فیض آباد دھرنا: ’فیصلے سے فوج کے حوصلے پر منفی اثرات پڑے‘

JAMALNASIR

Councller (250+ posts)


فیض آباد دھرنا: ’فیصلے سے فوج کے حوصلے پر منفی اثرات پڑے

شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

وزارت دفاع نے فیض آباد دھرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے چھ فروری کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کی ہے جس میں عدالتِ عظمیٰ سے فوج اور اس کے خفیہ اداروں سے متعلق فیصلے میں لکھی جانے والی سطروں کو واپس لینے کی درخواست کی گئی ہے۔

نظرثانی کی اس اپیل میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے پاکستانی فوج کے حوصلے(morale) پر منفی اثرات پڑے ہیں۔

اپیل میں کہا گیا ہے کہ اگر اس عدالتی فیصلے پر نظر ثانی نہ کی گئی تو انڈیا سمیت ملک دشمن عناصر کو فوج کے خلاف جھوٹا پروپگینڈا کرنے کا موقع ملے گا۔

اٹارنی جنرل کے توسط سے وزارتِ دفاع کی جانب سے دائر کی جانے والی نظرثانی کی اپیل میں کہا گیا ہے کہ عدالتی فیصلے سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ افواج پاکستان اپنے حلف کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔

نظرثانی کی اپیل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں افواج پاکستان کے سربراہان کو جو ہدایات دی ہیں وہ مبہم اور غیر واضح ہیں۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں وزارت دفاع کے توسط سے آرمی چیف سمیت افواج پاکستان کے سربراہان کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنے ان ماتحت اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کریں جنھوں نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیاسی امور میں مداخلت کی ہے۔




یاد رہے کے چند روز قبل حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے عدالت عظمیٰ میں پٹیشن دائرکی تھی جس میں انھوں نے سپریم کورٹ کے جج قاضی فائز عیسی پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے نومبر 2017 کے فیض آباد دھرنے کے خلاف سنائے گئے ان کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے دائر کی گئی نظرثانی کی اپیل میں فیض آباد دھرنے کا فیصلہ لکھنے والے جج جسٹس قاضی فائز عیسی کو جانبدار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں 2014 میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے دیے گئے دھرنے کا ذکر کر کے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں اور رہنماؤں کے ساتھ تعصب کا مظاہرہ کیا ہے۔




وزارت دفاع کی نظرثانی کی اپیل میں کہا گیا ہے کہ فیض آباد دھرنے سے متعلق اس از خود نوٹس کی سماعت کے دوران مسلح افواج کے کسی اہلکار کے ملوث ہونے یا اس کی نشاندہی کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔

اس اپیل میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی افواج میں حلف کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرینس کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ حلف کی خلاف ورزی ایک سنگین الزام ہے جسے سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔

نظرثانی کی اس اپیل میں کہا گیا ہے کہ ٹھوس شواہد کے بغیر نامعلوم افراد کے خلاف حلف کی خلاف ورزی ممکن نہیں ہے۔

واضح رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سینیٹ کے اجلاس کے دوران کہا تھا کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ فوج فیض آباد دھرنے میں ملوث ہے تو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔

اس نظرثانی کی اپیل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جیسے فوج اور اس کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی فیض آباد دھرنے میں ملوث تھی۔ اس اپیل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فوج اور آئی ایس آئی کے بارے میں دی گئی آبزرویشن کی بنیاد اخباری خبریں اور مفروضے ہیں۔

نظرثانی کی اس اپیل میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ فیصلے میں فوج اور آئی ایس آئی کے بارے میں جو جج صاحبان کی طرف سے آبزرویشن دی گئی ہیں ان کو حذف کیا جائے۔

نظرثانی کی اپیل میں اس بات کا بھی ذکر بھی کیا گیا ہے کہ فیض آباد دھرنے سے متعلق سپریم کورٹ میں از خود نوٹس کی سماعت کے دوران انٹیلیجنس بیورو کے علاوہ انٹرسروسز انٹیلیجنس اور پولیس کی طرف سے جو جوابات داخل کروائے گئے اس میں فوج کے بالواسطہ یا بلاواسطہ ملوث ہونے کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔




ویڈیو کا ذکر
نظرثانی کی اس اپیل میں سوشل میڈیا پر چلنے والی ایک ویڈیو کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس میں پنجاب رینجرز کے ایک افسر دھرنے کے شرکا میں لفافے تقسیم کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

وزارت دفاع کا موقف ہے کہ وزارت داخلہ نے رینجرز کو دھرنے کے شرکا کو ہٹانے کے لیے تعینات کیا تھا۔ جب حکومت اور مظاہرین کے درمیان معاہدہ طے پا گیا تو کچھ لوگوں نے کہا کہ ان کے پاس واپس جانے کا کرایہ نہیں ہے۔

نظرثانی کی اس اپیل میں کہا گیا ہے کہ وزارت داخلہ کے حکم پر مظاہرین کو سفری خرچ مہیا کیا گیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے یہ ویڈیو منظر عام پر آنے پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ فوج ایک ریاستی ادارہ ہے اور اسے حکومت کے ساتھ ہونا چاہیے اور اس دھرنے کو ختم کرنے کے لیے فوج کیسے ثالثی کا کردار ادا کر سکتی ہے۔

حکومت اور مظاہرین کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں چند روز قبل لیفٹنینٹ جنرل کے عہدے پر ترقی پانے والے فوجی افسر فیض حمید کے دستخط بھی موجود ہیں۔




اظہار رائے کی آزادی پر پابندی
نظرثانی کی اس اپیل میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس عدالتی فیصلے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ فوج اور اس کے خفیہ ادارے اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگانے کے ساتھ ساتھ گذشتہ برس ہونے والے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی میں بھی ملوث ہیں۔

اس اپیل میں یہ کہا گیا ہے کہ فوج کو انتخابات کے دوران امن وامان قائم رکھنے کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔

نظرثانی کی اپیل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دو نجی ٹی وی چینلز ’جیو‘ اور ’ڈان‘ کی نشریات کو ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی اور کنٹونمنٹ کے علاقوں میں بند کرنے سے متعلق ثبوت فراہم نہیں کیے گئے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ پیمرا ان علاقوں میں ان دونوں ٹی وی چینلز کی نشریات کو دکھانے میں ناکام رہا ہے اور بادی النظر میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان چینلز کی نشریات پر بندش بااثر اداروں کے کہنے پر لگائی گئی۔

نظرثانی کی اس اپیل میں فوج کی شدت پسندوں کے خلاف کی جانے والی کارروائی اور اس میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

نظرثانی کی اس اپیل میں ایئرمارشل ریٹائرڈ اصغر خان کیس کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ فیض آباد دھرنا کیس اور اصغر خان کیس میں بہت فرق ہے۔




اصغر خان کیس میں بھی سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ فوج کے ان اعلیٰ افسران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے جنھوں نے سنہ 90 کی دہائی میں اسلامی جمہوری اتحاد کی تشکیل کے لیے سیاست دانوں میں رقوم تقسیم کی تھیں۔

نظرثانی کی اس اپیل میں کہا گیا ہے کہ فیصلہ جاری کرنے سے پہلے ان الزامات کے بارے میں وزارت دفاع یا فوج کے کسی اہلکار کو کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔

فیض آباد دھرنے سے متعلق حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف نے ترمیم شدہ نظرثانی کی اپیل دائر کی ہے جس میں فیض آباد دھرنے کا فیصلہ لکھنے والے جج جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف مس کنڈکٹ کے الزامات کو حذف کر دیا گیا ہے۔

اس اپیل میں یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے سنہ 2014 میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے جو دھرنا دیا گیا تھا اس کا اس فیصلے میں ذکر کیا گیا ہے اور یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ انھیں اس بارے میں نہیں بتایا گیا۔

الیکشن کمیشن نے بھی سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی طرف سے نظرثانی کی اپیل پر لگائے گئے اعتراضات کو دور کرکے نظرثانی کی اپیل دوبارہ دائر کر دی ہے۔ اس کے علاوہ ایم کیو ایم اور عوامی مسلم لیگ نے بھی نظرثانی کی اپیلیں دائر کی ہیں۔

سپریم کورٹ نے اپنے عدالتی فیصلے میں فیض آباد پر دھرنا دینے والی جماعت تحریک لبیک کو بطور سیاسی جماعت رجسٹر کرنے کے بارے میں بھی سوال اُٹھائے تھے۔

https://www.bbc.com/urdu
 
Advertisement

Diesel

Minister (2k+ posts)
noora nay har jaga apna darbarii fixed kia ha. LOOHAR COURT HO YA IHC HO or ya SCP mein QAZI ESI ki shakal mein ho 😂
 

