ایس ایچ او کے سامنے خاتون پر تشدد،پنجاب پولیس کا ردعمل

6auratprtashdudshosamny.jpg

پنجاب کے شہر بہاولنگر میں پولیس اسٹیشن کے اندر خاتون پر تشدد کے معاملے پر پنجاب پولیس کے ترجمان نے وضاحتی بیان جاری کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں ایک خاتون کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جارہا تھا، اس موقع پر چند دیگر افراداور پولیس اہلکار بھی موجود تھے۔


تفصیلات کے مطابق ایک لیڈی ڈاکٹر کو تین افراد نے ایس ایچ او ہارون آباد (بہاولنگر) کے دفتر میں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا، کوئی بھی اس سول سرونٹ کی نہیں سن رہا۔


پنجاب پولیس کے ترجمان نے اس واقعہ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ خاتون لیڈی ڈاکٹر اور انکے شوہر کےمابین لڑائی جھگڑے کا معاملہ تھا جس پردونوں فریقین کو پولیس نے بات چیت کے لیے بلایا۔شوہرخود نہ آیا تاہم شوہر کے کزن عدیل نے تلخ کلامی پرلیڈی ڈاکٹر پر تشدد شروع کردیا۔


انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نےعدیل پر مقدمہ درج کرکے اسے فوری گرفتارکرلیا،جو جیل جا چکا ہے۔

ترجمان پنجاب پولیس نے مزید کہا کہ پولیس اسٹیشن میں ایس ایچ او کے سامنے یہ واقعہ پیش ہونے پر بہاولنگر پولیس نے ایس ایچ او کو عہدے سے ہٹا دیا ہے تاہم مزید کاروائی کے لیے انکوائری کی جارہی ہے۔
 
Advertisement
Last edited:

Bubber Shair

Chief Minister (5k+ posts)
پولیس پنچایتی کب سے ہوگئی ،پولیس نے دونوں فریقین کو بلوایا ہی کیوں تھا ؟؟
عدیل یا کسی بھی شخص کی جرات نہیں ہونی چاہئے تھی کہ پولیس کے سامنے کسی خاتون پر ہاتھ اٹھاتا خواہ اس نے قتل بھی کیا ہو اس پر تشدد ناقابل قبول ہے
ضرور پولیس کی اشیرواد سے اس نے تشدد کیا ہوگا
اگر ویڈیو وائرل نہ ہوتی تو کیا پھر بھی پولیس ایکشن لیا جاتا؟؟؟؟
اب اس بندے کو نمونہ عبرت بنانا ضروری ہے جس نے اتنی دیدہ دلیری سے پولیس اسٹیشن میں یہ ظلم کیا ہے
یہ ضرور اکثر پولیس کے پاس کوی دھندہ کرنے آتا رہتا ہوگا ایسے ہی اسے نہیں بھیجا گیا تھا
 

Bubber Shair

Chief Minister (5k+ posts)
میں نے ویڈیو دیکھی ہے اس پین چود سوور کا ہاتھ عورتوں پر کافی دیر سے کھلا ہوا ہے ایسے ہی کوی اس دیدہ دلیری سے نہیں مارتا؟؟؟
میرے خیال میں پولیس ایس ایچ او نے بھی ایک عدد تشدد کرنے والے کے سر میں ماری ہے مگر عورت کی دلیری کا کوی ذکرنہیں کررہا وہ کمزور تھی عورت تھی مگر اس نے ہار نہیں مانی، گھونسے کھا کر گری ہے مگر پھر زمین سے اٹھ کر دو بندوں کے روکنے کی کوشش کے باوجود خاتون رکی نہیں اور اس نے جوتی تشدد کرنے والے کے سر میں تڑاخ سے رسید کی ہے
اس پر داد دینی بنتی ہے
 

atensari

President (40k+ posts)
پولیس پنچایتی کب سے ہوگئی ،پولیس نے دونوں فریقین کو بلوایا ہی کیوں تھا ؟؟
عدیل یا کسی بھی شخص کی جرات نہیں ہونی چاہئے تھی کہ پولیس کے سامنے کسی خاتون پر ہاتھ اٹھاتا خواہ اس نے قتل بھی کیا ہو اس پر تشدد ناقابل قبول ہے
ضرور پولیس کی اشیرواد سے اس نے تشدد کیا ہوگا
اگر ویڈیو وائرل نہ ہوتی تو کیا پھر بھی پولیس ایکشن لیا جاتا؟؟؟؟
اب اس بندے کو نمونہ عبرت بنانا ضروری ہے جس نے اتنی دیدہ دلیری سے پولیس اسٹیشن میں یہ ظلم کیا ہے
یہ ضرور اکثر پولیس کے پاس کوی دھندہ کرنے آتا رہتا ہوگا ایسے ہی اسے نہیں بھیجا گیا تھا
حسب طلب نوٹ لگاؤ پولیس پنچایت کیا مخالف فریق کو پھینٹی لگا کر معاملہ رفع دفع کرنے پر راضی بھی کر لیتی ہے
 
Sponsored Link