افغانستان انسانی المیےکےدھانے پر،اگلے6 ماہ زمین پرجہنم کےہوں گے

Goldfinger

Councller (250+ posts)
_120635679_childwithcorn.png

افغانستان میں سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی خوراک کی کمی کے باعث ’قحط‘ کا خدشہ

افغانستان کے عوام فاقوں کے حقیقی اور شدید خطرے کی زد میں ہیں۔ یہاں پر موسم خزاں سے فوری طور پر جاڑوں میں بدلنے والا ہے۔
اسی دوران کئی علاقوں سے قحط کی خبریں سامنے آ رہی ہیں جس سے تیزی سے بدتر ہوتی ہوئی صورتحال کا اندازہ ہوتا ہے۔
کابل سے 50 میل مغرب میں میدان واردک کے علاقے میں سینکڑوں افراد ایک سرکاری مرکز سے آٹے کے حصول کے لیے جمع تھے۔
یہ آٹا اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارہ برائے خوراک نے فراہم کیا تھا۔
طالبان سپاہی لوگوں کو کافی حد تک خاموش رکھنے میں کامیاب رہے مگر جن لوگوں سے کہا گیا کہ وہ آٹے کے لیے اہل نہیں ہیں، وہ غصے اور خوف کا شکار نظر آئے۔
ایک بوڑھے شخص نے کہا 'سردیاں تقریباً آ ہی گئی ہیں۔ اگر میں روٹی نہیں بنا سکا تو مجھے نہیں پتا میں کیسے گزارا کروں گا۔'
عالمی ادارہ خوراک کو افغانستان کے تقریباً دو کروڑ 20 لاکھ افراد کو راشن فراہم کرنے کی مشکل کا سامنا ہے۔
ماہرین کو خدشہ ہے کہ اس مرتبہ سردیاں سخت ہوں گی اور اگر صورتحال واقعی ایسی ہوئی تو بڑی تعداد میں لوگوں کو شدید بھوک اور یہاں تک کہ قحط کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
جب عالمی ادارہ خوراک کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈیوڈ بیسلے اتوار کو کابل آئے تو میں نے اُن سے ملاقات کی۔
اس صورتحال پر اُن کا تجزیہ تشویش ناک تھا۔
ڈیوڈ نے کہا کہ 'یہ اتنی خراب ہے جتنی کہ آپ تصور کر سکتے ہیں۔ درحقیقت ہم زمین پر بدترین انسانی المیے کا سامنا کر رہے ہیں۔'
اُن کا کہنا تھا کہ '95 فیصد لوگوں کے پاس کافی خوراک نہیں ہے اور اب ہمارے سامنے دو کروڑ 30 لاکھ کے قریب افراد ہیں جو قحط کا شکار ہونے والے ہیں۔ اگلے چھ مہینے آفت کی طرح ہوں گی۔ یہ زمین پر جہنم ہوں گے۔'
اگست میں طالبان کے اقتدار میں آنے سے قبل یہ اعتماد تھا کہ صدر اشرف غنی کی حکومت بدتر سردیوں کے خطرے سے بین الاقوامی برادری کی مدد سے نمٹ لے گی۔
مگر جب اشرف غنی کی حکومت ختم ہوئی تو یہ توقعات بھی ختم ہو گئیں۔
مغربی ممالک نہیں چاہتے کہ وہ لڑکیوں کو تعلیم سے روکنے والے اور شرعی سزاؤں کے مکمل نفاذ کی خواہاں حکومت کے ساتھ کھڑے نظر آئیں، اس لیے اُنھوں نے افغانستان کے لیے امداد بند کر دی ہے۔
مگر ایسے میں جب کروڑوں معصوم اور بے گناہ لوگ بھوک کا سامنا کر رہے ہیں، تو کیا مغربی ممالک تب بھی صرف دیکھتے ہی رہیں گے؟
_121472804_gettyimages-1232412981.jpg

ڈیوڈ بیسلے ترقی یافتہ ممالک کی حکومتوں اور ارب پتی لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ مدد کی فوری ضرورت پوری کریں۔
اُنھوں نے کہا 'عالمی رہنما اور ارب پتی تصور کریں کہ آپ کے ننھے بچوں یا اُن کے بچوں کی بھوک سے موت ہو جائے۔ آپ ایسا ہونے سے روکنے کے لیے سب کچھ کر سکتے ہیں، اور جب دنیا میں چار ہزار کھرب ڈالر دولت ہوتے ہوئے ایسا ہو تو ہم سب کو شرم آنی چاہیے۔'
'ہم کسی بچے کو بھوک سے مرنے دیں تو ہمیں شرم آنی چاہیے۔ مجھے فرق نہیں پڑتا کہ وہ بچہ کہاں ہے۔'
_120628470_girl.png

وسطی افغانستان کے شہر بامیان جہاں طالبان نے سنہ 2001 میں بدھا
کے خوبصورت اور قدیم مجسموں کو تباہ کر دیا تھا، وہاں ہم فاطمہ نامی ایک بیوہ اور اُن کے سات بچوں سے ملنے گئے جن کی عمریں تین سے 16 سال ہیں۔
اُن کے شوہر کی کچھ ہی عرصہ قبل معدے کے کینسر کے باعث موت ہوئی ہے۔
یہ لوگ انتہائی غریب ہیں اور جس پہاڑ میں بدھا کا مجسمہ تراشا گیا تھا، اس کے پاس ہی ایک غار میں رہتے ہیں۔
گذشتہ حکومت کے دوران فاطمہ کافی حد تک باقاعدگی سے آٹا اور تیل حاصل کر سکتی تھیں مگر طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے یہ سلسلہ بند ہو گیا ہے۔
فاطمہ ایک قریبی کسان کی زمین سے جھاڑیاں اور گھاس صاف کر کے تھوڑی بہت رقم کما لیتی تھیں مگر قحط کے باعث کم ہی فصلیں بچی ہیں، جس کا مطلب ہے کہ اُن کے لیے کوئی ملازمت نہیں۔
وہ کہتی ہیں 'مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ میرے پاس بچوں کو دینے کے لیے کچھ نہیں۔ جلد ہی مجھے باہر جا کر بھیک مانگنی پڑے گی۔'
کچھ والدین نے اپنی بیٹیاں شادی کے لیے عمر رسیدہ مردوں کو فروخت کر دی ہیں۔ فاطمہ نے ایسا کرنے سے انکار کیا لیکن اگر خوراک کی فراہمی بحال نہ ہوئی تو وہ اور اُن کے بچے شدید بھوک کا سامنا کریں گے۔
اب قریبی پہاڑی چوٹیوں پر برف جمنے لگی ہے اور ہوا میں ایک نئی تیزی محسوس کی جا سکتی ہے۔

سردیاں جلد ہی آ پہنچیں گی اور فاطمہ اور اُن کے خاندان جیسے لوگوں کی بڑی تعداد بربادی کے دہانے پر ہوگی۔
سورس
 
Advertisement
Last edited by a moderator:

arifkarim

Chief Minister (5k+ posts)
Premium Member
مغربی ممالک نہیں چاہتے کہ وہ لڑکیوں کو تعلیم سے روکنے والے اور شرعی سزاؤں کے مکمل نفاذ کی خواہاں حکومت کے ساتھ کھڑے نظر آئیں، اس لیے اُنھوں نے افغانستان کے لیے امداد بند کر دی ہے۔
یعنی مغربی ممالک چاہتے ہیں کہ انکی انا کی خاطر افغانی بھوکے مریں۔ کیا یہ ہے وہ انسانیت اور انسانی حقوق جس کا مغرب پرچار کرتا ہے؟
 

Goldfinger

Councller (250+ posts)
یعنی مغربی ممالک چاہتے ہیں کہ انکی انا کی خاطر افغانی بھوکے مریں۔ کیا یہ ہے وہ انسانیت اور انسانی حقوق جس کا مغرب پرچار کرتا ہے؟
کیوں نہیں اپنے پیروں پر کھڑے ہوتے ؟ کب تک مغربی ممالک کے دست نگر رہیں گے ؟ کب تک بھیک مانگ ،مانگ کراپنا پیٹ بھرتے رہیں گے؟؟؟
 

Behrouz27

Minister (2k+ posts)
_120635679_childwithcorn.png

افغانستان میں سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی خوراک کی کمی کے باعث ’قحط‘ کا خدشہ

افغانستان کے عوام فاقوں کے حقیقی اور شدید خطرے کی زد میں ہیں۔ یہاں پر موسم خزاں سے فوری طور پر جاڑوں میں بدلنے والا ہے۔
اسی دوران کئی علاقوں سے قحط کی خبریں سامنے آ رہی ہیں جس سے تیزی سے بدتر ہوتی ہوئی صورتحال کا اندازہ ہوتا ہے۔
کابل سے 50 میل مغرب میں میدان واردک کے علاقے میں سینکڑوں افراد ایک سرکاری مرکز سے آٹے کے حصول کے لیے جمع تھے۔
یہ آٹا اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارہ برائے خوراک نے فراہم کیا تھا۔
طالبان سپاہی لوگوں کو کافی حد تک خاموش رکھنے میں کامیاب رہے مگر جن لوگوں سے کہا گیا کہ وہ آٹے کے لیے اہل نہیں ہیں، وہ غصے اور خوف کا شکار نظر آئے۔
ایک بوڑھے شخص نے کہا 'سردیاں تقریباً آ ہی گئی ہیں۔ اگر میں روٹی نہیں بنا سکا تو مجھے نہیں پتا میں کیسے گزارا کروں گا۔'
عالمی ادارہ خوراک کو افغانستان کے تقریباً دو کروڑ 20 لاکھ افراد کو راشن فراہم کرنے کی مشکل کا سامنا ہے۔
ماہرین کو خدشہ ہے کہ اس مرتبہ سردیاں سخت ہوں گی اور اگر صورتحال واقعی ایسی ہوئی تو بڑی تعداد میں لوگوں کو شدید بھوک اور یہاں تک کہ قحط کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
جب عالمی ادارہ خوراک کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈیوڈ بیسلے اتوار کو کابل آئے تو میں نے اُن سے ملاقات کی۔
اس صورتحال پر اُن کا تجزیہ تشویش ناک تھا۔
ڈیوڈ نے کہا کہ 'یہ اتنی خراب ہے جتنی کہ آپ تصور کر سکتے ہیں۔ درحقیقت ہم زمین پر بدترین انسانی المیے کا سامنا کر رہے ہیں۔'
اُن کا کہنا تھا کہ '95 فیصد لوگوں کے پاس کافی خوراک نہیں ہے اور اب ہمارے سامنے دو کروڑ 30 لاکھ کے قریب افراد ہیں جو قحط کا شکار ہونے والے ہیں۔ اگلے چھ مہینے آفت کی طرح ہوں گی۔ یہ زمین پر جہنم ہوں گے۔'
اگست میں طالبان کے اقتدار میں آنے سے قبل یہ اعتماد تھا کہ صدر اشرف غنی کی حکومت بدتر سردیوں کے خطرے سے بین الاقوامی برادری کی مدد سے نمٹ لے گی۔
مگر جب اشرف غنی کی حکومت ختم ہوئی تو یہ توقعات بھی ختم ہو گئیں۔
مغربی ممالک نہیں چاہتے کہ وہ لڑکیوں کو تعلیم سے روکنے والے اور شرعی سزاؤں کے مکمل نفاذ کی خواہاں حکومت کے ساتھ کھڑے نظر آئیں، اس لیے اُنھوں نے افغانستان کے لیے امداد بند کر دی ہے۔
مگر ایسے میں جب کروڑوں معصوم اور بے گناہ لوگ بھوک کا سامنا کر رہے ہیں، تو کیا مغربی ممالک تب بھی صرف دیکھتے ہی رہیں گے؟
_121472804_gettyimages-1232412981.jpg

ڈیوڈ بیسلے ترقی یافتہ ممالک کی حکومتوں اور ارب پتی لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ مدد کی فوری ضرورت پوری کریں۔
اُنھوں نے کہا 'عالمی رہنما اور ارب پتی تصور کریں کہ آپ کے ننھے بچوں یا اُن کے بچوں کی بھوک سے موت ہو جائے۔ آپ ایسا ہونے سے روکنے کے لیے سب کچھ کر سکتے ہیں، اور جب دنیا میں چار ہزار کھرب ڈالر دولت ہوتے ہوئے ایسا ہو تو ہم سب کو شرم آنی چاہیے۔'
'ہم کسی بچے کو بھوک سے مرنے دیں تو ہمیں شرم آنی چاہیے۔ مجھے فرق نہیں پڑتا کہ وہ بچہ کہاں ہے۔'
_120628470_girl.png

وسطی افغانستان کے شہر بامیان جہاں طالبان نے سنہ 2001 میں بدھا
کے خوبصورت اور قدیم مجسموں کو تباہ کر دیا تھا، وہاں ہم فاطمہ نامی ایک بیوہ اور اُن کے سات بچوں سے ملنے گئے جن کی عمریں تین سے 16 سال ہیں۔
اُن کے شوہر کی کچھ ہی عرصہ قبل معدے کے کینسر کے باعث موت ہوئی ہے۔
یہ لوگ انتہائی غریب ہیں اور جس پہاڑ میں بدھا کا مجسمہ تراشا گیا تھا، اس کے پاس ہی ایک غار میں رہتے ہیں۔
گذشتہ حکومت کے دوران فاطمہ کافی حد تک باقاعدگی سے آٹا اور تیل حاصل کر سکتی تھیں مگر طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے یہ سلسلہ بند ہو گیا ہے۔
فاطمہ ایک قریبی کسان کی زمین سے جھاڑیاں اور گھاس صاف کر کے تھوڑی بہت رقم کما لیتی تھیں مگر قحط کے باعث کم ہی فصلیں بچی ہیں، جس کا مطلب ہے کہ اُن کے لیے کوئی ملازمت نہیں۔
وہ کہتی ہیں 'مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ میرے پاس بچوں کو دینے کے لیے کچھ نہیں۔ جلد ہی مجھے باہر جا کر بھیک مانگنی پڑے گی۔'
کچھ والدین نے اپنی بیٹیاں شادی کے لیے عمر رسیدہ مردوں کو فروخت کر دی ہیں۔ فاطمہ نے ایسا کرنے سے انکار کیا لیکن اگر خوراک کی فراہمی بحال نہ ہوئی تو وہ اور اُن کے بچے شدید بھوک کا سامنا کریں گے۔
اب قریبی پہاڑی چوٹیوں پر برف جمنے لگی ہے اور ہوا میں ایک نئی تیزی محسوس کی جا سکتی ہے۔

سردیاں جلد ہی آ پہنچیں گی اور فاطمہ اور اُن کے خاندان جیسے لوگوں کی بڑی تعداد بربادی کے دہانے پر ہوگی۔
سورس
افغانی نمک حرام پاکستانیوں سے شدید نفرت کرتے ہیں ، روس نے 16 لاکھ افغانی مارے ، امریکہ نے 11 لاکھ افغانی مارے ، پاکستان نے 40 لاکھ افغانیوں کو پناہ دی لیکن آج بھی یہ نمک حرامی پاکستان سے ہی کرتے ہیں
 

atensari

President (40k+ posts)
جمہوری سامراج نے اس کے اہداف حاصل کرنے کے لئے گزشتہ بیس سال کے دوران افغانستان میں کھربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری. اس سرمایہ کاری کے ثمرات سامنے آ رہے ہیں
 
Sponsored Link