طالبان افغانستان میں جہاں چاہیں دفتر کھول لیں: اشرف غنی

atensari

Prime Minister (20k+ posts)
طالبان افغانستان میں جہاں چاہیں دفتر کھول لیں: اشرف غنی

کابل میں کچھ حلقوں میں اس حوالے سے ناراضگی پائی جاتی ہے کہ افغان طالبان افغان حکومت سے بات چیت کرنے پر راضی نہیں

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ وہ طالبان کے ملک کے کسی بھی شہر میں دفتر کھولنے کے لیے تیار ہیں۔

تاہم طالبان نے صدر اشرف غنی کی اس پیشکش کو مسترد کر دیا ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ عالمی برادری دوحا میں موجود طالبان کے دفتر کو تسلیم کرے۔

صوبہ ننگرہار کا دورہ کرتے ہوئے افغان صدر نے کہا کہ وہ افغانستان میں باوقار اور دیرپا امن لانا چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ قطر میں امریکہ اور افغان طالبان کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے جن میں امریکہ کے افغانستان سے انخلا اور ڈیڑھ دہائی سے زیادہ عرصے سے جاری اس جنگ کے اختتام کے حوالے سے اہم پیش رفت تو ہوئی اور امن معاہدے کے مسودے پر اتفاق بھی ہوا تاہم کوئی حتمی امن معاہدہ طے نہ پا سکا ہے۔

کابل میں کچھ حلقوں میں اس حوالے سے ناراضگی پائی جاتی ہے کہ افغان طالبان افغان حکومت سے بات چیت کرنے پر راضی نہیں بلکہ وہ صرف امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔

گذشتہ ماہ بھی افغان صدر نے طالبان کو براہ راست مذاکرات کی نئی پیشکش کی تھی، لیکن انھوں نے حکومت کو 'کٹھ پتلی' کہتے ہوئے مسترد کر دی تھی۔

یہ بھی پڑھیے
’طالبان کے ساتھ جولائی سے پہلے معاہدہ کرنا چاہتے ہیں‘
’افغانستان سے امریکی فوجیوں کا اچانک انخلا خطرناک ہو گا‘
’طالبان پورے افغانستان پر قبضے کے خواہاں نہیں ہیں'

طالبان کا موقف
امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات میں طالبان کی ٹیم کی سربراہی کرنے والے رہنما شیر محمد عباس ستنکزئی نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ طالبان افغانستان پر بزورِ طاقت قبضہ کرنے کی خواہش نہیں رکھتے۔

ماسکو میں بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم پورے ملک پر پر قبضہ کرنا نہیں چاہتے۔ اس سے افغانستان میں امن نہیں آئے گا‘۔

تاہم شیر محمد عباس ستنکزئی کا یہ بھی کہنا تھا کہ طالبان جنگ بندی پر اس وقت تک رضامند نہیں ہوں گے جب تک کہ تمام بیرونی افواج افغانستان سے نہیں چلی جاتیں۔

ابتدائی مرحلہ
یاد رہے کہ افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد نے کہا تھا کہ طالبان کے ساتھ بات چیت بالکل ابتدائی مرحلے میں ہے تاہم ہماری کوشش ہے کہ افغانستان میں طالبان کے ساتھ جولائی سے پہلے امن معاہدہ ہو جائے۔

واشنگٹن میں یو ایس اے انسٹیٹیوٹ آف پیس میں جمعے کی رات خطاب کرتے ہوئے زلمے خلیل نے کہا کہ ایک لمبے سفر کے آغاز کے ابھی دو تین قدم ہی اٹھائے ہیں۔

امریکہ کے خصوصی ایلچی کے مطابق طالبان فوری طور پر جنگ بندی کے لیے تیار نہیں ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان کے صدر اشرف غنی کو جولائی میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں بطور امید وار فائدہ ہوگا۔

امریکی ایلچی کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان سے بہتر تعلقات اور خطے میں امن سے پاکستان کو فائدہ ہوگا۔

زلمے خلیل زاد نے گذشتہ تقریباً ایک مہینے کے دوران طالبان کے نمائندوں سے تین مرتبہ ملاقاتیں کیں ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ نے مذاکراتی عمل کی کامیابی کے لیے خطے کے دیگر ممالک کے دورے بھی کیے ہیں۔

 
Advertisement

atensari

Prime Minister (20k+ posts)
امریکی وائسرائے انہیں پاکستان میں ڈھونڈتے پھرتے تھے اب افغانستان میں دفتر کھول کر دے رہے ہیں
 

chandaa

Chief Minister (5k+ posts)
What the so called peace makers achieved from this adventure other than butchering innocent civilians and getting ass kicked in return?
 

khalilqureshi

Senator (1k+ posts)
Taliban don't have to ask for permission from puppet President. Taliban have already occupied over 60% land of Afghanistan. American forces are limited to Kabul. Taliban can attack any part of Afghanistan at will. Afghan army is being killed at the rate of 45 per day. America is on table talk on Taliban terms and condition. In this background Puppet Presidents permission can only be dubbed as a Joke. Taliban must be laughing at this joker.
 

LeezaKhan

Minister (2k+ posts)
ایک مرد قلندر نے کہا تھا کچھ ایسا ہی۔
تب مان جاتے تو لاکھوں انسانوں کا خون نہ بہتا
لیکن تب تو سارے عقل کے اندھے "طالبان خان " کہنا شروع ہو گئے تھے
 

Saboo

Chief Minister (5k+ posts)
ایک مرد قلندر نے کہا تھا کچھ ایسا ہی۔
تب مان جاتے تو لاکھوں انسانوں کا خون نہ بہتا
لیکن تب تو سارے عقل کے اندھے "طالبان خان " کہنا شروع ہو گئے تھے
Bilkul sahih kaha tum nay Leeza!
 

Saboo

Chief Minister (5k+ posts)
طالبان افغانستان میں جہاں چاہیں دفتر کھول لیں: اشرف غنی

کابل میں کچھ حلقوں میں اس حوالے سے ناراضگی پائی جاتی ہے کہ افغان طالبان افغان حکومت سے بات چیت کرنے پر راضی نہیں

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ وہ طالبان کے ملک کے کسی بھی شہر میں دفتر کھولنے کے لیے تیار ہیں۔

تاہم طالبان نے صدر اشرف غنی کی اس پیشکش کو مسترد کر دیا ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ عالمی برادری دوحا میں موجود طالبان کے دفتر کو تسلیم کرے۔

صوبہ ننگرہار کا دورہ کرتے ہوئے افغان صدر نے کہا کہ وہ افغانستان میں باوقار اور دیرپا امن لانا چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ قطر میں امریکہ اور افغان طالبان کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے جن میں امریکہ کے افغانستان سے انخلا اور ڈیڑھ دہائی سے زیادہ عرصے سے جاری اس جنگ کے اختتام کے حوالے سے اہم پیش رفت تو ہوئی اور امن معاہدے کے مسودے پر اتفاق بھی ہوا تاہم کوئی حتمی امن معاہدہ طے نہ پا سکا ہے۔

کابل میں کچھ حلقوں میں اس حوالے سے ناراضگی پائی جاتی ہے کہ افغان طالبان افغان حکومت سے بات چیت کرنے پر راضی نہیں بلکہ وہ صرف امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔

گذشتہ ماہ بھی افغان صدر نے طالبان کو براہ راست مذاکرات کی نئی پیشکش کی تھی، لیکن انھوں نے حکومت کو 'کٹھ پتلی' کہتے ہوئے مسترد کر دی تھی۔

یہ بھی پڑھیے
’طالبان کے ساتھ جولائی سے پہلے معاہدہ کرنا چاہتے ہیں‘
’افغانستان سے امریکی فوجیوں کا اچانک انخلا خطرناک ہو گا‘
’طالبان پورے افغانستان پر قبضے کے خواہاں نہیں ہیں'


طالبان کا موقف
امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات میں طالبان کی ٹیم کی سربراہی کرنے والے رہنما شیر محمد عباس ستنکزئی نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ طالبان افغانستان پر بزورِ طاقت قبضہ کرنے کی خواہش نہیں رکھتے۔


ماسکو میں بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم پورے ملک پر پر قبضہ کرنا نہیں چاہتے۔ اس سے افغانستان میں امن نہیں آئے گا‘۔

تاہم شیر محمد عباس ستنکزئی کا یہ بھی کہنا تھا کہ طالبان جنگ بندی پر اس وقت تک رضامند نہیں ہوں گے جب تک کہ تمام بیرونی افواج افغانستان سے نہیں چلی جاتیں۔

ابتدائی مرحلہ
یاد رہے کہ افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد نے کہا تھا کہ طالبان کے ساتھ بات چیت بالکل ابتدائی مرحلے میں ہے تاہم ہماری کوشش ہے کہ افغانستان میں طالبان کے ساتھ جولائی سے پہلے امن معاہدہ ہو جائے۔


واشنگٹن میں یو ایس اے انسٹیٹیوٹ آف پیس میں جمعے کی رات خطاب کرتے ہوئے زلمے خلیل نے کہا کہ ایک لمبے سفر کے آغاز کے ابھی دو تین قدم ہی اٹھائے ہیں۔

امریکہ کے خصوصی ایلچی کے مطابق طالبان فوری طور پر جنگ بندی کے لیے تیار نہیں ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان کے صدر اشرف غنی کو جولائی میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں بطور امید وار فائدہ ہوگا۔

امریکی ایلچی کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان سے بہتر تعلقات اور خطے میں امن سے پاکستان کو فائدہ ہوگا۔

زلمے خلیل زاد نے گذشتہ تقریباً ایک مہینے کے دوران طالبان کے نمائندوں سے تین مرتبہ ملاقاتیں کیں ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ نے مذاکراتی عمل کی کامیابی کے لیے خطے کے دیگر ممالک کے دورے بھی کیے ہیں۔

How about in the president house Kabul?
 
Sponsored Link

Featured Discussions