ملنگ اور مجاور

SardarSajidArif

Voter (50+ posts)

جب بھی کسی محفل یا مجلس میں کسی ملنگ کے منہ سے جھاگ نکلنا شروع ہوتی ھے. جب وہ ایک سو گیارہ مرتبہ موٹر وے کا ورد مکمل کرتے کرتے نیم مدہوشی کی کیفیت میں جایا ہی چاہتا ھے. جب ایٹمی دھماکے کا ذکر کرتے کرتے اس کی رنگت چاغی کے پہاڑوں جیسی ہونا شروع ہو جاۓ. جب پیلی ٹیکسی کا وظیفہ جاپتے جاپتے وہ نیلا پیلا ہونے لگے. جب حواس باختہ ہو کر میاں منڈیلا اور نیلسن شریف میں مکسنگ شروع کر دے

جب بھی ، جہاں بھی زرداریت کا پیروکار کوئی مجاور مجھے بھٹو خاندان کا فلسفہ شہادت سمجھا چکتا ھے. جب جمہوریت کا انتقام نامی بلاک بسٹر فلم کی مکمل کہانی ڈائیلاگز سمیت میرے کانوں میں ٹھونسی جا چکی ہوتی ھے . جب این آر او کی بریانی اور مفاہمت کی چٹنی کھلانے کے بعد وسیع تر مفاد کا چورن مجھے پیش کیا جا چکتا ھے. جب اور جس وقت جیالے پر جلالی کیفیت طاری ہونا شروع ہو جاۓ

جب مجھے کیوں نکالا کی تال پر دھمال, اور زندہ ہے بھٹو کے قال پر حال پڑنا شروع ہوجائے. جب وہ دونوں اصحاب مجھے گھیرے میں لے کر نیازی نیازی کی گردان شروع کر دیں. جب ان کے نتھنوں سے دھواں نکلنے لگے اور وہ ہانپتے ہانپتے کانپنا اور کانپتے کانپتے ہانپنا شروع ہوجائیں. اور جب بوریت کی وجہ سے سے مجھے جمائیاں آنا شروع ہو جائیں تو میں ہاتھوں میں دبے سیگرٹ کا آخری کش لینے کے بعد اسے پاؤں تلے مسلتے ھوے سرگوشی کے انداز میں یہ سوال کر کے وہاں سے کھسکنے میں ہی عافیت سمجھتا ہوں. کیونکہ یہ سوال سننے کے بعد وہ ڈرامہ ارطغرل کے کردار الو کی طرح کسی جناتی زبان میں ہرہر اور پھر پھر پکارتے رقص فرمانے کے سوا اور کچھ نہیں کر سکتے


بلاول ، بختاور اور حمزہ ، مریم کی بادشاہان سلامت سے رشتہ داری کے علاوہ اور کون سی صلاحیت ھے کہ جو ایک عام کارکن میں نہیں. پھر جو مقام معرفت انہیں نصیب ہوا وہ عام مریدوں کو کیوں نہیں. حالانکہ بادشاہت میں بھی قطب الدین ایبک اور ایاز بننے کی گنجائش نکل ہی آتی ھے

 
Advertisement
Last edited by a moderator:

Dr Adam

Chief Minister (5k+ posts)
جب بھی
جب بھی کسی محفل یا مجلس میں کسی ملنگ کے منہ سے جھاگ نکلنا شروع ہوتی ھے. جب وہ ایک سو گیارہ مرتبہ موٹر وے کا ورد مکمل کرتے کرتے نیم مدہوشی کی کیفیت میں جایا ہی چاہتا ھے. جب ایٹمی دھماکے کا ذکر کرتے کرتے اس کی رنگت چاغی کے پہاڑوں جیسی ہونا شروع ہو جاۓ. جب پیلی ٹیکسی کا وظیفہ جاپتے جاپتے وہ نیلا پیلا ہونے لگے. جب حواس باختہ ہو کر میاں منڈیلا اور نیلسن شریف میں مکسنگ شروع کر دے

جب بھی ، جہاں بھی زرداریت کا پیروکار کوئی مجاور مجھے بھٹو خاندان کا فلسفہ شہادت سمجھا چکتا ھے. جب جمہوریت کا انتقام نامی بلاک بسٹر فلم کی مکمل کہانی ڈائیلاگز سمیت میرے کانوں میں ٹھونسی جا چکی ہوتی ھے . جب این آر او کی بریانی اور مفاہمت کی چٹنی کھلانے کے بعد وسیع تر مفاد کا چورن مجھے پیش کیا جا چکتا ھے. جب اور جس وقت جیالے پر جلالی کیفیت طاری ہونا شروع ہو جاۓ

جب مجھے کیوں نکالا کی تال پر دھمال, اور زندہ ہے بھٹو کے قال پر حال پڑنا شروع ہوجائے. جب وہ دونوں اصحاب مجھے گھیرے میں لے کر نیازی نیازی کی گردان شروع کر دیں. جب ان کے نتھنوں سے دھواں نکلنے لگے اور وہ ہانپتے ہانپتے کانپنا اور کانپتے کانپتے ہانپنا شروع ہوجائیں. اور جب بوریت کی وجہ سے سے مجھے جمائیاں آنا شروع ہو جائیں تو میں ہاتھوں میں دبے سیگرٹ کا آخری کش لینے کے بعد اسے پاؤں تلے مسلتے ھوے سرگوشی کے انداز میں یہ سوال کر کے وہاں سے کھسکنے میں ہی عافیت سمجھتا ہوں. کیونکہ یہ سوال سننے کے بعد وہ ڈرامہ ارطغرل کے کردار الو کی طرح کسی جناتی زبان میں ہرہر اور پھر پھر پکارتے رقص فرمانے کے سوا اور کچھ نہیں کر سکتے


بلاول ، بختاور اور حمزہ ، مریم کی بادشاہان سلامت سے رشتہ داری کے علاوہ اور کون سی صلاحیت ھے کہ جو ایک عام کارکن میں نہیں. پھر جو مقام معرفت انہیں نصیب ہوا وہ عام مریدوں کو کیوں نہیں. حالانکہ بادشاہت میں بھی قطب الدین ایبک اور ایاز بننے کی گنجائش نکل ہی آتی ھے



حرص کے مارے یہ شریفے اور زردارے سمجھتے ہیں کہ انہیں کبھی موت نہیں آنی کیونکہ ان کے بعد ان کی صورت میں ان کی اولادیں سدا حکمران رہیں گی
لیکن بابا فرید کچھ اور سمجھتے اور فرماتے ہیں

ع

دیکھ فریدا مٹی کھلی --- قبر
مٹی اتے مٹی ڈلی --- لاش
مٹی حسے، مٹی روئے --- انسان
انت مٹی دا مٹی ہوئے



اشعار پنجابی زبان میں ہیں انھیں اسی لہجے میں پڑھا جائے​
 

socrates khan

Politcal Worker (100+ posts)
سیانے ڈرائیورز اکثر کہتے ہیں کہ ملنگ اور بھنگ کے ملاپ سے ایک ایسی ذہنی کفییت وارد ہوتی ہے کہ پھر اس میں شعوری ارتقاء جامد ہو کر
سیاسی آستانوں پر ڈھیر ہو جاتا ہے.. اب یہ ان سیاسی مجاوروں کی مرضی ہے کہ وہ ان فاقہ مستوں کے ہاتھ میں نان قیمہ پکڑائیں یا ست رنگی عقیدت کا بیمہ..

ہم تو راہی ہیں پیار کے.. ہمیں رکنا نہیں... گھبرانا نہیں.. بس دوگام مسافت ہے.. اور منزل بھنگڑے ڈال رہی ہے..
 

mhafeez

Chief Minister (5k+ posts)
استاد جناب کا کہنا ہے کہ جتنی مرضی دلیلیں لے آئیں مگر میں عمران خان کے آستانے سے ہٹنے کو تیار نہیں ، البتہ ملنگ دوسرے ہیں
 

SardarSajidArif

Voter (50+ posts)
استاد جناب کا کہنا ہے کہ جتنی مرضی دلیلیں لے آئیں مگر میں عمران خان کے آستانے سے ہٹنے کو تیار نہیں ، البتہ ملنگ دوسرے ہیں
میری روزی روٹی کا مسئلہ ہے. میں آستانے پر بھنگ کوٹنے نے کا فریضہ سرانجام دیتا ہوں
🤣
 

Moula Jutt

Minister (2k+ posts)
😃😃😃😃

Pujaris ko shoq ho gya hai keh jab tak rozana apni kuttay wali na karwa lein tab tak inhein sukoon nahi milta

انسان سے مجاور۔اور پٹورای بننے کے سخت اور دشوار گزار ذلت آمیز مراحل طے کرنے کے بعد جو نیچ اورننگی غلامانہ پروڈکٹ نکلتی ہے ۔اسے اپنے علاوہ ساری دنیا بغیر کپڑوں کے نظر آتی ہے۔ اب کیا ہے کہ دوسروں کو بیووقف سمجھنے والے خود کتنے بڑے پھدو ہیں خود ہی دیکھ لیں ۔ ویسے آپس کی بات ہے وہ پٹواری اور جہالہ ہی کیا جو روز لتروں کا ناشتہ نہ کرے۔
 
Last edited:

Shah Shatranj

Chief Minister (5k+ posts)
جب ٹیریان اور رحام کی کتاب کے بعد ملک کی تباہی کا منظر نامہ دیکھنے کے بعد بھی ایک کھوتا دماغ طبقہ ایک شیطان کو بھگوان سے کم ماننے پر تیار نہ ہو اور کرپشن کرپشن کی پونک سٹارٹ کر دے تو میں کنی کترنے میں ہی عافیت سمجھتا ہوں کیوں کے یہ ذہنی غلاموں کا ایسا ٹولہ ہے جسے ضیا کی شریعت وجہاد کو بھی ڈیفنڈ کرنا ہے اور مشرف کی سیکولر اور جہاد کے خلاف جہاد کو بھی ڈیفنڈ کرنا ہے . ہم تو ایک نظریہ رکھتے ہیں انہیں بدلتے موسموں کے ساتھ بدلنا ہے افسوس ان گرگٹوں کی زندگی پر
 

SardarSajidArif

Voter (50+ posts)
جب ٹیریان اور رحام کی کتاب کے بعد ملک کی تباہی کا منظر نامہ دیکھنے کے بعد بھی ایک کھوتا دماغ طبقہ ایک شیطان کو بھگوان سے کم ماننے پر تیار نہ ہو اور کرپشن کرپشن کی پونک سٹارٹ کر دے تو میں کنی کترنے میں ہی عافیت سمجھتا ہوں کیوں کے یہ ذہنی غلاموں کا ایسا ٹولہ ہے جسے ضیا کی شریعت وجہاد کو بھی ڈیفنڈ کرنا ہے اور مشرف کی سیکولر اور جہاد کے خلاف جہاد کو بھی ڈیفنڈ کرنا ہے . ہم تو ایک نظریہ رکھتے ہیں انہیں بدلتے موسموں کے ساتھ بدلنا ہے افسوس ان گرگٹوں کی زندگی پر
ضیا کی مجلس عاملہ کے اراکین کے نام آپ کے علم میں ہیں محترم
 

3rd_Umpire

Minister (2k+ posts)

جب بھی کسی محفل یا مجلس میں کسی ملنگ کے منہ سے جھاگ نکلنا شروع ہوتی ھے. جب وہ ایک سو گیارہ مرتبہ موٹر وے کا ورد مکمل کرتے کرتے نیم مدہوشی کی کیفیت میں جایا ہی چاہتا ھے. جب ایٹمی دھماکے کا ذکر کرتے کرتے اس کی رنگت چاغی کے پہاڑوں جیسی ہونا شروع ہو جاۓ. جب پیلی ٹیکسی کا وظیفہ جاپتے جاپتے وہ نیلا پیلا ہونے لگے. جب حواس باختہ ہو کر میاں منڈیلا اور نیلسن شریف میں مکسنگ شروع کر دے

جب بھی ، جہاں بھی زرداریت کا پیروکار کوئی مجاور مجھے بھٹو خاندان کا فلسفہ شہادت سمجھا چکتا ھے. جب جمہوریت کا انتقام نامی بلاک بسٹر فلم کی مکمل کہانی ڈائیلاگز سمیت میرے کانوں میں ٹھونسی جا چکی ہوتی ھے . جب این آر او کی بریانی اور مفاہمت کی چٹنی کھلانے کے بعد وسیع تر مفاد کا چورن مجھے پیش کیا جا چکتا ھے. جب اور جس وقت جیالے پر جلالی کیفیت طاری ہونا شروع ہو جاۓ

جب مجھے کیوں نکالا کی تال پر دھمال, اور زندہ ہے بھٹو کے قال پر حال پڑنا شروع ہوجائے. جب وہ دونوں اصحاب مجھے گھیرے میں لے کر نیازی نیازی کی گردان شروع کر دیں. جب ان کے نتھنوں سے دھواں نکلنے لگے اور وہ ہانپتے ہانپتے کانپنا اور کانپتے کانپتے ہانپنا شروع ہوجائیں. اور جب بوریت کی وجہ سے سے مجھے جمائیاں آنا شروع ہو جائیں تو میں ہاتھوں میں دبے سیگرٹ کا آخری کش لینے کے بعد اسے پاؤں تلے مسلتے ھوے سرگوشی کے انداز میں یہ سوال کر کے وہاں سے کھسکنے میں ہی عافیت سمجھتا ہوں. کیونکہ یہ سوال سننے کے بعد وہ ڈرامہ ارطغرل کے کردار الو کی طرح کسی جناتی زبان میں ہرہر اور پھر پھر پکارتے رقص فرمانے کے سوا اور کچھ نہیں کر سکتے


بلاول ، بختاور اور حمزہ ، مریم کی بادشاہان سلامت سے رشتہ داری کے علاوہ اور کون سی صلاحیت ھے کہ جو ایک عام کارکن میں نہیں. پھر جو مقام معرفت انہیں نصیب ہوا وہ عام مریدوں کو کیوں نہیں. حالانکہ بادشاہت میں بھی قطب الدین ایبک اور ایاز بننے کی گنجائش نکل ہی آتی ھے

جب ٹیریان اور رحام کی کتاب کے بعد ملک کی تباہی کا منظر نامہ دیکھنے کے بعد بھی ایک کھوتا دماغ طبقہ ایک شیطان کو بھگوان سے کم ماننے پر تیار نہ ہو اور کرپشن کرپشن کی پونک سٹارٹ کر دے تو میں کنی کترنے میں ہی عافیت سمجھتا ہوں کیوں کے یہ ذہنی غلاموں کا ایسا ٹولہ ہے جسے ضیا کی شریعت وجہاد کو بھی ڈیفنڈ کرنا ہے اور مشرف کی سیکولر اور جہاد کے خلاف جہاد کو بھی ڈیفنڈ کرنا ہے . ہم تو ایک نظریہ رکھتے ہیں انہیں بدلتے موسموں کے ساتھ بدلنا ہے افسوس ان گرگٹوں کی زندگی پر
بھنگ، اور دھمال کا مرکّب مجاور بیچارے بھی کیا بد قسمت مخلوق ہے ۔ ۔ ۔
پاکستان توڑنے والا زندہ بھٹّو مِلا،، ملک دشمن بھارت کو علیحدگی پسند سکھوں کی لسٹیں دینے والی رانڑی بے نجیر ملی
بمبینو سنیما میں ننگی فلمیں دکھانے والا زرداری ملا،، اور چلتے چلتے نہلے پہ دھلا الماس بوبی کا جانشین بلو رانی کی غلامی میں آگئے
 

Shah Shatranj

Chief Minister (5k+ posts)
بھنگ، اور دھمال کا مرکّب مجاور بیچارے بھی کیا بد قسمت مخلوق ہے ۔ ۔ ۔
پاکستان توڑنے والا زندہ بھٹّو مِلا،، ملک دشمن بھارت کو علیحدگی پسند سکھوں کی لسٹیں دینے والی رانڑی بے نجیر ملی
بمبینو سنیما میں ننگی فلمیں دکھانے والا زرداری ملا،، اور چلتے چلتے نہلے پہ دھلا الماس بوبی کا جانشین بلو رانی کی غلامی میں آگئے
ہزاروں ایسی باتیں ہوئیں لاکھوں پروپگنڈے بھٹو کے خلاف بنے لیکن جب بھی الیکشن ہوا عوام نے صرف و صرف بھٹو کے نام پر کروڑوں ووٹ ڈالے ... ہائے افسوس عوام کیوں نہیں مان لیتی یہ جھوٹے پروپگنڈے ... بے چارے دن رات ایک کر کے ایک پروپگنڈا بناتے ہیں جو عوام پاش پاش کر دیتی ہے . یہ تو وقت بتائے گا الماس بوبی کون ہے اس وقت تو جو ملک کا وزیراعظم ہے وہ ہی الماس بوبی لگ رہا ہے ... افسوس گرگٹوں کی قسمت پر
 

Shah Shatranj

Chief Minister (5k+ posts)
ضیا کی مجلس عاملہ کے اراکین کے نام آپ کے علم میں ہیں محترم
جو بھی ہوں لیکن آپ کی تحریر کے مطابق آپ اسٹبلشمنٹ سے متاثر ہی لگتے ہیں . اب آپ یہ بھی کہیں گے کہ وفاقی نہیں صدارتی نظام اور اگر صدارتی بھی ناکام ہوا تو پھر خلافت کا قیام ہی اگلا حل ہو گا ملک کے مسائل کا
 

3rd_Umpire

Minister (2k+ posts)
جو بھی ہوں لیکن آپ کی تحریر کے مطابق آپ اسٹبلشمنٹ سے متاثر ہی لگتے ہیں . اب آپ یہ بھی کہیں گے کہ وفاقی نہیں صدارتی نظام اور اگر صدارتی بھی ناکام ہوا تو پھر خلافت کا قیام ہی اگلا حل ہو گا ملک کے مسائل کا
 

SardarSajidArif

Voter (50+ posts)
جو بھی ہوں لیکن آپ کی تحریر کے مطابق آپ اسٹبلشمنٹ سے متاثر ہی لگتے ہیں . اب آپ یہ بھی کہیں گے کہ وفاقی نہیں صدارتی نظام اور اگر صدارتی بھی ناکام ہوا تو پھر خلافت کا قیام ہی اگلا حل ہو گا ملک کے مسائل کا
آپ کہیں سے طوطا پکڑیں اور نجومیت کا دھندہ شروع کر دیں. علم نجوم پر آپ کی دسترس نے مجھے بہت متاثر کیا ہے
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں