جنکو ریپ اور بے پردگی کا تعلّق سمجھ نہیں آتا

Sohail Shuja

Chief Minister (5k+ posts)
ریپ کا عورتوں کے کپڑوں سے کیا تعلّق ہے؟ جو عورتیں ریپ ہوئیں یا جو بچے اس کا نشانہ بنے، ان کے کپڑے تو دعوتِ گناہ نہیں دے رہے تھے
جی بالکل ٹھیک بات ہے، ریپ کا تعلّق عورتوں کے کپڑوں سے زیادہ مردوں کی ذہنیت سے ہے۔ لیکن اس بات کو سمجھنا ایک عورت کے لیئے شائد مشکل ہو کہ مردوں کا ذہن اور خاص کر کمزور مردوں کا ذہن کیسے کام کرتا ہے؟

مرد کے لیئے اللہ نے عورت کے جسم میں شہوت رکھی ہے۔ لیکن ضروری نہیں کہ مرد اسی عورت پر ہاتھ بھی رکھے جس کے جسم کو دیکھ کر اس کی حالت خراب ہوتی ہے۔ ظاہر سی بات ہے، کہ اگر کوئی عورت کسی بناء پر مرد کے لیئے قابل دسترس نہ ہو تو وہ اس پر تو ہاتھ صاف نہیں کرسکتا، لیکن وہ اس کے جسم کو دیکھنے کے بعد وہ حدّت اپنے دماغ میں لیئے گھومتا رہتا ہے اور پھر اسی عالم میں جہاں اسے کوئی قابل دسترس عورت یا کمسن بچہ بھی میّسر آجائے تو وہ اپنی اس حدّت کو اس پر نکال دیتا ہے۔

بے پردگی سے ضروری نہیں کہ وہی عورت ستائی جائے جو کپڑے کم پہن کر نکلتی ہے، بلکہ ان کی اس حرکت کی وجہ سے باقی کپڑوں والیاں اور والے ضرور کسی کی ہوس کا نشانہ بن جاتے ہیں۔

مغربی معاشروں میں ایسا کیوں نہیں ہوتا؟
خیر یہ کہنا تو سراسر غلط ہوگا کہ مغرب میں ایسے جرائم نہیں ہوتے۔ ہاں یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ وہاں ان کی نوعیّت عام طور پر اتنی سنگین نہیں ہوتی۔ اسکی وجہ عمران خان نے اپنے انٹرویو میں بھی بتلائی تھی کہ وہاں ان کے پاس جنسی حدّت کم کرنے کے اور طریقے موجود ہیں۔ نائٹ کلب ہیں اور ایسکورٹ سروسز ہیں۔ بہت سارے لوگ ویسے ہی ایک رات کے لیئے بھی مل جاتے ہیں جسے وَن نائٹ اسٹینڈ کہا جاتا ہے۔ اس لیئے وہاں پر ان لوگوں کی اکثریت اپنی حرص بہ آسانی پوری کر لیتے ہیں۔

لیکن پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں نائٹ کلب اور ایسکورٹ سروسز کا رواج نہیں اور وَن نائٹ اسٹینڈ جیسے الفاظ بھی بہت لوگوں کو معنیٰ کے ساتھ معلوم نہیں، ایسے معاشرے میں اگر عریانی مغرب کی طرح ہوجائے تو یہ کچّے اور کمزور ذہن کہاں جائیں گے؟ ظاہر سی بات ہے کہ کوئی متبادل نہ ہونے کی صورت میں وہ اسی پر ہاتھ صاف کریں گے جو قابلِ دسترس ہو۔ پھر اس سے زیادہ خوفناک بات یہ ہے کہ سزا کے یا بدنامی کے ڈر سے مفعول کو جان سے بھی ماردیا جاتا ہے۔

کیا بے پردگی ہی ریپ کی واحد وجہ ہے؟

جی نہیں۔ لیکن یہ اسکی ایک بڑی وجہ ہے۔ مگر سلام ہے ان لوگوں کی ذہنیت کو بھی جنھوں نے عمران خان کے بیان کو یہ سمجھ لیا کہ شائد اس نے ریپ کی واحد وجہ بے پردگی کو ہی قرار دے دیا ہے۔

ایچ بی او پر چلایا گیا کلپ سینسر کیا ہوا تھا، اسمیں عمران خان کا مکمّل نکتہ نظر نہیں بتایا گیا۔ کل میں نے ایک کلپ سیاست پی کے کے توسط سے دیکھا جس میں تمام بات سمجھا کر بیان کی گئی ہے۔


عمران خان نے ریپ کی وجوہات میں سب سے بڑی وجہ قانونی سسٹم کی کمزوری کو قرار دیا تھا۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ قانون کے سسٹم کو ٹھیک کرنا خالہ جی کا گھر نہیں۔ یہ نظام صدیوں کا بگڑا ہوا ہے۔ اور یہ بھی ممکن نہیں کہ ہر جگہہ قانون ایسے واقعے سے پہلے پہنچ کر آپکو بچا لے۔ تو یہ بات لوگوں کے لیئے کی گئی تھی کہ وہ کیسے خود کو اور اپنے دیگر معاشرے والوں کو بچا سکتے ہیں، اور اس کے لیئے لوگوں کا خود سب سے پہلے اپنا اور اپنے آس پاس والوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ جس کے لیئے پردے کا کہا گیا۔
قانونی نظام کی کمزوری سب سے بڑی وجہ ہے

لہٰذا یہ بات صاف ہے کہ ریپ کیسز میں سب سے بڑی کمزوری ہمارے قانونی نظام کی ہے۔ پہلی بات یہ کہ یہ ریپ ہونے سے بچا نہیں سکتا اور دوسرا یہ کہ ریپ ہونے کے بعد بھی چونکہ شکائت کنندہ کی شناخت اور اسکی ناموس معاشرے میں اچھل جاتی ہے، لہٰذا اکثر لوگ تو رپورٹ ہی نہیں کرتے۔ جو کر بھی دیں، تو انکو قانونی پیچیدگیوں اور سسٹم کی حرامخوری کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ انصاف ملے یا نہ ملے، لوگوں کی عزّتیں ضرور سرِ بازار نیلام کردی جاتی ہیں۔

خرابی سسٹم کی ضرور ہے، لیکن اپنی مدد آپ کرنا یعنی احتیاطی تدابیر خود اختیار کرنا کوئی بری بات ہے؟

سب جانتے ہیں کہ اس سسٹم کو اور عوامی رویّوں کو تبدیل ہونے میں خاصہ وقت درکار ہوتا ہے، لہٰذا اگر ایک اقدام یہ خود اپنے اور دوسروں کے تحفّظ کے لیئے کر لیں تو کیا برائی ہے؟

کیا پردہ صرف نقاب یا برقع پہننے کا نام ہے؟
یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ پردے کو اگر ہم نے صرف اپنے کپڑوں کی حد تک محدود کرلیا ہے تو یہ بہت بڑی کم عقلی کا مظاہرہ ہے۔ پردہ اپنے اندر ایک نظریئے کا نام ہے۔ کسی برقعے یا نقاب کا نام نہیں ہے۔

پردے کا مطلب یہ نہیں کہ برقعہ پہنا جائے اور اس کے بعد تصوّر کرلیا جائے کہ آپ محفوظ ہوگئے ہیں۔ پردے کے کچھ تقاضے ہیں، مثلاً آپ کے کلام، نشست و برخاست، رویّہ، خیالات کا اظہار، یہ سب پردے کے احاطے میں آتا ہے۔ عورتوں کا اکیلے گھر سے نکل کر سنسان جگہوں پر نکلنا، بچوں کو لاپرواہی سے گلیوں میں کھیلنے دینا، یا انھیں نوکروں کے حوالے کرکے اپنے سر سے بوجھ اتارنا، یہ سب بے پردگی کے زمرے میں ہی آتا ہے۔

آخر عورتوں کو پردے کے نام سے اتنی چِڑ کیوں ہے؟

کسی نے پردہ کرنے کو کہہ دیا ہے، کہیں آپ کے ولادین کو گالی تو نہیں نکال دی۔ اتنا غصّہ کیوں ہے آخر؟

 
Advertisement
Last edited:

gorgias

Chief Minister (5k+ posts)
ریپ کا عورتوں کے کپڑوں سے کیا تعلّق ہے؟ جو عورتیں ریپ ہوئیں یا جو بچے اس کا نشانہ بنے، ان کے کپڑے تو دعوتِ گناہ نہیں دے رہے تھے
جی بالکل ٹھیک بات ہے، ریپ کا تعلّق عورتوں کے کپڑوں سے زیادہ مردوں کی ذہنیت سے ہے۔ لیکن اس بات کو سمجھنا ایک عورت کے لیئے شائد مشکل ہو کہ مردوں کا ذہن اور خاص کر کمزور مردوں کا ذہن کیسے کام کرتا ہے؟

مرد کے لیئے اللہ نے عورت کے جسم میں شہوت رکھی ہے۔ لیکن ضروری نہیں کہ مرد اسی عورت پر ہاتھ بھی رکھے جس کے جسم کو دیکھ کر اس کی حالت خراب ہوتی ہے۔ ظاہر سی بات ہے، کہ اگر کوئی عورت کسی بناء پر مرد کے لیئے قابل دسترس نہ ہو تو وہ اس پر تو ہاتھ صاف نہیں کرسکتا، لیکن وہ اس کے جسم کو دیکھنے کے بعد وہ حدّت اپنے دماغ میں لیئے گھومتا رہتا ہے اور پھر اسی عالم میں جہاں اسے کوئی قابل دسترس عورت یا کمسن بچہ بھی میّسر آجائے تو وہ اپنی اس حدّت کو اس پر نکال دیتا ہے۔

بے پردگی سے ضروری نہیں کہ وہی عورت ستائی جائے جو کپڑے کم پہن کر نکلتی ہے، بلکہ ان کی اس حرکت کی وجہ سے باقی کپڑوں والیاں اور والے ضرور کسی کی ہوس کا نشانہ بن جاتے ہیں۔



کچھ عرصے پہلے میں نے یہی بات کی تھی جس پر ایک لبرل پسند غصے میں آگیا تھااور اپنی اصلیت دکھانتے ہوئے گالم گلوچ اور ذاتی حملے شروع کر دیے۔
 

akinternational

Minister (2k+ posts)
maghib aur goron ki ghulami men haram ke maal per palne wali aulad madar pidar azad haona chahti hai... khud ko aql e kul samjhne wale bewaqufon ki samajh men ye nahin aa ke... apni qeemti cheezen locker men kyun rakhte ho, chori aur lutne ke khof se.... ye bepardah hone waliyon ke paas ghaliban ISMAT AUR IZZAT aur inke mardon ke paas gherat nahin hoti bachain aur chupain kya... inka maqsad hai maghrib ki tarah jahan aur jab chahain jinsi muamilat kar len... meri jism mer marzi... maghrib men zina birraza ki koi saza nahin hoti. 12 - 12 saal ki larkiyan man ban rahi hain aur bachche ke baap ka pata nahin.... lakh laanat hai in sab liberals per
 

Nice2MU

Prime Minister (20k+ posts)
ریپ کا عورتوں کے کپڑوں سے کیا تعلّق ہے؟ جو عورتیں ریپ ہوئیں یا جو بچے اس کا نشانہ بنے، ان کے کپڑے تو دعوتِ گناہ نہیں دے رہے تھے
جی بالکل ٹھیک بات ہے، ریپ کا تعلّق عورتوں کے کپڑوں سے زیادہ مردوں کی ذہنیت سے ہے۔ لیکن اس بات کو سمجھنا ایک عورت کے لیئے شائد مشکل ہو کہ مردوں کا ذہن اور خاص کر کمزور مردوں کا ذہن کیسے کام کرتا ہے؟

مرد کے لیئے اللہ نے عورت کے جسم میں شہوت رکھی ہے۔ لیکن ضروری نہیں کہ مرد اسی عورت پر ہاتھ بھی رکھے جس کے جسم کو دیکھ کر اس کی حالت خراب ہوتی ہے۔ ظاہر سی بات ہے، کہ اگر کوئی عورت کسی بناء پر مرد کے لیئے قابل دسترس نہ ہو تو وہ اس پر تو ہاتھ صاف نہیں کرسکتا، لیکن وہ اس کے جسم کو دیکھنے کے بعد وہ حدّت اپنے دماغ میں لیئے گھومتا رہتا ہے اور پھر اسی عالم میں جہاں اسے کوئی قابل دسترس عورت یا کمسن بچہ بھی میّسر آجائے تو وہ اپنی اس حدّت کو اس پر نکال دیتا ہے۔

بے پردگی سے ضروری نہیں کہ وہی عورت ستائی جائے جو کپڑے کم پہن کر نکلتی ہے، بلکہ ان کی اس حرکت کی وجہ سے باقی کپڑوں والیاں اور والے ضرور کسی کی ہوس کا نشانہ بن جاتے ہیں۔

مغربی معاشروں میں ایسا کیوں نہیں ہوتا؟
خیر یہ کہنا تو سراسر غلط ہوگا کہ مغرب میں ایسے جرائم نہیں ہوتے۔ ہاں یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ وہاں ان کی نوعیّت عام طور پر اتنی سنگین نہیں ہوتی۔ اسکی وجہ عمران خان نے اپنے انٹرویو میں بھی بتلائی تھی کہ وہاں ان کے پاس جنسی حدّت کم کرنے کے اور طریقے موجود ہیں۔ نائٹ کلب ہیں اور ایسکورٹ سروسز ہیں۔ بہت سارے لوگ ویسے ہی ایک رات کے لیئے بھی مل جاتے ہیں جسے وَن نائٹ اسٹینڈ کہا جاتا ہے۔ اس لیئے وہاں پر ان لوگوں کی اکثریت اپنی حرص بہ آسانی پوری کر لیتے ہیں۔

لیکن پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں نائٹ کلب اور ایسکورٹ سروسز کا رواج نہیں اور وَن نائٹ اسٹینڈ جیسے الفاظ بھی بہت لوگوں کو معنیٰ کے ساتھ معلوم نہیں، ایسے معاشرے میں اگر عریانی مغرب کی طرح ہوجائے تو یہ کچّے اور کمزور ذہن کہاں جائیں گے؟ ظاہر سی بات ہے کہ کوئی متبادل نہ ہونے کی صورت میں وہ اسی پر ہاتھ صاف کریں گے جو قابلِ دسترس ہو۔ پھر اس سے زیادہ خوفناک بات یہ ہے کہ سزا کے یا بدنامی کے ڈر سے مفعول کو جان سے بھی ماردیا جاتا ہے۔

کیا بے پردگی ہی ریپ کی واحد وجہ ہے؟

جی نہیں۔ لیکن یہ اسکی ایک بڑی وجہ ہے۔ مگر سلام ہے ان لوگوں کی ذہنیت کو بھی جنھوں نے عمران خان کے بیان کو یہ سمجھ لیا کہ شائد اس نے ریپ کی واحد وجہ بے پردگی کو ہی قرار دے دیا ہے۔

ایچ بی او پر چلایا گیا کلپ سینسر کیا ہوا تھا، اسمیں عمران خان کا مکمّل نکتہ نظر نہیں بتایا گیا۔ کل میں نے ایک کلپ سیاست پی کے کے توسط سے دیکھا جس میں تمام بات سمجھا کر بیان کی گئی ہے۔


عمران خان نے ریپ کی وجوہات میں سب سے بڑی وجہ قانونی سسٹم کی کمزوری کو قرار دیا تھا۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ قانون کے سسٹم کو ٹھیک کرنا خالہ جی کا گھر نہیں۔ یہ نظام صدیوں کا بگڑا ہوا ہے۔ اور یہ بھی ممکن نہیں کہ ہر جگہہ قانون ایسے واقعے سے پہلے پہنچ کر آپکو بچا لے۔ تو یہ بات لوگوں کے لیئے کی گئی تھی کہ وہ کیسے خود کو اور اپنے دیگر معاشرے والوں کو بچا سکتے ہیں، اور اس کے لیئے لوگوں کا خود سب سے پہلے اپنا اور اپنے آس پاس والوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ جس کے لیئے پردے کا کہا گیا۔
قانونی نظام کی کمزوری سب سے بڑی وجہ ہے

لہٰذا یہ بات صاف ہے کہ ریپ کیسز میں سب سے بڑی کمزوری ہمارے قانونی نظام کی ہے۔ پہلی بات یہ کہ یہ ریپ ہونے سے بچا نہیں سکتا اور دوسرا یہ کہ ریپ ہونے کے بعد بھی چونکہ شکائت کنندہ کی شناخت اور اسکی ناموس معاشرے میں اچھل جاتی ہے، لہٰذا اکثر لوگ تو رپورٹ ہی نہیں کرتے۔ جو کر بھی دیں، تو انکو قانونی پیچیدگیوں اور سسٹم کی حرامخوری کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ انصاف ملے یا نہ ملے، لوگوں کی عزّتیں ضرور سرِ بازار نیلام کردی جاتی ہیں۔

خرابی سسٹم کی ضرور ہے، لیکن اپنی مدد آپ کرنا یعنی احتیاطی تدابیر خود اختیار کرنا کوئی بری بات ہے؟

سب جانتے ہیں کہ اس سسٹم کو اور عوامی رویّوں کو تبدیل ہونے میں خاصہ وقت درکار ہوتا ہے، لہٰذا اگر ایک اقدام یہ خود اپنے اور دوسروں کے تحفّظ کے لیئے کر لیں تو کیا برائی ہے؟

کیا پردہ صرف نقاب یا برقع پہننے کا نام ہے؟
یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ پردے کو اگر ہم نے صرف اپنے کپڑوں کی حد تک محدود کرلیا ہے تو یہ بہت بڑی کم عقلی کا مظاہرہ ہے۔ پردہ اپنے اندر ایک نظریئے کا نام ہے۔ کسی برقعے یا نقاب کا نام نہیں ہے۔

پردے کا مطلب یہ نہیں کہ برقعہ پہنا جائے اور اس کے بعد تصوّر کرلیا جائے کہ آپ محفوظ ہوگئے ہیں۔ پردے کے کچھ تقاضے ہیں، مثلاً آپ کے کلام، نشست و برخاست، رویّہ، خیالات کا اظہار، یہ سب پردے کے احاطے میں آتا ہے۔ عورتوں کا اکیلے گھر سے نکل کر سنسان جگہوں پر نکلنا، بچوں کو لاپرواہی سے گلیوں میں کھیلنے دینا، یا انھیں نوکروں کے حوالے کرکے اپنے سر سے بوجھ اتارنا، یہ سب بے پردگی کے زمرے میں ہی آتا ہے۔


آخر عورتوں کو پردے کے نام سے اتنی چِڑ کیوں ہے؟

کسی نے پردہ کرنے کو کہہ دیا ہے، کہیں آپ کے ولادین کو گالی تو نہیں نکال دی۔ اتنا غصّہ کیوں ہے آخر؟




انکا بس نہیں چلتا کہ قرآن سے پردے بارے تمام آیات نکال دی جائے۔۔۔۔۔ لیکن چونکہ یہ کام نہیں کر سکتے تو ہر اس پہ بندے پہ حملہ آور ہو جو پردے اور اخلاقیات کی بات کرے۔۔۔۔۔
 

Baadshaah

MPA (400+ posts)
منے میاں تمہارے اور عمران خان کیلئے ایک لطیفہ عرض ہے۔۔

ایک وزیر جیل کے دورے پر گیا، دیکھا وہاں ایک مسکین صورت شخص قید ہے۔ وزیر نے عملے سے پوچھا یہ یہاں کس جرم میں ہے؟ جواب ملا یہ ایک قتل کا عینی شاہد ہے اس کو حفاظت کیلئے یہاں بند کیا ہوا ہے۔۔ وزیر نے پوچھا اور قاتل کہاں ہے۔۔ جواب ملا وہ ضمانت پر رہا ہوا ہوا ہے۔۔

کچھ ایسا ہی حل عمران خان اور اس جیسی فرسودہ ذہنیت رکھنے والے پاکستانی مرد عورت کی حفاظت کا پیش کرتے ہیں کہ عورت کی حفاظت کیلئے مرد کو تو کھلا چھوڑے رکھو پر عورت کو برقعے اور پردے میں قید رکھو۔۔۔
 

Okara

Prime Minister (20k+ posts)
منے میاں تمہارے اور عمران خان کیلئے ایک لطیفہ عرض ہے۔۔

ایک وزیر جیل کے دورے پر گیا، دیکھا وہاں ایک مسکین صورت شخص قید ہے۔ وزیر نے عملے سے پوچھا یہ یہاں کس جرم میں ہے؟ جواب ملا یہ ایک قتل کا عینی شاہد ہے اس کو حفاظت کیلئے یہاں بند کیا ہوا ہے۔۔ وزیر نے پوچھا اور قاتل کہاں ہے۔۔ جواب ملا وہ ضمانت پر رہا ہوا ہوا ہے۔۔

کچھ ایسا ہی حل عمران خان اور اس جیسی فرسودہ ذہنیت رکھنے والے پاکستانی مرد عورت کی حفاظت کا پیش کرتے ہیں کہ عورت کی حفاظت کیلئے مرد کو تو کھلا چھوڑے رکھو پر عورت کو برقعے اور پردے میں قید رکھو۔۔۔
Don't u think policing is a provincial matter? If yes then why we have rangers in Karachi since 80s?
 

StarTrooper

MPA (400+ posts)
Your only point is Aurat ko dekh ky mardo pe shevat tari ho jati hai aur jo mard control nahi ker paty wo rape ker dety hain

Same is true for women Mardo ko dekh ky aurton pe bhi shevat tari ho jati hai jo aurten control nahi ker paten wo zina ker bathten hain only if they are not reborts
 

Rajarawal111

Prime Minister (20k+ posts)
ریپ کا عورتوں کے کپڑوں سے کیا تعلّق ہے؟ جو عورتیں ریپ ہوئیں یا جو بچے اس کا نشانہ بنے، ان کے کپڑے تو دعوتِ گناہ نہیں دے رہے تھے
جی بالکل ٹھیک بات ہے، ریپ کا تعلّق عورتوں کے کپڑوں سے زیادہ مردوں کی ذہنیت سے ہے۔ لیکن اس بات کو سمجھنا ایک عورت کے لیئے شائد مشکل ہو کہ مردوں کا ذہن اور خاص کر کمزور مردوں کا ذہن کیسے کام کرتا ہے؟

مرد کے لیئے اللہ نے عورت کے جسم میں شہوت رکھی ہے۔ لیکن ضروری نہیں کہ مرد اسی عورت پر ہاتھ بھی رکھے جس کے جسم کو دیکھ کر اس کی حالت خراب ہوتی ہے۔ ظاہر سی بات ہے، کہ اگر کوئی عورت کسی بناء پر مرد کے لیئے قابل دسترس نہ ہو تو وہ اس پر تو ہاتھ صاف نہیں کرسکتا، لیکن وہ اس کے جسم کو دیکھنے کے بعد وہ حدّت اپنے دماغ میں لیئے گھومتا رہتا ہے اور پھر اسی عالم میں جہاں اسے کوئی قابل دسترس عورت یا کمسن بچہ بھی میّسر آجائے تو وہ اپنی اس حدّت کو اس پر نکال دیتا ہے۔

بے پردگی سے ضروری نہیں کہ وہی عورت ستائی جائے جو کپڑے کم پہن کر نکلتی ہے، بلکہ ان کی اس حرکت کی وجہ سے باقی کپڑوں والیاں اور والے ضرور کسی کی ہوس کا نشانہ بن جاتے ہیں۔

مغربی معاشروں میں ایسا کیوں نہیں ہوتا؟
خیر یہ کہنا تو سراسر غلط ہوگا کہ مغرب میں ایسے جرائم نہیں ہوتے۔ ہاں یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ وہاں ان کی نوعیّت عام طور پر اتنی سنگین نہیں ہوتی۔ اسکی وجہ عمران خان نے اپنے انٹرویو میں بھی بتلائی تھی کہ وہاں ان کے پاس جنسی حدّت کم کرنے کے اور طریقے موجود ہیں۔ نائٹ کلب ہیں اور ایسکورٹ سروسز ہیں۔ بہت سارے لوگ ویسے ہی ایک رات کے لیئے بھی مل جاتے ہیں جسے وَن نائٹ اسٹینڈ کہا جاتا ہے۔ اس لیئے وہاں پر ان لوگوں کی اکثریت اپنی حرص بہ آسانی پوری کر لیتے ہیں۔

لیکن پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں نائٹ کلب اور ایسکورٹ سروسز کا رواج نہیں اور وَن نائٹ اسٹینڈ جیسے الفاظ بھی بہت لوگوں کو معنیٰ کے ساتھ معلوم نہیں، ایسے معاشرے میں اگر عریانی مغرب کی طرح ہوجائے تو یہ کچّے اور کمزور ذہن کہاں جائیں گے؟ ظاہر سی بات ہے کہ کوئی متبادل نہ ہونے کی صورت میں وہ اسی پر ہاتھ صاف کریں گے جو قابلِ دسترس ہو۔ پھر اس سے زیادہ خوفناک بات یہ ہے کہ سزا کے یا بدنامی کے ڈر سے مفعول کو جان سے بھی ماردیا جاتا ہے۔

کیا بے پردگی ہی ریپ کی واحد وجہ ہے؟

جی نہیں۔ لیکن یہ اسکی ایک بڑی وجہ ہے۔ مگر سلام ہے ان لوگوں کی ذہنیت کو بھی جنھوں نے عمران خان کے بیان کو یہ سمجھ لیا کہ شائد اس نے ریپ کی واحد وجہ بے پردگی کو ہی قرار دے دیا ہے۔

ایچ بی او پر چلایا گیا کلپ سینسر کیا ہوا تھا، اسمیں عمران خان کا مکمّل نکتہ نظر نہیں بتایا گیا۔ کل میں نے ایک کلپ سیاست پی کے کے توسط سے دیکھا جس میں تمام بات سمجھا کر بیان کی گئی ہے۔


عمران خان نے ریپ کی وجوہات میں سب سے بڑی وجہ قانونی سسٹم کی کمزوری کو قرار دیا تھا۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ قانون کے سسٹم کو ٹھیک کرنا خالہ جی کا گھر نہیں۔ یہ نظام صدیوں کا بگڑا ہوا ہے۔ اور یہ بھی ممکن نہیں کہ ہر جگہہ قانون ایسے واقعے سے پہلے پہنچ کر آپکو بچا لے۔ تو یہ بات لوگوں کے لیئے کی گئی تھی کہ وہ کیسے خود کو اور اپنے دیگر معاشرے والوں کو بچا سکتے ہیں، اور اس کے لیئے لوگوں کا خود سب سے پہلے اپنا اور اپنے آس پاس والوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ جس کے لیئے پردے کا کہا گیا۔
قانونی نظام کی کمزوری سب سے بڑی وجہ ہے

لہٰذا یہ بات صاف ہے کہ ریپ کیسز میں سب سے بڑی کمزوری ہمارے قانونی نظام کی ہے۔ پہلی بات یہ کہ یہ ریپ ہونے سے بچا نہیں سکتا اور دوسرا یہ کہ ریپ ہونے کے بعد بھی چونکہ شکائت کنندہ کی شناخت اور اسکی ناموس معاشرے میں اچھل جاتی ہے، لہٰذا اکثر لوگ تو رپورٹ ہی نہیں کرتے۔ جو کر بھی دیں، تو انکو قانونی پیچیدگیوں اور سسٹم کی حرامخوری کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ انصاف ملے یا نہ ملے، لوگوں کی عزّتیں ضرور سرِ بازار نیلام کردی جاتی ہیں۔

خرابی سسٹم کی ضرور ہے، لیکن اپنی مدد آپ کرنا یعنی احتیاطی تدابیر خود اختیار کرنا کوئی بری بات ہے؟

سب جانتے ہیں کہ اس سسٹم کو اور عوامی رویّوں کو تبدیل ہونے میں خاصہ وقت درکار ہوتا ہے، لہٰذا اگر ایک اقدام یہ خود اپنے اور دوسروں کے تحفّظ کے لیئے کر لیں تو کیا برائی ہے؟

کیا پردہ صرف نقاب یا برقع پہننے کا نام ہے؟
یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ پردے کو اگر ہم نے صرف اپنے کپڑوں کی حد تک محدود کرلیا ہے تو یہ بہت بڑی کم عقلی کا مظاہرہ ہے۔ پردہ اپنے اندر ایک نظریئے کا نام ہے۔ کسی برقعے یا نقاب کا نام نہیں ہے۔

پردے کا مطلب یہ نہیں کہ برقعہ پہنا جائے اور اس کے بعد تصوّر کرلیا جائے کہ آپ محفوظ ہوگئے ہیں۔ پردے کے کچھ تقاضے ہیں، مثلاً آپ کے کلام، نشست و برخاست، رویّہ، خیالات کا اظہار، یہ سب پردے کے احاطے میں آتا ہے۔ عورتوں کا اکیلے گھر سے نکل کر سنسان جگہوں پر نکلنا، بچوں کو لاپرواہی سے گلیوں میں کھیلنے دینا، یا انھیں نوکروں کے حوالے کرکے اپنے سر سے بوجھ اتارنا، یہ سب بے پردگی کے زمرے میں ہی آتا ہے۔


آخر عورتوں کو پردے کے نام سے اتنی چِڑ کیوں ہے؟

کسی نے پردہ کرنے کو کہہ دیا ہے، کہیں آپ کے ولادین کو گالی تو نہیں نکال دی۔ اتنا غصّہ کیوں ہے آخر؟

تھوڑا جا ہن بھگتو پا جی -- دو تین دن پہلے میں نے بھی عمران خان سے اتفاق کر کے الٹی گنگا بہانے کی کوشش کی تھی

خیر بات یہ ہے کہ معاشرے میں پھیلتی بےپردگی اور بیہودگی اس مسلے کے ایک پہلو ہے یہ پوری کہانی نہیں - ہمارے لبرلز کہانی کے باقی پہلوں کو پکڑ کر زور آزمائی کر رہے ہیں
لیکن جیسا تسی فرمایا یہ سب سے بڑا موجب ہے ان جرائم کا جو اس کے بعد ہوتے ہیں
 

Sohail Shuja

Chief Minister (5k+ posts)
Your only point is Aurat ko dekh ky mardo pe shevat tari ho jati hai aur jo mard control nahi ker paty wo rape ker dety hain

Same is true for women Mardo ko dekh ky aurton pe bhi shevat tari ho jati hai jo aurten control nahi ker paten wo zina ker bathten hain only if they are not reborts
In fact, the latter is also true. We have the story of Joseph (AS) and Zulekha in Quran. But that is less pronounced as women mostly are not that physically superior to men (in general). However, to the point, Quran also has guidelines for males' purdah.

No man is allowed to walk out all naked. We have to cover our bodies from our elbows down to our knees. Not to wear revealing clothes to show off our body shape. Keep our gaze lowered while we come to pass by a stranger woman.

But that is for the men who believe and have strong faith. Islam does not take away the problems of weak minded people. Also, not to stress ourselves by getting into situations where we tend to get overwhelmed by our basic instincts i.e. sex.
 

arifkarim

Chief Minister (5k+ posts)
عمران خان کو ہیرو بنانے کی ایک اور ناکام کوشش۔ عمران خان ایک اچھا لیڈر ہے کا یہ مطلب نہیں کہ اس کی ہر بات درست ہے اور اس سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہو سکتی۔ عمران خان کی پہلی بیوی بھی اس کی بونگیوں سے متفق نہیں۔ یوتھیئے اپنے لیڈر کو کلٹ لیڈر بنانے سے اجتناب کریں۔ بھٹو اور نواز شریف کو کلٹ لیڈر بنانے کا انجام آپ کو نظر نہیں آتا؟
ریپ کا عورتوں کے کپڑوں سے کیا تعلّق ہے؟ جو عورتیں ریپ ہوئیں یا جو بچے اس کا نشانہ بنے، ان کے کپڑے تو دعوتِ گناہ نہیں دے رہے تھے
جی بالکل ٹھیک بات ہے، ریپ کا تعلّق عورتوں کے کپڑوں سے زیادہ مردوں کی ذہنیت سے ہے۔ لیکن اس بات کو سمجھنا ایک عورت کے لیئے شائد مشکل ہو کہ مردوں کا ذہن اور خاص کر کمزور مردوں کا ذہن کیسے کام کرتا ہے؟

مرد کے لیئے اللہ نے عورت کے جسم میں شہوت رکھی ہے۔ لیکن ضروری نہیں کہ مرد اسی عورت پر ہاتھ بھی رکھے جس کے جسم کو دیکھ کر اس کی حالت خراب ہوتی ہے۔ ظاہر سی بات ہے، کہ اگر کوئی عورت کسی بناء پر مرد کے لیئے قابل دسترس نہ ہو تو وہ اس پر تو ہاتھ صاف نہیں کرسکتا، لیکن وہ اس کے جسم کو دیکھنے کے بعد وہ حدّت اپنے دماغ میں لیئے گھومتا رہتا ہے اور پھر اسی عالم میں جہاں اسے کوئی قابل دسترس عورت یا کمسن بچہ بھی میّسر آجائے تو وہ اپنی اس حدّت کو اس پر نکال دیتا ہے۔

بے پردگی سے ضروری نہیں کہ وہی عورت ستائی جائے جو کپڑے کم پہن کر نکلتی ہے، بلکہ ان کی اس حرکت کی وجہ سے باقی کپڑوں والیاں اور والے ضرور کسی کی ہوس کا نشانہ بن جاتے ہیں۔

مغربی معاشروں میں ایسا کیوں نہیں ہوتا؟
خیر یہ کہنا تو سراسر غلط ہوگا کہ مغرب میں ایسے جرائم نہیں ہوتے۔ ہاں یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ وہاں ان کی نوعیّت عام طور پر اتنی سنگین نہیں ہوتی۔ اسکی وجہ عمران خان نے اپنے انٹرویو میں بھی بتلائی تھی کہ وہاں ان کے پاس جنسی حدّت کم کرنے کے اور طریقے موجود ہیں۔ نائٹ کلب ہیں اور ایسکورٹ سروسز ہیں۔ بہت سارے لوگ ویسے ہی ایک رات کے لیئے بھی مل جاتے ہیں جسے وَن نائٹ اسٹینڈ کہا جاتا ہے۔ اس لیئے وہاں پر ان لوگوں کی اکثریت اپنی حرص بہ آسانی پوری کر لیتے ہیں۔

لیکن پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں نائٹ کلب اور ایسکورٹ سروسز کا رواج نہیں اور وَن نائٹ اسٹینڈ جیسے الفاظ بھی بہت لوگوں کو معنیٰ کے ساتھ معلوم نہیں، ایسے معاشرے میں اگر عریانی مغرب کی طرح ہوجائے تو یہ کچّے اور کمزور ذہن کہاں جائیں گے؟ ظاہر سی بات ہے کہ کوئی متبادل نہ ہونے کی صورت میں وہ اسی پر ہاتھ صاف کریں گے جو قابلِ دسترس ہو۔ پھر اس سے زیادہ خوفناک بات یہ ہے کہ سزا کے یا بدنامی کے ڈر سے مفعول کو جان سے بھی ماردیا جاتا ہے۔

کیا بے پردگی ہی ریپ کی واحد وجہ ہے؟

جی نہیں۔ لیکن یہ اسکی ایک بڑی وجہ ہے۔ مگر سلام ہے ان لوگوں کی ذہنیت کو بھی جنھوں نے عمران خان کے بیان کو یہ سمجھ لیا کہ شائد اس نے ریپ کی واحد وجہ بے پردگی کو ہی قرار دے دیا ہے۔

ایچ بی او پر چلایا گیا کلپ سینسر کیا ہوا تھا، اسمیں عمران خان کا مکمّل نکتہ نظر نہیں بتایا گیا۔ کل میں نے ایک کلپ سیاست پی کے کے توسط سے دیکھا جس میں تمام بات سمجھا کر بیان کی گئی ہے۔


عمران خان نے ریپ کی وجوہات میں سب سے بڑی وجہ قانونی سسٹم کی کمزوری کو قرار دیا تھا۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ قانون کے سسٹم کو ٹھیک کرنا خالہ جی کا گھر نہیں۔ یہ نظام صدیوں کا بگڑا ہوا ہے۔ اور یہ بھی ممکن نہیں کہ ہر جگہہ قانون ایسے واقعے سے پہلے پہنچ کر آپکو بچا لے۔ تو یہ بات لوگوں کے لیئے کی گئی تھی کہ وہ کیسے خود کو اور اپنے دیگر معاشرے والوں کو بچا سکتے ہیں، اور اس کے لیئے لوگوں کا خود سب سے پہلے اپنا اور اپنے آس پاس والوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ جس کے لیئے پردے کا کہا گیا۔
قانونی نظام کی کمزوری سب سے بڑی وجہ ہے

لہٰذا یہ بات صاف ہے کہ ریپ کیسز میں سب سے بڑی کمزوری ہمارے قانونی نظام کی ہے۔ پہلی بات یہ کہ یہ ریپ ہونے سے بچا نہیں سکتا اور دوسرا یہ کہ ریپ ہونے کے بعد بھی چونکہ شکائت کنندہ کی شناخت اور اسکی ناموس معاشرے میں اچھل جاتی ہے، لہٰذا اکثر لوگ تو رپورٹ ہی نہیں کرتے۔ جو کر بھی دیں، تو انکو قانونی پیچیدگیوں اور سسٹم کی حرامخوری کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ انصاف ملے یا نہ ملے، لوگوں کی عزّتیں ضرور سرِ بازار نیلام کردی جاتی ہیں۔

خرابی سسٹم کی ضرور ہے، لیکن اپنی مدد آپ کرنا یعنی احتیاطی تدابیر خود اختیار کرنا کوئی بری بات ہے؟

سب جانتے ہیں کہ اس سسٹم کو اور عوامی رویّوں کو تبدیل ہونے میں خاصہ وقت درکار ہوتا ہے، لہٰذا اگر ایک اقدام یہ خود اپنے اور دوسروں کے تحفّظ کے لیئے کر لیں تو کیا برائی ہے؟

کیا پردہ صرف نقاب یا برقع پہننے کا نام ہے؟
یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ پردے کو اگر ہم نے صرف اپنے کپڑوں کی حد تک محدود کرلیا ہے تو یہ بہت بڑی کم عقلی کا مظاہرہ ہے۔ پردہ اپنے اندر ایک نظریئے کا نام ہے۔ کسی برقعے یا نقاب کا نام نہیں ہے۔

پردے کا مطلب یہ نہیں کہ برقعہ پہنا جائے اور اس کے بعد تصوّر کرلیا جائے کہ آپ محفوظ ہوگئے ہیں۔ پردے کے کچھ تقاضے ہیں، مثلاً آپ کے کلام، نشست و برخاست، رویّہ، خیالات کا اظہار، یہ سب پردے کے احاطے میں آتا ہے۔ عورتوں کا اکیلے گھر سے نکل کر سنسان جگہوں پر نکلنا، بچوں کو لاپرواہی سے گلیوں میں کھیلنے دینا، یا انھیں نوکروں کے حوالے کرکے اپنے سر سے بوجھ اتارنا، یہ سب بے پردگی کے زمرے میں ہی آتا ہے۔


آخر عورتوں کو پردے کے نام سے اتنی چِڑ کیوں ہے؟

کسی نے پردہ کرنے کو کہہ دیا ہے، کہیں آپ کے ولادین کو گالی تو نہیں نکال دی۔ اتنا غصّہ کیوں ہے آخر؟


Boht Acha explain Kia aap ne Zbrdst

کچھ عرصے پہلے میں نے یہی بات کی تھی جس پر ایک لبرل پسند غصے میں آگیا تھااور اپنی اصلیت دکھانتے ہوئے گالم گلوچ اور ذاتی حملے شروع کر دیے۔

maghib aur goron ki ghulami men haram ke maal per palne wali aulad madar pidar azad haona chahti hai... khud ko aql e kul samjhne wale bewaqufon ki samajh men ye nahin aa ke... apni qeemti cheezen locker men kyun rakhte ho, chori aur lutne ke khof se.... ye bepardah hone waliyon ke paas ghaliban ISMAT AUR IZZAT aur inke mardon ke paas gherat nahin hoti bachain aur chupain kya... inka maqsad hai maghrib ki tarah jahan aur jab chahain jinsi muamilat kar len... meri jism mer marzi... maghrib men zina birraza ki koi saza nahin hoti. 12 - 12 saal ki larkiyan man ban rahi hain aur bachche ke baap ka pata nahin.... lakh laanat hai in sab liberals per

انکا بس نہیں چلتا کہ قرآن سے پردے بارے تمام آیات نکال دی جائے۔۔۔۔۔ لیکن چونکہ یہ کام نہیں کر سکتے تو ہر اس پہ بندے پہ حملہ آور ہو جو پردے اور اخلاقیات کی بات کرے۔۔۔۔۔

منے میاں تمہارے اور عمران خان کیلئے ایک لطیفہ عرض ہے۔۔

ایک وزیر جیل کے دورے پر گیا، دیکھا وہاں ایک مسکین صورت شخص قید ہے۔ وزیر نے عملے سے پوچھا یہ یہاں کس جرم میں ہے؟ جواب ملا یہ ایک قتل کا عینی شاہد ہے اس کو حفاظت کیلئے یہاں بند کیا ہوا ہے۔۔ وزیر نے پوچھا اور قاتل کہاں ہے۔۔ جواب ملا وہ ضمانت پر رہا ہوا ہوا ہے۔۔

کچھ ایسا ہی حل عمران خان اور اس جیسی فرسودہ ذہنیت رکھنے والے پاکستانی مرد عورت کی حفاظت کا پیش کرتے ہیں کہ عورت کی حفاظت کیلئے مرد کو تو کھلا چھوڑے رکھو پر عورت کو برقعے اور پردے میں قید رکھو۔۔۔

مولوی صاحب۔۔ آپ کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ "لبرل پسند" کوئی ٹرم نہیں ہے۔

Don't u think policing is a provincial matter? If yes then why we have rangers in Karachi since 80s?

Your only point is Aurat ko dekh ky mardo pe shevat tari ho jati hai aur jo mard control nahi ker paty wo rape ker dety hain

Same is true for women Mardo ko dekh ky aurton pe bhi shevat tari ho jati hai jo aurten control nahi ker paten wo zina ker bathten hain only if they are not reborts

تھوڑا جا ہن بھگتو پا جی -- دو تین دن پہلے میں نے بھی عمران خان سے اتفاق کر کے الٹی گنگا بہانے کی کوشش کی تھی

خیر بات یہ ہے کہ معاشرے میں پھیلتی بےپردگی اور بیہودگی اس مسلے کے ایک پہلو ہے یہ پوری کہانی نہیں - ہمارے لبرلز کہانی کے باقی پہلوں کو پکڑ کر زور آزمائی کر رہے ہیں
لیکن جیسا تسی فرمایا یہ سب سے بڑا موجب ہے ان جرائم کا جو اس کے بعد ہوتے ہیں
 

Sohail Shuja

Chief Minister (5k+ posts)
عمران خان کو ہیرو بنانے کی ایک اور ناکام کوشش۔ عمران خان ایک اچھا لیڈر ہے کا یہ مطلب نہیں کہ اس کی ہر بات درست ہے اور اس سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہو سکتی۔ عمران خان کی پہلی بیوی بھی اس کی بونگیوں سے متفق نہیں۔ یوتھیئے اپنے لیڈر کو کلٹ لیڈر بنانے سے اجتناب کریں۔ بھٹو اور نواز شریف کو کلٹ لیڈر بنانے کا انجام آپ کو نظر نہیں آتا؟
نہیں، میری کچھ باتوں سے اکثر پی ٹی آئی والے بھی پریشان رہتے ہیں۔ لیکن جہاں بات درست ہے، وہاں چاہے نواز شریف بھی ہو، ہم اسکی بھی ہاں میں ہاں ملائیں گے۔

جمائما کو اس سلسلے میں کوئی اتھارٹی نہیں سمجھا جاسکتا جو آپ اسے یہاں پیش کر رہے ہیں۔ نہ تو وہ کوئی سائیکالوجسٹ ہے، نہ کریمنالوجسٹ ہے اور نہ ہی کوئی سوشیالوجسٹ ہے۔ اس کے بیان کو سوائے ایک بیان برائے بیان کے اور کیا کہا جاسکتا ہے؟
 

arifkarim

Chief Minister (5k+ posts)
نہیں، میری کچھ باتوں سے اکثر پی ٹی آئی والے بھی پریشان رہتے ہیں۔ لیکن جہاں بات درست ہے، وہاں چاہے نواز شریف بھی ہو، ہم اسکی بھی ہاں میں ہاں ملائیں گے۔
جمائما کو اس سلسلے میں کوئی اتھارٹی نہیں سمجھا جاسکتا جو آپ اسے یہاں پیش کر رہے ہیں۔ نہ تو وہ کوئی سائیکالوجسٹ ہے، نہ کریمنالوجسٹ ہے اور نہ ہی کوئی سوشیالوجسٹ ہے۔ اس کے بیان کو سوائے ایک بیان برائے بیان کے اور کیا کہا جاسکتا ہے؟
تو عمران خان کونسا سائکولوجسٹ، کریمنالوجسٹ، سوشیالوجسٹ ہے جو ہم اس کی توجیہات تسلیم کر لیں
 

Sohail Shuja

Chief Minister (5k+ posts)
منے میاں تمہارے اور عمران خان کیلئے ایک لطیفہ عرض ہے۔۔

ایک وزیر جیل کے دورے پر گیا، دیکھا وہاں ایک مسکین صورت شخص قید ہے۔ وزیر نے عملے سے پوچھا یہ یہاں کس جرم میں ہے؟ جواب ملا یہ ایک قتل کا عینی شاہد ہے اس کو حفاظت کیلئے یہاں بند کیا ہوا ہے۔۔ وزیر نے پوچھا اور قاتل کہاں ہے۔۔ جواب ملا وہ ضمانت پر رہا ہوا ہوا ہے۔۔

کچھ ایسا ہی حل عمران خان اور اس جیسی فرسودہ ذہنیت رکھنے والے پاکستانی مرد عورت کی حفاظت کا پیش کرتے ہیں کہ عورت کی حفاظت کیلئے مرد کو تو کھلا چھوڑے رکھو پر عورت کو برقعے اور پردے میں قید رکھو۔۔۔
ویسے تو خیر تمھاری دانشوڑی سے سوائے بھانڈ پن کے کچھ اور امید کی نہیں جاسکتی ہے۔

حقیقت تمھیں ہضم نہیں ہوگی۔



چلو اب اپنی خودساختہ علمی فضیلت کو لے کر ڈگڈگیاں بجاتے رہو۔
 

Sohail Shuja

Chief Minister (5k+ posts)
تو عمران خان کونسا سائکولوجسٹ، کریمنالوجسٹ، سوشیالوجسٹ ہے جو ہم اس کی توجیہات تسلیم کر لیں
عمدہ جواب، لیکن عمران خان بات وہ کر رہا ہے جسے سائیکالوجسٹ، سوشیالوجسٹ اور کریمنالوجسٹ تسلیم کرتے ہیں۔
 

arifkarim

Chief Minister (5k+ posts)
خیر یہ کہنا تو سراسر غلط ہوگا کہ مغرب میں ایسے جرائم نہیں ہوتے۔ ہاں یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ وہاں ان کی نوعیّت عام طور پر اتنی سنگین نہیں ہوتی۔ اسکی وجہ عمران خان نے اپنے انٹرویو میں بھی بتلائی تھی کہ وہاں ان کے پاس جنسی حدّت کم کرنے کے اور طریقے موجود ہیں۔ نائٹ کلب ہیں اور ایسکورٹ سروسز ہیں۔ بہت سارے لوگ ویسے ہی ایک رات کے لیئے بھی مل جاتے ہیں جسے وَن نائٹ اسٹینڈ کہا جاتا ہے۔ اس لیئے وہاں پر ان لوگوں کی اکثریت اپنی حرص بہ آسانی پوری کر لیتے ہیں۔
نائٹ کلبز سے اگر عورتوں کے ساتھ ریپ و جنسی ہراسگی کے واقعات میں کمی آ سکتی ہے تو بچوں کے نائٹ کلبز بھی بننے چاہئے جس سے بچوں کیساتھ ریپ کے واقعات میں کمی آسکتی ہے۔ عمران خان کی انہی بونگیوں کی وجہ سے پوری دنیا میں تھو تھو ہو رہی ہے
 

Rajarawal111

Prime Minister (20k+ posts)
نہیں، میری کچھ باتوں سے اکثر پی ٹی آئی والے بھی پریشان رہتے ہیں۔ لیکن جہاں بات درست ہے، وہاں چاہے نواز شریف بھی ہو، ہم اسکی بھی ہاں میں ہاں ملائیں گے۔

جمائما کو اس سلسلے میں کوئی اتھارٹی نہیں سمجھا جاسکتا جو آپ اسے یہاں پیش کر رہے ہیں۔ نہ تو وہ کوئی سائیکالوجسٹ ہے، نہ کریمنالوجسٹ ہے اور نہ ہی کوئی سوشیالوجسٹ ہے۔ اس کے بیان کو سوائے ایک بیان برائے بیان کے اور کیا کہا جاسکتا ہے؟
تو عمران خان کونسا سائکولوجسٹ، کریمنالوجسٹ، سوشیالوجسٹ ہے جو ہم اس کی توجیہات تسلیم کر لیں
کے گل کرنے پئے او سرکار 😳 - توبہ کرو توبہ --- جمائما سابقہ امی ہے جی -- وہ بھی ہچھی آلی
 

arifkarim

Chief Minister (5k+ posts)
لیکن پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں نائٹ کلب اور ایسکورٹ سروسز کا رواج نہیں اور وَن نائٹ اسٹینڈ جیسے الفاظ بھی بہت لوگوں کو معنیٰ کے ساتھ معلوم نہیں، ایسے معاشرے میں اگر عریانی مغرب کی طرح ہوجائے تو یہ کچّے اور کمزور ذہن کہاں جائیں گے؟ ظاہر سی بات ہے کہ کوئی متبادل نہ ہونے کی صورت میں وہ اسی پر ہاتھ صاف کریں گے جو قابلِ دسترس ہو۔ پھر اس سے زیادہ خوفناک بات یہ ہے کہ سزا کے یا بدنامی کے ڈر سے مفعول کو جان سے بھی ماردیا جاتا ہے۔
اس کا حل ان کچے ذہنوں کو ٹھیک کرنا ہے۔ ان کو بچپن سے سکھانا ہے کہ عورتیں اور بچے صرف جنسی لذات کے حصول کیلئے نہیں بنے۔ وہ بھی انسان ہیں جن کی اپنی خواہشات ہیں۔ ان کو صرف سیکس کی نظر سے دیکھنا ہی جائز نہیں۔ یہ سب یہاں مغربی سکولوں میں بچوں کو سکھایا جاتا ہے۔ جسمانی حدود بتائی جاتی ہیں۔ نہ کہ نائٹ کلبز میں بھیج کر جسمانی خواہشات پوری کرنے کی ترغیب دینا۔
 

Sohail Shuja

Chief Minister (5k+ posts)
نائٹ کلبز سے اگر عورتوں کے ساتھ ریپ و جنسی ہراسگی کے واقعات میں کمی آ سکتی ہے تو بچوں کے نائٹ کلبز بھی بننے چاہئے جس سے بچوں کیساتھ ریپ کے واقعات میں کمی آسکتی ہے۔ عمران خان کی انہی بونگیوں کی وجہ سے پوری دنیا میں تھو تھو ہو رہی ہے
صاحب، تھو تھو ان پر کیوں نہیں کرتے؟

 
Sponsored Link