پندرہ شعبان کی حقیقت

الرضا

Senator (1k+ posts)
“The Messenger of Allah ﷺ would begin to fast continuously until we thought he would not stop fasting, and sometimes he used to stop fasting until we thought he would never fast. I never saw Allah’s Messenger ﷺ fasting a complete month except the month of Ramadan, and I have never seen him fasting in a month more than he did in Sha‘ban” (Narrated by al-Bukhari, Muslim and Abu Dawud).

بخاری، مسلم اور ابوداؤد کے مطابق نبی کریم ﷺ شعبان کے مہینے میں بہت روزے رکھا کرتے تھے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور نبی ﷺ کی سنّت کی پیروری کرنے والے پٹاخے نہیں پھوڑا کرتے تھے۔

اب آپ پرانے دور کے ایک عالم دین جن کو سنّی حضرات امام سیوطی کہتے ہیں اور ان کے نام کے ساتھ رحمتہ اللہ علیہ لگاتے ہیں، ان کی زبانی سنیے۔

Imam Hafiz al-Suyuti also mentioned in Al-Durr al-Manthur: And Ibn Mardawayh and Ibn ‘Asakir cited: from ‘A’ishah (may Allah be pleased with her), she said:

“The Messenger of Allah ﷺ did not fast more in any month than Sha‘ban because in this month the souls of the living are written in the dead [i.e., in the list of those destined to die] to the point that a man is getting married even though his name is in the list of those to die and a man is performing Hajj even though his name is in the list of those to die.”


یعنی زندگی موت کے فیصلے شعبان کے مہینے میں ہوتے ہیں۔ یہ عقیدہ تھا سن سن کر سن ہوجانے والے سنّیوں کے امام سیوطی کا جسے موصوف نے حدیث کی شکل میں بیان کیا۔

شاید سنّیوں کے امام سیوطی کو کبھی قرآن کریم پڑھنے اور سمجھنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ کیوں کہ قرآن اس بارے میں کچھ اور کہتا ہے۔ قرآن میں سورۃ القدر کہتی ہے کہ قدر کے تمام فیصلے لیلۃ القدر میں ہوتے ہیں۔

مطلب جعلی حدیثیں گھڑ کر پھیلانے والے منکرین قرآن نے مسلمانوں کو گمراہ کیا۔

لیکن سنّی ملّاؤں کے اندر کیڑا بھی بہت لمبا ہے۔ سورج مشرق سے نکلتا ہے مگر انہوں نے تاویلیں پیش کر کر کے اسے مغرب سے نکال لینا ہے۔ کہتے ہیں کہ نہیں جی شعبان کا پورا مہینہ نہیں بلکہ زندگی موت کے فیصلے 15 شعبان کی رات کو ہوتے ہیں۔

ایک تو سنّیوں کے اندر امام تھوک کے حساب سے ہیں۔ اور یہ لوگ کسی کے نام کے آگے امام لگا لیں تو وہ امام شیعوں کے 12 اماموں کی طرح معصوم اور ہر خطا سے مبرّا ہوجاتے ہیں۔ شیعوں کو بلاوجہ اکیلے گالیاں کھانی پڑتی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ان گالیوں کے کچھ حق دار یہ سنّی حضرات بھی ہیں جنہوں نے دین اسلام کے اندر ملاوٹ کر کے امّت کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔

Imam Hafiz al-Mundhiri mentioned in al-Targhib wa ’l-Tarhib: from Mu’adh ibn Jabal (may Allah be pleased with him), from the Prophet ﷺ, he said:

“Allah bestows His special attention to His entire creation on the 15th night of Sha‘ban. He then forgives His entire creation except a polytheist and one who harbours enmity.”


یعنی کہ بخاری و مسلم وغیرہ کہتے ہیں کہ شعبان میں روزے رکھو۔ امام سیوطی نے فرمایا کہ شعبان کے مہینے میں زندگی موت کے فیصلے ہوتے ہیں۔ مگر پیٹ نہیں بھرا۔ کھینچ کر لے آئے 15 شعبان کی رات کو۔ 15 شعبان کی رات اللہ تعالیٰ ہر کسی کو بخش دیتے ہیں۔ تو کیا باقی راتوں میں نہیں بخشتے؟ اور کیا یہ پندرہ شعبان کی جو اتنی اہم رات ہے، اس کے اوپر کوئی سورۃ شعبان نازل ہوئی کہ نہیں؟ بھئی لیلۃ القدر کے اوپر سورۃ قدر ہے، تو 15 شعبان کی اتنی عظیم رات جب شیعوں کے بارہویں امام مہدی علیہ السّلام پیدا ہوئے، تو اس اعتبار سے سورۃ شعبان یا سورۃ مہدی نازل ہونی چاہیے تھی ناں؟

جاہل سنّیوں کو شیعوں نے صحیح کا چونا لگایا ہے۔

سنّیوں کے ایک اور امام کا عقیدہ دیکھیے جسے موصوف نے حدیث کے نام پر بیان کیا ہے۔ اللہ کی جھوٹوں پر لعنت ہے، خاص طور سے ان لوگوں پر جنہوں نے نبی کریم ﷺ کا نام لے کر جھوٹی حدیثیں گھڑیں اور ان لوگوں پر بھی جنہوں نے اپنی جہالت، کم عقلی اور فتنہ پردازی کی بدولت ایسی جھوٹی حدیثوں کو قلم بند کر کے قیامت تک کے انسانوں کی گمراہی کا سامان کیا۔

Imam Hafiz al-Mundhiri also mentioned in Al-Targhib wa ’l-Tarhib that Imam Ahmad narrated from ‘Abdullah ibn ‘Amr (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah ﷺ said:

“Allah, Glorified and Exalted is He, bestows His special attention to His entire creation on the 15th night of Sha‘ban. He then forgives His creation except two: one who harbours enmity and the murderer.” I say: Hafiz Ibn Rajab al-Hanbali mentioned it in Lata’if al-Ma’arif and its marginal notes writer, Shaykh al-Sawas, said, “Musnad Ahmad (2/176) and its chain of transmission is sahih (authentic)”.


یعنی کہ سورۃ القدر کے مقابلے میں منافقوں نے ایک اور رات لا کر کھڑی کر دی ہے۔

اللہ تبارک تعالٰی ویسے تو کبھی بھی انسانوں کی بخشش فرماسکتا ہے۔ صحیح حدیثوں کے مطابق وہ ہر رات انسانوں سے فرماتا ہے کہ ہے کوئی جو بخشش طلب کرے۔ مگر جاہلوں اور منافقوں نے جب تک مسلمانوں کو گمراہ نہیں کردینا، ان کا مقصد حیات حاصل نہیں ہونا۔

اللہ تعالی امام بخاری و امام مسلم کو کروٹ کروٹ جنّت نصیب کرے کہ ان حضرات نے حتی المقدور جھوٹی حدیثوں کے آگے بند باندھنے کی کوشش کی۔ اور زیادہ تر جھوٹی حدیثیں تشیع والے نام نہاد سنّی علماء مثلاّ نام نہاد امام سیوطی وغیرہ نے پھیلائی ہیں۔ اور ایسی حدیثیں کم صحت والی حدیث کی کتابوں جن میں صحاح ستہ کی بقیہ کتابیں شامل ہیں، میں پائی جاتی ہیں۔

پندرہ شعبان وہ تاریخ ہے جب شیعوں کے بارہویں امام مہدی کی ولادت ہوئی، بقول اہل تشیع خود۔ اپنے امام کی سالگرہ کب تک چھپ چھپ کر مناتے؟ اس سالگرہ کو عام کرنے کے لیے جھوٹی حدیثیں گھڑیں اور تقیہ کے نام پر سنّیوں کے بھیس میں سنّیوں تک راویان حدیث بن کر پہنچادیں۔ عقل سے پیدل جاہل سنّی علماء حدیث نے اپنے کچّے اور چھوٹے دماغ کے مطابق ان پر ایمان لاتے ہوئے انہیں کتب احادیث میں جمع کر دیا۔ اور اس طرح گمراہی باقاعدہ ایک ادارے کی شکل میں آج تک دنیا کے اندر موجود ہے۔

 
Advertisement

angryoldman

Minister (2k+ posts)
میں اس سے متفق ہوں ۔ پندرہ شعبان والی تھیوری ماننے والے اگر اس میں سے سنت کا لفظ حذف کر دیں تو عبادت کے لئے کو ئی ایک رات مخصوص نہیں۔
اس کو سمجھنے کے لیے تفہیم القرآن میں سورہ دھان کی پہلی دو آیات کا ترجمہ اور تشریح پڑھ لیں۔
 

The Untouchable

MPA (400+ posts)
کوئی حقیقت نہیں ہے 15 شعبان کی یہ سب اسلام کے لبادے میں یہودیوں کی سازش ہے
 

WatanDost

Chief Minister (5k+ posts)
رافضی اس پر ایمان رکھتے ہیں کہ حضرت علی رضی الله نے ٣ دن کی عمر میں نبی صل الله علیہ وسلم کی گود میں ان کے معبوث ہونے اور نزول قرآن سے برسوں پہلے سوره المومنون کی تلاوت فرمائی ان منکر قرآن کافر رافضیوں اور ان
کے اجداد پر لکھ لعنت





محترم ١٥ شعبان کا روزہ نہ نبی ص سے اور نہ ہی آثار صحابہ رضوان الله سے ثابت ہے اور بدعت ہے ... اب اوپر دیۓ گۓ رافضیوں کے عین کفریہ عقیدے پر بھی کچھ روشنی ڈالیں

 

socrates khan

Politcal Worker (100+ posts)
استغفراللہ۔۔۔۔ استغفراللہ۔۔۔۔۔۔ استغفراللہ۔۔۔۔۔۔۔


یا اللہ آج کی رات تمام امتِ مسلمہ کو نجدی وہابیوں کے شر سے محفوظ فرما اور اپنے حبیبﷺ کے نعلین پاک کے صدقے ہمارے احوال پر کرم فرما۔۔۔۔ آقاﷺ کے اہل بیت اور غلاموں کی محبت و نسبت عطا فرما۔۔۔۔۔آمین ثم آمین۔۔۔۔۔
 

I Mian

Voter (50+ posts)
استغفراللہ۔۔۔۔ استغفراللہ۔۔۔۔۔۔ استغفراللہ۔۔۔۔۔۔۔


یا اللہ آج کی رات تمام امتِ مسلمہ کو نجدی وہابیوں کے شر سے محفوظ فرما اور اپنے حبیبﷺ کے نعلین پاک کے صدقے ہمارے احوال پر کرم فرما۔۔۔۔ آقاﷺ کے اہل بیت اور غلاموں کی محبت و نسبت عطا فرما۔۔۔۔۔آمین ثم آمین۔۔۔۔۔
Brother please give the answer of the questions raised by the others .... with strong Quranic or sahi hadith reference or with any logical and rational explanation so the people like me did not get influenced and follow the right thing
 

Tabbot Mein Keel

Voter (50+ posts)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایالوگوں کو دین میں جو کچھ بھی بتایا گیا وہ نہیں کریں گے اور کریں گے وہ چیزیں جس پر عمل کرنے کی نہیں بتایا گیا اور اسی کی پیروی کریں گے

It is narrated on the authority 'Abdullah b. Mas'ud that the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) observed:
Never a Prophet had been sent before me by Allah towards his nation who had not among his people (his) disciples and companions who followed his ways and obeyed his command. Then there came after them their successors who said whatever they did not practise, and practised whatever they were not commanded to do. He who strove against them with his hand was a believer: he who strove against them with his tongue was a believer, and he who strove against them with his heart was a believer and beyond that there is no faith even to the extent of a mustard seed. Abu Rafi' said: I narrated this hadith to 'Abdullah b. 'Umar; he contradicted me. There happened to come 'Abdullah b. Mas'ud who stayed at Qanat, and 'Abdullah b 'Umar wanted me to accompany him for visiting him (as 'Abdullah b. Mas'ud was ailing), so I went along with him and as we sat (before him) I asked Ibn Mas'ud about this hadith. He narrated it in the same way as I narrated it to Ibn 'Umar.

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پہلے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا کہ جس کے اس کی امت میں سے حواری نہ ہوں اور اصحاب نہ ہوں جو اس کے طریقے پر چلتے ہیں اور اس کے حکم کی پیروی کرتے ہیں۔ پھر ان لوگوں کے بعد ایسے نالائق لوگ پیدا ہوتے ہیں جو زبان سے کہتے ہیں اور کرتے نہیں اور ان کاموں کو کرتے ہیں جن کا حکم نہیں۔ پھر جو کوئی ان نالائقوں سے لڑے ہاتھ سے وہ مؤمن ہے اور جو کوئی لڑے زبان سے (ان کو برا کہے ان کی باتوں کا رد کرے) وہ بھی مؤمن ہے اور جو کوئی لڑے ان سے دل سے (ان کو برا جانے) وہ بھی مؤمن ہے اور اس کے بعد رائی کے دانے برابر بھی ایمان نہیں۔“ (یعنی اگر دل سے بھی برا نہ جانے تو اس میں ذرہ برابر بھی ایمان نہیں) ابورافع (جنہوں نے اس حدیث کو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا اور نام ان کا اسلم یا ابراہیم یا ہرمز یا ثابت بن یزید تھا۔ (مولیٰ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے) نے کہا: میں نے یہ حدیث سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے نہ مانا اور انکار کیا۔ اتفاق سے میرے پاس سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آئے اور قناۃ (مدینہ کی وادیوں میں سے ایک وادی کا نام ہے) میں اترے تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مجھے اپنے ساتھ لے گئے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی عیادت کو میں ان کے ساتھ گیا۔ جب ہم بیٹھے تو میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اسی طرح بیان کیا جیسے میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا تھا۔ صالح بن کیسان نے کہا کہ حدیث ابورافع سے اسی طرح بیان کی گئی ہے۔


حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ - وَاللَّفْظُ لِعَبْدٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَا مِنْ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللَّهُ فِي أُمَّةٍ قَبْلِي إِلاَّ كَانَ لَهُ مِنْ أُمَّتِهِ حَوَارِيُّونَ وَأَصْحَابٌ يَأْخُذُونَ بِسُنَّتِهِ وَيَقْتَدُونَ بِأَمْرِهِ ثُمَّ إِنَّهَا تَخْلُفُ مِنْ بَعْدِهِمْ خُلُوفٌ يَقُولُونَ مَا لاَ يَفْعَلُونَ وَيَفْعَلُونَ مَا لاَ يُؤْمَرُونَ فَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِيَدِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِلِسَانِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِقَلْبِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَيْسَ وَرَاءَ ذَلِكَ مِنَ الإِيمَانِ حَبَّةُ خَرْدَلٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو رَافِعٍ فَحَدَّثْتُهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَأَنْكَرَهُ عَلَىَّ فَقَدِمَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَنَزَلَ بِقَنَاةَ فَاسْتَتْبَعَنِي إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَعُودُهُ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَلَمَّا جَلَسْنَا سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَحَدَّثَنِيهِ كَمَا حَدَّثْتُهُ ابْنَ عُمَرَ ‏.‏ قَالَ صَالِحٌ وَقَدْ تُحُدِّثَ بِنَحْوِ ذَلِكَ عَنْ أَبِي رَافِعٍ ‏.‏


Reference: Sahih Muslim 50 a
In-book reference: Book 1, Hadith 86
USC-MSA web (English) reference: Book 1, Hadith 81
 

Tabbot Mein Keel

Voter (50+ posts)
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا الحجاج بن ارطاة، عن يحيى بن ابي كثير، عن عروة، عن عائشة، قالت: فقدت رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة، فخرجت فإذا هو بالبقيع، فقال: " اكنت تخافين ان يحيف الله عليك ورسوله؟ " قلت: يا رسول الله، إني ظننت انك اتيت بعض نسائك، فقال: " إن الله عز وجل ينزل ليلة النصف من شعبان إلى السماء الدنيا، فيغفر لاكثر من عدد شعر غنم كلب ". وفي الباب عن ابي بكر الصديق. قال ابو عيسى: حديث عائشة لا نعرفه إلا من هذا الوجه من حديث الحجاج، وسمعت محمدا يضعف هذا الحديث، وقال يحيى بن ابي كثير: لم يسمع من عروة، والحجاج بن ارطاة، لم يسمع من يحيى بن ابي كثير.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غائب پایا۔ تو میں (آپ کی تلاش میں) باہر نکلی تو کیا دیکھتی ہوں کہ آپ بقیع قبرستان میں ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تم ڈر رہی تھی کہ اللہ اور اس کے رسول تم پر ظلم کریں گے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرا گمان تھا کہ آپ اپنی کسی بیوی کے ہاں گئے ہوں گے۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ پندرھویں شعبان ۲؎ کی رات کو آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے، اور قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ تعداد میں لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے“۔

امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث کو ہم اس سند سے صرف حجاج کی روایت سے جانتے ہیں،
۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو اس حدیث کی تضعیف کرتے سنا ہے، نیز فرمایا: یحییٰ بن ابی کثیر کا عروہ سے اور حجاج بن ارطاۃ کا یحییٰ بن ابی کثیر سے سماع نہیں،
۳- اس باب میں ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔


تخریج الحدیث: «سنن ابن ماجہ/الاقامة 191 (1389)، (تحفة الأشراف: 1735) (ضعیف) (مؤلف نے سبب بیان کر دیا ہے کہ حجاج بن ارطاة ضعیف راوی ہے، اور سند میں دوجگہ انقطاع ہے)»

وضاحت: ۱؎: اس باب کا ذکر یہاں استطراداً شعبان کے ذکر کی وجہ سے کیا گیا ہے ورنہ گفتگو یہاں صرف روزوں کے سلسلہ میں ہے۔

۲؎: اسی کو برصغیر ہندو پاک میں لیلۃ البراءت بھی کہتے ہیں، جس کا فارسی ترجمہ ”شب براءت“ ہے۔ اور اس میں ہونے والے اعمال بدعت وخرافات کے قبیل سے ہیں، نصف شعبان کی رات کی فضیلت کے حوالے سے کوئی ایک بھی صحیح روایت اور حدیث احادیث کی کتب میں نہیں ہے۔

قال الشيخ الألباني: ضعيف، ابن ماجة (1389) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (295) ، المشكاة (1299) الصفحة (406) ، ضعيف الجامع الصغير (1761) //

قال الشيخ زبير على زئي: (739) إسناده ضعيف / جه 1389 ¤ حجاج عنعن (تقدم: 527) وللحديث شواھد ، كلھا ضعيفة

Weak Ibin maja ----Weak Mishakt Sharif ---Daif Al-jamia al Saghir ----Shaikh Albani mentioned Daief --- No one approved this hadith !!!!!
 

Pakistani1947

Minister (2k+ posts)
استغفراللہ۔۔۔۔ استغفراللہ۔۔۔۔۔۔ استغفراللہ۔۔۔۔۔۔۔


یا اللہ آج کی رات تمام امتِ مسلمہ کو نجدی وہابیوں کے شر سے محفوظ فرما اور اپنے حبیبﷺ کے نعلین پاک کے صدقے ہمارے احوال پر کرم فرما۔۔۔۔ آقاﷺ کے اہل بیت اور غلاموں کی محبت و نسبت عطا فرما۔۔۔۔۔آمین ثم آمین۔۔۔۔۔
Brother a member has politely asked you a valid question. would you mind answering the question raised? Post# 7
 

منتظر

Minister (2k+ posts)
سنیوں کی کتاب صحیح بخاری کی حقیقت
موٴلف محمد صادق نجمی

مترجم: محمد منیر خان

امام بخاری کا طریقہ انتخاب احادیث

ترتیب : مولانا ذوالفقار اسدی

امام بخاری سے منقول ہے

میں نےچھ لاکھ حدیثوں سے انتخاب کر کے اپنی صحیح میں احادیث درج کی ہیں اور اس کتاب کو اپنے اور خدا کے درمیاں حجت قرار دیا ہے ۔ (۱)۔

فربری نے امام بخاری سے اس طرح نقل کیا ہے :

ما کتبت فی کتاب الصحیح حدیثا الا اغتسلت قبل ذالک و صلیت رکعتین (۲)۔

’’ میں ہر حدیث کو کتاب میں تحریر کرنے سے قبل غسل کیا اور دو رکعت ادا کر کے استخارہ کیا اور جب حدیث کی صحت استخارے کے ذریعے میرے نزدیک ثابت ہو گئی تب میں نے حدیث کو اپنی کتاب میں درج کیا ۔ ‘‘

:نقد مترجم

امام بخاری نے صحیح بخاری کی تالیف میں (۱۶) سال صرف کئے ، جیسا کہ خطیب بغدادی نے بخاری سے نقل کیا ہے : میں نے اس کتاب کو سولہ (۱۶) سال میں تالیف کیا

تاریخ بغداد ج ۲ ، بیان حالات محمد ابن اسماعیل ، ص ۱۴

امام بخاری کے مذکورہ قول کے مطابق چھ لاکھ حدیثوں میں سے تقریبا سات ہزار حدیثوں پر استخارہ آیا اور بقیہ پر استخارہ نہ آیا ، ذرا ہم تحقیق کر کے اس بات کو دیکھتے ہیں آیا یہ عمل ممکن ہو سکتا ہے یا نہیں ؟

واضح رہے کہ امام بخاری نے ہر حدیث پر ایک مرتبہ استخارہ ، غسل اور دو رکعت نماز انجام دی ، پس کمترین مدت اگر ایک حدیث پر صرف کی جائے تو بیس (۲۰) منٹ ہوں گے ، گویا تین حدیثوں پر کم سے کم ایک گھنٹہ صرف ہوتا ہے ، اگر چھ لاکھ حدیثوں پر اس عمل کو انجام دیا جائے تو تقریبا دو لاکھ گھنٹوں کی ضرورت ہوگی ، جس کا حساب اس طرح ہوگا

۔1۔ امام بخاری نے دن و رات حدیث جمع کرنے کے لیے ۴ / گھنٹے کام کیا تو چھ لاکھ حدیثوں کے لئے ۱۳۷ / سال در کار ہوں گے

۔2۔ اگر امام بخاری نے روزانہ ۸ / گھنٹے صرف کئے تو تقریبا ساڑھے ارسٹھ (۵/۶۸) سال درکار ہوں گے ۔

۔3۔ اگر بارہ گھنٹے صرف کئے تو ۴۶ / سال لازم ہوں گے ۔

۔4۔ اگر ۱۶ / گھنٹے روزانہ استعمال میں لائے تو ۳۴ / سال ضروری ہوں گے ۔

۔5۔ اگر بیس گھنٹے کام کریں تو ۲۷/ سال در کار ہوں گے ۔

۔6۔ اگر ۲۴ / گھنٹے کام کریں تو ۲۳ / سال در کار ہوں گے ۔

لیکن لا ینحل معمہ یہاں یہ ہے کہ بخاری نے دس سال کی عمر سے تعلیم دین حاصل کرنا شروع کی اور جب بیس سال کے ہوئے تو علوم دینیہ کے حصول کے لئے گھر سے باہر نکلے اور عمر کے ۲۹ ویں سال سے ان چھ لاکھ حدیثوں پر تحقیقی کام کرنا شروع کیا اور کلی طور پر ۶۲ / سال عمر پائی ، پس اگر ہم ۶۲/ سے ۲۹ /کم کر دیں تو امام بخاری نے ۳۳ سال اس کام (احادیث جمع کر کے ان کی تحقیق) میں صرف کئے اور اگر ایک سال اور بڑھا لیں تو ۳۴/ سال ہوتے ہیں ، اس چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے بخاری کا یہ کہنا : ’’ میں نے صرف ۱۶/ سال ان حدیثوں پر کام کیا ‘‘ کیسے درست ہو سکتا ہے ؟ ! بہر حال اگر ہم ۱۶/ سال کی مدت سے قطع نظر کریں تو آپ کی عمر اس کام کو کرنے کے لئے ۱۳۷/ سال ہونی چاہئے اور دوسرے اور تیسرے فارمولے کے مطابق ۵/۶۸ یا ۴۶/ سال ہونا چاہئے اور اگر روزانہ ۱۶ گھنٹے کام کیا ، تو پھر آپ کی تعلیمی عمر کے برابر سال ہونا چاہئے ۳۴/ سال یعنی اگر آپ روزانہ ۱۶/ گھنٹے حدیث پر کام کریں تو پھر روزانہ آپ کو ۴۸ حدیثوں پر کام کرنا ہوگا ، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کوئی انسان یہ یقین کر سکتا ہے کہ ایک شخص ۲۴/ گھنٹوں میں ۴۸/ مرتبہ غسل کرے ؟! اور ہر غسل کے بعد دو رکعت نامز اور استخارہ انجام دے ؟! یعنی روزانہ ۱۹۶/ رکعت نمازیں پڑھے ؟ اور اگر غسل کو وضو کے لئے کافی نہ جانیں تو وضو بھی ۴۸/ مرتبہ نماز کے لئے انجام دینا ہوگا اور پھر اس کے علاوہ آٹھ گھنٹوں میں کھانا ، پینا ، رفع حاجت اور بقیہ نماز پنجگانہ مع فرض و نوافل جو تقریبا ۵۱/ رکعت ہوتی ہے اور ان نمازوں کے لئے وضو وغیرہ انجام دینا اوپ پھر ان ہی آٹھ گھنٹوں میں سونا اور ہر ماہ نماز جمعہ بھی ۴ مرتبہ آتی ہے اور ہر سال نماز عید کا اضافہ ہو جاتا ہے اور کسی غرض کے تحت سفر بھی کرنا ، باہر سے کھانے پینے کا سامان بھی مہیا کرنا ، بال بچوں سے بھی محو گفتگو ہونا اور دیگر لوگوں کے دینی مسائل بھی حل کرنا ، درس و تدریس کا سلسلہ بھی برقرار رکھنا اور پڑھانے کے لئے پیشگی مطالعہ کرنا اور زوجہ کو خاص وقت بھی دینا وغیرہ وغیرہ

گزارش : یہاں پر ہم ارباب عقل و دانش سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا ایک انسان ۳۴/ سال تک مسلسل روزانہ مذکورہ عمل انجام ( ۴۸/ مرتبہ نماز و غسل اور ۴۸/ مرتبہ استخارہ وغیرہ وغیرہ ) دے سکتا ہے ؟ حقیقت تو یہ کہ ۸/ گھنٹے صرف بناز یومیہ کے لئے درکار ہوتے ہیں ، مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری کے زمانے میں دن ۴۸/ گھنٹے کا تھا ؟

کرن آفتاب کیاور اگر اس حساب سے ایک لمحہ کے لئے ہم چشم پوشی کر لیں تب بھی بخاری کا یہ طریقہ انتخاب ِ حدیث علم درایت و روایت کے خلاف ہے ، کیونکہ روایت قبول کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کے احوال رُواۃ کو دیکھا جائے کہ وہ کیسا تھا ، صادق تھا یا کاذب ، ذہین تھا یا کند ذہن ، امین تھا یا خائن مجہول الحال تھا یا غیر مجہول وغیرہ وغیرہ اور اس کے بعد تمام سلسلہ سند و روایت کو دیکھا جاتا ہے ، آیا روایت مقطوع تو نہیں ہے ، سلسلہ سند درمیان سے محذوف تو نہیں ، ان تمام مراحل کے بعد یہ دیکھا جائے گا کہ یہ روایت قرآن حدیث کے خلاف تو نہیں ، اگر مخالف ہے تو دہوار پر دے ماریں ، ان تمام اصول و ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر امام بخاری کو نہ جانے کیا سوجھی کہ غسل کر کر کے نمازیں پڑھ پڑھ کے استخارہ کے ذریعہ روایت اخذ کیں ؟!!! جی اگر ہر مسئلہ میں قوانین و ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر استخارہ ہی کیا جائے تو پھر سلسلہ سند روایت تلاش کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ اجتہاد کا کیا کام ؟ تب تو آپ استخارہ دیکھتے جایئے اور عمل کرتے جایئے ، اگر یہی بات مان لی جائے تو میرا مشورہ یہ ہے کہ صحیح بخاری پر پھر ایک تجدید استخارہ ہوجائے ، پھر دیکھئے کتنی روایتیں حذف ہوتی ہیں.

:حوالاجات

۔(1) مقدمہ فتح الباری (ھدی الساری) فصل اول ، ص ۵ ، مقدمہ ارشاد الساری ، کشف الظنون

۔(2) مقدمہ فتح الباری ، ٖفصل اول ، ارشاد الساری ، کشف الظنون ، الفصل الرابع فیما یتعلق بخاری و جعلتہ حجۃ فیما ینی



 

منتظر

Minister (2k+ posts)
صحیح البخاری زینت الماری بختاں ھاری کیا حقیقت


رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے مسلمانوں کی ہدایت کیلئے دو قیمتی چیزیں چھوڑی ہیں تاکہ مسلمان ہمیشہ ضلالت اور گمراہی سے محفوظ رہیں۔ ان دو چیزوں میں سے ایک اللہ تعالی کی کتاب، قرآن مجید ہے اور دوسری چیز رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کی عترت اور اہلبیت(علیہم السلام) ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ عالم اسلام میں پائی جانے والی تمام روایات پر تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ صحیح احادیث سے صحیح مطلب نکال کہ قرآن کو صحیح طریقے سے سمجھا جا سکے تا کہ مسلمان اپنی دنیا اور آخرت کو سنوار سکیں۔
اہلسنت کے حدیث کی کتابوں میں سے سب سے مشہور کتاب جو حدیث کی تمام کتابوں سے معتبر قرار پائی یہاں تک کہ اہلسنت کے عالموں نے اسے قرآن کے بعد معتبر ترین کتاب کا درجہ دیا اور اسے دین کے سمجھنے کا اہم ذریعہ قرار دیا وہ کتاب صحیح بخاری ہے۔
جب تک ہم کسی کتاب کے بارے میں بحث نہ کریں ،تحقیق نہ کریں ، اعتراض نہ کریں ، سوال نہ کریں اس وقت تک ہم اس کتاب کو سمجھ نہیں سکتے اس لئے صحیح بخاری کو سمجھنے کیلئے بھی تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ اس کتاب کی خصوصیات کو سمجھ سکیں۔
اس مقالے میں ہم کوشش کریں گے کہ صحیح بخاری کے علمی معیار کو جان سکیں اور اس کتاب کی فکری اور دینی حیثیت معلوم کر سکیں اور پتا لگا سکیں کہ اس کتاب نے سنت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی کس حد تک خدمت کی ہے۔


امام بخاری کی زندگی
ابو عبداللہ محمد ابن اسماعیل بخاری ،قمری سال کے سن ۱۹۴میں بخارا(خراسان) میں پیدا ہوا بچپن میں ہی اس کے والد کا انتقال ہوگیا اور اسکی والدہ نے اس کی تربیت کی ذمیداری اٹھائی۔
بخاری اپنی زندگی کے بارے میں خود فرماتا ہے کہ : میں نے دس سال کی عمر سے حدیثوں کو حفظ کرنا شروع کیا اور سولہ سال کی عمر میں اپنی ماں اور بڑے بھائی کے ساتھ مکے روانہ ہوا چھ سال میں نے مکہ اور مدینہ میں زندگی گذاری۔
ان سالوں میں بخاری نے دینی علوم کو حاصل کیا انہوں نے حدیثوں کی جمع آوری کیلئے شام ، مصر، الجزیرہ، بغداد ، بصرہ، خراسان کا سفر کیا۔ جب وہ نیشاپور پہنچا تو قرآن کے مخلوق ہونے کی بحث چھڑی ہوئی تھی یہ بحث بخاری اور محمد ابن یحیی دہلی کے درمیان کشمکش کا سبب بنی ۔
بخاری علم حاصل کرنے اور چند کتاب لکھنے کے بعد اپنے شہر واپس پلٹے ۔ بخاری اور بخارا کے والی خالد ابن احمد کا اختلاف سبب بنا کہ وہ سمرقند آئے اور ایک گاؤں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے ۔ قمری سال۲۵۶ میں جب ان کی عمر ۶۲ سال تھی، انہوں نے اس جہان فانی کو الوداع کہا۔(1)
امام بخاری نے ۱۸ ۱کتابیں لکھیں، ان کی کتابوں میں اہم ترین کتاب صحیح البخاری کو کہا جا سکتا ہے۔ اس کتاب کے علاوہ بخاری کی چند کتابیں یہ ہیں : التاريخ الکبير، التاريخ الأوسط، التاريخ الصغير، خلق أفعال العباد، الضعفاء الکبير، أسامى الصحابة، المبسوط، المسند الکبير، الضعفاء الصغير، مختصر من تاريخ النبى ۔


کتاب صحيح البخارى
یہ کتاب اہلسنت کے حدیث کی کتابوں میں سے سب سے زیادہ مشہور کتاب ہے جو اہلسنت کے نزدیک حدیث کی تمام کتابوں میں سب سے زیادہ معتبر کتاب سمجھی جاتی ہے ۔ صحیح بخاری میں موجود احادیث کو ۹ نو ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے ۔
تمام احادیث کو موضوع کے لحاظ سے ان ابواب میں رکھا گیا ہے : «بدء الوحي»، «الأيمان»، «العلم»، «الوضوء»، «الغسل»، «الحيض» و «الصلوة» کتاب کے دوسرے ، تیسرے اور چوتھے حصے میں فقہی ابواب کو جگہ دی گئی ہے ۔ بخاری نے کتاب کے پانچھویں باب میں مناقب کو بیا ن کیا ہے ، چھٹے باب میں قرآن کی تفسیر بیان کی ہے ، ساتویں باب میں کچھ فقہی ابواب کو جگہ دی ہے جیسے نکاح ، طلاق اور آٹھویں باب میں دعا کے متعلق روایات کو اور کچھ فقھی مسائل کے ساتھ بیان کیا ہے اور کتاب کے آخر میں «منامات»، «فتن»، «أخبار آحاد» و «إعتصام کتاب و سنت» و «توحيد»ان عناوین کو بہترین خاتمے کے عنوان سے ذکر کیا ہے ۔


صحیح بخار ی میں حدیثوں کی تعداد
اہلسنت کے علماء میں صحیح بخار ی کی حدیثوں کی تعداد کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ہدی الساری میں ابن حجر ، ابن صلاح سے نقل کرتے ہیں : صحیح بخاری میں تکراری اور غیر تکراری حدیثوں کی تعداد ۷۲۷۵ ہے (2) جبکہ ریاض میں چھپی ہوئی صحیح بخاری کی دو جلدوں میں حدیثوں کی تعداد ۷۵۶۳ ہے(3) اور دوسری طرف فہارس البخاری میں رضوان محمد رضوان نے ابن حجر سے نقل کیا ہے کہ : صحیح بخاری میں موجود حدیثوں کی تعداد ۹۰۸۲ ہے ۔(4) صحیح بخاری کی آدھی سے زیادہ روایات تکراری ہیں اس بنا پر غیر تکراری روایات کی تعداد ۴۰۰۰ ہے۔ ان روایات میں سے ۱۳۴۱روایتیں معلق ہیں یعنی ان کی سند کامل نہیں اور بہت ساری روایتوں میں رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا کلام نہیں بلکہ اصحاب یا تابعین کے کلام کو نقل کیا گیا ہے۔ ان باتوں کو دیکھتے ہوئے ابن حجر کی بات درست لگتی ہے کہ : صحیح بخاری میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )سے متصل رواتیوں کی تعداد صرف ۲۶۰۲ ہے۔(5)
امام بخاری کی کتابوں میں سے صحیح بخاری کے علاوہ دوسری کتابیں علماء اہلسنت کی نظر میں مورد تہمت قرار پائی ہیں کیونکہ بخاری کی ۱۱۸ کتابیں سامنے آئی ہیں۔ ۵۹ کتابوں میں پوری کتاب یا اکثر کتاب صحیح بخاری کی شرح پر مشتمل ہیں ۔ ۲۸ کتابیں صحیح بخاری کے حاشیہ پر مشتمل ہیں ۔ ۱۵ کتابیں صحیح بخاری کے خلاصہ پر مشتمل ہیں ۔ ۱۶ کتابیں صحیح بخاری میں موجود موضوعات پر لکھی گئی ہیں ۔(6)


بخاری کا حدیثوں کو نقل کرنے کا طریقہ
۱۔ حدیثوں پر پابندی کے اثرات
کچھ سادہ لوح مسلمان جو علم الحدیث سے آشنائی نہیں رکھتے اور حدیث کے صرف ظاہر کو دیکھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )سے منسوب تمام حدیثیں بغیر کمی اور زیادتی کے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے ارشاد فرمائی ہیں اور نقل کرنے والوں نے بھی رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے تمام الفاظ کو کلام کی ظرافتوں کے ساتھ بغیر کمی اور زیادتی کے نقل کیا ہے اور یہ حدیثوں کا مجموعہ نسل در نسل منتقل ہوتا ہوا ہم تک پہنچا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ صحیح بخاری کی تمام روایات اسی طرح نقل ہوئی ہیں اور سب کی سب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے ارشاد فرمائی ہیں ۔ حالانکہ ا س بات کو عقل قبول نہیں کرتی کیونکہ بہت بعید ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے اصحاب کاحافظہ اتنا تیز ہو کہ وہ اس انتظار میں ہوں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کچھ بیان فرمائے اور وہ اس کلام کو بغیر کمی اور زیادتی کے آگے پہنچائیں ۔ اصحاب کے ساتھ تابعین اور ان کے بعد دوسرے نقل کرنے والے تمام کے حق میں یہ گمان کرنا کہ ان کا حافظہ اتنا تیز تھا کہ انہوں نے کلام کے تمام الفاط اور ظرافتوں کو بغیر کمی اور زیادتی کے نقل کیا ہو یہ مشکل ہے یہا ں تک کہ ایک حدیث بھی ایسی نہیں جس میں کسی کلمہ کا اضافہ یا کمی نہ ہوئی ہو ۔ جو بات قابل قبول ہے وہ یہ ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے ایک مطلب کو بیان کیا ہو اور تمام صحابہ نے اپنے حافظہ کے مطابق اس مطلب کو ذہن نشین کیا اور پھر اس مطلب کو اپنے لفظوں میں آگے نقل کیا(اصطلاح میں اسے نقل بالمعنی کہاجاتا ہے)۔ لیکن وقت کے گذرنے سے ان مطالب میں کمی زیادتی ہوتی رہی اور ان الفاظ میں کمی زیادتی ہوتی رہی اور ان تمام الفاظ کو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے کلام کا حصہ سمجھا جانے لگا۔ یہ نظریہ اس وقت اور بھی مضبوط ہوتا دکھائی دیتا ہے جب ہم رسول ا کرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کی رحلت کے وقت کے حالات کو ملاحظہ کرتے ہیں اور پتا چلتا ہے اس وقت حدیثوں کو نقل کرنے پر پابندی لگائی گئی اور وہ دور ’’ منع حدیث‘‘ کے طور پر مشہور ہے اب جب تمام صحابہ اور علماء پر حدیثوں کے بیان کرنے ، سننے ، پڑھنے ، لکھنے پر پابندی ہو اوران اسباب کے ساتھ خود انسان اپنی طبیعت اور فطرت میں نسیان (فراموشی ،بھول چوک)رکھتاہے ، انسان بھول جاتا ہے اور اتنا بڑا زمانہ جو ہمارے اور رسولاکرم کے درمیان فاصلہ بنا ہوا ہے۔ ان سب عوامل کی بنا پر ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہم تک رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا کلام تمام الفاظ اور ظرافتوں کے ساتم بغیر کمی اور زیادتی کے نقل کیا گیا ہے؟ جو بات زیادہ سے زیادہ ممکن ہے وہ یہ ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے مطالب کو انہوں نے اپنے الفاط میں بیان کیا ہو جیساکہ اس پر دلیل بھی موجود ہے ۔
عبدالله بن سليمان بن أکيمه الليثى، قال: قلت: يا رسول، إنّى أسمع منک الحديث لا تستطيع أن أوديه کما أسمعہ منک، يزيد حرفاً أو ينقص حرفاً؟ فقال: إذا لم تحلوا حراماً و لم تحرموا حلالاً و أصبتم المعنى، فلا بأس»
عبداللہ ابن سلیمان ابن اکیمہ لیثی نقل کرتے ہیں : میں نے رسول ا کرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )سے سوال کیا : یارسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ہم آپ سے حدیث سنتے ہیں لیکن اپنے ضعیف حافظے کی وجہ سے ہم اس حدیث کو بغیر کمی اور زیادتی کے آگے پہنچا نہیں سکتے۔ اس حدیث کو آگے پہنچانے میں ضرور کسی حرف کی کمی ہوگی اور کسی حرف کی زیادتی ہوگی ؟
رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے ارشاد فرمایا : اگر کسی حرام کو حلال نہیں کرو اور کسی حلال کو حرام نہیں کرو اور اس حدیث کی معنی وہی رہے تو کوئی حرج نہیں۔(7)
اسی طرح جب واثلہ ابن اسقع سے مکحول اورابو الازھر نے ایک ایسی حدیث کی درخواست کی جو صحیح ہو ،دقیق ہواور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے بغیر کمی اور زیادتی کے نقل ہوئی ہو تو انہوں نے مسکرا کے فرمایا : آپ لوگ جانتے ہیں کہ قرآن ہمارے پاس لکھا ہوا ہے اور ہم بار بار اس کی تلاوت کرتے ہیں لیکن جب ہم قرآن کو حفظ کرنے کی کوشش کرتےہیں تو بعض اوقات اس کو غلط پڑھتے ہیں، اب آپ لوگ کیسے توقع رکھتےہیں کہ ایک ایسی حدیث جو ہم نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )سےصرف ایک بار سنی ہے وہ ہمارے ذہن میں بغیر کمی اور زیادتی کے باقی رہے ۔(8)
رسول اکرم کی حدیثوں میں رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے مطالب کو اپنے الفاظ میں نقل کرنا اتنا عام تھا کہ حدیثوں کے عالم ابن صلاح اپنی کتاب کے مقدمہ میں اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے فرماتےہیں :
کثيراً ما کانوا ينقلون معنى واحد فى أمر واحد بألفاظ مختلفة و ما ذلک إلاّ لأنّ معولهم کان على المعنى دون اللفظ.
علماء اپنی حدیثوں میں اکثر اوقات ایک معنی کو مختلف الفاظ میں نقل کرتے ہیں کیونکہ ان کی نظر معنی پہ ہوتیہے الفاظ پہ نہیں ۔(9)
اس کے باوجود کون ہے جو صحیح بخاری کے پورے کے پورے متن کو بغیر کمی اور زیادتی کے رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا کلام کہے اور صحیح بخاری کو قرآن کے برابر قرار دے ؟
اب اگر کو ئی کہے کہ : ان حدیثوں کو درست ماننا ضروری ہے کیونکہ اگر ہمارے پاس صحیح حدیثیں نہ ہوں تو ہمارے لئے درست عمل کرنا مشکل ہو جائے گا ۔ اس کی بات درست ہے لیکن ہم جواب میں کہیں گے کہ ہمارے پاس اہلبیت(علیہم السلام) کی حدیثیں موجود ہیں جو ہر موضوع پر فراوان ہیں جن کو ہر دور میں موجود اہلبیت (علیہم السلام) کے شاگردوں نے سنا اور یاد کیا اور سینہ بہ سینہ منتقل کیا ہے اور اس طرح سے کلام کو اسکی ظرافتون سے نقل کیا کہ ان کے لفط لفظ سے استدلال کیا جاسکتا ہے۔


۲۔ بخاری اور ابن عقدہ کا اعتراف کہ سننے میں اور لکھنے میں اختلاف ہے
والی بخارا ، امام بخاری سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا : بہت ساری حدیثیں جو میں نے بصرہ میں سنی تھیں ان کو میں نے شام میں لکھا او رجن حدیثوں کو میں نے شام میں سناتھا ان کو میں نے مصر میں لکھا ۔(10) والی بخارا نے سوال کیا : اس صورت میں کیاآپ اس طرح لکھ پائے جیسے سنا تھا ؟ بخاری نے اس سوال کے جواب میں خاموشی اختیار کی۔(11) بخاری نے حدیث کی کتاب لکھی لیکن افسوس کہ روایت اور درایت کے اصولوں کا خیال نہیں رکھا اورکسی بھی راوی پر تحقیق کرنا مناسب نہ سمجھا الٹا ایسے راویوں سے روایتیں نقل کیں جو روایت کیلئے مناسب نہ تھے ۔
معروف رجالی ابن عقدہنے بخاری کے اس ضعیف نقطے کی طرف اشارہ کیا ہے :بخاری ایک حدیث کو ایک سند کے ساتھ دو لفظوں سے روایت کرتے ہیں وہ اپنے حافظہ پر اعتماد کرتے ہیں بخارا آنے کے بعد جو حدیثیں ان کو یاد تھیں ان کو لکھتے تھے ۔
ابن عقدہ سے پوچھا گیا : بخاری کا حافظہ قوی تھا یا مسلم کا ؟ انہوں نے کہا دونوں عالم ہیں۔ یہ سوال ان سے متعدد بار پوچھا گیا اور ہر بار انہوں نے یہی جواب دیا۔ آخر میں ابن عقدہ نے اس طرح جواب دیا : محمد بخاری نے اہل شام کے بارے میں بہت غلطیاں کی ہیں کیونکہ انہوں نے اہل شام سے ان کی کتابیں لیں اور ان کو پڑھا اب وہ ایک راوی کی جگہ پر دوسرے راوی کا ذکر کرتے اور سمجھتے کہ انہوں نے درست لکھا ہے۔(12) لیکن مسلم اس طرح نہیںتھے ان کی غلطیاں بخاری سے کم ہیں کیونکہ وہ صحیح سند والی روایا ت کو لکھتے اورمقطوع ، مرسل اور بغیر سند والی روایات کو چھوڑ دیتےتھے۔(13)


۳۔ صحیح بخاری میں تحریف
قسطانی اپنی کتاب ارشاد الساری میں لکھتے ہیں کہ : صحیح بخاری کے جتنے بھی نسخے میرے ہاتھ لگے ہیں ان میں اختلاف ہے بعض جگہ عنوان ہیں اور حدیثیں نہیں ہیں اور بعض جگہ حدیثیں ہیں اور عنوان نہیں اس لئے اعتراض کیا جاتاہے ۔
حافظ ابو ذر ہروی ، ابو الولید سے اس اختلاف کا راز نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :
میں نے امام بخاری کے کتابدار سے صحیح بخاری کا ایک نسخہ لیا میں نے دیکھا کہ وہ نسخہ ناتمام اور پراگندہ تھا، کہیں عنوان تھے حدیثیں نہیں تھیں کہیں حدیثیں بغیر عنوان کے تھیں کہیں حدیث تھی لیکن راوی کی شخصیت کا پتا نہیں تھا میں نے اس نسخے کودوسرے نسخے سے ملا کر دیکھا تو بہت زیادہ اختلاف تھا ۔(14) اور تیسرا نسخہ ان دونوں سے مختلف تھا یعنی جتنے نسخے تھے سب کے سب جدا جدا اور الگ الگ تھے، کوئی کسی جیسا نہ تھا، کیونکہ ہر کاتب اور جمع کرنے والے نے اپنی مرضی سے کام لیا تھا اب اتنے نسخوں میں سے کسی ایک نسخے پہ ہاتھ رکھ کہ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ صحیح بخاری کا صحیح نسخہ ہے اور اس پر اعتماد کیا جائے ۔


علم رجال کی روشنی میں صحیح بخاری پر ایک نظر
۱۔ بخاری کا حنفی مذہب اور فکر کی توہین کرنا
رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے کلام کو جمع کرنے اور ا س پر تحقیق کرنے کیلئے سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ انسان سیاسی اور مذہبی جانبداری سے کام نہ لے اور تعصب کے بغیر رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے کلام کو بغیر کمی اور زیادتی کے نقل کرے ۔
امام بخاری فکری لحاظ سے مسلک ظاہریہ کا پیروکار تھا اور اکثر نظریات میں امام احمد ابن حنبل سے متفق تھا اور قیاس ، دلائل عقلی اور تحلیل عقلی کا شدت سے مخالف تھا ۔
بخاری ، حنفی فکر کا مخالف تھا ۔
اس بات کی دلیلیں ان کی کتاب میں اکثر جگہ پر پائی جاتی ہیں ۔
امام بخاری نے اپنی کتاب میں احمد ابن حنبل ، شافعی اور مالکی تینوں اماموں کا تذکرہ کیا ہے لیکن کہیں ابو حنیفہ کا ذکر نہیں کیا ، اس کا سبب یہ نہیں حنفی فکر اس ماحول میں مشہور نہیں تھی خود سمرقند اور بخارا کے لوگ حنفی مذہب کے پیروکار تھے اور خود بخاری اپنی زندگی کےآغاز میں اور ان کے والد اور خاندان والے حنفی مذہب کے پیروکار تھے۔
انہوں نے اپنی کتاب میں کئے مقامات پر ابو حنیفہ کیلئے تحقیرانہ انداز استعمال کیا ہے اور پوری کوشش کی ہے کہ کہیں ابو حنیفہ کے نظریے کو بیان نہ کرے اور جہاں ابو حنیفہ کے نظریے کو ذکر کرنے پر مجبور ہوئے ہیں تو بھی ابو حنیفہ کے نا م سے نہیں لکھا بلکہ لکھا ہے : «قالبعض الناس» بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے۔ آپ لوگ ۲۷ بار اس عبارت کو مشاہدہ کر سکتے ہیں ۔ ۱۷ بار کتاب الحیل میں یہ عبارت موجود ہے۔ کیونکہ امام بخاری فکری لحاظ سے مسلک ظاہریہ کا پیروکار تھا اور ابو حنیفہ مسلک عقل کے پیروکار تھے او ر ان کے شاگرد بھی اسی مسلک کے پیروکار تھے، جیساکہ ابو یوسف اور شیبائی کا نام لیا جاتا ہے۔
حنفی مذہب اور فکر کی توہین میں بخاری اس قدر آگے بڑھ گئے کہ انہوں نے اپنے کتاب کے آخر کو ابوحنیفہ کی مخالفت کیلئے مخصوص کیا۔ حنفی مذہب میں اعمال کیلئے نیت لازمی نہیں بخاری نے اس کے مقابل فتوی دیا اور اعمال کیلئے نیت کو لازمی قرار دیا ۔ بخاری نے اس بات کو ثابت کرنے کیلئے ایک ایسی حدیث کا سہارا لیا جو (بدء الوحی ) اس باب سے مناسبت نہیں رکھتی ۔کہا جاتا ہے کہ بخاری نے اس حدیث کو ایک ایسے محدث سے نقل کیاہے جوابو حنیفہ کا مخالف تھا۔
ان تمام باتوں سے پتا چلتا ہے کہ بخاری کی کتاب کیلئے صحیح بخاری کا عنوان ٹھیک نہیں لگ رہا کیونکہ انہوں نے صحیح اور سند والیں حدیثوں کواس لئے بیان نہیں کیا کیونکہ وہ حدیثیں ابو حنیفہ کے مذہب سے سازگار تھیں ۔ اس طرح کی فکری اور مذہبی بنیاد کی وجہ سے بخاری پر اعتراض وارد ہوتا ہے یا نہیں ؟ اس پر ہم ا نشاء اللہ آگے بحث کریں گے ۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں حق تک پہنچنے کیلئے دونوں مکاتب کی احادیث کو ملاحظہ کرنا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ کس میں تحریف (حدیث مین تبدیلی کرنا) اور تقطیع (حدیثوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا) کا احتمال ہے۔


۲۔ صحیح بخاری میں غیر مسند حدیثیں اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے علاوہ کسی اور کا کلام
کچھ سادہ لوح مسلمانوں کا کہنا ہے کہ صحیح بخاری میں موجود رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )سے منسوب تمام حدیثیں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے ارشاد فرمائی ہیں حالانکہ اکثر حدیثیں ایسی ہیں جو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا کلام ہی نہیں اور راوی نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )سے نقل ہی نہیں کیا تو ان کے صحیح اور ضعیف ہونے کی بحث کیا کریں۔ کیونکہ وہ صحابہ یا تابعین کا کلام ہے اس بنا پر صحیح بخاری کے کچھ حصے کو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا نہیں بلکہ صحابہ یا تابعین کا کلام کہنا چاہیے ۔
یہاں یہ بات کہنا ضروری ہے جب کچھ لوگ کہتے ہیں کہ صحیح بخاری معتبر کتاب ہے تو ان کی مرادصحیح بخاری کی وہ احادیث ہوتی ہیں جو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )سے منقول ہیں ورنہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی حدیثوں کےعلاوہ جو روایتیں ہیں ان پر اہلسنت کے بزرگ علماء نے اعتراض کیا ہے اور ان میں اختلاف پایاجاتا ہے ۔
صحیح بخاری پر شرح لکھنے والے عالم ، علامہ عینی نے اپنی کتاب کے مقدمے میں لکھا ہے کہ :
قد أکثر البخارى من أحاديث و أقوال الصحابة و غيرهم بغير إسناد، فإن کان لصيغة جزم ک «قال» و «روي» و نحوهما، فهو حکم منه بصحته، و ما کان بصيغة التمريض «روي» و نحوه، فليس فيه حکم بصحته، و لکن ليس هو واهياً، إذ لوکان واهياً لما أدخله فى صحيحه.
بخاری نے اپنی کتاب میں حدیثوں کو اور صحابہ کے اقوال کوبغیر سند کے نقل کیاہے اس کو جاننے کیلئے دو الگ طریقے کار رکھے ہیں جہاں قال کہا ہے وہاں یقینی حکم لگایاہے اور جہاں روی کہا ہے وہاں یقینی حکم نہیں لگایاہے لیکن یہ بھی فائدہ سے خالی نہیں کیونکہ اگر فائدہ نہ ہوتا تو اس کو اپنی کتا ب میں کیوں ذکر کرتے؟(15)
صحیح بخاری میں مرفوع اور معلق حدیثوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں : صحیح بخاری میں مرفوع اور معلق حدیثوں کی تعداد۲۷۶۱ ہے صحیح بخاری کی تکراری روایات حذف کرنے کے بعد صحیح بخاری میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )سے متصل روابتوں کی تعداد صرف ۲۶۰۲ ہے۔(16)


۳۔ امام بخاری کا علم رجال کو چھوڑ کے ہر ایک سے روایت نقل کرنا
بہت سارے علماء حدیث ، راویوں میں تحقیق کرتے ہیں اور جن پر اعتماد کرتےہیں ان کو جدا کرتے ہیں ان راویوں سے جو حدیثوں کو جعل کرتےہیں (جھوٹی روایتیں نقل کرتے ہیں) لیکن علماء رجال ، صحیح بخاری میں موجود راویوں کے بارے ہیں خاموش رہتےہیں یعنی ان کی خاموشی سے لگتا ہے کہ وہ بخاری سے متفق ہیں حالانکہ ایسا نہیں بلکہ انہوں نے صحیح بخاری کو اتنا مقدس سمجھا ہے کہ اس پر تحقیق کی جرات نہیں رکھتے ۔ لیکن بعد میں آنے والے محقق علماء نے جرات کی ہے اور صحیح بخاری میں موجود راویوں پر تحقیقی کی ہے اس بارے میں ابوالحسن حنبلی کا کلام نقل کرنے کے قابل ہے ۔ ابوالحسن حنبلی فرماتے ہیں : جو بھی راوی صحیح بخاری میں ذکر ہے وہ پل کی طر ح ہے۔ یعنی آگے اس راوی پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔(17)
رفاعی نے صحیح بخاری کا دفاع کیا اور اسے افضل ثابت کیا جب یہ بحث چھڑی کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں سے کونسی کتاب افضل ہے ۔ لیکن صحیح بخاری پر وارد اشکالات کو بھی تسلیم کیا انہوں نے صحیح بخاری پر وارد چھ اشکالات کو ذکر کیا : وہ راوی جن سے فقط بخاری نے روایت کی ہے اور مسلم نے ان سے روایت قبول نہیں کی ان کی تعداد ۴۳۰ افراد سے زیادہ ہے اور ان میں سے ۱۶۰ ، افراد کو علماء نے ضعیف قرار دیا ہے ۔(18)
ہم یہاں مثال کے طور پر نعیم ابن حماد کا ذکر کرتے ہیں جو صحیح بخاری کا راوی ہے اور کچھ افراد نے اس پر اعتماد بھی کیا ہے لیکن اہلسنت کےعلماء نے اور رجال کے علماءنے اسے پسند نہیں کیا اور ان سے حدیث لینے سے منع کیا ہے اور اس کی حدیث کو معتبر نہیں سمجھا ۔ اس بارے میں ابن حجر عسقلانی کی کتاب تہذيب التہذيب(19)کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے۔


۴۔ ناصبیوں سے حدیثوں کو نقل کرنا
اہلسنت کے بزرگ علماء ناصبیوں سے حدیثوں کو نقل کرنے سے پرہیز کرتے ہیں ۔ امام بخاری نہ صرف ناصبیوں سے حدیثوں کو نقل کرنے سے پرہیز نہیں کرتے بلکہ ناصبیوں سے حدیثوں کو نقل کرنے کی طرف بہت زیادہ مائل ہیں ۔ ابن حجر عسقلانی نے صحیح بخاری پر لکھنے والے مقدمے کی ایک فصل کو صحیح بخاری میں موجود راویوں کی رجالی لحاظ سے تحقیق کے ساتھ مخصوص کیا ہے، اس میں انہوں نے ناصبی راویوں پہ نشان لگایا ہے ۔ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں : اسحاق بن سويد العدوى، جرير بن عثمان حمصى، حصين بن نمير واسطى، عبداللّہ بن سالم اشعرى، عکرمہ مولى ابن عباس (خوارج میں سے )، عمران بن حطان (خوارج میں سے)، قيس بن ابى حازم، وليد بن کثير بن يحيى مدنى (خوارج میں سےہیں)۔(20)


۵۔ امام بخاری کا اہلبیت (علیہم السلام) سے نقل حدیث کرنے سے پرہیز کرنا
امام بخاری نے پوری زندگی روایتوں کو جمع کیا کبھی مکہ، کبھی مدینہ، کبھی بغداد، کبھی سامرا، کبھی کاظمین سے حدیثیں کو جمع کیا ۔ اس وقت ان شہروں میں امام محمد تقی(علیہ السلام) ، امام علی نقی (علیہ السلام) اور امام حسن عسکری (علیہ السلام) سے منقول حدیثیں موجود تھیں لیکن بخاری نے ایک بھی حدیث ان حضرات سے نقل نہیں کی ۔ امام جعفر صادق (علیہ السلام) کے بے شمار شاگردوں کے ہوتےہوئے جو دین اور حدیثوں کا علم رکھتے تھے نہ صرف یہ ان سے کوئی حدیث نقل نہیں کی بلکہ ائمہ معصومین میں سے بھی کسی سے حدیث کو نقل نہیں کیا ۔بخاری نے شیعہ حدیثوں کو نہ صرف شیعہ راویوں سے نقل نہیں کیا بلکہ جہاں کسی سنی عالم نے شیعہ حدیث کو نقل کیا ہے اس حدیث کو بھی بخاری نے نقل نہیں کیا۔
حالانکہ اہلسنت کے بزرگ علماء نے شیعہ فکر ، شیعہ فرہنگوثقافت ، شیعہ راویوں اور شیعہ حدیثوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ابن عقدہ جو کہ اہلسنت کے بزرگ رجالی عالم اور بخاری کے ہمعصر ہیں، اپنی کتاب میں امام جعفر صادق (علیہ السلام) کے ۴۰۰۰شاگردوں کے نام لکھتے ہیں جنہوں نے حدیثوں کو نقل کیا ہے(21)جن میں سے سفيان ثورى، ابن عُيينہ، شعبہ، عبدالملک بن جرع، فضيل بن عياض، محمّد بن اسحاق، امام مالک بن انس اور دوسرے شاگرد ہیں ۔ اہلسنت کے تمام علماء نے امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے حدیثیں نقل کی ہیں لیکن بخاری نے امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے بھی روایت نقل کرنے کو گوارا نہیں کیا۔


صحیح بخاری کے مطالب کی تحقیق
۱۔ صحیح بخاری میں تحریف اور تقطیع ( حدیثوں میں تبدیلی اورحدیثوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا)
صحیح بخاری میں موجود حدیثوں کو اہلسنت کے دوسرے علماء نےاپنے کتابوں میں بغیر کمی اور زیادتی کے نقل کیا ہے لیکن بخاری نے حدیثوں کے ان ٹکڑوں کو جن میں خلفاء کی مذمت آئی ہے، کاٹ دیا ہے ۔ اس میں کو ئی شک نہیں کہ یہ طریقہ درست نہیں اور اس کے ساتھ پورے صحیح بخاری کی صحت پر سوال اٹھے گا ۔(22)


۲۔ غیر مناسب حدیثیں
کبھی حدیثوں کے متن میں وہ بلند مطالب ہوتے ہیں کہ ایک حدیث کا عالم سند کو دیکھے بغیر بتا سکا ہے کہ یہ حدیث درست ہے لیکن کبھی حدیثون میں ایسے ضعیف مطالب ہوتے ہیں جو اس حدیث کے جعلی ہونے کا پتا دیتے ہیں ۔
صحیح بخاری میں بہت زیادہ مقامات پرپتا چلتا ہے کہ حدیث میں موجود کلام کے درمیا ن کوئی کوئی نظم اور ضبط نہیں جیسے ایک حدیث جس میں آیا ہے کہ حضرت علی (علیہ السلام) نے ابو جہل(23) سے اس کی بیٹی کا ہاتھ مانگا اس حدیث کی ابتدا اور انتھا میں کوئی ربط نظر نہیں آتا۔ کیا کوئی درست دیکھنےو الا اس حدیث کی صحت کی گواہی دے سکتا ہے؟


۳۔ معاویہ کی تعریف میں حد سے بڑھنا
بخاری نے صحیح بخاری کے کتاب الفضائل کے ۶۰ ساٹھویں باب کو معاویہ کی شان کیلئے مخصوص کیا ہے ۔ اس باب میں کوئی رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی حدیث تو نہ ملی اس نے لاچار تین روایتیں نقل کی ہیں :
ابن عباس : معاویہ رسول اکرم کے صحابی تھے۔
ابن عباس : معاویہ ، فقیہ تھے۔
معاویہ : ہم رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے ساتھ تھے اور دیکھا کہ نماز کس طرح پڑہتے ہیں ۔(24)
اور اس طرح کی بہت ساری روایتیں جن کی تفصیل انسان کو حیرانی میں ڈال دیتی ہے۔


۴۔ حضرت علی(علیہ السلام) اور فاطمہ زہرا (علیہا السلام) کے فضائل کو نقل کرنے میں کوتاہی کرنا
بخاری جب تذکرہ اہلبیت (علیہم السلام) تک پہچنتے ہیں تو صحیح بخاری کے کتاب الفضائل کے ۶۱ ،اکسٹھویں باب میں آدھی سطر کی حدیث نقل کرتے ہیں حالانکہ دوسرے ابواب میں اہلبیت (علیہم السلام) کے فضائل میں بہت بڑی حدیثیں ہیں ۔ حضرت فاطمہ زہرا(علیہا السلام) کیلئے ایک حدیث نقل کرتےہیں حالانکہ خلیفہ اول کیلئے ۲۴ حدیثیں نقل کیں ہیں۔ اور خلیفہ دوم کیلئے ۱۵ حدیثیں نقل کیں ہیں۔ جب بات امیرالمومنین (علیہ السلام) تک پہنچتی ہے صرف سات حدیثیں نقل کرتے ہیں جن میں نہ حدیث غدیر ہے ، نہ حدیث انا مدینہ العلم ہے ، نہ حدیث علی مع الحق ہے ، نہ ہی حدیث ثقلین ہے ۔ امیرالمومنین کی شان میں ہزاروں حدیثیں ہیں لیکن افسوس یہ ہے کہ بخاری نے صرف سات حدیثیں نقل کی ہیں ان میں سے بھی دو حدیثیں تکراری ہیں اور تیسری حدیث : جس میں حضرت علی (علیہ السلام) کے ابو تراب ہونے کوبیان کیا گیا ہے اس کو تبدیل کردیا ہے جو صحیح مسلم سے سمجھ میں آتی ہے ۔ چوتھی روایت میں تسبیح زہرا (علیہا السلام) کاذکر ہے ۔(25) پانچویں روایت ، حدیث منزلت ہے۔ چھٹی روایت کا مفہوم واضح نہیں ۔


معارف اسلامی میں تحریف اور جعلی حدیثیں
۱۔ اللہ تعالی کی جسمانیت
تمام آسمانی ادیان کی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے انسانوں کے سامنے اللہ تعالی کی معقول صورت پیش کی ہے ۔ خالق ، مجرد ہے مادہ سے پاک ہے ۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق اللہ تعالی جسم نہیں رکھتا ، کسی خاص مکان میں نہیں رہتا ، آنکھوں سے نظر نہیں آتا جیسا کہ قرآن کریم میں صراحت سے آیا ہے کہ:
لا تدرکه الأبصار و هو يدرک الأبصار و هو اللطيف الخبير.(26)
نگاہیں اسے پا نہیں سکتیں اور وہ نگاہوں کا برابر ادراک رکھتا ہے کہ وہ لطیف بھی ہے اور خبیر بھی ہے۔
ایک اور جگہ پر قرآن ارشاد فرماتا ہے :
ليس کمثله شى ء(27).
اس کا جیسا کوئی نہیں ہے۔
لیکن بخاری، رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کی ایسی حدیثیں لاتے ہیں جو بتاتی ہیں کہ اللہ تعالی انسان کی طرح جسم اور اعضاء رکھتا ہے ۔(28) اللہ تعالی نظر آتا ہے ۔(29) ہر رات اللہ تعالی عرش سے زمین پر آتا ہے(30)اور اللہ تعالی کو ان آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔(31)


۲۔ رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی شخصیت کو مجروح کرنا
رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )اسلام کی آئیڈیل شخصیت ہیں جو تمام نبیوں (علیہم السلام) سے افضل اور کامل ہیں تمام مسلمانوں کیلئے رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی زندگی میں اسوہ حسنہ ہے لیکن صحیح بخاری نے جس طرح رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کی تصویر کشی کی ہے وہ ایک کمزور شخصیت کی عکاس لگتی ہے ۔ جس کو نبوت میں شک ہے اور ان کو نبوت کااطمنان دلانے والا ایک نصرانی عالم ہے ۔ (32) جس پر ساحروں کا جادو اثر کرتا ہے ۔(33) جو عشاء کی نماز میں دو رکعات پڑھتا ہے ۔(34) جو سورج کے غروب کے بعد عصر کی نماز پڑھتا ہے ۔(35) جو عمامے اور جوتوں پر مسح کرتا ہے ۔(36) جو قرآن کو بھول جاتا ہے۔(37) اس کے علاوہ ایسے موارد جن کو لکھنے کی قلم اجازت نہیں دیتا ۔ حالانکہ قرآن نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی اس طرح سے مدح سرائی کی ہےکہ :
لقد کان لکم فى رسول اللّه أسوة حسنة(38)
یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے،


۳۔ رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے علاوہ دوسرے نبیوں(علیہم السلام) کی شخصیت کو مجروح کرنا
بخاری نے رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے علاوہ دوسرے نبیوں(علیہم السلام) کے بارے میں ایسی حدیثیں ذکر کیں ہیں جو ان کے بلندمقام سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ بخاری لکھتے ہیں : حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے تین جھوٹ بولے اس لئے مقام شفاعت سے محروم ہو گئے ۔(39)ایک بنی کو جیسے ہی ایک چیونٹی نے کاٹا اس نے پورے چھتے کو آگ لگادی(40)حضرت موسی نے عزرائیل کو منہ پرتھپڑ مار کر اسے اندھا بنا دیا(41)
------------
1. ہدی الساری، مقدمہ فتح الباری، ابن حجر عسقلانی، دارالمعرفة، ص 478 و 494.
2 . اوپر والی کتاب، ص 465.
3- صحیح البخاری، ریاض:ناشر بیت الأفکار الدولیہ للطبع و النشر.
4 . فہارس البخاری،ناشر مصر، ص 2.
5 . ہدی الساری، لبنان:ناشر دارالفکر، ص 663 .
6 . مقدمہ صحیح البخاری، مکہ مکرمہ، 1376 ق، صحیح البخاری، ص 40.
7 . معجم الکبیر، طبرانی، نے نقل کیا أضواء علی السنة المحمدیة، ص 78.
8 . بیہقی، نے نقل کیا أضواء علی السنة المحمدیة، ص 81.
9 .اوپر والی کتاب، ص 77.
10 . ہدی الساری، دارالمعرفة، ص 488.
11 .اوپر والا حوالہ.
12 . پژوہشی تطبیقی در احادیث بخاری و کلینی، ہاشم معروف الحسنی، ص 131.
13 اوپر والا حوالا
14 . ارشاد الساری، ج 1، ص 23.
15 . عمدة الغاری، ج 1، ص 10.
16 . ہدی الساری، دارالفکر، ص 663 .
17 . اوپر والا حوالہ ، ص 38.
18 . مقدمہ صحیح البخاری، بیروت: دارالعلم، ج 1، ص 16.
19 . تہذیب التہذیب، ج 10، ص 461.
20 . اوپر والا حوالہ.
21 . الامام الصادق (ع) و المذاہب الاربعہ، ج 1، ص 398.
22 . زیادہ معلومات کیلئے مطالعہ کریں : صحیح البخاری، ص 54.
23 . صحیح البخاری، ج 4، ص 101.
24 . اوپر والا حوالہ ، ج 5، ص 96.
25 . صحیح البخاری، ج ، ص 80؛ صحیح مسلم، ج 1، کتاب الایمان.
26 . سورہ انعام، آیہ 103.
27. سورہ شوری، آیہ 11.
28 . صحیح البخاری، ج 6.
29 . اوپر والا حوالہ ، ج 1، کتاب الصلوة.
30 . اوپر والا حوالہ ، ج 2، کتاب التہجد.
31 اوپر والا حوالہ ، ج 1، باب فضل السجود.
32 . صحیح البخاری، ج 1، باب بدء الوحی.
33 . اوپر والا حوالہ ، ج 7، ص 257.
34 . اوپر والا حوالہ ، ج 2، باب 329، حدیث 458.
35 . اوپر والا حوالہ ، ج، ص 154 و 165 و 201.
36 . اوپر والا حوالہ ، ص 108 و ج 1، ص 62.
37 . اوپر والا حوالہ ، ج 3، کتاب الشہادات، باب شہادة الأعمی و نکاحہ.
38 . سورہ احزاب، آیہ 21.
39 . صحیح البخاری، ج 6، تفسیر سورہ بنی اسرائیل، ذیل آیہ «ذریةمنحملنامع نوح».
40 . اوپر والا حوالہ ، ج 4، کتاب الجہاد و السیر.
41 . اوپر والا حوالہ ، ج 2، باب 853
 

الرضا

Senator (1k+ posts)
صحیح البخاری زینت الماری بختاں ھاری کیا حقیقت

جناب آپ کو صحیح بخاری سے اس لیے مسئلہ ہو رہا ہے کہ اس نے 15 شعبان کی کہانیوں کا پرچار نہیں کیا ہے۔
میں آپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں۔
پندرہ شعبان اس لیے شب برات بن گئی کیوں کہ وہ امام مہدی کی سالگرہ کا دن ہے۔ تو پھر امام علی جو پہلے امام ہیں ان کی شان میں ایسی کوئی شب کیوں نہیں ہے جناب؟
امام علی تو امام مہدی سے بڑے ہیں ناں، تو پھر امام علی کی سالگرہ کے لیے بھی کوئی اچھی سی شب ہونی چاہیے۔
 

Pakistani1947

Minister (2k+ posts)
صحیح البخاری زینت الماری بختاں ھاری کیا حقیقت


رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے مسلمانوں کی ہدایت کیلئے دو قیمتی چیزیں چھوڑی ہیں تاکہ مسلمان ہمیشہ ضلالت اور گمراہی سے محفوظ رہیں۔ ان دو چیزوں میں سے ایک اللہ تعالی کی کتاب، قرآن مجید ہے اور دوسری چیز رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کی عترت اور اہلبیت(علیہم السلام) ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ عالم اسلام میں پائی جانے والی تمام روایات پر تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ صحیح احادیث سے صحیح مطلب نکال کہ قرآن کو صحیح طریقے سے سمجھا جا سکے تا کہ مسلمان اپنی دنیا اور آخرت کو سنوار سکیں۔
اہلسنت کے حدیث کی کتابوں میں سے سب سے مشہور کتاب جو حدیث کی تمام کتابوں سے معتبر قرار پائی یہاں تک کہ اہلسنت کے عالموں نے اسے قرآن کے بعد معتبر ترین کتاب کا درجہ دیا اور اسے دین کے سمجھنے کا اہم ذریعہ قرار دیا وہ کتاب صحیح بخاری ہے۔
جب تک ہم کسی کتاب کے بارے میں بحث نہ کریں ،تحقیق نہ کریں ، اعتراض نہ کریں ، سوال نہ کریں اس وقت تک ہم اس کتاب کو سمجھ نہیں سکتے اس لئے صحیح بخاری کو سمجھنے کیلئے بھی تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ اس کتاب کی خصوصیات کو سمجھ سکیں۔
اس مقالے میں ہم کوشش کریں گے کہ صحیح بخاری کے علمی معیار کو جان سکیں اور اس کتاب کی فکری اور دینی حیثیت معلوم کر سکیں اور پتا لگا سکیں کہ اس کتاب نے سنت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی کس حد تک خدمت کی ہے۔


امام بخاری کی زندگی
ابو عبداللہ محمد ابن اسماعیل بخاری ،قمری سال کے سن ۱۹۴میں بخارا(خراسان) میں پیدا ہوا بچپن میں ہی اس کے والد کا انتقال ہوگیا اور اسکی والدہ نے اس کی تربیت کی ذمیداری اٹھائی۔
بخاری اپنی زندگی کے بارے میں خود فرماتا ہے کہ : میں نے دس سال کی عمر سے حدیثوں کو حفظ کرنا شروع کیا اور سولہ سال کی عمر میں اپنی ماں اور بڑے بھائی کے ساتھ مکے روانہ ہوا چھ سال میں نے مکہ اور مدینہ میں زندگی گذاری۔
ان سالوں میں بخاری نے دینی علوم کو حاصل کیا انہوں نے حدیثوں کی جمع آوری کیلئے شام ، مصر، الجزیرہ، بغداد ، بصرہ، خراسان کا سفر کیا۔ جب وہ نیشاپور پہنچا تو قرآن کے مخلوق ہونے کی بحث چھڑی ہوئی تھی یہ بحث بخاری اور محمد ابن یحیی دہلی کے درمیان کشمکش کا سبب بنی ۔
بخاری علم حاصل کرنے اور چند کتاب لکھنے کے بعد اپنے شہر واپس پلٹے ۔ بخاری اور بخارا کے والی خالد ابن احمد کا اختلاف سبب بنا کہ وہ سمرقند آئے اور ایک گاؤں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے ۔ قمری سال۲۵۶ میں جب ان کی عمر ۶۲ سال تھی، انہوں نے اس جہان فانی کو الوداع کہا۔(1)
امام بخاری نے ۱۸ ۱کتابیں لکھیں، ان کی کتابوں میں اہم ترین کتاب صحیح البخاری کو کہا جا سکتا ہے۔ اس کتاب کے علاوہ بخاری کی چند کتابیں یہ ہیں : التاريخ الکبير، التاريخ الأوسط، التاريخ الصغير، خلق أفعال العباد، الضعفاء الکبير، أسامى الصحابة، المبسوط، المسند الکبير، الضعفاء الصغير، مختصر من تاريخ النبى ۔


کتاب صحيح البخارى
یہ کتاب اہلسنت کے حدیث کی کتابوں میں سے سب سے زیادہ مشہور کتاب ہے جو اہلسنت کے نزدیک حدیث کی تمام کتابوں میں سب سے زیادہ معتبر کتاب سمجھی جاتی ہے ۔ صحیح بخاری میں موجود احادیث کو ۹ نو ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے ۔
تمام احادیث کو موضوع کے لحاظ سے ان ابواب میں رکھا گیا ہے : «بدء الوحي»، «الأيمان»، «العلم»، «الوضوء»، «الغسل»، «الحيض» و «الصلوة» کتاب کے دوسرے ، تیسرے اور چوتھے حصے میں فقہی ابواب کو جگہ دی گئی ہے ۔ بخاری نے کتاب کے پانچھویں باب میں مناقب کو بیا ن کیا ہے ، چھٹے باب میں قرآن کی تفسیر بیان کی ہے ، ساتویں باب میں کچھ فقہی ابواب کو جگہ دی ہے جیسے نکاح ، طلاق اور آٹھویں باب میں دعا کے متعلق روایات کو اور کچھ فقھی مسائل کے ساتھ بیان کیا ہے اور کتاب کے آخر میں «منامات»، «فتن»، «أخبار آحاد» و «إعتصام کتاب و سنت» و «توحيد»ان عناوین کو بہترین خاتمے کے عنوان سے ذکر کیا ہے ۔


صحیح بخار ی میں حدیثوں کی تعداد
اہلسنت کے علماء میں صحیح بخار ی کی حدیثوں کی تعداد کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ہدی الساری میں ابن حجر ، ابن صلاح سے نقل کرتے ہیں : صحیح بخاری میں تکراری اور غیر تکراری حدیثوں کی تعداد ۷۲۷۵ ہے (2) جبکہ ریاض میں چھپی ہوئی صحیح بخاری کی دو جلدوں میں حدیثوں کی تعداد ۷۵۶۳ ہے(3) اور دوسری طرف فہارس البخاری میں رضوان محمد رضوان نے ابن حجر سے نقل کیا ہے کہ : صحیح بخاری میں موجود حدیثوں کی تعداد ۹۰۸۲ ہے ۔(4) صحیح بخاری کی آدھی سے زیادہ روایات تکراری ہیں اس بنا پر غیر تکراری روایات کی تعداد ۴۰۰۰ ہے۔ ان روایات میں سے ۱۳۴۱روایتیں معلق ہیں یعنی ان کی سند کامل نہیں اور بہت ساری روایتوں میں رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا کلام نہیں بلکہ اصحاب یا تابعین کے کلام کو نقل کیا گیا ہے۔ ان باتوں کو دیکھتے ہوئے ابن حجر کی بات درست لگتی ہے کہ : صحیح بخاری میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )سے متصل رواتیوں کی تعداد صرف ۲۶۰۲ ہے۔(5)
امام بخاری کی کتابوں میں سے صحیح بخاری کے علاوہ دوسری کتابیں علماء اہلسنت کی نظر میں مورد تہمت قرار پائی ہیں کیونکہ بخاری کی ۱۱۸ کتابیں سامنے آئی ہیں۔ ۵۹ کتابوں میں پوری کتاب یا اکثر کتاب صحیح بخاری کی شرح پر مشتمل ہیں ۔ ۲۸ کتابیں صحیح بخاری کے حاشیہ پر مشتمل ہیں ۔ ۱۵ کتابیں صحیح بخاری کے خلاصہ پر مشتمل ہیں ۔ ۱۶ کتابیں صحیح بخاری میں موجود موضوعات پر لکھی گئی ہیں ۔(6)


بخاری کا حدیثوں کو نقل کرنے کا طریقہ
۱۔ حدیثوں پر پابندی کے اثرات
کچھ سادہ لوح مسلمان جو علم الحدیث سے آشنائی نہیں رکھتے اور حدیث کے صرف ظاہر کو دیکھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )سے منسوب تمام حدیثیں بغیر کمی اور زیادتی کے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے ارشاد فرمائی ہیں اور نقل کرنے والوں نے بھی رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے تمام الفاظ کو کلام کی ظرافتوں کے ساتھ بغیر کمی اور زیادتی کے نقل کیا ہے اور یہ حدیثوں کا مجموعہ نسل در نسل منتقل ہوتا ہوا ہم تک پہنچا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ صحیح بخاری کی تمام روایات اسی طرح نقل ہوئی ہیں اور سب کی سب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے ارشاد فرمائی ہیں ۔ حالانکہ ا س بات کو عقل قبول نہیں کرتی کیونکہ بہت بعید ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے اصحاب کاحافظہ اتنا تیز ہو کہ وہ اس انتظار میں ہوں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کچھ بیان فرمائے اور وہ اس کلام کو بغیر کمی اور زیادتی کے آگے پہنچائیں ۔ اصحاب کے ساتھ تابعین اور ان کے بعد دوسرے نقل کرنے والے تمام کے حق میں یہ گمان کرنا کہ ان کا حافظہ اتنا تیز تھا کہ انہوں نے کلام کے تمام الفاط اور ظرافتوں کو بغیر کمی اور زیادتی کے نقل کیا ہو یہ مشکل ہے یہا ں تک کہ ایک حدیث بھی ایسی نہیں جس میں کسی کلمہ کا اضافہ یا کمی نہ ہوئی ہو ۔ جو بات قابل قبول ہے وہ یہ ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے ایک مطلب کو بیان کیا ہو اور تمام صحابہ نے اپنے حافظہ کے مطابق اس مطلب کو ذہن نشین کیا اور پھر اس مطلب کو اپنے لفظوں میں آگے نقل کیا(اصطلاح میں اسے نقل بالمعنی کہاجاتا ہے)۔ لیکن وقت کے گذرنے سے ان مطالب میں کمی زیادتی ہوتی رہی اور ان الفاظ میں کمی زیادتی ہوتی رہی اور ان تمام الفاظ کو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے کلام کا حصہ سمجھا جانے لگا۔ یہ نظریہ اس وقت اور بھی مضبوط ہوتا دکھائی دیتا ہے جب ہم رسول ا کرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کی رحلت کے وقت کے حالات کو ملاحظہ کرتے ہیں اور پتا چلتا ہے اس وقت حدیثوں کو نقل کرنے پر پابندی لگائی گئی اور وہ دور ’’ منع حدیث‘‘ کے طور پر مشہور ہے اب جب تمام صحابہ اور علماء پر حدیثوں کے بیان کرنے ، سننے ، پڑھنے ، لکھنے پر پابندی ہو اوران اسباب کے ساتھ خود انسان اپنی طبیعت اور فطرت میں نسیان (فراموشی ،بھول چوک)رکھتاہے ، انسان بھول جاتا ہے اور اتنا بڑا زمانہ جو ہمارے اور رسولاکرم کے درمیان فاصلہ بنا ہوا ہے۔ ان سب عوامل کی بنا پر ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہم تک رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا کلام تمام الفاظ اور ظرافتوں کے ساتم بغیر کمی اور زیادتی کے نقل کیا گیا ہے؟ جو بات زیادہ سے زیادہ ممکن ہے وہ یہ ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے مطالب کو انہوں نے اپنے الفاط میں بیان کیا ہو جیساکہ اس پر دلیل بھی موجود ہے ۔
عبدالله بن سليمان بن أکيمه الليثى، قال: قلت: يا رسول، إنّى أسمع منک الحديث لا تستطيع أن أوديه کما أسمعہ منک، يزيد حرفاً أو ينقص حرفاً؟ فقال: إذا لم تحلوا حراماً و لم تحرموا حلالاً و أصبتم المعنى، فلا بأس»
عبداللہ ابن سلیمان ابن اکیمہ لیثی نقل کرتے ہیں : میں نے رسول ا کرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )سے سوال کیا : یارسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ہم آپ سے حدیث سنتے ہیں لیکن اپنے ضعیف حافظے کی وجہ سے ہم اس حدیث کو بغیر کمی اور زیادتی کے آگے پہنچا نہیں سکتے۔ اس حدیث کو آگے پہنچانے میں ضرور کسی حرف کی کمی ہوگی اور کسی حرف کی زیادتی ہوگی ؟
رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے ارشاد فرمایا : اگر کسی حرام کو حلال نہیں کرو اور کسی حلال کو حرام نہیں کرو اور اس حدیث کی معنی وہی رہے تو کوئی حرج نہیں۔(7)
اسی طرح جب واثلہ ابن اسقع سے مکحول اورابو الازھر نے ایک ایسی حدیث کی درخواست کی جو صحیح ہو ،دقیق ہواور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے بغیر کمی اور زیادتی کے نقل ہوئی ہو تو انہوں نے مسکرا کے فرمایا : آپ لوگ جانتے ہیں کہ قرآن ہمارے پاس لکھا ہوا ہے اور ہم بار بار اس کی تلاوت کرتے ہیں لیکن جب ہم قرآن کو حفظ کرنے کی کوشش کرتےہیں تو بعض اوقات اس کو غلط پڑھتے ہیں، اب آپ لوگ کیسے توقع رکھتےہیں کہ ایک ایسی حدیث جو ہم نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )سےصرف ایک بار سنی ہے وہ ہمارے ذہن میں بغیر کمی اور زیادتی کے باقی رہے ۔(8)
رسول اکرم کی حدیثوں میں رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے مطالب کو اپنے الفاظ میں نقل کرنا اتنا عام تھا کہ حدیثوں کے عالم ابن صلاح اپنی کتاب کے مقدمہ میں اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے فرماتےہیں :
کثيراً ما کانوا ينقلون معنى واحد فى أمر واحد بألفاظ مختلفة و ما ذلک إلاّ لأنّ معولهم کان على المعنى دون اللفظ.
علماء اپنی حدیثوں میں اکثر اوقات ایک معنی کو مختلف الفاظ میں نقل کرتے ہیں کیونکہ ان کی نظر معنی پہ ہوتیہے الفاظ پہ نہیں ۔(9)
اس کے باوجود کون ہے جو صحیح بخاری کے پورے کے پورے متن کو بغیر کمی اور زیادتی کے رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا کلام کہے اور صحیح بخاری کو قرآن کے برابر قرار دے ؟
اب اگر کو ئی کہے کہ : ان حدیثوں کو درست ماننا ضروری ہے کیونکہ اگر ہمارے پاس صحیح حدیثیں نہ ہوں تو ہمارے لئے درست عمل کرنا مشکل ہو جائے گا ۔ اس کی بات درست ہے لیکن ہم جواب میں کہیں گے کہ ہمارے پاس اہلبیت(علیہم السلام) کی حدیثیں موجود ہیں جو ہر موضوع پر فراوان ہیں جن کو ہر دور میں موجود اہلبیت (علیہم السلام) کے شاگردوں نے سنا اور یاد کیا اور سینہ بہ سینہ منتقل کیا ہے اور اس طرح سے کلام کو اسکی ظرافتون سے نقل کیا کہ ان کے لفط لفظ سے استدلال کیا جاسکتا ہے۔


۲۔ بخاری اور ابن عقدہ کا اعتراف کہ سننے میں اور لکھنے میں اختلاف ہے
والی بخارا ، امام بخاری سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا : بہت ساری حدیثیں جو میں نے بصرہ میں سنی تھیں ان کو میں نے شام میں لکھا او رجن حدیثوں کو میں نے شام میں سناتھا ان کو میں نے مصر میں لکھا ۔(10) والی بخارا نے سوال کیا : اس صورت میں کیاآپ اس طرح لکھ پائے جیسے سنا تھا ؟ بخاری نے اس سوال کے جواب میں خاموشی اختیار کی۔(11) بخاری نے حدیث کی کتاب لکھی لیکن افسوس کہ روایت اور درایت کے اصولوں کا خیال نہیں رکھا اورکسی بھی راوی پر تحقیق کرنا مناسب نہ سمجھا الٹا ایسے راویوں سے روایتیں نقل کیں جو روایت کیلئے مناسب نہ تھے ۔
معروف رجالی ابن عقدہنے بخاری کے اس ضعیف نقطے کی طرف اشارہ کیا ہے :بخاری ایک حدیث کو ایک سند کے ساتھ دو لفظوں سے روایت کرتے ہیں وہ اپنے حافظہ پر اعتماد کرتے ہیں بخارا آنے کے بعد جو حدیثیں ان کو یاد تھیں ان کو لکھتے تھے ۔
ابن عقدہ سے پوچھا گیا : بخاری کا حافظہ قوی تھا یا مسلم کا ؟ انہوں نے کہا دونوں عالم ہیں۔ یہ سوال ان سے متعدد بار پوچھا گیا اور ہر بار انہوں نے یہی جواب دیا۔ آخر میں ابن عقدہ نے اس طرح جواب دیا : محمد بخاری نے اہل شام کے بارے میں بہت غلطیاں کی ہیں کیونکہ انہوں نے اہل شام سے ان کی کتابیں لیں اور ان کو پڑھا اب وہ ایک راوی کی جگہ پر دوسرے راوی کا ذکر کرتے اور سمجھتے کہ انہوں نے درست لکھا ہے۔(12) لیکن مسلم اس طرح نہیںتھے ان کی غلطیاں بخاری سے کم ہیں کیونکہ وہ صحیح سند والی روایا ت کو لکھتے اورمقطوع ، مرسل اور بغیر سند والی روایات کو چھوڑ دیتےتھے۔(13)


۳۔ صحیح بخاری میں تحریف
قسطانی اپنی کتاب ارشاد الساری میں لکھتے ہیں کہ : صحیح بخاری کے جتنے بھی نسخے میرے ہاتھ لگے ہیں ان میں اختلاف ہے بعض جگہ عنوان ہیں اور حدیثیں نہیں ہیں اور بعض جگہ حدیثیں ہیں اور عنوان نہیں اس لئے اعتراض کیا جاتاہے ۔
حافظ ابو ذر ہروی ، ابو الولید سے اس اختلاف کا راز نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :
میں نے امام بخاری کے کتابدار سے صحیح بخاری کا ایک نسخہ لیا میں نے دیکھا کہ وہ نسخہ ناتمام اور پراگندہ تھا، کہیں عنوان تھے حدیثیں نہیں تھیں کہیں حدیثیں بغیر عنوان کے تھیں کہیں حدیث تھی لیکن راوی کی شخصیت کا پتا نہیں تھا میں نے اس نسخے کودوسرے نسخے سے ملا کر دیکھا تو بہت زیادہ اختلاف تھا ۔(14) اور تیسرا نسخہ ان دونوں سے مختلف تھا یعنی جتنے نسخے تھے سب کے سب جدا جدا اور الگ الگ تھے، کوئی کسی جیسا نہ تھا، کیونکہ ہر کاتب اور جمع کرنے والے نے اپنی مرضی سے کام لیا تھا اب اتنے نسخوں میں سے کسی ایک نسخے پہ ہاتھ رکھ کہ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ صحیح بخاری کا صحیح نسخہ ہے اور اس پر اعتماد کیا جائے ۔


علم رجال کی روشنی میں صحیح بخاری پر ایک نظر
۱۔ بخاری کا حنفی مذہب اور فکر کی توہین کرنا
رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے کلام کو جمع کرنے اور ا س پر تحقیق کرنے کیلئے سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ انسان سیاسی اور مذہبی جانبداری سے کام نہ لے اور تعصب کے بغیر رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے کلام کو بغیر کمی اور زیادتی کے نقل کرے ۔
امام بخاری فکری لحاظ سے مسلک ظاہریہ کا پیروکار تھا اور اکثر نظریات میں امام احمد ابن حنبل سے متفق تھا اور قیاس ، دلائل عقلی اور تحلیل عقلی کا شدت سے مخالف تھا ۔
بخاری ، حنفی فکر کا مخالف تھا ۔
اس بات کی دلیلیں ان کی کتاب میں اکثر جگہ پر پائی جاتی ہیں ۔
امام بخاری نے اپنی کتاب میں احمد ابن حنبل ، شافعی اور مالکی تینوں اماموں کا تذکرہ کیا ہے لیکن کہیں ابو حنیفہ کا ذکر نہیں کیا ، اس کا سبب یہ نہیں حنفی فکر اس ماحول میں مشہور نہیں تھی خود سمرقند اور بخارا کے لوگ حنفی مذہب کے پیروکار تھے اور خود بخاری اپنی زندگی کےآغاز میں اور ان کے والد اور خاندان والے حنفی مذہب کے پیروکار تھے۔
انہوں نے اپنی کتاب میں کئے مقامات پر ابو حنیفہ کیلئے تحقیرانہ انداز استعمال کیا ہے اور پوری کوشش کی ہے کہ کہیں ابو حنیفہ کے نظریے کو بیان نہ کرے اور جہاں ابو حنیفہ کے نظریے کو ذکر کرنے پر مجبور ہوئے ہیں تو بھی ابو حنیفہ کے نا م سے نہیں لکھا بلکہ لکھا ہے : «قالبعض الناس» بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے۔ آپ لوگ ۲۷ بار اس عبارت کو مشاہدہ کر سکتے ہیں ۔ ۱۷ بار کتاب الحیل میں یہ عبارت موجود ہے۔ کیونکہ امام بخاری فکری لحاظ سے مسلک ظاہریہ کا پیروکار تھا اور ابو حنیفہ مسلک عقل کے پیروکار تھے او ر ان کے شاگرد بھی اسی مسلک کے پیروکار تھے، جیساکہ ابو یوسف اور شیبائی کا نام لیا جاتا ہے۔
حنفی مذہب اور فکر کی توہین میں بخاری اس قدر آگے بڑھ گئے کہ انہوں نے اپنے کتاب کے آخر کو ابوحنیفہ کی مخالفت کیلئے مخصوص کیا۔ حنفی مذہب میں اعمال کیلئے نیت لازمی نہیں بخاری نے اس کے مقابل فتوی دیا اور اعمال کیلئے نیت کو لازمی قرار دیا ۔ بخاری نے اس بات کو ثابت کرنے کیلئے ایک ایسی حدیث کا سہارا لیا جو (بدء الوحی ) اس باب سے مناسبت نہیں رکھتی ۔کہا جاتا ہے کہ بخاری نے اس حدیث کو ایک ایسے محدث سے نقل کیاہے جوابو حنیفہ کا مخالف تھا۔
ان تمام باتوں سے پتا چلتا ہے کہ بخاری کی کتاب کیلئے صحیح بخاری کا عنوان ٹھیک نہیں لگ رہا کیونکہ انہوں نے صحیح اور سند والیں حدیثوں کواس لئے بیان نہیں کیا کیونکہ وہ حدیثیں ابو حنیفہ کے مذہب سے سازگار تھیں ۔ اس طرح کی فکری اور مذہبی بنیاد کی وجہ سے بخاری پر اعتراض وارد ہوتا ہے یا نہیں ؟ اس پر ہم ا نشاء اللہ آگے بحث کریں گے ۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں حق تک پہنچنے کیلئے دونوں مکاتب کی احادیث کو ملاحظہ کرنا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ کس میں تحریف (حدیث مین تبدیلی کرنا) اور تقطیع (حدیثوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا) کا احتمال ہے۔


۲۔ صحیح بخاری میں غیر مسند حدیثیں اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے علاوہ کسی اور کا کلام
کچھ سادہ لوح مسلمانوں کا کہنا ہے کہ صحیح بخاری میں موجود رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )سے منسوب تمام حدیثیں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے ارشاد فرمائی ہیں حالانکہ اکثر حدیثیں ایسی ہیں جو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا کلام ہی نہیں اور راوی نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )سے نقل ہی نہیں کیا تو ان کے صحیح اور ضعیف ہونے کی بحث کیا کریں۔ کیونکہ وہ صحابہ یا تابعین کا کلام ہے اس بنا پر صحیح بخاری کے کچھ حصے کو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا نہیں بلکہ صحابہ یا تابعین کا کلام کہنا چاہیے ۔
یہاں یہ بات کہنا ضروری ہے جب کچھ لوگ کہتے ہیں کہ صحیح بخاری معتبر کتاب ہے تو ان کی مرادصحیح بخاری کی وہ احادیث ہوتی ہیں جو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )سے منقول ہیں ورنہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی حدیثوں کےعلاوہ جو روایتیں ہیں ان پر اہلسنت کے بزرگ علماء نے اعتراض کیا ہے اور ان میں اختلاف پایاجاتا ہے ۔
صحیح بخاری پر شرح لکھنے والے عالم ، علامہ عینی نے اپنی کتاب کے مقدمے میں لکھا ہے کہ :
قد أکثر البخارى من أحاديث و أقوال الصحابة و غيرهم بغير إسناد، فإن کان لصيغة جزم ک «قال» و «روي» و نحوهما، فهو حکم منه بصحته، و ما کان بصيغة التمريض «روي» و نحوه، فليس فيه حکم بصحته، و لکن ليس هو واهياً، إذ لوکان واهياً لما أدخله فى صحيحه.
بخاری نے اپنی کتاب میں حدیثوں کو اور صحابہ کے اقوال کوبغیر سند کے نقل کیاہے اس کو جاننے کیلئے دو الگ طریقے کار رکھے ہیں جہاں قال کہا ہے وہاں یقینی حکم لگایاہے اور جہاں روی کہا ہے وہاں یقینی حکم نہیں لگایاہے لیکن یہ بھی فائدہ سے خالی نہیں کیونکہ اگر فائدہ نہ ہوتا تو اس کو اپنی کتا ب میں کیوں ذکر کرتے؟(15)
صحیح بخاری میں مرفوع اور معلق حدیثوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں : صحیح بخاری میں مرفوع اور معلق حدیثوں کی تعداد۲۷۶۱ ہے صحیح بخاری کی تکراری روایات حذف کرنے کے بعد صحیح بخاری میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )سے متصل روابتوں کی تعداد صرف ۲۶۰۲ ہے۔(16)


۳۔ امام بخاری کا علم رجال کو چھوڑ کے ہر ایک سے روایت نقل کرنا
بہت سارے علماء حدیث ، راویوں میں تحقیق کرتے ہیں اور جن پر اعتماد کرتےہیں ان کو جدا کرتے ہیں ان راویوں سے جو حدیثوں کو جعل کرتےہیں (جھوٹی روایتیں نقل کرتے ہیں) لیکن علماء رجال ، صحیح بخاری میں موجود راویوں کے بارے ہیں خاموش رہتےہیں یعنی ان کی خاموشی سے لگتا ہے کہ وہ بخاری سے متفق ہیں حالانکہ ایسا نہیں بلکہ انہوں نے صحیح بخاری کو اتنا مقدس سمجھا ہے کہ اس پر تحقیق کی جرات نہیں رکھتے ۔ لیکن بعد میں آنے والے محقق علماء نے جرات کی ہے اور صحیح بخاری میں موجود راویوں پر تحقیقی کی ہے اس بارے میں ابوالحسن حنبلی کا کلام نقل کرنے کے قابل ہے ۔ ابوالحسن حنبلی فرماتے ہیں : جو بھی راوی صحیح بخاری میں ذکر ہے وہ پل کی طر ح ہے۔ یعنی آگے اس راوی پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔(17)
رفاعی نے صحیح بخاری کا دفاع کیا اور اسے افضل ثابت کیا جب یہ بحث چھڑی کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں سے کونسی کتاب افضل ہے ۔ لیکن صحیح بخاری پر وارد اشکالات کو بھی تسلیم کیا انہوں نے صحیح بخاری پر وارد چھ اشکالات کو ذکر کیا : وہ راوی جن سے فقط بخاری نے روایت کی ہے اور مسلم نے ان سے روایت قبول نہیں کی ان کی تعداد ۴۳۰ افراد سے زیادہ ہے اور ان میں سے ۱۶۰ ، افراد کو علماء نے ضعیف قرار دیا ہے ۔(18)
ہم یہاں مثال کے طور پر نعیم ابن حماد کا ذکر کرتے ہیں جو صحیح بخاری کا راوی ہے اور کچھ افراد نے اس پر اعتماد بھی کیا ہے لیکن اہلسنت کےعلماء نے اور رجال کے علماءنے اسے پسند نہیں کیا اور ان سے حدیث لینے سے منع کیا ہے اور اس کی حدیث کو معتبر نہیں سمجھا ۔ اس بارے میں ابن حجر عسقلانی کی کتاب تہذيب التہذيب(19)کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے۔


۴۔ ناصبیوں سے حدیثوں کو نقل کرنا
اہلسنت کے بزرگ علماء ناصبیوں سے حدیثوں کو نقل کرنے سے پرہیز کرتے ہیں ۔ امام بخاری نہ صرف ناصبیوں سے حدیثوں کو نقل کرنے سے پرہیز نہیں کرتے بلکہ ناصبیوں سے حدیثوں کو نقل کرنے کی طرف بہت زیادہ مائل ہیں ۔ ابن حجر عسقلانی نے صحیح بخاری پر لکھنے والے مقدمے کی ایک فصل کو صحیح بخاری میں موجود راویوں کی رجالی لحاظ سے تحقیق کے ساتھ مخصوص کیا ہے، اس میں انہوں نے ناصبی راویوں پہ نشان لگایا ہے ۔ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں : اسحاق بن سويد العدوى، جرير بن عثمان حمصى، حصين بن نمير واسطى، عبداللّہ بن سالم اشعرى، عکرمہ مولى ابن عباس (خوارج میں سے )، عمران بن حطان (خوارج میں سے)، قيس بن ابى حازم، وليد بن کثير بن يحيى مدنى (خوارج میں سےہیں)۔(20)


۵۔ امام بخاری کا اہلبیت (علیہم السلام) سے نقل حدیث کرنے سے پرہیز کرنا
امام بخاری نے پوری زندگی روایتوں کو جمع کیا کبھی مکہ، کبھی مدینہ، کبھی بغداد، کبھی سامرا، کبھی کاظمین سے حدیثیں کو جمع کیا ۔ اس وقت ان شہروں میں امام محمد تقی(علیہ السلام) ، امام علی نقی (علیہ السلام) اور امام حسن عسکری (علیہ السلام) سے منقول حدیثیں موجود تھیں لیکن بخاری نے ایک بھی حدیث ان حضرات سے نقل نہیں کی ۔ امام جعفر صادق (علیہ السلام) کے بے شمار شاگردوں کے ہوتےہوئے جو دین اور حدیثوں کا علم رکھتے تھے نہ صرف یہ ان سے کوئی حدیث نقل نہیں کی بلکہ ائمہ معصومین میں سے بھی کسی سے حدیث کو نقل نہیں کیا ۔بخاری نے شیعہ حدیثوں کو نہ صرف شیعہ راویوں سے نقل نہیں کیا بلکہ جہاں کسی سنی عالم نے شیعہ حدیث کو نقل کیا ہے اس حدیث کو بھی بخاری نے نقل نہیں کیا۔
حالانکہ اہلسنت کے بزرگ علماء نے شیعہ فکر ، شیعہ فرہنگوثقافت ، شیعہ راویوں اور شیعہ حدیثوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ابن عقدہ جو کہ اہلسنت کے بزرگ رجالی عالم اور بخاری کے ہمعصر ہیں، اپنی کتاب میں امام جعفر صادق (علیہ السلام) کے ۴۰۰۰شاگردوں کے نام لکھتے ہیں جنہوں نے حدیثوں کو نقل کیا ہے(21)جن میں سے سفيان ثورى، ابن عُيينہ، شعبہ، عبدالملک بن جرع، فضيل بن عياض، محمّد بن اسحاق، امام مالک بن انس اور دوسرے شاگرد ہیں ۔ اہلسنت کے تمام علماء نے امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے حدیثیں نقل کی ہیں لیکن بخاری نے امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے بھی روایت نقل کرنے کو گوارا نہیں کیا۔


صحیح بخاری کے مطالب کی تحقیق
۱۔ صحیح بخاری میں تحریف اور تقطیع ( حدیثوں میں تبدیلی اورحدیثوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا)
صحیح بخاری میں موجود حدیثوں کو اہلسنت کے دوسرے علماء نےاپنے کتابوں میں بغیر کمی اور زیادتی کے نقل کیا ہے لیکن بخاری نے حدیثوں کے ان ٹکڑوں کو جن میں خلفاء کی مذمت آئی ہے، کاٹ دیا ہے ۔ اس میں کو ئی شک نہیں کہ یہ طریقہ درست نہیں اور اس کے ساتھ پورے صحیح بخاری کی صحت پر سوال اٹھے گا ۔(22)


۲۔ غیر مناسب حدیثیں
کبھی حدیثوں کے متن میں وہ بلند مطالب ہوتے ہیں کہ ایک حدیث کا عالم سند کو دیکھے بغیر بتا سکا ہے کہ یہ حدیث درست ہے لیکن کبھی حدیثون میں ایسے ضعیف مطالب ہوتے ہیں جو اس حدیث کے جعلی ہونے کا پتا دیتے ہیں ۔
صحیح بخاری میں بہت زیادہ مقامات پرپتا چلتا ہے کہ حدیث میں موجود کلام کے درمیا ن کوئی کوئی نظم اور ضبط نہیں جیسے ایک حدیث جس میں آیا ہے کہ حضرت علی (علیہ السلام) نے ابو جہل(23) سے اس کی بیٹی کا ہاتھ مانگا اس حدیث کی ابتدا اور انتھا میں کوئی ربط نظر نہیں آتا۔ کیا کوئی درست دیکھنےو الا اس حدیث کی صحت کی گواہی دے سکتا ہے؟


۳۔ معاویہ کی تعریف میں حد سے بڑھنا
بخاری نے صحیح بخاری کے کتاب الفضائل کے ۶۰ ساٹھویں باب کو معاویہ کی شان کیلئے مخصوص کیا ہے ۔ اس باب میں کوئی رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی حدیث تو نہ ملی اس نے لاچار تین روایتیں نقل کی ہیں :
ابن عباس : معاویہ رسول اکرم کے صحابی تھے۔
ابن عباس : معاویہ ، فقیہ تھے۔
معاویہ : ہم رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے ساتھ تھے اور دیکھا کہ نماز کس طرح پڑہتے ہیں ۔(24)
اور اس طرح کی بہت ساری روایتیں جن کی تفصیل انسان کو حیرانی میں ڈال دیتی ہے۔


۴۔ حضرت علی(علیہ السلام) اور فاطمہ زہرا (علیہا السلام) کے فضائل کو نقل کرنے میں کوتاہی کرنا
بخاری جب تذکرہ اہلبیت (علیہم السلام) تک پہچنتے ہیں تو صحیح بخاری کے کتاب الفضائل کے ۶۱ ،اکسٹھویں باب میں آدھی سطر کی حدیث نقل کرتے ہیں حالانکہ دوسرے ابواب میں اہلبیت (علیہم السلام) کے فضائل میں بہت بڑی حدیثیں ہیں ۔ حضرت فاطمہ زہرا(علیہا السلام) کیلئے ایک حدیث نقل کرتےہیں حالانکہ خلیفہ اول کیلئے ۲۴ حدیثیں نقل کیں ہیں۔ اور خلیفہ دوم کیلئے ۱۵ حدیثیں نقل کیں ہیں۔ جب بات امیرالمومنین (علیہ السلام) تک پہنچتی ہے صرف سات حدیثیں نقل کرتے ہیں جن میں نہ حدیث غدیر ہے ، نہ حدیث انا مدینہ العلم ہے ، نہ حدیث علی مع الحق ہے ، نہ ہی حدیث ثقلین ہے ۔ امیرالمومنین کی شان میں ہزاروں حدیثیں ہیں لیکن افسوس یہ ہے کہ بخاری نے صرف سات حدیثیں نقل کی ہیں ان میں سے بھی دو حدیثیں تکراری ہیں اور تیسری حدیث : جس میں حضرت علی (علیہ السلام) کے ابو تراب ہونے کوبیان کیا گیا ہے اس کو تبدیل کردیا ہے جو صحیح مسلم سے سمجھ میں آتی ہے ۔ چوتھی روایت میں تسبیح زہرا (علیہا السلام) کاذکر ہے ۔(25) پانچویں روایت ، حدیث منزلت ہے۔ چھٹی روایت کا مفہوم واضح نہیں ۔


معارف اسلامی میں تحریف اور جعلی حدیثیں
۱۔ اللہ تعالی کی جسمانیت
تمام آسمانی ادیان کی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے انسانوں کے سامنے اللہ تعالی کی معقول صورت پیش کی ہے ۔ خالق ، مجرد ہے مادہ سے پاک ہے ۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق اللہ تعالی جسم نہیں رکھتا ، کسی خاص مکان میں نہیں رہتا ، آنکھوں سے نظر نہیں آتا جیسا کہ قرآن کریم میں صراحت سے آیا ہے کہ:
لا تدرکه الأبصار و هو يدرک الأبصار و هو اللطيف الخبير.(26)
نگاہیں اسے پا نہیں سکتیں اور وہ نگاہوں کا برابر ادراک رکھتا ہے کہ وہ لطیف بھی ہے اور خبیر بھی ہے۔
ایک اور جگہ پر قرآن ارشاد فرماتا ہے :
ليس کمثله شى ء(27).
اس کا جیسا کوئی نہیں ہے۔
لیکن بخاری، رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کی ایسی حدیثیں لاتے ہیں جو بتاتی ہیں کہ اللہ تعالی انسان کی طرح جسم اور اعضاء رکھتا ہے ۔(28) اللہ تعالی نظر آتا ہے ۔(29) ہر رات اللہ تعالی عرش سے زمین پر آتا ہے(30)اور اللہ تعالی کو ان آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔(31)


۲۔ رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی شخصیت کو مجروح کرنا
رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )اسلام کی آئیڈیل شخصیت ہیں جو تمام نبیوں (علیہم السلام) سے افضل اور کامل ہیں تمام مسلمانوں کیلئے رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی زندگی میں اسوہ حسنہ ہے لیکن صحیح بخاری نے جس طرح رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کی تصویر کشی کی ہے وہ ایک کمزور شخصیت کی عکاس لگتی ہے ۔ جس کو نبوت میں شک ہے اور ان کو نبوت کااطمنان دلانے والا ایک نصرانی عالم ہے ۔ (32) جس پر ساحروں کا جادو اثر کرتا ہے ۔(33) جو عشاء کی نماز میں دو رکعات پڑھتا ہے ۔(34) جو سورج کے غروب کے بعد عصر کی نماز پڑھتا ہے ۔(35) جو عمامے اور جوتوں پر مسح کرتا ہے ۔(36) جو قرآن کو بھول جاتا ہے۔(37) اس کے علاوہ ایسے موارد جن کو لکھنے کی قلم اجازت نہیں دیتا ۔ حالانکہ قرآن نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی اس طرح سے مدح سرائی کی ہےکہ :
لقد کان لکم فى رسول اللّه أسوة حسنة(38)
یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے،


۳۔ رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے علاوہ دوسرے نبیوں(علیہم السلام) کی شخصیت کو مجروح کرنا
بخاری نے رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے علاوہ دوسرے نبیوں(علیہم السلام) کے بارے میں ایسی حدیثیں ذکر کیں ہیں جو ان کے بلندمقام سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ بخاری لکھتے ہیں : حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے تین جھوٹ بولے اس لئے مقام شفاعت سے محروم ہو گئے ۔(39)ایک بنی کو جیسے ہی ایک چیونٹی نے کاٹا اس نے پورے چھتے کو آگ لگادی(40)حضرت موسی نے عزرائیل کو منہ پرتھپڑ مار کر اسے اندھا بنا دیا(41)
------------
1. ہدی الساری، مقدمہ فتح الباری، ابن حجر عسقلانی، دارالمعرفة، ص 478 و 494.
2 . اوپر والی کتاب، ص 465.
3- صحیح البخاری، ریاض:ناشر بیت الأفکار الدولیہ للطبع و النشر.
4 . فہارس البخاری،ناشر مصر، ص 2.
5 . ہدی الساری، لبنان:ناشر دارالفکر، ص 663 .
6 . مقدمہ صحیح البخاری، مکہ مکرمہ، 1376 ق، صحیح البخاری، ص 40.
7 . معجم الکبیر، طبرانی، نے نقل کیا أضواء علی السنة المحمدیة، ص 78.
8 . بیہقی، نے نقل کیا أضواء علی السنة المحمدیة، ص 81.
9 .اوپر والی کتاب، ص 77.
10 . ہدی الساری، دارالمعرفة، ص 488.
11 .اوپر والا حوالہ.
12 . پژوہشی تطبیقی در احادیث بخاری و کلینی، ہاشم معروف الحسنی، ص 131.
13 اوپر والا حوالا
14 . ارشاد الساری، ج 1، ص 23.
15 . عمدة الغاری، ج 1، ص 10.
16 . ہدی الساری، دارالفکر، ص 663 .
17 . اوپر والا حوالہ ، ص 38.
18 . مقدمہ صحیح البخاری، بیروت: دارالعلم، ج 1، ص 16.
19 . تہذیب التہذیب، ج 10، ص 461.
20 . اوپر والا حوالہ.
21 . الامام الصادق (ع) و المذاہب الاربعہ، ج 1، ص 398.
22 . زیادہ معلومات کیلئے مطالعہ کریں : صحیح البخاری، ص 54.
23 . صحیح البخاری، ج 4، ص 101.
24 . اوپر والا حوالہ ، ج 5، ص 96.
25 . صحیح البخاری، ج ، ص 80؛ صحیح مسلم، ج 1، کتاب الایمان.
26 . سورہ انعام، آیہ 103.
27. سورہ شوری، آیہ 11.
28 . صحیح البخاری، ج 6.
29 . اوپر والا حوالہ ، ج 1، کتاب الصلوة.
30 . اوپر والا حوالہ ، ج 2، کتاب التہجد.
31 اوپر والا حوالہ ، ج 1، باب فضل السجود.
32 . صحیح البخاری، ج 1، باب بدء الوحی.
33 . اوپر والا حوالہ ، ج 7، ص 257.
34 . اوپر والا حوالہ ، ج 2، باب 329، حدیث 458.
35 . اوپر والا حوالہ ، ج، ص 154 و 165 و 201.
36 . اوپر والا حوالہ ، ص 108 و ج 1، ص 62.
37 . اوپر والا حوالہ ، ج 3، کتاب الشہادات، باب شہادة الأعمی و نکاحہ.
38 . سورہ احزاب، آیہ 21.
39 . صحیح البخاری، ج 6، تفسیر سورہ بنی اسرائیل، ذیل آیہ «ذریةمنحملنامع نوح».
40 . اوپر والا حوالہ ، ج 4، کتاب الجہاد و السیر.
41 . اوپر والا حوالہ ، ج 2، باب 853

This thread is for Sunni Muslims. Shia Muslims do not believe in Sunni Books of Hadeeths so please stay away from this thread.

(Qur'an 109:6) لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ
To you be your Way, and to me mine.
تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین
 

منتظر

Minister (2k+ posts)
This thread is for Sunni Muslims. Shia Muslims do not believe in Sunni Books of Hadeeths so please stay away from this thread.

(Qur'an 109:6) لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ
To you be your Way, and to me mine.
تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین
یہ فورم شیعہ سنی کا نہیں ہے پوری دنیا میں کوئی بھی ادھر آ کر لکھ سکتا ہے ویسے میرا سوال ہے تم کو سنی کون مانتا ہے ؟ اہلسنت تم کو نجدی کتے کہتے ہیں معزرت کے ساتھ یہ میرے الفاظ نہیں ہیں وہ لوگ تمارے ساتھ نماز پڑھنا بھی نہیں پسند کرتے بلکہ حج کے دوران بھی امام کعبہ کے پیچھے خانہ خدا میں نماز نہیں پڑھتے تمارے نجدی امام کے پیچھے ادھر پاکستان میں اگر کراچی سے ہو تو بزنس روڈ کی مسجد پر خود لکھا ہوا پڑھا کتے دیو بندی اور وہابی کا داخلہ بند ہے اسی طرح پاکستان کے دوسرے شہروں میں بھی تم لوگوں کا ان کی مساجد میں داخلہ ممنوع ہے
اس کے برعکس تم بریلویوں کو مشرک بدعتی کہتے ہو اور اس بنا پر تم اقلیتی ہو تماری تعداد تو پاکستان میں موجود عسائیوں سے بھی بہت کم ہے
جو میںنے حقائق بیان کیے ہیں ان پر روشنی ڈالو یا کہو تو میں ایک ایک کر کے ادھر بیان کروں ؟
 

منتظر

Minister (2k+ posts)

جناب آپ کو صحیح بخاری سے اس لیے مسئلہ ہو رہا ہے کہ اس نے 15 شعبان کی کہانیوں کا پرچار نہیں کیا ہے۔
میں آپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں۔
پندرہ شعبان اس لیے شب برات بن گئی کیوں کہ وہ امام مہدی کی سالگرہ کا دن ہے۔ تو پھر امام علی جو پہلے امام ہیں ان کی شان میں ایسی کوئی شب کیوں نہیں ہے جناب؟
امام علی تو امام مہدی سے بڑے ہیں ناں، تو پھر امام علی کی سالگرہ کے لیے بھی کوئی اچھی سی شب ہونی چاہیے۔
محترم الرضا صاھب مجھے اپنے مذھب پر عمل کرنے کے لیے صحیح بخاری کی نہیں بلکہ الله کی کتاب رسول خدا اور ان کے بتاے ہوے ائمہ کی تقلید کرنی ہے بخاری میں تو بہت کچھ ہے جو نہیں ہونا چاہیے تھا اور بہت کچھ نہیں ہے جو ہونا چاہیے تھا میرے لیے بخاری شریف حجت نہیں ہے اس کی وجہ ہے وہ یہ کے یہ گستاخی رسول پر مشتمل روایات پر مبنی ہے جس کو صحیح کہ کر پیش کیا گیا ہے
آپ سے سوال ہے کے قران کیا کہتا ہے جب حیض کی حالت ہو تو مباشرت کرنی چاہیے ہے ؟
کیا روزے کی حالت مباشرت یا بوسے کرنے کا قران حکیم میں حکم ہے ؟
 
Last edited:

Tabbot Mein Keel

Voter (50+ posts)

🔴 نہ دیوبندی جائیگا ، نہ بریلوی جائیگا !!
جو ہوگا نبی کے طریقے پر، وہی جنت میں جائے گا

🔴 حساب اہلحدیث کا بھی ہوگا، کھڑے ہوں گے سنّی بھی،
ہوگا جو دستور صحابہ پر وہی جنت میں جائے گا

🔴 جہاں لاچار ہوگا شافعی بھی، وہاں مجبور ہوگا حنفی بھی، کھڑا جو ہوگا توحید پر، وہی جنت میں جائے گا

🔴 بیٹھا دی نفرتیں دل میں ان فرقہ پرستوں نے،
محبت باٹےگا جو، وہی جنت میں جائے گا

🔴 ہونگے فرقے تہتر اس امت میں “ساحل”،
مگر اک ہوگا، راہ حق پر، وہی جنت میں جائے گا

🔴 دے دی اذان مساجد میں ہم نے “حي على الصلاه”
اور لکھ دیا باہر بورڈ پر اندر نہ آئے “فلا اور فلا”

🔴 خوف ہوتا ہے شیطان کو بھی آج کا مسلمان دیکھ كر،
نماذ بھی پڑھتا ہے تو مسجد كا نام دیکھ کر

🔴 مسلمانو کے ہر فرقے نے ایک دوسرے کو کافر کہا،
ایک کافر ہی ہے جو اس نے ہم سب کو مسلمان کہا

 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں