مخصوص صحافیوں کے عاصمہ شیرازی کے دفاع پر صدیق جان، امیر عباس کے تبصرے

asma-shirazi-siddique.jpg


نامور خاتون صحافی عاصمہ شیرازی نے برطانوی نشریاتی ادارے کے اردو پلیٹ فارم پر ایک کالم لکھا جس میں وزیراعظم اور ان کے اہلخانہ کا نام لیے بغیر ذاتی نوعیت کے حملے کیے۔ انہوں نے یہ کالم اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے شیئر بھی کیا۔

خاتون صحافی نے اس کے کیپش میں لکھا کہ اب کالے بکرے سرِ دار چڑھیں یا کبوتروں کا خون بہایا جائے، پُتلیاں لٹکائی جائیں یا سوئیاں چبھوئی جائیں، معیشت یوں سنبھلنے والی نہیں جبکہ معیشت کے تقاضے تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔


عاصمہ شیرازی کے اس کالم پر تحریک انصاف کے مختلف رہنماؤں اور حامی سوشل میڈیا صارفین نے سخت مؤقف اپنایا اور عاصمہ شیرازی کے کالم میں کیے گئے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس طرح ذاتی نوعیت کے حملے نہیں کرنے چاہییں۔ وہ خاتون ہیں انہیں زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی دوسری خاتون پر ذاتی حملے کریں۔

رہنما تحریک انصاف مسرت چیمہ ، علی زیدی، علی محمد خان، میاں محمود الرشید، عالیہ حمزہ اور معاون خصوصی شہباز گل نے کہا کہ وہ سابق حکومت سے مالی فوائد حاصل کرتی رہی ہیں جو اس حکومت سے انہیں میسر نہیں۔

تحریک انصاف کے رہنماؤں نے آئندہ عاصمہ شیرازی کے پروگرام میں شرکت نہ کرنے کا بھی اعلان کیا۔

تحریک انصاف کی تنقید کے بعد مخصوص صحافی عاصمہ شیرازی کی حمایت میں بھی سامنے آئے ہیں۔ جن میں اویس توحید، بینظیر شاہ، ریما عمر، محمل سرفراز، زیب النساء برکی، عمار علی جان و دیگر شامل ہیں۔ان صحافیوں نے عاصمہ شیرازی کو اپنے تعاون کا بھرپور یقین دلایا۔

ان صحافیوں کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے رہنما ایک خاتون کو ہراساں کررہے ہیں، اس طرح سے حملوں سے عاصمہ شیرازی کو سچ بولنے سے نہیں روکا جاسکتا۔ کیونکہ وہ بہادر اور نرم دل شخصیت کی حامل ہیں۔

ان مخصوص صحافیوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ یا انہیں سمجھ نہیں آتی کہ حکومت پر تنقید کرنا اور سوال پوچھنا ہی صحافی کا کام ہے۔ اس میں کسی کی اطاعت کرنے کا تاثر پھیلانا غلط ہے۔

بعض صحافیوں نے تحریک انصاف کے رہنماؤں اور سپورٹرز پر عاصمہ شیرازی کو آن لائن ہراساں کرنے اور کردارکشی کا بھی الزام لگایا ۔

صحافیوں کے اس دفاع پر بعض صحافیوں نے سوالات بھی اٹھائے اور کہا کہ ان صحافیوں کا دفاع بالکل نہیں کرنا چاہئے جو دوسروں پر ذاتی حملے کریں، میڈیا کو حق سچ کی بات کرنی چاہئے ناں کہ ذاتی تعلقات نبھانے چائیں۔

صدیق جان نے تبصرہ کیا کہ اگرننگی ویڈیوزمحمدزبیرکا ذاتی ایشوتھاتو وزیراعظم کی اہلیہ کی روحانیت انکا ذاتی ایشو کیوں نہیں ہے؟ اس بات کا کوئی ایک ثبوت ہےکہ عمران خان نےکوئی تقرری اپنی اہلیہ کےکہنے پر کی ہے؟؟؟ اگرکسی خاتون اینکر کے بارےمیں بغیرثبوت کے کوئی گھٹیا الزام لگائےتواس پران صحافیوں کارد عمل کیاہوگا؟؟


صدیق جان کا مزید کہنا تھا کہ اوردوسری بات یہ ہےکہ روحانیت کوجادواورٹونوں کا نام کیوں دیاجارہاہے؟؟؟ روحانیت اور جادو ٹونے میں زمین آسمان کا فرق ہے، لیکن عمران خان کی نفرت میں پستی کی تمام حدوں کو چھورہے ہیں کچھ لوگ.. کسی کی اسلام سے عقیدت اور محبت کا مذاق اڑانا آزادی صحافت میں آتا ہے؟؟؟ کچھ تو شرم کر لیں.


بول ٹی وی کے صحافی امیر عباس نے تبصرہ کیا کہ میں آزادی رائے اور صحافت کا حامی ہوں اور اس پرکسی سمجھوتے کا قائل نہیں۔ اسی لئے حکومتی قانون PMDA کا بھی مخالف ہوں لیکن اگر ہمارے چند صحافی صحافت کے نام پر نامناسب انداز سے ایجنڈے کا بیوپار کریں تو کیا انہیں سات خون معاف ہیں؟ وہ سب اول فُول بَکیں لیکن اگر انہیں جواب دو تو وہ جرم؟


امیر عباس کا مزید کہنا تھا کہ ہم صحافی ساری دنیا کو سبق پڑھاتے ہیں، سوال کرتے ہیں لیکن اگر کوئی ہمیں سبق پڑھائے یا سوال کرے تو ہم چھوئی موئی کیوں بن جاتے ہیں۔ صحافی کا کام کسی ایک جماعت کی ٹاؤٹ گیری یا چاکری کرنا نہیں ہے۔ جب صحافت سے Objectivity ختم ہو جائے تو وہ بدبودار ہو جاتی ہے


سماء ٹی وی کی نیوزکاسٹر ارم زعیم نے تبصرہ کیا کہ پاکستان شاید وہ واحد مُلک ہے جدھر جس بھی بھی ڈیپارٹمنٹ کا بندہ اپنی حد پار کرے یا غلطی کرے اور اُس پر عوامی تنقید کا سامنا ہو تو متعلقہ پیٹی بھائی بجائے اصلاح کرنے کے ٹویٹ کرتے ہیں

Stay Strong Najma we are with you


ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ بشری بی بی بھی ایک خاتون ہے عاصمہ شیرازی بھی ایک عورت ہی ہے مجرمہ مریم نواز بھی کہنے کو ایک عورت ہی ہے اب عاصمہ شیرازی نے مریم کے کہنے پہ بشری بی بی کیخلاف بیہودہ کالم لکھا کسی نے مذمت نہیں کی مگر جب ردعمل آیا تو مریم کے ملازم صحافی عاصمہ شیرازی کا دفاع کر رہے ہیں بلاول واز رائٹ


وقار ملک کا کہنا تھا کہ جس طرح چند صحافیوں کے روپ میں سیاسی ورکر آصمہ شیرازی کا دفاع کر رہے ہیں وہ یہاں سے اندازہ لگا لیں کہ کتنی گھٹیا باتیں کی ہیں عاصمہ نے کہ شیریں مزاری نے انہی باتوں پہ اپنی بیٹی کو بھی نہیں بخشا۔ خدا کا واسطہ ہے سیاسی وابستگیوں کی وجہ سے صحافت کو اور تعفن زدہ مت کرو۔۔

 
Advertisement
Sponsored Link