تھوک کر چاٹنے والے۔ حامد میر

Kashif Rafiq

Chief Minister (5k+ posts)

پاکستان میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے بہت اچھا ہو رہا ہے۔ یہ مت سمجھئے گا کہ میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور خوف کی فضا پر بہت خوش ہوں۔ کل سیالکوٹ میں شادی کی ایک تقریب کے دوران ایک بڑے صنعتکار نے مجھے پوچھا کہ چند سال پہلے پاکستان میں روزانہ بم دھماکے ہوتے تھے، کراچی میں ٹارگٹ کلنگ عروج پر تھی لیکن اتنی مہنگائی نہ تھی جتنی آج ہے، اسٹاک مارکیٹ میں اتنی بے یقینی نہیں تھی جتنی آج ہے، میڈیا اتنا خوفزدہ نظر نہیں آتا تھا جتنا آج ہے پھر وزیراعظم عمران خان نے یہ کیسے کہہ دیا کہ ملک میں استحکام آگیا ہے؟

اس سے پہلے کہ میں جواب دیتا ایک اور صنعتکار نے قہقہہ لگایا اور کہا کہ وزیراعظم کے دعوے کے اندر آپ کے سوال کا جواب موجود ہے۔ وزیراعظم نے چند دن پہلے رات کے پچھلے پہر اپنے ایک مشہور زمانہ خطاب میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان میں استحکام آگیا ہے اور اب میں پاکستان کو لوٹنے والوں کو نہیں چھوڑوں گا۔ اُن صاحب نے کہا آپ اس تقریب میں اپنے اردگرد موجود دس افراد سے باری باری پوچھ لیجئے کہ کیا وزیراعظم نے جو کچھ بھی کہا سچ کہا؟ اطمینان نہ ہو تو پھر بیس افراد سے پوچھ لیں۔ پھر بھی تسلی نہ ہو تو سو لوگوں سے پوچھ لیں۔ دل گھبرانا بند نہ کرے تو شادی کی اس تقریب سے نکلئے اور کسی چوک چوراہے پر جا کر لوگوں کو روک روک کر پوچھیں کہ بھائی صاحب کیا پاکستان میں استحکام آگیا ہے؟

کیا عمران خان جو کر رہا ہے وہ ٹھیک کر رہا ہے؟ ابھی اُنکے الفاظ زبان پر باقی تھے کہ اردگرد موجود افراد نے خوشی کی اس تقریب میں اپنے چہروں پر رقت طاری کر کے انتہائی درد ناک انداز میں کہنا شروع کر دیا۔ نہیں نہیں کوئی استحکام نہیں آیا، سب جھوٹ ہے۔ ایک صاحب نے ماتمی لہجے میں کہا ہم تو کہیں کے نہ رہے، لٹ گئے، برباد ہو گئے، کاروبار تباہ ہو رہا ہے سمجھ نہیں آ رہی کیا کروں، کدھر جائوں؟ پھر انہوں نے اپنے نوجوان برخوردار کو آواز دی۔ جون کی گرمی میں سوٹ ٹائی پہنے ایک خوبصورت نوجوان گود میں دو سال کی پیاری سی بچی اٹھائے والد صاحب کے سامنے حاضر ہو گیا۔ بچی نے دادا کو دیکھا تو باپ کی گود سے چھلانگ مار کر دادا کے کندھے سے جا لگی۔

مضطرب اور پریشان دادا کے چہرے پر کچھ مسکراہٹ نمودار ہوئی اور انہوں نے قدرے اطمینان سے اپنے بیٹے کو کہا ’’ذرا میر صاحب کو بتائو کہ پچھلے سال کے عام انتخابات میں آپ نے کس کو ووٹ دیا تھا؟‘‘ بیٹے نے جھکی جھکی نظروں کیساتھ کہا کہ میں نے اور امی جان نے تحریک انصاف کو ووٹ دیا تھا، ابو نے مسلم لیگ(ن) کو ووٹ دیا تھا۔ ابو نے پوتی کا گال چومتے ہوئے برخوردار سے کہا کہ اب ذرا یہ بھی بتائو کہ کیا پاکستان میں استحکام آگیا ہے؟ کیا عمران خان جو کر رہا ہے وہ ٹھیک کر رہا ہے؟

بیٹے نے اپنی پیشانی سے پسینے کے قطروں کو رومال سے پونچھا اور انگریزی لہجے میں اردو بولتے ہوئے کہا کہ میں نے عمران خان کو اسلئے ووٹ دیا تھا کہ اس نے ’’اسٹیٹس کو‘‘ توڑنے کا وعدہ کیا تھا، وہ ہمیں نیا پاکستان دینے کی بات کر رہا تھا۔ اُس نے ہمیں جو خواب دکھائے وہ خود ہی توڑ دیئے اُس نے جو وعدے کئے وہ خود ہی توڑ دیئے۔ نوجوان نے کہا کہ 2011ءمیں وہ برطانیہ میں پڑھتا تھا اور والد کہہ رہے تھے کہ وہیں بزنس شروع کر دو پاکستان واپس نہ آئو لیکن میں اکتوبر 2011ءمیں مینارِ پاکستان لاہور کے سائے میں عمران خان کی تقریر سے متاثر ہو کر پاکستان واپس آ گیا۔

اُس زمانے میں خان صاحب چوہدری پرویز الٰہی کو ڈاکو اور زرداری کو سب سے بڑی بیماری قرار دیتے تھے۔ 2014ءمیں عمران خان نے اسلام آباد میں نواز شریف حکومت کے خلاف دھرنا دیا تو میں اپنے دوستوں کیساتھ کئی دن تک اس دھرنے میں شریک رہا۔ 2018ءمیں ہم نے بڑی بے لوثی کے ساتھ تحریک انصاف کو صرف ووٹ ہی نہیں دیا بلکہ انتخابی مہم میں بھی حصہ لیا لیکن پہلا جھٹکا اس وقت لگا جب عمران خان نے پرویز الٰہی کو اسپیکر پنجاب اسمبلی بنا دیا۔ پھر جھٹکے پر جھٹکا لگتا رہا اور سب سے بڑی بیماری آصف علی زرداری کا وزیر خزانہ حفیظ شیخ ’’اسٹیٹس کو‘‘ توڑنے کے دعویدار عمران خان کا مشیر خزانہ بن گیا ہے۔

ہمارا خیال تھا کہ اب عمران خان معیشت کو سنبھالنے پر توجہ دے گا لیکن جس دن بجٹ آنا تھا اُس دن ہمیں اپوزیشن رہنمائوں کی گرفتاریوں کی خبریں مل رہی تھیں۔ زرداری تو پہلے بھی کئی سال جیل کاٹ چکا ہے اُس سے پرویز مشرف ایک روپیہ نہیں نکلوا سکا تو عمران خان کیا نکلوائے گا؟ ہماری حکومت اور معیشت کی حالت ہماری کرکٹ ٹیم جیسی ہو چکی ہے وزیراعظم کا کچھ پتہ نہیں کس وقت کیا تقریر کر دے، کس وقت کون سا وعدہ توڑ کر یوٹرن پر اترانے لگے۔ میں نے اس نوجوان سے کہا کہ ہماری کرکٹ ٹیم کبھی کبھار دنیا کی مضبوط ترین ٹیموں کو شکست بھی تو دے ڈالتی ہے۔

اُس نے بہت تلخ لہجے میں کہا کہ کرکٹ میں ہار جیت سے پاکستان میں استحکام نہیں آسکتا، کرکٹ ٹیم جیت جائے تو ہم بھی ناچتے ہیں لیکن ہمارے ناچنے سے ڈالر کی قیمت تو نیچے نہیں آئیگی اسلئے عمران خان کو اب کرکٹر بن کر نہیں وزیراعظم بن کر سوچنا چاہئے۔ اس نوجوان کی گفتگو سن کر میں خاموش رہا لیکن میرے اندر یہ اطمینان پیدا ہوا کہ اس وقت ہمیں پاکستان میں جو افراتفری، مہنگائی اور خوف نظر آرہا ہے اس میں بھی ایک خیر اور تعمیر کا پہلو ہے اور وہ یہ کہ بڑے بڑے لوگوں کا چھوٹا پن تیزی کیساتھ سامنے آ رہا ہے۔ تحریک انصاف کے وہ رہنما جنہوں نے صرف ایک سال پہلے علی جہانگیر صدیقی کی امریکا میں بطور سفیر تقرری کو مسلم لیگ(ن) کی اقربا پروری قرار دیا تھا اُسی تحریک انصاف نے علی جہانگیر صدیقی کو اپنی حکومت کا سفیر برائے غیر ملکی سرمایہ کاری بنا ڈالا ہے۔

اگر میں یہ کہوں کہ اسے کہتے ہیں تھوک کر چاٹنا تو تحریک انصاف کے حامی کہیں گے کہ کیا صرف ہم تھوک کر چاٹتے ہیں؟ جی نہیں مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی والے بھی تھوک کر چاٹتے ہیں۔ جس طرح عمران خان کہا کرتے تھے کہ پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو پرویز الٰہی ہے اسی طرح بلاول بھٹو زرداری بھی کہتے تھے کہ نواز شریف مودی کا یار ہے۔ مریم نواز اپنے جلسوں میں زرداری عمران بھائی بھائی کے نعرے لگواتی تھیں۔ اب ان دونوں کے والد صاحبان گرفتار ہیں تو دونوں ایک دوسرے کے دستر خوان کو رونق بخش رہے ہیں۔ لیکن یہ دونوں جماعتیں تو ٹھہریں پرانے پاکستان کی نمائندہ ’’اسٹیٹس کو‘‘ کی طاقتیں۔ یہ اپنا تھوکا چاٹ کر نئے پاکستان کا نعرہ نہیں لگاتیں نئے پاکستان کا نعرہ تو عمران خان نے لگایا تھا۔ کیا وہ حفیظ شیخ اور علی جہانگیر صدیقی کیساتھ مل کر نیا پاکستان بنائیں گے؟ مان لیں کہ آپ بھی وہی ہیں جو ماضی کے حکمران تھے۔

اب آپ کو سمجھ آ گئی ہو گی کہ اس ناچیز کو ملکی حالات پر کوئی پریشانی کیوں نہیں؟ بڑے بڑے سیاستدان گرفتار کئے جا رہے ہیں۔ میرا خیال ہے مزید سیاستدانوں کو گرفتار کر لیں۔ کچھ صحافیوں کو بھی گرفتار کر لیں۔ الٹا لٹکانے اور پھانسیاں لگانے کی خواہش بھی پوری کر لی جائے۔ کرپشن اور غداری کے الزامات میں سے جو نکالنا ہے اب نکال ہی ڈالیں۔ جو نچوڑنا ہے وہ نچوڑ لیں تاکہ لوگوں کو پتہ چل جائے کہ کرپشن اور غداری کے غلغے کی اصل حقیقت کیا ہے؟ آخر کب تک آپ لوگوں کو یہ کہہ کر چپ کراتے رہیں گے کہ اس ملک کی معیشت کو نواز شریف اور زرداری نے تباہ کیا؟ آخر کو لوگ بھی تو پوچھیں گے نا کہ ٹھیک ہے نواز شریف اور زرداری لٹیرے تھے لیکن آپ لٹیروں کے ساتھیوں کو حکومت میں شامل کر کے بھی معیشت کیوں نہیں سنبھال پا رہے؟ کرپشن اور غداری کے الزامات کا بیانیہ نیا نہیں بہت پرانا ہے لیکن اس دور میں یہ بیانیہ اپنے آخری سانسوں پر ہے۔ اس بیانئے سے نجات میں پاکستان کا بہت فائدہ ہے لہٰذا پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے بہت اچھا ہو رہا ہے۔ تھوک کر چاٹنے والے بے نقاب ہو رہے ہیں۔

 
Advertisement

bhaibarood

Chief Minister (5k+ posts)
Niazi ki set litrool..


Shafiyoun pe tashadad!
Najam sethi pe panbandi...
Fawad chaudry ke khilaf zero action...on slapping anchor.
50 lakh ghar
Aik arab jobs ....
Kekra one 🤪 🤪 🤪

Yeh mangu ghadha hum ko bar baad hi na kar day
 

Dunkin Donut

Senator (1k+ posts)
When Shah Mehmooq Qureshi joined PTI, he told Imran that the only way you can become PM is if you make alliance with Army against Nawaz & Zardari. Imran disagreed but promised him that he will re-think.

When Jahangir Khan Tareen joined Imran, he told him the same thing, i.e, follow the path to PM house with a stopover in Army House Pindi. By this time, Imran was a changed person. A person who was burning in self inflicted hate of Nawaz. He was ready to do everything including destroying himself. And, thats what he did.

A nation that cant give pure milk to its infants, sure deserve leaders like Imran, Nawaz, Zardari, Fazlu, Altaf etc etc.

It is true that Zardari and Nawaz will not pay back a single dime and Govt will not be able to seize any substantial money from them during its tenure. In the end, both will have played nicely the victim card for the popularity of their son and daughter's politics because thats what they are aiming for now.

What I do fear is, the disgraceful fall of Imran with the Army which will be a spectacular event but painful to watch for the men and women who really thought Imran was the one.

These same ISPR Trolls will be the frontline force for destroying Imran Niazi who once was a Khan!
 
Last edited:

back to the future

Minister (2k+ posts)
Haalaat tu waqai kharab hain
Currency tu turkey ki bhi Bethi thi jb turkey ki export km theeen aur import Ziada theen

Jb balance theek hua tu turkey ki currency theek ho gai Meer tu Kia Randi Rona laykr baitha hua hay?
 

Okara

Chief Minister (5k+ posts)
Niazi ki set litrool..


Shafiyoun pe tashadad!
Najam sethi pe panbandi...
Fawad chaudry ke khilaf zero action...on slapping anchor.
50 lakh ghar
Aik arab jobs ....
Kekra one 🤪 🤪 🤪

Yeh mangu ghadha hum ko bar baad hi na kar day
Are u satisfied with Modi's government?
Anyway congratulations on today's win in oldtrafold.
 

Okara

Chief Minister (5k+ posts)

پاکستان میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے بہت اچھا ہو رہا ہے۔ یہ مت سمجھئے گا کہ میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور خوف کی فضا پر بہت خوش ہوں۔ کل سیالکوٹ میں شادی کی ایک تقریب کے دوران ایک بڑے صنعتکار نے مجھے پوچھا کہ چند سال پہلے پاکستان میں روزانہ بم دھماکے ہوتے تھے، کراچی میں ٹارگٹ کلنگ عروج پر تھی لیکن اتنی مہنگائی نہ تھی جتنی آج ہے، اسٹاک مارکیٹ میں اتنی بے یقینی نہیں تھی جتنی آج ہے، میڈیا اتنا خوفزدہ نظر نہیں آتا تھا جتنا آج ہے پھر وزیراعظم عمران خان نے یہ کیسے کہہ دیا کہ ملک میں استحکام آگیا ہے؟

اس سے پہلے کہ میں جواب دیتا ایک اور صنعتکار نے قہقہہ لگایا اور کہا کہ وزیراعظم کے دعوے کے اندر آپ کے سوال کا جواب موجود ہے۔ وزیراعظم نے چند دن پہلے رات کے پچھلے پہر اپنے ایک مشہور زمانہ خطاب میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان میں استحکام آگیا ہے اور اب میں پاکستان کو لوٹنے والوں کو نہیں چھوڑوں گا۔ اُن صاحب نے کہا آپ اس تقریب میں اپنے اردگرد موجود دس افراد سے باری باری پوچھ لیجئے کہ کیا وزیراعظم نے جو کچھ بھی کہا سچ کہا؟ اطمینان نہ ہو تو پھر بیس افراد سے پوچھ لیں۔ پھر بھی تسلی نہ ہو تو سو لوگوں سے پوچھ لیں۔ دل گھبرانا بند نہ کرے تو شادی کی اس تقریب سے نکلئے اور کسی چوک چوراہے پر جا کر لوگوں کو روک روک کر پوچھیں کہ بھائی صاحب کیا پاکستان میں استحکام آگیا ہے؟

کیا عمران خان جو کر رہا ہے وہ ٹھیک کر رہا ہے؟ ابھی اُنکے الفاظ زبان پر باقی تھے کہ اردگرد موجود افراد نے خوشی کی اس تقریب میں اپنے چہروں پر رقت طاری کر کے انتہائی درد ناک انداز میں کہنا شروع کر دیا۔ نہیں نہیں کوئی استحکام نہیں آیا، سب جھوٹ ہے۔ ایک صاحب نے ماتمی لہجے میں کہا ہم تو کہیں کے نہ رہے، لٹ گئے، برباد ہو گئے، کاروبار تباہ ہو رہا ہے سمجھ نہیں آ رہی کیا کروں، کدھر جائوں؟ پھر انہوں نے اپنے نوجوان برخوردار کو آواز دی۔ جون کی گرمی میں سوٹ ٹائی پہنے ایک خوبصورت نوجوان گود میں دو سال کی پیاری سی بچی اٹھائے والد صاحب کے سامنے حاضر ہو گیا۔ بچی نے دادا کو دیکھا تو باپ کی گود سے چھلانگ مار کر دادا کے کندھے سے جا لگی۔

مضطرب اور پریشان دادا کے چہرے پر کچھ مسکراہٹ نمودار ہوئی اور انہوں نے قدرے اطمینان سے اپنے بیٹے کو کہا ’’ذرا میر صاحب کو بتائو کہ پچھلے سال کے عام انتخابات میں آپ نے کس کو ووٹ دیا تھا؟‘‘ بیٹے نے جھکی جھکی نظروں کیساتھ کہا کہ میں نے اور امی جان نے تحریک انصاف کو ووٹ دیا تھا، ابو نے مسلم لیگ(ن) کو ووٹ دیا تھا۔ ابو نے پوتی کا گال چومتے ہوئے برخوردار سے کہا کہ اب ذرا یہ بھی بتائو کہ کیا پاکستان میں استحکام آگیا ہے؟ کیا عمران خان جو کر رہا ہے وہ ٹھیک کر رہا ہے؟

بیٹے نے اپنی پیشانی سے پسینے کے قطروں کو رومال سے پونچھا اور انگریزی لہجے میں اردو بولتے ہوئے کہا کہ میں نے عمران خان کو اسلئے ووٹ دیا تھا کہ اس نے ’’اسٹیٹس کو‘‘ توڑنے کا وعدہ کیا تھا، وہ ہمیں نیا پاکستان دینے کی بات کر رہا تھا۔ اُس نے ہمیں جو خواب دکھائے وہ خود ہی توڑ دیئے اُس نے جو وعدے کئے وہ خود ہی توڑ دیئے۔ نوجوان نے کہا کہ 2011ءمیں وہ برطانیہ میں پڑھتا تھا اور والد کہہ رہے تھے کہ وہیں بزنس شروع کر دو پاکستان واپس نہ آئو لیکن میں اکتوبر 2011ءمیں مینارِ پاکستان لاہور کے سائے میں عمران خان کی تقریر سے متاثر ہو کر پاکستان واپس آ گیا۔

اُس زمانے میں خان صاحب چوہدری پرویز الٰہی کو ڈاکو اور زرداری کو سب سے بڑی بیماری قرار دیتے تھے۔ 2014ءمیں عمران خان نے اسلام آباد میں نواز شریف حکومت کے خلاف دھرنا دیا تو میں اپنے دوستوں کیساتھ کئی دن تک اس دھرنے میں شریک رہا۔ 2018ءمیں ہم نے بڑی بے لوثی کے ساتھ تحریک انصاف کو صرف ووٹ ہی نہیں دیا بلکہ انتخابی مہم میں بھی حصہ لیا لیکن پہلا جھٹکا اس وقت لگا جب عمران خان نے پرویز الٰہی کو اسپیکر پنجاب اسمبلی بنا دیا۔ پھر جھٹکے پر جھٹکا لگتا رہا اور سب سے بڑی بیماری آصف علی زرداری کا وزیر خزانہ حفیظ شیخ ’’اسٹیٹس کو‘‘ توڑنے کے دعویدار عمران خان کا مشیر خزانہ بن گیا ہے۔

ہمارا خیال تھا کہ اب عمران خان معیشت کو سنبھالنے پر توجہ دے گا لیکن جس دن بجٹ آنا تھا اُس دن ہمیں اپوزیشن رہنمائوں کی گرفتاریوں کی خبریں مل رہی تھیں۔ زرداری تو پہلے بھی کئی سال جیل کاٹ چکا ہے اُس سے پرویز مشرف ایک روپیہ نہیں نکلوا سکا تو عمران خان کیا نکلوائے گا؟ ہماری حکومت اور معیشت کی حالت ہماری کرکٹ ٹیم جیسی ہو چکی ہے وزیراعظم کا کچھ پتہ نہیں کس وقت کیا تقریر کر دے، کس وقت کون سا وعدہ توڑ کر یوٹرن پر اترانے لگے۔ میں نے اس نوجوان سے کہا کہ ہماری کرکٹ ٹیم کبھی کبھار دنیا کی مضبوط ترین ٹیموں کو شکست بھی تو دے ڈالتی ہے۔

اُس نے بہت تلخ لہجے میں کہا کہ کرکٹ میں ہار جیت سے پاکستان میں استحکام نہیں آسکتا، کرکٹ ٹیم جیت جائے تو ہم بھی ناچتے ہیں لیکن ہمارے ناچنے سے ڈالر کی قیمت تو نیچے نہیں آئیگی اسلئے عمران خان کو اب کرکٹر بن کر نہیں وزیراعظم بن کر سوچنا چاہئے۔ اس نوجوان کی گفتگو سن کر میں خاموش رہا لیکن میرے اندر یہ اطمینان پیدا ہوا کہ اس وقت ہمیں پاکستان میں جو افراتفری، مہنگائی اور خوف نظر آرہا ہے اس میں بھی ایک خیر اور تعمیر کا پہلو ہے اور وہ یہ کہ بڑے بڑے لوگوں کا چھوٹا پن تیزی کیساتھ سامنے آ رہا ہے۔ تحریک انصاف کے وہ رہنما جنہوں نے صرف ایک سال پہلے علی جہانگیر صدیقی کی امریکا میں بطور سفیر تقرری کو مسلم لیگ(ن) کی اقربا پروری قرار دیا تھا اُسی تحریک انصاف نے علی جہانگیر صدیقی کو اپنی حکومت کا سفیر برائے غیر ملکی سرمایہ کاری بنا ڈالا ہے۔

اگر میں یہ کہوں کہ اسے کہتے ہیں تھوک کر چاٹنا تو تحریک انصاف کے حامی کہیں گے کہ کیا صرف ہم تھوک کر چاٹتے ہیں؟ جی نہیں مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی والے بھی تھوک کر چاٹتے ہیں۔ جس طرح عمران خان کہا کرتے تھے کہ پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو پرویز الٰہی ہے اسی طرح بلاول بھٹو زرداری بھی کہتے تھے کہ نواز شریف مودی کا یار ہے۔ مریم نواز اپنے جلسوں میں زرداری عمران بھائی بھائی کے نعرے لگواتی تھیں۔ اب ان دونوں کے والد صاحبان گرفتار ہیں تو دونوں ایک دوسرے کے دستر خوان کو رونق بخش رہے ہیں۔ لیکن یہ دونوں جماعتیں تو ٹھہریں پرانے پاکستان کی نمائندہ ’’اسٹیٹس کو‘‘ کی طاقتیں۔ یہ اپنا تھوکا چاٹ کر نئے پاکستان کا نعرہ نہیں لگاتیں نئے پاکستان کا نعرہ تو عمران خان نے لگایا تھا۔ کیا وہ حفیظ شیخ اور علی جہانگیر صدیقی کیساتھ مل کر نیا پاکستان بنائیں گے؟ مان لیں کہ آپ بھی وہی ہیں جو ماضی کے حکمران تھے۔

اب آپ کو سمجھ آ گئی ہو گی کہ اس ناچیز کو ملکی حالات پر کوئی پریشانی کیوں نہیں؟ بڑے بڑے سیاستدان گرفتار کئے جا رہے ہیں۔ میرا خیال ہے مزید سیاستدانوں کو گرفتار کر لیں۔ کچھ صحافیوں کو بھی گرفتار کر لیں۔ الٹا لٹکانے اور پھانسیاں لگانے کی خواہش بھی پوری کر لی جائے۔ کرپشن اور غداری کے الزامات میں سے جو نکالنا ہے اب نکال ہی ڈالیں۔ جو نچوڑنا ہے وہ نچوڑ لیں تاکہ لوگوں کو پتہ چل جائے کہ کرپشن اور غداری کے غلغے کی اصل حقیقت کیا ہے؟ آخر کب تک آپ لوگوں کو یہ کہہ کر چپ کراتے رہیں گے کہ اس ملک کی معیشت کو نواز شریف اور زرداری نے تباہ کیا؟ آخر کو لوگ بھی تو پوچھیں گے نا کہ ٹھیک ہے نواز شریف اور زرداری لٹیرے تھے لیکن آپ لٹیروں کے ساتھیوں کو حکومت میں شامل کر کے بھی معیشت کیوں نہیں سنبھال پا رہے؟ کرپشن اور غداری کے الزامات کا بیانیہ نیا نہیں بہت پرانا ہے لیکن اس دور میں یہ بیانیہ اپنے آخری سانسوں پر ہے۔ اس بیانئے سے نجات میں پاکستان کا بہت فائدہ ہے لہٰذا پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے بہت اچھا ہو رہا ہے۔ تھوک کر چاٹنے والے بے نقاب ہو رہے ہیں۔

Despite I don't like Hamid mir but don't have answer to the questions raised in this column.
 

k.khurram

Councller (250+ posts)
is chootiey ne oopar ke 2 chootion ke liey column likha bhitau kahan se? sialkot se lol . Abay tu bangladeshi hamdard silakot kisi sanatkaar ki shadi main karnay gya kia tha? ye column tau tu najaiz umra aur zina house se bhi likh sakta tha . in sab ko nanga kar ke poocho .... neechay araam a gya hai ? bangla desh se medal le ke hero ban'nay walay begherat
 

Qudsi

MPA (400+ posts)

پاکستان میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے بہت اچھا ہو رہا ہے۔ یہ مت سمجھئے گا کہ میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور خوف کی فضا پر بہت خوش ہوں۔ کل سیالکوٹ میں شادی کی ایک تقریب کے دوران ایک بڑے صنعتکار نے مجھے پوچھا کہ چند سال پہلے پاکستان میں روزانہ بم دھماکے ہوتے تھے، کراچی میں ٹارگٹ کلنگ عروج پر تھی لیکن اتنی مہنگائی نہ تھی جتنی آج ہے، اسٹاک مارکیٹ میں اتنی بے یقینی نہیں تھی جتنی آج ہے، میڈیا اتنا خوفزدہ نظر نہیں آتا تھا جتنا آج ہے پھر وزیراعظم عمران خان نے یہ کیسے کہہ دیا کہ ملک میں استحکام آگیا ہے؟

اس سے پہلے کہ میں جواب دیتا ایک اور صنعتکار نے قہقہہ لگایا اور کہا کہ وزیراعظم کے دعوے کے اندر آپ کے سوال کا جواب موجود ہے۔ وزیراعظم نے چند دن پہلے رات کے پچھلے پہر اپنے ایک مشہور زمانہ خطاب میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان میں استحکام آگیا ہے اور اب میں پاکستان کو لوٹنے والوں کو نہیں چھوڑوں گا۔ اُن صاحب نے کہا آپ اس تقریب میں اپنے اردگرد موجود دس افراد سے باری باری پوچھ لیجئے کہ کیا وزیراعظم نے جو کچھ بھی کہا سچ کہا؟ اطمینان نہ ہو تو پھر بیس افراد سے پوچھ لیں۔ پھر بھی تسلی نہ ہو تو سو لوگوں سے پوچھ لیں۔ دل گھبرانا بند نہ کرے تو شادی کی اس تقریب سے نکلئے اور کسی چوک چوراہے پر جا کر لوگوں کو روک روک کر پوچھیں کہ بھائی صاحب کیا پاکستان میں استحکام آگیا ہے؟

کیا عمران خان جو کر رہا ہے وہ ٹھیک کر رہا ہے؟ ابھی اُنکے الفاظ زبان پر باقی تھے کہ اردگرد موجود افراد نے خوشی کی اس تقریب میں اپنے چہروں پر رقت طاری کر کے انتہائی درد ناک انداز میں کہنا شروع کر دیا۔ نہیں نہیں کوئی استحکام نہیں آیا، سب جھوٹ ہے۔ ایک صاحب نے ماتمی لہجے میں کہا ہم تو کہیں کے نہ رہے، لٹ گئے، برباد ہو گئے، کاروبار تباہ ہو رہا ہے سمجھ نہیں آ رہی کیا کروں، کدھر جائوں؟ پھر انہوں نے اپنے نوجوان برخوردار کو آواز دی۔ جون کی گرمی میں سوٹ ٹائی پہنے ایک خوبصورت نوجوان گود میں دو سال کی پیاری سی بچی اٹھائے والد صاحب کے سامنے حاضر ہو گیا۔ بچی نے دادا کو دیکھا تو باپ کی گود سے چھلانگ مار کر دادا کے کندھے سے جا لگی۔

مضطرب اور پریشان دادا کے چہرے پر کچھ مسکراہٹ نمودار ہوئی اور انہوں نے قدرے اطمینان سے اپنے بیٹے کو کہا ’’ذرا میر صاحب کو بتائو کہ پچھلے سال کے عام انتخابات میں آپ نے کس کو ووٹ دیا تھا؟‘‘ بیٹے نے جھکی جھکی نظروں کیساتھ کہا کہ میں نے اور امی جان نے تحریک انصاف کو ووٹ دیا تھا، ابو نے مسلم لیگ(ن) کو ووٹ دیا تھا۔ ابو نے پوتی کا گال چومتے ہوئے برخوردار سے کہا کہ اب ذرا یہ بھی بتائو کہ کیا پاکستان میں استحکام آگیا ہے؟ کیا عمران خان جو کر رہا ہے وہ ٹھیک کر رہا ہے؟

بیٹے نے اپنی پیشانی سے پسینے کے قطروں کو رومال سے پونچھا اور انگریزی لہجے میں اردو بولتے ہوئے کہا کہ میں نے عمران خان کو اسلئے ووٹ دیا تھا کہ اس نے ’’اسٹیٹس کو‘‘ توڑنے کا وعدہ کیا تھا، وہ ہمیں نیا پاکستان دینے کی بات کر رہا تھا۔ اُس نے ہمیں جو خواب دکھائے وہ خود ہی توڑ دیئے اُس نے جو وعدے کئے وہ خود ہی توڑ دیئے۔ نوجوان نے کہا کہ 2011ءمیں وہ برطانیہ میں پڑھتا تھا اور والد کہہ رہے تھے کہ وہیں بزنس شروع کر دو پاکستان واپس نہ آئو لیکن میں اکتوبر 2011ءمیں مینارِ پاکستان لاہور کے سائے میں عمران خان کی تقریر سے متاثر ہو کر پاکستان واپس آ گیا۔

اُس زمانے میں خان صاحب چوہدری پرویز الٰہی کو ڈاکو اور زرداری کو سب سے بڑی بیماری قرار دیتے تھے۔ 2014ءمیں عمران خان نے اسلام آباد میں نواز شریف حکومت کے خلاف دھرنا دیا تو میں اپنے دوستوں کیساتھ کئی دن تک اس دھرنے میں شریک رہا۔ 2018ءمیں ہم نے بڑی بے لوثی کے ساتھ تحریک انصاف کو صرف ووٹ ہی نہیں دیا بلکہ انتخابی مہم میں بھی حصہ لیا لیکن پہلا جھٹکا اس وقت لگا جب عمران خان نے پرویز الٰہی کو اسپیکر پنجاب اسمبلی بنا دیا۔ پھر جھٹکے پر جھٹکا لگتا رہا اور سب سے بڑی بیماری آصف علی زرداری کا وزیر خزانہ حفیظ شیخ ’’اسٹیٹس کو‘‘ توڑنے کے دعویدار عمران خان کا مشیر خزانہ بن گیا ہے۔

ہمارا خیال تھا کہ اب عمران خان معیشت کو سنبھالنے پر توجہ دے گا لیکن جس دن بجٹ آنا تھا اُس دن ہمیں اپوزیشن رہنمائوں کی گرفتاریوں کی خبریں مل رہی تھیں۔ زرداری تو پہلے بھی کئی سال جیل کاٹ چکا ہے اُس سے پرویز مشرف ایک روپیہ نہیں نکلوا سکا تو عمران خان کیا نکلوائے گا؟ ہماری حکومت اور معیشت کی حالت ہماری کرکٹ ٹیم جیسی ہو چکی ہے وزیراعظم کا کچھ پتہ نہیں کس وقت کیا تقریر کر دے، کس وقت کون سا وعدہ توڑ کر یوٹرن پر اترانے لگے۔ میں نے اس نوجوان سے کہا کہ ہماری کرکٹ ٹیم کبھی کبھار دنیا کی مضبوط ترین ٹیموں کو شکست بھی تو دے ڈالتی ہے۔

اُس نے بہت تلخ لہجے میں کہا کہ کرکٹ میں ہار جیت سے پاکستان میں استحکام نہیں آسکتا، کرکٹ ٹیم جیت جائے تو ہم بھی ناچتے ہیں لیکن ہمارے ناچنے سے ڈالر کی قیمت تو نیچے نہیں آئیگی اسلئے عمران خان کو اب کرکٹر بن کر نہیں وزیراعظم بن کر سوچنا چاہئے۔ اس نوجوان کی گفتگو سن کر میں خاموش رہا لیکن میرے اندر یہ اطمینان پیدا ہوا کہ اس وقت ہمیں پاکستان میں جو افراتفری، مہنگائی اور خوف نظر آرہا ہے اس میں بھی ایک خیر اور تعمیر کا پہلو ہے اور وہ یہ کہ بڑے بڑے لوگوں کا چھوٹا پن تیزی کیساتھ سامنے آ رہا ہے۔ تحریک انصاف کے وہ رہنما جنہوں نے صرف ایک سال پہلے علی جہانگیر صدیقی کی امریکا میں بطور سفیر تقرری کو مسلم لیگ(ن) کی اقربا پروری قرار دیا تھا اُسی تحریک انصاف نے علی جہانگیر صدیقی کو اپنی حکومت کا سفیر برائے غیر ملکی سرمایہ کاری بنا ڈالا ہے۔

اگر میں یہ کہوں کہ اسے کہتے ہیں تھوک کر چاٹنا تو تحریک انصاف کے حامی کہیں گے کہ کیا صرف ہم تھوک کر چاٹتے ہیں؟ جی نہیں مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی والے بھی تھوک کر چاٹتے ہیں۔ جس طرح عمران خان کہا کرتے تھے کہ پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو پرویز الٰہی ہے اسی طرح بلاول بھٹو زرداری بھی کہتے تھے کہ نواز شریف مودی کا یار ہے۔ مریم نواز اپنے جلسوں میں زرداری عمران بھائی بھائی کے نعرے لگواتی تھیں۔ اب ان دونوں کے والد صاحبان گرفتار ہیں تو دونوں ایک دوسرے کے دستر خوان کو رونق بخش رہے ہیں۔ لیکن یہ دونوں جماعتیں تو ٹھہریں پرانے پاکستان کی نمائندہ ’’اسٹیٹس کو‘‘ کی طاقتیں۔ یہ اپنا تھوکا چاٹ کر نئے پاکستان کا نعرہ نہیں لگاتیں نئے پاکستان کا نعرہ تو عمران خان نے لگایا تھا۔ کیا وہ حفیظ شیخ اور علی جہانگیر صدیقی کیساتھ مل کر نیا پاکستان بنائیں گے؟ مان لیں کہ آپ بھی وہی ہیں جو ماضی کے حکمران تھے۔

اب آپ کو سمجھ آ گئی ہو گی کہ اس ناچیز کو ملکی حالات پر کوئی پریشانی کیوں نہیں؟ بڑے بڑے سیاستدان گرفتار کئے جا رہے ہیں۔ میرا خیال ہے مزید سیاستدانوں کو گرفتار کر لیں۔ کچھ صحافیوں کو بھی گرفتار کر لیں۔ الٹا لٹکانے اور پھانسیاں لگانے کی خواہش بھی پوری کر لی جائے۔ کرپشن اور غداری کے الزامات میں سے جو نکالنا ہے اب نکال ہی ڈالیں۔ جو نچوڑنا ہے وہ نچوڑ لیں تاکہ لوگوں کو پتہ چل جائے کہ کرپشن اور غداری کے غلغے کی اصل حقیقت کیا ہے؟ آخر کب تک آپ لوگوں کو یہ کہہ کر چپ کراتے رہیں گے کہ اس ملک کی معیشت کو نواز شریف اور زرداری نے تباہ کیا؟ آخر کو لوگ بھی تو پوچھیں گے نا کہ ٹھیک ہے نواز شریف اور زرداری لٹیرے تھے لیکن آپ لٹیروں کے ساتھیوں کو حکومت میں شامل کر کے بھی معیشت کیوں نہیں سنبھال پا رہے؟ کرپشن اور غداری کے الزامات کا بیانیہ نیا نہیں بہت پرانا ہے لیکن اس دور میں یہ بیانیہ اپنے آخری سانسوں پر ہے۔ اس بیانئے سے نجات میں پاکستان کا بہت فائدہ ہے لہٰذا پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے بہت اچھا ہو رہا ہے۔ تھوک کر چاٹنے والے بے نقاب ہو رہے ہیں۔

اور یہ تھوک سے گاڑی چلانے والے آغا وقار پر پروگرام کر رہا ہوتا ہے
 

3rd_Umpire

Minister (2k+ posts)
When Shah Mehmooq Qureshi joined PTI, he told Imran that the only way you can become PM is if you make alliance with Army against Nawaz & Zardari. Imran disagreed but promised him that he will re-think.

When Jahangir Khan Tareen joined Imran, he told him the same thing, i.e, follow the path to PM house with a stopover in Army House Pindi. By this time, Imran was a changed person. A person who was burning in self inflicted hate of Nawaz. He was ready to do everything including destroying himself. And, thats what he did.

A nation that cant give pure milk to its infants, sure deserve leaders like Imran, Nawaz, Zardari, Fazlu, Altaf etc etc.

It is true that Zardari and Nawaz will not pay back a single dime and Govt will not be able to seize any substantial money from them during its tenure. In the end, both will have played nicely the victim card for the popularity of their son and daughter's politics because thats what they are aiming for now.

What I do fear is, the disgraceful fall of Imran with the Army which will be a spectacular event but painful to watch for the men and women who really thought Imran was the one.

These same ISPR Trolls will be the frontline force for destroying Imran Niazi who once was a Khan!
Niazi ki set litrool..


Shafiyoun pe tashadad!
Najam sethi pe panbandi...
Fawad chaudry ke khilaf zero action...on slapping anchor.
50 lakh ghar
Aik arab jobs ....
Kekra one 🤪 🤪 🤪

Yeh mangu ghadha hum ko bar baad hi na kar day
تیری بےبی کے اندر ہر وقت نیازی یا پھوجی سنتریوں کے لَن ہی کیوں پھنسے رہتے ہیں ؟؟
 

jani1

Chief Minister (5k+ posts)
I think he is feeling the heat...
آگ اس کے پچھواڑے کے قریب تو نہیں پہنچ گئی۔۔؟​
 

Doctor sb

MPA (400+ posts)
ابھی فقط جیل بھیجنے کی نوبت آئی ہے تو ان صحافی نماؤں پر یہ شام غریباں طاری ہے- سوچو جس دن اشرافیہ کو کڑی سزائیں اور مال برآمد ہونا شروع ہوگا (جس کا دور دور تک امکان نہیں) تو ان ردالیوں کا کیا حال ہوگا- شریفوں و زرداریوں کو فکرکی کوئی ضرورت نہیں جب تک ایسے لکھنے والے ان کا دفاع کر رہے ہیں
 

Sohraab

Prime Minister (20k+ posts)

اگر میں یہ کہوں کہ اسے کہتے ہیں تھوک کر چاٹنا تو تحریک انصاف کے حامی کہیں گے کہ کیا صرف ہم تھوک کر چاٹتے ہیں؟ جی نہیں مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی والے بھی تھوک کر چاٹتے ہیں۔ جس طرح عمران خان کہا کرتے تھے کہ پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو پرویز الٰہی ہے اسی طرح بلاول بھٹو زرداری بھی کہتے تھے کہ نواز شریف مودی کا یار ہے۔ مریم نواز اپنے جلسوں میں زرداری عمران بھائی بھائی کے نعرے لگواتی تھیں۔ اب ان دونوں کے والد صاحبان گرفتار ہیں تو دونوں ایک دوسرے کے دستر خوان کو رونق بخش رہے ہیں۔
لیکن یہ دونوں جماعتیں تو ٹھہریں پرانے پاکستان کی نمائندہ ’’اسٹیٹس کو‘‘ کی طاقتیں۔ یہ اپنا تھوکا چاٹ کر نئے پاکستان کا نعرہ نہیں لگاتیں نئے پاکستان کا نعرہ تو عمران خان نے لگایا تھا۔ کیا وہ حفیظ شیخ اور علی جہانگیر صدیقی کیساتھ مل کر نیا پاکستان بنائیں گے؟ مان لیں کہ آپ بھی وہی ہیں جو ماضی کے حکمران تھے
 

peaceandjustice

MPA (400+ posts)
When Shah Mehmooq Qureshi joined PTI, he told Imran that the only way you can become PM is if you make alliance with Army against Nawaz & Zardari. Imran disagreed but promised him that he will re-think.

When Jahangir Khan Tareen joined Imran, he told him the same thing, i.e, follow the path to PM house with a stopover in Army House Pindi. By this time, Imran was a changed person. A person who was burning in self inflicted hate of Nawaz. He was ready to do everything including destroying himself. And, thats what he did.

A nation that cant give pure milk to its infants, sure deserve leaders like Imran, Nawaz, Zardari, Fazlu, Altaf etc etc.

It is true that Zardari and Nawaz will not pay back a single dime and Govt will not be able to seize any substantial money from them during its tenure. In the end, both will have played nicely the victim card for the popularity of their son and daughter's politics because thats what they are aiming for now.

What I do fear is, the disgraceful fall of Imran with the Army which will be a spectacular event but painful to watch for the men and women who really thought Imran was the one.

These same ISPR Trolls will be the frontline force for destroying Imran Niazi who once was a Khan!
عمران خان نے اپنی مثبت سوچ اور محنت سے اس قوم اور اس ملک کے اداروں میں جو کہ سیاست دانوں کے ھاتھوں تباہی کی طرف جارھے تھے بہت مثبت سوچ پیدا کی ھے اور اب عوام اور ملک کے تمام ادارےعمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں تاکہ اس ملک کو بہترین ملکوں کے برابر لایا جائے اور اس ملک کا شاندار مستقبل بنایا جائے ۔اب اس ملک کی عوام اور ادارے اپنی ذات کے خول سے نکل گئے ھیں اور کسی میڈیا کے پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں نگے
 

Islamabadiya

Minister (2k+ posts)
When Shah Mehmooq Qureshi joined PTI, he told Imran that the only way you can become PM is if you make alliance with Army against Nawaz & Zardari. Imran disagreed but promised him that he will re-think.

When Jahangir Khan Tareen joined Imran, he told him the same thing, i.e, follow the path to PM house with a stopover in Army House Pindi. By this time, Imran was a changed person. A person who was burning in self inflicted hate of Nawaz. He was ready to do everything including destroying himself. And, thats what he did.

A nation that cant give pure milk to its infants, sure deserve leaders like Imran, Nawaz, Zardari, Fazlu, Altaf etc etc.

It is true that Zardari and Nawaz will not pay back a single dime and Govt will not be able to seize any substantial money from them during its tenure. In the end, both will have played nicely the victim card for the popularity of their son and daughter's politics because thats what they are aiming for now.

What I do fear is, the disgraceful fall of Imran with the Army which will be a spectacular event but painful to watch for the men and women who really thought Imran was the one.

These same ISPR Trolls will be the frontline force for destroying Imran Niazi who once was a Khan!
yes i also think that i initial days, specially before the last elections results where nawaz delivered victory speech, Imran was not the person what he became later,

he had his asools, if he kept going like that, he would have become a true genuine people's leader, it might have taken 5 more years,

but the short cut he chose has maligned his name very badly,
 

such786

MPA (400+ posts)
At international level yes Pakistan is stable because now no one country is saying that Pakistan is terrorist country. Ecnomically in every era people always complaint about their country head but instead of promoting positivity about Pakistan Hamid mear always promote negativity about Pakistan.
 
Sponsored Link

Latest Blogs Featured Discussion