سپریم کورٹ نے مسلم لیگ ن کے رہنما کو کلین چٹ دے دی

mhafeez

Chief Minister (5k+ posts)
سپریم کورٹ نے لیگی رہنما چوہدری شیر علی کو کرپشن کے مقدمات میں کلین چٹ دیتے ہوئے بریت کیخلاف نیب کی اپیلیں خارج کر دی۔



سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے لیگی رہنما چوہدری شیر علی کی بریت کیخلاف نیب کی اپیلوں پر سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایک گواہ نے بھی نہیں کہا کہ چوہدری شیر علی کیخلاف دباؤ میں آ کر بیان دیا، نیب کے اپنے گواہ ہی ایسا کہیں گے تو ملزم کو دفاع کی کیا ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملزم کا کام اپنے اثاثوں کو ثابت کرنا ہوتا ہے، جو اثاثے ملزم کے ہیں ہی نہیں وہ ثابت کرنا نیب کی ذمہ داری ہے۔

جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیئے کہ مکی مارکیٹ کا قبضہ بھی چوہدری شیر علی کے پاس نہیں تھا، مکی مارکیٹ کی دکانیں ویسے بھی لیز پر تھیں۔ نیب پراسکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ بطور میئر چوہدری شیر علی نے غیر قانونی الاٹمنٹ کی۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میئر ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ ہر غلط کام اسکے کھاتے میں ڈال دیا جائے، چوہدری شیر علی 1983 میں میئر تھے جبکہ کیس سال 2000 میں بنایا گیا۔

عدالت نے کہا کہ نیب چوہدری شیر کیخلاف کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا، جن افراد کو زمینوں کی مبینہ غیر قانونی الاٹمنٹ کی گئی ان کا ملزم سے تعلق ثابت نہیں ہو سکا۔


 
Advertisement
Last edited by a moderator:

sensible

Chief Minister (5k+ posts)
اسی بت نے جسے سپریم کورٹ سے باہر نکا ل پھیکنا تھا؟اب اس بت کے بارے میں ارادے بدل گئے یا اب بھی ارادہ ہے ؟
اس بت نے نواز شریف کے اپنے اساسے مان کر اس کی جھوٹی وضاحتو ں پر فیصلہ دیا تھا بت کا اصول نہیں بدلہ لیکن نونی میڈیا سیل دم با دم بدلتا ہے کبھی بتوں کے فیصلوں پر مٹھایاں کبھی گالیاں
 
Last edited:

smartmax1

MPA (400+ posts)
سپریم کورٹ نے مسلم لیگ ن کے رہنما کو کلین چٹ دے دی، نیب کیس ثابت کرنے میں ناکام ہو گیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق رہنما مسلم لیگ ن چودھری شیر علی کی بریت کےخلاف نیب کی اپیلیں خارج کر دی گئیں، سپریم کورٹ نے چودھری شیر علی کو کرپشن مقدمات میں کلین چٹ دےدی

سپریم کورٹ نے کہا کہ نیب چودھری شیر علی کےخلاف کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا،جن افراد کو زمینوں کی مبینہ غیر قانونی الاٹمنٹ کی گئی ان کاملزم سے تعلق ثابت نہیں ہو سکا، چیف جسٹس نے کہا کہ ایک گواہ نے بھی نہیں کہا کہ چودھری شیر علی کےخلاف دباوَ میں بیان دیا،نیب کے اپنے گواہ ہی ایسا کہیں گے تو ملزم کو دفاع کی کیا ضرورت ،

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے مزید کہا کہ ملزم کا کام اپنے اثاثوں کو ثابت کرنا ہوتا ہے،جو اثاثے ملزم کے ہیں ہی نہیں وہ ثابت کرنا نیب کی ذمہ داری ہے،

نیب کے مطابق چودھری شیرعلی نے میئر اور ایم این اے فیصل آباد کی حیثیت سے کرپشن کی اور اختیارات کا غلط استعمال کرکے سرکاری زمین کی غیرقانونی الاٹمنٹ اور فروخت کی ۔چودھری شیرعلی نے اپنے اختیار سے قومی خزانے کو کروڑوں کا نقصان پہنچایا ، ٹرائل کورٹ نے چوہدری شیرعلی کو 10 سال سزا اور دو کروڑ روپے جرمانہ کیا تھا،لاہور ہائیکورٹ نے اسے رہا کر دیا تھا جس پر نیب نے فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا،

آج سپریم کورٹ نے چودھری شیر علی کو کلین چٹ دے دی

MERE KHAYAL MEIN KUCH WAIT KAR LO, WAISE BHI FAISLA TUM LOGON KO KUCH DAIR BAD HI SAMJH ATA HAI.
MUKAMIL FAISLA ANEY KE BAAD HI KHUSHI MANANA.
 

mhafeez

Chief Minister (5k+ posts)
Halaal decision of SC now?

Meetha Meetha Hup Hup, Karhwa Karhwa Tou Tou.
اسی بت نے جسے سپریم کورٹ سے باہر نکا ل پھیکنا تھا؟اب اس بٹ کے بارے میں ارادے بدل گئے یا اب بھی ارادہ ہے ؟
اس بٹ نے نواز شریف کے اپنے اساسے ماں کر اس کی جھوٹی وزاہتوں پر فیصلہ دیا تھا بٹ کا اصول نہیں بدلہ لیکن نونی میڈیا سیل دم با ڈیم بدلتا ہے کبھی بتوں کے فیصلوں پر مٹھایاں کبھی گالیاں


جو اثاثے حسین نواز شریف کے تھے وہ مانا بھی میرے ہیں انکا حساب نوازشریف سے لیا گیا
اور پھر ایک غیر وصول شدہ تنخواہ کو بنیاد بنا کر نااہل کردیا
دھرا معیار انصاف ہے
 

Nice2MU

Prime Minister (20k+ posts)


جو اثاثے حسین نواز شریف کے تھے وہ مانا بھی میرے ہیں انکا حساب نوازشریف سے لیا گیا
اور پھر ایک غیر وصول شدہ تنخواہ کو بنیاد بنا کر نااہل کردیا
دھرا معیار انصاف ہے
نواز شریف نے سوائے قطری خط کے کیا حساب دیا اور حسین نواز نے کب ثابت کیا کہ یہ جائیدادیں اسکی ہیں۔؟ اس نے صرف یہ کہا یہ اسے دادا نے دیئے ہیں لیکن ثبوت ندارد۔۔۔ اور اس دادا نے جو ہزاروں اور لاکھوں میں ٹیکس دیتا لیکن جائیدادیں اربوں کی۔
 

mhafeez

Chief Minister (5k+ posts)
نواز شریف نے سوائے قطری خط کے کیا حساب دیا اور حسین نواز نے کب ثابت کیا کہ یہ جائیدادیں اسکی ہیں۔؟ اس نے صرف یہ کہا یہ اسے دادا نے دیئے ہیں لیکن ثبوت ندارد۔۔۔ اور اس دادا نے جو ہزاروں اور لاکھوں میں ٹیکس دیتا لیکن جائیدادیں اربوں کی۔
بکواس ، سارا حساب دیا تھا ، قطری انویسٹمنٹ تو صرف ایک حصہ تھا ، اصل ماخذ بینک بی سی سی آئ کا قرضہ تھا اور اس قرضے سے قائم کردہ دبئی کی مل تھی
 

PakGem

Minister (2k+ posts)
Mujhey Khooshi hoi aap ney SC ke faislon ko tasleem ker lia. Hope this is not a selective and convenient pick.
 
Last edited:

aqeel_786

Councller (250+ posts)


جو اثاثے حسین نواز شریف کے تھے وہ مانا بھی میرے ہیں انکا حساب نوازشریف سے لیا گیا
اور پھر ایک غیر وصول شدہ تنخواہ کو بنیاد بنا کر نااہل کردیا
دھرا معیار انصاف ہے
Jo asasay Hussain nawaz ke thay wo in ki Money trail nahi de saka tha. aur jo Money trail nawaz Sharif may di thi agar us pe SC yakeen kar laiti to corruption is mulk main qanooni hi jati!!
 

aqeel_786

Councller (250+ posts)
بکواس ، سارا حساب دیا تھا ، قطری انویسٹمنٹ تو صرف ایک حصہ تھا ، اصل ماخذ بینک بی سی سی آئ کا قرضہ تھا اور اس قرضے سے قائم کردہ دبئی کی مل تھی
Na kar yaar..Hasan nawaz ja javed chauhdhry ko interview Main is invesment kan Koi zikat nahi tha, balkay is ne Kaha Tha ke wo makaan us ne mortage pe khariday hain 2006 Main.
Aur aap ki hamsheera aur future leader Maryam nawaz 2011 Main un makano ki maalkiat man nay se inkaar kar diya tha, halanke wo us ko benficery owner aur ud ja bhai ud ja malik tha. Ud you still trust these people to aap kan ALLAH hi Hafiz Ho.
 

Nice2MU

Prime Minister (20k+ posts)
بکواس ، سارا حساب دیا تھا ، قطری انویسٹمنٹ تو صرف ایک حصہ تھا ، اصل ماخذ بینک بی سی سی آئ کا قرضہ تھا اور اس قرضے سے قائم کردہ دبئی کی مل تھی
کیا حساب دیا تھا؟ وہ حساب ذرا ہمیں بھی شیئر کر
دو پلیز۔

اپنی ہاتھوں سے لکھی ہوئے ثبوت نہیں بلکہ بنک کی رسیدیں دیکھاؤ۔
 

mhafeez

Chief Minister (5k+ posts)
کیا حساب دیا تھا؟ وہ حساب ذرا ہمیں بھی شیئر کر
دو پلیز۔

اپنی ہاتھوں سے لکھی ہوئے ثبوت نہیں بلکہ بنک کی رسیدیں دیکھاؤ۔
جے آئ ٹی کے آٹھ والیوم انہی تفصیلات سے بھرے پڑے ہیں ، عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہیں جاکر دیکھ لو
 

Nice2MU

Prime Minister (20k+ posts)
جے آئ ٹی کے آٹھ والیوم انہی تفصیلات سے بھرے پڑے ہیں ، عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہیں جاکر دیکھ لو
یار جو سچا ریکارڈ ہوتا اسے والیوموں کی نہیں بلکہ چند بینک سٹیٹمنٹس کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔

اور جے آئی ٹی کے والیومز جے آئی ٹی والوں نے اکٹھا کیا ہے آپکے لیڈروں نے سوائے ایک قطری خط کے کچھ نہیں دیا۔۔۔

اور وہ سارے والیومز کھل چکے ہیں آپ لوگوں کے وکلا نے تو اس ایک والیوم کا حوالہ نہیں دیا تھا؟
 

sensible

Chief Minister (5k+ posts)


جو اثاثے حسین نواز شریف کے تھے وہ مانا بھی میرے ہیں انکا حساب نوازشریف سے لیا گیا
اور پھر ایک غیر وصول شدہ تنخواہ کو بنیاد بنا کر نااہل کردیا
دھرا معیار انصاف ہے
اگر اثاثے حسین نواز کے تھے تو نواز کو ان پر پارلیمنٹ اور ٹی وی پر جھوٹ بولنے کی کیوں ضرورت پیش آئ؟ کہاں ہے وہ ذرائع جو نواز شریف نے پیش کرنے تھے؟
اور اگر اتنا برا ظلم ہو گیا تھا تو حسین نواز بتا دے وہ ذرائع جس سے اس نے فلیٹس خریدے تا کہ اس ظلم سے اپنے باپ کو بچا سکے
اور آپ کو ایک بات بھول جاتی ہے ضرورتا نواز شریف خود کہ چک ہے میرے اساسے آمدن سے زائد ہیں تو تمھیں اس س کیا ؟
اور سب سے بڑی بات اب تو نیب کو ان اساسوں کا جواب دے دے جو اس کے نام پر ہیں
ویسے تو شیر علی بھی کلئیر نہیں ہے لیکن وہ شریفوں سے زیادہ سمجھدار ہے اس نے حضور یہ ہیں وہ ذرائع والی بکواس نہیں کی اس لئے سب کچھ موجود ہونے کے باوجود ذرائع ڈھونڈھنا نیب کے ذمہ لگا کر اس کو دفع کیا گیا ہے .
 

zain10

MPA (400+ posts)
سپریم کورٹ نے لیگی رہنما چوہدری شیر علی کو کرپشن کے مقدمات میں کلین چٹ دیتے ہوئے بریت کیخلاف نیب کی اپیلیں خارج کر دی۔



سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے لیگی رہنما چوہدری شیر علی کی بریت کیخلاف نیب کی اپیلوں پر سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایک گواہ نے بھی نہیں کہا کہ چوہدری شیر علی کیخلاف دباؤ میں آ کر بیان دیا، نیب کے اپنے گواہ ہی ایسا کہیں گے تو ملزم کو دفاع کی کیا ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملزم کا کام اپنے اثاثوں کو ثابت کرنا ہوتا ہے، جو اثاثے ملزم کے ہیں ہی نہیں وہ ثابت کرنا نیب کی ذمہ داری ہے۔

جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیئے کہ مکی مارکیٹ کا قبضہ بھی چوہدری شیر علی کے پاس نہیں تھا، مکی مارکیٹ کی دکانیں ویسے بھی لیز پر تھیں۔ نیب پراسکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ بطور میئر چوہدری شیر علی نے غیر قانونی الاٹمنٹ کی۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میئر ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ ہر غلط کام اسکے کھاتے میں ڈال دیا جائے، چوہدری شیر علی 1983 میں میئر تھے جبکہ کیس سال 2000 میں بنایا گیا۔

عدالت نے کہا کہ نیب چوہدری شیر کیخلاف کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا، جن افراد کو زمینوں کی مبینہ غیر قانونی الاٹمنٹ کی گئی ان کا ملزم سے تعلق ثابت نہیں ہو سکا۔



فیضو
لندن کی عدالتیں شو باز کو ڈیلی میل کے خلاف کب کلین چٹ دیں گی

🤭
 
Sponsored Link

Latest Blogs Featured Discussion