مولانا فضل الرحمان کیساتھ روندی

Sirphira

Minister (2k+ posts)

بچپن میں ایسے ہوتا تھا کرکٹ کھیلتے ہوئے کوئی لڑکا کرکٹ کھیلتے ہوئے پہلی ہی گیندپر آؤٹ ہوجاتا تھا اور پھر رونا شروع کردیتا تھا کہ میرے ساتھ روندی ہوئی ہے یہ تو ٹرائی بال تھی۔۔ اسکی نالائقی دیکھ کر باؤلر کہتا تھا کہ چلو ایک باری اور لے لو۔۔ وہ پھر دوسری گیند پر آؤٹ ہوجاتا تھا تو پھر روندی مارنے کا رونا روتا تھا ۔۔ اور پھر بلاپھینک کر کہتا تھا کہ جاؤ! میں نے نہیں کھیلنا۔۔ میرے ساتھ روندی ماری گئی ہے

مولانا کی مثال بھی اس بچے جیسی ہے جو آؤٹ ہونے پر روندی کا رونا روتا ہے۔ مولانا کہتے ہیں کہ عمران خان استعفیٰ دے اور الیکشن کرائے۔ اگر عمران خان الیکشن جیت جائے تو پھر الیکشن کرائے اور اس وقت تک الیکشن کرواتا رہے جب تک میں جیت نہ جاؤں۔۔ ڈاکٹر دانش نے مولانا فضل الرحمان سے سوال کیا کہ اگر عمران خان استعفیٰ دیدے تو پھر الیکشن ہوں اور عمران خان دوبارہ دوتہائی لیکر آجائے تو پھر آپ کیا کریں گے؟ جس پر مولانا فضل الرحمان کا جواب تھا کہ میں پھر دھرنا دوں گا اور مطالبہ کروں گا کہ دوبارہ الیکشن کرائے جائیں۔۔

مولانا فضل الرحمان یہ رونا تو رورہے ہیں کہ انکے ساتھ روندی (دھاندلی ) ہوئی ہے لیکن یہ نہیں بتارہے کہ انکے ساتھ دھاندلی کس قسم کی ہوئی ہے؟ انکے پاس دھاندلی کا ثبوت کیا ہے؟ دھاندلی میں کردار کس کا تھا؟ کیا نگران پنجاب حکومت نے دھاندلی کروائی؟ مولانا کا تو پنجاب میں ووٹ بنک ہی نہیں ، نہ کوئی سیٹ ہے تو پھر دھاندلی ہوئی کہاں؟ خیبرپختونخوا میں پشاور ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس دوست محمد نگران وزیراعلیٰ تھے جن پر الزام لگتا رہا کہ انکا تعلق جے یو آئی ف سے ہے اور وہ مولانا کو فیور کررہےہیں۔ سندھ میں تو مولانا کے تقریبا سارے امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوئی ہیں اور پیپلزپارٹی کو اکثریت ملی ہے کیا وہاں پیپلزپارٹی نے مولانا کیساتھ دھاندلی کی ہے؟ بلوچستان میں تو مولانا کو زیادہ سیٹیں ملی ہیں۔ مولانا کے امیداروں نے زیادہ تر سیٹیں محمود خان اچکزئی اوراسکے امیدواروں کے خلاف لی ہیں اور اچکزئی بھی دھاندلی کے خلاف مولانا کے کنٹینر پر ساتھ کھڑے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ مولانا کیساتھ دھاندلی ہوئی کہاں؟ اگر دھاندلی خیبرپختونخوا میں ہوئی ہے تو مولانا کیوں نہیں کہہ رہے کہ خیبرپختونخوا حکومت انہیں ملنے والی تھی ۔ وہ محمود خان کے بھی استعفے کا مطالبہ کیوں نہیں کررہے؟ مولانا نے تین سیٹوں سے الیکشن لڑا۔ جن میں دو ڈیرہ اسماعیل خان کی تھیں، ایک سیٹ علی امین گنڈاپور انکے خلاف جیت گئے۔ دوسری سیٹ شیخ یعقوب انکے خلاف جیت گئے۔ تیسری سیٹ بنوں کی تھی جو وزیراعظم عمران خان مولانا کو ہرا کر جیت گئے۔ انکے صاحبزادے مفتی اسعدمحمود ٹانک سے تحریک انصاف کی مقامی قیادت کے اختلافات کی وجہ سے جیت گئے۔ اگر داور خان کنڈی آزاد کھڑا نہ ہوتا یا تحریک انصاف کے ٹکٹ پر کھڑا ہوتا تو مولانا کے صاحبزادے یہ سیٹ بھی ہارجاتے۔


 
Advertisement
Sponsored Link

Latest Blogs Featured Discussion اردوخبریں