موٹروے پر خاتون کا ریپ، نابالغ بچوں سے زیادتی۔ جنسی گھٹن کا نتیجہ

1234567

Minister (2k+ posts)
پاکستان میں خواتین، نابالغ بچوں اور بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے، آئے روز کوئی نہ کوئی بچہ یا کوئی نہ کوئی خاتون کسی نہ کسی جنسی درندے کی ہوس کا شکار بنی ہوتی ہے۔ لاہور میں موٹروے پر کھڑی گاڑی سے اتار کر خاتون کو اسکے بچوں کے سامنے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا واقعہ تو انتہائی اندوہناک ہے۔ حسبِ سابق کم عقل پاکستانی قوم ایک ہی گردان کررہی ہے، سرعام پھانسی پرلٹکادو، سنگسار کردو۔۔ یہ طریقہ غصے کو ٹھنڈا کرنے کے کام تو آسکتا ہے، لیکن اس سے مسئلہ حل ہونے والا نہیں۔ ہمیں مسئلے کی جڑ پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ جنسی فعل بھوک اور پیاس کی طرح انسان کی فطری ضرورت ہے اور اس کو دبانے سے ویسے ہی مسائل پیدا ہوتے ہیں جیسے اگر کسی معاشرے پر بھوک اور پیاس مسلط کردی جائے تو وہ بغاوت پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔

سیکس ایک حیوانی جذبہ ہے اور انسان پر جب جنسی جذبات کا غلبہ ہوتا ہے تو اس وقت وہ انسان نہیں ایک جانور ہوتا ہے۔ اگرکسی معاشرے پر اس کی جنسی ضرورت پورا کرنے کی راہ میں رکاوٹیں حائل کی جائیں اور غیر ضروری پابندیاں عائد کی جائیں تو لامحالہ طور پر اس معاشرے کے لوگ حیوانی حرکات پر اتر آتے ہیں۔ پاکستان میں انسان کی جنسی ضرورت کو غیر ضروری طور پر دبایا جاتا ہے، بغیر شادی کے سیکس کو انتہائی غلط سمجھا جاتا ہے، نہ صرف معاشرہ، بلکہ ریاست بھی مرد اور عورت کے ذاتی تعلقات کے بیچ میں مداخلت کرتی ہے، حدود آرڈنینس جیسے جاہلانہ قوانین اس معاشرے پر مسلط کئے ہوئے ہیں۔ اگر کوئی مرد اور عورت، لڑکا لڑکی اپنی مرضی سے ایک دوسرے سے جنسی تعلقات قائم کرتے ہیں تو کسی بھی دوسرے تیسرے شخص کو یا ریاست کو اس سے سروکار نہیں ہونا چاہیے۔ پولیس کو یا کسی بھی محکمے کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی گاڑی میں، کسی پارک میں یا کسی ہوٹل میں داخل ہوکر لوگوں کے ذاتی معاملات میں دخل دیں۔ مغربی ممالک نے اس مسئلے کو بہت پہلے سمجھ کر اس کا حل نکال لیا تھا کہ لوگوں کو انفرادی اور ذاتی معاملات میں آزاد چھوڑ دیا، لوگوں کے مذہب کو پرائیوٹ مان لیا، لوگوں کے جنسی تعلقات کو ان کی جائز اور ناگزیر ضرورت مان کر اس پر عائد غیر ضروری پابندیاں ختم کردیں اور اب صورتحال یہ ہے کہ امریکہ، کینیڈا اور یوکے میں تو میں عورت اکیلی باہر نکلنے پر خود کو غیر محفوظ محسوس نہیں کرتی، جبکہ پاکستان میں عورت باہر نکلے تو پورے معاشرے کی نظریں اس کے بدن کا طواف کرتی ہیں، عورت تو چھوڑیئے، اب تو چھوٹے چھوٹے بچے بھی اس معاشرے میں غیر محفوظ ہیں۔ ذرا اس چودہ پندرہ سالہ لڑکے کا انٹرویو ملاحظہ کریں، اس نے سات سالہ بچی کا ریپ کرکے اس کو قتل کردیا۔



کیا یہ شکل سے کوئی درندہ لگتا ہے؟ ہم اسے پتھر مار مار کر یا سرعام پھانسی پرلٹکا کر اپنے غصیلے جذبات کو راحت پہنچا بھی لیں، مگر کیا اس سے مسئلہ حل ہوجائے گا؟ کتنوں کو پھانسی پر لٹکائیں گے؟ ہمیں مسئلے کا روٹ کاز سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جنسی گھٹن کی وجہ سے پورا معاشرہ نفسیاتی مریض بنتا جارہا ہے، لوگ انسانوں سے حیوان بنتے جارہے ہیں۔ اگر اس چودہ پندرہ سالہ لڑکے کو اپنی ہم عمر لڑکی سے آزادانہ جنسی اختلاط کی سہولت میسر ہوتی تو کیا یہ اپنے حیوانی جذبات سے مغلوب ہوکر اس معصوم بچی کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتا؟ ہمیں خود کو فرسودہ سوچ سے نکالنا ہوگا، سیکس انسان کی بنیادی اور اہم ضرورت ہے، اس کو شادی کے ساتھ نتھی کرنا انتہائی احمقانہ اور خطرناک رویہ ہے۔

ایک اور غلط فہمی ہے جس کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ جس کی شادی ہوجائے اس کی جنسی ضرورت پوری ہونے کا سامان ہوگیا۔ ایسا بالکل نہیں ہے، کیونکہ ہمارے ہاں جوائنٹ فیملی سسٹم ، چھوٹے گھروں اور بے دریغ آبادی کی وجہ سے شادی شدہ جوڑے بھی پوری طرح اپنی جنسی طلب پوری نہیں کرپاتے۔ جنسی ضرورت پوری کرنے ذہنی سکون اور خاموش ماحول ضروری ہے۔ جب پانچ مرلے کے گھر میں کمرے کے ساتھ کمرہ ٹھکا ہو اور گھر میں تین چار شادی شدہ جوڑے رہتے ہیں، ہر جوڑا خوف اور جلد بازی کے عالم میں دم سادھ کر اپنی جنسی ضرورت پوری کرے، ایک سال بعد بچوں کی آمد ہوجائے اور پھر یہ جائز ضرورت بھی چوری چھپے کا کھیل بن جائے تو ایسے میں جنسی تسکین کیا خاک ملے گی۔ ہم نے انسان کی اس اہم ضرورت کو اتنا دبا دیا ہے کہ ذہنی طور پر ہمارا معاشرہ پوری طرح انتشار اور خلفشار کا شکار ہوچکا ہے، ہم پر تحقیق، جستجو اور تخلیق کے دروازے بند ہوچکے ہیں، کیونکہ ہم نے اپنے معاشرے کو بنیادی انسانی ضروریات کے چکر سے ہی نہیں نکلنے دیا، جس شخص کو جنسی تسکین حاصل نہ ہو، اسکا ذہن کسی قسم کے تخلیقی کام کے قابل نہیں رہتا، اس کے ذہن پر ہر وقت عورت سوار رہتی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ہر قسم کے نئے آئیڈیاز، دریافتیں اور ایجادات یورپ اور ان معاشروں سے آرہی ہیں جہاں لوگوں کو جنسی اور فکری آزادی میسر ہے۔۔ سوچیے اور بار بار سوچیے کہ سوچنے پر پابندی نہیں۔
Dear, it is sexsual frustration, it is deficiency of PHANTI & proper punishment.
 

thinking

Chief Minister (5k+ posts)
Oh bhai..Jin mulko m saray aam sex allow ha..wahan bhi rapes cases top par hain.. Yes sexual desire is natural..but not by force or with violence..Many factors Hain is ke..ab 15 Saal ke larkay ke Ander itni jaldi sex ki intah level par aag kesay paida ho gae ke wo bachay k sath sex with violence behaviour bhi karay aur ussay qatal bhi karay??ye sab mobile internet mein easy available porn videos hain jo aam bacho..baro ko darandagi aur Shataniyat ki intah level par le Kar jati hain..Suna kartey they ke puranay zamnay mein jab mobile.internet nahi tha Tu dakao n bhi asool bnaya howay they ke bacho .aurarto ko hath nahi lagatey they..rape Tu door kit baat ha.jis dako ke baray m pata chalta ke us be rape kia ha.us ko dakao ke sardar apnay ring se Nikal detay they..
 
Last edited:

yaar 20

Politcal Worker (100+ posts)
انتہائی افسوسناک تحریر بھوک لگی ہے تو ڈاکہ مارنا کس طرح جائز ہے . حلال کما کر کھانے میں کیا حرج ہے . جرم ایک درندگی ہے اس کی وجہ بھوک نہیں اس کی وجہ فطرت ہے . لوگ اپنی فطرت سے مجبور ہو کر جرم کرتے ہیں جب کہ حلال کا رستہ موجود ہے . جنسی گھٹن کا کوئی وجود نہیں جب دو فریق راضی ہوتے ہیں تو ہزار رستے نکل آتے ہیں . آپ کی تحریر کے مطابق ملک میں اڈلٹ سیکس کو ترویج ملنی چاہیے جس سے جرم کم ہو گا . جب کہ سیکس جرائم کی جڑ ہی پورن فلمیں اور فحاشی ہے . یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے آزاد خیال ممالک میں عورتوں کا جنسی استحصال زیادہ ہے . مگر مچھوں کے پیٹ نہیں بھرتے اور ایسے درندوں کا علاج صرف و صرف ایک ہولناک موت ہے
بہت عممدہ۔۔۔۔۔۔۔!
 

thinking

Chief Minister (5k+ posts)
Yes. Ghutan Tu ha hamari society mein.Ghurbat..corrupt judicial system..corrupt police.. corrupt politicians..berozgari..
aur uper se har dosra Banda depression.. anxiety Ka mareez..Ghar bethay..mobile se dunia Ka har sex dekho live..Jis mein violence sex..child sex sab se zayada dekha jata ha..aur phir hamaray Molvis hazrat..khud sex lust ke pujari Hain..apna firqa..apni masjid..madarsay.. Chanda ki hi fikar ha.. Islam ki asal taleem Jis mein Pori society ya Qoum ki islah Karna..wo ye Molvi sahib ke agenda mein nahi ha..Molvi Fazulo ko le lo..koi bhi zarra brabar Deen...Quran Ka Elam rakhnay wala Banda Kia Fazulo ke sath khara Hona Pasand karay ga??lekan Roz TV par dekhta ho..shatan Molvis sath kharay hotey Hain..Jo bacho ko do waqt rooti nahi khila saktey wo bacho ko madarso mein bejh detay Hain..There are many things..which needs more time to address here..
 

Cape Kahloon

Minister (2k+ posts)
Ager judges corruption chor dain tu yeh problem solve hu sakta ha. Simply zana oor kidnappe ke saza moot hune cheay. OOr ess mujram ke zamant ne hune cheay.
 

Dr Adam

Chief Minister (5k+ posts)
بالکل غلط ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
اگر آپ نے کوئی گیم کھیلنی ھے تو اس کے اصول و قواعد کے مطابق کھیلنا پڑے گا۔ اگر آپ نے ہمارے معاشرےمیں رھنا قبول کیا ہے تو ہمارے اسلامی قوانین کو بھی فالو کرنا پڑے گا ۔اسلام میں بغیر شادی کے ازدواجی تعلقات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
جن ملکوں کی آپ مثال دے رہے ہیں وھاں ریب کو ایک انتہائی سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے اور اس کی سنگینی قتل کے جرم کے برابر تصور کی جاتی ہے ضرورت انصاف کے نظام کو صحیح کر نے اور ریپ کی سزا کو مؤثر بنانے کی ھے۔جب کہ حیرت انگیز طور آپ ایک انتہائی غیر منطقی بات کر رہے ہیں۔اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اگر یہاں زیادہ قتل ہوتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ کہ قتل کی سزاھی کو ختم کر دیا جائے۔ اسی طرح چوری چکاری بھی ایک حیوانی جذبہ ہے تو پھر اس کی بھی اجازت دے دی جائے ۔۔۔ماشااللہ۔ویسے کافی حیرت ہوئی آپ کی سوچ پر؟۔۔۔!ر


یہ بھائی صاب اگر اتنا ہے بڑا سیکس کا سائنسدان ہے تو اس سے پوچھا جانا چاہئیے (دکھی دل سے کہہ رہا ہوں) کہ یہ اپنی ماں بہن بیٹی کو دنیا کے سامنے یہ سب کچھ کسی مصروف شاہراہ پر کرنے کی اجازت دے گا کیا؟؟؟
پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور یہاں صرف قرآن کا قانون چلے گا. یہ بات آئین کی پہلی دو سطروں میں لکھی ہے
یہاں کوئی اگر مگر نہیں چلے گا . پیریڈ
جس کو رہنا ہے یہاں رہے ورنہ جہاں اس کو اس فحاشی کی اجازت ہو تشریف لے جائے . کس نے روکا ہے ؟؟؟​
 

Shuja Baba

Councller (250+ posts)
یہ بھائی صاب اگر اتنا ہے بڑا سیکس کا سائنسدان ہے تو اس سے پوچھا جانا چاہئیے (دکھی دل سے کہہ رہا ہوں) کہ یہ اپنی ماں بہن بیٹی کو دنیا کے سامنے یہ سب کچھ کسی مصروف شاہراہ پر کرنے کی اجازت دے گا کیا؟؟؟
پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور یہاں صرف قرآن کا قانون چلے گا. یہ بات آئین کی پہلی دو سطروں میں لکھی ہے
یہاں کوئی اگر مگر نہیں چلے گا . پیریڈ
جس کو رہنا ہے یہاں رہے ورنہ جہاں اس کو اس فحاشی کی اجازت ہو تشریف لے جائے . کس نے روکا ہے ؟؟؟​
یاد رکھو، ہر کوئی تمہاری طرح نہیں ہوتا
البتہ
قادیانیوں نے قادیانیت کے پھیلاؤ اور تبلیغِ مرزائیت میں اپنی عورتوں کو استعمال کیا۔
آج بھی ربوے سے ہر صبح قادیانی عورتیں اپنے مشن کی تکمیل میں بسوں اور لاریوں میں سوار ہو جاتی ہیں اور مرد مسافروں کو اپنی طرف متوجہ کر کے گھیرتی ہیں اور بالآخر انہیں مرزائی بنا کر دم لیتی ہیں۔ اس تبلیغ کے نتیجے میں جو لڑکے پیدا ہوتے ہیں انہیں ہومیو پیتھک قسم کا ڈاکٹر بنا کر واپس معاشرے میں بھیج دیا جاتا ہے اور عورتوں کو "تبلیغی دھندے" کیلئے استعمال کیا جاتا ہے، یوں یہ سلسلہ پچھلی صدی سے جاری ہے۔

لو، میں بھی کسے بتانے بیٹھ گیا جو خود اس "تبلیغی دھندے" کی پیداوار ہے۔
 

Will_Bite

Chief Minister (5k+ posts)
پاکستان میں خواتین، نابالغ بچوں اور بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے، آئے روز کوئی نہ کوئی بچہ یا کوئی نہ کوئی خاتون کسی نہ کسی جنسی درندے کی ہوس کا شکار بنی ہوتی ہے۔ لاہور میں موٹروے پر کھڑی گاڑی سے اتار کر خاتون کو اسکے بچوں کے سامنے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا واقعہ تو انتہائی اندوہناک ہے۔ حسبِ سابق کم عقل پاکستانی قوم ایک ہی گردان کررہی ہے، سرعام پھانسی پرلٹکادو، سنگسار کردو۔۔ یہ طریقہ غصے کو ٹھنڈا کرنے کے کام تو آسکتا ہے، لیکن اس سے مسئلہ حل ہونے والا نہیں۔ ہمیں مسئلے کی جڑ پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ جنسی فعل بھوک اور پیاس کی طرح انسان کی فطری ضرورت ہے اور اس کو دبانے سے ویسے ہی مسائل پیدا ہوتے ہیں جیسے اگر کسی معاشرے پر بھوک اور پیاس مسلط کردی جائے تو وہ بغاوت پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔

سیکس ایک حیوانی جذبہ ہے اور انسان پر جب جنسی جذبات کا غلبہ ہوتا ہے تو اس وقت وہ انسان نہیں ایک جانور ہوتا ہے۔ اگرکسی معاشرے پر اس کی جنسی ضرورت پورا کرنے کی راہ میں رکاوٹیں حائل کی جائیں اور غیر ضروری پابندیاں عائد کی جائیں تو لامحالہ طور پر اس معاشرے کے لوگ حیوانی حرکات پر اتر آتے ہیں۔ پاکستان میں انسان کی جنسی ضرورت کو غیر ضروری طور پر دبایا جاتا ہے، بغیر شادی کے سیکس کو انتہائی غلط سمجھا جاتا ہے، نہ صرف معاشرہ، بلکہ ریاست بھی مرد اور عورت کے ذاتی تعلقات کے بیچ میں مداخلت کرتی ہے، حدود آرڈنینس جیسے جاہلانہ قوانین اس معاشرے پر مسلط کئے ہوئے ہیں۔ اگر کوئی مرد اور عورت، لڑکا لڑکی اپنی مرضی سے ایک دوسرے سے جنسی تعلقات قائم کرتے ہیں تو کسی بھی دوسرے تیسرے شخص کو یا ریاست کو اس سے سروکار نہیں ہونا چاہیے۔ پولیس کو یا کسی بھی محکمے کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی گاڑی میں، کسی پارک میں یا کسی ہوٹل میں داخل ہوکر لوگوں کے ذاتی معاملات میں دخل دیں۔ مغربی ممالک نے اس مسئلے کو بہت پہلے سمجھ کر اس کا حل نکال لیا تھا کہ لوگوں کو انفرادی اور ذاتی معاملات میں آزاد چھوڑ دیا، لوگوں کے مذہب کو پرائیوٹ مان لیا، لوگوں کے جنسی تعلقات کو ان کی جائز اور ناگزیر ضرورت مان کر اس پر عائد غیر ضروری پابندیاں ختم کردیں اور اب صورتحال یہ ہے کہ امریکہ، کینیڈا اور یوکے میں تو میں عورت اکیلی باہر نکلنے پر خود کو غیر محفوظ محسوس نہیں کرتی، جبکہ پاکستان میں عورت باہر نکلے تو پورے معاشرے کی نظریں اس کے بدن کا طواف کرتی ہیں، عورت تو چھوڑیئے، اب تو چھوٹے چھوٹے بچے بھی اس معاشرے میں غیر محفوظ ہیں۔ ذرا اس چودہ پندرہ سالہ لڑکے کا انٹرویو ملاحظہ کریں، اس نے سات سالہ بچی کا ریپ کرکے اس کو قتل کردیا۔



کیا یہ شکل سے کوئی درندہ لگتا ہے؟ ہم اسے پتھر مار مار کر یا سرعام پھانسی پرلٹکا کر اپنے غصیلے جذبات کو راحت پہنچا بھی لیں، مگر کیا اس سے مسئلہ حل ہوجائے گا؟ کتنوں کو پھانسی پر لٹکائیں گے؟ ہمیں مسئلے کا روٹ کاز سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جنسی گھٹن کی وجہ سے پورا معاشرہ نفسیاتی مریض بنتا جارہا ہے، لوگ انسانوں سے حیوان بنتے جارہے ہیں۔ اگر اس چودہ پندرہ سالہ لڑکے کو اپنی ہم عمر لڑکی سے آزادانہ جنسی اختلاط کی سہولت میسر ہوتی تو کیا یہ اپنے حیوانی جذبات سے مغلوب ہوکر اس معصوم بچی کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتا؟ ہمیں خود کو فرسودہ سوچ سے نکالنا ہوگا، سیکس انسان کی بنیادی اور اہم ضرورت ہے، اس کو شادی کے ساتھ نتھی کرنا انتہائی احمقانہ اور خطرناک رویہ ہے۔

ایک اور غلط فہمی ہے جس کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ جس کی شادی ہوجائے اس کی جنسی ضرورت پوری ہونے کا سامان ہوگیا۔ ایسا بالکل نہیں ہے، کیونکہ ہمارے ہاں جوائنٹ فیملی سسٹم ، چھوٹے گھروں اور بے دریغ آبادی کی وجہ سے شادی شدہ جوڑے بھی پوری طرح اپنی جنسی طلب پوری نہیں کرپاتے۔ جنسی ضرورت پوری کرنے ذہنی سکون اور خاموش ماحول ضروری ہے۔ جب پانچ مرلے کے گھر میں کمرے کے ساتھ کمرہ ٹھکا ہو اور گھر میں تین چار شادی شدہ جوڑے رہتے ہیں، ہر جوڑا خوف اور جلد بازی کے عالم میں دم سادھ کر اپنی جنسی ضرورت پوری کرے، ایک سال بعد بچوں کی آمد ہوجائے اور پھر یہ جائز ضرورت بھی چوری چھپے کا کھیل بن جائے تو ایسے میں جنسی تسکین کیا خاک ملے گی۔ ہم نے انسان کی اس اہم ضرورت کو اتنا دبا دیا ہے کہ ذہنی طور پر ہمارا معاشرہ پوری طرح انتشار اور خلفشار کا شکار ہوچکا ہے، ہم پر تحقیق، جستجو اور تخلیق کے دروازے بند ہوچکے ہیں، کیونکہ ہم نے اپنے معاشرے کو بنیادی انسانی ضروریات کے چکر سے ہی نہیں نکلنے دیا، جس شخص کو جنسی تسکین حاصل نہ ہو، اسکا ذہن کسی قسم کے تخلیقی کام کے قابل نہیں رہتا، اس کے ذہن پر ہر وقت عورت سوار رہتی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ہر قسم کے نئے آئیڈیاز، دریافتیں اور ایجادات یورپ اور ان معاشروں سے آرہی ہیں جہاں لوگوں کو جنسی اور فکری آزادی میسر ہے۔۔ سوچیے اور بار بار سوچیے کہ سوچنے پر پابندی نہیں۔
India is far more 'liberal' than Pakistan. Yet it is considered the rape capital of the world. US is even more liberal. Situation is equally bad.

Lets not try to escape from facts under the guise of 'jinsi ghuttan'.
 

Tit4Tat

Senator (1k+ posts)
India is far more 'liberal' than Pakistan. Yet it is considered the rape capital of the world. US is even more liberal. Situation is equally bad.

Lets not try to escape from facts under the guise of 'jinsi ghuttan'.

agreed
But this ghutan has other impacts on our society
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں