مریم نواز۔۔ مستقبل کی وزیراعظم پاکستان

gorgias

Chief Minister (5k+ posts)
مریم نواز کو آمدن سے زیادہ اثاثوں کے کیس میں اپنے والد کی اعانت اور جعلی دستاویزات عدالت میں پیش کرنے کے جرم میں سزا ہو چکی ہے ۔اب وہ سزا یافتہ ہے اور آئین کے ارٹیکل 62 اور 63 پر پورا نہیں اترتی۔ یہ بے چاری تو ایک ریفرنس کی مار ہے۔ وزیر اعظم کیسے بنے گی؟
 

zaheer2003

Chief Minister (5k+ posts)
She is a convicted criminal disqualified for any public office.

How she can become a criminal ?

For that she has to get clear from Qazi Faiz Issa in supreme court than can think even.

Phuddo writer
 

Hussain1967

Minister (2k+ posts)
Maryam is a dumb woman. She has never been cross-questioned by interviewers. In Lahore, she gets very favourable media due to her father and uncle. She had a reality check when she went to Quetta the other day to console at the deaths of Hazara Community (IK shoot himself in the foot by not going here at the spiritual orders of his wife). There, she came across a journalist in her presser, who asked her following question. “Maryam sahiba, more than 400 Hazaras were killed during your father’s tenure as PM but he never visited them”. Maryam’s reply was , “I wouldn’t answer political questions,” she then gave microphone to Ahsan Iqbal to rescue her.

Her answer was shit. She is not an Edhi. She is a politician and Vice President of a big political party. How can she refuse to answer political questions?

Even though I don’t like present-day PPP but let me say this that Bilawal is much more intelligent and mature than Maryam Bibi.
Zinda_Rood
 

Modest

Minister (2k+ posts)
Nani 420 is a destructive machine. She successfully destroyed Noora league & her corrupt daddy.
Madre Zillat can become Prime Minister of Heera Mandi, keeping in mind her track record & experience.
 

Whaat

MPA (400+ posts)


چند سال پہلے کی بات ہے عمران خان کے حمایتی یہ چیلنج کرتے نہیں تھکتے تھے کہ ہے کوئی ہمارے لیڈر کی طرح بولنے والا تو سامنے لاؤ، نواز شریف کو چیلنج کئے جاتے تھے کہ وہ بھی امریکی طرز پر انتخابات سے قبل عمران خان کے مقابل آکر ڈیبیٹ کریں۔ نواز شریف کا اس معاملے میں ہاتھ کافی ہلکا ہے اور تقریروں کیلئے انہیں اکثر پرچیوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ مگر یہ بھی ایک دانشمندانہ عمل ہے کہ آپ بلاوجہ منہ سے کچھ بھی اگل دیں اور بعد میں وضاحتیں دیتے پھریں اس سے کہیں بہتر ہے کہ پہلے لکھ لیا جائے اور پھر بولا جائے۔۔ خیر نوازشریف تو عمران خان کے سامنے بیٹھ کر ڈیبیٹ کرنے کی صلاحیت نہ رکھتے تھے، مگر وہ ساری کمی پوری کردی ہے مریم نواز نے۔

مریم نواز نے پچھلے کچھ عرصے میں جس طرح خود کو منوایا ہے اس سے اسٹیبلشمنٹ کے تو چودہ طبق روشن ہوگئے ہیں۔ اور یہ واقعی حیرت کی بات ہے کیونکہ چند سال پہلے تک مریم نواز کسی کو معقول انٹرویو بھی نہیں دے سکتی تھیں، مگر اب پی ڈی ایم کی تحریک میں جس طرح مریم نواز نے چوکے چھکے مارے ہیں، اس سے عمران خان تو مریم نواز کے سامنے بچہ لگنے لگا ہے اور مجھے یقین ہے اگر مریم نواز کے سامنے عمران خان کو بٹھا دیا جائے تو اس کے چھکے چھوٹ جائیں گے۔۔ مریم نواز کی پہلی تقریر کے بعد عمران خان نے جواب دینے کی کوشش کی تھی جس میں اس نے مریم نواز کو نانی کہا، مگر اگلے ہی دن مریم نواز نے عمران خان کو وہ دھلائی کی کہ اس کے بعد عمران خان کو جرات نہیں ہوئی جواب دینے کی۔۔

کچھ عرصہ پہلے تک نوازشریف، زرداری اور عمران خان کے بعد پاکستان میں لیڈرشپ کا قحط نظر آرہا تھا، یہ سب بوڑھے ہوچکے ہیں اور اب سیاست میں کوئی متحرک کردار ادا کرنے کے قابل نہیں۔ پاکستانی عوام کی اکثریت چونکہ موروثی سیاست کو ہی قبول کرتی ہے اور چاہے کسی پارٹی کا لیڈر ہو یا معمولی ایم این اے، ان کے بعد ان کی اولاد کو ہی بطور اگلا لیڈر قبول کیا جاتا ہے اور جمہوری روایات کی کوئی قدر نہیں کہ قابلیت کی بنا پر کوئی آگے آئے، اس لئے ٹاپ لیڈرشپ میں مستقبل کا لیڈر کون ہوگا، اس کیلئے بہت محدود سٹاک دستیاب ہے، یعنی نواز شریف کے بعد ان کی اولاد، بے نظیر کے بعد ان کی اولاد اور عمران خان کے بعد کوئی بھی نہیں۔ میری نظر میں پارٹی لیڈرشپ میں بھی موروثیت کی بجائے جمہوری طرزِ انتخاب اپنایا جانا چاہئے، مگر کیا کہا جائے پاکستانی عوام کا، سطحی ذہنیت اور اپنے اپنے لیڈرز پر جان دینے والی عوام یہ کب برداشت کرسکتی ہے۔۔ پہلے تو صرف شریف فیملی اور بھٹو فیملی آسیب کی طرح پاکستانی سیاست پر مسلط تھے، مگر اب نیا فرقہء عمرانیہ بھی وجود میں آچکا ہے جو جیالیوں اور لیگیوں سے بڑھ کر اپنے لیڈر کی پوجا کرتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان میں جمہوری روایات کیسے پنپ سکتی ہیں۔ خیر یہ تو ضمنی بات ہوگئی، اصل مدعا یہ ہے کہ چند سال پہلے نواز شریف،بے نظیر یا شہباز شریف کی اولاد میں سے کوئی بھی اس قابل نہ تھا کہ وہ مستقبل کا لیڈر قرار پاسکتا، اسی لئے اسٹیبشلمنٹ نے عمران خان کو آگے لاکر پاکستان میں بھی چائنا کی طرح ون پارٹی سسٹم لانا چاہا تاکہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا بستر گول کردیا جائے، اور صرف عمرانی گھوڑے پرسواری کرکے ملک کو چلایا جائے، مگر ہوا یہ کہ گھوڑا توقع سے زیادہ نکما نکلا۔۔۔ اور سب سے اہم بات جو ہماری تحریر کا مرکزی نکتہ بھی ہے کہ مریم نواز تھوڑے ہی عرصہ میں اچانک ایک دبنگ لیڈر کے طور پر سامنے آگئیں۔

اب یہ اعتراض تو اپنی موت آپ مرچکا ہے کہ پاکستان کے پاس کوئی مستقبل کا لیڈر موجود نہیں ہے، کیونکہ فی الحال مریم نواز سے زیادہ بااعتماد اور قائدانہ صلاحیتیں رکھنے والا لیڈر پاکستان میں موجود نہیں۔ دوسری بات یہ کہ مریم نواز ایک خاتون ہیں اور یہ پاکستان کیلئے اعزاز کی بات ہوگی کہ بےنظیر کے بعد مریم نواز کی صورت میں ایک اور خاتون وزیراعظم پاکستان کی مستند اقتدار پر براجمان ہوں گی۔۔ عمران خان کے دن گنے جا چکے ہیں، یہ حد سے زیادہ نا اہل ثابت ہوا ہے، ہوسکتا ہے مریم نواز بھی نا اہل ثابت ہو، مگر پاکستان کے پاس فی الوقت یہی آپشن دستیاب ہے۔۔ اور یہ بات روزنِ روشن کی طرح واضح نظر آرہی ہے کہ بہت جلد مریم نواز وزارتِ عظمیٰ کی کرسی پر براجمان ہونے والی ہیں۔۔

Bass mujhe bhi yeh wala Nasha karna hai ab....
 

Onlypakistan

Chief Minister (5k+ posts)
WAQT K SATH BILO RANI ,NANI 420 AUR FAZLU PAKISTAN MAE SIRF ZALEEL O KHAWAR HI HON GAE .
SIASATDANO K SAREY BACHEY BI CORRUPT HAEN
 

Okara

Chief Minister (5k+ posts)
مریم نواز کو آمدن سے زیادہ اثاثوں کے کیس میں اپنے والد کی اعانت اور جعلی دستاویزات عدالت میں پیش کرنے کے جرم میں سزا ہو چکی ہے ۔اب وہ سزا یافتہ ہے اور آئین کے ارٹیکل 62 اور 63 پر پورا نہیں اترتی۔ یہ بے چاری تو ایک ریفرنس کی مار ہے۔ وزیر اعظم کیسے بنے گی؟
Once her father was convicted from highest court of country. Above all he requested presidential pardon which was given to him by Rafiq Taraa and yet a full bench set aside case after 10 years. Not a single example from whole world where a convicted can leave country. So Pakistan is a unique country where anything possible.
 

A.jokhio

Senator (1k+ posts)


چند سال پہلے کی بات ہے عمران خان کے حمایتی یہ چیلنج کرتے نہیں تھکتے تھے کہ ہے کوئی ہمارے لیڈر کی طرح بولنے والا تو سامنے لاؤ، نواز شریف کو چیلنج کئے جاتے تھے کہ وہ بھی امریکی طرز پر انتخابات سے قبل عمران خان کے مقابل آکر ڈیبیٹ کریں۔ نواز شریف کا اس معاملے میں ہاتھ کافی ہلکا ہے اور تقریروں کیلئے انہیں اکثر پرچیوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ مگر یہ بھی ایک دانشمندانہ عمل ہے کہ آپ بلاوجہ منہ سے کچھ بھی اگل دیں اور بعد میں وضاحتیں دیتے پھریں اس سے کہیں بہتر ہے کہ پہلے لکھ لیا جائے اور پھر بولا جائے۔۔ خیر نوازشریف تو عمران خان کے سامنے بیٹھ کر ڈیبیٹ کرنے کی صلاحیت نہ رکھتے تھے، مگر وہ ساری کمی پوری کردی ہے مریم نواز نے۔

مریم نواز نے پچھلے کچھ عرصے میں جس طرح خود کو منوایا ہے اس سے اسٹیبلشمنٹ کے تو چودہ طبق روشن ہوگئے ہیں۔ اور یہ واقعی حیرت کی بات ہے کیونکہ چند سال پہلے تک مریم نواز کسی کو معقول انٹرویو بھی نہیں دے سکتی تھیں، مگر اب پی ڈی ایم کی تحریک میں جس طرح مریم نواز نے چوکے چھکے مارے ہیں، اس سے عمران خان تو مریم نواز کے سامنے بچہ لگنے لگا ہے اور مجھے یقین ہے اگر مریم نواز کے سامنے عمران خان کو بٹھا دیا جائے تو اس کے چھکے چھوٹ جائیں گے۔۔ مریم نواز کی پہلی تقریر کے بعد عمران خان نے جواب دینے کی کوشش کی تھی جس میں اس نے مریم نواز کو نانی کہا، مگر اگلے ہی دن مریم نواز نے عمران خان کو وہ دھلائی کی کہ اس کے بعد عمران خان کو جرات نہیں ہوئی جواب دینے کی۔۔

کچھ عرصہ پہلے تک نوازشریف، زرداری اور عمران خان کے بعد پاکستان میں لیڈرشپ کا قحط نظر آرہا تھا، یہ سب بوڑھے ہوچکے ہیں اور اب سیاست میں کوئی متحرک کردار ادا کرنے کے قابل نہیں۔ پاکستانی عوام کی اکثریت چونکہ موروثی سیاست کو ہی قبول کرتی ہے اور چاہے کسی پارٹی کا لیڈر ہو یا معمولی ایم این اے، ان کے بعد ان کی اولاد کو ہی بطور اگلا لیڈر قبول کیا جاتا ہے اور جمہوری روایات کی کوئی قدر نہیں کہ قابلیت کی بنا پر کوئی آگے آئے، اس لئے ٹاپ لیڈرشپ میں مستقبل کا لیڈر کون ہوگا، اس کیلئے بہت محدود سٹاک دستیاب ہے، یعنی نواز شریف کے بعد ان کی اولاد، بے نظیر کے بعد ان کی اولاد اور عمران خان کے بعد کوئی بھی نہیں۔ میری نظر میں پارٹی لیڈرشپ میں بھی موروثیت کی بجائے جمہوری طرزِ انتخاب اپنایا جانا چاہئے، مگر کیا کہا جائے پاکستانی عوام کا، سطحی ذہنیت اور اپنے اپنے لیڈرز پر جان دینے والی عوام یہ کب برداشت کرسکتی ہے۔۔ پہلے تو صرف شریف فیملی اور بھٹو فیملی آسیب کی طرح پاکستانی سیاست پر مسلط تھے، مگر اب نیا فرقہء عمرانیہ بھی وجود میں آچکا ہے جو جیالیوں اور لیگیوں سے بڑھ کر اپنے لیڈر کی پوجا کرتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان میں جمہوری روایات کیسے پنپ سکتی ہیں۔ خیر یہ تو ضمنی بات ہوگئی، اصل مدعا یہ ہے کہ چند سال پہلے نواز شریف،بے نظیر یا شہباز شریف کی اولاد میں سے کوئی بھی اس قابل نہ تھا کہ وہ مستقبل کا لیڈر قرار پاسکتا، اسی لئے اسٹیبشلمنٹ نے عمران خان کو آگے لاکر پاکستان میں بھی چائنا کی طرح ون پارٹی سسٹم لانا چاہا تاکہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا بستر گول کردیا جائے، اور صرف عمرانی گھوڑے پرسواری کرکے ملک کو چلایا جائے، مگر ہوا یہ کہ گھوڑا توقع سے زیادہ نکما نکلا۔۔۔ اور سب سے اہم بات جو ہماری تحریر کا مرکزی نکتہ بھی ہے کہ مریم نواز تھوڑے ہی عرصہ میں اچانک ایک دبنگ لیڈر کے طور پر سامنے آگئیں۔

اب یہ اعتراض تو اپنی موت آپ مرچکا ہے کہ پاکستان کے پاس کوئی مستقبل کا لیڈر موجود نہیں ہے، کیونکہ فی الحال مریم نواز سے زیادہ بااعتماد اور قائدانہ صلاحیتیں رکھنے والا لیڈر پاکستان میں موجود نہیں۔ دوسری بات یہ کہ مریم نواز ایک خاتون ہیں اور یہ پاکستان کیلئے اعزاز کی بات ہوگی کہ بےنظیر کے بعد مریم نواز کی صورت میں ایک اور خاتون وزیراعظم پاکستان کی مستند اقتدار پر براجمان ہوں گی۔۔ عمران خان کے دن گنے جا چکے ہیں، یہ حد سے زیادہ نا اہل ثابت ہوا ہے، ہوسکتا ہے مریم نواز بھی نا اہل ثابت ہو، مگر پاکستان کے پاس فی الوقت یہی آپشن دستیاب ہے۔۔ اور یہ بات روزنِ روشن کی طرح واضح نظر آرہی ہے کہ بہت جلد مریم نواز وزارتِ عظمیٰ کی کرسی پر براجمان ہونے والی ہیں۔۔
Aaooz o billah e minash shaitan er rajeem...
 

waseem137

Senator (1k+ posts)
عنقریب یہ فراڈن پاگل ہونے والی ہے، پٹواری اسکے لیے کوئی پاگل خانہ ڈھونڈیں نا کہ وزارت اعظمی۔
 

asif65

MPA (400+ posts)
عمران خان کو بھی تبرا کرنے کے علاوہ کیا آتا ہے، عمران خان کی ساری سیاست نوازشریف اور زرداری پر تبرا کرتے گزری ہے اور ابھی بھی وہ نوازشریف پر تبرا بھیج بھیج کر کام چلائے ہوئے ہے۔۔ جہاں تک جھوٹوں کی بات ہے تو عمران خان کا پلڑا اس معاملے میں مریم نواز سے کہیں بھاری ہے۔۔ عمران خان کے منہ سے شاید ہی کبھی سچ نکلا ہے ، اب تو خود اسکو پتا نہیں چلتا کہ وہ کس سپیڈ سے جھوٹ بول رہا ہے۔۔

عمران خان وہ سیاسی مسخرہ ہے ۔۔۔۔

جس نے الطاف کو کھڈے لائین لگا کر پاکستانی عوام کو بوریوں بھری لاش بننے سے محروم کر دیا۔۔۔

جس نے زرداری کو کھڈے لائین لگا کر پاکستانی عوام کو ہر ٹھیکے میں ٹین پرسنٹ منافع دینے سے محروم کر دیا۔۔

جس نے نورے نواز کو کھڈے لائین لگا کر پاکستانی عوام کوماڈال ٹاون کی طرح گولیوں سے پھننے سے محروم کر دیا۔۔۔۔

جس نے ڈیزل کو کھڈے لائین لگا کر پاکستانی عوام کو ڈیزل پرمٹ کے عوض بکنے سے محروم کر دیا۔۔۔

دراصل سیاسی مسخرے تو یہ چور لٹیرے ہیں جو ملک و قوم کو لوٹ کر بھی سمجھتے ہیں کہ قوم ان کو دوبارہ اقتدار میں لے کر ائے گی ۔۔۔
 

Will_Bite

Chief Minister (5k+ posts)


چند سال پہلے کی بات ہے عمران خان کے حمایتی یہ چیلنج کرتے نہیں تھکتے تھے کہ ہے کوئی ہمارے لیڈر کی طرح بولنے والا تو سامنے لاؤ، نواز شریف کو چیلنج کئے جاتے تھے کہ وہ بھی امریکی طرز پر انتخابات سے قبل عمران خان کے مقابل آکر ڈیبیٹ کریں۔ نواز شریف کا اس معاملے میں ہاتھ کافی ہلکا ہے اور تقریروں کیلئے انہیں اکثر پرچیوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ مگر یہ بھی ایک دانشمندانہ عمل ہے کہ آپ بلاوجہ منہ سے کچھ بھی اگل دیں اور بعد میں وضاحتیں دیتے پھریں اس سے کہیں بہتر ہے کہ پہلے لکھ لیا جائے اور پھر بولا جائے۔۔ خیر نوازشریف تو عمران خان کے سامنے بیٹھ کر ڈیبیٹ کرنے کی صلاحیت نہ رکھتے تھے، مگر وہ ساری کمی پوری کردی ہے مریم نواز نے۔

مریم نواز نے پچھلے کچھ عرصے میں جس طرح خود کو منوایا ہے اس سے اسٹیبلشمنٹ کے تو چودہ طبق روشن ہوگئے ہیں۔ اور یہ واقعی حیرت کی بات ہے کیونکہ چند سال پہلے تک مریم نواز کسی کو معقول انٹرویو بھی نہیں دے سکتی تھیں، مگر اب پی ڈی ایم کی تحریک میں جس طرح مریم نواز نے چوکے چھکے مارے ہیں، اس سے عمران خان تو مریم نواز کے سامنے بچہ لگنے لگا ہے اور مجھے یقین ہے اگر مریم نواز کے سامنے عمران خان کو بٹھا دیا جائے تو اس کے چھکے چھوٹ جائیں گے۔۔ مریم نواز کی پہلی تقریر کے بعد عمران خان نے جواب دینے کی کوشش کی تھی جس میں اس نے مریم نواز کو نانی کہا، مگر اگلے ہی دن مریم نواز نے عمران خان کو وہ دھلائی کی کہ اس کے بعد عمران خان کو جرات نہیں ہوئی جواب دینے کی۔۔

کچھ عرصہ پہلے تک نوازشریف، زرداری اور عمران خان کے بعد پاکستان میں لیڈرشپ کا قحط نظر آرہا تھا، یہ سب بوڑھے ہوچکے ہیں اور اب سیاست میں کوئی متحرک کردار ادا کرنے کے قابل نہیں۔ پاکستانی عوام کی اکثریت چونکہ موروثی سیاست کو ہی قبول کرتی ہے اور چاہے کسی پارٹی کا لیڈر ہو یا معمولی ایم این اے، ان کے بعد ان کی اولاد کو ہی بطور اگلا لیڈر قبول کیا جاتا ہے اور جمہوری روایات کی کوئی قدر نہیں کہ قابلیت کی بنا پر کوئی آگے آئے، اس لئے ٹاپ لیڈرشپ میں مستقبل کا لیڈر کون ہوگا، اس کیلئے بہت محدود سٹاک دستیاب ہے، یعنی نواز شریف کے بعد ان کی اولاد، بے نظیر کے بعد ان کی اولاد اور عمران خان کے بعد کوئی بھی نہیں۔ میری نظر میں پارٹی لیڈرشپ میں بھی موروثیت کی بجائے جمہوری طرزِ انتخاب اپنایا جانا چاہئے، مگر کیا کہا جائے پاکستانی عوام کا، سطحی ذہنیت اور اپنے اپنے لیڈرز پر جان دینے والی عوام یہ کب برداشت کرسکتی ہے۔۔ پہلے تو صرف شریف فیملی اور بھٹو فیملی آسیب کی طرح پاکستانی سیاست پر مسلط تھے، مگر اب نیا فرقہء عمرانیہ بھی وجود میں آچکا ہے جو جیالیوں اور لیگیوں سے بڑھ کر اپنے لیڈر کی پوجا کرتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان میں جمہوری روایات کیسے پنپ سکتی ہیں۔ خیر یہ تو ضمنی بات ہوگئی، اصل مدعا یہ ہے کہ چند سال پہلے نواز شریف،بے نظیر یا شہباز شریف کی اولاد میں سے کوئی بھی اس قابل نہ تھا کہ وہ مستقبل کا لیڈر قرار پاسکتا، اسی لئے اسٹیبشلمنٹ نے عمران خان کو آگے لاکر پاکستان میں بھی چائنا کی طرح ون پارٹی سسٹم لانا چاہا تاکہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا بستر گول کردیا جائے، اور صرف عمرانی گھوڑے پرسواری کرکے ملک کو چلایا جائے، مگر ہوا یہ کہ گھوڑا توقع سے زیادہ نکما نکلا۔۔۔ اور سب سے اہم بات جو ہماری تحریر کا مرکزی نکتہ بھی ہے کہ مریم نواز تھوڑے ہی عرصہ میں اچانک ایک دبنگ لیڈر کے طور پر سامنے آگئیں۔

اب یہ اعتراض تو اپنی موت آپ مرچکا ہے کہ پاکستان کے پاس کوئی مستقبل کا لیڈر موجود نہیں ہے، کیونکہ فی الحال مریم نواز سے زیادہ بااعتماد اور قائدانہ صلاحیتیں رکھنے والا لیڈر پاکستان میں موجود نہیں۔ دوسری بات یہ کہ مریم نواز ایک خاتون ہیں اور یہ پاکستان کیلئے اعزاز کی بات ہوگی کہ بےنظیر کے بعد مریم نواز کی صورت میں ایک اور خاتون وزیراعظم پاکستان کی مستند اقتدار پر براجمان ہوں گی۔۔ عمران خان کے دن گنے جا چکے ہیں، یہ حد سے زیادہ نا اہل ثابت ہوا ہے، ہوسکتا ہے مریم نواز بھی نا اہل ثابت ہو، مگر پاکستان کے پاس فی الوقت یہی آپشن دستیاب ہے۔۔ اور یہ بات روزنِ روشن کی طرح واضح نظر آرہی ہے کہ بہت جلد مریم نواز وزارتِ عظمیٰ کی کرسی پر براجمان ہونے والی ہیں۔۔
PMIK can hold his own easily against these 2 kids.... but for your reference, in a debate, these 2 kids will be up against PTIs kid.....Murad Saeed
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں