غریب کاکوئی خیال نہیں،نواز شریف ہوتو ساری مشینری چل پڑیگی:اسلام آبادہائیکوٹ

nawaz-ihc-and-po.jpg


اسلام آباد ہائیکورٹ میں جعلی دستاویزات پر پاکستان لائے جانے والے برمی منشیات اسمگلر ابراہیم کوکو کو ڈی پورٹ کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،عدالت نے ابراہیم کو مقامی شیورٹی اور کچھ شرائط پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ نواز شریف کی بات ہو تو ساری مشینری چل پڑیگی،غریب کا کوئی خیال نہیں کرتا،کیا 2016 سے بری ہوا آج 2022 ہے چھ سال سے وہ جیل میں غیر قانونی پڑا ہے
یہ ہے ریاست پاکستان ہے آپ نے ایک انسان کے ساتھ یہ سلوک ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ایف آئی اے والے جعلی دستاویزات پر کوکو ابراہیم کو یہاں لیکر آئے ، یہاں اس کو سزا ہوئی، پھر بری ہو کر پانچ سال سے جیل میں پڑا ہے ، اس کو اپنے ملک میں بھی معاف مل چکی ، یہ غیر ملکی ہے پاکستانی نہیں ہے، ادھر نواز شریف کی اگر بات ہو تو ساری مشینری چل پڑے گی۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے مزید کہا کہ اس کا مطلب ہے کورٹ آرڈر نا کرے تو سو سال وہ جیل میں ہی پڑا رہے، 2016 سے بری ہوا آج 2022 ہے چھ سال سے وہ جیل میں غیر قانونی پڑا ہے، حالت یہ ہے اگر کسی کو ایک فرد بھی لینا ہو تو اس کو بھی ہائی کورٹ آنا پڑتا ہے ، یہ وہ معاملہ ہے جو اسٹیٹ کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے،پاکستانی اداروں کے ساتھ مل کر آپ کے اسٹاف نے جعلی دستاویزات بنائے ہیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ایک پاکستانی اس کو تھائی لینڈ جیل میں کہتا ہے تمہیں ہم پاکستان سے بری کرا لیں گے ، اس کا سرگودھا کا ایڈریس بنا دیا گیا اس کے ماں باپ بھی یہاں کے بنا دیے گئے ، ہم اس ملک میں رہنے کے قابل نہیں ہیں، ہم نے اس ریاست کی اس حد تک توہین کردی ہے۔

عدالت نے ہدایت کی کہ جب تک کوکو کی واپسی نہیں ہوتی تب تک ایف آئی اے نے اس کو پاکستان رکنے کی اجازت دینی ہے، اسے جیل میں مزید رکھنا غیر قانونی ہے عدالت پہلے بھی فیصلہ دے چکی ہے ، جب تک اس کو واپس میانمار بھیجنے کے انتظامات نہیں ہوتے اس کو ریاست جگہ دے،عدالت نے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 18 جولائی تک ملتوی کردی۔

ایکسپریس نیوز کے صحافی صادق بشیر کے مطابق میانمار کا شہری کوکو ابراہیم تھائی لینڈ کی عدالت میں منشیات اسمگلنگ کیس میں 35 سال کی سزا کاٹ رہا تھا،جیل میں موجود ایک پاکستانی نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان لے جاکر بری کرالیں گے پھر اس کو خوشاب کا شہری بنایا گیا،شناختی کارڈ پاسپورٹ تیار ہوا اس کے مائی باپ بنائے گئے۔


جب اسے یہاں لایا گیا تو پکڑا گیا اڈیالہ جیل پہنچا 2016 میں بری ہو گیا، اب واپس بھیجنے کے لیے کوئی تیار نہیں تھا،اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس آیا عدالت نے اسے واپس بھیجنے کا حکم دیا اس کو سہولت فراہم کرانے والوں کے خلاف کاروائی کا حکم ہوا لیکن عدالتی فیصلے پر عمل نا ہوا۔

 
Advertisement

thinking

Prime Minister (20k+ posts)
Adalat khali remarks mat de.Ye aik insan k sath intahae zulam howa ha.Ye jitnay saal jail m begunah raha us ki saza un adaro ko bhi milni chahay jinho ne is ke fake documents banaya..Jab tak ap baro ko tango gey nahi mulk m aisa zulam hota rehay ga.
 

Cape Kahloon

Chief Minister (5k+ posts)
Justice Muhsan Keyani sahab keya ap ko nae psta?
Islamabad oor Lahore High courts tu bani he Nawaz, Meryam oor Hamza ko furi insaf denay kay leay hain.
 

Londoner/Lahori

Minister (2k+ posts)
Soft martial law is now turning into Hard Martial Law, firstly Bajwa & co has killed whatever form of democracy was there, now they’re upping the anti, November 29th, Bajwa will be 4th Chief Martial Law Administrator of Pakistan.
 

Cape Kahloon

Chief Minister (5k+ posts)
Lakh de lanat ha ess adalti nezam per,
keya IHC nay Nadra kay officers ko saza de jiss nay iss banday ka I'd card banaya?
Keya IHC nay Passport banay walay officers ko saza de jiss nay Passport banaya?
Wassay tu judges ke bohot zaban chalti ha.
 

SharpAsKnife

Minister (2k+ posts)
Muh ki bachodian karwa lo in judges say
Adalat chor kar politics join kar lo agar bhashan denay hain warna danday ke zor par kaam karwao
 
Sponsored Link