ٹیکساس: یہودی عبادت گاہ میں یرغمال تمام افراد بازیاب

haml1l121.jpg


امریکی ریاست ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ کولی ولی کی بیتِ اسرائیل نامی یہودی عبادت گاہ (سائناگوگ) میں یرغمال بنائے گئے تمام افراد کو بازیاب کرا لیا گیا ہے۔

انہوں نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے بتایا کہ تمام یرغمالی زندہ اور محفوظ ہیں۔


بی بی سی اردو کے مطابق ان لوگوں کو یرغمال بنانے والا شخص سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارا جاچکا ہے۔

کولیویل پولیس اور ایف بی آئی کی مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا گیا ہے کہ عبادت گاہ میں چار افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا جنھیں بحفاظت رہا کرا لیا گیا ہے جبکہ ملزم مارا گیا ہے۔تاہم ملزم نے کسی یرغمالی کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا تاہم اس کا صرف ایک ہی مطالبہ تھا۔


ایف بی آئی کے مطابق حملہ آور کی شناخت ابھی ظاہر نہیں کی جائے گی تاکہ تحقیقات متاثر نہ ہوں۔

بی بی سی کے مطابق ایف بی آئی نے یہ بتانے سے انکار کردیا ہے کہ کیا واقعی اس شخص کا مطالبہ عافیہ صدیقی کی رہائی تھا۔

سیکیورٹی فورسز کے پہنچنے پر یہودی عبادت گاہ کی جانب سے دھماکے اور فائرنگ کی آوازیں سنی جانے کی اطلاعات بھی آتی رہیں لیکن یہ فائرنگ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے تھیں جنہوں نے حملہ آور کو انجام تک پہنچانے اور یرغمالیوں کی رہائی میں کردار ادا کیا۔

امریکی ریاست ٹیکساس میں ایک شخص نے یہودی عبادت گاہ میں راہب سمیت 4 افراد کو یرغمال بنایا تھا جبکہ 4 افراد کو یرغمال بنائے جانے کے بعد ایک یرغمالی کو رہا کیا گیا تھا۔

دعوٰی کیا جارہا تھا کہ یرغمال بنانیوالے شخص کا عافیہ صدیقی کی رہائی مطالبہ تھا لیکن ابھی تک اسکی تصدیق نہیں ہوسکی۔

یرغمال بنانے والے شخص کے ساتھ کیا ہوا، اس حوالے سے فی الحال کوئی بات سامنے نہیں آئی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق لوگوں کو یرغمال بنانے والا شخص ممکنہ طور پر عافیہ صدیقی کو رہائی دلانا چاہتا تھا۔

عافیہ صدیقی امریکا کی ریاست ٹیکساس ہی کی جیل میں 86 برس کی قید کاٹ رہی ہیں، ان پر امریکیوں پر حملے کی کوشش کا الزام ہے۔
 
Advertisement
Sponsored Link