پاکستان کی جیت کا جشن منانے والے کشمیری طلبا کا کیا ہوا؟

Goldfinger

Councller (250+ posts)

_121492197_c47b6751-9558-4cba-9db0-930578878e5a.jpg

ارشد کی ماں کھیتوں میں مزدوری کرتی ہیں

24 اکتوبر کو پاکستان کے ہاتھوں انڈیا کی شکست کا جشن منانے کے الزام میں گرفتار تین کشمیری طلباء کو ابھی تک ضمانت نہیں ملی ہے۔ انھیں ریاست اترپردیش کے شہر آگرہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔
ان کی گرفتاری کے بعد وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے خود ٹوئٹ کیا تھا کہ 'پاکستان کی جیت کا جشن منانے والوں کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلایا جائے گا۔‘
گرفتار طلباء آگرہ کے راجہ بلونت سنگھ انجینئرنگ کالج کے طالب علم ہیں۔ ارشد یوسف اور عنایت الطاف شیخ انجینئرنگ کے تیسرے سال کے طالب علم ہیں اور شوکت احمد غنی چوتھے سال میں ہیں۔
تینوں کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 153اے ،505 ایک بی اور آئی ٹی ایکٹ 2008 کی دفعہ 66 ایف کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ تینوں نے ملک مخالف نعرے لگائے اور انتشار پھیلانے کی کوشش کی جس کی وجہ سے ماحول خراب ہونے کا خدشہ تھا۔
ریاست وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ کی ٹوئٹ کے بعد ان کے خلاف غداری کی دفعات کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
24 اکتوبر کو پاکستان کے ہاتھوں انڈیا کی شکست کا جشن منانے کے الزام میں گرفتار تین کشمیری طلباء کو ابھی تک ضمانت نہیں ملی ہے۔ انھیں ریاست اترپردیش کے شہر آگرہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔
ان کی گرفتاری کے بعد وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے خود ٹوئٹ کیا تھا کہ 'پاکستان کی جیت کا جشن منانے والوں کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلایا جائے گا۔‘
گرفتار طلباء آگرہ کے راجہ بلونت سنگھ انجینئرنگ کالج کے طالب علم ہیں۔ ارشد یوسف اور عنایت الطاف شیخ انجینئرنگ کے تیسرے سال کے طالب علم ہیں اور شوکت احمد غنی چوتھے سال میں ہیں۔
عنایت کے والد کو ان سے بہت امیدیں ہیں۔ ٹانگ میں چوٹ کی وجہ سے وہ خود بھی عنایت سے ملنے آگرہ نہیں جا سکے۔ انھیں یقین ہے کہ عنایت کو عدالت سے ضمانت مل جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اسے کچھ غلط کرنا ہوتا تو وہ آگرہ تعلیم حاصل کرنے کیوں جاتا۔'
'وہ صرف پڑھنے گیا تھا پتہ نہیں انھوں نے کیا الزام لگا دیا اس پر۔'
اپنے بیٹے کے لیے وزیر اعظم سے مدد مانگتے ہوئے محمد الطاف شیخ کہتے ہیں کہ یہ ہمارا ملک ہے، ان بچوں کو معاف کر دینا چاہیے، یہ کسی دوسرے ملک میں پرورش نہیں پا رہے، اگر کرکٹ کے حوالے سے ان سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو وزیر اعظم صاحب کو انھیں معاف کر دینا چاہیے۔'
ان کا کہنا تھا ’ہم صرف گزارش کر سکتے ہیں، سب کہتے ہیں کہ اس بار ان بچوں کو معاف کر دیں، آج بچوں کو پتہ چل گیا ہے کہ اب کرکٹ ہو یا کچھ بھی، اب تویہ قانون بن چکا ہے، اب کوئی بچہ ایسی غلطی نہیں کرے گا۔'

