ماؤں اور بچوں کیساتھ ساتھ تبدیلی کا نعرہ بھی دم توڑ گیا

mhafeez

Minister (2k+ posts)
#1

ماؤں اور بچوں کیساتھ ساتھ تبدیلی کا نعرہ بھی دم توڑ گیا،خیبرپختونخواہ کی نااہل حکومت گلستان کی کلیاں نگلنے لگی

اسلام آباد (ڈیلی اوصاف ) ورلڈ بنک کی پاکستان ڈویلپمنٹ اپڈیٹ کی رپورٹ کے مطابق پنجاب مجموعی طور پر ہیلتھ انڈیکیٹرزمیں باقی صوبوں کی نسبت آگے ہے۔اور اِسی طرح حکومت پنجاب صحت مند معاشرے کی تشکیل کیلئے ماں اور بچے کی اچھی صحت پر خصوصی توجہ دینے کے حوالے سے بھی باقی تمام صوبوں کو پیچھے چھوڑ گیا ہے ،جسے ہرسطح ہرمقام ہرفورم پر سراہا جاتا ہے۔

زچہ بچہ کی شرح اموات کو کم کرنے اور اچھی دیکھ بھال کیلئے حکومت پنجاب کے قابل تحسین انقلابی ااقدامات کے سرسری کا جائزہ کے مطابق1000بنیادی مراکز صحت24/7گھنٹے خواتین کو لیبر روم کی سہولت فراہم کر رہے ہیں، پہلے مذکورہ بی ایچ یوز پر تقریباً دس ہزار ڈیلیوریز ماہانہ تھیں جس میں بڑھ کر اب چار گناہ اضافہ ہوچکا ہے۔



تربیت یافتہ برتھ اٹینڈنٹ میں 78%تک اضافہ بھی کر دیا گیا ہے جبکہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کمیشن نے بچوں اور حاملہ خواتین میں غذائیت کی کمی دور کرنے کیلئے خصوصی پروگرام کا بھی آغاز کیا ہے ۔اس کے علاوہ حاملہ خواتین کو گھروں سے ہسپتالوں کیلئے رورل ایمبولینس سروس شروع کی گئیں ہیں۔

رورل ایمبولینس سروس میں 193ایمبولینس کا بھی اضافہ کیا جا چکا ہے ۔ مزید براں تمام ایمبولینسس کی ریسکیو1122کے ذریعے بھی نئی مینجمنٹ کاآغاز بھی کیا گیا ہے ۔ نئے مالی سال میں ایک ارب روپے کی ابتدائی رقم سے جنوبی پنجاب کے دور دراز علاقوں میں جہاں علاج معالجہ کی عام سہولتوں کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا مزید جدید ترین تمام بنیادی طبی سہولیات سے لیس100موبائل ہیلتھ یونٹس کی فراہمی بھی شامل ہے

حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کی بات کی جائے توکارکردگی کی بنیاد پر ملک بھر میں سب سے بہتر کارکردگری صوبہ پنجاب کی ہی رہی ہے ۔بہتر حکمت عملی کی بدولت پنجاب میں حاملہ خواتین اورنوزائیدہ بچوں میں تشنج کی بیماری کا بالکل خاتمہ کر دیا ہے ۔جس کی عالمی ادارہ صحت اور یونیسف نے تصدیق بھی کی ہے۔پاکستان میں پہلی بار صوبہ پنجاب نے ہی روٹا وائرس ویکسین کا اجراء کیا گیا ہے ۔

صوبے بھر میں ہنگامی بنیادوں پر ہیپاٹائٹس بی کی ویکسینیشن کی گئی ہے ۔بچوں میں خناق کی بیماری کی روک تھام کیلئے حفاظتی ویکسین کیلئے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کیلئے پنجاب میں ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریز پانچ بڑھے شہروں میں اپنی خدمات باخوبی سرانجام دے رہی ہیں ۔عوام میں شعور اُجاگر کرنے کیلئے ماں اور بچے کے اچھی صحت کیلئے خاندانی منصوبہ بندی کے مراکز بھی اپنے ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے نبھا لے رہے ہیں ۔

دوسری جانب زچہ بچہ کی نگہداشت کے حوالے سے تبدیلی کے دعوے داروں کے صوبہ خیبرپختونخواہ کا ذکر کریں تو انتہائی دُکھ اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے جس صوبے نے تبدیلی کے نام پر عمران خان پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا اُن کا کوئی بھی پُرسانِ حال نہیں۔آئے دن صحت و تعلیم کے میدان میں انقلاب برپا کرنے کے صرف بلندوبانگ نعرے لگائے جاتے ہیں،مگر عملاً کچھ نظر نہیں آرہا ۔غیر تجربہ کار سیاسی جماعت تحریک انصاف اِس بات سے سراسر ناواقف ہے کہ جھوٹے اعدادوشمار سے عوام کو تسلی تو دی جا سکتی ہے

مگر حقائق کو آج کے آزاد میڈیا سے کسی صورت چھپایا نہیں جا سکتا ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخواہ میں سرکاری ہسپتالوں میں تین ماہ میں 3500 بچے اور 150 مائیں جان کی بازی ہارگئے جبکہ صرف بنوں میں سب سے زیادہ 723بچوں کی اموات رپورٹ ہوئیں ہیں یہ اموات دوران زچگی اور پیدائش کے فوراً ہوئیں ہیں ۔ یہ صورت حال نہا یت ہی تشویش ناک ہے ۔تحریک انصاف کی حکومت کو چاہیے کہ خیبرپختونخواہ میں نعرہ اور دعوؤں کی سیاست سے نکل کر عوام کے فلاحی کاموں کے حوالے سے عملی اقدامات بھی کرے ۔

اگر اِس میدان میں تجربہ کار افراد کی کمی ہے تو حکومت پنجاب سے رجوع کریں ۔مجھے قوی اُمید ہے حکومت پنجاب خدمت کے جذبے سے سرشار ہو کراپنے پختون بہنوں اور بچوں کے تحفظ اور اچھی صحت کیلئے اپنی پوری توانائی کے ساتھ تعاون کرے گی


Source
 
Advertisement
Featured Thumbs
http://dailyausaf.com/uploads/posts/1500220492dailyausaf.jpg
Last edited by a moderator:

jee_nee_us

Minister (2k+ posts)
#4
Lol what a biased article.

I had to go to see a friend yesterday in a govt hospital in sialkot yesterday and believe me the hospital itself was so filthy and his family had to get all the medicines from a medical store outside.

First bring the basic facilities and life saving drugs for people , ventilators are short in every punjab hospital even in lahore and they are boasting about baby and mother care. First repair the existing structures before making the new ones.
 

Abdul Allah

Minister (2k+ posts)
#5
[FONT=Nafees_Nastaleeq]جھے قوی اُمید ہے حکومت پنجاب خدمت کے جذبے سے سرشار ہو کراپنے پختون بہنوں اور بچوں کے تحفظ اور اچھی صحت کیلئے اپنی پوری توانائی کے ساتھ تعاون کرے گی۔


Yah media report hy ???[/FONT]
 

akmal1

Chief Minister (5k+ posts)
#6
بہت ہی اعلیٰ
یعنی جو کام حکومت نے کرنے ہی ہوتے ہیں وہ بیان کر کے تو نمبر بنائے جا رہے ہیں
یہ بھی بتائیں کہ پنجاب میں کتنی اموات ہوئی ہیں؟
انکا ذکر تک نہیں ہے. جیسے پنجاب میں ایک بھی موت نہیں ہوئی
 

Eyeaan

Senator (1k+ posts)
#7
دادا ( شریف) اور بچوں(مریم،حسن،حسین )کیساتھ ساتھ باپ( نواز)بھی دم توڑ گیا
اور کوئ افسوس بھی نہیں ھوا-

 

Munawarkhan

Minister (2k+ posts)
#9
Aik survey kay mutabiq Nawaz Sharif our Gadhay main bohat kam farq paya gaya.... Ab jis tarah is khabar main kisi survey ka naam nahi hai, isi liyay main bhi apnay survey ka naam banaan zaroori nahi samajhta.

But aik baat tu mani paray gi kay Punjab apna comparison KPK say kerta hai. KPK nay standards jo set kerdiyay hain sirf 4 saal main.
 

gorgias

Chief Minister (5k+ posts)
#10
محترم کے پی میں بچوں کی اموات اور غذائی قلت کے بارے میں حقائق صوبائی حکومت نے خود جاری کیے ہیں۔ آپ یہاں بھی پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف ڈنڈی مار گئے۔
 

gorgias

Chief Minister (5k+ posts)
#11
اقوام متحدہ کے ملینئیم ڈیولیپمینٹ گولز کےمطابق نو زائیدہ بچوں کی شرح اموات ایک ہزار بچوں میں چالیس سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ اس وقت پنجاب کی اوسط شرح ستتر اموات فی ہزار ہیں۔
پنجاب میں صرف ایک ضلع سیالکوٹ ایسا ہے جو اقوام متحدہ کے معیار پر پورا اترتا ہے جہاں نو زائیدہ بچوں کی شرح اموات چھتیس فی ہزار ہے۔
باقی تمام ضلعے بشمول لاہور اور راولپنڈی بھی اس سماجی شعبہ میں پسماندہ ہیں۔ لاہور میں نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات پچاس فی ہزار اور ارولپنڈی میں اڑتالیس فی ہزار ہے۔
صرف یہی شعبہ ایسا ہے جہاں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وسطی پنجاب کے بعض ضلعے پسماندگی میں جنوبی پنجاب سے بھی پیچھے نظر آتے ہیں۔ وسطی پنجاب کے پانچ ضلعے پسماندگی میں صوبہ بھر میں سب سے نیچے ہیں۔
وسطی پنجاب میں پاکپتن، خانیوال، ساہیوال، لودھراں اور اوکاڑہ وہ ضلعے ہیں جہاں نو زائیدہ بچوں کی شرح اموات بہت زیادہ ہے۔ ان ضلعوں میں ایک ہزار پیدا ہونے والے بچوں میں سے ایک سو یا اس سے زیادہ بچے فورا فوت ہوجاتے ہیں۔
ان سب میں پاکپتن کی صورتحال سب سے خراب ہے جہاں ایک ہزار میں سے ایک سو ستائیس بچے پیدائش کے وقت مرجاتے ہیں۔ مجموعی طور پر نو زائیدہ بچوں کی شرح اموات کے اعتبار سے جنوبی پنجاب کے تمام ضلعے پسماندہ ہیں۔
پنجاب کے وہ اضلاع جہاں ستر یا اس سے زیادہ تعداد میں نوزائیدہ بچے فوت ہوجاتے ہیں ان کی فہرست پسماندگی کے اعتبار سے یوں ہے۔ بھکر، ٹوبہ ٹیک سنگھ، میانوالی، حافظ آباد، وہاڑی، ڈیرہ غازی خان، لیہ، راجن پور، مظفر گڑھ، ملتان، شیخو پورہ (بشمول ننکانہ)، جھنگ، بہاولپور، قصور، سرگودھا، رحیم یار خان، بہاولنگر، منڈی بہاؤالدین اور گوجرانوالہ۔


http://www.bbc.com/urdu/specials/65_punjab_developmen/page4.shtml
 
#12
میاں صاحب آپ کے خلاف کوئی سازش نہیں کر رہا بلکہ آپ نے پاکستان کی عوام کے ساتھ بددیانتی کی ہے۔آپ کیوں منی ٹریل پیش نہیں کر رہے۔ یہ درباریوں کا ٹولہ ہی آپ کو مروائے گئے۔ ارشد شریف








 

ifteeahmed

Chief Minister (5k+ posts)
#14
مگر حقائق کو آج کے آزاد میڈیا سے کسی صورت چھپایا نہیں جا سکتا ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخواہ میں سرکاری ہسپتالوں میں تین ماہ میں 3500 بچے اور 150 مائیں جان کی بازی ہارگئے جبکہ صرف بنوں میں سب سے زیادہ 723بچوں کی اموات رپورٹ ہوئیں ہیں یہ اموات دوران زچگی اور پیدائش کے فوراً ہوئیں ہیں ۔ یہ صورت حال نہا یت ہی تشویش ناک ہے ۔تحریک انصاف کی حکومت کو چاہیے کہ خیبرپختونخواہ میں نعرہ اور دعوؤں کی سیاست سے نکل کر عوام کے فلاحی کاموں کے حوالے سے عملی اقدامات بھی کرے
یہ میڈیا رپورٹ کونسی ھے؟؟؟
کیا جیو کی ھے؟؟؟
 

akmal1

Chief Minister (5k+ posts)
#15
اقوام متحدہ کے ملینئیم ڈیولیپمینٹ گولز کےمطابق نو زائیدہ بچوں کی شرح اموات ایک ہزار بچوں میں چالیس سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ اس وقت پنجاب کی اوسط شرح ستتر اموات فی ہزار ہیں۔
پنجاب میں صرف ایک ضلع سیالکوٹ ایسا ہے جو اقوام متحدہ کے معیار پر پورا اترتا ہے جہاں نو زائیدہ بچوں کی شرح اموات چھتیس فی ہزار ہے۔
باقی تمام ضلعے بشمول لاہور اور راولپنڈی بھی اس سماجی شعبہ میں پسماندہ ہیں۔ لاہور میں نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات پچاس فی ہزار اور ارولپنڈی میں اڑتالیس فی ہزار ہے۔
صرف یہی شعبہ ایسا ہے جہاں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وسطی پنجاب کے بعض ضلعے پسماندگی میں جنوبی پنجاب سے بھی پیچھے نظر آتے ہیں۔ وسطی پنجاب کے پانچ ضلعے پسماندگی میں صوبہ بھر میں سب سے نیچے ہیں۔
وسطی پنجاب میں پاکپتن، خانیوال، ساہیوال، لودھراں اور اوکاڑہ وہ ضلعے ہیں جہاں نو زائیدہ بچوں کی شرح اموات بہت زیادہ ہے۔ ان ضلعوں میں ایک ہزار پیدا ہونے والے بچوں میں سے ایک سو یا اس سے زیادہ بچے فورا فوت ہوجاتے ہیں۔
ان سب میں پاکپتن کی صورتحال سب سے خراب ہے جہاں ایک ہزار میں سے ایک سو ستائیس بچے پیدائش کے وقت مرجاتے ہیں۔ مجموعی طور پر نو زائیدہ بچوں کی شرح اموات کے اعتبار سے جنوبی پنجاب کے تمام ضلعے پسماندہ ہیں۔
پنجاب کے وہ اضلاع جہاں ستر یا اس سے زیادہ تعداد میں نوزائیدہ بچے فوت ہوجاتے ہیں ان کی فہرست پسماندگی کے اعتبار سے یوں ہے۔ بھکر، ٹوبہ ٹیک سنگھ، میانوالی، حافظ آباد، وہاڑی، ڈیرہ غازی خان، لیہ، راجن پور، مظفر گڑھ، ملتان، شیخو پورہ (بشمول ننکانہ)، جھنگ، بہاولپور، قصور، سرگودھا، رحیم یار خان، بہاولنگر، منڈی بہاؤالدین اور گوجرانوالہ۔


http://www.bbc.com/urdu/specials/65_punjab_developmen/page4.shtml
حفیظ صاحب کا سارا کاروبار جھوٹ پہ ہے نون لیگ کی طرح
 

gorgias

Chief Minister (5k+ posts)
#16
حفیظ صاحب کا سارا کاروبار جھوٹ پہ ہے نون لیگ کی طرح

جناب کل میں اس معاملے میں یونیسیف اور دیگر اداروں کی رپورٹس دیکھ رہا تھا جن میں اس کے مطابق اس وقت بچوں کی اموات کی شرح سندھ میں سب سے زیادہ یعنی ایک ہزار میں اسّی بچے، پنجاب میں 77 اور کے پی میں 68 بچو ں کی اموات ہوتی ہیں۔ یہ رپورٹ 2016 کی ہے۔ جب کہ 2017 کی رپورٹ ابھی نامکمل ہے۔

 

akmal1

Chief Minister (5k+ posts)
#17

جناب کل میں اس معاملے میں یونیسیف اور دیگر اداروں کی رپورٹس دیکھ رہا تھا جن میں اس کے مطابق اس وقت بچوں کی اموات کی شرح سندھ میں سب سے زیادہ یعنی ایک ہزار میں اسّی بچے، پنجاب میں 77 اور کے پی میں 68 بچو ں کی اموات ہوتی ہیں۔ یہ رپورٹ 2016 کی ہے۔ جب کہ 2017 کی رپورٹ ابھی نامکمل ہے۔

http://dhiskp.gov.pk/reports/1st Quarter Report 2017 pdf.pdf