فائز عیسی جونیئر

Qudsi

Senator (1k+ posts)
سپریم کورٹ نے سابق جج شوکت صدیقی کی اپیل سماعت کے لئے منظور کر لی
اب یہ جج مذہبی معاملات پربات بات پر آبدیدہ ہوجائے گا
فائز عیسی کی طرح بونگیاں مارے گا
اس نے اپنی ایک میڈیا ٹیم رکھی ہے جو آبدیدگی کی کوریج کرے گی.
فائز عیسی اس کی دھوتی بچائے گا اور یہ بڑھا ہو کر فائز عیسی اور اس کی بیوی کی لنگی بچائے گا.
 
Advertisement

peaceandjustice

Chief Minister (5k+ posts)
قوم پاکستان کی عدلیہ سے مکمل مایوس ہوچکی ھے لیکن اپنے اللّٰہ سے کبھی مایوس نہ ھے اور نہ ہوگی ۔ انشاء اللہ ظلم اور ظالم اپنے انجام کو پہنچے گیں جو ظالم + ظلم گزشتہ 40 سالوں سے اس ملک کی عوام اور ملک کے ساتھ کر رھے ہیں اور اس ملک کو لوٹ کر تباہ حال کر گئے ہیں ان کے لئے کوئی سزائیں نہیں کوئی رسیدیں نہیں کوئی منی ٹریل نہیں اور نہ کیسی کو جوابدہ ہیں ان ظالموں کا آخری انجام ضرور ہوگا انشاءاللہ
 

Dr Adam

Chief Minister (5k+ posts)
قوم پاکستان کی عدلیہ سے مکمل مایوس ہوچکی ھے لیکن اپنے اللّٰہ سے کبھی مایوس نہ ھے اور نہ ہوگی ۔ انشاء اللہ ظلم اور ظالم اپنے انجام کو پہنچے گیں جو ظالم + ظلم گزشتہ 40 سالوں سے اس ملک کی عوام اور ملک کے ساتھ کر رھے ہیں اور اس ملک کو لوٹ کر تباہ حال کر گئے ہیں ان کے لئے کوئی سزائیں نہیں کوئی رسیدیں نہیں کوئی منی ٹریل نہیں اور نہ کیسی کو جوابدہ ہیں ان ظالموں کا آخری انجام ضرور ہوگا انشاءاللہ


انشاءاللہ
 

Haha

Minister (2k+ posts)
Real face of Qazi Easa
غدار باپ کا کرپٹ بیٹا
یاد رہے کہ تاریخ جھوٹ نہیں بولتی۔
قیام پاکستان کے کچھ علاقوں میں عوامی ریفرینڈم کروانے کا فیصلہ کیا گیا جس میں عوام کی اکثریت نے پاکستان کے ساتھ الحاق کو ترجیح دی۔ بلوچستان میں البتہ گوروں نے یہ اصول اپنانے سے انکار کردیا، کیونکہ انگریز چاہتا تھا کہ بلوچستان آزاد حیثیت میں قائم رہے تاکہ برصغیر سے انخلا کے فوری بعد انگریز اپنی گورننس وہاں منتقل کردے اور پھر وہاں بیٹھ کر بتدریج خطے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرسکے۔ چنانچہ بلوچستان میں عوامی ریفرنڈم کی بجائے وہاں کے شاہی جرگے کے اکثریتی ووٹ کی بنا پر فیصلہ کرنے کا اعلان کردیا گیا۔
یہ نہایت حساس معاملہ تھا، اگر شاہی جرگہ الحاق پاکستان سے انکار کردیتا تو پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن بہت کمزور ہوجاتی۔
شاہی جرگے کے متعلق جان لیں۔ بلوچستان کے کچھ علاقے بشمول کوئٹہ، پشتین تو برطانوی ریاست کے زیرانتظام تھے، لیکن دوسرے علاقے بشمول ریاست قلات، ریاست خاران، ریاست مکران، ریاست لسبیلہ وغیرہ آزاد ہوا کرتے تھے۔ بلوچستان کے معاملات چلانے کیلئے انگریز نے ان علاقوں کے قبائلی سرداروں پر مشتمل ایک جرگہ بنا رکھا تھا جسے شاہی جرگہ کہا جاتا تھا جس کا صدر ایجنٹ ٹو گورنر جنرل آف برٹش انڈیا ہوتا تھا اور عام طور پر انگریز کا وفادار سمجھا جاتا تھا۔
جب الحاق پاکستان کا معاملہ شاہی جرگہ میں جانے کا فیصلہ ہوا تو کانگریس اور انگریزوں کو اطمینان ہوچکا تھا کہ جرگے کا اکثریتی فیصلہ ان کی مرضی کے مطابق آئے گا۔ یہ صورتحال چند قبائلی لیڈروں کیلئے قابل قبول نہ تھی کیونکہ وہ پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے تھے۔
اس وقت کاکڑ قبیلے کے سربراہ نواب محمد خان جوگیزئی آگے بڑھے اور انہوں نے اپنے ہم خیال قبائلی لیڈروں کو ساتھ ملا کر پاکستان کے حق میں مہم شروع کردی۔ دوسری طرف عبدالصمد اچکزئی بباہنگ دہل کانگریس کی حمایت میں سامنے آگئے اور قیام پاکستان کی مخالفت کرتے ہوئے لابنگ شروع کردی۔
نواب جوگیزئی کا ساتھ دینے کیلئے جمالی قبیلے کے میر جعفر خان جمالی آگے آئے اور انہوں نے بھی پاکستان کے حق میں کیمپین شروع کردی۔
دوسری طرف عبدالصمد اچکزئی نے جرگہ کے سرداروں سے کہنا شروع کردیا کہ اگر پاکستان کے ساتھ نہیں جاتے تو ہندوستان کی حکومت جرگہ کو فی الفور 18 کروڑ روپے نقد اور سالانہ ساڑھے چار کروڑ روپے بطور سپورٹ فنڈ دیا کرے گی۔ اتنی پرکشش آفر سن کر بہت سے سرداروں کا فیصلہ ڈگمگا سکتا تھا، چنانچہ نواب جوگیزئی اور جمالی نے بھرپور کیمپین شروع کی اور ہر سردار کے پاس جاکر قیام پاکستان کے حق میں ووٹ دینے کی سفارش کرنا شروع کردی۔
جس وقت نواب جوگیزئی، جمالی اور نسیم حجازی جیسے لوگ شاہی جرگہ کے اراکین کو پاکستان کیلئے قائل کرنے کی کوشش کررہے تھے، عین اسی وقت مسلم لیگ بلوچستان کے صوبائی صدر نے شاہی جرگہ کے صدر، ایجنٹ ٹو گورنر جنرل سے اپیل کی کہ شاہی جرگہ سے قلات، کاکڑ اور جمالی قبائل کے سرداروں کو نکال دیا جائے۔ یہ مطالبہ حیران کن تھا، کیونکہ اگر ان سرداروں کو نکال دیا جاتا تو پھر قیام پاکستان کے حق میں ووٹ ڈالنے والا کوئی نہ رہتا۔
ریفرینڈم کی تاریخ 29 جون کو طے ہوئی تھی اور اس وقت تک نواب جوگیزئی اپنے ساتھ اچھی خاصی حمایت اکٹھی کرچکے تھے۔ لیکن بلوچستان مسلم لیگ کے صوبائی صدر کی درخواست کا جائزہ لینے کیلئے شاہی جرگہ صدر نے 28 جون کی رات اعلان کردیا کہ 29 جون کے اجلاس میں صرف وائسرائے کا پیغام پڑھ کر سنایا جائے گا، اور ووٹ 3 جولائی کو ڈالا جائے گا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ اگلے چند دنوں کے اندر جرگہ کی کمپوزیشن تبدیل کی جاسکے۔
نواب جوگیزئی، نسیم حجازی اور جمالی کو سازش کی بھنک پڑچکی تھی، چنانچہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ اگلے دن وائسرائے کا پیغام پڑھنے کے فوراً سب قبائلی سردار کھڑے ہوکر پاکستان میں شمولیت کا اعلان کردیں گے۔
اگلے دن 29 جون کو اجلاس شروع ہوا، وائسرائے کا پیغام پڑھا گیا اور اس کے فوراً بعد جوگیزئی، جمالی، کاکڑ اور دوسرے قبائل کے سرداران اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے اور اعلان کردیا کہ وہ پاکستان میں شمولیت چاہتے ہیں۔
65 کے جرگے میں 40 سے زائد سرداران نے جب یہ اعلان کردیا تو پھر 3 جولائی کے اجلاس کی اہمیت ختم ہوگئی اور یوں بلوچستان اللہ کی مہربانی سے پاکستان کا حصہ بن گیا۔
جاننا چاہیں گے کہ مسلم لیگ بلوچستان کا صوبائی صدر کون تھا جس نے شاہی جرگہ سے پاکستان کے حامی سرداروں کو نکالنے کی سفارش کی؟
اس کا نام قاضی عیسیٰ تھا جو کہ سپریم کورٹ کے موجودہ جج قاضی فائز عیسی کا باپ ہے۔ جی ہاں، وہی قاضی فائز عیسیٰ کہ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ تحریک پاکستان کے فرزند کا بیٹا ہے، درحقیقت قاضی عیسیٰ ایک خودپسند، اناپرست شخص تھا جس نے اپنی ذاتی خواہشات کی وجہ سے پورے بلوچستان کی شمولیت خطرے میں ڈال دی تھی۔
اوپر بیان کئے گئے واقعات تاریخ کا حصہ ہیں۔
آخر میں سلام ان بلوچ لیڈروں کو، جنہوں نے 1947 میں کروڑوں کی آفرز ٹھکرا کر پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔
قاضی عیسیٰ ان بلوچ اور پختون لیڈروں کی دھول کے برابر بھی نہیں!!!
منقول
مصنف قیوم نظامی
کتاب:قائد اعظم بحیثیت گورنر جرنل
Posted as received
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs خبریں