تینوں کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 153اے ،505 ایک بی اور آئی ٹی ایکٹ 2008 کی دفعہ 66 ایف کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ تینوں نے ملک مخالف نعرے لگائے اور انتشار پھیلانے کی کوشش کی جس کی وجہ سے ماحول خراب ہونے کا خدشہ تھا۔
ریاست وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ کی ٹوئٹ کے بعد ان کے خلاف غداری کی دفعات کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
اپنے بیٹوں کی گرفتاری کی خبر ملتے ہی ان کے گھر والوں نے آگرہ پہنچ کر اپنے بچوں کی خیریت دریافت کی۔ یہاں ان تینوں کے افرادِ خانہ نے 2 اور 3 نومبر کو اپنے بچوں سے ملاقات کی۔
انجینئرنگ کے چوتھے سال کے طالب علم 22 سالہ شوکت احمد غنی کے والد 58 سالہ شعبان کے مزید تین بچے ہیں۔ شعبان سرکاری سکیم منریگا میں مزدور ہیں اور کشمیر کے بانڈی پورہ علاقے میں رہنے والا یہ خاندان ان کی، شعبان اور ان کے دوسرے بیٹے کی آمدنی پر چلتا ہے۔
شوکت کے والد کا کہنا ہے کہ انھیں یقین نہیں آ رہا کہ ان کے بیٹے پر ایسے اشتعال انگیز بیانات لکھنے کا الزام لگایا جا سکتا ہے۔
آگرہ میں شوکت سے ملاقات کے حوالے سے شعبان کا کہنا ہے کہ'میں آگرہ آیا اور بچے سے ملا، وہ کہتا ہے کہ 'میں نے کچھ نہیں کیا اور میں بے قصور ہوں۔'
'میرے بیٹے نے یہ بھی کہا کہ میرا واٹس ایپ چیک کرو، یا وہاں کی سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کرو۔ میں نے ایسا کچھ نہیں لکھا۔'
وہ کہتے ہیں، 'ہم کہتے ہیں کہ اگر بچے سے کوئی غلطی ہوئی بھی ہے تو اسے معاف کر دینا چاہیے۔ بچوں کے کیریئر میں کوئی داغ نہیں لگنا چاہیے۔ امید ہے یوگی صاحب اسے معاف کر دیں گے۔ ہمارے گاؤں شاہ گنڈ کے تمام لوگوں کو بہت دکھ پہنچا ہے۔'

وزیر اعظم سکالرشِپ کے تحت تعلیم حاصل کرنے والے شوکت

شعبان اپنی مالی مجبوریوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کا بیٹا شوکت وزیر اعظم کی سکالرشپ سکیم کے تحت تعلیم حاصل کر رہا ہے۔
وہ کہتے ہیں'اگر ہماری مالی حالت اچھی ہوتی تو ہم بچوں کو سکالرشپ پر پڑھنے کے لیے کیوں بھیجتے۔ ہم اتنے غریب ہیں کہ فیس بھی نہیں دے سکتے۔ ہم خود منریگا کے تحت مزدور کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ہم سڑکیں بناتے ہیں، گٹی اٹھاتے ہیں۔ ایک اور لڑکا ہے جو مزدوری کرتا ہے۔ صرف یہی بچہ ہے جس سے ہمیں امیدیں ہیں۔'
21 سالہ عنایت الطاف شیخ کے والد محمد الطاف شیخ بڈگام میں بڑھئی کا کام کرتے ہیں۔
اپنے بیٹے کے بارے میں الطاف کہتے ہیں'وہ تین سال سے آگرہ میں انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔'
عنایت کے والد کو ان سے بہت امیدیں ہیں۔ ٹانگ میں چوٹ کی وجہ سے وہ خود بھی عنایت سے ملنے آگرہ نہیں جا سکے۔ انھیں یقین ہے کہ عنایت کو عدالت سے ضمانت مل جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اسے کچھ غلط کرنا ہوتا تو وہ آگرہ تعلیم حاصل کرنے کیوں جاتا۔'
'وہ صرف پڑھنے گیا تھا پتہ نہیں انھوں نے کیا الزام لگا دیا اس پر۔'
اپنے بیٹے کے لیے وزیر اعظم سے مدد مانگتے ہوئے محمد الطاف شیخ کہتے ہیں کہ یہ ہمارا ملک ہے، ان بچوں کو معاف کر دینا چاہیے، یہ کسی دوسرے ملک میں پرورش نہیں پا رہے، اگر کرکٹ کے حوالے سے ان سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو وزیر اعظم صاحب کو انھیں معاف کر دینا چاہیے۔'
ان کا کہنا تھا ’ہم صرف گزارش کر سکتے ہیں، سب کہتے ہیں کہ اس بار ان بچوں کو معاف کر دیں، آج بچوں کو پتہ چل گیا ہے کہ اب کرکٹ ہو یا کچھ بھی، اب تویہ قانون بن چکا ہے، اب کوئی بچہ ایسی غلطی نہیں کرے گا۔'
سول انجینئرنگ کے تیسرے سال کے طالب علم ارشد یوسف کے والد سنہ 2000 میں ایک حادثے میں انتقال کر گئے تھے۔ ارشد کی والدہ حنیفہ کھیت میں مزدوری کرتی ہیں۔ بڈگام کی رہنے والی حنیفہ کی بیٹے ارشد کے علاوہ دو بیٹیاں ہیں۔
جیل میں ارشد سے ملنے آنے والے ان کے ماموں لطیف احمد نے بتایا کہ 'ارشد نے بتایا کہ ہم نے ایسا کچھ نہیں کیا، ایک دوست سے چیٹنگ کر رہے تھے اور دوست نے اس کا میسج فارورڈ کیا، اس کی گفتگو کا سکرین شاٹ اپ لوڈ کر دیا گیا۔'
'یہ ان کے کیریئر کا سوال ہے، اور ہم صرف ان کی رہائی چاہتے ہیں۔ ہم پی ایم صاحب اور سی ایم یوگی جی سے ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتے ہیں کہ ان کے مستقبل کا خیال کرتے ہوئے انھیں رہا کریں۔ ہم بہت پریشان ہیں
_121492408_37dd84fa-01df-4fb9-86a4-1c0b503e857f.jpg

عنایت کے والد الطاف شیخ

کالج انتظامیہ کا کیا کہنا ہے؟

اس معاملے پر ہنگامے کے بعد راجہ بلونت سنگھ انجینئرنگ کالج کی انتظامیہ نے 24 تاریخ کو ارشد، عنایت اور شوکت کو پاکستان کے حق میں واٹس ایپ سٹیٹس ڈالنے پر بے ضابطگی کا حوالہ دیتے ہوئے معطل کر دیا۔
آر بی ایس کالج کے بیچ پور کیمپس کے ڈین ڈاکٹر اپوروا بہاری لال کا کہنا ہے، 'ہمیں صرف سکرین شاٹ کے وائرل ہونے کا معاملہ ملا اور جب طلباء سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے اعتراف کیا کہ ان سے غلطی ہوئی ہے۔ اس کا نوٹس لیتے ہوئے ہم نے انھیں معطل کر دیا۔ ہمیں ایف آئی آر میں نعرے لگانے کے بارے میں نہیں معلوم کیونکہ ہم نے ایف آئی آر نہیں دیکھی ہے۔ لیکن ہم نے پاکستان کی جیت کا جشن منانے والے واٹس ایپ سٹیٹس کو درست پایا۔‘
آگرہ ضلع کے پبلک پراسیکیوٹر بسنت گپتا کے مطابق پولیس نے اس معاملے میں تحقیقات میں کافی ثبوت اکٹھے کیے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ طلباء کو ضمانت دینے کی مخالفت کریں گے۔
بسنت گپتا کہتے ہیں'ضمانت کی درخواست نچلی عدالت میں جائے گی۔ ان کا جرم غداری ہے، دوسرے ملک کی تعریف کرنا ملک دشمنی ہے اور انھوں نے اپنا واٹس ایپ سٹیٹس ڈالا ہے۔ اور وہاں واٹس ایپ چیٹ بھی ہے۔ زبانی شہادت کی ضرورت نہیں یہاں دستاویزی ثبوت کافی ہیں اور تمام شواہد ان کے موبائل سے برآمد ہوئے ہیں وہ اس سے انکار نہیں کر سکتے، عدالت کے سامنے یہ ثبوت پیش کیے جائیں گے اور اسی بنیاد پر ہم ضمانت کی مخالفت کریں گے۔'
سورس
 
Advertisement

concern_paki

Chief Minister (5k+ posts)
Media is bought by mudi and media will only praises the butcher and his government, they will wakeup once the country will disintegrate and that time is not far now
 
Sponsored Link