آرمی چیف کی مدت میں توسیع کاقانون درست نہیں،حکومت میں آکرختم کردیں گے،عباسی

15cheifmudatabbasi.jpg

پاکستان میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا معاملہ ایک بار پھر موضوعِ بحث بنا ہوا ہے، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ فوج کی عزت کی خاطر توسیع کا قانون پاس کرایا۔

تفصیلات کے مطابق نجی نیوز چینل کے پروگرام '7 سے 8' میں بات کرتے ہوئے کہا کہ فوج کی عزت کی خاطر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا قانون پاس کرایا گیا، توسیع سے متعلق قانون میں تبدیلی درست نہیں۔

پروگرام کی اینکر نے سوال کیا کہ اگر ن لیگ اقتدار میں آئے گی تو کیا ن لیگ بھی یہ قانون واپس کروائے گی تو انہوں نے مزید کہا کہ یہ قانون واپس ہوگا، ناصرف ہم واپس لیں گے بلکہ فوج بھی واپس کروائے گی۔


شاہد خاقان عباسی کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے پروگرام اینکر کرن ناز کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن میں شاہد خاقان عباسی کا اپنا ایک خاص مقام ہے، اگر وہ ایسی بات کہہ رہے ہیں تو یقیناً ان کو نواز شریف صاحب کی جانب سے کوئی سگنل مل گیا ہے، اس سے قبل بھی کبھی ن لیگ کے دورحکومت میں کبھی آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ پیش نہیں آیا تھا۔

واضح رہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے قانون پر مسلم لیگ ن کی جانب سے بھی حمایت کی گئی تھی تاہم مسلم لیگ ن کی نائب صدر کی جانب سے کہا گیا کہ شکر ہے کہ وہ ایک گناہ کی حصہ دار نہیں بنی۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا معاملہ اس سے قبل 2019 کے آخر میں بھی کئی روز تک موضوع بحث رہا تھا۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے اُن کی ملازمت کی مدت میں تین برس کی توسیع کے سرکای احکامات جاری کیے تو سپریم کورٹ نے اس معاملے پر پہلے قانون سازی کا حکم دیا۔

موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو اپنی تین سالہ مدت مکمل کر کے 2019 میں ریٹائر ہونا تھا البتہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت اور وزیرِ اعظم عمران خان نے ان کی مدتِ ملازمت میں تین سال کی توسیع کا فیصلہ کیا۔ ان کی مدتِ ملازمت میں توسیع رواں سال نومبر میں ختم ہو رہی ہے البتہ پاکستان میں ایک بار پھر اس معاملے پر بحث شروع ہو گئی ہے۔
 
Advertisement

Okara

Prime Minister (20k+ posts)
U can't do anything to a person who is using bad words against you from other side of river or telling lies on your face.
 

arifkarim

Chief Minister (5k+ posts)
Premium Member
پروگرام کی اینکر نے سوال کیا کہ اگر ن لیگ اقتدار میں آئے گی تو کیا ن لیگ بھی یہ قانون واپس کروائے گی تو انہوں نے مزید کہا کہ یہ قانون واپس ہوگا، ناصرف ہم واپس لیں گے بلکہ فوج بھی واپس کروائے گی۔
کنجروں کو بوٹوں کے خواب
 

The Sane

Chief Minister (5k+ posts)
15cheifmudatabbasi.jpg

پاکستان میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا معاملہ ایک بار پھر موضوعِ بحث بنا ہوا ہے، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ فوج کی عزت کی خاطر توسیع کا قانون پاس کرایا۔

تفصیلات کے مطابق نجی نیوز چینل کے پروگرام '7 سے 8' میں بات کرتے ہوئے کہا کہ فوج کی عزت کی خاطر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا قانون پاس کرایا گیا، توسیع سے متعلق قانون میں تبدیلی درست نہیں۔

پروگرام کی اینکر نے سوال کیا کہ اگر ن لیگ اقتدار میں آئے گی تو کیا ن لیگ بھی یہ قانون واپس کروائے گی تو انہوں نے مزید کہا کہ یہ قانون واپس ہوگا، ناصرف ہم واپس لیں گے بلکہ فوج بھی واپس کروائے گی۔


شاہد خاقان عباسی کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے پروگرام اینکر کرن ناز کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن میں شاہد خاقان عباسی کا اپنا ایک خاص مقام ہے، اگر وہ ایسی بات کہہ رہے ہیں تو یقیناً ان کو نواز شریف صاحب کی جانب سے کوئی سگنل مل گیا ہے، اس سے قبل بھی کبھی ن لیگ کے دورحکومت میں کبھی آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ پیش نہیں آیا تھا۔

واضح رہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے قانون پر مسلم لیگ ن کی جانب سے بھی حمایت کی گئی تھی تاہم مسلم لیگ ن کی نائب صدر کی جانب سے کہا گیا کہ شکر ہے کہ وہ ایک گناہ کی حصہ دار نہیں بنی۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا معاملہ اس سے قبل 2019 کے آخر میں بھی کئی روز تک موضوع بحث رہا تھا۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے اُن کی ملازمت کی مدت میں تین برس کی توسیع کے سرکای احکامات جاری کیے تو سپریم کورٹ نے اس معاملے پر پہلے قانون سازی کا حکم دیا۔

موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو اپنی تین سالہ مدت مکمل کر کے 2019 میں ریٹائر ہونا تھا البتہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت اور وزیرِ اعظم عمران خان نے ان کی مدتِ ملازمت میں تین سال کی توسیع کا فیصلہ کیا۔ ان کی مدتِ ملازمت میں توسیع رواں سال نومبر میں ختم ہو رہی ہے البتہ پاکستان میں ایک بار پھر اس معاملے پر بحث شروع ہو گئی ہے۔
تو اس دفعہ ووٹ اپنی ولدیت کی نیلامی کے لیے دیے تھے؟
 

Roast King

MPA (400+ posts)
پروگرام کی اینکر نے سوال کیا کہ اگر ن لیگ اقتدار میں آئے گی تو کیا ن لیگ بھی یہ قانون واپس کروائے گی تو انہوں نے مزید کہا کہ یہ قانون واپس ہوگا، ناصرف ہم واپس لیں گے بلکہ فوج بھی واپس کروائے گی۔
han jese apne nizam e mustafa ka nifaz kya tha bilkul usi trah.
 

Imjutt

Councller (250+ posts)
15cheifmudatabbasi.jpg

پاکستان میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا معاملہ ایک بار پھر موضوعِ بحث بنا ہوا ہے، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ فوج کی عزت کی خاطر توسیع کا قانون پاس کرایا۔

تفصیلات کے مطابق نجی نیوز چینل کے پروگرام '7 سے 8' میں بات کرتے ہوئے کہا کہ فوج کی عزت کی خاطر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا قانون پاس کرایا گیا، توسیع سے متعلق قانون میں تبدیلی درست نہیں۔

پروگرام کی اینکر نے سوال کیا کہ اگر ن لیگ اقتدار میں آئے گی تو کیا ن لیگ بھی یہ قانون واپس کروائے گی تو انہوں نے مزید کہا کہ یہ قانون واپس ہوگا، ناصرف ہم واپس لیں گے بلکہ فوج بھی واپس کروائے گی۔


شاہد خاقان عباسی کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے پروگرام اینکر کرن ناز کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن میں شاہد خاقان عباسی کا اپنا ایک خاص مقام ہے، اگر وہ ایسی بات کہہ رہے ہیں تو یقیناً ان کو نواز شریف صاحب کی جانب سے کوئی سگنل مل گیا ہے، اس سے قبل بھی کبھی ن لیگ کے دورحکومت میں کبھی آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ پیش نہیں آیا تھا۔

واضح رہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے قانون پر مسلم لیگ ن کی جانب سے بھی حمایت کی گئی تھی تاہم مسلم لیگ ن کی نائب صدر کی جانب سے کہا گیا کہ شکر ہے کہ وہ ایک گناہ کی حصہ دار نہیں بنی۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا معاملہ اس سے قبل 2019 کے آخر میں بھی کئی روز تک موضوع بحث رہا تھا۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے اُن کی ملازمت کی مدت میں تین برس کی توسیع کے سرکای احکامات جاری کیے تو سپریم کورٹ نے اس معاملے پر پہلے قانون سازی کا حکم دیا۔

موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو اپنی تین سالہ مدت مکمل کر کے 2019 میں ریٹائر ہونا تھا البتہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت اور وزیرِ اعظم عمران خان نے ان کی مدتِ ملازمت میں تین سال کی توسیع کا فیصلہ کیا۔ ان کی مدتِ ملازمت میں توسیع رواں سال نومبر میں ختم ہو رہی ہے البتہ پاکستان میں ایک بار پھر اس معاملے پر بحث شروع ہو گئی ہے۔
Yeh MOONH aur masoor ki daal... khotey da khur
 
Sponsored Link