مالی سال 2021 میں کروڑوں ڈالر مالیت کی گاڑیوں کی ریکارڈ درآمد

10cars.jpg

پاکستان نے مالی سال 21-2020 میں نئی گاڑیوں کی ریکارڈ درآمد کی ہے جبکہ نئی گاڑیوں کی درآمد پر سب سے زیادہ زرِ مبادلہ کے اخراجات ہوئے ہیں، تفصیلات منظر عام پر آگئیں۔

تفصیلات کے مطابق مالی سال 2021 میں پاکستان نے نئی کاروں، جیپوں، وینز، پک اپس، دو پہیوں اور بسوں کے 10 ہزار 513 ریکارڈ یونٹس درآمد کیے ہیں جبکہ 2021 کے مقابلے میں گزشتہ مالی سال میں 1680 یونٹس، سال 2019 میں 3716 یونٹس اور مالی سال 2018 میں7424 یونٹس درآمد کیے گئے تھے۔

حکومت نے گزشتہ مالی سال میں پہلی مرتبہ 390 نئی اور 19 استعمال شدہ برقی گاڑیاں (ای ویز) درآمد کی تھیں۔

کم شرح سود والے نئے ماڈلز کی مقامی اسمبلی میں کوریا اور چین کے نئے کھلاڑیوں کی شمولیت نے آٹو سیکٹر کو دوبارہ بحال کیا ہے جبکہ پرانے کھلاڑیوں کی طرف سے درآمد شدہ گاڑیوں اور مقامی طور پر تیار شدہ گاڑیوں کی بھی مانگ بڑھ رہی ہے۔

مالی سال 2021 میں نئی کاروں اور جیپوں کا 10157 یونٹس کی درآمد کے ساتھ سب سے بڑا حصہ ہے جبکہ اس کے مقابلے میں گزشتہ مالی سال میں 896، سال 2019 میں 2427 یونٹس اور سال 2018 میں 3758 یونٹس درآمد کیے گئے۔

گزشتہ مالی سال میں مجموعی طور پر 2 ارب ڈالر کی امپورٹ میں کاروں، بائیکوں اور بڑی گاڑیوں کے لیے کمپلیٹلی اور سیمی ناکڈ ڈاؤن کٹس (سی کے ڈی/ایس کے ڈی) کا حصہ تقریباً ایک ارب 60 کروڑ ڈالرز رہا جبکہ سال 2020 میں 72 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔

رواں مالی سال 22۔ 2021 کے ابتدائی دو ماہ میں تمام گاڑیوں کی مقامی اسمبلی کے لیے سی کے ڈی/ایس کے ڈی کٹس کی درآمد 214 فیصد بڑھ گئی جو کہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے 11 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 36 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔

دوسری جانب رواں مالی سال کے 2 ماہ میں مکمل تیار شدہ یونٹس کی درآمدات 118 فیصد بڑھ کر 10 کروڑ 3 لاکھ ڈالر ہوگئی جو اس سے قبل 4 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تھی۔
 
Advertisement

Saboo

Prime Minister (20k+ posts)
ہاہاہا...ظاہر ہے پاکستانی اب اتنے غریب بھی نہیں 😁
 

Kamboz

Senator (1k+ posts)
Even after all this, the demand is so much that the "ON" money on new vehicles booked with Toyota, honda has gone up more. It tells you what sort of a demand we are looking at.
 
Sponsored Link