اس کی کہانی جان کر ہر پاکستانی کا سر شرم سے جھک جائے گا

satifhasan

Senator (1k+ posts)
ISLAM MAY JO SAKHAT SAZAIN HAIN WOH ISLIYA HAIN, IBRAT K LIYA HAIN
BUT LOG IN KO BURA SUMJHTAY HAIN , SO CALLED HUMAN RIGHTS WALAY, HUMARAY LIBRALS, PURA WEST , SUB KO AGG LAGTI HAI AGAR IN PUNISHMENTS PA BAT KARO TU.
 

Sohail Shuja

Chief Minister (5k+ posts)
بہت افسوس ناک واقعہ اللہ تعالیٰ ان تمام لوگوں کو عبرت کا نشان بنائے تاکہ دوبارہ کسی ماں بہن کے ساتھ ایسا معاملہ نہ پیش آئے
اس واقع کی اصل سزا اس علاقے کی پولیس کو دینی چاہیئے۔ ڈی ایس پی سمیت تمام اہلکاروں کو چوک میں ننگا کر کے انکی چھتّر پریڈ کی جائے اور اسکی ویڈیوز تمام سرکاری میڈیا اور سوشل میڈیا پر چلانی چاہیئں۔

ساڑھے چھ بجے سے لے کر نو بجے تک، اڑھائی گھنٹے وہاں یہ کاروائی ہوتی رہی، پولیس کہاں مگن تھی؟

چودہ اگست جیسے دن، ایسے کسی پبلک مقام پر سیکیورٹی کا انتظام تو ویسے بھی ہونا چاہیئے تھا۔

اب ایسے کیسز میں صرف مجرموں کو ہی نہیں، پولیس کو بھی اسکی نا اہلی پر جوتے لگانے چاہیئں۔ صرف معطّل کردینے اور بعد میں رشوت دے کر چار مہینے بعد بحال ہوجانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انکی ننگی گاف پر انھی کے چھتر برسانے چاہیں اور انھیں قوم کے سامنے مثال بنانا چاہیئے۔ تاکہ آئندہ جو بھی پولیس فورس جوائن کرے تو اسے معلوم ہو کہ یہاں بیٹھ کر صرف رشوت نہیں لینی، بلکہ ذمّہ داری سے کام بھی کرنا ہے ورنہ چھتر کھانے پڑیں گے۔
 

socrates khan

Councller (250+ posts)
ٹک ٹاک اور اس جیسی دوسری لغو اپلیکیشنز نے ہماری ویہلی اور فرسٹریٹڈ نوجوان نسل کا بیڑا غرق کرکے رکھ دیا ہے۔۔ ایک بے حسی کا ہجوم ہے جو اپنے ٹھرکیانہ نشے میں تقدیس مشرق کی واٹ لگا رہا ہے۔۔۔

یہ بی بی جو ابھی ڈوپٹہ پہن کر ٹسوے بہا رہی ہے اسے کس نارووالی ارسطو نے کہا تھا کہ تم ننھی منی سی فلاحی ریاست کے ان گائیڈڈ منچلوں کو دانہ ڈالنے کیلئے پبلک پارک میں ٹک ٹاک شوٹنگ کرنے چلی جاؤ۔۔۔
 

akinternational

Minister (2k+ posts)
jab tak sharia qanun nafiz aur uss per sakhti amal nahin hoga... jaraim ki rok tham mumkin nahin... 99% crimes ba asar logon aur idaron ki sarparasti men hote hain aur agar koi giraftar bhi ho jai to use badmashia bacha leti hai ya wo jail men ayyashi karta hai..
 

Visionartist

Senator (1k+ posts)
yeh donon na to police meyn heyn aor nahi in key pas koyi ikhtiyar- barhak kis cheez ki nar rahey heyn- hath meyn speaker pakarh ker fotosession ker rahey heyn kiya?
 

Phoebusrex

MPA (400+ posts)
Nothing can be more shameful than this. Are we Muslims, really? The filth of mind has no boundaries and this is what exactly in the mind of our people.

Sorry Ayesha, we are just inhuman..
 

