خبریں

پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ایم ڈی اے) کیوں ضروری ہے؟ اس پر بات کرنے سے پہلے میں چند واقعات کی طرف آتا ہوں۔ آج سے تقریبا 9 ، 10 سال پہلے جب تحریک انصاف کی اٹھان شروع ہوئی، تب جنگ گروپ کے ایک صحافی احمد نورانی نے ایک خبر دی کہ بیکن ہاؤس سکول جو تحریک انصاف کی سابق رہنما فوزیہ قصوری کی فیملی کا سکول ہے، وہاں ہم جنس پرستی کے موضوع پر ایک سمینار ہورہا ہے۔فوزیہ قصوری نے اس خبر کی تردید کی لیکن احمد نورانی اپنی خبر پر بضد رہے۔ پھر وہ تاریخ آئی جس دن سیمینار ہونا تھا، سیمینار تو نہیں ہوا لیکن یہ خبر فوزیہ قصوری اور تحریک انصاف کیلئے بدنامی کا باعث بنی۔اس خبر کا تحریک انصاف کو نقصان لیکن مسلم لیگ ن کو فائدہ ہوا، ن لیگ نے اس خبر کو خوب اچھالا، یہ خبر جھوٹی ثابت ہوئی لیکن جسے فائدہ ہونا تھا وہ ہوگیا۔ اسی طرح انہی دنوں یہ خبر بھی پھیلائی گئی کہ عمران خان کی کوئی قابل اعتراض لیک ویڈیو آرہی ہے، وہ ویڈیو بھی نہیں آئی، اسی طرح عمران خان کی ذاتی زندگی کو نشانہ بنایا جاتا رہا اور سچی جھوٹی خبریں دی جاتی رہیں جس کا عمران خان اور تحریک انصاف کو نقصان پہنچا۔ کچھ عرصہ پہلے عارف حمید بھٹی نے زلفی بخاری سے متعلق خبردی تھی کہ زلفی بخاری فرار ہوچکا ہے ۔ ابھی پی ڈی ایم کے جلسے شروع نہیں ھوئے اور ای سی ایل میں نام آنے کی وجہ سے زلفی بخاری بھاگ چکا ہے۔ عارف حمید بھٹی نے دعویٰ کرتے ہوئے مزید کہا تھا کہ 2 مشیروں کے بھی جلد ملک چھوڑنے کی اطلاعات ہیں ایک وفاقی وزیر نے اپنی ساری فیملی کو ملک سے باہر بھیج دیا ہےابھی حالات نے صرف کروٹ لی ہے، پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکنا شروع ہو گئی ہے۔ زلفی بخاری جو اس وقت وزیراعظم کے معاون خصوصی تھے، وطن واپس آگئے اور کہا کہ میں فیملی کے ساتھ 10 دن کے وقفے کے بعد واپس اسلام آباد آگیا ہوں ،جس سے چند افراد کو مایوسی ہوئی۔ زلفی بخاری نے مزید کہا کہ اب جو لوگ نیشنل ٹی وی پر بیٹھ کر جعلی خبریں پھیلاتے ہیں کہ میں فرار ہوگیا ہوں ، کیا وہ اپنے صریح جھوٹ کا اعتراف کریں گے یا کیا وہ اپنے آپکو اور اپنے قابل احترام پیشے کو پامال کرتے رہیں گے؟ صرف یہی نہیں میڈیا پر یہ خبریں چلیں کہ اسلام آباد میں اسرائیلی طیارہ لینڈ ہوا ہے، آسیہ بی بی جو اس وقت پاکستان میں ہی تھیں، بی بی سی کے ذریعے خبرچلائی گئی کہ حکومت نے آسیہ بی بی کو بیرون ملک روانہ کردیا ہے حالانکہ آسیہ بی بی اس وقت پاکستان میں ہی تھی۔ اسی طرح کئی من گھڑت خبریں پھیلائی گئیں، کبھی کسی نے یہ پیشنگوئی شروع کردی کہ ڈالر 200 کا ہوجائے گا تو کسی نے حکومت جانے کی خبریں دینا شروع کردیں، کسی نے کہا کہ فوج اور عمران خان کی لڑائی شروع ہوگئی ہے تو کسی نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے متعلق مہم چلائے رکھی۔ حکومت جانے کی خبریں چلانے والے 2018 سے آج تک یہی خبر تھوڑی رودوبدل کیساتھ دے رہےہیں کہ اگلے ماہ، فلاں دن حکومت جارہی ہے، فلاں وزیراعظم ہوگا، عمران خان مائنس ہوجائیں گے لیکن یہ خبر آج تک سچ ثابت نہیں ہوئی۔ایسی خبریں دینے والوں کا مرکزومحور پی ڈی ایم تھا اور ان میں سے بعض صحافی پی ڈی ایم جلسوں میں شریک بھی ہوتے رہے اور مولانا کی حمایت میں پروگرام بھی کرتے رہے۔ ان جعلی خبروں سے حکومت سے زیادہ ملک کو نقصان پہنچا، ملک میں غیریقینی کی صورتحال رہی، کاروباری طبقہ پریشان رہا۔۔ اسرائیلی طیارے یا اسرائیل کو تسلیم کرنے جیسی خبروں نے بھی ملک کو عالمی سطح پر نقصان پہنچایا۔ اب آتے ہیں کہ پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی بل کیوں ضروری ہے؟ یہ 2 وجوہات کی بنیاد پر ضروری ہے۔ پہلی وجہ فیک نیوز اور دوسری وجہ میڈیا ورکرز کا تحفظ کسی زمانے میں پاکستان میں صرف اخبارات تھے، اسکے بعد نجلی چینلز آئے،انفارمیشن کا فلو اتنا زیادہ نہیں تھا لیکن اس وقت پاکستان سمیت دنیا بھر میں انفارمیشن کا فلو بہت زیادہ ہے۔ ایک طرف پاکستان میں اخبارات ہیں تو دوسری طرف 100 سے زائد چینلز جبکہ سوشل میڈیا کا ان سب پر غلبہ ہے ۔ سوشل میڈیا پر جو بھی خبر دی جاتی ہے وہ دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوجاتی ہے۔ چینلز بھی سوشل میڈیا سے متاثر ہیں، سوشل میڈیا پر اگر کوئی خبر آتی ہے تو چینلز وہ خبراٹھالیتے ہیں اور یہ تصدیق بھی نہیں کرتے کہ خبر سچ ہے یا جھوٹ۔ کسی زمانے میں اخبارات کی خبروں کی تصدیق کیلئے ایڈیٹر کے نیچے پوری ٹیم ہوا کرتی تھی ، جو خبر کا قوما، فل سٹاپ تک چیک کرکے خبر آگے بھیجتے تھے، انکی نظر میں صرف قوما یا فل سٹاپ نہ لگانے سے خبر کا سیاق وسباق بدل جاتا ہے اور یہ خبر کے قوما فل سٹاپ کے بارے میں بھی انتہائی حساس تھے۔ پھر پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا آیا، چینلز نے ایسے لوگوں کو رکھا جو اچھا بول لیتے تھے ، چرب زبانی میں ماہر تھے، شخصیت کے لحاظ سے پر کشش تھے، ان میں بعض تو کوالیفائڈ تھے، بعض سفارش کی بنیاد پر اینکر بنے، بعض نئے آنیوالے وقت کیساتھ ساتھ سیکھ گئے، شروع شروع میں جب پاکستان میں صرف جیو نیوز، اے آروائی تھی تھا، صحافت ٹھیک چل رہی تھی لیکن بعد میں دھڑا دھڑ چینل آئے ، کئی علاقائی اور دوسری زبانوں میں بھی چینل آئے ۔ یہ چینل ریٹنگ کی دوڑ میں لگ گئے اور وہ خبریں تک دے گئے جو قومی سلامتی کے خلاف تھیں، جس سے کسی کی ذاتی زندگی یا ذاتی امیج متاثر ہورہا تھا۔ اسکے بعد رہی سہی کسر سوشل میڈیا نے پوری کردی، سوشل میڈیا پر فیک نیوز کے طوفان نے الیکٹرانک میڈیا کو بھی لپیٹ میں لے لیا، الیکٹرانک میڈیا پر کوالیفائڈ صحافیوں کی جگہ رپورٹرز، نیوزکاسٹرز، ڈاکٹڑ اور دوسرے شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے لے لی جو بغیر سوچے سمجھے خبریں شئیر کرتے رہے، اسکے ساتھ میڈیا پر ایسے لوگ بھی گھس آئے جو پاکستان سے لیکر امریکہ ، برطانیہ تک اندر کی خبر ایسے دیتے تھے جیسے یہ وہاں موجود تھے۔ یوٹیوب پر ایسی ویڈیوز شئیر کی جانیں لگیں جن کا تھمب نیل کچھ ہوتا تھا اور اندر کچھ اور ہوتا تھا، ویوز، سبسکرائبر کی دوڑ میں یوٹیوب پر بھی گند مچ گیا۔تھمب نیل میں ایسے الفاظ استعمال کئے جاتے کہ لوگ کلک کرنے پر مجبور ہوجائیں۔ اب آتے ہیں بل کے دوسرے مقصد کی طرف جو میڈیا ورکرز سے متعلق ہے، بہت سے چینلز نے میڈیا ورکرز کو نکالا، رپورٹرز، کیمرہ مین اور دیگر کی کئی کئی ماہ تک کی تنخواہیں روکے رکھیں، میڈیا ورکرز کی نوبت فاقوں، ٹیکسی، رکشہ چلانے، برگرشاپ یا پرچوں کی دکان کھولنے تک آگئی۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ جو میڈیا اینکر کو 20 لاکھ سے زیادہ وقت پر تنخواہ دیتا ہے ، وہ 25 ہزار روپے لینے والے میڈیا ورکرز کی تنخواہ کیوں نہیں دے پاتا؟ یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ میڈیا ڈویلپمنت اتھارٹی بل کے خلاف احتجاج کرنیوالے وہ اینکرز ہیں جو لاکھوں میں تنخواہ لیتے ہیں، میڈیا ورکرز کی بڑی تعداد کیوں حصہ نہیں ؟ یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ احتجاج کرنیوالوں میں زیادہ تر اینکرز وہ ہیں جو ن لیگ کے حامی یا فوج کے مخالف ہیں؟ اسی سے ایجنڈا واضح ہوجاتا ہے۔ فیک نیوز اگر قومی سلامتی سے متعلق ہو تو قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے، اگر معیشت سے متعلق ہے تو معاشی غیریقینی پیدا کرتی ہے، اگر کسی سیاسی جماعت سے متعلق ہو تو ملک کو سیاسی طور پر عدم استحکام کا شکار کرتی ہے۔اگر مذہب سے متعلق ہوتو مذہبی فساد اور فرقہ واریت پیدا کرتی ہے، اگر کسی کی ذاتی زندگی سے متعلق ہو تو اس فیملی کی زندگی تباہ کرتی ہے۔ اسی لئے فیک نیوز کو ہر حال میں روکا جانا ضروری ہے ، میڈیا ورکرز کی جاب سیکیورٹی ہونی چاہئے اور اسکے لئے پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی بل انتہائی ضروری ہے
اداکار عثمان خالد نے خواتین کے لباس سے متعلق مشہور سائنسدان اور پروفیسر پرویز ہود بھائی کے بیان پر تنقید کردی ہے۔تفصیلات کے مطابق 2 روز قبل نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر پرویز ہود بھائی نے خواتین کے معاشرے میں کردار کو ان کے لباس سے جوڑتے ہوئے کہا کہ میں قائداعظم یونیورسٹی میں پڑھارہا ہے، 1973 میں اس یونیورسٹی میں ایک لڑکی بھی عبایا یا حجاب میں نظر نہیں آتی تھی ۔ انہوں نے کہا مگر آج یونیورسٹی میں پردہ عام ہوگیا ہے ہر لڑکی عبایا اور حجاب میں نظر آتی ہے، یونیورسٹی میں شاذوناذر ہی کوئی نارمل لڑکی نظر آتی ہے۔پروفیسر پرویز ہود بھائی نے کہا کہ حجاب اور پردے میں لپٹی لڑکی کی کلاس میں شمولیت نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے، پہلے لڑکیاں کبھی کبھار کلاس میں سوال کرتی تھیں تو خوشی ہوتی تھی مگر آج کی لڑکی ایک پروفیشنل بن ہی نہیں سکتی جب اسے یہ یقین ہے کہ اس نے زندگی میں صرف شوہر کیلئے گھر سنبھالنا ہے۔ پروفیسر پرویز ہود بھائی کے اس تبصرے پر ردعمل دیتے ہوئے مشہور اداکار عثمان خالد بٹ نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ چاہے آپ کی سیاسی طور پر دائیں بازو سے وابستہ ہیں یا بائیں سے، چاہے آپ آزاد خیال ہیں یا تنگ نظر سوچ رکھنے والے انسان، خدارا ایک خاتون کے لباس سے انتخاب پر تبصرے کرنا بند کردیں۔ انہوں نے اپنی دوسری ٹویٹ میں کہا کہ میں نے جو کچھ بھی کہا ہے وہ براہ راست پرویز ہود بھائی کے حجاب کے بارے میں تمسخرانہ بیان سے متعلق ہے۔
لاہور میں غریب مزدرو کیلئے تنخواہ مانگنا جرم ہوگیا، ملازم کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا،نشتر کالونی میں ملازم اسحاق کارخانے کے مالک یاسین سے تنخواہ مانگنے گیا تو مالک نے ظلم کی انتہا کردی، ملازم کو اس کا حق دینے کے بجائے غریب مزدور پر تیزاب پھینک دیا،جس سے پچپن سالہ مزدور جھلس گیا،مزدور کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس نے تڑہپ تڑپ کر جان دے دی۔ پچپن سالہ اسحاق نشتر کالونی کےکارخانے میں ملازم تھا،اس واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، جبکہ ملزمان کی گرفتاری کیلئے پولسی چھاپے مار رہی ہے، بستی خیر دین نور شاہ روڈ کے اسحاق نے کارخانے کے مالک یاسین سے تنخواہ مانگی تو یاسین نے صبح تک انتظارکرنے کا کہا تھا۔ غریب اسحاق نے صبر کرکے صبح تک انتظار کیا لیکن نہیں جانتا تھا کہ صبح اسکی موت کا سامان کیا جا رہا ہے، اسحاق تنخواہ کے حصول کیلئے کارخانے میں ہی سو گیا اور سوتے ہوئے ملازم پر مالک یاسین نے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر تیزاب پھینک دیا، تیزاب سے اسحاق کا چہرہ اور جسم بری طرح جھلس گیا تھا۔
