روپے کی قدر کو مستحکم کرنے کیلئے سعودی عرب کی امداد پر انحصار کرنا چاہیے؟

4%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D9%85%D9%81.jpg

ہم بالکل 3 ارب ڈالر کے نقد اور باقی تیل کی صورت میں ملنے والے پیکج پر انحصار کر کے روپے کی قدر میں بہتری لا سکتے ہیں اور ہم لائیں گے،مشیر خزانہ شکوت ترین۔

نجی ٹی وی چینل کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ میں میزبان شاہزیب خانزادہ نے سوال اٹھایا کہ اس سے قبل بھی سعودی عرب ہمیں اربوں ڈالر دینے کے بعد ایک معمولی سی ناراضگی پر ایک ارب ڈالر کی فوری واپسی کا مطالبہ کر چکا ہے تو ایسی صورتحال میں کیا گارنٹی ہے کہ سعودی عرب دوبارہ ایسا نہیں کرے گا کیا یہ مناسب ہو گا کہ ہم اپنے روپے کی قدر کو اس کے دیئے گئے 3 ارب ڈالر سے مستحکم کریں؟


سوال کے جواب میں مشیر خزانہ نے کہا کہ انہوں نے اب کی بار باقاعدہ معاہدہ کیا ہے جس پر سعودی ولی عہد کے دستخط موجود ہیں اور اس معاہدے کے بعد سعودی فرانروا نے اپنے عملے کو پیکج پر عملدرآمد کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد کا حکم ملنے کے بعد مجھے ان کے وزیر خزانہ نے بھی فون کیا اور اس معاہدے کی تصدیق اور دیگر عوامل سے متعلق بات چیت کی۔

یاد رہے کہ سعودی عرب کی جانب سے رواں برس 3 ارب ڈالر کے ذخائر مرکزی بینک میں جمع کروانے اور ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کی فنانسنگ سے پاکستان کی مدد کا اعلان کیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ اس سہولت سے پاکستان کو آئی ایم ایف کو اپنے فنانسنگ پلان کے بارے میں قائل کرنے میں مدد ملے گی۔

قبل ازیں سعودی عرب نے 2018 میں زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے میں مدد کے لیے پاکستان کو 3 ارب ڈالر کی نقد رقم فراہم کی تھی اور 3 ارب ڈالر کی تیل کی سہولت فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم جب بعد میں باہمی تعلقات میں سرد مہری آئی تو موجودہ حکومت کو 3 میں سے 2 ارب ڈالر کے ذخائر واپس کرنے پڑے تھے۔

رواں برس جون میں ایک نیوز کانفرنس میں بتایا گیا تھا کہ سعودی عرب نے سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر کے تیل کی سہولت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تین ماہ بعد اس وقت کے وزیر خزانہ شوکت ترین نے دعویٰ کیا تھا کہ مؤخر ادائیگیوں پر سعودی تیل کی سہولت کے لیے ایک اور معاہدہ طے پا گیا ہے اور اس کا باضابطہ اعلان دو سے تین روز میں کر دیا جائے گا۔

تاہم اسلام آباد کے امریکی حکام اور آئی ایم ایف سے رابطوں کی وجہ سے اس کے اعلان میں تاخیر ہوئی۔ گزشتہ ماہ قومی اسمبلی میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے شوکت ترین نے کہا تھا کہ وہ (سعودی عرب) نہ صرف مؤخر ادائیگی پر تیل کی ایک اور سہولت پر غور کر رہا ہے بلکہ ایک سمجھوتہ بھی تقریباً ہوچکا ہے جو 2 سے 3 روز میں عوام کے سامنے آنے کا امکان ہے۔
 
Advertisement

thegodfatherpart3

Senator (1k+ posts)
is mulk ka pora system corrupt hai. IK is corrupt system mei koch nahi kar sakta. Judiciary apne corrupt judge Qazi isa ko bacha gayi To baqi mafia ko kis tara judiciary saza de sakti hai. jab tak system change nahi hoga Tab tak dosre mulko par dependent hona pare ga Or koyi option nahi
 
Sponsored Link