حکومت کے خلاف آپ ہوا میں تلواریں چلا رہے ہیں؟سوال پر احسن اقبال کا ردعمل

4ahsaniqbalmalikradamal.jpg

ندیم ملک نے مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال سے اپنے پروگرام میں کہا کہ ان کی اپنی تیاری حکومت کے خلاف ٹھیک نہیں ہے یا تو وہ ہوا میں تلواریں چلا رہے ہیں یا پھر محض بلف کر رہے ہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

اس پر سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم نے 23 مارچ کی تاریخ کچھ سوچ کر ہی رکھی ہے تاکہ ہمارے پاس اتنا ٹائم ہو کہ کل کو کوئی یہ نہ کہے کہ اسے تیاری کا موقع نہیں ملا، ان کا کہنا تھا کہ ہم دیکھ رہے تھے کہ ہماری حلیف جماعتوں میں سے کل کوئی ایسا نہ کہے کہ ہم جمہوری طریقے سے تحریک چلا سکتے تھے مگر ایسا کیوں نہیں کیا گیا۔


ان کا کہنا تھا کہ میں امید کرتا ہوں کہ حلیف جماعتیں پاکستان کے نظام اور عوام کے غم و غصے کو سمجھیں گے۔ احسن اقبال نے کہا کہ ہمارا ملک ایک مہینے کیلئے بھی بے یقینی کی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا ہمیں فوری طور پر نئی حکومت کی ضرورت ہو گی اور اس کا حل انتخابات سے ہی ممکن ہے۔

ندیم ملک نے کہا کہ عمران خان کا ردعمل بڑا جارحانہ تھا انہوں نے کہا کہ وہ خطرناک ہو جائیں گے اور ایک بندہ بھی نکال دیا کیونکہ شہبازشریف جیل نہیں گئے مگر اپوزیشن پھر بھی کمزور نظر آ رہی ہے۔


اس پر احسن اقبال نے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا کہ عمران خان کے اعصاب پر مسلم لیگ ن اور اپوزیشن سوار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتنا بڑا لطیفہ ہے کہ ایک شخص کہتا رہے 25 سال تک کہ میں ان کو نہیں چھوڑوں گا اور جب اقتدار میں آئے تو کہے اب مجھے نکالا گیا تو میں ان کو نہیں چھوڑوں گا۔

سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ عمران خان کا خطرناک ہونے سے متعلق بیان اپوزیشن کیلئے نہیں تھا بلکہ ان کیلئے تھا جو حکومت کو ڈرانا چاہتے ہیں۔ اپوزیشن کو تو پہلے ہی نہیں چھوڑا جھوٹے مقدمے بنائے گئے، قتل کے قیدیوں کے ساتھ چکی میں پیسا گیا اور کیا باقی رہ جاتا ہے۔
 
Advertisement

[email protected]

Politcal Worker (100+ posts)
ان کا فلسفہ یہ ہے کہ اتنا جھوٹ بولو کہ عوام سچ سمجھنے پر مجبور ہو جاے۔بے شرم سیاستدان۔۔۔۔۔
 

abdlsy

Prime Minister (20k+ posts)
4ahsaniqbalmalikradamal.jpg

ندیم ملک نے مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال سے اپنے پروگرام میں کہا کہ ان کی اپنی تیاری حکومت کے خلاف ٹھیک نہیں ہے یا تو وہ ہوا میں تلواریں چلا رہے ہیں یا پھر محض بلف کر رہے ہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

اس پر سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم نے 23 مارچ کی تاریخ کچھ سوچ کر ہی رکھی ہے تاکہ ہمارے پاس اتنا ٹائم ہو کہ کل کو کوئی یہ نہ کہے کہ اسے تیاری کا موقع نہیں ملا، ان کا کہنا تھا کہ ہم دیکھ رہے تھے کہ ہماری حلیف جماعتوں میں سے کل کوئی ایسا نہ کہے کہ ہم جمہوری طریقے سے تحریک چلا سکتے تھے مگر ایسا کیوں نہیں کیا گیا۔


ان کا کہنا تھا کہ میں امید کرتا ہوں کہ حلیف جماعتیں پاکستان کے نظام اور عوام کے غم و غصے کو سمجھیں گے۔ احسن اقبال نے کہا کہ ہمارا ملک ایک مہینے کیلئے بھی بے یقینی کی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا ہمیں فوری طور پر نئی حکومت کی ضرورت ہو گی اور اس کا حل انتخابات سے ہی ممکن ہے۔

ندیم ملک نے کہا کہ عمران خان کا ردعمل بڑا جارحانہ تھا انہوں نے کہا کہ وہ خطرناک ہو جائیں گے اور ایک بندہ بھی نکال دیا کیونکہ شہبازشریف جیل نہیں گئے مگر اپوزیشن پھر بھی کمزور نظر آ رہی ہے۔


اس پر احسن اقبال نے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا کہ عمران خان کے اعصاب پر مسلم لیگ ن اور اپوزیشن سوار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتنا بڑا لطیفہ ہے کہ ایک شخص کہتا رہے 25 سال تک کہ میں ان کو نہیں چھوڑوں گا اور جب اقتدار میں آئے تو کہے اب مجھے نکالا گیا تو میں ان کو نہیں چھوڑوں گا۔

سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ عمران خان کا خطرناک ہونے سے متعلق بیان اپوزیشن کیلئے نہیں تھا بلکہ ان کیلئے تھا جو حکومت کو ڈرانا چاہتے ہیں۔ اپوزیشن کو تو پہلے ہی نہیں چھوڑا جھوٹے مقدمے بنائے گئے، قتل کے قیدیوں کے ساتھ چکی میں پیسا گیا اور کیا باقی رہ جاتا ہے۔
Itna barhaa bullshter hae buk buk bs pae bs jhoot fitnae bazee he is such an expert jhoota just to gain power money. Budmash baeshurum insaan being musalman suchhh sae iskoe alllergy hae.
 
Sponsored Link