Sohail Shuja

Chief Minister (5k+ posts)
ٹک ٹاک اور اس جیسی دوسری لغو اپلیکیشنز نے ہماری ویہلی اور فرسٹریٹڈ نوجوان نسل کا بیڑا غرق کرکے رکھ دیا ہے۔۔ ایک بے حسی کا ہجوم ہے جو اپنے ٹھرکیانہ نشے میں تقدیس مشرق کی واٹ لگا رہا ہے۔۔۔

یہ بی بی جو ابھی ڈوپٹہ پہن کر ٹسوے بہا رہی ہے اسے کس نارووالی ارسطو نے کہا تھا کہ تم ننھی منی سی فلاحی ریاست کے ان گائیڈڈ منچلوں کو دانہ ڈالنے کیلئے پبلک پارک میں ٹک ٹاک شوٹنگ کرنے چلی جاؤ۔۔۔
تقدیسِ مشرق دیکھنی ہو تو کسی فی سبیل اللہ لگے واٹر کولر کے ساتھ زنجیر سے بندھے گلاس کو دیکھ لیجیئے۔

نہیں تو مسجد کے نمازیوں سے پوچھیئے کہ اپنی جوتیاں کیوں سنبھالتے پھرتے ہیں؟

نہیں تو کبھی اگر اتفاق ہو تو سڑک پر ہونے والے کسی ایسے حادثے کو دیکھیئے جہاں جانی نقصان ہوچکا ہو۔ اللہ کے کرم سے ہم لوگ سب سے پہلے لاشوں کی جیبیں ٹٹولیں گے، پھر گھڑی، موبائل اور زیور کی باری آتی ہے۔

ویسے اگر ایسی تمام حرکات میں غلطی عورت کی ہی ہوتی ہے تو میں سمجھنے سے قاصر ہی رہونگا کہ پھر اسلام زنا بالجبر کو کسی قسم کا جرم ہی کیوں تصوّر کرتا ہے؟

لڑکی کی غلطی ہے کہ کسی پرہجوم جگہہ پر کیوں گئی؟
یا لڑکی کی غلطی ہے کہ ایسی قوم کے پر ہجوم مجمع میں کیوں گئی؟


 
Last edited:

Islamabadi1

Senator (1k+ posts)
We knw who these people are....they are not doctors or lawyers...they are the chowkidaars....the laborers....the rickshaw drivers....the theylay walas....
 

Munawarkhan

Chief Minister (5k+ posts)
Teray jaisa hi loog wahan thay, jo saray din totay dekthay hain aur koi aurat nazar ajayee tu pagal hojatay hain.

Kya Pakistan sırf beghairat mardoon ka hai?
ab kay koi aurat 14 August ko bahar nikalnay ka soochay gi?

Tik Tok say loog kharab nahi hotay, tarbiat sahi nahi ho to aisay hi darinday paida hotay hain.



ٹک ٹاک اور اس جیسی دوسری لغو اپلیکیشنز نے ہماری ویہلی اور فرسٹریٹڈ نوجوان نسل کا بیڑا غرق کرکے رکھ دیا ہے۔۔ ایک بے حسی کا ہجوم ہے جو اپنے ٹھرکیانہ نشے میں تقدیس مشرق کی واٹ لگا رہا ہے۔۔۔

یہ بی بی جو ابھی ڈوپٹہ پہن کر ٹسوے بہا رہی ہے اسے کس نارووالی ارسطو نے کہا تھا کہ تم ننھی منی سی فلاحی ریاست کے ان گائیڈڈ منچلوں کو دانہ ڈالنے کیلئے پبلک پارک میں ٹک ٹاک شوٹنگ کرنے چلی جاؤ۔۔۔
 

socrates khan

Councller (250+ posts)
تقدیسِ مشرق دیکھنی ہو تو کسی فی سبیل اللہ لگے واٹر کولر کے ساتھ زنجیر سے بندھے گلاس کو دیکھ لیجیئے۔

نہیں تو مسجد کے نمازیوں سے پوچھیئے کہ اپنی جوتیاں کیوں سنبھالتے پھرتے ہیں؟

نہیں تو کبھی اگر اتفاق ہو تو سڑک پر ہونے والے کسی ایسے حادثے کو دیکھیئے جہاں جانی نقصان ہوچکا ہو۔ اللہ کے کرم سے ہم لوگ سب سے پہلے لاشوں کی جیبیں ٹٹولیں گے، پھر گھڑی، موبائل اور زیور کی باری آتی ہے۔

ویسے اگر ایسی تمام حرکات میں غلطی عورت کی ہی ہوتی ہے تو میں سمجھنے سے قاصر ہی رہونگا کہ پھر اسلام زنا بالجبر کو کسی قسم کا جرم ہی کیوں تصوّر کرتا ہے؟

لڑکی کی غلطی ہے کہ کسی پرہجوم جگہہ پر کیوں گئی؟
یا لڑکی کی غلطی ہے کہ ایسی قوم کے پر ہجوم مجمع میں کیوں گئی؟




سر جی! اگراس واقعہ کے پس منظر کی حد تک بات کریں تو اور آپ ہمارے معاشرے کی طبقاتی، سماجی اور مختلف العمری کا
باریک بینی سے مشاہدہ کریں تو کچھ حقیقتیں بالکل واضع نظر آنے لگتی ہیں۔۔خصوصا نوجوان نسل کی سوچوں میں پلنے والے انتشار اور جنسی عزائم کے خلفشار کا سارا کچا چٹھا انکےموبائل فونز میں چھپا ہوا ملے گا۔۔۔ ٹک ٹاک سٹارزکی بھڑکیلی کھال، وی لاگرز کی چمکیلی چال،باہمی کیمونیکیشن کیلئے سستی کال، اور اپنی جوانی کے لشکارے دکھاکر شہرت و مال کمانے کی آس نےاس قوم کے سہانے مستقبل کو دھیمک زدہ بنا دیا ہے

اب اگر طبقاتی تقسیم کا تنقیدی جائزہ لیں تو۔۔ایک اشرافیہ کا خرانٹ طبقہ ہے جس نے عمومی طور پر آہستہ آہستہ ڈیٹنگ، لِیو اِن ریلیشن شِپ اور باہمی چُما چاٹی کیلئے کمپرومائزڈ حصار بنا کر اپنی پریم کہانیوں کو قابل قبول بنا لیا ہے( نور مقدم اور جعفرکے باہمی تعلقات)۔۔۔

اس کے بعد مڈل کلاسیئے ہیں جن کے سپنوں میں کبھی حلیمہ خاتون کی شرم وحیا کے جلوے نظر آئیں گے اور کبھی مئیا خلیفہ کے ہوشربا بلوے نظر آئیں گے۔۔لیکن یہ طبقہ بیچارہ اپنا جذباتی سئیم برقرار رکھتے ہوئے جلتا کُڑھتا ہوا زندگی کو دھکا دئیے جا رہا ہے۔۔۔اس تھریڈ پر بھی زیادہ تراسی طبقے کی نمائندگی کرنے والے مجبورمسکینوں کے ججباتی اظہار ملیں گے۔۔

اب آپ آتے ہیں کثیر النفوس طبقے کی طرف۔۔ یعنی لوئر مڈل کلاس اور غریب طبقہ جن کی جوانی فرسٹریشن، غصے اور بدحالی کے وبال کی جکڑن سےبندھی ہوئی ہے اور یہی لوگ عموما وحشی ہجوم بن کر ہر اخلاقی تقاضے سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔۔۔اوراپنے نفس اور شہوت کو انسانی زنجیروں سے آزاد کرکے وقتی طور پر حیوان بن جاتے ہیں۔

ایک حکمران ہیں جو انتظامی بدحالی سے بے نیاز اپنےعشرت کدوں میں چرس کے سُوٹے لگا کر تمثیلی ٹائیگرز بنے بیٹھے ہیں۔۔ کسی بریکنگ نیوز یا سوشل میڈیا پر چلنے والے چپت سے جُزوی بیداری ہوتی ہے اور پھر نیرو کی بانسری بجاتے ہوئے سو جاتے ہیں۔۔۔
یہ حکومتی نظام اور معاشرتی کارِحیات ۔۔ ایک انقلابی سرجری کے بغیر اخلاقی و رفاحی پٹڑی پر نہیں چڑھ پائے گا۔۔۔بے حسی اوربد حالی اتنی بڑھ چکی ہے کہ کسی شرعی، سیاسی، اور واعظی بھاشن سے اس ناسور کا علاج ممکن نہیں۔۔
 
Sponsored Link