لداخ تنازع: چین بھارت کو دنیا بھر میں تنہا کرنے میں کامیاب ہوگیا

FarooqShad

MPA (400+ posts)
لداخ تنازع: چین بھارت کو دنیا بھر میں تنہا کرنے میں کامیاب ہو گیا

چین نے انتہائی خاموشی کے ساتھ بھارت کے پڑوس میں اُن ممالک کو اپنی طرف کر دیا جو کل تک نئی دہلی کی کالونیاں تصور کی جاتی تھیں۔




2014 کے ستمبر میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اپنی آبائی ریاست گجرات کی راجدھانی احمد آباد میں چینی صدر کے ساتھ جھولے میں جھولتے ہوئے نہایت بے تکلفی سے بات چیت کرتے نظر آئے۔

باہمی معاہدوں کا ایک سلسلہ چل پڑا تھا اور بھارتی چینلوں پر مودی کی ’کامیاب ڈپلومیسی‘ کا ڈھول دھڑادھڑ بجنے لگا۔ چین جیسی پراسرار اور کم گو طاقت کو شیشے میں اُتارنے کے لیے بی جے پی نے مودی کو مہادیو کا درجہ دیا۔ ملاقات کے کئی روز بعد یہ انکشاف ہوا کہ جب مودی شی جن پنگ کے ساتھ پینگیں بڑھا رہے تھے، چینی فوج دراندازی کر کے بھارت کے زیر انتظام لداخ کے چُومار اور دمچوک خطوں میں خیمہ زن ہو گئی تھی۔

مودی نے فون گھمایا اور صدر شی کو یاد دلایا کہ ابھی دوستی اور تعاون کے معاہدوں کی سیاہی بھی گیلی ہے، تو چینی حکام نے فوج کو واپس بلایا۔ اس پر بھی مودی کی عالمی مقبولیت کا ڈنکا بجایا گیا۔ چھ سال بعدآج مودی جی اس سے زیادہ خطرناک صورت حال سامنا ہے۔

آج چین مشرقی لداخ کے سرحدی علاقوں میں کئی کلومیٹر اندر گھس آیا ہے اور واپسی کا نام نہیں لے رہا ہے بلکہ اب تو بیجنگ پوری وادی گلوان پر دعویٰ جتلا رہا ہے۔ گو کہ تازہ مرحلہ سمیت اب تک مقامی کمانڈروں کی سطح پر مذاکرات کے تین ادوار ہوئے اور چھ جون کومتعدد مقامات پر پیچھے ہٹنے پر اتفاق بھی ہوا تھا تاہم بات آگے نہ بڑھ سکی بلکہ الٹا کشیدگی بڑھتی ہی چلی جارہی ہے۔

دونوں جانب سے فوجی تناؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جہاں بھارت نے گذشتہ 72گھنٹوں کے دوران پورے مشرقی لداخ میں فوجی استعداد میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے، وہیں گلوان وادی اور پنگانگ ٹسو جھیل سے جو تازہ سیٹلائٹ تصاویرسامنے آئی ہیں، وہ ظاہر کر رہی ہیں کہ چین زیرقبضہ ’متنازع اراضی‘ سے واپسی کے موڈ میں نہیں ہے۔

خلائی ٹیکنالوجی فرم ’پلینٹ لیبز ‘ کی سیٹلائٹ تصاویر میں دکھایاگیا ہے کہ چین نے پنگانگ ٹسو جھیل کے کناروں پر 186پری فیب ہٹس، شیلٹرتعمیر کرنے کے علاوہ خیمے بھی نصیب کیے ہیں جبکہ تصاویر میں جھیل سے متصل ’فنگر ائریا‘میں فنگر 5کے نزدیک دو چینی برق رفتار انٹر سیپٹر جہاز بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ڈریگن اتنا کیوں پھنکار رہا ہے کہ وہ ہاتھی کو مسلنے پر تُلا ہوا نظر آ رہا ہے؟

مبصرین کے نزدیک اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے کچھ خالصتاً مقامی نوعیت کی ہیں جبکہ کچھ کا تعلق چین کے علاقائی، سٹریٹیجک اور اقتصادی اہداف سے ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ چین کی نگاہیں کہیں پر ہیں جبکہ نشانہ کہیں اور پر ہے اور وہ بیک وقت ایک تیر سے کئی شکار کرنا چاہتا ہے۔

سویا اژدہا کیسے جاگا؟

مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی ژِن پنگ کے درمیان 2018 اور2019 میں چینی شہر ووہان اور بھارتی شہر چینئی میں ہونے والی ملاقاتوں میں مودی نے پنگ کو یقین دلایا تھا کہ نئی دہلی بیجنگ کے ساتھ باہمی تعاون کا پابند ہے، تاہم لداخ کے سرحدی سیکٹر میں بھارت جس طرح دفاعی تنصیبات کی تعمیر میں لگا ہوا تھا، اُس نے ڈریگن کو گہری نیند سے بیدار کر دیا۔

مسئلہ کشمیر پر کئی کتابوں کے مصنف اور لداخ کے جغرافیے پر گہری نگاہ رکھنے والے سرینگر نشین سرکردہ تجزیہ کار پی جی رسول نے انڈپینڈنٹ ارو سے اس ضمن میں بات کرتے ہوئے کہا: ’بھارت نے شیوک وادی کے دربُگ سے گلوان وادی کے دولت بیگ اولڈی تک255 کلومیٹر طویل سڑک بنائی لیکن چین نے اس پر اعتراض نہیں کیا حالانکہ یہ سڑک وادی گلوان سے گزرتی ہے۔

’پھر بھارت نے دولت بیگ اولڈی سے ساڑھے سات کلومیٹرلمبی فیڈر روڈ بنانا شروع کر دی جو بھارت کی رسائی اکسائی چن تک یقینی بنا دیتی۔ بھارت کے سب سے زیادہ اہم مفادات اسی سڑک سے وابستہ ہیں۔ آگے قراقرم درہ ہے، بائیں طرف سیاچن گلیشیئر اور دائیں طرف دولت بیگ اولڈی ہے۔ دولت بیگ اولڈی پر دفاعی ایئر سٹرپ بھی بنائی گئی جہاں سے درہ قراقرم تک ہوائی مسافت صرف آٹھ کلو میٹر ہے۔ اس سے چین کو خدشہ لاحق ہو گیا کہ بھارت بہت اندر تک آ گیااور چین نے اپنے اہم سٹریٹیجک مقامات کے دفاع کے لیے ضروری سمجھا کہ اس پر قبضہ کیا جائے۔‘

پی جی رسول مانتے ہیں کہ چین اب زیر قبضہ علاقہ چھوڑنے والا نہیں ہے کیونکہ ایسا کر کے بیجنگ سے ایک تیر سے دوشکار کیے ہیں۔ اُن کا کہناتھا، ’ایسا کر کے نہ صرف دولت بیگ اولڈی ایئر سٹرپ ناقابل استعمال بن جائے گی بلکہ اکسائی چن کی جانب بھارت کی پیش قدمی رک جائے گی اور یوں درہ قراقرم اور اکسائی چن چین کے لیے محفوظ ہوجاتے ہیں۔ دوسری جانب کھربوں روپے کی لاگت سے بننے والی دربُگ دولت بیگ اولڈی روڈ بھی چین کے رحم و کرم پر رہ سکتی ہے اور یوں عملی طور اس خطے میں بیجنگ کی عمل داری ہو گی۔‘

مقامی دفاعی اہداف

موجودہ چینی چڑھائی کی اہم وجہ لداخ خطہ میں چین کے مقامی دفاعی اہداف بھی ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ واضح طور پر چین کی جانب دراندازی کی مسلسل کوششیں اصل میں دریائے سندھ اور شیوک کے مغرب کی جانب بھارتی افواج کو واپس دھکیل کر اس علاقے تک رسائی حاصل کر کے قبضہ کرنا ہے جس پر چین نے 1960 میں دعویٰ کیا تھا۔

اس ضمن میں ہند چین امور کے ماہر اور بیجنگ میں بھارت کے سابق سفیر پی سٹوبڈن نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں جو خاکہ کھینچا ہے، وہ بھارت کے لیے قطعی اطمینان بخش نہیں ہے۔

سٹوبڈن لکھتے ہیں: ’چین کی پیش قدمی سے لگ رہا ہے کہ وہ لکانگ کے مقام پر جھیل پر قابض ہونا چاہتے تھے جس کے لیے وہ سہ رخی حکمت عملی کے تحت شمال میں سری جپ، جنوب میں چوشل اور وسط میں جھیل کے پانیوں سے ہو کر حملہ آور ہونا چاہتے ہیں۔ یہ وہ مرکزی مقام ہے جہاں سے چینی افواج پوری چپ چاپ وادی، مشرق میں اکسائی چن اور شمال میں شیوک وادی تک بھارت کی رسائی منقطع کرنا چاہتی ہیں جس کے نتیجے میں بھارتی کنٹرول شیوک دریا کے مغرب اور سندھ دریا کے جنوب تک محدود ہو کررہ جائے گا اور یوں بھارت ان دونوں دریاﺅں کو فطری سرحدیں تسلیم کرنے پر مجبور ہوجائے گا۔

’تاہم اگر چین قراقرم پہاڑی سلسلے کے جنوبی حصے پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ آسانی سے ڈپسانگ راہداری کے راستے نہ صرف سیاچن گلیشیئر تک پہنچ سکتا ہے بلکہ وہ تاشکورغن جنکشن تک بھی پہنچ پائے گا جہاں سی پیک گلگت بلتستان میں داخل ہوتا ہے۔‘



پی سٹوبڈن کے مطابق ایسا بھارت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ اس کے نتیجہ میں نہ صرف دفاعی طور پر اہم نوبرا وادی غیر محفوظ بن جائے گی بلکہ ممکنہ طور اس کے نتیجے میں سیاچن پر بھارت کی گرفت بھی کمزور پڑ سکتی ہے اور پوری وادی سندھ ہی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

چینی چڑھائی کی سیاسی وجوہات

مبصرین کہتے ہیں کہ موجودہ چینی چڑھائی کی سیاسی وجوہات بھی ہیں۔ بیشتر غیر جانبدار مبصرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جنوبی ایشیا کے بارے میں چین کے تصورات میں تبدیلی کے لیے اگرچہ کئی عوامل کارفرما ہیں لیکن ان میں سب سے اہم حکومت ہند کا وہ یک طرفہ فیصلہ ہے جو اس نے جموں و کشمیر اور لداخ کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے گذشتہ برس اگست میں اٹھایا تھا۔

پی جی رسول اس ضمن میں کہتے ہیں: ’بھارت نے پانچ اگست 2019 کو لداخ کو وفاق کے زیر انتظام کرنے کے بعد بھارت کے سیاسی نقشے میں اکسائی چن اور گلگت بلتستان کوشامل کر لیا۔ اس کے بعد جب اکسائی چن تک رسائی کے لیے بھارت نے سڑک کی تعمیر شروع کی تو چین کو اندازہ ہو گیا کہ بات صرف نقشے تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ نئی دہلی سرکار عملی طور اکسائی چن پر نظریں جمائے بیٹھی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’جب آپ کسی خطے کو اپنا اٹوٹ انگ بناتے ہیں تو اس کے بعد مزید مذاکرات کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ اس یک طرفہ فیصلہ کی وجہ سے سابق معاہدے بھی ختم ہو گئے اور پھر بات اُسی پرانی روایت پر آ گئی کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ چین طاقتور ثابت ہوا، وہ آئے اور قبضہ کر لیا۔‘

اُن کا مزید کہنا تھا، ’چین اب واپس جانے والا نہیں ہے کیونکہ اُس نے انڈیا کی سیاسی غلطی کی وجہ سے نہ صرف اپنے دفاعی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا بلکہ ساتھ ہی اس حساس علاقہ میں بھارت کو تذویراتی طور کافی حد تک کمزور بھی کر دیا۔‘

بھارت کے سرکردہ دفاعی تجزیہ نگار اور سینیئر صحافی وکرم جیت سنگھ بھی پی جی رسول کے موقف سے ہم آہنگ نظر آرہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’جموں وکشمیر کی اس آئینی تبدیلی کے بعد چینی قیادت نے جو بیانات دیے تھے وہ صاف اور غیر مبہم تھے لیکن بھارتی قیادت نے انہیں سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ چین نے بالاکوٹ میں بھارتی فضائیہ کے حملے کے وقت بھی یہ بیان دیا تھا کہ وہ کسی ملک کی حدود میں داخل ہونے کا حامی نہیں ہے۔ دراصل جنوب ایشیائی خطے میں بھارت کی بدلتی سیاسی ترجیحات نے چین کواس خطے کے بارے میں اپنے نظریات تبدیل کرنے پر مجبور کردیا اور اب چین عملی طور مسئلہ کشمیر کا چوتھا فریق بن چکا ہے۔‘

بیشترتجزیہ نگار جاری کشیدگی پر پاکستان کی خاموشی کو بھی معنی خیز قرار دے رہے ہیں اور اُن کا موقف ہے کہ اسلام آباد نے ایک ایسے علاقے پر، جس کو وہ اپنی شہ رگ مانتا آیا ہے، کسی تیسرے ملک کی چڑھائی پر زبان نہ کھول کر دراصل اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ وہ چینی کارروائی کی حمایت کرتا ہے اور عین ممکن ہے کہ چین نے اس بارے میں پاکستان کو اعتمادمیں بھی لیا گیا ہو۔‘

اقتصادی اہداف

چین مشرق وسطیٰ کے گرم پانیوں تک رسائی کا متمنی ہے اور اس نے اس عظیم منصوبے کی تکمیل کے لیے پاکستان میں سی پیک کے منصوبے شروع کر رکھے ہیں۔ ابھی یہ طے نہیں کہ پاکستان اور اس کے زیرانتظام کشمیر میں شروع ہونے والی 50 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے پاکستان کو کیا اقتصادی فوائد حاصل ہوں گے، لیکن اس سے جنوب ایشیا میں طاقت کاتوازن تیزی سے بگڑنے لگا ہے۔

وکرم جیت سنگھ کا خیال کہ موجودہ چڑھائی سے قبل چین نے سود وزیاں کا مکمل حساب لگایا ہے: ’ہمیں چین کی ویسٹرن تھیئٹر کمان کی تشکیل پر غور سے سوچنا ہو گا جو تبت سے لے کر سنکیانگ اور گلگت بلتستان تک سکیورٹی کی ذمہ دار ہے اور چین کسی بھی صورت میں اپنے اقتصادی اہداف سے پیچھے ہٹنے والا نہیں ہے کیونکہ وہ اقتصادی کم دفاعی زیادہ ہیں۔‘

وکرم جیت کے مطابق سی پیک چین کے لیے اہم ہے اور اس مناسبت سے گلگت بلتستان سے لے کر بلوچستان تک اس اقتصادی راہداری کی سلامتی چین کی ترجیحات میں شامل ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ بھارت اور امریکہ کسی نہ کسی طرح بلوچ علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی کررہے ہیں جو بلوچستان میں سی پیک راہداری کو نشانہ بنا رہے ہیں جو ان کے لیے قابل قبول نہیں ہے اور یہ معاملہ بھی چینی صبر کا پیمانہ لبریز کرنے کی ایک وجہ بنا ہے۔

عالمی دفاعی اہداف

نریندر مودی کے بھارت نے ملک کی خوشحالی کے لیے سعودیوں، اسرائیلیوں اور امریکیوں کے گٹھ جوڑ کر لیا ہے۔ مودی اور شی پنگ کے درمیان ملاقاتیں ہوتی رہیں لیکن اس سیاسی گرم جوشی سے کافی دور پانیوں سے لے کر عالمی سیاسی اکھاڑے میں نئی دہلی ہر اُس اتحاد کا حصہ بنتی چلی گئی جس کا مقصد جنوب ایشیا میں بالعموم اور عالمی سطح پر بالخصوص چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو کم کرنا تھا۔ مبصرین اس ضمن میں نئی دہلی اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتی ہوئی گرم جوشی، اسرائیل اور سعودی ممالک کے ساتھ بھارت کے اشتراک کی نئی کہانیوں کا حوالہ دے رہے ہیں۔

سرینگر میں مقیم سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار ہارون ریشی اس ضمن میں کہتے ہیں: ’بھارت امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ مل کر ایک بحری الائنس میں شامل ہے جسے چو طرفہ سکیورٹی ڈائیلاگ کہتے ہیں جس کو منسٹریل سطح تک فرو غ دیا گیا ہے اور اس الائنس کا مقصد چین کو سمندروں میں گھیرنا ہے۔

’اس سے چین کے لیے دوسرے علاقوں خصوصاً بحیرہ چین اور آبنائے ملاکہ میں جاپان، ویتنام، کوریا، فلپائن وغیرہ کے حوالے سے شدید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ وہاں پر چین نے طاقت کے بل پر اپنے مفادات کا تحفظ کیا ہے لیکن اس وسیع سمندری خطے میں امریکہ اور اس کے حلیف چین کے لیے درد سر بنے ہوئے ہیں جن میں ہندوستان بھی شامل ہے۔‘

ہارون نے مزید کہا کہ ’چین کو اندازہ ہے کہ اگر فوری طور اس الائنس سے ابھرنے والے خطرات سے نہ نمٹا گیا تو اس کے مفادات ویت نام سے افریقہ تک شدید خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ یہی وہ بات ہے جو چین کے لیے پریشان کُن بھی ہے اور نہ چاہتے ہوئے بھی اس کو فوجی اقدامات پر آمادہ کرچکی ہے حالانکہ جنگ چین کی پالیسی نہیں ہے۔

ہارون کا خیال ہے کہ بھارت کے امریکہ کی جانب حد سے زیاد ہ جھکاﺅ کی وجہ سے پاک، ایران اورچین کی دفاعی تثلیث کو اب روس بھی دبے الفاظ میں حمایت دے رہا ہے۔

کچھ مبصرین اس فوج کشی کو امریکی صدارتی انتخابات سے بھی جوڑ رہے ہیں جبکہ کچھ اس کو کرونا وائرس کی عالمگیر وبا سے جڑا ہوا تصور کررہے ہیں تاہم بیشتر تجزیہ نگار وں کو ایسے استدال دور کی کوڑی جیسی باتیں لگ رہی ہیں۔

بھارت عالمی تنہائی کا شکار؟

مبصرین کے مطابق بیجنگ کے ذہن میں اب یہ بات گھر کر چکی ہے کہ بھارت اب محض حریف نہیں رہا ہے بلکہ یہ دشمن بن چکا ہے کیونکہ یہ چین کے دفاعی مفادات کے خلاف کارروائی کر رہا ہے اور اس پر ستم ظریفی یہ ہے کہ چین کے خلاف اب اس محدود سرحدی جنگ میں بھارت بالکل تنہا رہ گیا ہے کیونکہ امریکہ کے چند علامتی اور بیانات کو چھوڑ کر کسی بھی ملک نے اس مسئلے پر اب تک لب کشائی نہیں کی ہے۔

ہارون ریشی اس تنہائی کو اس لیے بھی زیادہ سنگین مانتے ہیں کیونکہ اب بھارت کی سبھی سرحدیں غیر محفوظ بن چکی ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’کم گو چین نے انتہائی خاموشی کے ساتھ بھارت کے پڑوس میں اُن ممالک کو اپنی طرف کر دیا جو کل تک نئی دہلی کی کالونیاں تصور کی جاتی تھیں اور آج صورت حال یہ ہے کہ یہ چھوٹے چھوٹے ممالک بھی بھارت کو آنکھیں دکھانے لگے ہیں۔‘

ہارون اس ضمن میں نیپال، بھوٹان، مالدیپ، سری لنکا اور بنگلہ دیش کی مثالیں پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ سبھی وہ ممالک ہیں جو کل تک دہلی کی بولی بولتے تھے لیکن چین نے بھاری سرمایہ کاری کرکے ان ممالک کو مقروض بنا دیا ہے کہ وہ چینی احسانات تلے دب چکے ہیں اور اب بھارت کے لیے مسلسل پریشانی کا باعث بنتے چلے جا رہے ہیں۔



آگے کیا ہو گا؟

عظیم طاقتیں تعطل پسند نہیں کرتیں۔ آثار و قرائن بتارہے ہیں کہ چین اپنے اہداف کے حصول کی جانب صحیح سمت میں گامزن ہے۔ آگے چل کر کیا واقعی چین لداخ پر چڑھائی کے مطلوبہ مقاصد حاصل کر پائے گا، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا تاہم موجودہ حالات میں اب بھارت کی سبھی سرحدیں غیر محفوظ بن چکی ہیں۔

سکم سے لے کر ہماچل پردیش، اتر کھنڈ، اروناچل پردیش اور لداخ تک چین کے ساتھ ملنے والی سرحد کے علاوہ لداخ کے ایک ہی دوسرے حصہ اور جموں وکشمیر میں پاکستان کے ساتھ لگنے والی سرحد کشیدہ بن چکی ہیں جو کوئی اچھی یا اطمینان بخش صورت حال قرار نہیں دی جا سکتی کیونکہ دفاعی اعتبار سے بیجنگ اور نئی دہلی کا کوئی موازنہ نہیں ہے اور ذرا سی بھی غلطی ڈریگن کو برہم کر سکتی ہے۔

تاہم مبصرین سمجھتے ہیں کہ موجودہ حالات میں بھارت کے لیے واحد اطمینان بخش چیز یہ ہے کہ چین جنگ نہیں چاہے گا اور اگر بھارت سرکار خاموشی سے بیجنگ کو بڑا بھائی تسلیم کرتے ہوئے عالمی سیاست، تجارت، معیشت میں کچھ رعایات اور کچھ ٹھوس یقین دہانیاں فراہم کرتی ہے تو شاید چین اپنی پیش قدمی روک دے گا۔

تاہم قوم پرستی کا جو ہائی وولٹیج ڈراما گذشتہ چند برسوں میں بھارت میں کھیلا گیا، وہ شاید ہی نریندر مودی کو اس کی اجازت دے۔

اس صورت حال میں مبصرین کے نزدیک مودی کے ہاتھ بندھے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور اُنہیں کسی طرح سے اس کشیدگی کو سرما کی آمد تک منیج کرنا ہو گا تاکہ برفانی ہوائیں دونوں جانب سے افواج کو بیس کیمپوں میں واپس بھاگنے پر مجبور کر دیں اور پھر اگلے سال موسم بہار کی آمد تک دیکھا جائے گا کہ چینی اژدہا کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

 
Advertisement

Saboo

Prime Minister (20k+ posts)
چین و عرب ہمارا ..پاکستان ہے ہمارا
لیکن ہندستان تو نہیں ہمارا؟ ..کوئی کردے اسکے ٹوٹے
کیا لیتا ہے ہمارا...... 😁
 

AxxN.RR

Councller (250+ posts)
This plan is not made in one week and implemented.. It has been planned for quite long and being deployed step by step... What has happened, is nothing, what is coming, is what would be exciting..
 

Bubber Shair

Senator (1k+ posts)
اسی لئے قومیت پرستی اچھی نہیں کہ یہ بندے کو لے ڈوبتی ہے، کبھی ہٹلر کو لے ڈوبی تھی اور اب مودی کو
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں