سابق آئی جی سندھ نے راؤ انوار کو ہرجانے کا نوٹس کیوں بھجوایا؟

adkhawaj11.jpg

سابق آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے سابق ایس ایس پی راؤ انوار کو 5 کروڑ ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا،سابق آئی جی سندھ اور موجودہ کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد اے ڈی خواجہ نے سابق ایس ایس پی ڈسٹرکٹ ملیر راؤ انوار کو 5 کروڑ روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھیج دیا جس میں انہیں عائد کردہ الزامات کی وضاحت کے لیے 14 دن کا وقت دیا ہے۔

اے ڈی خواجہ کی جانب سے بھیجے گئے لیگل نوٹس میں کہا گیا ہے کہ سابق ایس ایس پی نے انٹرویو میں مجھ سے متعلق ہتک آمیز الفاظ ادا کیے گئے، راؤانوار ہتک آمیز بیان پر غیر مشروط معافی مانگیں۔

اے ڈی خواجہ نے کہا کہ سابق ایس ایس پی ملیر نے ان پر جھوٹے الزامات لگائے، راؤ انور کی جانب سے لگائے گئے الزامات نے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا اور ان کے خاندان کو بھی خطرے میں ڈالا ہے۔

سابق آئی جی نے کہا کہ راؤ انوار نے 14 روز کے اندر معافی نامہ نہ دیا گیا تو 5 کروڑ ہرجانہ ادا کریں۔

اے ڈی خواجہ نے کا کہنا ہے کہ راؤ انوار نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں مجھ پر جھوٹے، بے بنیاد اور من گھڑت الزامات لگائے ہیں جبکہ انھوں نے میرے بارے میں توہین آمیز الفاظ بھی استعمال کیے۔

انہوں نے کہا کہ راؤ انوار کی جانب سے لگائے گئے جھوٹے الزامات کی وجہ سے میری ساکھ نقصان کو پہنچا اور اہلخانہ کو بھی ان الزامات سے خطرات کا سامنا ہے۔ اے ڈی خواجہ کے جانب سے بھیجے گئے قانونی نوٹس میں کہا گیا کہ راؤ انوار فوری طور پر معافی مانگیں اور آئندہ ایسے الزامات سے باز رہیں۔

راؤ انوار کا انٹرویو میں کہنا تھا کہ میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا، انکاؤنٹرز آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کی پالیسی تھی اس پر عمل کیا،اے ڈی خواجہ نیشنل پولیس اکیڈمی کے کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں.
 
Advertisement

disgusted

Chief Minister (5k+ posts)
Kya abhi bhi AD khwajay aur Rao Anwar ki koi saakh baqi hey. Agar nahin hey tau Sharjeel Memon say rabita kar lo . Woh tumko Saakh bhej sakta hey. Elfy laga kar topi mein laga do. Saakh Bahadur bun jao gey.
 
Sponsored Link