ضیاءالحق کے 11 سال:احسن اقبال کو اعجازالحق اور حماداظہر کاجواب

zia-jaz1h1.jpg

گزشتہ دنوں احسن اقبال نے سابق آمر وں پر تنقید کی اور سوال پوچھا کہ جنرل ایوب، یحیٰی خان، جنرل ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے اقتدار کا جواب کون دے گا جس پر ضیاء الحق کے صاحبزادے سمیت وفاقی وزیرحماداظہر اور دیگر سوشل میڈیاصارفین احسن اقبال کو جواب دینے کیلئے سامنے آگئے۔

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ قوم جنرل ایوب خان کے 10 سال کا حساب کس سے لے؟ 4 سال جنرل یحییٰ خان نے حکومت کی اسکا جواب کس سے لے؟

انہوں نے مزید کہا کہ یہ قوم جنرل ضیاء الحق کے 11 سال کا حساب کس سے پوچھے؟ یہ قوم پرویز مشرف کے 9 سال کی صدارت کا حساب کس سے لے؟


حماداظہر نے قومی اسمبلی میں ہی احسن اقبال کو جواب دیا کہ اللہ کی شان ہے کہ آج آپا نثارفاطمہ کا بیٹا کہہ رہا ہے کہ جنرل ضیاء الحق کاکون جواب دے گا، جن کا وہ باپ تھا وہ جواب دیں گے۔

انہوں نے احسن اقبال کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو جنرل ضیاء کا نام ہی گول کرگئے۔ اب جب نام لیا تو اپنا نام ہی نہیں لیا، جو ضیاء الحق کے فنکشن میں نعتیں پڑھتے رہے وہ آج کہہ رہے ہیں کہ جنرل ضیاء کی حکومت کا کون جواب دے گا، یہ لوگ تاریخ سےا تنے غافل نہیں ہیں۔


احسن اقبال کے اس بیان "یہ قوم جنرل ضیاء الحق کے 11 سال کا حساب کس سے پوچھے؟" پر سوشل میڈیا صارفین نے جواب دیا او رکہا کہ اب ضیاء الحق کی مجلس شوریٰ میں شامل آپا نثار فاطمہ کا بیٹا جنرل ضیاء سے حساب مانگ رہا ہے۔ وہ جنرل ضیاء جس کو یہ نعتیں سنایا کرتا تھا اور انعام لیا کرتا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ جنرل ضیاء الحق ہی تھا کہ جس نے اسکو اعلیٰ تعلیم دلوائی، اسکی والدہ کو ممبرقومی اسمبلی بنوایا ۔

سوشل میڈیا صارفین نے احسن اقبال کو یاددلایا کہ آپ کے قائد نوازشریف جنرل ضیاء کی حکومت میں پہلے صوبائی وزیرخزانہ اور پھر وزیراعلیٰ پنجاب بنے۔انکی سیاست کو ضیاء الحق نے پروان چڑھایا۔

احسن اقبال کی تقریر پر اظہر مشوانی نے تبصرہ کیا کہ آپا نثار فاطمہ کا بیٹا احسن اقبال آج پارلیمنٹ میں کہ رہا تھا کہ “جنرل ضیأالحق کے دور کا کوئی جواب دینے والا نہیں آج” ساتھ ہی ضیأالحق کی مجلس شورٰی کے چئیرمین خواجہ صفدر کا بیٹا خواجہ آصف بھی بیٹھا تھا سب کہو سبحان اللہ


اس پر احسن اقبال نے جواب دیا کہ میری والدہ مجلس شوری کی ممبر نہیں تھیں وہ 1985 میں قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئی تھیں اور اپوزیشن بینچز پہ بیٹھیں-


احسن اقبال کے اس ٹویٹ پر سابق صدر جنرل ضیاء الحق کے صاحبزادے اعجازالحق نے جواب دیتے ہوئے لکھا کہ اجھے بچے ایسے بات نہیں کرتے۔ اپنا نہیں تو اپنی امی کا خیال کیا ہوتا۔


انہوں نے احسن اقبال کو مزید جواب دیا کہ ضیاء الحق شہید آج بھی زندہ ہیں۔ گودر سے کابل اور وسط ایشیا کی مسجدوں کی اذانوں میں۔ روسی ریچھ کی سسکتی آوازوں میں۔ اور چاغی کے دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ اور انڈیا کی لرزتی ٹانگوں میں۔
 
Advertisement

master timi

MPA (400+ posts)
ضیا کی مجلس شوری کی پہلے چئیرمین جناب محمد صفدر صاحب تھے جو کہ خواجہ آصف کے والد مرحوم ہیں

ان کے علاوہ یوسف رضا گیلانی، جاوید ہاشمی اور کتنے لوگ جو آج جمہوریت کی مامے چاچے بنے ہوئے ہیں شامل تھے۔

سب سے آگے تو نواز شریف خود تھا جو پہلے وزیر خزانہ اور بعد میں وزیر اعظم بنا
 
Last edited:

Kavalier

Chief Minister (5k+ posts)
Zia was the worst ever thing happened to Pakistan, even though we all know Zia was just a face. Koi bhi general hota, usnay wohi karna tha jo Zia nay kiya tha kiyonkay wo khud nhi krrehy hotay, just achay servants ki trha order pay amal karehy hotay hayn.
 

Miansab

New Member
Zia was the worst ever thing happened to Pakistan, even though we all know Zia was just a face. Koi bhi general hota, usnay wohi karna tha jo Zia nay kiya tha kiyonkay wo khud nhi krrehy hotay, just achay servants ki trha order pay amal karehy hotay hayn.
O kisi khoti k bachy agr zia na hota to aj tu kisi khoti k ghr peda hua hota begerat insan
 

Sar phra Dewanah

MPA (400+ posts)

ارسطو کے کیا کہنے ! جب سے کنپٹی پر پشاوری چپل پڑی ہے یہ ایسی ہی بہکی بہکی باتیں کرتا ہے . ایک چپل دوسری طرف پڑے گا تو خود ٹھیک ہو جائے گا . پریشانی کی کوئی بات نہیں . عنقریب ٹھیک ہو جائے گا​

 

Kavalier

Chief Minister (5k+ posts)
O kisi khoti k bachy agr zia na hota to aj tu kisi khoti k ghr peda hua hota begerat insan

Apni language check karo, mayn tou hota ya na hota lakin apni zuban say lag rehy ho k Zia k bawajood kisi khoti k hi bachay ho. Majboor kartay ho aisi zuban istemal karnay pay.
 
Sponsored Link