ممنوعہ فنڈنگ کیس سے ن لیگ اور پی ڈی ایم کو کیا ملا؟

shehbazii11.jpg


ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد تحریک انصاف پر س فارن فنڈڈ جماعت ہونےکا ٹیگ ختم ہوگیا ، الیکشن کمیشن کے فیصلے میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ تحریک انصاف کو ممنوعہ فنڈنگ ہوئی ہے اور عمران خان کا ڈیکلئیر یشن غلط تھا لیکن سوال یہ ہے کہ ممنوعہ فنڈنگ کیس سے پی ڈی ایم اور ن لیگ کو کیا ملا؟

اکثر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنانے کا مقصد پی ڈی ایم کو بیانیہ بنانے کا موقع دینا تھا کہ دیکھیں تحریک انصاف فارن فنڈڈ جماعت ہے، وہ اسرائیل، بھارت سے فنڈنگ لیتی ہے۔بعض کا خیال ہے کہ عمران خان کا ڈیکلئیریشن غلط ثابت ہونے کے بعد پی ڈی ایم کو موقع مل گیا ہے کہ وہ عمران خان کو نااہل کرواسکے۔

کیا واقعی پی ڈی ایم کواس فیصلے سے کچھ ملا جس کے لئے انہوں نے الیکشن کمیشن پر دباؤ ڈالا اور الیکشن کمیشن کو عجلت میں فیصلہ کرنا پڑا؟

پی ڈی ایم کو اس فیصلے سے زیادہ سے زیادہ پروپیگنڈا کا موقع ملا ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ اب تک ن لیگی اور پی ڈی ایم رہنما 10 کے قریب پریس کانفرنسز کرچکے ہیں، مریم نواز، شہبازشریف سمیت درجنوں لیگی رہنما سینکڑوں ٹویٹس کرچکے ہیں ، خواجہ آصف، ایاز صادق قومی اسمبلی میں تقاریر کرچکے ہیں لیکن بات نہیں بن رہی۔

پی ڈی ایم یہ بھی تاثر دینے کی کوشش کررہی ہے کہ عمران خان کا بیان حلفی جھوٹا ہے اور وہ صادق اور امین نہیں رہے لیکن تجزیہ کاروں اور قانونی ماہرین کے نزدیک جسے وہ بیان حلفی کہہ رہے ہیں وہ ڈیکلئیریشن ہے ، ڈیکلئیریشن اور بیان حلفی میں بہت فرق ہوتا ہے۔

صحافی عمران وسیم کے مطابق لیکشن کمیشن کے تحریک انصاف ممنوعہ فنڈنگ کیس فیصلہ میں عمران خان کے بیان حلفی کا نہیں فارم-1 کاذکر ہے، الیکشن کمیشن نے فارم کو غلط قرار دیا جس کےلیے inaccurate کا لفظ استعمال گا۔بوگس یا فیک نہیں لکھا

اس لحاظ سے عمران خان کو نااہل کرنے کا پی ڈی ایم کا یہ کیس بھی کمزور ہوگیا ہے۔جہاں تک الیکشن کمیشن کا فیصلہ وفاقی حکومت کو بھجوانے کی بات ہے تو یہ روٹین میٹر ہے، اگر تحریک انصاف پرپابندی لگوانی ہو تو الیکشن کمیشن لکھ کر دے گا کہ کابینہ اس پر غور کرے کہ اس جماعت پرپابندی لگنی چاہئے یا نہیں

ویسے بھی ن لیگ کو بیانیہ بناتی ہے کچھ عرصہ بعد اسی کو تباہ کردیتی ہے جیسے پہلے ن لیگ نے ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ عمران حکومت گرا کر تباہ کیا، فرح خان، توشہ خانہ کیسز پر بھی ن لیگ نے بیانیہ بنایا جو 17 جولائی کے ضمنی الیکشن میں کام نہ کیا۔

اس فیصلے نے تحریک انصاف کیلئے 3 آسانیاں پیدا کردی ہیں،بیان حلفی والا معاملہ عدالت پہنچا تو عدالت اڑادے گی کیونکہ الیکشن کمیشن ایسے کئی فیصلے پہلے ہی دے چکی ہے۔

اگر تحریک انصاف پر پابندی لگانا ہو تو تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ وفاقی حکومت کو ثابت کرنا ہوگی اور یہ بھی بتانا اور ثابت کرنا ہوگا کہ کونسی ملک دشمن کاروائیاں ہوئیں۔ وفاقی حکومت کے پاس زیادہ سے زیادہ کہنے کو یہی ہے کہ عمران خان نے دھرنا دیا، پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر حملہ کیا اور چینی صدر کو دورہ پاکستان سے روکا

ایل ایل سی والا معاملہ بھی سپریم کورٹ میں اڑ جائے گا کیونکہ یہ امریکی قوانین کے مطابق ایل ایل سی کمپنیاں کھولنا ضروری ہوتی ہیں ورنہ پیسہ منی لانڈرنگ میں شمار ہوگا

ویسے بھی اس فیصلے میں الیکشن کمیشن نے بہت بلنڈر کئے ہیں جیسے ایک پاکستانی اور اسکی اہلیہ رومیتا سیٹھی کی آدھی فنڈنگ جائز اور آدھی غیرقانونی قراردی، عارف نقوی سے متعلق الیکشن کمیشن سے ریمارکس، ایل ایل سی کو کمپنیاں قرار دینا وغیرہ

تحریک انصاف کے خلاف جو انتہائی فیصلہ آسکتا ہے وہ یہی ہے کہ فنڈز ضبط ہوں لیکن سارے نہیں کیونکہ الیکشن کمیشن نے کچھ بھی نام ڈالے ہیں جن کے ثبوت انتہائی کمزور ہیں۔اگر تحریک انصاف الیکشن کمیشن سے سوال کرنا شروع کردے کہ جن لوگوں کو آپ نے غیرملکی قرار دیا انہیں کن ثبوتوں کی بنیاد پر قرار دیا تو یہ الیکشن کمیشن کے لئے سخت امتحان ہوگا اور الیکشن کمیشن جان نہیں چھڑاسکے گا۔
 
Advertisement

Nice2MU

Prime Minister (20k+ posts)
الیکشن کمیشن چول مارے بغیر بھی فیصلہ دے کے ذلیل ہو سکتا تھا اسلیے اس نے چولیں مار کے ہی ذلیل ہونا مناسب سمجھا۔۔
 

Bebabacha

Senator (1k+ posts)
shehbazii11.jpg


ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد تحریک انصاف پر س فارن فنڈڈ جماعت ہونےکا ٹیگ ختم ہوگیا ، الیکشن کمیشن کے فیصلے میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ تحریک انصاف کو ممنوعہ فنڈنگ ہوئی ہے اور عمران خان کا ڈیکلئیر یشن غلط تھا لیکن سوال یہ ہے کہ ممنوعہ فنڈنگ کیس سے پی ڈی ایم اور ن لیگ کو کیا ملا؟

اکثر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنانے کا مقصد پی ڈی ایم کو بیانیہ بنانے کا موقع دینا تھا کہ دیکھیں تحریک انصاف فارن فنڈڈ جماعت ہے، وہ اسرائیل، بھارت سے فنڈنگ لیتی ہے۔بعض کا خیال ہے کہ عمران خان کا ڈیکلئیریشن غلط ثابت ہونے کے بعد پی ڈی ایم کو موقع مل گیا ہے کہ وہ عمران خان کو نااہل کرواسکے۔

کیا واقعی پی ڈی ایم کواس فیصلے سے کچھ ملا جس کے لئے انہوں نے الیکشن کمیشن پر دباؤ ڈالا اور الیکشن کمیشن کو عجلت میں فیصلہ کرنا پڑا؟

پی ڈی ایم کو اس فیصلے سے زیادہ سے زیادہ پروپیگنڈا کا موقع ملا ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ اب تک ن لیگی اور پی ڈی ایم رہنما 10 کے قریب پریس کانفرنسز کرچکے ہیں، مریم نواز، شہبازشریف سمیت درجنوں لیگی رہنما سینکڑوں ٹویٹس کرچکے ہیں ، خواجہ آصف، ایاز صادق قومی اسمبلی میں تقاریر کرچکے ہیں لیکن بات نہیں بن رہی۔

پی ڈی ایم یہ بھی تاثر دینے کی کوشش کررہی ہے کہ عمران خان کا بیان حلفی جھوٹا ہے اور وہ صادق اور امین نہیں رہے لیکن تجزیہ کاروں اور قانونی ماہرین کے نزدیک جسے وہ بیان حلفی کہہ رہے ہیں وہ ڈیکلئیریشن ہے ، ڈیکلئیریشن اور بیان حلفی میں بہت فرق ہوتا ہے۔

صحافی عمران وسیم کے مطابق لیکشن کمیشن کے تحریک انصاف ممنوعہ فنڈنگ کیس فیصلہ میں عمران خان کے بیان حلفی کا نہیں فارم-1 کاذکر ہے، الیکشن کمیشن نے فارم کو غلط قرار دیا جس کےلیے inaccurate کا لفظ استعمال گا۔بوگس یا فیک نہیں لکھا

اس لحاظ سے عمران خان کو نااہل کرنے کا پی ڈی ایم کا یہ کیس بھی کمزور ہوگیا ہے۔جہاں تک الیکشن کمیشن کا فیصلہ وفاقی حکومت کو بھجوانے کی بات ہے تو یہ روٹین میٹر ہے، اگر تحریک انصاف پرپابندی لگوانی ہو تو الیکشن کمیشن لکھ کر دے گا کہ کابینہ اس پر غور کرے کہ اس جماعت پرپابندی لگنی چاہئے یا نہیں

ویسے بھی ن لیگ کو بیانیہ بناتی ہے کچھ عرصہ بعد اسی کو تباہ کردیتی ہے جیسے پہلے ن لیگ نے ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ عمران حکومت گرا کر تباہ کیا، فرح خان، توشہ خانہ کیسز پر بھی ن لیگ نے بیانیہ بنایا جو 17 جولائی کے ضمنی الیکشن میں کام نہ کیا۔

اس فیصلے نے تحریک انصاف کیلئے 3 آسانیاں پیدا کردی ہیں،بیان حلفی والا معاملہ عدالت پہنچا تو عدالت اڑادے گی کیونکہ الیکشن کمیشن ایسے کئی فیصلے پہلے ہی دے چکی ہے۔

اگر تحریک انصاف پر پابندی لگانا ہو تو تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ وفاقی حکومت کو ثابت کرنا ہوگی اور یہ بھی بتانا اور ثابت کرنا ہوگا کہ کونسی ملک دشمن کاروائیاں ہوئیں۔ وفاقی حکومت کے پاس زیادہ سے زیادہ کہنے کو یہی ہے کہ عمران خان نے دھرنا دیا، پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر حملہ کیا اور چینی صدر کو دورہ پاکستان سے روکا

ایل ایل سی والا معاملہ بھی سپریم کورٹ میں اڑ جائے گا کیونکہ یہ امریکی قوانین کے مطابق ایل ایل سی کمپنیاں کھولنا ضروری ہوتی ہیں ورنہ پیسہ منی لانڈرنگ میں شمار ہوگا

ویسے بھی اس فیصلے میں الیکشن کمیشن نے بہت بلنڈر کئے ہیں جیسے ایک پاکستانی اور اسکی اہلیہ رومیتا سیٹھی کی آدھی فنڈنگ جائز اور آدھی غیرقانونی قراردی، عارف نقوی سے متعلق الیکشن کمیشن سے ریمارکس، ایل ایل سی کو کمپنیاں قرار دینا وغیرہ

تحریک انصاف کے خلاف جو انتہائی فیصلہ آسکتا ہے وہ یہی ہے کہ فنڈز ضبط ہوں لیکن سارے نہیں کیونکہ الیکشن کمیشن نے کچھ بھی نام ڈالے ہیں جن کے ثبوت انتہائی کمزور ہیں۔اگر تحریک انصاف الیکشن کمیشن سے سوال کرنا شروع کردے کہ جن لوگوں کو آپ نے غیرملکی قرار دیا انہیں کن ثبوتوں کی بنیاد پر قرار دیا تو یہ الیکشن کمیشن کے لئے سخت امتحان ہوگا اور الیکشن کمیشن جان نہیں چھڑاسکے گا۔
It is simple people dont give a fuck about these bullshit now. What PMLN did in these 4 months is to destroy every thing and that what effects a common man. PMLN still relying on shits like najm shiti, safi, mera kaptan, mir jaffar advices, these scumbags dont care about people and thanks to social media even a street hawker has now more political sense than these jokers on media
 

thinking

Prime Minister (20k+ posts)
Allah swt in Choro.ghaddaro ke plans in ke upper hi ulta denay hain..Beshak mera Allah swt sab se acha plan bana ne wala ha...
 
Sponsored Link