عمران نیازی، ڈی ایچ اے کی چوری چھپاتے ہوئے پکڑے گئے۔

SaRashid

Minister (2k+ posts)
ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کے آڈٹ میں ناکامی پر وفاقی حکومت کی سرزنش کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ لگتا ہی ڈی ایچ اے، حکومت کے اندر ایک حکومت ہے۔

سپریم کورٹ میں جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے ڈی ایچ اے کے آڈٹ سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

سماعت میں عدالتی احکامات پر عملدآمد نہ ہونے پر ججز نے حکومت اور ہاؤسنگ اتھارٹی پر برہمی کا اظہار کیا۔

سماعت میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے ڈی ایچ اے کے آڈٹ کا حکم دیا تھا، آڈٹ نہ کروا کر ڈی ایچ اے توہین عدالت کر رہا ہے، ڈی ایچ اے کو آڈٹ میں مسئلہ کیا ہے؟

واضح رہے کہ ستمبر 2015 میں عدالت عظمیٰ نے ڈی ایچ اے کے اس دعوے کو غیر منصفانہ قرار دیا تھا جس میں اس نے کہا تھا کہ اس کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال نہیں جاسکتی اور آڈیٹر جنرل پاکستان کو ڈی ایچ اے کے اکاؤنٹس کا آڈٹ کرنے کا حکم دیا تھا، یہ حکم 156کنال زمین کی ملکیت کے حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران دیا گیا تھا۔

ڈی ایچ کے آڈٹ میں ناکامی پر وفاقی حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ کیا عدالت حکومت کو قانون پڑھائے گی؟ حکومت لکھ کر دے کہ اسے قانون سمجھ نہیں آتا۔

دوسری جانب عدالت کے حکم کی پیروی نہ کرنے پر جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کیا عدالت حکومت کی متبادل ہے؟

انہوں نے کہ کہا کہ ہر کام اور حکم عدالت کو ہی کیوں دینا پڑتا ہے؟ کیا حکومت، سپریم کورٹ کے حوالے کردی گئی ہے؟ لگتا ہے ڈی ایچ اے حکومت کے اندر ایک حکومت ہے۔

سماعت میں ڈی ایچ اے کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے تیاری کے لیے وقت مانگا، جس پر عدالت نے سماعت 2 ہفتے کے لیے ملتوی کردی گئی۔

24 جولائی کو ڈاڈھوچہ ڈیم سے ملحق جھیل کے لیے مختص زمین پر ڈی ایچ اے وادی کی تعمیر کے خلاف دائر کی گئی ایک شکایت کی سماعت کے دوران ڈی ایچ اے کی حیثیت زیرِ بحث آئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ پاک فوج کا ریئل اسٹیٹ کا ایک ادارہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے)، کیا کسی نگرانی کے بغیر کام کررہا ہے یا یہ وفاقی حکومت کو جوابدہ ہے؟

اکبر تارڑ نے عدالت کو مطلع کیا کہ فوج کے ایک ماتحت جنرل کی سربراہی میں ڈی ایچ اے ایک قانونی ادارہ ہے لیکن یہ دونوں قانونی افسران یہ واضح نہیں کرسکے کہ کیا وفاقی حکومت ڈی ایچ اے کی جانچ پڑتال کا کوئی اختیار رکھتی ہے۔

جس پر نیب کے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ ڈی ایچ اے کے ایکٹ 2013 کے تحت یہ اتھارٹی شہیدوں کے سوگوار خاندانوں، جنگ میں زخمی اور معذور ہوجانے والوں اور مسلح افواج کے عہدے داروں کو رہائش کی سہولت فراہم کرتی ہے۔

اس کے جواب میں عدالتی بینچ نے سوال کیا تھا کہ کیا وفاقی حکومت ڈی ایچ اے کی مختلف رہائشی اسکیموں میں سوگوار خاندانوں، زخمیوں اور معذوروں کو الاٹ کی گئی زمین کے بارے میں تفصیلات فراہم کرسکتی ہے؟

عدالتی بینچ نے وفاقی حکومت کے وکیل سے کہا تھا کہ وہ عدالت کو آگاہ کریں کہ کیا ڈی ایچ اے کسی اتھارٹی کو جوابدہ ہے یا نہیں۔

بعدازاں 4 مئی 2018 کو بحریہ ٹاؤن کے خلاف دیے گئے سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کو کوڑیوں کے بھاؤ زمین دی گئی، اس پر عدالت درخواست کرتی ہے کہ چیف جسٹس ڈی ایچ اے کراچی کو زمین دینے کے معاملے کا ازخود نوٹس لیں۔

یکم جنوری 2019 کو ایڈن ہاؤسنگ اسکیم کے کیس کی سماعت کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا تھا کہ کیا ہاؤسنگ سوسائٹیز بنانا فوج کا کام ہے؟ کس ملک کی فوج ہاؤسنگ اسکیمز چلا رہی ہیں؟

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ فوج کا کام ہے کہ وہ سرحدوں پر ملک کی حفاظت کرے نہ کہ کمرشل سرگرمیوں میں حصہ لے،کیا ڈی ایچ اے نے یہ ہمارے شہدا کے لیے کیا، ڈی ایچ اے شہدا کے لیے کچھ کرتا تو یہ الگ بات تھی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ جب جب آپ ہاؤسنگ اسکیموں میں گئے آپ کا نام خراب ہوا، آپ نے جو زمینیں خریدیں وہ متنازع تھیں اور ایسا کرکے آپ نے اپنی ساکھ بھی بیچ دی۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ آپ لوگ (ڈی ایچ اے) بیواؤں اور شہیدوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرکے اپنا کاروبار چلاتے ہیں اور ان کے نام پر رائلٹی لیتے ہیں۔


 
Advertisement

jeelu

Minister (2k+ posts)
lolziyann aray bhai muqadma shuru 2015 mein hua tha :/ tub kiski the hakumat? Yaad nahi? Leader jail gaya lagta yadasht b le gaya haha
 

BrotherKantu

Chief Minister (5k+ posts)
No time to read stupid threads. You are on my ignored list.

Every one else can put these stupid posters on ignore list too to get rid off garbage from this site.

Click on stupid posters icon and click ignore, that’s it.


I
 

SaRashid

Minister (2k+ posts)
No time to read stupid threads. You are on my ignored list.

Every one else can put these stupid posters on ignore list too to get rid off garbage from this site.

Click on stupid posters icon and click ignore, that’s it.


I
پوٹی چوروں کے پاس جواب کوئی نہیں۔ بس لنگوٹی چھوڑ کر بھاگنے میں عافیت ہے۔
کبھی کوئی تھریڈ بہت زیادہ برا لگے، جیسے کہ کل لگا، تو اس کو کسی غیر متعلقہ تھریڈ میں ضم کروادیتے ہیں، بھگوڑے بے غیرت۔
 

Islamabadiya

Senator (1k+ posts)
well dha's audit and courts' remarks shouldnt be ignored on the pretext of who posted this thread or what is the title
 

عمر

MPA (400+ posts)
ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کے آڈٹ میں ناکامی پر وفاقی حکومت کی سرزنش کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ لگتا ہی ڈی ایچ اے، حکومت کے اندر ایک حکومت ہے۔

سپریم کورٹ میں جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے ڈی ایچ اے کے آڈٹ سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

سماعت میں عدالتی احکامات پر عملدآمد نہ ہونے پر ججز نے حکومت اور ہاؤسنگ اتھارٹی پر برہمی کا اظہار کیا۔

سماعت میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے ڈی ایچ اے کے آڈٹ کا حکم دیا تھا، آڈٹ نہ کروا کر ڈی ایچ اے توہین عدالت کر رہا ہے، ڈی ایچ اے کو آڈٹ میں مسئلہ کیا ہے؟

واضح رہے کہ ستمبر 2015 میں عدالت عظمیٰ نے ڈی ایچ اے کے اس دعوے کو غیر منصفانہ قرار دیا تھا جس میں اس نے کہا تھا کہ اس کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال نہیں جاسکتی اور آڈیٹر جنرل پاکستان کو ڈی ایچ اے کے اکاؤنٹس کا آڈٹ کرنے کا حکم دیا تھا، یہ حکم 156کنال زمین کی ملکیت کے حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران دیا گیا تھا۔

ڈی ایچ کے آڈٹ میں ناکامی پر وفاقی حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ کیا عدالت حکومت کو قانون پڑھائے گی؟ حکومت لکھ کر دے کہ اسے قانون سمجھ نہیں آتا۔

دوسری جانب عدالت کے حکم کی پیروی نہ کرنے پر جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کیا عدالت حکومت کی متبادل ہے؟

انہوں نے کہ کہا کہ ہر کام اور حکم عدالت کو ہی کیوں دینا پڑتا ہے؟ کیا حکومت، سپریم کورٹ کے حوالے کردی گئی ہے؟ لگتا ہے ڈی ایچ اے حکومت کے اندر ایک حکومت ہے۔

سماعت میں ڈی ایچ اے کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے تیاری کے لیے وقت مانگا، جس پر عدالت نے سماعت 2 ہفتے کے لیے ملتوی کردی گئی۔

24 جولائی کو ڈاڈھوچہ ڈیم سے ملحق جھیل کے لیے مختص زمین پر ڈی ایچ اے وادی کی تعمیر کے خلاف دائر کی گئی ایک شکایت کی سماعت کے دوران ڈی ایچ اے کی حیثیت زیرِ بحث آئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ پاک فوج کا ریئل اسٹیٹ کا ایک ادارہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے)، کیا کسی نگرانی کے بغیر کام کررہا ہے یا یہ وفاقی حکومت کو جوابدہ ہے؟

اکبر تارڑ نے عدالت کو مطلع کیا کہ فوج کے ایک ماتحت جنرل کی سربراہی میں ڈی ایچ اے ایک قانونی ادارہ ہے لیکن یہ دونوں قانونی افسران یہ واضح نہیں کرسکے کہ کیا وفاقی حکومت ڈی ایچ اے کی جانچ پڑتال کا کوئی اختیار رکھتی ہے۔

جس پر نیب کے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ ڈی ایچ اے کے ایکٹ 2013 کے تحت یہ اتھارٹی شہیدوں کے سوگوار خاندانوں، جنگ میں زخمی اور معذور ہوجانے والوں اور مسلح افواج کے عہدے داروں کو رہائش کی سہولت فراہم کرتی ہے۔

اس کے جواب میں عدالتی بینچ نے سوال کیا تھا کہ کیا وفاقی حکومت ڈی ایچ اے کی مختلف رہائشی اسکیموں میں سوگوار خاندانوں، زخمیوں اور معذوروں کو الاٹ کی گئی زمین کے بارے میں تفصیلات فراہم کرسکتی ہے؟

عدالتی بینچ نے وفاقی حکومت کے وکیل سے کہا تھا کہ وہ عدالت کو آگاہ کریں کہ کیا ڈی ایچ اے کسی اتھارٹی کو جوابدہ ہے یا نہیں۔

بعدازاں 4 مئی 2018 کو بحریہ ٹاؤن کے خلاف دیے گئے سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کو کوڑیوں کے بھاؤ زمین دی گئی، اس پر عدالت درخواست کرتی ہے کہ چیف جسٹس ڈی ایچ اے کراچی کو زمین دینے کے معاملے کا ازخود نوٹس لیں۔

یکم جنوری 2019 کو ایڈن ہاؤسنگ اسکیم کے کیس کی سماعت کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا تھا کہ کیا ہاؤسنگ سوسائٹیز بنانا فوج کا کام ہے؟ کس ملک کی فوج ہاؤسنگ اسکیمز چلا رہی ہیں؟

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ فوج کا کام ہے کہ وہ سرحدوں پر ملک کی حفاظت کرے نہ کہ کمرشل سرگرمیوں میں حصہ لے،کیا ڈی ایچ اے نے یہ ہمارے شہدا کے لیے کیا، ڈی ایچ اے شہدا کے لیے کچھ کرتا تو یہ الگ بات تھی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ جب جب آپ ہاؤسنگ اسکیموں میں گئے آپ کا نام خراب ہوا، آپ نے جو زمینیں خریدیں وہ متنازع تھیں اور ایسا کرکے آپ نے اپنی ساکھ بھی بیچ دی۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ آپ لوگ (ڈی ایچ اے) بیواؤں اور شہیدوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرکے اپنا کاروبار چلاتے ہیں اور ان کے نام پر رائلٹی لیتے ہیں۔



well dha's audit and courts' remarks shouldnt be ignored on the pretext of who posted this thread or what is the title
Wasn't the audit ordered in 2015?🤔🤔🤔
 

SaRashid

Minister (2k+ posts)
Wasn't the audit ordered in 2015?🤔🤔🤔
اس سوال کا جواب آپ عدالت عالیہ سے طلب کریں کہ 2015 کے آڈٹ کی ہدایت پر 2019 میں محاسبہ کیوں کیا جارہا ہے۔
میرا خیال ہے عدلیہ نااہل اور پاجی ہے۔ پوٹیوں کی عقل سے منطق لڑانے کی کوشش کر رہی ہے۔
 

عمر

MPA (400+ posts)
اس سوال کا جواب آپ عدالت عالیہ سے طلب کریں کہ 2015 کے آڈٹ کی ہدایت پر 2019 میں محاسبہ کیوں کیا جارہا ہے۔
میرا خیال ہے عدلیہ نااہل اور پاجی ہے۔ پوٹیوں کی عقل سے منطق لڑانے کی کوشش کر رہی ہے۔
I fail to understand your logic. Audit was ordered by the court in 2015. That is written in the news you have shared. So how is it the court's fault or IK's fault? 2015 to 2018 was PMLN govt. No?
 

Educationist

Chief Minister (5k+ posts)
ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کے آڈٹ میں ناکامی پر وفاقی حکومت کی سرزنش کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ لگتا ہی ڈی ایچ اے، حکومت کے اندر ایک حکومت ہے۔

سپریم کورٹ میں جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے ڈی ایچ اے کے آڈٹ سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

سماعت میں عدالتی احکامات پر عملدآمد نہ ہونے پر ججز نے حکومت اور ہاؤسنگ اتھارٹی پر برہمی کا اظہار کیا۔

سماعت میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے ڈی ایچ اے کے آڈٹ کا حکم دیا تھا، آڈٹ نہ کروا کر ڈی ایچ اے توہین عدالت کر رہا ہے، ڈی ایچ اے کو آڈٹ میں مسئلہ کیا ہے؟

واضح رہے کہ ستمبر 2015 میں عدالت عظمیٰ نے ڈی ایچ اے کے اس دعوے کو غیر منصفانہ قرار دیا تھا جس میں اس نے کہا تھا کہ اس کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال نہیں جاسکتی اور آڈیٹر جنرل پاکستان کو ڈی ایچ اے کے اکاؤنٹس کا آڈٹ کرنے کا حکم دیا تھا، یہ حکم 156کنال زمین کی ملکیت کے حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران دیا گیا تھا۔

ڈی ایچ کے آڈٹ میں ناکامی پر وفاقی حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ کیا عدالت حکومت کو قانون پڑھائے گی؟ حکومت لکھ کر دے کہ اسے قانون سمجھ نہیں آتا۔

دوسری جانب عدالت کے حکم کی پیروی نہ کرنے پر جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کیا عدالت حکومت کی متبادل ہے؟

انہوں نے کہ کہا کہ ہر کام اور حکم عدالت کو ہی کیوں دینا پڑتا ہے؟ کیا حکومت، سپریم کورٹ کے حوالے کردی گئی ہے؟ لگتا ہے ڈی ایچ اے حکومت کے اندر ایک حکومت ہے۔

سماعت میں ڈی ایچ اے کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے تیاری کے لیے وقت مانگا، جس پر عدالت نے سماعت 2 ہفتے کے لیے ملتوی کردی گئی۔

24 جولائی کو ڈاڈھوچہ ڈیم سے ملحق جھیل کے لیے مختص زمین پر ڈی ایچ اے وادی کی تعمیر کے خلاف دائر کی گئی ایک شکایت کی سماعت کے دوران ڈی ایچ اے کی حیثیت زیرِ بحث آئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ پاک فوج کا ریئل اسٹیٹ کا ایک ادارہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے)، کیا کسی نگرانی کے بغیر کام کررہا ہے یا یہ وفاقی حکومت کو جوابدہ ہے؟

اکبر تارڑ نے عدالت کو مطلع کیا کہ فوج کے ایک ماتحت جنرل کی سربراہی میں ڈی ایچ اے ایک قانونی ادارہ ہے لیکن یہ دونوں قانونی افسران یہ واضح نہیں کرسکے کہ کیا وفاقی حکومت ڈی ایچ اے کی جانچ پڑتال کا کوئی اختیار رکھتی ہے۔

جس پر نیب کے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ ڈی ایچ اے کے ایکٹ 2013 کے تحت یہ اتھارٹی شہیدوں کے سوگوار خاندانوں، جنگ میں زخمی اور معذور ہوجانے والوں اور مسلح افواج کے عہدے داروں کو رہائش کی سہولت فراہم کرتی ہے۔

اس کے جواب میں عدالتی بینچ نے سوال کیا تھا کہ کیا وفاقی حکومت ڈی ایچ اے کی مختلف رہائشی اسکیموں میں سوگوار خاندانوں، زخمیوں اور معذوروں کو الاٹ کی گئی زمین کے بارے میں تفصیلات فراہم کرسکتی ہے؟

عدالتی بینچ نے وفاقی حکومت کے وکیل سے کہا تھا کہ وہ عدالت کو آگاہ کریں کہ کیا ڈی ایچ اے کسی اتھارٹی کو جوابدہ ہے یا نہیں۔

بعدازاں 4 مئی 2018 کو بحریہ ٹاؤن کے خلاف دیے گئے سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کو کوڑیوں کے بھاؤ زمین دی گئی، اس پر عدالت درخواست کرتی ہے کہ چیف جسٹس ڈی ایچ اے کراچی کو زمین دینے کے معاملے کا ازخود نوٹس لیں۔

یکم جنوری 2019 کو ایڈن ہاؤسنگ اسکیم کے کیس کی سماعت کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا تھا کہ کیا ہاؤسنگ سوسائٹیز بنانا فوج کا کام ہے؟ کس ملک کی فوج ہاؤسنگ اسکیمز چلا رہی ہیں؟

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ فوج کا کام ہے کہ وہ سرحدوں پر ملک کی حفاظت کرے نہ کہ کمرشل سرگرمیوں میں حصہ لے،کیا ڈی ایچ اے نے یہ ہمارے شہدا کے لیے کیا، ڈی ایچ اے شہدا کے لیے کچھ کرتا تو یہ الگ بات تھی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ جب جب آپ ہاؤسنگ اسکیموں میں گئے آپ کا نام خراب ہوا، آپ نے جو زمینیں خریدیں وہ متنازع تھیں اور ایسا کرکے آپ نے اپنی ساکھ بھی بیچ دی۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ آپ لوگ (ڈی ایچ اے) بیواؤں اور شہیدوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرکے اپنا کاروبار چلاتے ہیں اور ان کے نام پر رائلٹی لیتے ہیں۔


اب رنڈی رونا کس بات کا؟ کرواؤ نا انہی اسپتالوں سے علاج جن کی بڑھکیں
الیکشن مہم میں مارتے تھے


 

SaRashid

Minister (2k+ posts)
I fail to understand your logic. Audit was ordered by the court in 2015. That is written in the news you have shared. So how is it the court's fault or IK's fault? 2015 to 2018 was PMLN govt. No?
اب تو آپ ہیں نہ۔ 8، 9 مہینے ہو گئے، اب تو مان لیجیۓ کہ آپ کی حکومت آگئی ہے۔ اور جب حکومت آگئی ہے تو 8، 9 مہینوں میں آڈٹ نہ ہوسکا؟ 2015 میں جاری ہونے والا حکم، نیازی جی کے وزیراعظم بنتے ہی وفات تھوڑی پاجائے گا؟
 

عمر

MPA (400+ posts)
اب تو آپ ہیں نہ۔ 8، 9 مہینے ہو گئے، اب تو مان لیجیۓ کہ آپ کی حکومت آگئی ہے۔ اور جب حکومت آگئی ہے تو 8، 9 مہینوں میں آڈٹ نہ ہوسکا؟ 2015 میں جاری ہونے والا حکم، نیازی جی کے وزیراعظم بنتے ہی وفات تھوڑی پاجائے گا؟
But the title suggests it is only IK's fault. Your criticism cannot be taken seriously if it is half truth. In this case maybe it is 30%. Do not spread lies just because you wish to blame IK daily out of habit or for the sake of your job.
 

SaRashid

Minister (2k+ posts)
But the title suggests it is only IK's fault. Your criticism cannot be taken seriously if it is half truth. In this case maybe it is 30%. Do not spread lies just because you wish to blame IK daily out of habit or for the sake of your job.
اس میں جھوٹ یا آدھا جھوٹ کیا ہے بھائی؟ عدلیہ کوئی میری مرضی سے فیصلے دیتی ہے جو میں بلاوجہ یہ بولوں کہ عمران نیازی کی 30٪ غلطی ہے، باقی 70٪ غلطی نون لیگ والوں کی ہے۔
ویسے ذرا حساب لگائیے کہ 8 مہینوں میں آپ نے 30٪ غلطی کر لی ہے، اب باقی 18 مہینوں میں پورے 100٪ غلطی کرنے کے قابل ہوجائیں گے ناں؟
 

عمر

MPA (400+ posts)
اس میں جھوٹ یا آدھا جھوٹ کیا ہے بھائی؟ عدلیہ کوئی میری مرضی سے فیصلے دیتی ہے جو میں بلاوجہ یہ بولوں کہ عمران نیازی کی 30٪ غلطی ہے، باقی 70٪ غلطی نون لیگ والوں کی ہے۔
ویسے ذرا حساب لگائیے کہ 8 مہینوں میں آپ نے 30٪ غلطی کر لی ہے، اب باقی 18 مہینوں میں پورے 100٪ غلطی کرنے کے قابل ہوجائیں گے ناں؟
You are blaming the whole thing on IK which PMLN could not do in 3 years. How is that not dishonesty? Why was PMLN not caught defending the stealing of DHA by you? Due to your bias? By the way, what has judiciary got to do with it. They have given the order to carry out the audit.
 

SaRashid

Minister (2k+ posts)
You are blaming the whole thing on IK which PMLN could not do in 3 years. How is that not dishonesty? Why was PMLN not caught defending the stealing of DHA by you? Due to your bias? By the way, what has judiciary got to do with it. They have given the order to carry out the audit.
میرے دوست، اس بات کا جواب سادہ سا ہے۔
نون لیگ والے اور ڈی ایچ اے والے (فوج) ایک پیج پر نہیں تھے۔ اس بات کو تو سب ہی مانتے ہیں۔
آپ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ عمران نیازی کی حکومت اور فوج ایک ہی پیج پر ہیں، اور یہ درست بات ہے۔
تو نون لیگ والوں پر الزام اسی وجہ سے نہیں لگ سکتا کیوں کہ فوج تو خود ان کی جانوں کی دشمن تھی، نون والوں کی کیا مجال جو ڈی ایچ اے کا کان مروڑتے۔
ہاں عمران نیازی کی حکومت میں یہ کام ہو تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ حکومت فوج کی وفادار اور اس کی بے قاعدگیوں اور بدعنوانیوں میں شریک ہے۔
 

عمر

MPA (400+ posts)
میرے دوست، اس بات کا جواب سادہ سا ہے۔
نون لیگ والے اور ڈی ایچ اے والے (فوج) ایک پیج پر نہیں تھے۔ اس بات کو تو سب ہی مانتے ہیں۔
آپ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ عمران نیازی کی حکومت اور فوج ایک ہی پیج پر ہیں، اور یہ درست بات ہے۔
تو نون لیگ والوں پر الزام اسی وجہ سے نہیں لگ سکتا کیوں کہ فوج تو خود ان کی جانوں کی دشمن تھی، نون والوں کی کیا مجال جو ڈی ایچ اے کا کان مروڑتے۔
ہاں عمران نیازی کی حکومت میں یہ کام ہو تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ حکومت فوج کی وفادار اور اس کی بے قاعدگیوں اور بدعنوانیوں میں شریک ہے۔
I think it is the opposite. If IK is in cahoots with the Army, then why would he audit DHA? And if PMLN was not on the same page with Armed forces, all the more reason to audit them and embarrass them.
 
Sponsored Link

Featured Discussions