ۔
ﺣﺮﻑ ﺍﻟﺠﻴﻢ
‏[ 17 ‏] ﺟﺎﺑﺮ ﺑﻦ ﻳﺰﻳﺪ ﺍﻟﺠﻌﻔﻲ‏[ 18 ‏] ﺟﺮﻳﺮ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺤﻤﻴﺪ‏[ 19 ‏] ﺟﻌﻔﺮ
ﺑﻦ ﺯﻳﺎﺩ ‏[ 20 ‏] ﺟﻌﻔﺮ ﺑﻦ ﺳﻠﻴﻤﺎﻥ ‏[ 21 ‏] ﺟﻤﻴﻊ ﺑﻦ ﻋﻤﻴﺮ۔
ﺣﺮﻑ ﺍﻟﺤﺎﺀ
‏[ 22 ‏] ﺍﻟﺤﺎﺭﺙ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﻬﻤﺪﺍﻧﻲ‏[ 23 ‏] ﺣﺒﻴﺐ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺛﺎﺑﺖ‏[ 24 ‏]
ﺍﻟﺤﺴﻦ ﺑﻦ ﺻﺎﻟﺢ ﺍﻟﺜﻮﺭﻱ ‏[ 25 ‏] ﺍﻟﺤﻜﻢ ﺑﻦ ﻋﺘﻴﺒﺔ ﺍﻟﻜﻨﺪﻱ ‏[ 26 ‏] ﺣﻜﻴﻢ ﺑﻦ
ﺟﺒﻴﺮ‏[ 27 ‏] ﺣﻤﺮﺍﻥ ﺑﻦ ﺃﻋﻴﻦ۔
ﺣﺮﻑ ﺍﻟﺨﺎﺀ ، ﺍﻟﺪﺍﻝ
‏[ 28 ‏] ﺧﺎﻟﺪ ﺑﻦ ﻃﻬﻤﺎﻥ ‏[ 29 ‏] ﺩﺍﻭﺩ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻋﻮﻑ‏[ 30 ‏] ﺩﻳﻨﺎﺭ ﺑﻦ
ﻋﻤﺮ ﺍﻷﺳﺪﻱ۔
ﺣﺮﻑ ﺍﻟﺮﺍﺀ ، ﺍﻟﺰﺍﻱ
‏[ 31 ‏] ﺍﻟﺮﺑﻴﻊ ﺑﻦ ﺃﻧﺲ ‏[ 32 ‏] ﺍﻟﺮﺑﻴﻊ ﺑﻦ ﺣﺒﻴﺐ ‏[ 33 ‏] ﺯﺍﺫﺍﻥ ﺃﺑﻮ ﻋﺒﺪ
ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ ‏[ 34 ‏] ﺯﺑﻴﺪ ﺑﻦ ﺍﻟﺤﺎﺭﺙ‏[ 35 ‏] ﺯﻳﺎﺩ ﺑﻦ ﺍﻟﻤﻨﺬﺭ‏[ 36 ‏] ﺯﻳﺪ
ﺑﻦ ﺍﻟﺤﺒﺎﺏ۔
ﺣﺮﻑ ﺍﻟﺴﻴﻦ
‏[ 37 ‏] ﺳﺎﻟﻢ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺣﻔﺼﺔ‏[ 38 ‏] ﺳﺎﻟﻢ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻮﺍﺣﺪ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ
‏[ 39 ‏] ﺳﻌﺎﺩ ﺑﻦ ﺳﻠﻴﻤﺎﻥ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 40 ‏] ﺳﻌﺪ ﺑﻦ ﻃﺮﻳﻒ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ
‏[ 41 ‏] ﺳﻌﻴﺪ ﺑﻦ ﺧﺜﻴﻢ ﺍﻟﻬﻼﻟﻲ‏[ 42 ‏] ﺳﻌﻴﺪ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ ‏[ 43 ‏]
ﺳﻌﻴﺪ ﺑﻦ ﻓﻴﺮﻭﺯ‏[ 44 ‏] ﺳﻌﻴﺪ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺍﻟﺠﺮﻣﻲ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 45 ‏] ﺳﻠﻤﺔ
ﺑﻦ ﺍﻟﻔﻀﻞ‏[ 46 ‏] ﺳﻠﻤﺔ ﺑﻦ ﻛﻬﻴﻞ‏[ 47 ‏] ﺳﻠﻴﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﺻﺮﺩ ﺍﻟﺨﺰﺍﻋﻲ
‏[ 48 ‏] ﺳﻠﻴﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻃﺮﺧﺎﻥ ‏[ 49 ‏] ﺳﻠﻴﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻗﺮﻡ ﺍﻟﻨﺤﻮﻱ‏[ 50 ‏]
ﺳﻠﻴﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻣﻬﺮﺍﻥ۔
ﺣﺮﻑ ﺍﻟﺸﻴﻦ ، ﺍﻟﺼﺎﺩ
‏[ 51 ‏] ﺷﺮﻳﻚ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 52 ‏] ﺷﻌﺒﺔ ﺑﻦ ﺍﻟﺤﺠﺎﺝ‏[ 53 ‏]
ﺻﻌﺼﻌﺔ ﺑﻦ ﺻﻮﺣﺎﻥ۔
ﺣﺮﻑ ﺍﻟﻄﺎﺀ ، ﺍﻟﻈﺎﺀ
‏[ 54 ‏] ﻃﺎﻭﺱ ﺑﻦ ﻛﻴﺴﺎﻥ‏[ 55 ‏] ﻇﺎﻟﻢ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ ﺍﻟﺪﺅﻟﻲ۔
ﺣﺮﻑ ﺍﻟﻌﻴﻦ
‏[ 56 ‏] ﻋﺎﺋﺬ ﺑﻦ ﺣﺒﻴﺐ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 57 ‏] ﻋﺎﺻﻢ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ ﺍﻟﺒﺠﻠﻲ‏[ 58 ‏]
ﻋﺎﻣﺮ ﺑﻦ ﻭﺍﺛﻠﺔ ‏[ 59 ‏] ﻋﺒﺎﺩ ﺑﻦ ﺍﻟﻌﻮﺍﻡ‏[ 60 ‏] ﻋﺒﺎﺩ ﺑﻦ ﻳﻌﻘﻮﺏ ‏[ 61 ‏]
ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺍﻟﺠﻬﻢ ﺍﻟﺮﺍﺯﻱ‏[ 62 ‏] ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺩﺍﻭﺩ ﺍﻟﺨﺮﻳﺒﻲ‏[ 63 ‏] ﻋﺒﺪ
ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺯﺭﻳﺮ ﺍﻟﻐﺎﻓﻘﻲ ‏[ 64 ‏] ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺷﺪﺍﺩ ‏[ 65 ‏] ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ
ﺍﻟﻘﺪﻭﺱ ﺍﻟﺮﺍﺯﻱ ‏[ 66 ‏] ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﺃﺑﺎﻥ‏[ 67 ‏] ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ
ﻋﻴﺴﻰ ﺍﻷﻧﺼﺎﺭﻱ‏[ 68 ‏] ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻟﻬﻴﻌﺔ‏[ 69 ‏] ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺠﺒﺎﺭ ﺍﻟﺸﺒﺎﻣﻲ
‏[ 70 ‏] ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺮﺯﺍﻕ ﺑﻦ ﻫﻤﺎﻡ ﺍﻟﺼﻨﻌﺎﻧﻲ ‏[ 71 ‏] ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺑﻦ ﺻﺎﻟﺢ
ﺍﻟﻬﺮﻭﻱ ‏[ 72 ‏] ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻌﺰﻳﺰ ﺑﻦ ﺳﻴﺎﻩ ﺍﻷﺳﺪﻱ‏[ 73 ‏] ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻤﻠﻚ ﺑﻦ ﺃﻋﻴﻦ
‏[ 74 ‏] ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻤﻠﻚ ﺑﻦ ﻣﺴﻠﻢ ‏[ 75 ‏] ﻋﺒﻴﺪﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺧﻠﻴﻔﺔ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 76 ‏]
ﻋﺒﻴﺪﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻣﻮﺳﻰ ‏[ 77 ‏] ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﻤﻴﺮ‏[ 78 ‏] ﻋﺪﻱ ﺑﻦ ﺛﺎﺑﺖ‏[ 79 ‏]
ﻋﻄﻴﺔ ﺑﻦ ﺳﻌﺪ‏[ 80 ‏] ﺍﻟﻌﻼﺀ ﺑﻦ ﺻﺎﻟﺢ ﺍﻟﺘﻴﻤﻲ‏[ 81 ‏] ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺑﺬﻳﻤﺔ
‏[ 82 ‏] ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺛﺎﺑﺖ ‏[ 83 ‏] ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺍﻟﺠﻌﺪ ‏[ 84 ‏] ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺍﻟﺤﺰﻭﺭ
ﺍﻟﻐﻨﻮﻱ‏[ 85 ‏] ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺯﻳﺪ ﺍﻟﺘﻴﻤﻲ ﺍﻟﺒﺼﺮﻱ‏[ 86 ‏] ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﻋﺎﺻﻢ
‏[ 87 ‏] ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﻏﺮﺍﺏ ‏[ 88 ‏] ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﻗﺎﺩﻡ‏[ 89 ‏] ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺍﻟﻤﻨﺬﺭ
‏[ 90 ‏] ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﻫﺎﺷﻢ ﺍﻟﻘﺮﺷﻲ ‏[ 91 ‏] ﻋﻤﺎﺭ ﺑﻦ ﺭﺯﻳﻖ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 92 ‏]
ﻋﻤﺎﺭ ﺑﻦ ﻣﻌﺎﻭﻳﺔ‏[ 93 ‏] ﻋﻤﺎﺭﺓ ﺑﻦ ﺟﻮﻳﻦ‏[ 94 ‏] ﻋﻤﺮﺍﻥ ﺑﻦ ﻇﺒﻴﺎﻥ
ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 95 ‏] ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﺛﺎﺑﺖ ﺍﻟﺒﻜﺮﻱ‏[ 96 ‏] ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﺣﻤﺎﺩ ﺍﻟﻘﻨﺎﺩ
‏[ 97 ‏] ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﺒﻴﺪ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ ‏[ 98 ‏] ﻋﻮﻑ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺟﻤﻴﻠﺔ
ﺍﻷﻋﺮﺍﺑﻲ۔
ﺣﺮﻑ ﺍﻟﻐﻴﻦ ، ﺍﻟﻔﺎﺀ
‏[ 99 ‏] ﻏﺎﻟﺐ ﺑﻦ ﺍﻟﻬﺬﻳﻞ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 100 ‏] ﺍﻟﻔﻀﻞ ﺑﻦ ﺩﻛﻴﻦ‏[ 101 ‏]
ﻓﻀﻴﻞ ﺑﻦ ﻣﺮﺯﻭﻕ‏[ 102 ‏] ﻓﻄﺮ ﺑﻦ ﺧﻠﻴﻔﺔ۔
ﺣﺮﻑ ﺍﻟﻘﺎﻑ ، ﺍﻟﻤﻴﻢ
‏[ 103 ‏] ﻗﻴﺲ ﺑﻦ ﻋﺒﺎﺩ ﺍﻟﺒﺼﺮﻱ ‏[ 104 ‏] ﻣﺎﻟﻚ ﺑﻦ ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ‏[ 105 ‏]
ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺟﺤﺎﺩﺓ‏[ 106 ‏] ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺭﺍﺷﺪ ﺍﻟﺨﺰﺍﻋﻲ ‏[ 107 ‏] ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ
ﺍﻟﺴﺎﺋﺐ ﺍﻟﻜﻠﺒﻲ‏[ 108 ‏] ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺍﻟﺰﺑﻴﺮ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ ‏[ 109 ‏]
ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﻴﺪﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﻘﺮﺷﻲ ﺍﻟﻬﺎﺷﻤﻲ‏[ 110 ‏] ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻓﻀﻴﻞ‏[ 111 ‏]
ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻣﻮﺳﻰ ﺍﻟﻔﻄﺮﻱ‏[ 112 ‏] ﻣﺨﻮﻝ ﺑﻦ ﺭﺍﺷﺪ‏[ 113 ‏] ﻣﺼﺪﻉ
ﺍﻟﻤﻌﺮﻗﺐ‏[ 114 ‏] ﻣﻌﺮﻭﻑ ﺑﻦ ﺧﺮﺑﻮﺫ‏[ 115 ‏] ﻣﻨﺪﻝ ﺑﻦ ﻋﻠﻲ‏[ 116 ‏]
ﻣﻨﺼﻮﺭ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺍﻷﺳﻮﺩ ‏[ 117 ‏] ﻣﻨﺼﻮﺭ ﺑﻦ ﺍﻟﻤﻌﺘﻤﺮ ‏[ 118 ‏] ﻣﻮﺳﻰ ﺑﻦ
ﻗﻴﺲ‏[ 119 ‏] ﻣﻴﻨﺎﺀ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻣﻴﻨﺎﺀ ﺍﻟﻘﺮﺷﻲ۔
ﺣﺮﻑ ﺍﻟﻨﻮﻥ ، ﺍﻟﻬﺎﺀ
‏[ 120 ‏] ﻧﺎﺻﺢ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 121 ‏] ﻧﻔﻴﻊ ﺑﻦ ﺍﻟﺤﺎﺭﺙ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ
‏[ 122 ‏] ﻧﻮﺡ ﺑﻦ ﻗﻴﺲ ‏[ 123 ‏] ﻫﺎﺭﻭﻥ ﺑﻦ ﺳﻌﺪ‏[ 124 ‏] ﻫﺎﺭﻭﻥ ﺑﻦ
ﺍﻟﻤﻐﻴﺮﺓ ‏[ 125 ‏] ﻫﺎﺷﻢ ﺑﻦ ﺍﻟﺒﺮﻳﺪ‏[ 126 ‏] ﻫﺒﻴﺮﺓ ﺑﻦ ﻳﺮﻳﻢ‏[ 127 ‏]
ﻫﺸﺎﻡ ﺑﻦ ﻋﻤﺎﺭ ‏[ 128 ‏] ﻫﺸﻴﻢ ﺑﻦ ﺑﺸﻴﺮ
ﺣﺮﻑ ﺍﻟﻮﺍﻭ ، ﺍﻟﻴﺎﺀ
‏[ 129 ‏] ﻭﻛﻴﻊ ﺑﻦ ﺍﻟﺠﺮﺍﺡ‏[ 130 ‏] ﻳﺤﻴﻰ ﺑﻦ ﺍﻟﺠﺰﺍﺭ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 131 ‏]
ﻳﺤﻴﻰ ﺑﻦ ﺳﻠﻤﺔ ‏[ 132 ‏] ﻳﺤﻴﻰ ﺑﻦ ﻋﻴﺴﻰ ﺍﻟﺠﺮﺍﺭ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 133 ‏] ﻳﺤﻴﻰ
ﺑﻦ ﻳﻌﻠﻰ ﺍﻷﺳﻠﻤﻲ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 134 ‏] ﻳﺤﻴﻰ ﺍﻟﻘﻄﺎﻥ‏[ 135 ‏] ﻳﺰﻳﺪ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ
ﺯﻳﺎﺩ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 136 ‏] ﻳﻮﻧﺲ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻳﻌﻔﻮﺭ ﺍﻟﻌﺒﺪﻱ‏[ 137 ‏] ﻳﻮﻧﺲ ﺑﻦ
ﺧﺒﺎﺏ ﺍﻻﺳﻴﺪﻱ۔
ﮐﻨﯿﺖ ﭘﺮ ﻣﺒﻨﯽ ۔
‏[ 138 ‏] ﺃﺑﻮ ﺇﺩﺭﻳﺲ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ‏[ 139 ‏] ﺃﺑﻮ ﺣﻤﺰﺓ ﺍﻟﺜﻤﺎﻟﻲ‏[ 140 ‏] ﺃﺑﻮ
ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﺠﺪﻟﻲ۔
ﮐﺘﺎﺏ -: ﺭﺟﺎﻝ ﺍﻟﺸﻴﻌﺔ ﻓﻲ ﺃﺳﺎﻧﻴﺪ ﺍﻟﺴﻨّﺔ
ﺍﻟﻤﺆﻟﻒ : ﺍﻟﺸﻴﺦ ﻣﺤﻤّﺪ ﺟﻌﻔﺮ ﺍﻟﻄﺒﺴﻲ ﺍﻟﻤﺤﻘﻖ : ﺍﻟﻤﺘﺮﺟﻢ :
ﺍﻟﻤﻮﺿﻮﻉ : ﺭﺟﺎﻝ ﺍﻟﺤﺪﻳﺚ ﺍﻟﻨﺎﺷﺮ : ﻣﺆﺳﺴﺔ ﺍﻟﻤﻌﺎﺭﻑ ﺍﻹﺳﻼﻣﻴّﺔ
ISBN: 964-6289-76-2
ﺑﺸﮑﺮﯾﮧ -: ﻗﺎﺭﯼ ﻣﺤﻤﺪ ﺣﻨﯿﻒ ﮈﺍﺭ

ماخوذ از فیس بک

اب بات کرتا ہوں زھری کی تو جناب آپ نے کوئی ثبوت دلیل دی ہی نہیں مجھے لگتا ہے حسب سابق کے میں ادھر بحث نہیں کر رہا بلکہ لیکچر دے رہا ہوں.
زھری کے بارے ایک بہت اچھی تحریر ہاتھ لگی ہے وہ کافی ہے آپ کے اس دعوے کے رد کے لیے جواب میں اگر میں نہ مانوں والی بات ہو تو اس کا علاج حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھا تو میں کس گنتی میں شمار ہوتا ہوں



قران حیض کی حالت میں کچھ اور تعلیم دے رہا ہے لیکن ان لوگوں نے صاحب شریعت کو قران کے منافی عمل کرتے ہوے دکھا دیا استغفراللہ صرف اس لیے کے امی جان حضرت عایشہ کو رسول خدا کے قریب تر دکھایا جا سکے


استغفراللہ روزے کی حالت میں کھانے پینے کی ممانعت ہے لیکنصاحب شریعت نبی خدا کو روزے کی حالت میں کھاتے دکھایا جا رہا ہے





استغفراللہ روزے کی حالت میں بوس کنار مباشرت ممنوع ہے پر یہ بات صحیح بخاری کو معلوم نہیں اس نے بس کتاب کا پیٹ بھرنا تھا

تو محترم میرے اس قوٹ میں ثابت ہوا کے زھری شیعہ بھی نہیں ہے اور اس طرح کی گستاخی پر مبنی روایات صرف زھری سے ہی نہیں ہیں اوروں نے بھی روایت کی ہیں






امام ترمذی نے یے حدیث نفلی روزے کے لیئیےبیان کی ہے اور اس کا باب بھی
35. باب صِيَامِ الْمُتَطَوِّعِ بِغَيْرِ تَبْيِيتٍ
35. باب: رات میں روزے کی نیت کئے بغیر نفلی روزہ رکھنے کا بیان۔
رکھا ہے

ایک منکر حدیث صاحب احادیث پیش کرتے ہیں :
 

Tabbot Mein Keel

Voter (50+ posts)

یے اپنی چالیس کفریہ خرافات ،عبارات و عقائد ٹھنڈے دل سے پڑھیں

تحریفِ قرآن:

قرآن پاک جس پر مسلمان کا عقیدہ ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے، اس میں تحریف نہیں ہے، قرآن پاک میں سے ایک لفظ کا بھی انکار کفر ہے، اہلِ اسلام کا عقیدہ ہے کہ اس میں کوئی لفظ زیادہ ہے نہ کم ہے، لیکن شیعہ قرآن پاک میں کمی کے قائل ہی نہیں بلکہ ان کا عقیدہ ہے کہ ’’موجودہ قرآن میں سے بہت سےالفاظ نکال لئے ہیں‘‘، شیخ طوسی نے روایت کیا ہے کہ:

شیعہ کی تحریفا ت

(۱) ان اللہ اصطفیٰ آدم و نوحاً و اٰل ابراھیم و اٰل عمران و اٰل محمد علی العالمین میں اٰل محمد کے لفظ کو نکال لیا گیا ہے۔

معلوم ہوا کہ موجودہ قرآن میں لفظ اٰل محمد نہیں ہے۔ (ترجمہ حیات القلوب:۲،۱۲۳)

(۲) قرآن پاک کی صحیح آیت: اِنَّ عَلَیْنَا لَلھُدیٰ۔

تحریف شدہ آیت: وَ اِنَّ عَلِیًّا لَلھُدٰی، یعنی علی اور ان کی ولایت ہدایت ہے۔

یہ لفظ عَلَیْنَا نہیں عَلِیًّا ہے، (نعوذ باللہ من ذٰلک)۔ (حیات القلوب:۲،۱۲۳)

(۳) قرآن پاک کی صحیح آیت: فَلَا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلًا۔ (الاسراء:۴۸، الفرقان:۹)

تحریف شدہ آیت: فلا یستطیعون ولایۃ علی سبیلاً۔

قرآن سے شعیہ عقیدہ کےمطابق یہ الفاظ ولایۃ علیّ نکال دئے گئے ہیں۔

(نعوذ باللہ من ذٰلک)۔ (حیات القلوب:۲،۱۲۳)

(۴) قرآن پاک کی صحیح آیت: وَقَالَ الظَّالِمُونَ إِنْ تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَسْحُورًا۔ (الاسراء:۴۷)

تحریف شدہ آیت: و قال الظالمون اٰل محمد حقھم۔

(۹) قرآن پاک کی صحیح آیت: وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ۔ (البقرۃ:۱۴۳)

تحریف شدہ آیت: و کذالک جعلناکم ائمتہ و سطا عدلا تکونوا شھداء علی الناس۔ (ترجمہ حیات القلوب:۳،۲۳۴)

(۱۰) قرآن پاک کی صحیح آیتِ مبارکہ: إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلظَّالِمِينَ نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا۔ (الکھف:۲۹)

تحریف شدہ قرآنی آیت: انا اعتدنا للظالمین اٰل محمد ناراً احاط بھم سرادقھا۔

(۱۱) قرآن پاک کی صحیح آیتِ مبارکہ: وَالْعَصْرِ ۔ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ ۔ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ۔ (سورۃ العصر)

تحریف شدہ قرآنی آیت: ان الانسان لفی خسر، انہ فیہ من الدھر الا الذین اٰمنوا و عملوا الصالحات وأتمروا بالتقویٰ وأتمروا بالصبر۔ (حیات القلوب:۳،۳۷۸)

قرآن پاک کی پوری سورۃ العصر کو بدل دیا۔

(۱۲) قرآن پاک کی صحیح آیت مبارکہ: وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكُمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرْ إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلظَّالِمِينَ نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا۔ (الکھف:۲۹)

تحریف شدہ قرآنی آیت: قل الحق من ربکم فی ولایۃ علی انا اعتدنا للظالمین اٰل محمد ناراً احاط بھم سرادقھا۔ (حیات القلوب:۳،۳۸۵)

(۱۳) قرآن کریم کی صحیح آیتِ مبارکہ: فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ فَأَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا رِجْزًا مِنَ السَّمَاءِ۔ (البقرۃ:۵۹)

تحریف شدہ قرآنی آیت: فبدل الذین ظلموا اٰل محمد حقھم قولاً غیر الذی قیل لھم فانزلنا علی الذین ظلموا اَٰ محمد حقھم رجزا من السماء۔

اس میں اٰل محمد کے الفاظ اپنی طرف سے درج کئے ہیں۔ (حیات القلوب)

(۱۴) قرآن پاک کی صحیح آیتِ مبارکہ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمُ الرَّسُولُ بِالْحَقِّ مِنْ رَبِّكُمْ فَآمِنُوا خَيْرًا لَكُمْ وَإِنْ تَكْفُرُوا فَإِنَّ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ۔ (النساء:۱۷۰)

تحریف شدہ قرآنی آیت: يا أيها الناس قد جاءكم الرسول بالحق من ربكم فی ولایۃ علی فآمنوا خيرا لكم وإن تكفروا بولایۃ علی فإن لله ما في السماوات والأرض۔ (ترجمہ حیات القلوب بشارتی مترجم باقر مجلسی:۳۸۹)

فی ولایۃ علی اور بولایۃ علی کا اضافہ ہے۔

(۱۵) قرآن پاک کی صحیح آیتِ مبارکہ: إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَظَلَمُوا لَمْ يَكُنِ اللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ۔ (النساء:۱۶۸)

تحریف شدہ قرآنی آیت: ان الذین ظلموا اٰل محمد حقھم۔ (حیات القلوب:۳،۳۸۹)

ان پندرہ آیاتِ مبارکہ سے ثابت ہوا کہ شیعہ عقائد میں موجود قرآن مبارک نامکمل اور صحیح نہیں ہے، قرآن و سنت کے مطابق اور قرآنی قانون کے مطابق کلمۂ طیبہ کو تبدیل کرنے والا مرتد واجب القتل ہے، ان تمام آیات کی تبدیلی کا ثبوت ہمارے پاس موجود ہے اور ان کی کتاب جس مںی یہ آیات لکھی گئی ہیں ایک حوالہ بھی غلط نہیں لکھا گیا ہے۔

رسالت سے متعلق شیعہ کے کفریہ عقائد:

(۱) سرور دو عالم، رحمتِ کائنات حضرت خاتم النبیین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں عقیدہ جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کی گئی ہے، جاہل بے علم کتاب کے مصنف نے ترمذی شریف کا حوالہ دیتےہوئے باب الحج کی ایک روایت نقل کی ہے، جس میں حج تمتع کے بارے میں لکھا ہے کہ حج تمتع نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحابِ نبیؐ نے کیا، حج تمتع کی وضاحت کتاب میں موجود ہے کہ عمرہ اور حج کو اکٹھا ادا کرنا یعنی ایک دوسرے کے بعد ، لیکن افسوس کہ شیعہ نے عربی عبارت کو تبدیل کیا اور تمتع کا ترجمہ متعہ کیا اور صاف طور پر اپنی کتاب ’’خصائلِ معاویہ:۴۳۱‘‘ میں لکھ دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (نعوذ باللہ) متعہ کیا۔

صحیح حدیث: عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَأَوَّلُ مَنْ نَهَى عَنْهَا مُعَاوِيَةُ۔ (سنن ترمذی:باب ماجاء فی التمتع)

ترجمہ:۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اور حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان رضی اللہ عنہم نے حجِ تمتع کیا۔

عمرہ اور حج ایک ہی احرام سے بلافصل جمع کرنے کو حجِ تمتع کہتے ہیں، لیکن شیعہ مصنف غلام حسین نجفی نے ترجمہ کیا: (نعوذ باللہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم نے متعہ کیا، یہ شانِ رسالت میں گستاخی نہیں تو اور کیا ہے؟ روایت کا ترجمہ کرنا، لکھنا اور امام الانبیاء فخرِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا کہ انہوں نے متعہ کیا! نعوذ باللہ

(۲) شرک فی الرسالۃ: کتاب نام ’’خورشدی خاور‘‘، ترجمہ شبہائے پشاور، مترجم محمد باقر مجلسی رئیس جوارس، کتب خانہ شاہ نجف لاہور میں یہ لکھتا ہے کہ ’’شیعہ وہ ہے جن کے نزدیک علیؓ تمام انبیاء سے افضل ہیں‘‘۔

چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء سے افضل ہیں، لہٰذا علیؓ ان سے بھی افضل ہیں۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے انبیاء سےافضل ہونے کے ثبوت میں دلائل دیتے ہوئے لکھا ہے کہ کوفہ کا مشہور خطیب ہے، اس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا:

اخبرنی انت افضل اَم آدم؟

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے جوابات: ۱۔ انا افضل من آدم۔۲۔ انا افضل من ابراھیم۔ ۳۔ انا افضل من موسیٰ۔ ۴۔انا افضل من عیسیٰ۔ (خورشید خاور:۲۹۴)

ان پانچ عبارتوں پر شیعہ عقیدہ کی بنیاد ہے جو کہ ایک عام آدمی بھی جانتا ہے، صحیح عقیدہ کے مطابق امتی کسی پیغمبر کا بھی ہو وہ نبی کے مقام تک نہیں پہنچ سکتا، صحابی کا مقام اور ہے اور نبی کا مقام اور ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ صحابہؓ میں گو کتنا بڑا مقام رکھتے ہیں لیکن وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام یا اور کسی بھی نبی سے مرتبہ میں زیادہ ہرگز نہیں ہوسکتے، لیکن شیعہ نے صحابی کو نبوت کا مقام دے کر شرکت فی الرسالۃ کیا ہے، جو کہ شیعہ کے کفر کا واضح ثبوت ہے۔

ان پانچ عبارتوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ پر تہمت لگانا حضرت علیؓ کی طرف اس عبارت کو منسوب کرنا کفر و شرک سے بڑھ کر ہے، پھر اسی کتاب میں آگے چل کر لکھتا ہے کہ ’’امیر المؤمنین حضرت علیؓ تمام فضائل و کمالات اور صفات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شریک تھے‘‘۔ نعوذ باللّٰہ من ذالک (خورشید خاور:۲۸۵)

ذرا انصاف کریں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف کے ساتھ متصف کرنا شرک فی الرسالۃ نہیں تو اور کیا ہے۔

کیا قرآن و سنت کی کھلی خلاف وروزی نہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے والا مسلمان نہیں ہوسکتا، لہٰذا شیعہ فرقہ باطلہ ہے اور ان کو کافر و مشرک کہنا ان کو غیر مسلم قرار دینا وقت کا فریضہ ہے، اور ایسی کتابیں جن کی اشاعت ہورہی ہے ان کو فی الفور ضبط کرنا ایسے مجرموں اور ایسے جہنمیوں کو سزاد دینا ہر مسلم کا فرض ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روزہ کسی کام کے لئے (حضرت) زید بن حارثہ (رضی اللہ عنہ) کے گھر تشریف لے گئے، زید کی بیوی (حضرت) زینب (رضی اللہ عنہا) غسل کر رہی تھیں ..... آپؐ نے زینبؓ کا غسل کی حالت میں مشاہدہ فرمایا۔ (نعوذ باللہ من ذٰلک) (ترجمہ حیات القلوب:۲،۸۹۱)

اس عبارت میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پر تہمت لگائی گئی ہے!!!

(۳) شیعہ کی تیسری روایت:

حضرت جعفر صادقؓ سے روایت ہے کہ ایک روز ابوبکرؓ و عمرؓ، ام سلمہؓ کے پاس آئے اور کہا کہ آپ جناب رسولِ خداؐ سے پہلے دوسرے مرد کی زوجہ تھیں، بتائیے کہ رسول خدا اس شخص کےمقابلہ میں قوتِ مجامعت میں کیسے ہیں؟ تو ام المؤمنین ام سلمہؓ نے جواب دیا: وہ بھی دوسرے مردوں کے مثل ہیں، اسی کے آخر میں لکھا ہے کہ جبرئیلؑ بہشت سے ایک ہریہ ..... لایا اور جناب رسول خداؐ، علی، فاطمہ، حسن اور حسین نے اس کو تناول فرمایا، اس کے سبب سے رسول خداؐ کو چالیس مردوں کی قوتِ مجامعت مرحمت فرمائی، اس کے بعد ایسا تھا کہ جب حضرت چاہتے ہیں ایک شب میں تمام بیویوں سے مقاربت فرماتے ہیں۔ (ترجمہ حیات القلوب:۲،۸۹۶)

اسی طرح الشافی ترجمہ اصول کافی میں توہینِ نبیؐ کرتے ہوئے ملعون لکھتا ہے:

لوگ روایت کرتے ہیں کہ آگ میں سب سے پہلے داخل ہونے والے (نعوذ باللہ) حضرت رسولِ خداؐ تھے۔ (ترجمہ حیات القلوب:۲،۱۷)

ایسا عقیدہ رکھنے والا واجب القتل، جہنمی اور فرعون سے بڑھ کر ہے، شیعہ آج کے دور کا ہو یا پہلے کا ابولہب سے بڑھ کر ہے۔

اولادِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین:

(۴) شیعہ رافضی اپنی بدنامِ زمانہ تصنیف ’’قولِ مقبول‘‘ کے صفحہ:۴۷۹ پر لکھتا ہے کہ ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیاں سیدہ رقیہؓ، سیدہ ام کلثومؓ جوکہ حضرت عثمانؓ کے نکاح میں یکے بعد دیگرے آئیں تھیں وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیاں نہیں تھیں‘‘۔

’’جس طرح جناب ابوہریرہؓ کے باپ کا فیصلہ یا عبد القادر جیلانی کے باپ کا فیصلہ آج تک نہیں ہوسکا، اسی طرح عثمان غنی صاحب کی بیویوں کے باپ کا فیصلہ نہیں ہوسکا، ان کے باپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یقیناً نہیں ہیں۔ (نعوذ باللہ من ذٰلک)

(۵) ازواج نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں شیعہ اثنا عشریہ کے عقائد ملاحظہ ہوں:

’’ابن بابویہ امام محمد باقر سے روایت ہے کہ جب حضرت قائم اٰل محمد ظاہر ہوں گے تو (نعوذ باللہ) عائشہ صدیقہ کو زندہ کریں گے اور ان پر حد جاری کریں گے‘‘۔ (حیات القلوب:۲،۹۰۱)

(۷) غلام حسین نجفی ملعون ’’قولِ مقبول‘‘ میں لکھتا ہے ’’حضور پاکؐ نے غضبناک خروج کرنا ہے جو عائشہ سے صادر ہوا‘‘۔ لعنۃ اللہ علی الکاذبین

(۸) نجفی و مجلسی لکھتے ہیں کہ:

حضرت جعفر صادق سے روایت ہے کہ عائشہ و حفصہ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیا اور اسی زہر سے حضورؐ شہید ہوئے۔ (نعوذ باللہ من ذٰلک) (حیات القلوب:۲،۱۰۲۶)

کیا یہ حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما پر الزام نہیں ہے؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیوں جن کا خود اس نے اقرار کیا ہے، ان کو ایسے الفاظ سے یاد کرنا اور انکار کرنا بے حیائی والے الفاظ ادا کرنا کہاں کی مسلمانی ہے؟

’’قولِ مقبول‘‘ میں لکھا ہے کہ:

’’آج تک یہ فیصلہ اہل سنت نہیں کرسکے، حضرت ابراہیم کا باپ کون تھا؟ آذر تھا یا تارخ؟ پس جس طرح جناب ابوہریرہ کے باپ کا فیصلہ یا عبد القادر جیلانی کے باپ کا فیصلہ نہیں ہوسکا، اسی طرح عثمان صاحب کی بیویوں کے باپ کا فیصلہ بھی نہیں ہوسکا، ان کے باپ نبی کریمؐ تو یقیناً نہیں ہے۔ (العیاذ باللہ) (از غلام حسین نجفی:۴۷۹)

حضراتِ خلفائے راشدینؓ کے متعلق شیعہ اثنا عشریہ کے کفریہ عقائد:

(۱) ’’امام باقر سے روایت ہے کہ جب جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا سے رحلت فرمائی، چار اشخاص علی ابن ابی طالب، مقداد، سلمان فارسی اور ابوذر کے سواء سب مرتد ہوگئے‘‘۔ (ترجمہ حیات القلوب:۲،۹۲۳)

اس عبارت میں لفظ سب نے یہ ثابت کردیا ہے کہ صرف چار کے علاوہ باقی تمام صحابہ مرتد ہوگئے، جن میں حضرات حسنینؓ یعنی حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہم کا ذکر نہیں کیا، معلوم ہوا کہ شیعہ کافروں اور رافضیوں کے نزدیک یہ حضرات بھی مسلمان نہیں تھے۔ نعوذ باللہ

(۲) شیعہ کا خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم کی ناموس پر حملہ:

’’خلفاء خاطی اور غیر معصوم تھے، ان پر شیطان تسلط کرتا تھا۔‘‘ (نورِ ایمان، مصنف خیرات احمد:۸۸)

(۳) حیات القلوب دوم میں ملا باقر مجلسی ملعون نے لکھا ہے کہ ’’اگر سب (صحابہؓ) ابوبکر کی بیعت کرلیتے تو خداوند عالم اہل زمین پر عذاب نازل کردیتا اور کوئی زمین پر زندہ نہ رہتا۔ (نورِ ایمان:۹۲۰)

(۴) حضرت عمر فاروق نے بعد اسلام شراب نوشی کی۔ (نورِ ایمان:۸۲۰)

(۵) خیرات احمد لکھتا ہے کہ ’’قرآن کی روح سے مراد فرعون اور ہامان کا دل خلیفہ ثانی عمر ہوتے ہیں، پس جو شحص قرآن کی روح سے فرعون، ہامان اور قارون کا دل ثابت ہوا اس سے ہم لوگوں یعنی شیعہ کا دلی نفرت کرنا ہرگز خلافِ قیاس نہیں بلکہ عینِ فطرت ہے۔ نعوذ باللہ (نورِایمان:۲۹۵)

(۶) سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نجفی کی ایک اور تحریر کہ ’’عثمان ذوالنورین نے اپنی بیوی ام کلثوم کی موت کے بعد ان کے مردہ جسم سے ہمبستری کی ہے‘‘۔ (نعوذ باللہ من ذٰلک، لعنۃ اللہ علی الکاذبین) (قولِ مقبول:۴۲۰)

(۷) اسی کتاب میں اہل سنت پر الزام لگاتے ہوئے لکھتا ہے:

’’امام مسجد افضل ہے، جس کا سربڑا ہو اور آلۂ تناسل چھوٹا ہو، چھوٹے آلۂ تناسل کی فضیلت اس لئے ہے کہ وہ زیادہ ہمبستری کے قابل ہوتا ہے اور جناب عثمان میں مذکورہ خوبی موجود تھی، اسی لئے تو مردہ بیوی کو بھی معاف نہیں کیا، اس کے مردہ جسم سے ہمبستری کی‘‘۔ (قول مقبول:۴۳۰)

معلون نجفی بے شرم و بے حیاء فربیا کے زناء کی اولاد کو شرم نہ آئی، یہ بات کہاں تک پہنچتی ہے، ایسا عقیدہ رکھنے والے مجلسی گروہ کو خدا واصلِ جہنم کرے۔ آمین

(۸) اسی کتاب قولِ مقبول:۴۱۸ پر لکھتا ہے کہ ’’حضرت عثمان غنیؓ نے بغیر غسل کئے نماز جنازہ میں شرکت کی اور نماز جنازہ پڑھی‘‘۔ (لعنۃ اللہ علی الکاذبین)

(۹) اسی کتاب ’’قولِ مقبول:۴۳۵‘‘ پر لکھتا ہے کہ ’’عثمان عورتوں کے عاشق زار تھے، اسی لئے رقیہ کو حاصل کرنے کی لالچ میں مسلمان ہوگئے تھے‘‘۔

(اس بے حیاء و بے شرم نے یہ تحریر کہاں سے لی ہے؟)

(۱۰) حضرت عثمان غنی اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہما اور اس عبارت میں حضور اکرم علیہ السلام کی توہین کرتے ہوئے غلام حسین نجفی فاضل عراقی اپنی کتاب قول مقبول:۴۲۵ میں لکھتا ہے کہ ’’جب آدمی کا ذَکر ایستادہ ہوتا ہے تو دو حصے عقل کے ختم ہوجاتے ہیں، پس جناب عثمان کا یہی حشر ہوا کہ شہوت کا غلبہ ہوا اور بیمار زوجہ یعنی ام کلثوم کو ہمبستری سے قتل کردیا‘‘۔

(۱۱) ’’امام جعفر نے امام ابوحنیفہ کی ماں سے متعہ کیا اور علی نے عمر کی بہن عضرا سے متعہ کیا، حضور نے ابوبکر و عمر کی لڑکیوں عائشہ و حفصہ سے نکاح کیا تھا تاکہ شیخین میرے اسلام میں گڑبڑ نہ کریں، لیکن نہ ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے اور نہ ہی ہمارے امام جعفر صادق اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے‘‘۔ (لعنۃ اللہ علی الرافضیہ) (قول مقبول:۳۹۵)

(۱۲) غلام حسین نجفی ’’خصائلِ معاویہ‘‘ میں لکھتا ہے کہ ’’حضرت معاویہ نے حضرت عائشہ کو قتل کیا ہے‘‘۔ (خصائل معاویہ:۲۴۹)

نجفی کافر اسی کتاب میں لکھتا ہے ’’حضرت عثمان غنیؓ کی بیوی حضرت نائلہؓ نے ڈانس کیا‘‘۔(خصائل معاویہ:۱۴۳)

اسی کتاب میں نجفی غلام حسین لکھتا ہے:

حضرت خالد بن ولید نے ایک مسلمان کو شہید کیا اور پہلی ہی رات میں اس کی خوبصورت بیوی سے تمام رات زنا کرتا رہا۔ (نعوذ باللہ) (خصائل کا مصنف:غلام حسین نجفی)

(۱۳) اسی کتاب کے صفحہ:۳۹۱ میں حضرت معاویہؓ کے بارے میں لکھتا ہے ’’زانی باپ کا شرابی بیٹا خلیفہ نہیں ہوسکتا‘‘۔

(نعوذ باللہ) حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو شرابی لکھا گیا ہے۔

(۱۴) ’’ہندہ مشہور زناکار تھی، حضرت یہ سن کر مسکرائے اس کو پہچان کر فرمایا: تو ہی ہندہ ہے؟ عقبہ کی لڑکی ہندہ نے کہ: ہاں! پھر حضرت نے فرمایا: زنا مت کرنا، ہندہ نے کہا کہ آزاد عورت بھی زنا کرتی ہے، یہ سن کر عمر مسکرائے اس لئے کہ ایامِ جاہلیت میں اس سے زنا کرچکے تھے اور ہندہ مشہور زنا کار تھی، اور معاویہ زنا ہی سے پیدا ہوا تھا‘‘۔ (حیات القلوب:۲،۷۰۰)

(۱۵) خصائل معاویہ میں غلام حسین نجفی لکھتا ہے کہ:

’’ابوسفیان آخر عمر تک زندیق اور منافق رہا‘‘۔(خصائل معاویہ:۲۹)

(۱۶) شیعہ اثناعشریہ فرعونوں اور یہودیوں کا عقیدہ حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ پر الزام اور توہینِ خلفائے راشدین و امہات المؤمنین، فارسی کا ترجمہ، اصل عبرت ملاحظہ ہو:

’’امام جعفر از جاے نماز خود برنمی خاستند تا چپار معلون و چہار معلونہ دا لعنت نمی کردند، پس باید از ہر نماز بگوید اللھم العن (نعوذ باللہ) ابابکر و عمر و عثمان و معاویہ و عائشہ و حفصہ وھتدو ام لحکم‘‘۔

ترجمہ:۔ امام جعفر صادق اپنی جائے نماز سے نہیں اٹھتے تھے جب تک ابوبکر، عمر، عثمان، معاویہ، عائشہ اور حفصہ پر لعنت بھیجتے۔

(۱۷) شیعہ کی بدنامِ زمانہ کتاب ’’عین الحیوۃ‘‘ کے صفحہ:۴ پر لکھا ہے کہ ’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سب صحابہ مرتد ہوگئے تھے‘‘۔ (نعوذ باللہ)

خلفائے راشدین کے بارے میں شیعہ کا عقیدہ:

’’ابوبکر اور عمر کو امام غائب آکر قبروں سے نکال کر ان کو سزاء دیں گے‘‘۔(نعوذ باللہ) (حق الیقین:۳۸۵)

میرا عقیدہ ہے اہل تشیع اور ان کو ماننے والوں کو اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں ڈالے گا، کیونکہ ایسے شیطانی عقائد رکھنے والے قطعی جہنمی ہیں۔

شیعہ اثنا عشریہ کی صحابہ کرامؓ کو اپنی کتابوں میں گالیاں:

(۱) کہ مراد از فرعون و ہامان ..... ابوبکر و عمر است۔

ترجمہ:۔ فرعون اور ہامان سے مراد ابوبکر و عمر ہیں۔ (حق الیقین:۳۱۸)

(۲) ابوبکر خلیفہ نہیں مرتد ہے، مستحق قتل ہے۔ (نعوذ باللہ) (حق الیقین:۲۲۲)

(۳) عبارت ہے ’’مرادش از شیطان عمر باشد‘‘۔ یعنی شیطان سے مراد عمر ہے۔ (حق الیقین:۲۲۹)

(۴) ’’حضرت طلحہ و زبیر مرتد شوند’’۔ یعنی حضرت طلحہ و زبیر مرتد تھے۔ (حق الیقین:۲۳۱)

(۵) ابو لؤلؤ عمر را زخم زد وخبزم کرد لعہفتم واصل خواہد شد۔ (حق الیقین:۲۵۲)

(۶) عثمان لعین او را۔ (حق الیقین:۲۲۰)

(۷) عثمان کا قتل کفر پر ہوا۔ (حق الیقین:۲۸۰)

(۸) عثمان کو یہودیوں کے مقبرے میں دفن کیا۔ (حق الیقین:۲۸۳)

(۹) حضرت خالد بن ولید نے زنا کیا۔ (نجفی ملعون کی کتاب خصائل معاویہ:۲۷۶)

(۱۰) حضرت عثمان کی بیوی نائلہ نے ڈانس کیا، خون آلود قمیص پہن کر۔ (خصائل معاویہ:۱۴۳)

(۱۱) ابوہریرہ کا مردود ہونا ثابت ہے۔ (خورشید خاور:۱۹۵)

(۱۲) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولنے والا ابوہریرہ ہے۔

مذکورہ عبارات سے ثابت ہوا کہ شیعہ شجرۂ ملعونہ خبیثہ ہیں۔

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کاتبِ وحی کے بارے میں لکھتے ہیں۔

(۱) ہندہ نے معاویہ کو نکاح جماعت سے جنا ہے۔

(۲) معاویہ نے چالیس سال ظالمانہ حکومت کی ہے۔ (خورشید خاور:۳۹)

(۳) اگر معاویہ جنگِ صفین میں ہلاک ہوتا تو اس کی نماز جنازہ پڑھنا حرام تھا۔ (خورشید خاور:۴۹)

سیدنا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر الزام!!!

(۴) معاویہ سوّر کھانے کو حلال جانتا تھا۔ (خورشید خاور:۴۳۳)

(۵) حکومت اسلامی بنو اُمیّہ کے ایک بدکار کے بعد دوسرے بدکار کو ملی۔ (خورشید خاور:۴۳۷)

(۶) یہ کونڈے مرگ معاویہ کی خوشی میں ہیں۔ (خورشید خاور:۵۲۰)

(۷) اصحابِ نبی میں دو قسم کے لوگ تھے، مومن و منافق، نیک و بد، اہل و جاہل۔ (خورشید خاور:۵۷۰)

(۸) شیعوں کے امام متعہ کی بہت تعریفیں کرتے ہیں، تحفۃ العوام میں اس کی تفصیل لکھی گئی ہے، متعہ کرنے والا بہشتی ہے، متعہ کی قسموں میں ایک قسم یہ بھی ہے کہ ایک لڑکا لڑکی کو بغیر گواہوں کے پسند کرکے یہ کہے کہ میں نے متعہ کے لئے اپنے جسم کو تیرے حوالے کیا۔

اسلام میں متعہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے؛ بلکہ یہ زنا ہے۔

شیعہ پیشوا کہتے ہیں ’’عفیفہ باکرہ لڑکی سے متعہ کرنے والا بہشتی ہے‘‘۔

اس کے علاوہ شیعہ کی کتاب ’’چودہ ستیارے‘‘ صفحہ:۲۲۱ پر لکھا ہے کہ ’’عمر فاروق ساری عمر کفر و شرک میں مبتلا رہے‘‘۔

اسی کتاب کے صفحہ:۲۰۴ میں لکھا ہے کہ ’’حضرت معاویہ زنا کی پیداوار تھے‘‘،

اور مصنفِ کتاب نجم الحسن کراروی نے اپنی اسی کتاب میں لکھا ہے ’’حضرت عائشہ کو حضرت علی سے پرانا بغض و عناد تھا۔ (چودہ ستیارے:۱۲۳)

اسی کتاب کے صفحہ:۴۸ پر لکھا ہے کہ ’’حلیمہ سعدیہؓ اور ثوبیہؓ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ نہیں پلایا‘‘۔

(۹) شیعہ کی معتبر کتاب جو کہ فارسی زبان میں ہے، اس میں لکھا ہے:

’’بلاشبہ ابی بکر و عمر اتباع ایشاں کافر و ظالم بودہ اند، لعنت خدا و رسول و ملائکہ و غضبِ الٰہی متوجہ ایشاں است‘‘۔ (حلیۃ الیقین، جلد دوم فارسی)

ترجمہ:۔ بلاشبہ ابوبکر و عمراور ان کے متبعین کافر و ظالم تھے، اور خدا، رسول اور ملائکہ کی لعنت اور غضب الٰہی ان پر ہے۔

(۱۰) حلیۃ المتقین کی دوسری عبارت ہے:

’’آنکہ عمر بن خطاب و خالد ابن ولید و جمیع از منافقان بنی امیہ باعلی عداوت فطری بود‘‘۔(حلیۃ الیقین:۲،۴۴)

ترجمہ:۔ عمر بن خطاب اور خالد بن ولید دونوں اور تمام منافقین بنو امیہ علی سے دشمنی رکھتے تھے۔

(۱۱) عمر ایک بڑا بے حیاء اور بے غیرت شخص ہے۔ (نورِ ایماں:۷۵)

(۱۲) حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک ایسا کونسا بے حیاء و بے غیرت گذار ہے۔ (نورِ ایماں:۷۱)

(۱۳) اسی طرح خلفائے ثلاثہ ہم تم مسلمان کے بزرگانِ دین ہو ہی نہیں سکتے۔ (نورِ ایماں:۱۶۲)

(۱۴) ازواجِ مطہرات کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حضرت عمر فاروق مارا کرتے تھے۔ (نورِ ایماں:۲۰۹)

(۱۵) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تینوں بیٹیاں صلبی نہیں تھی، عثمان کے معنیٰ سانپ، معاویہ کے معنیٰ کتیا ہے۔ (قولِ مقبول،از غلام حسین نجفی)

(۱۶) حضرت فاروق کی نسبی خرابی کو ہم سرآنکھوں پر رکھتے ہیں۔ (قولِ مقبول:۵۳۲)

(۱۷) امام بخاری مجوسی النسل ہے، یہودیوں کا یا سبائیوں کا نطفہ ہے۔ (قولِ مقبول:۵۳۴)

(۱۸) عائشہ نے وفات پر جو کردار ادا کیا ہے وہ بھی افسوسناک ہے، حجرۂ نبیؐ کو جنابِ عائشہ ابوبکر و عمر کو اس میں دفن کرواکر قبرستان تو بناچکی تھی، جناب حسن وہاں دفن ہوتے تو کیا تھا، لیکن عائشہ بھی معاویہ سے کم نہ تھیں، بلکہ دوسرا معاویہ تھیں۔ (خصائل معاویہ:۸۳)

(۱۹) حضرت معاویہ نے حضرت حسن کی وفات پر سجدۂ شکر ادا کیا۔ (خصائل معاویہ:۸۲)

(۲۰) یزید اپنی ماؤں سے بہنوں اور بیٹیوں سے ہمبستری کرتا تھا اور ہارون رشید نے اپنی ماں سے ہمبستری کی تھی۔

(۲۱) جناب ابوبکر اور عمر اور عثمان نہ تو عوام مسلمانوں کے چُنے ہوئے لیڈر تھے اور نہ ہی خدا و رسول کے چنے ہوئے تھے، بلکہ چور دروازے سے آئے تھے۔

قارئین ذرا انصاف فرمائیں!

’’امام جعفر نے امام ابوحنیفہ کی ماں سے متعہ کیا اور علی نے عمر کی بہن عضرا سے متعہ کیا، حضور نے ابوبکر و عمر کی لڑکیوں عائشہ و حفصہ سے نکاح کیا تھا تاکہ شیخین میرے اسلام میں گڑبڑ نہ کریں، لیکن نہ ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے اور نہ ہی ہمارے امام جعفر صادق اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے‘‘۔ (لعنۃ اللہ علی الرافضیہ) (قول مقبول:۳۹۵)

ان اکیس (۲۱) حوالہ جات میں شیعہ کے کفریہ عقائد صاف اور واضح ہوچکے ہیں، ان عقائد کفریہ میں تمام شیعہ، روافض اور اثنا عشریہ شامل ہیں، اسی وجہ سے شیعہ کافر اور مرتد ہیں، تمام اہل سنت کے علماء کرام سے درخواست ہے کہ شیعہ کے کفر کو عوام الناس تک پہنچانے میں پوری صلاحیت کا بھر پور مظاہرہ کریں ۔

(۲۲) خلفائے راشدین، خلفائے ثلاثہ اور سیدنا علی المرتضیٰ اور دیگر صحابہ کرام کے بارے میں شیعہ ملعونوں کا عقیدہ ہے:

ترجمہ:۔ حیات القلوب میں ملا باقر مجلسی لکھتا ہے کہ ’’بسندِ حسن امام باقر سے راویت ہے کہ یہ جناب رسول خدا کے بعد مرتد ہوگئے، سوائے تین اشخاص سلمان، ابوذر اور مقداد کے۔

جو شیعہ یہ عقیدہ رکھتے ہوں کہ حضرت علی، حضرات حسنین، حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہم مسلمان نہیں تھے وہ ہمارے نزدیک جہنمی، واجب القتل، مرتد اور بد ترین کافر ہیں۔ (حیات القلوب:۲،۹۹۲)

جناب رسول خدا نے بیٹی دو منافقوں کو دی، اس میں ایک ابوالعاص دوسرے عثمان، لیکن حضرت نے تقیہ کی وجہ سے ان کے نام نہ لئے۔ (حیات القلوب:۲،۸۱۵)

آپ نے اس عبارت کو غور سے پڑھا ہے، آپ خود فیصلہ کریں کہ یہ الزام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر لگایا گیا ہے، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور آپؐ کی بیٹیوں اور آپؐ کے داماد پر الزام لگانے والا اور آپؐ کو منافق کہنے والا دنیا کا بدترین کافر ہے۔

(۲۳) حضرت عثمان غنی نے وہ تمام کام کئے جو موجبِ کفر ہیں اور کافر و مرتد ہوگئے۔ (حیات القلوب:۲،۸۷۱)

حصور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد کو جو کہ ذو النورین ہیں، جوکہ قرآن پاک کی سورۃ الفتح کے مطابق قطعی جنتی ہیں، ان کو کافر لکھنے والا کون ہے؟ ان کو مسلمانوں کا فرقہ سمجھنے والا خود کیا ہے؟

(۲۴) فیصلہ آپ کریں، حیات القلوب میں لکھا ہے:

’’ابوسفیان،عکرمہ، صفوان، خالد ابن ولید وغیرہ تمام صحابہ دین سے پھر گئے، ان کے خبیث دلوں میں اور گہرائیوں میں ابوبکر کی محبت تھی، جس طرح بنی اسرائیل کے دلوں میں بچھڑے اور سامری کی محبت جگہ کئے ہوئے تھی۔ (حیات القلوب:۲،۸۳۲)

(۲۵) تمام انبیاء علیہم السلام کی صریح توہین: علمائے شیعہ کا اعتقاد ہے کہ جناب علیؓ اور تمام ائمہ تمام انبیاء سے افضل ہیں۔ (حیات القلوب:۲،۷۸۷)

ذرا انصاف فرمائیں کہ انبیاء میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بدرجۂ اتم ہمارے نزدیک پوری مخلوق سے افضل و اعلیٰ ہیں۔

لیکن ملعون مجلسی نے اس تحریر میں سب انبیاء اور خاتم النبیین کی توہین نہیں کی؟ ایسی تو ہین کرنے والا کافر نہیں تو اور کیا ہے؟

(۲۶) قولِ مقبول میں لکھا ہے بقولِ عمر کے عائشہ بہت گوری چِٹّی تھیں، اللہ نے عائشہ مںی حلول کیا تھا، تو پھر جناب عائشہ سے حضورؐ نے ہمبستری کیسے کرتے تھے۔ (قولِ مقبول:۴۷۶)

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی والدہ، حضرات حسنین رضی اللہ عنہما کی نانی امّاں کے بارے میں جو غلیظ عبارت تحریر کی ہے، جس سے اہل سنت کا ہر فرد کانپ جائے، ملاحظہ ہو۔
 

Tabbot Mein Keel

Voter (50+ posts)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جو شیشے سرمہ والی بات حضرت عائشہؓ سے کہی تھی اس کا نتیجہ معلوم ہے، شیشہ و سرمی والی عبارت حضرت عائشہ کی طرف منسوب کرکے ان پر الزام لگانا کہاں کی شرافت ہے؟ پھر ہم لکھنے پر مجبور ہیں کہ اُسے اہل سنت جماعت ایک ہوکر مقابلہ کریں تاکہ رافضیت ختم ہوسکے۔

(۲۷) شیعہ ملعون نجم الحسن کراروی لکھا ہے ’’ائمۂ کفر سے مراد طلحہ، زبیر، عکرمہ اور ابوسفیان ہیں۔ (نعوذ باللہ) (روح القرآن:۱۱۷)

کراروی اسی کتاب میں لکھتا ہے کہ جس نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد علی بن ابی طالب پر ظلم کیا، چھوٹا ہو یا بڑا، کوفہ و شام میں رہنے والا ہو یا مکہ و مدینہ کا، دین سے خارج ہوجائے گا، جو دین سے خارج ہو وہ ائمہ کفر ہے ان سے جنگ مباح ہے۔ (روح القرآن:۱۱۸)

قرآن پاک میں صحابہ رضی اللہ عنہم کی تعریف کا منکر کافر ہے!

(۱) لفظ قرآن اِنَّ اللہَ مَعَنَا (التوبہ:۴۰) کا انکار کرنے والا شیعہ کافر ہے۔

(۲) قرآن کی اس آیت: وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ (التوبہ:۴۰) کا انکار کرنے والا شیعہ کافر ہے۔

(۳) لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ۔ (الفتح:۱۸)

اس آیت کا انکار کرنے والا شیعہ کافر ہے۔

(۴) فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا۔ (البقرۃ:۱۳۷) شیعہ منکر قرآن ہے، اس آیت کا بھی وہ انکار کرتا ہے، لہٰذا ایسا کافر دنیا میں کوئی اور نہیں ہے۔

(۵) وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ قَالُوا أَنُؤْمِنُ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاءُ۔ (البقرۃ:۱۳)

اس آیت کا انکار کرنے والے سب سے پہلے منافقین ہیں، انہی کی اولاد شیعہ ہیں، جن سے جہاد کرنے کا حکم ہے، لہٰذا شیعہ دنیا کا بدترین کافر ہے۔

(۶) فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ۔ (النساء:۶۹)

اس آیت میں نبیوں کے بعد صدیقِ اکبر کو ماننے کا حکم قطعی ہے، اس قطعی حکم کا انکار کرنے والا معلون، مردود شیعہ ہے جو کہ قطعی کافر ہے۔

(۷) أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ۔ جنتی لوگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں۔

اس آیت کا انکار کفر ہے جو کہ شیعہ کرتے ہیں، لہذا شیعہ کافر ہیں۔

(۸) فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنْزِلَ مَعَهُ أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ۔ (الاعراف:۱۵۷)

ترجمہ:۔ وہ لوگ پیغمبر پر ایمان لائے اور انہوں نے عزت اور نصرت کی اور نورِ ایمان کی اتباع کی وہی لوگ کامیاب ہوئے۔

اس آیت میں صحابہ کرام کو دین کی مدد کرنے والے فرمایا گیا ہے، شیعہ نے اس کا اس آیت میں انکار کیا، لہٰذا وہ کافر ہوگئے۔

(۹) إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ۔ (الانفال:۲)

ترجمہ:۔ ایمان والے وہ لوگ ہیں جس کے سامنے خدا کا ذکر ہوتا ہے تو ان کے قلوب روشن ہوتے ہیں۔

اس آیت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی عظمت بیان ہوئی ہے، اس کا شیعہ انکار کرتا ہے، تو شیعہ کافر ہیں۔

(۱۰) إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ۔ (التوبۃ:۱۱۹)

ترجمہ:۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے مومنین کے مال اور جان کو خرید لیا ہے جنت کے بدلہ میں۔

اس آیتِ مبارکہ میں جہاں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں وہاں علی المرتضیٰ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین بھی شامل ہیں۔

تو جو شخص اس آیتِ مبارکہ میں حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کو خارج کرے وہ کافر و زندیق ہے۔

شیعہ کراروی اور مجلسی اور نجفی نے انکار کیا ہے، لہٰذا وہ قطعی کافر و زندیق ہیں۔

(۱۱) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ۔ (التوبۃ:۱۱۹)

اس آیت کریمہ میں تمام صحابہ کرام کے علاوہ خصوصاً حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے، آپ کی صداقت کو اس سے خارج کرنا کفر ہے، جس کا انکار شیعہ کرتے ہیں تو وہ کافر ہیں۔

(۱۲) أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ۔ (یونس:۶۲)

اس آیتِ مبارکہ میں لفظ اولیاء میں صحابہ کرامؓ کا امت کے ولی ہونا ثابت ہے، جس طرح حضرت علیؓ کی ولایت اس میں موجود ہے اسی طرح خلفائے ثلاثہ کی ولایت بھی موجود ہے، بلکہ ہمارا عقیدہ تو یہ ہے کہ ولایت کا مقام صحابیت کے مقام سے کم ہے، لہٰذا اولیاء صحابیت ہی ہوسکتا ہے، اور یہی ترجمہ صحیح ہے، کیونکہ اولیاء اللہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد کا مقام رکھتے ہیں، جوکہ مقامِ صحابیت کے فیضِ صحبت سے حاصل ہوتا ہے، امت کے تمام اولیاء ایک صحابی کے مقام تک نہیں پہنچ سکتے۔

(۱۳) صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۔ (سورۃ الفاتحۃ:۶)

اس آیت مبارکہ کو قرآن کے شروع میں اور ہر نماز میں پڑھتے ہیں، اس میں جنت، کوثر، رضائے الٰہی اور رضائے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے مقامات اور انعامات حاصل ہونے والے اللہ کے نزدیک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں، جس صحابیت کی ابتداء حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہوتی ہے ان کا انکار کفر ہے۔

شیعہ کافر اس آیتِ کریمہ کا انکار کرکے درجہ کفر پہنچ گئے، صحابہ کرام خصوصاً حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم کو گالیاں دینے والا در اصل قرآنی آیات کو گالیاں دیتا ہے جسی وجہ سے شیعہ اثنا عشریہ دنیا کے بدترین کافر ہیں۔

(۱۴) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا وَاسْجُدُوا وَاعْبُدُوا رَبَّكُمْ۔ (الحج:۷۷)

ترجمہ:۔ اے ایمان والو رکوع کرو، سجدہ کرو، اپنے رب کی عبادت کرو۔

اس آیت مبارکہ میں ایمان والوں کی نشانیاں بیان کی گئی ہیں۔

سب سے پہلے رکوع کرنے والے سجدہ کرنے والے اپنے رب کی عبادت کرنے والے حضرت ابوبکر صدیقؓ ہیں، جب حضرت علیؓ نے فرضیت صلوٰۃ پر عمل کیا، اس وقت تک حضرت ابوبکر صدیقؓ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز مکمل کرچکے تھے، سجدۂ نماز عبادتِ خدا حضرت ابوبکر صدیقؓ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کرچکے تھے، ایسی نماز جس کو اللہ تعالیٰ نے قبول کرلیا تھا۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی عبادت اور رضائے الٰہی جوکہ ان کو حاصل ہوچکی تھی، ان کا انکار کرنا کفر ہے۔

(۱۵) یہ کافرانہ عقیدہ ہے کہ قرآن پاک کے قطعی فیصلہ کا انکار کیا جائے، شیعہ کفر میں بہت ضدی ہیں، ان کے کفر میں شدت ہے، اسی لئے شیعہ کے ایمان بگاڑے زنا خانے بنے ہوئے ہیں، شیعہ نے قرآنی آیت رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ کا صریحاً انکار کیا ہے، کیونکہ یہ الفاظ حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان ذوالنورین، حضرت علی المرتضیٰ، حضرت فاطمہ، حضرات حسنین، حضرت زبیر و دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین پر صادق آتے ہیں، وہ اللہ سے اور اللہ ان سے راضی ہے۔

جو رضاء صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو مل چکی ہے وہ قرآن پاک میں موجود ہے، شیعہ اس کے منکر ہیں، لہٰذا شیعہ گروہ قطعی جہنمی کافر مردود ہے، شیعہ کا انکارِ قرآن کفر پر دلالت کرتا ہے۔

(۱۶) والذین معہٗ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں، لفظ مع نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفائے راشدینؓ ساتھی ہیں، ان کے ساتھی ہونے کا انکار قرآن کا انکار ہے، جس کا انکار کرنے والا کافر ہے، شیعہ ان کے ساتھی ہونے کا انکار کرتے ہیں، بوجہِ انکارِ قرآن شیعہ کافر ہیں۔

(۱۷) الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللَّهِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ۔ (التوبۃ:۲۰)

ترجمہ:۔ وہ لوگ جو ایمان لانے کے ساتھ ساتھ جنہوں نے جہاد کیا اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں ان کے درجات بلند ہیں اللہ کے نزدیک اور وہی لوگ کامیاب ہیں۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے ایمان، جہاد اور ہجرت کا انکار کرنے والے تمام شیعہ کافر ہیں، کیونکہ جنہوں نے انکار کیا صحابہؓ کی جماعت کے ان تین کاموں کا اس نے قرآن کا انکار کیا ہے، صحابہ کرامؓ کے درجات جو کہ اللہ کی طرف سے ان کو ملے ہیں ان کا انکار کفر ہے، شیعہ اس کا بھی انکار کرتے ہیں۔

لہٰذا تمام بوجہِ صحابہ کرامؓ کی عظمت کے انکار کرنے کے دنیا کے بدترین کافر ہیں۔

(۱۸) أَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا لَا يَسْتَوُونَ۔ (السجدۃ:۱۸)

ترجمہ:۔ جو شخص ایمان دار ہے اس کے برابر بدکار نہیں ہوسکتے۔

بدکار شیعہ ہیں، کیونکہ شیعوں کی بدکاری ان کی کتابوں سے ثابت ہے، ان کے مدہب میں ہے، مثلاً متعہ بازار کی زنا کرنے والی عورتیں تمام شیعہ ہیں، ان کے نزدیک تبراء کرنا یعنی صحابہ کرامؓ کو گالیاں دیناان کے مذہب میں شامل ہے، شیعہ مجلسی، نجفی اور کراروی کا عقیدہ ہے کہ تقیہ کرو جس کو اسلام جھوٹ کہتا ہے ایسے عقائد رکھنے والا کافر ہے۔

(۱۹) مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا۔ (الاحزاب:۲۳)

اس آیت مبارکہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا واضح ذکر موجود ہے، صحابہ کرامؓ نے اپنے عہد کو پورا کیا ہے، ان کے وعدہ کو پورا کرنے پر اللہ تعالیٰ کی گواہی موجود ہے، اللہ گواہ ہے کہ حضرات خلفائے راشدینؓ نے کلمہ پڑھنے کے بعد جو خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا اس کو پورا کر دکھایا ہے، وعدہ وفا کرنے والے صحابہ کرامؓ کو گالیاں دینے والے قرآن و سنت کے مطابق شیعہ لعین کافر ہیں۔

(۲۰) إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ۔ (الاحزاب:۵۷)

ترجمہ:۔ وہ جو اللہ اور اس کے رسولؐ کو تکلیف دیتے ہیں ان پر اللہ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت دونوں میں۔

یعنی ابدی لعنت ہے، یہ لعنتی و جہنمی ہے کافر ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرامؓ اور آپؐ کے اہل خانہ کو گالیاں دینے والے بدترین کافر ہیں۔

(۲۱) وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ۔ (الاحزاب:۵۷)

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر ارشاد فرمایا ہے کہ جو لوگ مومنین مرد خلفائے راشدین اور مومنین عورتوں کو گالیاں دیتے ہیں، یعنی وہ صحابیاتؓ ہوں یا مومنین کی مائیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہوں یا حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا، ان کو گالیاں دینے والے یا بُرا کہنے والے سب کے سب جہنمی ہیں، شیعہ ملعونوں نے خصوصاً خمینی، مجلسی، نجفی، کراروی، خیرات برکاتی وکیل یہ سب کافر ہیں، کیونکہ یہ آیت کریمہ کا انکار کرتے ہوئے صحابہ کرامؓ کو گالیاں دیتے ہیں، ان کے کفر میں شک کرنے والا بھی کافر ہے۔

(۲۲) وَالَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهِ أُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ۔ (الزمر:۳۳)

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے تصدیق ہے جو سچائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لے کر ان کی طرف آئے حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم نے سب سے پہلے تصدیق کی ہے اور اس میں اول تصدیق کرنے والے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرکے اللہ کے نزدیک اول نمبر حاصل کیا ہے اور یہی تصدیق کرنے والے متقی ہیں، قرآن کے اس حکم کو نہ ماننا کفر ہے، شیعہ رافضی نے اس کا انکار کیا ہے، لہٰذا اس آیت قرآنی کا انکار کرنےوالا مسلمان نہیں شیطان کافر شیعہ ہے۔

(۲۳) وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ۔ (التوبۃ:۷۱)

ترجمہ:۔ مومن مرد آپس میں دوست ہیں، مومن عورتیں آپس میں دوست ہیں۔

اس آیت کریمہ میں مومن مرد حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کی دوستی و تعلق کا ذکر ہے اور حضرت فاطمہ اور حضرت نائلہ زوجۂ حضرت عثمانؓ رضی اللہ عنہما کا ذکر ہے، قرآن کریم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہراتؓ کو مومنین مردوں اور عورتوں کی مائیں کہا گیا ہے کہ وہ امہات المؤمنین ہیں، حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء کی والدہ حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما ہیں، پس ماں کو بیٹی سے مومن مردوں کو ماؤں سے کوئی جدا نہیں کرسکتا، حضرت کا تعلق حضرت عائشہ صدیقہؓ سے ہے، کیونکہ حضرت علیؓ خود حضرت عائشہؓ کو اپنی والدہ کہتے تھے، قرآن کریم نے حضرت عائشہ صدیقہؓ کو مومنین کی ماں کہا ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی آپ کو ماں کا مقام دیتے تھے، یہ بات نہج البلاغہ میں موجود ہے، جس کو حضرت علیؓ اپنی والدہ کہیں شیعہ ان پر (نعوذ باللہ) کفر کا الزام لگائیں، حضرت علیؓ کی والدہ کو کافرہ لکھیں تو وہ شیعہ کافر ہے، اس کے کفر میں کوئی شک نہیں۔

(۲۴) وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ۔أُولَئِكَ الْمُقَرَّبُونَ ۔ (الواقعۃ:۱۰و۱۱)

سبقت کرنے والے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی ہیں اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب حاصل کرنے والے ہیں، حضرت ابوبکر صدیقؓ ہی نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی سب سے پہلے تصدیق کی ہے۔

لہٰذا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اسلام لانے کی سبقت کا انکار قرآنی آیت کا انکار ہے، شیعہ کافر اس کا انکار رکتے ہیں، لہٰذا شیعہ قطعی کافر جہنمی ہیں۔

(۲۵) وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولَئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ۔ (الحدید:۱۹)

اس آیت پر غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے اور ان کی تصدیق کرنے والے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں اور شہداء میں حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم ہیں، ان حضرات کی گواہی صداق ہے اور ان کی گواہی قابلِ قبول ہے، یہ اپنے آپ کے نزدیک قطعی جنتی ہیں، جو شخص حضرات خلفائے ثلاثہ کی صداقت و شہادت کو تسلیم نہیں کرتا وہ جہنمی کافر ابدی سزاء پانے والا ہے، جو شیعہ صحابہ کرامؓ اور قرآن کی ان آیات کا انکار کرتے ہیں وہ کافر ہے، اس کے کفر میں شک نہیں ہے۔

(۲۶) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور خصوصاً خلفائے اربعہؓ کو امت میں بہترین نمونہ قرار دیا گیا ہے، إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ۔ (البینۃ:۷) یہ مخلوق میں سب سے اچھے اور افضل اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، نیک اعمال میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیقؓ کا جو رشتہ اور تعلق بچپن سے ہے وہ ہمارے سامنے ہے، اس کا انکار کرنا کفر ہے، لہٰذا شیعہ نے ہمیشہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق کا انکار کیا، اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں کافر کہا ہے، یہی ان کا عقیدہ ہے، لہٰذا شیعہ کے کفر میں کوئی شک نہیں رہتا، شیعہ دنیا کا غلیظ ترین کافر ہے۔

شیعہ اثنا عشریہ کا انکارِ حدیث:

شیعہ اثنا عشریہ کفریہ ملعونیہ جہنمیہ کا احادیث صحیحہ کا انکار کرنا اور احادیث و اقوالِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرنا کفر ہے، جس کی بناء پر تمام اہل تشیع کافر ہیں۔

(۱) حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر میرے بھائی ہیں۔

اس حدیث کا انکار کرنا قولِ نبیؐ کا انکار کرنا ہے، لہٰذا شیعہ کافر ہے جو کہ اس کا انکار کرتے ہیں۔

(۲) اس شخص پر اللہ کی لعنت ہے جو صحابی کو گالی دیتا ہے۔

یہ قول حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے، اس کا انکار کرنا کفر ہے، لہٰذا صحابہؓ کو گالیاں دیتے ہیں جس کی بناء پر کافر ہیں۔

(۳) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: و ان صاحبکم خلیل اللہ، اس قول کا انکار کرنا کفر ہے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لئے فرمایا، شیعہ ملعون اس کا انکار کرکے کافر ہوا۔

(۴) جس قوم میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہوں ان کے علاوہ کوئی اور امامت نہ کرے، اس حکم کو نہ ماننے والا کافر ہے، اس کے کفر میں کو شک نہیں ہے۔

اس روایت میں امامتِ حضرت ابوبکر صدیقؓ کا حکم موجود ہے، یہ حکمِ امامت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کاہے اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کا آپؐ کے ہوتے ہوئے نبیؐ کے مصلی پر کھڑے ہوکر نماز پڑھانا تمام کتب میں ثابت ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پیچھے آپؐ کی زندگی میں نماز پڑھ کر آپ کے حکم کی تعمیل کی، یہ اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی مثال ہے کہ تمام آنے والی امت کو سبق دے دیا کہ میں نے اس حکم کو مانا ہے، امت کو بھی ایسے ہی تسلیم کرنا چاہئے، لہٰذا جو شخص اس قولِ علی، فعلِ علی اور حکمِ علی رضی اللہ عنہ کو نہ مانے وہ کافر ہے۔

شیعہ چونکہ فعلِ علی رضی اللہ عنہ کو نہیں مانتے لہٰذا فہ کافر ہیں، جس طرح شیطان کافر ہے، شیطان کی طرح نجفی ہو یا خمینی، مجلسی ہو یا کوئی اور ہو سب کافر ہیں۔

(۵) فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّكَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي۔ (ابوداؤد)

ترجمہ:۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! تم میری امت میں سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے ہو۔

جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کا انکار کرے وہ کافر ہے، لہٰذا شیعہ اس کا انکار کرتا ہے وہ کافر ہے، اس کے کفر میں کوئی شک نہیں۔

(۶) قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ۔ (سنن ترمذی)

ترجمہ:۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر میری بعد کوئی نبی ہوتا تو یقیناً و عمر ہوتے۔

یہ شان حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارے میں حضور علیہ السلام کی حدیث ہے، چونکہ یہ فرمانِ نبیؐ ہے، لہٰذا اس کا انکار کرنا دائرۂ اسلام سے خارج ہونا ہے، شیعہ کافر اس کا انکار کرتا ہے بوجہِ انکار وہ مردود کافر ہے۔

(۷) حضرت علی رضی اللہ عنہ کا سچا قول ہے، آپ ؓ نے فرمایا:

مَا كُنَّا نُبْعِدُ أَنَّ السَّكِينَةَ تَنْطِقُ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ۔ (مشکوٰۃ، کنز العمال، فتاویٰ ابن تیمیہ)

ہم یہ بات بعید نہیں کہ سکینہ عمر کی زبان پر جاری ہوتی ہے۔

یہ فرمان حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہے، اہل اسلام کے نزدیک حضرت علیؓ کا انکار کفر ہے، شیعہ کفار اس کے انکار کی وجہ سے قطعی کافر جہنمی ہیں۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کا انکار کرنا اور آپؐ کی بات پر اعتماد نہ کرنا اور آپ کی بات میں طرح طرح کی تاویل کرنا کفر ہے۔

(۸) قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِكُلِّ نَبِيٍّ رَفِيقٌ وَرَفِيقِي يَعْنِي فِي الْجَنَّةِ عُثْمَانُ۔ (ترمذی)

ترجمہ:۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کا ایک رفیق ہوتا ہے، اور میرے رفیق جنت میں عثمانؓ ہیں۔

اس ارشاد کا انکار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کا انکار ہے جو کفر ہے، لہٰذا شیعہ چونکہ اس کا انکار کرتے ہیں تو وہ کافر ہیں۔

(۹) جو شخص حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دوست نہ رکھے وہ دشمنِ خدا اور دشمنِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔

شیعہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دوست نہیں رکھتے، اس لئے کہ حضرت علیؓ نے حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہم کے پیچھے ۲۳،سال نمازیں ادا کی ہیں، جو شخص حضرت علیؓ کے اماموں کو اور حضرت علیؓ کے اقوال و افعال کو نہیں مانتا وہ قیامت کے دن جہنم میں جائے گا، چونکہ حضرت علیؓ خلفائے ثلاثہ سے محبت رکھتے تھے، اس لئے جو خلفائے ثلاثہ کی حضرت علیؓ سےمحبت تسلیم نہ کرےوہ کافر ہے۔



 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں