خبریں

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کے صوبہ کے پی کے ضلع سوات میں طالبان کی موجودگی کی اطلاعات اور خبروں کو دیکھ رہے ہیں اور اس معاملے پر ہم افغان حکومت سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ڈیفنس ایکسپورٹ پروموشن آرگنائزیشن (ڈی ای پی او) کے زیر اہتمام 11ویں عالمی دفاعی نمائش و سیمینار کی تقریب سے خطاب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ملکی سلامتی کے اداروں کا احترام تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین پر لاگو ہوتا ہے، قانون توڑنے والوں کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا۔ شہباز گل کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر دفاع کا کہنا تھا قانون کی خلاف ورزی پر قانون کے مطابق نمٹیں گے، سنا ہے شہباز گل نے کل کہا کہ فوج میری جان ہے، اگر ایسا کہا ہے تو اچھا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ کئی سال سے مشکلات کا سامنا کررہے ہیں کسی ملک کے خلاف کوئی جارحانہ عزائم نہیں، لیکن ملکی دفاع کو مزید مستحکم کرتے رہیں گے پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کا ہرممکن دفاع کیا جائے گا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ دفاعی نمائش کی کامیابی کے لئے پُرعزم ہیں، گزشتہ 20 برس کے دوران ہر گزرتے سال میں دفاعی ہتھیاروں کی نمائش آئیڈیاز پہلے سے زیادہ نمایاں ہونا بے حد خوشی کا باعث ہے۔
فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں فی یونٹ 9 روپے 90 پیسے اضافہ کی منظوری دے دی گئی ہے۔ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق جون کے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی مد میں نیشنل پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی قیمت میں فی یونٹ 9 روپے 90 پیسے اضافہ کی منظوری دے دی ہے۔ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹی لمیٹڈ (سی پی پی اے) نے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی مد میں جون کے لیے بجلی کی قیمت میں فی یونٹ 9 روپے 91 پیسے اضافے کی درخواست دی تھی، 28 جولائی 2022ء کو نیشنل پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے اس حوالے سے ایف سی اے پر عوامی سماعت کی تھی۔ اس سے قبل نیشنل پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے مطابق ایف سی اے صارفین سے 7 روپے 91 پیسے وصول کیے گئے تھے جو کہ صرف ایک ماہ کیلئے وصول کیے گئے تھے۔ جون کے لیے مئی کی بنسبت ایف سی اے اگست میں 1 روپے 99 پیسے زیادہ وصول کرے گا۔ نیپرا کے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق بجلی کی قیمت میں اضافے کا اطلاق ڈسکوز کے تمام صارفین کے لیے صرف اگست کے بلوں پر کیا جائے گا تاہم کے الیکٹرک اور لائف لائن صارفین پر بجلی بلوں میں اضافے پر اس کا اطلاق نہیں کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز ہی نیپرا نے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں 11 روپے 39 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دیتے ہوئے نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے، صارفین سے اگست میں 3 روپے 01 پیسہ جبکہ ستمبر میں صارفین سے 8 روپے 09 پیسے چارج کیا جائے گا۔ کراچی کے صارفین پر ایک ماہ میں بجلی کی قیمت میں اضافے سے 22 ارب کا اضافی بوجھ پڑے گا۔
رہنما تحریک انصاف بابر اعوان نے عمران خان کی امریکی سفیر سے رابطے کی خبروں کو مسترد کر دیا اور واضح کہا کہ ایبسولوٹلی ناٹ کہنے والا اپنے مؤقف پر ڈٹ کر کھڑا ہے۔ تفصیلات کے مطابق معروف ماہر قانون اور تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان نے کہا ہے کہ عمران خان کی امریکی سفیر سے رابطے کی خبریں بے بنیاد اور جھوٹی ہیں۔ مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں بابراعوان نے مزید کہا سرکاری میڈیا سیل عوام میں عمران خان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اسی لیے جھوٹی لیکس میں اس سیل کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ بابراعوان نے سرکاری میڈیا سیل کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا خداکا خوف کرو، ایبسولوٹلی ناٹ کہنے والا (عمران خان) ڈٹ کر اپنے مؤقف پر کھڑا ہے۔ یاد رہے کہ ذرائع ابلاغ پر چلنے والی خبروں میں دعوے کیے جا رہے ہیں کہ وزیراعلیٰ محمود خان سے امریکی سفیر کی ملاقات کے دوران وہ انہیں سائیڈ روم میں لے گئے جہاں عمران خان سے ڈونلڈ بلوم کی بات کرائی۔ اس گفتگو سے متعلق یہ بھی کہا جا رہا ہےکہ اس دوران عمران خان کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ لو کے خیالات کو امریکی حکومت کا مؤقف نہیں بننا چاہیے تھا۔ پاکستان کے عوام نے اسی لیے امریکا کے خلاف شدید ردعمل دیا۔ جب کہ امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کا کہنا تھا کہ مجھے ذمہ داری سنبھالے دو ماہ کا عرصہ ہوا ہے، آپ کی بات سے اپنی حکومت کو آگاہ کروں گا۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سرکاری دورے پر برطانیہ پہنچ گئے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ رائل ملٹری اکیڈمی میں بطور مہمان خصوصی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں شرکت کریں گے۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق آرمی چیف دورے کے دوران برطانیہ کی عسکری قیادت سے بھی ملاقات کریں گے۔ اس سے قبل عراقی بحریہ کے کمانڈر کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات ہوئی ۔ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، سکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ آرمی چیف نے کہا کہ دہشت گردی ایک عالمی خطرہ ہے، دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے بھرپور جواب کی ضرورت ہے۔
شہباز گل کا بیان پارٹی پالیسی نہیں،عمران خان کی امریکی سفیر سے ملاقات کا علم نہیں،اسد عمر پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی جنرل سیکریٹری اسد عمر نے عمران خان کی امریکی سفیر سے ملاقات پر لاعلمی کا اظہار کردیا،ہم نیوز کے پروگرام بریکنگ پوائنٹ ود مالک میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی امریکی سفیر سے ملاقات کا علم نہیں، انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ پارٹی چیئرمین کی کسی سے ملاقات ہوئی ہو اور جنرل سیکریٹری کو پتہ نہ ہو، یہ نہیں ہو سکتا۔ اسد عمر نے کہا کہ شہباز گل کا بیان پارٹی پالیسی نہیں،نواز شریف اور مریم نواز نے بھی شہباز گل سے ملتی جلتی باتیں کی تھیں،شہباز گل نے جو کہا اس پر قانون کے مطابق فیصلے ہونے چاہئیں، شہباز گل نے جو بات کی اس پر ضرور بات کریں۔ اسد عمر نے کہا کہ عمران خان کے خلاف کارروائی کے لیے باقاعدہ مہم چلائی جارہی ہے، لیکن قانون اور حقائق کے مطابق ہمیں اس میں کوئی پریشانی نہیں ہے،عمران خان کہتے ہیں کہ ان سے زیادہ ملک کے لیے فوج کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ رجیم چینج ہونے کے بعد حکومت دب گئی، حالات بہت خطرناک ہوتے جارہے ہیں،اسد عمر نے کہا کہ الیکشن کمیشن اپنا قانون خود ایجاد کر لیتا ہے،پی ٹی آئی اور ن لیگ کی پوزیشن میں بہت فرق ہے، پرویز الہی اور محمود خان صوبے کے نمائندے ہیں۔ اسد عمر نے کہا کہ شہباز گل کے اسسٹنٹ کی بیوی کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا،شہباز گل کے اسسٹنٹ کی بیوی کو گرفتار کرنا زیادتی ہے، شہباز گل کے بیان سے پارٹی میں بہت سے لوگ متفق نہیں ہیں لیکن شہباز گل کے حقوق الگ چیز ہیں جس کے ساتھ پارٹی کھڑی ہے۔ دوسری جانب بغاوت کے مقدمے میں گرفتار شہباز گل کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا پرفیصلہ محفوظ کرلیا گیا ہے،گرفتار پی ٹی آئی رہنما کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ کے بعد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں پیش کیا گیا تھا۔ شہباز گل نے وضاحت دی کہ پاک فوج کے مخالف بیان دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا،پروفیسر ہوں کرمنل نہیں،شہباز گل کے ڈرائیور کی اہلیہ کی ضمانت منظور کرلی گئی ہے،جوڈیشل مجسٹریٹ سلمان بدرنے ضمانت منظورکی،ضمانت 30ہزار روپے مچلکوں کےعوض منظور کی گئی۔
سینئر تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ شہباز گل نے جو بیان دیا وہ غلط تھا، انہیں اس پر معذرت کرنی چاہیے۔ جیو نیوز کے پروگرام رپورٹ کارڈ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مظہر عباس نے کہا کہ میرا نقطہ نظر ہے کہ اس معاملے کو اتنا آگے نہیں لے کر جانا چاہیے، شہباز گل کو اپنےبیان پر معافی مانگنی چاہیے،سیاسی قیادت کو بھی سوچنا چاہیے کہ اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی رول پر تنقید بالکل جائز ہےمگر کسی ادارے کی تضحیک بالکل درست نہیں ہے۔ مظہر عباس نے کہا کہ یہاں معاملہ صرف تضحیک کی نہیں ہےبلکہ یہاں معاملہ اکسانے کا ہے، اسٹیبلشمنٹ پر تنقید اورفوج کی تضحیک دو الگ الگ چیزیں ہیں ، تنقید کی جاسکتی ہے مگر تضحیک نہیں کی جاسکتی، تضحیک کسی انفرادی شخص کی بھی نہیں کی جاسکتی۔ سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ عمران خان کے دور میں بھی صحافیوں پر ایسے مقدمات بنائے گئے،اس دور میں تو صحافی غائب ہوئے،ابصار عالم کو گولیاں لگیں، اسد طور پر تشدد ہوا، حامد میر کو آف ایئر کیا گیا، مطیع اللہ جان کا معاملہ دیکھ لیں، کراچی سے جیو نیوز کےرپورٹر کو اٹھالیا گیا، اس دور میں بھی پیمرا اسی طرح استعمال ہوتا رہا جس طرح موجودہ حکومت استعمال کررہی ہے، یہ کل بھی غلط تھا یہ آج بھی غلط ہے۔
سابق صدر مملکت آصف علی زرداری ایک بار پھر پنجاب میں سیاسی تبدیلی کیلئے پر تولنا شروع ہوگئے ہیں۔ خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے پنجاب میں چوہدری پرویزالہیٰ کےخاتمے کیلئے پارٹی رہنماؤں کو ذمہ داریاں سونپ دی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق آصف علی زرداری ان دنوں دبئی میں مقیم ہیں جہاں سےایک یا دو روز میں ان کی واپسی متوقع ہے، واپسی کے بعد سابق صدرلاہور میں ڈیرےجمائیں گے اور پنجاب اسمبلی میں وزیراعلی کےخلاف عدم اعتماد کیلئے معاملات دیکھیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری کی خواہش ہے کہ پنجاب میں حمزہ شہباز شریف کی سابق حکومت واپس آجائے کیونکہ انہیں چوہدری پرویزالہیٰ سے گلہ ہے کہ انہوں نے وعدہ خلافی کی ہے، اسی لیے جتنی جلدی ہوسکےچوہدری پرویزالہیٰ کی حکومت کو جتنی جلدی ہوسکےگھر بھیج دیا جائے۔ اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے کیلئے آصف علی زرداری نے اہم پارٹی رہنماؤں کو یہ ذمہ داریاں سونپ دی ہیں کہ وہ پنجاب میں ق لیگ سمیت دیگر ارکان سےرابطےکریں اور وزیراعلی کےخلاف عدم اعتماد کی راہ کو ہموار کریں ۔
پنجاب کے مختلف علاقوں میں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ راناثناء اللہ کے خلاف مقدمات کے اندراج کیلئے درخواستیں جمع کروادی گئیں ہیں۔ تفصیلات کے مطابق گوجرانوالہ میں مریم نواز شریف کی جانب سے ماضی میں ریاستی اداروں کے خلاف بیان بازی پر مقدمہ درج کرنے کیلئے درخواست جمع کروائی گئی ہے، اسی طرح لاہور کے تھانہ انارکلی میں ایک درخواست گزار نے وفاقی وزیر راناثناء اللہ کی جانب سے صحافیوں، شہریوں کو دھمکانے، ہیروئن رکھنےجیسے الزامات کے تحت مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی گئی ہے۔ گوجرانولہ کے تھانہ صدر میں جمع کروائی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ مریم نواز شریف نے اپنی تقاریر میں افواج پاکستان پر بیہودہ الزامات عائد کیے اور دھمکیاں دیں، درخواست گزار نے مریم نواز شریف کی ایک ٹویٹ کو بھی درخواست کا حصہ بناتے ہوئےمریم نواز کے خلاف افواج پاکستان پر سنگین الزامات لگانے، دھمکیاں دینے، عوام میں فوج مخالف جذبات ابھارنے جیسے الزامات کے تحت مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی ہے۔ دوسری جانب لاہورکے تھانہ انارکلی میں ایک شہری نے رانا ثناء اللہ کے خلاف درخواست دیتے ہوئےموقف اپنایا کہ رانا ثناءاللہ نے خود کہا کہ وہ شہباز گل پر15/30 کلو ہیروئن ڈال سکتے تھے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے پاس ہیروئن موجود ہے، رانا ثناء اللہ منشیات کے ایک کیس میں نامزد بھی ہیں،اور انہوں نے متعدد بار صحافیوں اور مخالفین کو دھمکیاں بھی دی ہیں۔ درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ رانا ثناء اللہ کےخلاف مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کیاجائے اور ان سے ہیروئن برآمد کی جائے، رانا ثناء اللہ کےایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات نیشنل ایکشن پلان، انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، ایک حکومتی وزیر مشینری استعمال کرتے ہوئے میڈیا پر بیٹھ کرشہریوں کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنے کی دھمکیاں دیتا ہے، ایسے بیانات سے شہریوں کی آزادی صلب ہوتی ہے۔
کابل: ایک ٹانگ سے محروم شخص کا دھماکہ خیز مواد سے خودکش حملہ، لڑکیوں کی تعلیم کے بڑے حامی رحیم اللہ حقانی جاں بحق افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایک مدرسے میں خودکش ایک ٹانگ سے محروم شخص کا پلاسٹک کی لگی مصنوعی ٹانگ میں چھپے ہوئے دھماکہ خیز مواد سے خودکش حملہ، لڑکیوں کی تعلیم کے بڑے حامی، طالبان کے نامور عالم دین اور ڈائریکٹر افغان مدارس رحیم اللہ حقانی جاں بحق ہو گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایک مدرسے میں خودکش ایک ٹانگ سے محروم شخص کا پلاسٹک کی لگی مصنوعی ٹانگ میں چھپے ہوئے دھماکہ خیز مواد سے خودکش حملہ، لڑکیوں کی تعلیم کے بڑے حامی، طالبان کے نامور عالم دین اور ڈائریکٹر افغان مدارس رحیم اللہ حقانی جاں بحق ہو گئے ہیں۔ طالبان افغان حکام کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں ہونے والی اموات اور زخمیوں کی حتمی تعداد ابھی تک معلوم نہیں ہو سکیں جبکہ کسی بھی دہشت گرد گروپ نے ابھی تک خودکش دھماکے کی ذمہ داری نہیں لی۔ شیخ رحیم اللہ حقانی کا تعلق افغانستان کے حقانی نیٹ ورک سے نہیں تھا، انہوں نے ماضی میں لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں فتوی بھی دیا تھا۔وہ دہشت گرد تنظیم داعش کے ناقدین اور طالبان حکومت کے حامیوں میں سے تھے۔ طالبان کی جانب سے گزشتہ برس اگست میں اقتدار حاصل کیے جانے کے بعد سے اب تک متعدد اہم شخصیات بم حملوں میں ماری جاچکی ہیں۔ افغانی صحافی عبدالحق عمیری نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر خودکش دھماکے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ طالبان کے سینئر رہنما شیخ رحیم اللہ حقانی افغانستان کے دارالحکومت کابل میں اپنے مدرسے میں خودکش حملے میں مارے گئے ہیں۔ ایک اور ٹویٹ کرتے ہوئے افغانی صحافی عبدالحق عمیری نے ڈائریکٹر افغان مدارس رحیم اللہ حقانی کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا کہ نائب ترجمان طالبان حکومت بلال کریمی نے کہا ہے کہ شیخ رحیم اللہ حقانی اس خودکش حملے میں مارے گئے ہیں جسے انہوں نے ایک "لاپرواہ اور بے رحم دشمن" کا حملہ قرار دیا۔ نائب ترجمان طالبان حکومت نے کہا کہ شیخ رحیم اللہ حقانی کی وفات ہمارے لیے بہت بڑا نقصان ہے، ہم تحقیقات کر رہے ہیں کہ اس حملے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ ماضی میں بھی ڈائریکٹر افغان مدارس رحیم اللہ حقانی پر داعش کی جانب سے حملے کیے جا چکے ہیں جبکہ ان پر دو قاتلانہ حملے پاکستان میں ہوئے تھے۔ آخری حملہ 2020 میں پاکستان کے شہر پشاور کے مدرسے میں ہوا تھا جس میں 7 لوگ جاں بحق ہوئے تھے اور ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔ طالبان کے نامور عالم دین اور ڈائریکٹر افغان مدارس رحیم اللہ حقانی کی وفات کو طالبان حکام نے افغانستان کیلئے بہت بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ حملہ آور نے دھماکہ خیز مواد مصنوعی ٹانگ میں چھپا رکھا تھا اور وہ پہلے بھی کسی حملے میں ایک ٹانگ سے محروم ہوا ہو گا۔ خودکش دھماکے کے وقت مدرسے میں تدریسی عمل جاری تھا۔ خیال رہے کہ 6 اگست بروز ہفتہ کو پانچ روز قبل بھی افغانستان کے دارالحکومت کابل میں بم دھماکے کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہو گئے تھے جبکہ 30 سے زائد زخمی ہوئے تھے ۔دھماکا کابل کے مغربی حصے میں مصروف کاروباری مرکز میں ہوا جہاں اہل تشیع محرم الحرام کے جلوس نکال رہے تھے جبکہ جمعہ المبارک کو کابل میں ایک اوربم دھماکے میں 8افراد ہلاک اور 18 افراد زخمی ہوئے تھے اور داعش نے بم دھماکے کی ذمے داری قبول کی تھی۔
لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے بیک وقت 9 حلقوں سے الیکشن لڑنے کے خلاف درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی۔ تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے بیک وقت 9 حلقوں سے الیکشن لڑنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے استفسار کِیا کیا امیدوار نے 9 حلقوں سے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیے؟ جس پر وکیل نے کہا کہ کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا پرسوں آخری دن ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ متعلقہ فورم الیکشن کمیشن ہے وہاں درخواست کیوں دائر نہیں کی، جب تک کاغذات جمع نہیں ہوتے عدالت کے سامنے کاز آف ایکشن کیسے بنتا ہے؟ کاغذات نامزدگی جمع ہونے تک عدالت کے پاس کوئی اختیار نہیں۔ عدالت نے عمران خان کے بیک وقت 9 حلقوں سے الیکشن لڑنے کے خلاف درخواست واپس لینے کی بنیاد پرخارج کردی۔ واضح رہے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے 25 ستمبر کو قومی اسمبلی کے 9 حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں خود الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ قبل ازیں اسپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی کے 9 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور کیے تھے، جن پر 25 ستمبر کو ضمنی انتخابات شیڈول ہیں۔
نوازشریف نے عام انتخابات سے قبل پاکستان واپس آنے اور عملی سیاست کا حصہ بننے کیلئے تیاری شروع کر دی ہے۔ نجی چینل اے آر وائے نیوز کے مطابق نوازشریف نے عام انتخابات سے قبل پاکستان واپس آنے کیلئے مشاورت شروع کر دی ہے اور اس کے لیے انہوں نے پارٹی کے چند رہنماؤں سے مشاورت بھی کی ہے، یہاں تک بھی پوچھ چکے ہیں کہ واپس آنے کی صورت میں انہیں پنجاب میں واپس آنا چاہیے یا اسلام آباد؟ صحافی نعیم اشرف بٹ کا دعویٰ ہے کہ اس مشاورت یا اس سوال کی وجہ آن گرآؤنڈ سیاسی صورتحال ہے کیونکہ نوازشریف اور پارٹی کی بیشتر لیڈر شپ انہیں لاہور میں واپس دیکھنا چاہتی ہے تاہم چونکہ پنجاب میں اب ن لیگ کی حکومت نہیں یہاں ق لیگ برسراقتدار ہے اس لیے وہ وفاق کا بھی رخ کر سکتے ہیں۔ صحافی نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی وفاق میں حکومت کے باعث انہیں کچھ مدد بھی مل سکتی ہے۔ کیونکہ نوازشریف نے اپنی واپسی سے قبل محفوظ وطن واپسی کی شرط رکھ دی ہے۔ سابق وزیراعظم کا یہ بھی خیال ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت کو لیول پلیئنگ فیلڈ ملنی چاہیے۔
دبئی میں مقیم پاکستانی عبدالغفور ایک معمولی سی نیکی کے نتیجے میں دبئی کےولی عہد شیخ حمدان بن محمد کے ہیروبن گئے ہیں۔ تفصیلات کےمطابق دبئی میں روزگار کے سلسلے میں مقیم عبدالغفور بطور رائیڈر کام کرتے ہیں، اپنے معمول کے مطابق آرڈر لیےمنزل کےطرف جاتے ہوئے سڑک پرایک معمولی عمل سے عبدالغفور دنیا بھر میں مشہور ہوگئےہیں۔ سوشل میڈیاپر وائرل ہونےوالی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ عبدالغفور ایک مصروف سڑک سےگزررہے تھے کہ اچانک انہوں نے سڑک کےبیچوں بیچ کچھ اینٹیں پڑی دیکھیں ، یہ اینٹیں کسی بھی سنگین حادثے کی وجہ بن سکتی تھیں ، عبدالغفور ان اینٹوں کو دیکھ کر رکے، موٹر سائیکل سائیڈ پر کھڑی کی، اینٹوں کو سڑک سے ہٹا کرسائیڈ پر رکھا اور اپنی موٹرسائیکل پر منزل مقصود کی طرف روانہ ہوگئے۔ عبدالغفوراس بات سے لاعلم تھے کہ ان کی اس حرکت کو کیمرے کی آنکھ ہمیشہ کیلئے قید کرلے گی، یہ ویڈیو کسی طرح دبئی کے ولی عہد تک بھی پہنچی جنہوں نے اسے ٹویٹرپر شیئر کرتے ہوئے عبدالغفور سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ بعد ازاں عبدالغفور کوسرکاری طور پر دبئی کے ولی عہد سے ملوانے کا انتظام کیا گیا، ولی عہد شیخ حمدان نے عبدالغفور سے ملاقات کےبعد ان کےکندھے پر ہاتھ رکھ کر تصویر بھی بنوائی اور اسے ٹویٹر پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ اس ہیرو سے ملنا اعزاز کی بات ہے،عبدالغفور ایک رول ماڈل ہیں۔
ہریانہ بارڈر کے قریبی علاقے کے رہائشی بزرگ جوڑے کے ہاں 54 سال بعد ان وٹرو فرٹیلائزیشن (آئی وی ایف) ٹیسٹ ٹیوب بے بی مرکز میں پہلے بچے کی پیدائش ہوئی جو بھارت کی ریاست راجستھان کے ضلع الوار میں واحد رجسٹر آئی وی ایف مرکز ہے۔ تفصیلات کے مطابق ہریانہ بارڈر کے قریبی علاقے کے رہائشی بزرگ جوڑے کے ہاں 54 سال بعد ان وٹرو فرٹیلائزیشن (آئی وی ایف) ٹیسٹ ٹیوب بے بی مرکز میں پہلے بچے کی پیدائش ہوئی جو بھارت کی ریاست راجستھان کے ضلع الوار میں واحد رجسٹر ان وٹرو فرٹیلائزیشن (آئی وی ایف) مرکز ہے۔ سماجی رابطوں کی مختلف ویب سائٹس پر ماں بننے والی خاتون جس کی عمر 75 برس جبکہ اس کے شوہر کی عمر 70 برس بتائی جا رہی ہے کو مبارکبادی پیغامات دیئے جا رہے ہیں۔ بھارتی ٹی وی چینل باغی ٹی وی : "انڈیا ٹو ڈے” کے مطابق ماں اور بچہ دونوں صحت مند جبکہ بچے کا وزن تقریباً ساڑھے تین کلوگرام بتایا جا رہا ہے۔ ٹی وی رپورٹ کے مطابق یہ بزرگ جوڑا ہریانہ بارڈر کے نزدیکی علاقے کا رہائشی ہے جو بڑی جدوجہد کے بعد ان وٹرو فرٹیلائزیشن (آئی وی ایف) ٹیسٹ ٹیوب بے بی مرکز پہنچا تھا۔ بھارت کی ریاست راجھستان کا یہ بزرگ جوڑا اس وقت خبروں کی زینت بنا ہوا ہے، اس کی وجہ 5 دہائیوں سے بھی زائد عرصے کے بعد ان کے ہاں اولاد ہونا ہے۔ ان وٹرو فرٹیلائزیشن (آئی وی ایف) کے ماہر ڈاکٹر پنکج گپتا کا کہنا تھا کہ تقریباً ڈیڑھ سال قبل 70 سالہ گوپی چند اور 54 سالہ چندراوتی نے ایک رشتہ دار کے توسط سے ان وٹرو فرٹیلائزیشن (آئی وی ایف) ٹیسٹ ٹیوب بے بی مرکز سے رابطہ کیا تھا، یہ بزرگ جوڑا علاج کے لیے اس سے قبل متعدد بڑے شہروں میں بھی اس حوالے سے کوشش کر چکا تھا۔ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ 9 ماہ قبل ان وٹرو فرٹیلائزیشن کے ذریعے تیسری کوشش میں چندراوتی حاملہ ہوئیں ۔ ڈاکٹر پنکج گپتا نے بتایا کہ جہاں خوشی تھی، وہیں خاتون کی بڑھتی ہوئی عمر کی وجہ سے خوف کا عنصر بھی نمایاں تھا لیکن آخر کار، پیر کو، خاتون نے صحت مند بچے کو جنم دیا۔ یاد رہے کہ حال ہی میں بھارت میں پارلیمنٹ کی طرف سے ایک قانون منظور کیا گیا تھا جو جون 2022 سے نافذ العمل ہوا تھا، اس قانون کے مطابق کوئی ان وٹرو فرٹیلائزیشن (آئی وی ایف) ٹیسٹ ٹیوب بے بی مرکز، بانجھ پن سنٹر 50 سال سے زیادہ عمر کے مردوں اور خواتین کو علاج فراہم نہیں کرے گا لیکن یہ جوڑا خوش قسمت رہا کیونکہ یہ قانون نافذ ہونے سے پہلے ہی 54 سالہ خاتون حاملہ ہو چکی تھی۔
سینئر تجزیہ کار عارف حمید بھٹی نے کہا ہے کہ ن لیگ سمجھتی ہے کہ عمران خان کی مقبولیت کا مقابلہ کرنے کیلئے نواز شریف کی واپسی ضروری ہے۔ جی این این کے پروگرام "خبر ہے" میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عارف حمید بھٹی نے کہا کہ موجودہ حکومت سے معاملات سنبھالے نہیں جارہے،یہ اپنی کروائی گئیں یقین دہانیوں کو ہی پورا نہیں کرپارہے،اب صورتحال یہ ہے کہ اگر ن لیگ نے تحریک انصاف سے مقابلہ کرنا ہے تو نواز شریف کو واپس لانا ناگزیر ہوگیا ہے، اب اس وقت کوششیں ہورہی ہیں کہ کوئی ایسا طریقہ نکالا جائے کہ نواز شریف واپس آئیں اور گرفتار نہ ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ن لیگ یہ سمجھ چکی ہے کہ آئندہ انتخابات میں عمران خان دو تہائی اکثریت باآسانی لے جائیں گے، عمران خان کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے پی ٹی آئی اور اداروں میں اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، مگر عمران خان نے ایک تقریر کرکےا س کی بھی وضاحت دیدی ہے کہ یہ میرے ادارے ہیں اور ان سے کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ عارف حمید بھٹی نے کہا کہ ن لیگی حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ کارکردگی کی بنیاد پر انتخابات میں نہیں جایا جاسکتا، عمران خان کی مقبولیت کامقابلہ کرنے کیلئے نواز شریف کی واپسی ضروری ہے، تاہم نوا زشریف آ بھی گئے تو عمران خان کی مقبولیت کم نہیں ہوسکتی اسی لیے حکومت انہیں ٹیکنیکل طریقےسے ناک آؤٹ کروانے کی کوشش کررہی ہے۔ سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ اس وقت مائنس آل ناممکن ہے،تمام جماعتوں کو مائنس کردیں گےتو عوام کی نمائندگی کون کرے گا؟ یہ70یا80 کی دہائی نہیں ہے،اس وقت ہر کسی کے پاس موبائل فون موجود ہے اور ہر کوئی باخبر ہے۔
توشہ خانہ سے لیے گئے تحائف کی تمام تفصیلات ظاہر کی جائیں تو میرا دعویٰ ہے کہ سابق حکمرانوں میں سے کسی نے اگر قانون کے مطابق کام کیا ہے تو وہ میں ہوں۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل بول ٹی وی پر ممنوعہ فنڈنگ اور توشہ خانہ کیس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم و چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے کہا کہ توشہ خانہ سے لیے گئے تحائف کی تمام تفصیلات ظاہر کی جائیں تو میرا دعویٰ ہے کہ سابق حکمرانوں میں سے کسی نے اگر قانون کے مطابق کام کیا ہے تو وہ میں ہوں۔ عمران خان نے کہا کہ میں چیلنج کرتا ہوں کہ مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلزپارٹی اور جے یو آئی (ف) کے اکائونٹس دیکھ لیں اور پاکستان تحریک انصاف کے اکائونٹس سے موازنہ کر لیں، پاکستان کی تاریخ میں سیاسی فنڈریزنگ کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے علاوہ کسی کے پاس ایسا شفاف نظام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی سابق حکومتیں ہیں ان کا بھی توشہ خانہ کے حوالہ سے ریکارڈ منظرعام پر لایا جائے تو میرا دعویٰ ہے کہ کسی نے اگر قانون کے مطابق کام کیا ہے تو وہ میں ہوں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں سابق وزیراعظم نے کہا کہ غیر ملکی سازش سے مسلط کی گئی امپورٹڈ حکومت بلدیاتی انتخابات میں شکست کے بعد عوامی قبولیت حاصل کرنے کے لیے میڈیا اور عوام میں خوف اور دہشت کا سہارا لے رہی ہے تاہم یہ صرف ملک کو مزید غیر مستحکم کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ واحد حل شفاف اور آزاد انتخابات ہیں۔ انہوں نے شہباز گل کے اسسٹنٹ اظہار کی اہلیہ کو گرفتار کرنے کی بھی مذمت کی۔ اس سے قبل ممنوعہ فنڈنگ کے حوالے سے عمران خان نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ پوری ریاستی مشینری اور الیکشن کمیشن کی شرانگیزیوں کے باوجود پنجاب کےضمنی انتخابات میں نون لیگ کی شکست کےبعد چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن آف پاکستان نے امپورٹڈ حکومت کے ساتھ مل کر تحریک انصاف کیخلاف ٹیکنیکل ناک آؤٹ کی سازش رچائی ہے۔ اب عام انتخابات میں پوری پی ڈی ایم کےاسی انجام کے امکانات نے انہیں خوف میں مبتلا کررکھا ہے۔
رہنما تحریک انصاف مراد سعید نے کہا ہے کہ ہم نے بارہا سوال پوچھے مگرکسی نے کوئی جواب نہیں دیا، خیبرپختونخوا کے حالات اور اپنی جان و مال کی حفاظت کیلئے اب یہاں کے لوگوں کو باہر نکلنا ہوگا۔ یوٹیوب پر اپنےویڈیو پیغام میں مراد سعید نے خیبرپختونخوا کے علاقوں میں طالبان کی سرگرمیوں سے متعلق اپنی سابقہ ویڈیو کا حوالہ دیتےہوئے کہا کہ میں نے بہت سےسوالات پوچھے مگر کسی نے جواب دینا مناسب نہیں سمجھا، ابھی اگر میں کوئی سیاسی بیان دیتا تو اس کے ردعمل میں یہاں 10 ، 10 لوگ جمع ہوکر پریس کانفرنس کرتے دکھائی دیتے۔ مراد سعید نے کہا کہ چونکہ میں اپنے لوگوں کی زندگیوں، اپنے علاقے کےامن، یہاں کی خوشحالی اور عوام کی جانوں کی بات کررہا ہوں وارننگ دے رہا ہوں تو جواب میں بالکل خاموشی ہے کیونکہ یہ سب اس میں ملے ہوئے ہیں ، یہ جو کچھ خیبر پختونخوا میں ہورہا ہے یہ رجیم چینج کا دوسرا مرحلہ ہے۔ مراد سعید نے کہا کہ کیا حکومت نے کسی کو بتایا کہ یہاں کے عوام کےمستقبل کے حوالے سے کیا بات ہورہی ہے؟ طالبان سے کیا مذاکرات ہوئے ہیں؟ سابقہ فاٹا کو ضم کرنے کے فیصلے کی واپسی سے متعلق کیا بات چیت ہوئی؟ اس بارے میں کسی کو کچھ نہیں بتایا گیا کیونکہ یہ شریک جرم ہیں۔ رہنما تحریک انصاف نے کہا کہ آج میں پختون عوام سے مخاطب ہوں یہا ں کے لوگ،پی ٹی آئی کے ورکرز، دوسری جماعتو ں کے ورکرز باہر نکلیں ، سیاست ہوتی رہے گی ، اس وقت اپنے علاقے، اپنی زندگیوں ،اپنے امن کیلئے باہر نکلیں جیسے دیر کےلوگ نکلے تھے ویسے آوازاٹھائیں، سوشل میڈیا استعمال کریں یا کوئی بھی دوسرا پلیٹ فارم اپنی آواز بلند کریں ۔ مراد سعید نے کہا کہ عوام حکومت سے مطالبہ کرے کہ آپ نے غلامی کرنی ہے کریں، آپ نے کسی جنگ میں شامل ہونا ہے ہوجائیں جو مرضی پالیسیاں بنائیں مگرا س کی قیمت ہماری زندگیاں نہیں ہوں گی،ہمارے علاقوں کے امن و خوشحالی نہیں ہوگی۔
وفاقی حکومت نےاقتصادی رابطہ کمیٹی اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی 15 دن کے بجائے ہفتہ وار طے کرنے کے لیے سمری زیرغور لانے کا فیصلہ کر لیا، اس کے علاوہ پاکستان سٹیٹ آئل کے مالیاتی امور کے حوالے سے بھی مشاورت کی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق وزیر خزنہ مفتاح اسماعیل کی زیرصدارت آج ہونے والے اقتصادی رابطہ کمیٹی اجلاس میں 4 نکاتی ایجنڈا زیرغور آئے گا۔ وفاقی حکومت نےاقتصادی رابطہ کمیٹی اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی 15 دن کے بجائے ہفتہ وار طے کرنے کے لیے سمری زیرغور لانے کا فیصلہ کر لیا، اس کے علاوہ پاکستان سٹیٹ آئل کے مالیاتی امور کے حوالے سے بھی مشاورت کی جائے گی۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ممکنہ کمی کے ساتھ ہی 15 اگست کو قیمتوں میں تبدیلی کے نئے طریقہ کار کی منظوری بھی متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق اقتصادی رابطہ کمیٹی کے آج ہونے والے اجلاس میں 14 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی نیشنل بینک کے لیے سمری، درآمدی یوریا کھاد کی قیمت سے متعلق سمری اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی ہفتہ بعد کرنے کا فیصلہ ہونے کا امکان ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی ہفتہ بعد کرنے کا فیصلہ کابینہ کی منظوری کے بعد طے پائے گا اور پاکستان سٹیٹ آئل کے مالیاتی امور بھی زیر غور آئیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہائی اوکٹین کی طرح تمام پٹرولیم مصنوعات کو ڈی ریگولیٹ کرنے پر بھی غور شروع کیا گیا ہے۔ وزیراعظم شہبازشریف نے شاہد خاقان عباسی کی مشاورت سے وزارت پٹرولیم اور وزارت خزانہ سے اس حوالے سے رپورٹ مانگی تھی تاہم اس معاملے پر مشاورت کا عمل جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پٹرولیم کمپنیوں سمیت سٹیک ہولڈرز سے بھی مشاورت کی جائے گی جبکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15 اگست کو کمی کا اعلان متوقع ہے ۔ غیر ملکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے گزشتہ روز پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ہونے کا عندیہ دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے میں پاکستانی روپے کی قدر میں استحکام ریکارڈ کیا گیا، عالمی منڈی میں آئندہ مہینوں میں تیل کی قیمتیں کم ہوں گی ، اس سے پاکستانی صارفین کو بھی ریلیف ملے گا۔ان کا کہنا تھا کہ عوام کی تکالیف سے آگاہ ہیں، مشکل فیصلے لیتے ہوئے تیل اور بجلی پر سبسڈی واپس لی اور مجبوری میں دیگر اشیا پر ٹیکسوں میں اضافہ کرنا پڑا لیکن اب ہم درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔عوام کو جلد ریلیف دینگے۔ دریں اثنا سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کا اجلاس محمد عبدالقادر کی زیر صدارت ہوا۔ قائمہ کمیٹی کو ڈی جی آئل اینڈ گیس ڈویژن نے ملک میں موجود پیٹرول اور ڈیزل کے سٹاک سے متعلق تفصیلات دیں جس کے مطابق پیٹرول کا 27 دن اور ڈیزل کا 47 دن کا سٹاک موجود ہے۔ تاہم سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس وزیر پیٹرولیم اور سیکرٹری پیٹرولیم ڈویژن کی عدم شرکت پر برخاست کر دیا گیا۔ یاد رہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی 15 روز بعد کرنے کا فیصلہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں کیا گیا تھا، اس سے قبل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی ماہانہ بنیادوں پر ہوتی تھی۔
حکمران جماعت مسلم لیگ ن نے نائب صدر مریم نواز شریف کو ایک اور اہم پارٹی عہدہ دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق جارحانہ طرز سیاست کیلئے مشہور پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف کو مزید متحرک اور فعال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ مریم نواز شریف ماڈل ٹاؤن میں پارٹی سیکرٹریٹ کو اپنی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنائیں گی۔ خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ماڈل ٹاؤن لاہور میں مسلم لیگ ن کے مرکزی سیکریٹریٹ میں مریم نواز شریف کے دفتر کیلئے تزئین و آرائش کا کام بھی شروع کردیا گیا ہے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی قائد اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی خصوصی ہدایات کے بعد پارٹی کے زیادہ ترونگز اب مریم نواز شریف کو براہ راست رپورٹ کیاکریں گے،مریم نواز شریف ماڈل ٹاؤن سیکریٹریٹ سے پارٹی معاملات کو دیکھیں گی۔
وفاقی حکومت نےایک بار پھر سلیم بیگ کو پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی(پیمرا) کا سربراہ تعینات کرنےکا فیصلہ کرلیا ہے۔ خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے سابق چیئرمین پیمرا سلیم بیگ کو دوبارہ ادارےکا سربراہ تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس حوالے سےوزیراعظم نے وفاقی کابینہ کو سرکولیشن کےذریعے منظوری کی ہدایت بھی کردی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ حکومت نے 2018 میں سلیم بیگ کو چیئرمین پیمرا تعینا ت کیا تھا،ان کی مدت ملازمت 4 سال تھی جس کے ختم ہونے پر موجودہ حکومت نے انہیں دوبارہ یہ عہدہ سونپ دیا ہے۔ یادرہےکہ مئی2017میں ڈان لیکس اسکینڈل میں راؤ تحسین کا نام آنے کے بعد انہیں عہدے سے ہٹایا گیا اور ان کی جگہ مرزا سلیم بیگ کو پرنسپل انفارمیشن آفیسر تعینات کیا گیا۔ بعد ازاں عالت سے اپنے خلاف فیصلہ آنے کےبعد اس وقت کے چیئرمین پیمرا ابصار عالم مستعفیٰ ہوگئے اور ان کی جگہ سلیم بیگ کو چیئرمین پیمرا تعینات کیا گیا تھا۔
نجی ٹی وی کے صحافی علی رامے نے کہا کہ لاہور کے ہاکی اسٹیڈیم میں سیاسی جلسے کا انعقاد ایک الگ بحث ہے لیکن اگر اسٹروٹرف اکھاڑی جا رہی ہے تو وہ عمل نئی لگانے کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے ہی رواں مالی سال کے بجٹ میں ٹرف کی تبدیلی کیلیے10 کروڑ 65 لاکھ روپے کا فنڈ مختص کرایا تھا،تو پھر پروپیگنڈا کیوں؟ دوسری جانب بولتا لاہور کے اینکر پرسن رائے ثاقب نے لاہور میں ہاکی اسٹیڈیم کا اسٹروٹرف تبدیل ہونے کی اصل کہانی بتادی، ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ اس پچ کے شاکنگ پیڈ ن لیگ کے دور میں ہوئے۔ انہوں نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ شاکنگ پیڈ ن لیگ کے دور میں یوتھ فیسٹول تباہ کر گئے تھے،نیشنل لیول کی گیم کے لیے بی گراؤنڈ استعمال ہوتا آرہا ہے، گورنمنٹ بدلنے سے پہلے اس کا پی سی ون تیار تھا،حکومت بدل گئی ورنہ یہ کام اسی وقت مکمل ہوجاتا۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ کے دور میں ہی اس آسٹروٹروف کا یوتھ فیسٹیول کے نام پر بیڑہ غرق کردیا گیا تھا، اس آسٹروٹروف کو ویسے بھی اکھاڑنا ہی تھا، جلسے کیلیے نہیں اکھاڑا جارہاتھا۔ رائے ثاقب نے کہا کہ ہاکی اسٹیڈیم میں ایک بی گراؤنڈ بھی ہے، جہں قومی سطح پر گیمز اور پریکٹس ہورہی تھی، اس آسٹروٹروف کو سرگودھا میں ایک گراؤنڈ کیلیے بھیجنے کا پہلے سے پروگرام تھا،تاکہ مقامی بچے اس پر کھیل سکیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی سطح کے کھیل کیلیے یہ آسٹروگراف پہلے ہی ناقص قرار دی جاچکی ہے،اس آسٹروٹراف کی چھ سے آٹھ سال کی مدت پوری ہوچکی ہے۔

Sponsored Link