شکر ادا کرنے کا نفع

Amal

Chief Minister (5k+ posts)
بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ



رب ذوالجلال نے فرمایا

وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَأَزِیْدَنَّکُمْ
ابراہیم : ۷
’’ اگر تم میرا شکر کرو گے تو البتہ ضرور میں تمہیں زیادہ دوں گا۔ ‘‘
یعنی میری نعمتوں کا اگر شکر کرو گے تو تم پر اپنا فضل اور بڑھا دوں گا۔
اس کے مطابق شکر کی حقیقت، منعم کے لیے نعمت کا اعتراف کرنا اور صرف اس کی فرمانبرداری کرنا ہے۔
وَأَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ
الضحیٰ:۱۱
’’ اور اپنے رب کی نعمتوں کو بیان کرتا رہ۔
شکر اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے مکمل ہوتا ہے چنانچہ جس نے اس کی فرمانبرداری نہ کی، وہ ناشکرا ہے۔ شکر کا فائدہ نعمتوں کو اطاعت میں صرف کرنا ہے، وگرنہ یہ کفران نعمت ہے۔
أَنِ اشْکُرْ لِلّٰہِ وَمَنْ یَّشْکُرْ فَاِنَّمَا یَشْکُرُ لِنَفْسِہٖ وَمَنْ کَفَرَ فَإِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ
لقمان: ۱۲
’’ اور ہر شکر کرنے والا اپنے ہی نفع کے لیے شکر کرتا ہے اور جو بھی ناشکری کرے وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ بے نیاز اور تعریفوں والا ہے۔ ‘‘
معلوم ہوا کہ شکریہ ادا کرنے کا نفع اور ثواب اسی پر واپس لوٹ آتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِأَ نْفُسِھِمْ یَمْھَدُوْنَ
الروم:۴۴
’’ اور نیک کام کرنے والے اپنی ہی آرام گاہ سنوار رہے ہیں۔ ‘‘

إِعْمَلُوْا اٰلَ دَاوٗدَ شُکْرًا
سبا: ۱۳
’’ اے آل داود! اس کے شکریہ میں نیک عمل کرو۔ ‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ نے دین اور دنیوی نعمتوں سے تمہیں نوازا، لہٰذا شکریہ ادا کرنے کی صورت یہ ہے کہ تم نیک اعمال بجا لاؤ۔ گویا نماز، روزہ اور ہر قسم کی عبادت خود ہی شکر بن جاتی ہیں۔
قرآن و سنت اس بات پردلیل ہیں کہ بدنی عمل سے شکریہ ادا کرنا زبانی عمل پر اقرار کرنے کے علاوہ ہے۔ چنانچہ فعلی شکر ارکان (اعضاء) کا عمل اور قولی
شکر زبان کا عمل ہے۔
ایک انسان کو رب ذوالجلال نے رحمتہ للعالمین اور سید الاولین والآخرین، امام الانبیاء والمرسلین خاتم الرسل بنا کر بھیجا اور ان کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف فرمادیئے، وہ خالق کا اپنے اوپر کی گئی نعمت کا شکریہ ادا کرنے کے لیے نماز میں اتنا لمبا قیام کرتے کہ آپ کے دونوں قدم مبارک میں ورم آجاتا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تو کھڑے ہوجاتے یہاں تک کہ آپ کے دونوں قدم پھٹ جاتے، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ,اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ایسا کرتے ہیں حالانکہ آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کردیے گئے ہیں؟
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
یَا عَائِشَۃُ أَفَـلَا أَکُوْنَ عَبْدًا شَکُوْرًا؟
’’ اے عائشہ! کیا میں شکر گزار بندہ نہ ہوجاؤں؟ ‘
مسلم , الأعمال والاجتھاد في العبادۃ۔
عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ اَمْرَہٗ کُلَّہٗ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذَاکَ لِأَحَدٍ إِلاَّ لِلْمُؤْمِنِ، إِنْ أَصَابَتْہٗ سَرَّآئُ شَکَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَّہٗ وَإِنْ أَصَابَتْہٗ ضَرَّآئُ صَبَرَ، فَکَانَ خَیْرًا لَّہ۔
مسلم رقم : ۷۵۰۰۔
مومن کا عجب حال ہے، اس کا ثواب کہیں نہیں گیا، یہ بات صرف مومن کو ہی حاصل ہے، اگر اس کو خوشی حاصل ہوئی تو شکر کرتا ہے تو اس میں بھی ثواب ہے اور اگر نقصان پہنچا تو صبر کرتا ہے اس میں بھی اس کے لیے ثواب ہے۔

جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

مَنْ لاَّ یَشْکُرِ النَّاسَ لَا یَشْکُرِ اللّٰہَ ۔
صحیح سنن الترمذي، رقم : ۱۹۵۲۔
’’ جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔ ‘‘
حقیقی منعم اللہ تعالیٰ ہی ہے اسی کے لیے حمد اور شکر ہے۔ حمد، اس کے جلال کے لئے اور شکر، اس کے انعام و احسانات کے لئے ہے
اللہ نے لوگوں کا شکریہ ادا کرنے کی اجازت بخشی ہے اس میں محبت و الفت کی تاثیر پنہاں ہے کیونکہ
نعمتوں کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے اور مخلوق واسطہ اور اسباب کا کام دیتی ہےاس لئے مخلوق کا شکریہ ادا کرنا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے . نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے
أَلتَّحَدُّثُ بِنِعْمَۃِ اللّٰہِ شُکْرٌ، وَتَرْکُھَا کُفْرٌ وَمَنْ لَا یَشْکُرُ الْقَلِیْلَ لَا یَشْکُرُ الْکَثِیْرَ، وَمَنْ لَا یَشْکُرُ النَّاسَ لَا یَشْکُرُ اللّٰہَ، وَالْجَمَاعَۃُ بَرَکَۃٌ وَالْفُرْقَۃُ عَذَابٌ۔
صحیح الجامع الصغیر، رقم : ۳۰۱۴۔
اللہ کی نعمت بیان کرنا شکر اور ترک کرنا ناشکری ہے۔جو تھوڑے پر شکر نہیں کرتا وہ زیادہ پر بھی شکر ادا نہیں کرسکتا ۔اور جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرسکتا وہ اللہ کا شکر بھی نہیں کرسکتا اور جماعت باعث برکت ہے اور فرقہ بندی باعث عذاب ہے۔

اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ
سنن ابی داؤد:1522،سنن نسائی:1302
اے اللہ! میری مدد کر، اپنے ذکر پر اپنے شکر پر اور اپنی بہترین عبادت پر


 
Advertisement
Last edited:

Black_Falcon

MPA (400+ posts)

بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ



رب ذوالجلال نے فرمایا

وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَأَزِیْدَنَّکُمْ
ابراہیم : ۷
’’ اگر تم میرا شکر کرو گے تو البتہ ضرور میں تمہیں زیادہ دوں گا۔ ‘‘
یعنی میری نعمتوں کا اگر شکر کرو گے تو تم پر اپنا فضل اور بڑھا دوں گا۔
اس کے مطابق شکر کی حقیقت، منعم کے لیے نعمت کا اعتراف کرنا اور صرف اس کی فرمانبرداری کرنا ہے۔
وَأَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ
الضحیٰ:۱۱
’’ اور اپنے رب کی نعمتوں کو بیان کرتا رہ۔
شکر اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے مکمل ہوتا ہے چنانچہ جس نے اس کی فرمانبرداری نہ کی، وہ ناشکرا ہے۔ شکر کا فائدہ نعمتوں کو اطاعت میں صرف کرنا ہے، وگرنہ یہ کفران نعمت ہے۔
أَنِ اشْکُرْ لِلّٰہِ وَمَنْ یَّشْکُرْ فَاِنَّمَا یَشْکُرُ لِنَفْسِہٖ وَمَنْ کَفَرَ فَإِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ
لقمان: ۱۲
’’ اور ہر شکر کرنے والا اپنے ہی نفع کے لیے شکر کرتا ہے اور جو بھی ناشکری کرے وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ بے نیاز اور تعریفوں والا ہے۔ ‘‘
معلوم ہوا کہ شکریہ ادا کرنے کا نفع اور ثواب اسی پر واپس لوٹ آتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِأَ نْفُسِھِمْ یَمْھَدُوْنَ
الروم:۴۴
’’ اور نیک کام کرنے والے اپنی ہی آرام گاہ سنوار رہے ہیں۔ ‘‘

إِعْمَلُوْا اٰلَ دَاوٗدَ شُکْرًا
سبا: ۱۳
’’ اے آل داود! اس کے شکریہ میں نیک عمل کرو۔ ‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ نے دین اور دنیوی نعمتوں سے تمہیں نوازا، لہٰذا شکریہ ادا کرنے کی صورت یہ ہے کہ تم نیک اعمال بجا لاؤ۔ گویا نماز، روزہ اور ہر قسم کی عبادت خود ہی شکر بن جاتی ہیں۔
قرآن و سنت اس بات پردلیل ہیں کہ بدنی عمل سے شکریہ ادا کرنا زبانی عمل پر اقرار کرنے کے علاوہ ہے۔ چنانچہ فعلی شکر ارکان (اعضاء) کا عمل اور قولی
شکر زبان کا عمل ہے۔
ایک انسان کو رب ذوالجلال نے رحمتہ للعالمین اور سید الاولین والآخرین، امام الانبیاء والمرسلین خاتم الرسل بنا کر بھیجا اور ان کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف فرمادیئے، وہ خالق کا اپنے اوپر کی گئی نعمت کا شکریہ ادا کرنے کے لیے نماز میں اتنا لمبا قیام کرتے کہ آپ کے دونوں قدم مبارک میں ورم آجاتا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تو کھڑے ہوجاتے یہاں تک کہ آپ کے دونوں قدم پھٹ جاتے، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ,اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ایسا کرتے ہیں حالانکہ آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کردیے گئے ہیں؟
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
یَا عَائِشَۃُ أَفَـلَا أَکُوْنَ عَبْدًا شَکُوْرًا؟
’’ اے عائشہ! کیا میں شکر گزار بندہ نہ ہوجاؤں؟ ‘
مسلم , الأعمال والاجتھاد في العبادۃ۔
عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ اَمْرَہٗ کُلَّہٗ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذَاکَ لِأَحَدٍ إِلاَّ لِلْمُؤْمِنِ، إِنْ أَصَابَتْہٗ سَرَّآئُ شَکَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَّہٗ وَإِنْ أَصَابَتْہٗ ضَرَّآئُ صَبَرَ، فَکَانَ خَیْرًا لَّہ۔
مسلم رقم : ۷۵۰۰۔
مومن کا عجب حال ہے، اس کا ثواب کہیں نہیں گیا، یہ بات صرف مومن کو ہی حاصل ہے، اگر اس کو خوشی حاصل ہوئی تو شکر کرتا ہے تو اس میں بھی ثواب ہے اور اگر نقصان پہنچا تو صبر کرتا ہے اس میں بھی اس کے لیے ثواب ہے۔


جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

مَنْ لاَّ یَشْکُرِ النَّاسَ لَا یَشْکُرِ اللّٰہَ ۔
صحیح سنن الترمذي، رقم : ۱۹۵۲۔
’’ جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔ ‘‘
حقیقی منعم اللہ تعالیٰ ہی ہے اسی کے لیے حمد اور شکر ہے۔ حمد، اس کے جلال کے لئے اور شکر، اس کے انعام و احسانات کے لئے ہے
اللہ نے لوگوں کا شکریہ ادا کرنے کی اجازت بخشی ہے اس میں محبت و الفت کی تاثیر پنہاں ہے کیونکہ
نعمتوں کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے اور مخلوق واسطہ اور اسباب کا کام دیتی ہےاس لئے مخلوق کا شکریہ ادا کرنا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے . نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے
أَلتَّحَدُّثُ بِنِعْمَۃِ اللّٰہِ شُکْرٌ، وَتَرْکُھَا کُفْرٌ وَمَنْ لَا یَشْکُرُ الْقَلِیْلَ لَا یَشْکُرُ الْکَثِیْرَ، وَمَنْ لَا یَشْکُرُ النَّاسَ لَا یَشْکُرُ اللّٰہَ، وَالْجَمَاعَۃُ بَرَکَۃٌ وَالْفُرْقَۃُ عَذَابٌ۔
صحیح الجامع الصغیر، رقم : ۳۰۱۴۔
اللہ کی نعمت بیان کرنا شکر اور ترک کرنا ناشکری ہے۔جو تھوڑے پر شکر نہیں کرتا وہ زیادہ پر بھی شکر ادا نہیں کرسکتا ۔اور جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرسکتا وہ اللہ کا شکر بھی نہیں کرسکتا اور جماعت باعث برکت ہے اور فرقہ بندی باعث عذاب ہے۔


اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ
سنن ابی داؤد:1522،سنن نسائی:1302
اے اللہ! میری مدد کر، اپنے ذکر پر اپنے شکر پر اور اپنی بہترین عبادت پر


Thank You and Jazak ALLAH Khair for sharing this
 

Dr Adam

Chief Minister (5k+ posts)
بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ



رب ذوالجلال نے فرمایا

وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَأَزِیْدَنَّکُمْ
ابراہیم : ۷
’’ اگر تم میرا شکر کرو گے تو البتہ ضرور میں تمہیں زیادہ دوں گا۔ ‘‘
یعنی میری نعمتوں کا اگر شکر کرو گے تو تم پر اپنا فضل اور بڑھا دوں گا۔
اس کے مطابق شکر کی حقیقت، منعم کے لیے نعمت کا اعتراف کرنا اور صرف اس کی فرمانبرداری کرنا ہے۔
وَأَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ
الضحیٰ:۱۱
’’ اور اپنے رب کی نعمتوں کو بیان کرتا رہ۔
شکر اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے مکمل ہوتا ہے چنانچہ جس نے اس کی فرمانبرداری نہ کی، وہ ناشکرا ہے۔ شکر کا فائدہ نعمتوں کو اطاعت میں صرف کرنا ہے، وگرنہ یہ کفران نعمت ہے۔
أَنِ اشْکُرْ لِلّٰہِ وَمَنْ یَّشْکُرْ فَاِنَّمَا یَشْکُرُ لِنَفْسِہٖ وَمَنْ کَفَرَ فَإِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ
لقمان: ۱۲
’’ اور ہر شکر کرنے والا اپنے ہی نفع کے لیے شکر کرتا ہے اور جو بھی ناشکری کرے وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ بے نیاز اور تعریفوں والا ہے۔ ‘‘
معلوم ہوا کہ شکریہ ادا کرنے کا نفع اور ثواب اسی پر واپس لوٹ آتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِأَ نْفُسِھِمْ یَمْھَدُوْنَ
الروم:۴۴
’’ اور نیک کام کرنے والے اپنی ہی آرام گاہ سنوار رہے ہیں۔ ‘‘

إِعْمَلُوْا اٰلَ دَاوٗدَ شُکْرًا
سبا: ۱۳
’’ اے آل داود! اس کے شکریہ میں نیک عمل کرو۔ ‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ نے دین اور دنیوی نعمتوں سے تمہیں نوازا، لہٰذا شکریہ ادا کرنے کی صورت یہ ہے کہ تم نیک اعمال بجا لاؤ۔ گویا نماز، روزہ اور ہر قسم کی عبادت خود ہی شکر بن جاتی ہیں۔
قرآن و سنت اس بات پردلیل ہیں کہ بدنی عمل سے شکریہ ادا کرنا زبانی عمل پر اقرار کرنے کے علاوہ ہے۔ چنانچہ فعلی شکر ارکان (اعضاء) کا عمل اور قولی
شکر زبان کا عمل ہے۔
ایک انسان کو رب ذوالجلال نے رحمتہ للعالمین اور سید الاولین والآخرین، امام الانبیاء والمرسلین خاتم الرسل بنا کر بھیجا اور ان کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف فرمادیئے، وہ خالق کا اپنے اوپر کی گئی نعمت کا شکریہ ادا کرنے کے لیے نماز میں اتنا لمبا قیام کرتے کہ آپ کے دونوں قدم مبارک میں ورم آجاتا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تو کھڑے ہوجاتے یہاں تک کہ آپ کے دونوں قدم پھٹ جاتے، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ,اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ایسا کرتے ہیں حالانکہ آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کردیے گئے ہیں؟
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
یَا عَائِشَۃُ أَفَـلَا أَکُوْنَ عَبْدًا شَکُوْرًا؟
’’ اے عائشہ! کیا میں شکر گزار بندہ نہ ہوجاؤں؟ ‘
مسلم , الأعمال والاجتھاد في العبادۃ۔
عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ اَمْرَہٗ کُلَّہٗ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذَاکَ لِأَحَدٍ إِلاَّ لِلْمُؤْمِنِ، إِنْ أَصَابَتْہٗ سَرَّآئُ شَکَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَّہٗ وَإِنْ أَصَابَتْہٗ ضَرَّآئُ صَبَرَ، فَکَانَ خَیْرًا لَّہ۔
مسلم رقم : ۷۵۰۰۔
مومن کا عجب حال ہے، اس کا ثواب کہیں نہیں گیا، یہ بات صرف مومن کو ہی حاصل ہے، اگر اس کو خوشی حاصل ہوئی تو شکر کرتا ہے تو اس میں بھی ثواب ہے اور اگر نقصان پہنچا تو صبر کرتا ہے اس میں بھی اس کے لیے ثواب ہے۔

جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

مَنْ لاَّ یَشْکُرِ النَّاسَ لَا یَشْکُرِ اللّٰہَ ۔
صحیح سنن الترمذي، رقم : ۱۹۵۲۔
’’ جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔ ‘‘
حقیقی منعم اللہ تعالیٰ ہی ہے اسی کے لیے حمد اور شکر ہے۔ حمد، اس کے جلال کے لئے اور شکر، اس کے انعام و احسانات کے لئے ہے
اللہ نے لوگوں کا شکریہ ادا کرنے کی اجازت بخشی ہے اس میں محبت و الفت کی تاثیر پنہاں ہے کیونکہ
نعمتوں کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے اور مخلوق واسطہ اور اسباب کا کام دیتی ہےاس لئے مخلوق کا شکریہ ادا کرنا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے . نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے
أَلتَّحَدُّثُ بِنِعْمَۃِ اللّٰہِ شُکْرٌ، وَتَرْکُھَا کُفْرٌ وَمَنْ لَا یَشْکُرُ الْقَلِیْلَ لَا یَشْکُرُ الْکَثِیْرَ، وَمَنْ لَا یَشْکُرُ النَّاسَ لَا یَشْکُرُ اللّٰہَ، وَالْجَمَاعَۃُ بَرَکَۃٌ وَالْفُرْقَۃُ عَذَابٌ۔
صحیح الجامع الصغیر، رقم : ۳۰۱۴۔
اللہ کی نعمت بیان کرنا شکر اور ترک کرنا ناشکری ہے۔جو تھوڑے پر شکر نہیں کرتا وہ زیادہ پر بھی شکر ادا نہیں کرسکتا ۔اور جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرسکتا وہ اللہ کا شکر بھی نہیں کرسکتا اور جماعت باعث برکت ہے اور فرقہ بندی باعث عذاب ہے۔

اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ
سنن ابی داؤد:1522،سنن نسائی:1302
اے اللہ! میری مدد کر، اپنے ذکر پر اپنے شکر پر اور اپنی بہترین عبادت پر



امل جی! یاد دھانی کا شکریہ، شکراً، تشکر، تھینک یو، تیسیکورلر، مننه، ڈنکوویل
 

Truthstands

Minister (2k+ posts)
بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ



رب ذوالجلال نے فرمایا

وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَأَزِیْدَنَّکُمْ
ابراہیم : ۷
’’ اگر تم میرا شکر کرو گے تو البتہ ضرور میں تمہیں زیادہ دوں گا۔ ‘‘
یعنی میری نعمتوں کا اگر شکر کرو گے تو تم پر اپنا فضل اور بڑھا دوں گا۔
اس کے مطابق شکر کی حقیقت، منعم کے لیے نعمت کا اعتراف کرنا اور صرف اس کی فرمانبرداری کرنا ہے۔
وَأَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ
الضحیٰ:۱۱
’’ اور اپنے رب کی نعمتوں کو بیان کرتا رہ۔
شکر اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے مکمل ہوتا ہے چنانچہ جس نے اس کی فرمانبرداری نہ کی، وہ ناشکرا ہے۔ شکر کا فائدہ نعمتوں کو اطاعت میں صرف کرنا ہے، وگرنہ یہ کفران نعمت ہے۔
أَنِ اشْکُرْ لِلّٰہِ وَمَنْ یَّشْکُرْ فَاِنَّمَا یَشْکُرُ لِنَفْسِہٖ وَمَنْ کَفَرَ فَإِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ
لقمان: ۱۲
’’ اور ہر شکر کرنے والا اپنے ہی نفع کے لیے شکر کرتا ہے اور جو بھی ناشکری کرے وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ بے نیاز اور تعریفوں والا ہے۔ ‘‘
معلوم ہوا کہ شکریہ ادا کرنے کا نفع اور ثواب اسی پر واپس لوٹ آتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِأَ نْفُسِھِمْ یَمْھَدُوْنَ
الروم:۴۴
’’ اور نیک کام کرنے والے اپنی ہی آرام گاہ سنوار رہے ہیں۔ ‘‘

إِعْمَلُوْا اٰلَ دَاوٗدَ شُکْرًا
سبا: ۱۳
’’ اے آل داود! اس کے شکریہ میں نیک عمل کرو۔ ‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ نے دین اور دنیوی نعمتوں سے تمہیں نوازا، لہٰذا شکریہ ادا کرنے کی صورت یہ ہے کہ تم نیک اعمال بجا لاؤ۔ گویا نماز، روزہ اور ہر قسم کی عبادت خود ہی شکر بن جاتی ہیں۔
قرآن و سنت اس بات پردلیل ہیں کہ بدنی عمل سے شکریہ ادا کرنا زبانی عمل پر اقرار کرنے کے علاوہ ہے۔ چنانچہ فعلی شکر ارکان (اعضاء) کا عمل اور قولی
شکر زبان کا عمل ہے۔
ایک انسان کو رب ذوالجلال نے رحمتہ للعالمین اور سید الاولین والآخرین، امام الانبیاء والمرسلین خاتم الرسل بنا کر بھیجا اور ان کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف فرمادیئے، وہ خالق کا اپنے اوپر کی گئی نعمت کا شکریہ ادا کرنے کے لیے نماز میں اتنا لمبا قیام کرتے کہ آپ کے دونوں قدم مبارک میں ورم آجاتا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تو کھڑے ہوجاتے یہاں تک کہ آپ کے دونوں قدم پھٹ جاتے، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ,اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ایسا کرتے ہیں حالانکہ آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کردیے گئے ہیں؟
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
یَا عَائِشَۃُ أَفَـلَا أَکُوْنَ عَبْدًا شَکُوْرًا؟
’’ اے عائشہ! کیا میں شکر گزار بندہ نہ ہوجاؤں؟ ‘
مسلم , الأعمال والاجتھاد في العبادۃ۔
عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ اَمْرَہٗ کُلَّہٗ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذَاکَ لِأَحَدٍ إِلاَّ لِلْمُؤْمِنِ، إِنْ أَصَابَتْہٗ سَرَّآئُ شَکَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَّہٗ وَإِنْ أَصَابَتْہٗ ضَرَّآئُ صَبَرَ، فَکَانَ خَیْرًا لَّہ۔
مسلم رقم : ۷۵۰۰۔
مومن کا عجب حال ہے، اس کا ثواب کہیں نہیں گیا، یہ بات صرف مومن کو ہی حاصل ہے، اگر اس کو خوشی حاصل ہوئی تو شکر کرتا ہے تو اس میں بھی ثواب ہے اور اگر نقصان پہنچا تو صبر کرتا ہے اس میں بھی اس کے لیے ثواب ہے۔

جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

مَنْ لاَّ یَشْکُرِ النَّاسَ لَا یَشْکُرِ اللّٰہَ ۔
صحیح سنن الترمذي، رقم : ۱۹۵۲۔
’’ جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔ ‘‘
حقیقی منعم اللہ تعالیٰ ہی ہے اسی کے لیے حمد اور شکر ہے۔ حمد، اس کے جلال کے لئے اور شکر، اس کے انعام و احسانات کے لئے ہے
اللہ نے لوگوں کا شکریہ ادا کرنے کی اجازت بخشی ہے اس میں محبت و الفت کی تاثیر پنہاں ہے کیونکہ
نعمتوں کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے اور مخلوق واسطہ اور اسباب کا کام دیتی ہےاس لئے مخلوق کا شکریہ ادا کرنا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے . نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے
أَلتَّحَدُّثُ بِنِعْمَۃِ اللّٰہِ شُکْرٌ، وَتَرْکُھَا کُفْرٌ وَمَنْ لَا یَشْکُرُ الْقَلِیْلَ لَا یَشْکُرُ الْکَثِیْرَ، وَمَنْ لَا یَشْکُرُ النَّاسَ لَا یَشْکُرُ اللّٰہَ، وَالْجَمَاعَۃُ بَرَکَۃٌ وَالْفُرْقَۃُ عَذَابٌ۔
صحیح الجامع الصغیر، رقم : ۳۰۱۴۔
اللہ کی نعمت بیان کرنا شکر اور ترک کرنا ناشکری ہے۔جو تھوڑے پر شکر نہیں کرتا وہ زیادہ پر بھی شکر ادا نہیں کرسکتا ۔اور جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرسکتا وہ اللہ کا شکر بھی نہیں کرسکتا اور جماعت باعث برکت ہے اور فرقہ بندی باعث عذاب ہے۔

اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ
سنن ابی داؤد:1522،سنن نسائی:1302
اے اللہ! میری مدد کر، اپنے ذکر پر اپنے شکر پر اور اپنی بہترین عبادت پر


جزاک اللّہ۔۔۔
یا اللہ ہمیں اپنے شکر گزار بندوں میں شامل فرما
 

Mughal1

Chief Minister (5k+ posts)

shukar kerne ka matlab hai appreciate kerna kisi shai ya baat ko ya us ko qadro qeemat yaa faide ki nigah se dekhna. deene islam ke context main khudaa ke shukar ke maani kia hen ya kia ho sakte hen? yaani khudaa ka shukar asal main hai kia baat?

khudaa ki her baat ko sirf aur sirf khudaa ke maqsade takhleeq hi ki roshni hi main dekha jaaye ga warna us baat ki kabhi bhi kisi ko bhi drust tarah se samajh hi nahin aaye gi. yahee wajah hai agar khudaa ki baatun ko ghalat tanaazur main dekha jaaye ga to log her tarah ke mazhabi aur secular bohraanun ka shikaar ho jaayen ge aur rahen ge.

mazhab main shukar ke woh maani liya jaata hai jis se pooja paat ka mafhoom nikalta hai. haalan keh pooj paat to saari baat hi ko rad ker deta hai. maslan ye kia baat hui keh khudaa tu ne mujhe ye ye kuchh diya hai lihaaza tera shukriya aur baat khatam. issi soch ne insaanu ko khudaa ke bande yaani karinde banane ke bajaaye khudaa ke pujaari banaa diya hai. issi liye insaanu ne apna apna waqt tarah tarah ke pooja ke tareequn ke ijaad kerne aur un ko apnaane main zaaya ker diya hai. yahee kuchh secular logoon ne aik doosre ko apna ghulaam banaane ke liye kiya hai jisse ye duniyaa insaanu ke liye aik jahanam se kam nahin hai.

mullaan ka nazriya ye ban gayaa keh ziyaada pooja karo ge to khudaa aur ziyaada de ga aur agar pooja nahin karo ge to khudaa insaanu ko azaab de ga waghera waghera. jab aisi baatun per ghor kiya jaaye to asal duniya main aisa bilkul hi nahin hota. pujaari hamesh duniya main zaleelo khawaar hote hen. is liye keh pooja kerne waalun ke paas waqt hi nahin hota keh woh aur koi munaasib kaam hi ker saken aur apna pait paal saken. yahee baat unhen doosrun se her waqt tarah tarah ke bahaanun se bheek maangne per majboor kerti hai. issi liye in logoon ko deegar jahil logon ko bewaqoof banaa ker apna apna ulloo seedhaa kerna padta hai.

asal deene islam logoon ko pooja paat se azaad kerta hai taa keh woh apna waqt khudaa ke diye hue maqsad ko poora kerne main sarf karen. khudaa ka maqsad kia hai? yahee keh log khudaa ke deen ko qaaim karen yaani us ke bataaye huwe raaste ke mutaabiq zindagi guzaaren taa keh un ki zindagiyan issi duniya main jannat ban jaayen un ki apni mehnato mushaqqat se. woh insaanu ko aisi baatun per mehnat kerne ko kehta hia jisse un ka waqt barbaad na ho balkeh un ke haan doodh aur shehd ki nehren bahen. issi liye un ka khudaa un ki shabaashi ka haqdaar saabit hota hai.

yahee nahin khud insaanu ko bhi khudaa ke haan se shabaashi milti hai keh unhune ne woh kaam ker dikhaaya hai jo khudaa ne un ko diya tha kerne ko. yaani khudaa ne to insaanu ko sab kuchh pehle hi se diya huwa hai to khudaa se maangne ki un ko kuchh bhi zaroorat nahin hai. khudaa ne ye bhi un ko bataa diya hai keh khud ko woh kaise organise aur regulate karen aik ummat main khudaa ki is mumlikat main. jab woh aisa ker len ge to woh khudaa ki di gayee her shai ko drust tareeqe se istemaal karen ge jisse khudaa ki di hui her shai ki qadro qeemat ho gi insaanu ki nazar main bhi kyunkeh woh un ko faaide de gi. issi liye khudaa ke shukar ka yahee matlab hai, yaani khudaa ki di hui her shai ko drust istemaal kerna.

mullaan khud apne dimaagh to kharaab kerte hi hen magar unhune ne un logoon ke dimaagh bhi kharaab kiye huwe hen jo unhen apne dimaagh kharaab kerwaane ke liye khud pesh kerte hen. issi liye in jahil logoon ne tarah tarah ke bebunyaad tasawraat ghade huwe hen islam ke baare main jin ka asal deene islam se kuchh bhi taaluq nahin hai. kabhi quraan main lafze jin dekh ker us per afsaane ghardte hen aur kabhi malaakiah ke lafz ke gird tarah tarah ke afsaane ghadte hen. kabhi kehte hen khudaa ne insaan ko deegar makhluqaat ki tarah nahin banaaya hai balkeh insaan ko us ne khud apne haathun se banaaya hai waghera waghera. kia in ko maloom hai ye jahaan aik material yaani maadi shai hai aur is main her shai khudaa ne matter yaani maade hi se takhleeq ki hai? yahee nahin kia khudaa ne her shai doosri ashiyaa se nahin banayee hai?

dekho jahaan ki her shai apne chhote chhote ajzaa main taqseem dar taqeem ho sakti hai aur aap khud us ko taqseem kerte bhi ho aur taqseem hota dekhte bhi ho to phir kyun quraan ke khilaaf apne nazriyaat banaate aur rakhte ho? kia aik darakht aap nahin kaatate apne haathun se chhote chhote tukrun main? kia matti aur rait ke zarre aap ko nazar nahin aate jin ko aapas main jord ke aap apne ghar banaate ho aur deegar badi badi cheezen? isse kia aap ko maloom nahin hota keh her shai chhoti se chhoti aur badi se badi sirf aur sirf maada hai yaani material hai. issi liye is duniya ko material world kehte hen.

aur to aur batao protons aur electrons aur neutrons waghera kuchh ajzaa ko milaa ker banaaye ge hen ya woh khud shuroo din hi se aise the? kia ye quarks se nahin bane? bane hen. batao atom kia shuroo din se hi aise hi the ya ye kuchh ajzaaye tarkeebi ko milaa ker wajood main laaye ge hen? atoms ko jab tukde tukde kiya jaata hai to un ke ajzaaye tarkeebi saamne aa jaate hen. maloom huwa atoms apne se chhote zarraat se bane huwe hen. agar sab jahaan material hai aur is main her shai material hai aur doosri cheezun se bani hai to insaan kyun issi material se bane huwe nahin hen? aap log insaan ke andar rooh ka tasawur kahaan se le aaye? ye quraan ka tasawur bilkul hi nahin hai.

yun hi mullaan logoon ne jinnu aur malaaika ke ilfaaz ko bhi ghalat maani apnaaye hen aur beshumaar kahaaniyan ghadi hui hen in ke mutaliq. lihaaza aqal seekho aur bande ke puttar bano. khudaa rasool per jhoot baandna band karo aur asal baat kia hai us ko khoj ker samajhnne ki koshish karo. aise log hote hen sache musalmaan. sirf khud ko musalmaan kehlwaane se koi sacha musalmaan nahin ban jaata agar woh deene islam ke asal taqaaze hi jaanane ki koshish nahin kerta. quran ke mullaan ke tarjame saare ke saare sakht ghalat hen. is liye nahin keh un main lafzun ki maanavi ghaltiyan hen balkeh woh quraan ki abaarat ka asal tasawur hi chhupaa dete hen apni bebunyaad kahaaniyun main. For better understanding of deen of islam from the quran see HERE, HERE, HERE and HERE.
 
Last edited:
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs خبریں