تحریک انصاف فارن فنڈنگ کیس کے اصل حقائق


تحریک انصاف فارن فنڈنگ پر میڈیا میں طوفان برپا ہے ۔ زیادہ تر تجزیہ کار اسی بات پر پکے ہیں کہ تحریک انصاف نے غیر ممنوعہ ذرائع سے فنڈنگ لی ہے اور تحریک انصاف پر پابندی لگ سکتی ہے۔ تمام ارکان اسمبلی فارغ ہوسکتے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت گرسکتی ہے لیکن کوئی تحقیق نہیں کررہا کہ تحریک انصاف فارن فنڈنگ ہے کیا؟ اپوزیشن صرف اپنے کارکنوں کو مطمئن کرنے اور دھرنے کی ہزیمت مٹانے کیلئے اسے ہوا دے رہی ہے۔ کچھ اینکرز جو اس پر طوفان کھڑا کررہے ہیں انہیں یا تو یہ معلوم نہیں کہ تحریک انصاف کا غیرملکی فندنگ کیس ہے کیا۔ یا اگر پتہ بھی ہے تو وہ تحریک انصاف پر اپنا بغض نکالنے اور ریٹنگ کے چکر میں اسے ہوا دے رہے ہیں۔

تحریک انصاف فارن فنڈنگ کیس 2014 میں الیکشن کمیشن میں آیا۔ تحریک انصاف کے سابق رہنما اکبر ایس بابر اس کیس میں فریق بنے۔


اکبر ایس بابر کون ہے؟
اکبر شیر بابر وہ رہنما ہے جو کئی بار تحریک انصاف جوائن کرچکا ہے اور تحریک انصاف چھوڑ چکا ہے۔2004 میں اکبر ایس بابر نے تحریک انصاف چھوڑی۔ اکبر ایس بابر تحریک انصاف سے ناراض تھا اور تحریک انصاف چھوڑچکا تھا لیکن جیسے ہی 30 اکتوبر 2011 میں تحریک انصاف کو عروج ملا تو اکبر ایس بابر دوبارہ تحریک انصاف کا حصہ بن گیا۔ تحریک انصاف نے اکبرایس بابر کو اسلئے قبول کرلیا کیونکہ وہ چرب زبان تھا، تحریک انصاف کا بہتر طریقے سے دفاع کرسکتا تھا۔ جب دوسری جماعتوں کے لوگ تحریک انصاف میں شامل ہوئے ، شاہ محمود قریشی کی شمولیت ہوئی اور تحریک انصاف نے شفقت محمود کو سیکرٹری اطلاعات بنایا تو اکبر ایس بابر تحریک انصاف سے ناراض ہوا اور تحریک انصاف چھوڑدی اور فیس بک پر تحریک انصاف کے خلاف پوسٹس کرتا رہا اور اپنا غبار نکالتا رہا ۔ 2014 میں اکبر ایس بابر اچانک الیکشن کمیشن پہنچا اور دعویٰ کیا کہ فارن فنڈنگ ہوئی ہے۔ اکبر ایس بابر کے ساتھ ن لیگ کے لوگ طلال چوہدری، شاہنواز رانجھا اکثر الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہوتے رہتے اور اکٹھی پریس کانفرنسز کرتے رہتے تھے جس سے اس تاثر کو تقویت ملی کہ اس کھیل کے پیچھے مسلم لیگ ن ہے۔

تحریک انصاف کا فارن فنڈنگ کیس ہے کیا؟
تحریک انصاف نے 2013 کے الیکشن سے پہلے الیکشن کمپین چلانے کیلئے امریکہ میں فنڈز جمع کئے۔ جب الیکشن کمیشن کے کہنے پر تحریک انصاف نے غیرملکی فنڈنگ کا ریکارڈ جمع کرایاتو ن لیگ کے رہنماؤں نے کچھ دستاویزات میڈیا پر لہرائیں کہ تحریک انصاف کو بھارتیوں ، اسرائیلیوں اور امریکیوں سے فنڈنگ کی ہے۔ لیکن بعد میں پتہ یہ چلا کہ یہ فنڈنگ کرنیوالا شخص ایک انڈین ہے۔ کچھ ایسے پاکستانی ہیں جنہوں نے دوبارہ شناختی کارڈ تک نہیں بنوایا اور کچھ ایسی کمپنیاں ہیں جو پاکستانیوں کی ہیں لیکن انہوں نے اسکے اکاؤنٹ سے کریڈٹ کارڈ یا چیک کے ذریعے فنڈنگ کی ہے۔

تحریک انصاف فارن فنڈنگ کیس کل 25 ہزار پونڈ اور تقریباً 1 لاکھ ڈالر کا کیس ہے. کیس سارا یہ ہے کہ امریکہ میں مقیم دوہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں نے اپنی کمپنیوں (جو امریکہ میں رجسٹرڈ ہیں اور پاکستانی قانون کے مطابق غیر ملکی کمپنیاں ہیں) کے کریڈیٹ کارڈ سے تحریک انصاف کو فنڈنگ کی۔ عمران خان نااہلی کیس کے درخواست گزار حنیف عباسی کے مطابق ایک لاکھ ڈالر کی فارن فنڈنگ ہوئی ہے ۔ حنیف عباسی نے دعویٰ کیا کہ 47 مشکوک ٹرانزیکشنز ہیں۔178 کارپوریشنز ہیں جن کے پیچھے یہودی لابی ہے جبکہ حقیقت میں یہ یا تو پاکستانیوں کی کمپنیاں تھیں یا ایسی کمپنیاں تھیں جہاں وہ ملازمت کرتے تھے۔



-- 23 اکاؤنٹس کی حقیقت کیا ہے؟

جب الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے اکاؤنٹس کی سکروٹنی کی تو تحریک انصاف کے 23 اکاؤنٹس سامنے آئے۔ ن لیگ اور اپوزیشن کے مطابق 23 میں سے تحریک انصاف نے صرف 5 اکاؤنٹس ڈیکلئیر کئے ہیں باقی 18 اکاؤنٹس ڈیکلئیر نہیں کئے اور ان اکاؤنٹس میں فارن فنڈنگ کا پیسہ آیا ہے جس سے گھپلے کئے گئے ہیں ۔

جبکہ دوسری طرف تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ اسکے صرف 5 اکاؤنٹس ہیں باقی 18 اکاؤنٹس مقامی تنظیموں اور ہنماؤں نے الیکشن کمپین کیلئے کھلوائے ہیں جس کا تحریک سے کوئی تعلق نہیں۔ ان اکاؤنٹس میں کوئی غیرملکی پیسہ نہیں آیا۔ ان میں سے اکثر اکاؤنٹس بند ہوچکے ہیں یا غیر فعال ہیں۔ دو اکاؤنٹس ایسے ہیں جو اکبر ایس بابر کے نام سے کھولے گئے ہیں۔



فارن فنڈنگ کیس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟

یہ سوال سب سے اہم ہے کہ فارن فنڈنگ کیس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ کیا تحریک انصاف بین ہوجائے گی؟ اسکی حکومت ختم اور تمام ایم این ایز اور ایم پی ایز فارغ ہوجائیں گے؟

ن لیگ کے دعوے کے مطابق تحریک انصاف کو جو ممنوعہ فنڈنگ ہوئی ہے وہ تقریبا ایک لاکھ ڈالر ہے جو اس وقت کے حساب سے ایک کروڑ اور آج سے حساب سے ڈیڑھ کروڑ بنتا ہے۔ اگر یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ یہ ممنوعہ فنڈنگ ہے تو الیکشن کمیشن یہ پیسہ ضبط کرلے گا اور یہ پیسہ قومی خزانے میں چلا جائے گا۔

ابھی تک یہ ثابت نہیں ہوا ۔ فرض کریں اگر یہ ثابت ہوجاتا ہےکہ تحریک انصاف نے کسی ملک ، کسی غیرملکی خفیہ ایجنسی جیسے را، موساد، سی آئی اے سے فنڈنگ لی ہے یا کسی بین آرگنائزیشن جیسے القاعدہ، داعش سے فنڈنگ لی ہے تو اس صورت میں تحریک انصاف تحلیل ہوجائے گی لیکن تحلیل کے عمل کو بہت سے مراحل سے گزرنا پڑے گا ۔ پہلے سکروٹنی کمیٹی اپنی سفارشات مکمل کرے گی، پھر الیکشن کمیشن اس کیس کی سماعت کرے گا، دونوں طرف سے دلائل ہوں گے۔

اگر الیکشن کمیشن میں یہ ثابت ہوجائے کہ فنڈنگ کسی ملک سے براہ راست لی گئی ہے، کسی خفیہ ایجنسی یا دہشتگرد تنظیم سے لی گئی ہے تو اس صورت میں بھی الیکشن کمیشن بین نہیں کرسکتا بلکہ اپنی سفارشات وفاقی حکومت کو بھجوائے گا۔ اگر وفاقی حکومت مطمئن ہوگی کہ واقعی ایسی فنڈنگ ہوئی ہے تو وہ 15 دن کے اندر اندر کیس سپریم کورٹ بھجوادے گی جہاں ایک بار پھر دونوں طرف سے دلائل ہوں گے اور پھر حتمی فیصلہ آئے گا

لیکن اگر یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ ممنوعہ فنڈنگ ہے جو کسی غیرملکی شخص سے یا غیرملکی کارپوریشن سے لی گئی ہے تو اس صورت میں وہ ممنوعہ فنڈنگ ضبط ہوجائے گی ۔ زیادہ مضبوط چانسز یہی ہیں کہ ممنوعہ فنڈنگ ضبط کرکے کیس ختم کردیا جائے گا۔

پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ کا یہ سکرین شاٹ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ سے لیا گیا ہے اسکی شق 6 کے تحت ممنوعہ فنڈنگ ضبط ہو جائے گی، اور یہ الیکشن کمیشن کر سکتا ہے. لیکن شق 15 کے تحت سیاسی جماعت کی تحلیل صرف وفاقی حکومت کے بھیجے سپریم کورٹ کو بھیجے گئے ریفرنس کے ہی ذریعے ہو سکتی ہے۔




 
Advertisement

BrotherKantu

Chief Minister (5k+ posts)

This is all BS with out telling the real case and how it will proceed.
S Baber filed a case in the election commission and legally S Baber should be the effected party. In this case which he is not. So opposition have no standing in the court of law. This case can stop right there. PTI will take advantage of this to ridicule opposition.

This case is under proceeding since last five years. There will be a lot of court fillings to go through in front of election commission and it will take another few years. Since this case started five years ago more accounts have discovered. Only 5 accounts were declared in the election commission before and 18 more accounts need to investigate. Commission will have to listened both parties again. If PTI is declared foreign funding party, this case will go to the gazette of Pakistan. Gazette of Pakistan will send this case to the supreme court of Pakistan if PTI is proved foreign funding party. Supreme court of Pakistan will hear both parties again. SC will send this case to the federal government for decision and as long as PTI is the federal government you can guess where the decision will go.

So don't listed to the Shit flung around and try to find the proceeding about this case and what are the legal steps involved .
 

Aslan

Chief Minister (5k+ posts)
The criminal mafia of PMLN,PPP and Fazlu can find nothing against PTI else except this so caled foreign funding case.These crooks have become irrelevant so they scratching the bottom of the barrel.
 

Wake up Pak

Chief Minister (5k+ posts)
‏پی ٹی آئی اپنی پارٹی فنڈنگ کا باقاعدہ ہر سال آڈٹ کراتی رہی ہے ۔ فکر کی کوئی بات نہیں ۔

مکس اچار اپوزیشن جتنا جھوٹ بول سکتی ہے بول لے اس کیس میں بھی ان کا منہ کالا ہو گا
 

Steyn

Chief Minister (5k+ posts)
Conveniently failed to mention that the clean, honest PTI has filed requests to A) not make the scrutiny public B) Said that Kim Jong Niazi Un is above scrutiny.

Why would the clean honest IK think he's above the law and conceal the result? Hmm. You people are so smart, why doesn't PTI give these logical reasons to ECP if the case is so stupid? Hmm

Chor ki darhi may tinka
 
Sponsored Link

Latest Blogs Featured Discussion