بالی ووڈ اداکارہ شلپا سیٹھی نے فحش فلموں کے کیس میں شوہر کی گرفتاری کے بعد ان کے مخالف بیان بھی دیدیا اور کہا مجھے اندازہ بھی نہیں تھا میرے شوہر ایسے کاموں میں ملوث ہوں گے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق راج کندرا کی گرفتاری کے بعد پولیس نے جب ان کی مصروفیات کے حوالے سے جب شلپا سیٹھی سے سوالات کیے تو انہوں نے جواب دیا کہ میں اپنے کام میں اتنی مصروف ہوتی ہوں کہ میرے پاس بالکل وقت نہیں ہوتا، انہوں نے کہا کہ میں نہیں جانتی تھی کہ راج کیا کررہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اپنے شوہر کے جرائم کے حوالے سے شلپا سیٹھی نے 14سو صفحات پر مشتمل اپنا بیان پولیس کو ریکارڈ کروایا ہے اور اپنے شوہر کی تمام مصروفیات سے لاتعلقی اور لاعلمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ڈارک ویب سائٹس کے کاروبار، ان سے ہونے والی آمدنی اور دیگر معاملات کے بارے میں مجھے بالکل علم نہیں ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس نے دعویٰ کیا ہے کہ اداکارہ اپنے شوہر کے خلاف اس کیس کے بعد شدید ذہنی و مالی مسائل کا شکار ہوچکی ہیں جن سے چھٹکارا پانے کیلئے وہ اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کرنے پر غور کررہی ہیں۔ واضح رہے کہ شلپا سیٹھی کے شوہر راج کندرا کو فحش فلموں کے نیٹ ورک سے منسلک ہونے کے الزام میں پولیس نے گرفتار کررکھا ہے اور ان کے خلاف کیس عدالت میں زیر سماعت ہے۔
کینیڈا میں مہنگائی کا طوفان آگیا، مہنگائی کی شرح 18 سال کی بلند ترین سطح کو چھو گئی ہے،شماریات کینیڈا نے ماہ اگست کے اعداد و شمار جاری کردیئے،جس کے تحت دوہزار تین کے بعد کینیڈا کی سالانہ افراط زر کی شرح 18 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جس کے باعث ملک میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کا بھی امکان ہے،اعداد و شمار کے مطابق افراد زر کی سالانہ شرح چار اعشاریہ ایک فیصد رہی،گیسولین کی قیمتوں بتیس فیصد،سفری تخمینے میں انیس فیصد، گوشت کی قیمتوں میں چھ فیصد اضافہ ہوا، رہائش کے تخمینے میں چودہ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جولائی میں افراط زر کی سالانہ شرح3.7 فیصد ہوگئی تھی جو مئی 2011 کے بعد سب سے بڑا اضافہ تھا، جون میں 3.1 فیصد اضافے کے مقابلے میں صارفین کی قیمتوں کے انڈیکس میں سالانہ 3.7 فیصد اضافہ ہوا تھا،جولائی 2020 کے مقابلے میں گیسولین کی قیمتوں میں 30.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا،جولائی میں اشیا کی قیمتوں میں پانچ فیصد اضافہ ہوا تھا۔ کینیڈا میں افراط زر کی شرح مئی میں بڑھ کر 3.6 فیصد ہوگئی تھی جو ایک دہائی میں اب تک کی بلند ترین شرح تھی،رہائش اور گاڑیوں سے لے کر خوراک ہو یا روزمرہ کی بنیادی اشیاء سب کچھ مہنگا تھا،مئی 2021تک رہائش کی لاگت میں 4.2 فیصد اضافہ ہوا جو 2008 کے بعد سے بلند ترین تھی، فرنیچر اور گھریلوآلات کی لاگت 4.4 تک بڑھ گئی تھی جو 1989 کے بعد اضافے کی تیز ترین رفتار تھی۔ دوسری جانب کینیڈا میں انتخابات کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں،گزشتہ ماہ کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نےحکومت میں اکژیت حاصل کرنے کیلئے ملک میں قبل ازوقت الیکشن کروانے کا اعلان کیا تھا،کینیڈا میں الیکشن دو سال بعد ہونے تھے لیکن اب بیس ستمبر کو پارلیمانی انتخاب کا میدان سجے گا۔ جسٹن ٹروڈو کی لبرل پارٹی نے 2015 میں اکثریت حاصل کی تھی لیکن 2019 میں انہوں نے 157 نشستیں جیت کر اتحادی حکومت بنائی تھی،اور اب قبل از وقت انتخابات سے اکثریت حاصل کرنے کی امید رکھ رہے ہیں،لیکن اس بڑھتی مہنگائی سے کہیں صورتحال پھر سے نہ بدل جائے۔
وزیرِ اعظم عمران خان دو روزہ دورے پر دوشنبے تاجکستان پہنچ گئے ہیں ، وزیرِ اعظم تاجکستان قاھر رسول زادہ نے وزیرِ اعظم عمران خان کا استقبال کیا۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر بحری امور علی زیدی ، وزیر اطلاعات فواد چوہدری، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد اور مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف بھی وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ ہیں۔ وزیرِ اعظم عمران خان دوشنبے میں پاکستان تاجکستان بزنس فورم میں شریک ہونگے. بزنس فورم پاکستان اور تاجکستان میں تجارت بڑھانے کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے۔ فورم وزارت تجارت، سرمایہ کاری بورڈ اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے تعاون سے منقعدہ کیا جارہا ہے، فورم میں 67 پاکستانی جبکہ 150 تاجک کمپنیاں شریک ہو رہی ہیں۔ فورم میں شریک کمپنیوں کا تعلق ٹیکسٹائل، چمڑے کی صنعت، فارماسوٹیکل، ایگریکلچر، مائننگ، ٹورازم، لاجسٹکس کے شعبے سے ہے۔ وزیرِ اعظم اس موقع پر خطاب بھی کریں گے، پاکستان ٹیلی ویژن نشر کرے گا۔
نادرا (نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی) نے آئی ووٹنگ کے لیے الیکشن کمیشن کے ساتھ 2.4 ارب روپے کے معاہدے کی خواہش کا اظہار کر دیا۔ نادرا کی جانب سے الیکشن کمیشن کو لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ آئی ووٹنگ کے لیے 2.4 ارب روپے کا نیا معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ نادرا نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن آئی ووٹنگ سے متعلق نادرا کے مجوزہ نظام پر مثبت پیشرفت کرے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے چیئرمین نادرا کو لکھے گئے جوابی خط میں کہا گیا کہ نادرا پہلے بتائے اس نے آئی ووٹنگ کا سابق منصوبہ کیوں چھوڑا؟ آئی ووٹنگ کے سابق منصوبے پر 6 کروڑ 65 لاکھ روپے خرچ ہو چکے تھے۔ الیکشن کمیشن نے نادرا کے خط پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر چھوڑے گئے نظام میں کوئی خامیاں تھیں تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ الیکشن کمیشن نے مزید کہا ہے کہ خط کے متن سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ نادرا الیکشن کمیشن کو حکم دے رہا ہے۔ نادرا کے خط میں اختیار کئے گئے لہجے کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایسا تاثر دیا گیا کہ الیکشن کمیشن نادرا کا ماتحت ادارہ ہے۔ انتخابات کے انعقاد کیلئے کسی نئے طریقہ کار پر عملدرآمد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔
ایڈیشنل سیشن کورٹ اسلام آباد کے سیکٹر ای الیون میں لڑکے اور لڑکی پر تشدد کیس کے ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کیلئے تاریخ مقرر کر دی۔ عثمان مرزا سمیت 5 ملزمان کو ایڈیشنل سیشن کورٹ اسلام آباد میں پیش کیا گیا۔ ملزمان میں چالان کی نقول تقسیم کی گئیں، مرکزی ملزم عثمان مرزا سمیت7 ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے 28 ستمبر کی تاریخ رکھی گئی ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے تھانہ گولڑہ میں ملزمان کے خلاف تشدد اورغیر اخلاقی ویڈیو بنانے کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج ہے جس میں اسلام آباد پولیس کے سب انسپکٹر مدعی ہیں۔ ایف آئی آر کے مطابق واقع ای الیون ٹو اپارٹمنٹس میں پیش آیا تھا۔ پولیس حکام کے مطابق متاثرہ لڑکا اور لڑکی گھر میں موجود تھے کہ اسی دوران مرکزی ملزم اپنے دوستوں سمیت وہاں پہنچ گیا۔ ملزم عثمان مرزا نے دونوں کو اسلحے کے زور پر حبس بے جا میں رکھا جب کہ لڑکی کی غیر اخلاقی ویڈیو بھی بنائی۔ پولیس نے بتایا ہے کہ مرکزی ملزم عثمان پیسوں کے لیے لڑکے اور لڑکی کو بلیک میل کر رہا تھا۔ ملزم دونوں کو بلیک میل کر کے کئی لاکھ روپے بٹور چکا تھا۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ ملزمان نے لڑکی کو برہنہ کر کے اڑھائی گھنٹے کی ویڈیو بنائی اور زیادتی کرانے کی کوشش کی گئی۔ 375 اے سمیت دیگر نئی دفعات شامل کی گئیں ہیں۔ یہ ویڈیو 6 جولائی کو وائرل ہوئی جبکہ ویڈیو گزشتہ سال بنائی گئی تھی۔
افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد سب سے پہلے ملک چھوڑ کر فرار ہونے والے بھارت نے اب اسی افغانستان سے غیر ملکی انخلا سے متعلق ایک افسانوی فلم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فلم پروڈیوسر اجے کپور اور اداکار و ہدایات کار سبھاش کالے نے "گارود" نامی ایک فلم بنارہے ہیں جس کی کہانی افغانستان سے حالیہ غیر ملکی انخلا کے دوران پیدا ہونے والی صورتحال پر مبنی ہوگی، تاہم یہ ایک افسانوی فلم ہوگی جس میں پیش کیے جانے والے حالات و واقعات کا کسی طرح بھی حقیقت سے کوئی واسطہ یقینا نہیں ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق اس فلم میں مرکزی کردار مشہور بھارتی ایکشن ہیرو جان ابراہم ادا کریں گے، فلم مشترکہ طور پر اجے کپور اور وکرانت سٹوڈیوز کی جانب سے مشترکہ طور پر پروڈیوس کی جائے گی، میڈیا رپورٹس کے مطابق فلم کی کہانی نیدھی سنگھ دھرما نے لکھی ہے، فلم کی بقیہ کاسٹ اور دیگر پروڈکشن ٹیم کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آسکیں ہیں۔ فلم کا ٹائٹل "دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن" ہے ، فلم کے پروڈیوسر نے کہانی سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ گارود کمانڈو فورس کے ایک آرمی آفیسر کی کہانی ہے جو حقیقی واقعات پر مبنی ہوگی۔ فلم کا ایک موشن پوسٹر بھی جاری کیا گیا ہے جس میں ایک ایئرپورٹ، فورس کی کچھ گاڑیاں اور ایک مسافر طیارے کی اڑان کے مناظر دکھائے گئے ہیں، موشن پوسٹر کے بیک گراؤنڈ میں " میرا بھارت ہے مہان" گانا شامل کیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے اعلان کے بعد ہی سب سے پہلے جس ملک نے اپنے سفارت خانوں کو بند کرکے اپنے لوگوں کو نکالنا شروع کیا وہ بھارت ہی تھا، بھارتی فلم انڈسٹری کی جانب سے افغانستان کی صورتحال پر مبنی اس فلم میں کسی بھی طرح حقیقی مناظر پیش کیے جانے کی امید نہیں کی جاسکتی، یہ ایک افسانوی کہانی ہوگی جس میں انڈین ایئر فورس کے فرضی کارنامے شامل کیے جائیں گے جیسا کے ماضی میں بالی ووڈ فلم"بھج: پرائیڈ آف انڈیا" میں کیا گیا تھا۔
ڈی پی او چکوال کے حکم پر رات کو بھی تھانے میں ڈیوٹی کرتی خاتون پولیس اہلکار کو دیکھ کر آئی جی پنجاب حیران رہ گئے، انکوائری کا حکم دیدیا۔ خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب رات کے وقت اسلام آبا د سے واپس لاہور آرہے تھے کہ راستے میں انہوں نے اچانک کلر کہار پولیس اسٹیشن کا دورہ کیااور تھانے میں رات کے اس وقت میں ایک خاتون پولیس اہلکار کو ڈیوٹی کرتا دیکھ کر حیران رہ گئے۔ رپورٹ کے مطابق آئی جی پنجاب نے خاتون کو دیکھ کر پوچھا آپ اس وقت یہاں کیا کررہی ہیں؟ کیا آپ کوئی سائلہ ہیں؟ جس پر جواب دیتے ہوئے خاتون پولیس اہلکار نے بتایا کہ اسے ڈی پی او چکوال کی جانب سے بطورسزا 24 گھنٹے ڈیوٹی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ خاتون پولیس اہلکار نے بتایا کہ ڈی پی او چکوال کے بچوں کو سنبھالنے سے انکار کیا تھا جس پر ناراض ہوکر ڈی پی او نے پولیس لائن سے ٹرانسفر کرکے خاتون اہلکار کی ڈیوٹی تھانے میں لگادی۔ آئی جی پنجاب نے خاتون اہلکار کا موقف جاننے کے بعد واقعے پر ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے اہلکار کو دوبارہ پولیس لائن منتقل ہونے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔
قومی اسمبلی کی ذیلی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اہم اجلاس میں فیک نیوز کی قانونی تشریح کے حوالے سے وضاحت طلب کرلی ہے۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کی رہنما مریم اورنگزیب کی زیرصدارت قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی برائےاطلاعات کا اجلاس ہوا، اجلاس میں کمیٹی ممبر کنول شوذب، نفیسہ شاہ، وزیر مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب شریک ہوئے۔ میں پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے)، کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) اور ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹر اور نیوز ڈائریکٹرز (ایمنڈ) کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی بل زیر بحث آیا، میڈیا تنظیموں کے نمائندوں نے موقف اختیار کیا کہ کیا حکومت کے خلاف بات کرنا فیک نیوز کہلاتا ہے، اداروں کو جعلی خبر کی صحیح تعریف بتائی جائے۔ پی بی اے نے بھی پی ایم ڈی اے سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کیا، پی بی اے نے کہا کہ جب حکومت خود کہے کہ پرنٹ میڈیا مرچکا ہے، الیکٹرانک میڈیا 5 سال میں بند ہو جائے گا، اشتہارات سوشل میڈیا کودیں گے تو اس کی نیت پر شک کیسے نہ ہو، 28مئی کو حکومت کو خط لکھ کر اتھارٹی کے قانون کا مسودہ مانگا تھا آج تک کوئی جواب سامنے نہیں آیا، ہم نےکہا تھا کہ انٹرنیشنل ڈیجٹل میڈیا کو ٹیکس نیٹ میں لائیں،میڈیا کے حوالے سے جو قوانین موجود ہیں ان کو مضبوط کریں۔ ایمنڈ کے نمائندوں کا کمیٹی اجلاس میں کہنا تھا کہ میڈیاکےحوالے سے قوانین پہلے سے موجود ہیں ان میں کمی تھی تو ترمیم کی جاسکتی تھی، نئی ریگولیٹری اتھارٹی قانون کی ضرورت نہیں۔ نمائندوں کا مزید کہنا تھا کہ شاید حکومت خود اس بل پر کنفیوژ ہے، پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی بنانے میں اتنی عجلت کی وجہ کیا ہو سکتی ہے، پی ایم ڈی اے کو کسی صورت نہیں مانیں گے۔ اجلاس کے دوران ذیلی کمیٹی نے 21 ستمبر تک تمام شراکت داروں سے اس بل کے حوالے سے تحریری تجاویز طلب کر لیں۔ علاوہ ازیں ذیلی کمیٹی نے وزارت اطلاعات سے ایک ہفتے میں فیک نیوز کی قانونی تعریف بھی طلب کرلی۔ ذیلی کمیٹی کی چیئر پرسن مریم اورنگزیب نے میڈیا ورکرز کے تحفظ کا مجوزہ قانون جلد پارلیمنٹ سے منظور کرانے کی ہدایت کی۔ ذیلی کمیٹی آئندہ اجلاس میں متعلقہ ساتوں ریگولیٹری اتھارٹیز کے ملازمین کا مؤقف بھی سنے کی، اجلاس آئندہ ہفتے ہوگا۔
پنجاب کے ضلع راجن پور کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے ایک مالی کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر الوادع کرنے کا انوکھا اور دلچسپ طریقہ دیکھنے میں آیا۔ تفصیلات کے مطابق عدالت میں کئی دہائیوں تک مالی کے فرائض سرانجام دینے والے ملازم کی ریٹائرمنٹ کا دن آیا تو اسے شایان شان طریقے سے الوداع کیا گیا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر خبر رساں ادارے العربیہ نیوز نے ایک ویڈیو شیئر کی جس سے متعلق کہا گیا ہے کہ یہ سیشن کورٹ راجن پور کی ہے۔ جہاں معمر مالی کی ریٹائرمنٹ پر اسے سیشن جج نے اپنے پروٹول میں عدالت سے روانہ کیا۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ضلعی عدالت کے اعلیٰ ترین سیشن جج بذات خود قافلے کے ہمراہ تشریف لاتے ہیں۔ ریٹائر ہونے والے یہ بزرگ مالی بھی ان کے ہمراہ ہیں۔ سیشن جج اپنی گاڑی کا دروازہ کھول کر مالی کو اس کے اندر بٹھاتے ہیں اور عدالت سے رخصت کرتے ہیں۔ ویڈیو میں پولیس موبائل کو سیشن جج کی گاڑی جس میں اس روز مالی موجود ہے اس کے آگے آگے چلتے دیکھا جا سکتا ہے۔
