افغانستان میں انسانی بحران، اقوامِ متحدہ نے بڑا مطالبہ کر دیا

4.jpg


افغانستان میں بڑھتے انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے درکار مالی معاونت میں تیزی سے اضافہ کرنے کے لیے اقوامِ متحدہ 60 کروڑ ڈالر سے زائد امداد اکٹھی کرنے کے لئے جنیوا میں امدادی کانفرنس کا انعقاد کر رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جینیوا میں اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ سطح کے اجلاس کا انعقاد ہو گا جس کی صدارت ادارے کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کریں گے، اجلاس کا بنیادی مقصد ہے کہ افغانستان کی لگ بھگ چار کروڑ آبادی میں بڑھتے ہوئے انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے درکار فنڈز میں تیزی سے اضافہ کیا جا سکے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ مہینے طالبان کے کابل پر کنٹرول حاصل کرنے سے پہلے بھی ملک کی نصف آبادی تقریباً ایک کروڑ 80 لاکھ لوگ امداد پر انحصار کرتے تھے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ خشک سالی، نقدی اور خوراک کی کمی کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے عہدیداروں اور امدادی گروپس کا کہنا ہے کہ افغانستان میں نصف آبادی کو فوری امداد کی ضرورت ہے۔


رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی کامیابی کے بعد اچانک اربوں ڈالر کے غیر ملکی عطیات کا خاتمہ اقوام متحدہ کے پروگراموں پر مزید دباؤ کی وجہ بن رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ترجمان ڈوجارک کا کہنا ہے کہ افغانستان کو انسانی بحران کا سامنا ہے۔ ہر تین افغان شہریوں میں سے ایک افغان شہری کو یہ نہیں معلوم کہ اس کے اگلے وقت کی غذا یعنی کھانا کہاں سے آئے گا۔

ڈوجارک نے مزید کہا کہ اقوامِ متحدہ نے سال 2021 کے لیے ایک ارب 30 کروڑ ڈالر کی اپیل کی ہے تا کہ ایک کروڑ 80 لوگوں کی امداد کی جا سکے۔ ان کے بقول اب تک صرف 40 فی صد امداد موصول ہوئی ہے جب کہ 76 کروڑ ڈالر کا ابھی بھی خسارہ ہے۔

ترجمان ڈوجارک کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگلے 12 ماہ کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے لگ بھگ نصف بچوں میں شدید غذائی قلت کا سامنا ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

تنظیم کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ مالی طور پر جدوجہد کر رہی ہے لیکن فی الحال ادارہ اپنے ملازمین کو تنخواہ بھی نہیں دے پا رہا۔

عالمی تنظیم کے سیکریٹری جنرل کا مزید کہنا تھا کہ طلب کیے گئے 60 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا تقریباً ایک تہائی حصہ اقوام متحدہ اپنے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کے تحت استعمال کرے گا جس کے سروے میں انکشاف کیا گیا تھا کہ افغانوں میں سے 93 فیصد کو مناسب خوراک میسر نہیں جس میں سے زیادہ تر کے پاس اسے حاصل کرنے کے لیے نقد رقم بھی موجود نہیں۔

افغانستان میں بڑھتے انسانی بحران کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈبلیو ایف پی کی ڈپٹی ریجنل ڈائریکٹر انتھیا ویب نے کہا کہ افغان عوام کو زندگی بچانے میں مدد فراہم کرنا بہت ضروری ہے، عالمی ادارہ امداد مانگ رہا ہے اور کھانے کا ذخیرہ ختم ہونے سے بچنے کے لیے قرض لے رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی ایک اور ایجنسی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے عطیہ دینے والوں کے پیچھے ہٹنے کی وجہ سے سیکڑوں صحت کی سہولیات کے بند ہونے کے خطرے کا خدشے کا اظہار کیا ہے۔
 
Advertisement

Talisman

MPA (400+ posts)
Afghanistan main Shaitaanee Fokkdaan. White Christian terrorists invaders have been defeated.
 

atensari

President (40k+ posts)
افغانستان کے بحران کے ذمہ دار موجود حکومت کو بلیک میل کر رہے ہیں​
 

Mughal1

Chief Minister (5k+ posts)
jin logoon ko maloom hi na ho keh woh khud ko organise aur regulate kaise karen aur kis maqsad ke liye karen aur un ko is ki fiker bhi na ho woh ye sab seekhen un ke liye zindagi hamesha hi masla rehti hai. For better understanding of deen of islam from the quran see HERE, HERE, HERE, HERE and HERE.
 
Sponsored Link