صنعتکار و تاجروں کا ملک میں معاشی ایمرجنسی لگانے پرزور

13pakeconomicemergency.jpg

صنعتکار و تاجروں نے ملک میں معاشی ایمرجنسی لگانے پر زور دیا ہے،انہوں نے کہا اس وقت ملک کی معاشی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ملک میں معاشی ایمرجنسی لگانے کی صرورت ہے۔

کراچی کے مقامی ہوٹل میں معروف سرمایہ کاروں، تاجروں اور صنعتکاروں نے فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کی جانب سے ’’مضبوط روپیہ، مضبوط پاکستان‘‘ کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس می شرکت کی۔

کانفرنس سے خطاب میں شرکانے کہا کہ روپیہ جس تیزی کے ساتھ گررہا ہے سرمایہ کار اتنے ہی زیادہ خوفزدہ ہورہے ہیں،سیاسی جماعتیں سوسائٹی کو تقسیم نہ کریں،ملک کو بدترین معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام بیرونی سرمایہ کاری کو نقصان پہنچا رہا ہے جس پر قابو پانے کے لیے سیاسی جماعتوں کو اپنے اختلاف بھلا کر ملک کی بہتری کے لیے کام کرنے ہوں گے۔

فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان نے مزید کہا کہ ملک کو سنگین معاشی چیلنجز کا سامنا ہے،پاکستانی روپیہ روز گر رہا ہے، اوورسیز پاکستانی ملک کی معیشت کو بہت بڑا سہارا فراہم کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو موجودہ صورتحال میں ماہانہ ایک ارب ڈالر بچانے کے اقدامات کرنا ہوںگے،ہم ڈالر کو 200 روپے پر نہیں جانے دیں گے، عنقریب ڈالر 180، 182 پر آ جائے گا۔

ملک بوستان نے کہا کہ سعودی عرب اور چین نے معاشی مدد کا وعدہ کیا ہے، حکومت انٹر بینک میں ڈالر کا ریٹ کنٹرول کرے کہیں معاشی ایمرجنسی نہ لگ جائے، چین 12 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا خواہاں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد دھرنے کی کال سے ڈالر اور اسٹاک مارکیٹ پر منفی اثر آیا ہے، بزنس مین کو امپورٹ ڈیوٹی اور ایل سی میں سہولت فراہم کرنا ہو گی، ملک میں اسمگلنگ بڑھ رہی ہے۔

معروف سرمایہ کار عارف حبیب نے بتایا کہ پاکستان کو سب سے بڑا مسئلہ فاریکس ایکسچینج کی کمی کا ہے،درآمدات، برآمدات سے کہیں زیادہ ہیں، ملک کو سالانہ 27 ارب ڈالر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا ہے،ملک میں ترسیلات زر تقریباً 30 ارب ڈالر آتی ہیں، اوورسیز پاکستانیوں کو ملک میں سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرنے ہوں گے۔

عارف حبیب کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط کو ماننا ضروری ہو گیا ہے، سبسیڈیز کے ختم ہونے سے ملک میں مہنگائی ہو گی اور مہنگائی کا مسئلہ ساری دنیا کا ہے۔ حکومت کو چاہیے غیر ضروری درآمدات کو بند کر دے، 5 سال تک گاڑیوں کی درآمدات کو بند کر دینا چاہیے، 15 سے 18 ارب کی بچت غیر ضروری درآمدات بند کرنے سے ہو گی، روپے کی بے قدری سے ملک کا تجارتی خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

چیئرمین آباد محسن شیخانی نے وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل سے آئی ایم ایف کی پالیسی کو فوری لاگو کرنے کا مطالبہ کیا، انہوں نے کہا حکومت بزنس فرینڈلی پالیسی بنائے۔

حنیف گوہر نے کہا کہ اگر مافیاز کو نہ روکا گیا تو ملک میں کاروبار کرنا مشکل ہو جائے گا، ماضی میں سیاستدانوں کا ایجنڈا پاکستان اور عوام کی خدمت ہوتی تھی آج ذاتی مفاد کا ایجنڈا بن چکی ہے۔

جنرل سیکریٹری ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان ظفر پراچہ نے کہا کہ لگژری آئٹمز کی درآمدات کو فوری بند کرنا ہوگا، معاشی زبوں حالی میں ہم سری لنکا سے صرف 30 دن دور ہیں۔
 
Advertisement

Dr Adam

Prime Minister (20k+ posts)
Desperate and a 'bhondee' attempt to put pressure on Imran Khan to NOT go for long march and dharna.
All these biz tycoons are die hard patwar khana supporters.
 

Bebabacha

MPA (400+ posts)
Desperate and a 'bhondee' attempt to put pressure on Imran Khan to NOT go for long march and dharna.
All these biz tycoons are die hard patwar khana supporters.
They are diehard patwari fan bcz kuta league imposes no tax on them, no check and balance...
 

miafridi

Prime Minister (20k+ posts)
Noon leak is known to ruin economy not to build it.

On the contrary PTI not only took bold/unpopular decisions but all economic indicators Like Revenue collection, exports, remittances, job creation, GDP etc went into positive as well.

امپورٹڈ_حکومت_نامنظور
 
Sponsored Link