انسٹاگرام کی پیرنٹ کمپنی فیس بک نے اعتراف کیا ہے کہ ان کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام لڑکیوں میں منفتی اثرات مرتب کر رہا ہے۔ حتیٰ کہ چھوٹی عمر کی لڑکیاں اس سے نفسیاتی مریض بن رہی ہیں۔ امریکی اخبار نے کہا ہے کہ فیس بک کے ماہرین 2012 میں خریدے جانے والے اس پلیٹ فارم پر گزشتہ 3 برس سے تحقیق کر رہے ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اس رپورٹ کا خلاصہ نوعمر اور کمسن لڑکیوں پر انسٹاگرام کے "زہریلے اثرات" تھا۔ کیونکہ اس میں جسمانی خدوخال اور چہرے پر زور دیا جاتا ہے۔ انسٹاگرام نے کہا ہے کہ وہ اس رحجان کو کم کرنے اور صارفین کے ظاہری، جسمانی کیفیات پر متوجہ ہونے کے رویے کی حوصلہ شکنی کرے گا۔ یہ پلیٹ فارم باڈی امیج اور ظاہری شباہت پر زور دیتے ہوئے لڑکیوں کو دماغی و نفسیاتی مریض بنارہا ہے۔ امریکی اخبار نے مزید کہا ہے کہ برطانیہ میں 13 فیصد اور امریکہ میں 6 فیصد لڑکیوں نے کہا کہ انہیں انسٹاگرام دیکھنے کے بعد اپنی زندگی ختم کرنے کا خیال آیا۔ یعنی انسٹاگرام سے وابستہ ہونے کے بعد مجموعی طور پر ہر تین میں سے ایک نوعمر لڑکی اپنی جسمانی شباہت سے غیرمطمئن دکھائی دی۔ تاہم انسٹاگرام انتظامیہ نے کہا ہے کہ اگرچہ بعض افراد انسٹاگرام پر منفی تجربات کی بات کررہے ہیں تو دوسری جانب محروم طبقات ایپ سے جڑ کر اپنے پیارے اور اہلِ خانہ سے جڑ رہے ہیں۔ دوسری جانب فیس بک انتظامیہ نوعمر لڑکے اور لڑکیوں میں پیچیدہ اور مشکل مسائل کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کمپنی نے کہا ہے کہ وہ اس مسائل کے حل میں مدد بھی فراہم کرے گی۔ اخبار کا کہنا ہے کہ نوعمر لڑکیاں اپنا موازنہ دوسروں سے کرتی ہیں۔ مثلاً کوئی قیمتی شے یا دولت کی نمائش کرتا ہے تو دیکھنے والے اس سے اپنا موازنہ کرتے ہیں اور یوں اداس رہنے لگتے ہیں۔
ایپل کے موبائل آئی فون 12 اور نئے آنے والے آئی فون13 میں کچھ زیادہ فرق نہیں اس لیے سوشل میڈیا صارفین اس کی قیمت میں ہوشربا اضافہ دیکھ کر پریشان ہیں اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے کیلئے دلچسپ میمز شیئر کر رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق منگل کے روز ایپل ایونٹ میں کمپنی کے سی ای او ٹم کک نے نئے آئی فون13 کی رونمائی کی تقریب میں بتایا کہ اس نئے ماڈل میں نیا کیا ہے۔ حیران کن طور پر اس میں کچھ زیادہ تبدیلی نہیں کی گئی مگر اس کی قیمت میں اضافہ کر دیا گیا ہے جس کے باعث اس برانڈ کے صارفین اب نئے نئے میمز شیئر کر کے اپنے زخموں پر مرہم لگا رہے ہیں۔ کمپنی کے مطابق اس ماڈل میں نیا بائیونک چپ اے15 انسٹال کیا گیا ہے اس کے علاوہ یہ فائیو جی کی بہترین کنیکٹویٹی کا حامل فون ہے۔ لیکن اس کی ظاہری شکل و صورت اس سے پہلے آنے والے آئی فون12 سے کافی حد تک مماثلت رکھتی ہے۔ جس کے باعث اسے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پیکو نامی صارف نے کہا کہ یہ تو کسی 3 برنر والے چولہے کی طرح دکھتا ہے۔ ایک صارف نے کہا کہ جب آئی فون 23 آئے گا تو اس کے پیچھے صرف کیمرے ہی کیمرے ہوں گے۔ امان نامی صرف نے کہا کہ آئی فون نے اپنا ماڈل ایک ٹیرابائیٹ اسٹوریج کے ساتھ متعارف کرایا ہے تو اینڈرائیڈ صارفین جو ابھی تک 64 جی بی اور 128 جی بی استعمال کرتے ہیں سوچ رہے ہیں یہ کیا ہے۔ لاوال یوسف نے کہا کہ یوٹیوبر اس پر بوتل گرا گرا کر اس کی مشہوری کریں گے۔ فائقہ نے کہا کہ جب آپ آئی فون 13 پرو خریدیں تو آپ کو ہار پہنا پہنا کر یہ حال کر دیا جائے گا۔ شیر نامی صارف نے جڑواں فلم کی تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ فرق ہے آئی فون 12 اور 13 میں۔ ایک صارف نے بتایا کہ کس ملک کے شہری کتنے دن کام کر کے آئی فون خرید سکتے ہیں اس میں سب سے کم وقت میں جس ملک کے شہری لے سکتے ہیں ان میں سوئزرلینڈ، امریکا، آسٹریلیا، لیکسمبرگ، ڈنمارک، ناروے سنگا پور اور اس فہرست کے آخر میں ترکی آتا ہے۔ پاکستان اس فہرست میں شامل ہی نہیں۔ ایک صارف نے کہا کہ اس کے والدین نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس سالگرہ پر اسے آئی فون13 دلائیں گے مگر اب انہوں نے اس کی قیمت دیکھ کر انکار کر دیا ہے۔ ادتیہ نامی صارف نے کہا کہ لوگ مہنگا آئی فون اس لیے خریدتے ہیں کیونکہ وہ ایپل کو پسند کرتے ہیں لیکن جو لوگ مہنگا سام سنگ کا فون خریدتے ہیں وہ اس لیے خریدتے ہیں کیونکہ وہ ایپل سے نفرت کرتے ہیں۔ ایان نے کہا کہ دنیا کا سب سے آسان کام نئے آئی فون کو ڈیزائن کرنا ہے۔ دیگر صارفین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے میمز شیئر کیں۔
حکومت نے کالعدم تحریک طالبان کو معافی کی مشروط پیشکش کردی، کالعدم تحریک اگر پاکستان کے آئین کو تسلیم کرلے اور دہشتگردی میں ملوث نہ ہوں تو معافی دی جاسکتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے برطانوی نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کالعدم ٹی ٹی پی کے ان افراد کو معاف کرنے پر غور کر سکتی ہے جو پاکستانی آئین کو تسلیم کریں اور وہ جرائم میں ملوث نہ ہوں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان سے ملحق پاکستانی سرحد پر کوئی دباؤ نہیں ہے بلکہ وہاں امن و استحکام آگیا ہے۔انہوں نے حکومت کی جانب سے افغان عوام کے لئے انخلا کی سہولت کی فراہمی کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ ان افراد کے افغانستان سے انخلا میں سہولت فراہم کی جائے گی جن کے پاس مصدقہ دستاویزات ہیں۔ وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے 30 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے لیکن اب ملک مجبور ہے اس لئے آنے والے مہاجرین کے لیے کوئی کیمپ نہیں بنایا جارہا۔