مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کے 10 مقاصد

سائنسدان

Senator (1k+ posts)
مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے مقاصد۔۔ سائنسدان کے قلم سے


مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کے مقاصد کیا ہیں؟ کیا مولانا فضل الرحمان کو پاکستان سے بہت پیار ہے؟ انکے آباؤاجداد تو پاکستان کو مانتے ہی نہیں تھے وہ پاکستان کو ناپاکستان اور قائداعظم کو کافر اعظم کہتے تھے اور مولانا کے والد تو کہتے تھے کہ شکر ہے کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں تھے۔

آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کے مقاصد کیا ہیں؟ وہ آزادی مارچ کی آڑ میں کس کی آزادی چاہتے ہیں؟

پہلا مقصد: عمران خان کو اقتدار سے فارغ کرواکر اپنے جذبات کی تسکین کیونکہ عمران خان نے مولانا فضل الرحمان سے پہلے خیبرپختونخوا چھینا۔۔ پھر عمران خان اور انکی جماعت کے دو ایم این ایز نے مولانا فضل الرحمان کو تین حلقوں سے شکست دیکر اسمبلی سے باہر کردیا پھر عمران خان کی جماعت کے ڈاکٹرعارف علوی مولانا فضل الرحمان کو صدارتی الیکشن میں ہراکر خود صدر بن گئے اور مولانا فضل الرحمان ہاتھ ملتے رہ گئے۔ پھر ڈپٹی اسپیکر کے الیکشن میں عمران خان کی جماعت کے قاسم سوری مولانا فضل الرحمان کے بیٹے کو ہراکر خود ڈپٹی اسپیکر بن گئے۔۔ پھر عمران خان کی جماعت نے صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام کرائی۔

دوسرا مقصد: آصف زرداری کو منی لانڈرنگ کیسز سے بچانا۔۔ جو اسی صورت میں ممکن ہوسکتا ہے اگر عمران خان کی حکومت گرجائے

تیسرا مقصد: نوازشریف کو رہائی دلوانا جو اسی صورت میں ہی ممکن ہے اگر عمران خان اقتدار سے ہٹ جائے

چوتھا مقصد: مولانا فضل الرحمان کا چوتھا مقصد عوام اور میڈیا کی توجہ کشمیر سے ہٹانا تھا۔۔ آپ خود ہی دیکھ لیں جب سے مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کا اعلان ہوا ہے تب سے کشمیر کہیں غائب ہوگیا ہے۔ میڈیا کشمیر کا ذکر نہیں کرتا۔ ہر وقت مولانا فضل الرحمان کا دھرنا ہی میڈیا پر ڈسکس ہوتا رہتا ہے۔نریندرمودی کو تو مولانا فضل الرحمان کاشکر گزار ہونا چاہئے اور مولانا فضل الرحمان کے پیر دھوکر پینے چاہئیں

پانچواں مقصد: اپنی جماعت کے رہنماؤں اکرم درانی اور دیگر رہنماؤں کو نیب کے کرپشن کیسز سے بچانا

چھٹا مقصد: اپنے بیٹے کا مستقبل محفوظ کرنا۔ اگر مولانا فضل الرحمان کل مرجائے تو جماعت کا کیا بنے گا؟ مولانا فضل الرحمان کو اسکی بھی فکر ہے۔ مولانا عطاء الرحمان اور سوتیلے بھائی مولانا لطف الرحمان اس قابل نہیں کہ وہ جماعت کو سنبھال سکیں اور نہ ہی انکا بیٹا اسلئے مولانا صاحب انکا مستقبل محفوظ کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ انکے بعد انکے بچے انکی وراثت کو بیٹھ کر کھائیں

ساتواں مقصد: مولانا فضل الرحمان کا یہ دھرنا سپانسرڈ ہے۔جس میں بھارتی اور غیرملکی قوتیں بھی شامل ہیں لبرل حضرات بھی شامل ہیں، آصف زرداری اور نوازشریف کی جماعت بھی شامل ہے۔ کچھ عمران خان مخالف میڈیا گروپس اور کاروباری حضرات بھی شامل ہیں۔ انہی کے انٹرسٹس کو محفوظ بنانے کیلئے مولانا فضل الرحمان دھرنا دے رہے ہیں ۔

آٹھواں مقصد: حکومت کو مدارس ریفارمز سے روکنا ۔ کیونکہ اگر مدارس ریفارمز ہوجاتی ہیں تومولانا فضل الرحمان مدارس کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہیں کرسکے گا نہ مدارس سے طلباء دھرنوں اور جلسوں میں لاسکے گا اور نہ ہی انکے فنڈز پر عیاشی کرسکے گا۔

نواں مقصد: مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کا ایک مقصد ملک میں انتشار پھیلانا اور خانہ جنگی کی صورتحال پیدا کرنا ہے اور وہی حالات پیدا کرنا ہیں جو مصر، لیبیا، شام ، عراق میں پیدا ہوئے ، غیرملکی قوتوں کو عمران خان کی اقوام متحدہ میں اسلام اور کشمیر پر کی گئی تقریر ناگوار گزری ہے۔امریکہ اور یورپ نے عمران خان کے بیان "ہمارا پیسہ آپکے پاس پڑا ہے۔ ہمارے لوگ منی لانڈرنگ کرکے پیسہ آپکے پاس رکھتے ہیں " کو بہت سنجیدہ لیا ہے کیونکہ یہ ممالک غریب ملکوں کا استحصال کرکے ہی چلتے ہیں۔ دوسرا بھارت کشمیر ایشو پر تلملارہا ہے لیکن اب مولانا کے آزادی مارچ پر خوش ہے کیونکہ اس نے پاکستان کی توجہ کشمیر سے ہٹادی ہے۔ تیسرا عمران خان نے اسلاموفوبیا کا تذکرہ کرکے امریکہ کے سینے پر مونگ دل دئیے ہیں کیونکہ ان کی دہشتگردی کے خلاف نام نہاد جنگ کا محور ہی اسلاموفوبیا تھا۔ چوتھا عمران خان کی ایران، سعودی عرب ثالثی کی پیشکش ہے جسکی وجہ سے جنگ کا ماحول سرد ہونے کی وجہ سے امریکہ اپنا اسلحہ نہیں بیچ پائے گا۔پانچواں پاکستانی فسادی لبرلز ہیں جنہیں عمران خان خونی لبرلز کہتے ہیں جو پاکستان میں بس خون خرابہ اور فساد ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔

دسواں مقصد: مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کا سب سے بڑا مقصد اقتدار میں اپنا حصہ وصول کرنا ہے۔ اگر مولانا فضل الرحمان کے بیٹے کو کشمیر کمیٹی یا تگڑا عہدہ مل جائے۔ کسی رہنما کو ڈپٹی چئیرمین سینٹ کا عہدہ مل جائے۔ دو تین وزارتیں مل جائیں۔ خود وفاقی مشیر بن جائے تو مولانا فضل الرحمان دھرنا ختم کردیں اور وسیع تر قومی مفاد میں اپنا دھرنا ختم کرکے حکومت کا حصہ بن کر اقتدار انجوائے کریں گے اور اس صورت میں مولانا فضل الرحمان آصف زرداری، نوازشریف پر کرپشن کیسز بھی بھول جائیں گے اور مولانا پر کی گئی ساری انویسٹمنٹ دھری کی دھری رہ جائے گی۔
 
Advertisement
Sponsored Link

Latest Blogs Featured Discussion