Mughal1

Chief Minister (5k+ posts)
agar pakistan ko her tarah ke khatraat se bachaana hai to is main saheeh deene islam ko theek tareeqe se naafiz karo. magar kia aap ko maloom hai saheeh deene islam kia hai? main jaanat hun aap ko maloom nahin hai aur aap ki nisbet deene islam se tasawuraati hai. koi baat nahin, is ko khud bhi theek tarah se seekho aur doosrun ko bhi theek tarah se sikhaao. jab maloom ho jaaye us ko naafiz karo. aise kaam ziyaada dair nahin chale ga. foj pakistan ke logoon ki hai agar log aapas main ladte rahen ge to aakhire kar foj bhi aisa hi kare gi.

apni saheeh bunyad yani deene islam ko dhoodo jis ki bunyaad per pakistan banaaya gayaa tha. For a detailed explanation of things about the quran and deen of islam see HERE and HERE
 

muhammadadeel

Chief Minister (5k+ posts)
یہاں صرف ایک مسلمان ہے جو عمران خان ہے
باقی کوئی دھڑنا کرنے، خدانخاستا ڈاڑھی رکھی ہو

تو بس دھشت گرد
 

bhaibarood

Chief Minister (5k+ posts)
boot polshiyon ki cheekain asmaano tak jarahee hain
ARMY establishment is behind over throwing of elected govts
 

PIND-WALA

Minister (2k+ posts)
PTI can actually gain lot of gravy points by implementung court decision. Although it might bring wrath of the boots but maybe they will sacrifice their own and allow the system to go.
 

Eyeaan

Minister (2k+ posts)
What a rotten logic! Don't question the armed forces, make everything halal for them, or else India will make fun of our sacred cows.
Sure criticize but stick to the facts and don't follow an agenda.
Political leaders and worker's opinions and criticism is different by nature and is welcome, but the higher court must clarify the merits and legality of the judgment, supposedly given by an activist judge with a personal grudge.

Army as an institution has a right for appeal (which will be done through the relevant ministry) --

But why are you itched:!! Rather you should be happy that the propagandist of the similar kind would have opportunity to spew further venom against forces during the appeal proceedings. And if the court will accept the appeal you might abuse the court and blame Pak forces for pressurizing. It is a win-win for your kind.
 

kingQ

Minister (2k+ posts)
Sure criticize but stick to the facts and don't follow an agenda.
Political leaders and worker's opinions and criticism is different by nature and is welcome, but the higher court must clarify the merits and legality of the judgment, supposedly given by an activist judge with a personal grudge.

Army as an institution has a right for appeal (which will be done through the relevant ministry) --

But why are you itched:!! Rather you should be happy that the propagandist of the similar kind would have opportunity to spew further venom against forces during the appeal proceedings. And if the court will accept the appeal you might abuse the court and blame Pak forces for pressurizing. It is a win-win for your kind.
Why can't the political forces have an agenda when military doesn't need anyone's permission to have an agenda against political parties and elected governments? You can't have double standards, can you?

Military has a history of sabotaging democracy in this country. It's unique that this country's courts have had the audacity to expose the deep state within the elected democratic state.

If politicians can be criticised 24/7, Parliament can be vilified and the Constitution can be violated and disrespected, there shouldn't be holy cows because they carry guns are in military uniforms and leather boots.
 

Eyeaan

Minister (2k+ posts)
Why can't the political forces have an agenda when military doesn't need anyone's permission to have an agenda against political parties and elected governments? You can't have double standards, can you?

Military has a history of sabotaging democracy in this country. It's unique that this country's courts have had the audacity to expose the deep state within the elected democratic state.

If politicians can be criticised 24/7, Parliament can be vilified and the Constitution can be violated and disrespected, there shouldn't be holy cows because they carry guns are in military uniforms and leather boots.
My comment was limited to the court verdict which to say the least was vague and ill-constructed. was there an agenda and political purpose of the judge? imo yes. Forces have a right for appeal. that's all

As far as political criticism, reading of the events and history are concerned, political parties and worker have all rights to criticize and have programs against anyone and I'll always defend it (unless they purposely and blatantly lie or act for foreigners but that's very different issue).
Politics is all about differences about specific views, analysis of events and goals.
Of course, the worker who differ from your viewpoints and reading of the events and history do not think that your ideas/information and analysis is correct rather they think you are mistaken and erroneous.
You cannot force everyone to follow the versions that you have learnt.

be honest to observe your camp brushes aside every opposing view as by agents and with similar abuses. Your opponents are competent and appropriately well read/informed to take a position against your shallow view and readings. It is you who have been shutting up and scandalizing the opposite view - Unfortunately that is the part of narrative of certain parties which had worked for 30 years but finally failed. Shunning and abuse of political workers is your problem not ours.
 
Sponsored Link

Featured Discussions