انہوں نے افغان طالبان کی جانب سے کرائی گئی زبانی یقینی دہانی کا بھی تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کا موقف ہے کہ افغانستان سے پاکستان کے اندر کسی گروپ کو دہشت گردی کی اجازت نہیں ہوگی پاکستان بھی اس حوالے سے نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی طالبان قیادت کا رویہ 1990ء کی دہائی کے مقابلے میں مختلف ہے کیونکہ کابل میں بڑے پیمانے پر احتجاج کو برداشت کیا گیا۔ اشرف غنی کو ٹی ٹی پی کے حوالے سے پاکستان نے مسلسل نشاندہی کی لیکن انہوں نے کوئی اقدام نہیں کیا اب دیکھنا ہے کہ افغان طالبان اپنی یقین دہانیوں پر کام کرتے ہیں یا نہیں۔ پاکستان کی سرزمین میں افغانستان سے آنے والے افراد کے لیے کوئی مہاجر کیمپ یا دوبارہ آباد کرنے کی کوئی سہولت نہیں دی جا رہی ہے۔
ڈالر کی قیمت میں ہوشربا اضافے کو قابو کرنے کیلئے اسٹیٹ بینک نے مداخلت کی تو انٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں ایک روپے 41 پیسے کمی ہو گئی۔ فاریکس ٹریڈرز کے مطابق کاروباری ہفتے کے چوتھے روز امریکی ڈالرکی قیمت میں1.41 روپے کمی ہوئی جس کے بعد انٹربینک میں ڈالر 167روپے70 پیسے پر آ گیا جبکہ کاروباری دن کے اختتام پر ڈالر کی قیمت 94 پیسے اضافے کے ساتھ 168 روپے 18 پیسے ریکارڈ کی گئی۔ دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں ایک روپے 50 پیسے کمی ہوئی ہے اور اب اوپن مارکیٹ میں ڈالر 169 روپے پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ کچھ روز کے دوران ڈالر کی قیمت بے قابو طریقے سے بڑھ رہی تھی۔ جس کے باعث ٹرانسپورٹرز، کاروباری شخصیات سمیت ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ پریشان تھے۔ گذشتہ روز ڈالر کی قیمت میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا، 18 پیسے بڑھوتری کے بعد 168 روپے 94 پیسے سے بڑھ کر ڈالر کا 169 روپے 12 پیسے پر لین دین ہوا تھا۔ کچھ معاشی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ حکومت نے ڈالر کی قیمت کو کنٹرول کرنے کیلئے مارکیٹ میں 1.2ارب ڈالر جھونکے ہیں جبکہ اسٹیٹ بنک نے اسکی تصدیق نہیں کی۔ دوسری جانب پاکستان سٹاک ایکسچینج میں آج تیزی دیکھنے کو ملی اور 100 انڈیکس 203 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 46920 پر بند ہوا۔ آج کاروباری دن کا آغاز ہوتے ہی 56 پوائنٹس کا اضافہ ہوا جبکہ پورے کاروباری دن سٹاک ایکسچینج میں تیزی رہی
اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور وفاقی وزیر ریلوے اعظم خان سواتی کو نوٹسز جاری کر دیے اور 14 روز کے اندر جواب طلب کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزرا کی جانب سے قومی ادارے الیکشن کمیشن پر الزامات پر الیکشن کمیشن نے دونوں وفاقی وزرا سے 14 روز کے اندر جواب طلب کر لیا ہے۔ جواب نہ دینے کی صورت میں دونوں کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کاامکان ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے فواد چوہدری اور اعظم سواتی کو نوٹسز جاری کر کے ان سے لگائے گئے الزامات کے ثبوت مانگ لیے ہیں۔الیکشن کمیشن نے اعظم سواتی سے پیسے پکڑنے کے اور دھاندلی کرنے کے ثبوت مانگے۔ اس سے قبل وفاقی وزرا کی جانب سے الزامات پر الیکشن کمیشن آف پاکستان میں اجلاس منعقد ہوا، جس میں الزامات پر مبنی پیمرا کی جانب سے بھجوائے گئے ویڈیو کلپس کا جائزہ لیا گیا جس کے بعد دونوں وزراء کو نوٹس جاری کئے گئے۔ یاد رہے کہ مذکورہ وفاقی وزرا سے الزامات کے ثبوت مانگنے کا فیصلہ منگل کے روز چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں ہونے والے الیکشن کمیشن کے اجلاس میں کیا گیا تھا۔ سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنوردلشاد کا کہنا ہے کہ اگر وزرا ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے تو پھر الیکشن کمیشن کے پاس ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرنے کا اختیار حاصل ہے۔چیف الیکشن کمشنر کے وہی اختیارات ہیں جو سپریم کورٹ کے ایک جج کے ہیں۔ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت کے درمیان اختلاف کی سب سے بڑی وجہ آئندہ انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے استعمال کا معاملہ ہے۔ الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے لیے اس ووٹنگ مشین کے استعمال پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور 37 اعتراضات حکومت کے سامنے رکھے۔ کچھ روز قبل ایک کمیٹی کے اجلاس میں اعظم سواتی اور اسپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن کے درمیان شدید گرماگرمی ہوئی۔ اعظم سواتی نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن نے پیسے پکڑے ہوئے ہیں، ایسے ادارے کو آگ لگادینی چاہئے۔ اسکے بعد اعظم سواتی کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چوہدری نے چیف الیکشن کمشنر کو اپوزیشن کا ’ماؤتھ پیس‘ اور ’آلہ کار‘ قرار دیتے ہوئے انہیں الیکشن لڑنے کا مشورہ دیا تھا۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’چیف الیکشن کمشنر اگر سیاست کرنا چاہتے ہیں تو میں انہیں دعوت دیتا ہوں کہ وہ عہدہ چھوڑیں اور الیکشن لڑیں۔‘
وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے الیکشن کمیشن کا الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے سورس کوڈ تک رسائی کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے معذرت کرلی۔ تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر کی تفصیلات مانگی گئی تھی جبکہ وزاررت سائنس نے الیکشن کمیشن کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ سورس کوڈ فوری طور پر نہیں دیا جا سکتا، کنسٹرکشن ڈیزائن اور سورس کوڈ کے چوری ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔ اس حوالے سے وزیر وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی شبلی فراز نے وضاحت کی کہ الیکشن کمیشن کو معلومات کی فراہمی سے انکار نہیں تاہم تکنیکی معلومات کمپنیز سے معاہدے کے بعد فراہم کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ ای سی پی نے وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی جانب سے متعارف کی گئی ای وی ایم پر اعتراضات کیے تھے جس کے بعد حکومت نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا بین الاقوامی ماہرین سے معائنہ کرانے کا فیصلہ کیا ہے، معائنے کے لئے فافن اور پلڈاٹ کوالیکٹرانک ووٹنگ مشین کو دیکھنے کی دعوت دی گئی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری پر سماعت ہوئی، اس موقع پر ظاہر جعفر کے والدین کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیئے۔ وکیل خواجہ حارث نے دوران سماعت چالان رپورٹ پڑھی اور کہا کہ پولیس ظاہر جعفر کے بیان پر انحصار کر رہی ہے، ریمانڈ میں لینے کے بعد میرے موکل سے کوئی بیان نہیں لیا گیا، معلوم نہیں پولیس نے اپنی مسل پر کیا لکھا ہے۔ خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر پولیس کو پہلے بتا دیا جاتا تو نور کی جان بچ سکتی تھی،چالان کے مطابق 19 جولائی اور 20 جولائی کو ملزم کا والد سے رابطہ ہوا، تھراپی ورکس کو سات بج کر پانچ منٹ پر ذاکر جعفر نے کال کی، مان لیتے ہیں کہ ملزم نے کالز کی ہیں لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ بات کیا ہوئی۔ اس موقع پر عدالت نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ تھراپی ورکس والے ملزمان نامزد ہیں یا گواہ ہیں۔ خواجہ حارث نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ تھراپی ورکس والے بھی کیس میں ملزم نامزد ہیں۔ عدالت نے ریماکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر 7:05 پر تھراپی ورکس کو کال کی گئی تو واقعہ ساڑھے چھ سے سات کے دوران ہو سکتا ہے۔ خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر نے پولیس کو کال کر کے کہا کہ ظاہر جعفر کی حالت ٹھیک نہیں اسے لے جائیں، پہلے تو یہ معلوم ہی نہیں کہ ظاہر جعفر نے والدین کو قتل کا بتایا تھا،اگر یہ معلوم بھی ہو اور تھراپی ورکس والے ثبوت مٹانے گئے ہوں پھر بھی یہ کیس نہیں بنتا۔ خواجہ حارث نے کہا کہ پولیس تفتیش میں گرے ایریاز موجود ہیں ،ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی پر اس الزام میں بھی قابل ضمانت دفعات لگتی ہیں،پولیس نے ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی کا صرف دو روزہ جسمانی ریمانڈ لیا، اگر انکے خلاف اتنا مواد موجود ہوتا تو اسکا زیادہ ریمانڈ لیا جاتا۔ عدالت نے سماعت کل تک کیلئے ملتوی کرتے ہوئے خواجہ حارث کا اگلی سماعت پر دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کردی ہے۔
چین سے خواتین کو ہراساں کرنے کیخلاف می ٹو نامی مہم شروع ہوئی،دارالحکومت بیجنگ کی خاتون نے ہراساں کرنے پر اس مہم کو چلایا، جس نے دیکھتے دیکھتے دنیا بھر میں زور پکڑلیا، اس مہم میں اہم شخصیات نے بھی حصہ لیا، لیکن آج اس مہم کو چلانے والی کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ بیجنگ کی عدالت نے ملک میں’’ می ٹو‘‘ مہم شروع کرنے والی خاتون کی جانب سے دائر کیے گئے جنسی ہراسانی سے متعلق کیس کا فیصلہ سنادیا، فیصلے میں کہاگیا کہ خاتون کی جانب سے ان کے دعووں کی تصدیق کیلئے ثبوت ناکافی ہیں، جس کی وجہ سے خاتون کیس ہار گئی۔۔ خاتون ژاؤ شیاشوان نے فیصلے کو مایوس کن قرار دیا، ساتھ ہی خاتون نے ان کی ٹیم فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کردیا، 2018 میں 28 سالہ ژاؤ شیاشوان نے مختلف سوشل میڈیا پوسٹس میں ٹیلی ویژن کے ایک معروف میزبان ژو جون پر 2014 میں جنسی ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ ژاؤ شیاشوان نے کہا تھا کہ 2014 میں جب وہ ادارے میں بطور انٹرن کام کررہی تھیں اس وقت اینکر ژو جون نے انہیں جنسی ہراساں کیا تھا،خاتون کے الزامات کو میزبان نے مسترد کردیا تھا، خاتون نے 3 برس قبل ژو جون پر ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا تھا جو اب وہ ہار چکی ہیں۔ ژاؤ شیاشوان چلائی گئی می ٹو مہم کے باعث کئی خواتین کو خود پر گزرنے والی کہانی کو منظر عام پر لائیں، اور دنیا بھر میں متعدد ہراساں کئے جانے کے کیسز ابھرے، جس پر خواتین کے ساتھ ساتھ مرد حضرات نے بھی سپورٹ کی، اور اب چین میں اس می ٹو مہم کو دھچکا پہنچنے کا امکان ہے۔

Sponsored Link