Siasat.pk Forums
Results 1 to 7 of 7
Subscribe To This Thread
  1. #1
    Intermediate Syed Anwer Mahmood's Avatar
    Join Date
    Jan 2013
    Posts
    522
    Age
    60
    Post Thanks / Like

    دہشتگرد احسان کا انٹرویو بزنس شو تھا۔



    تاریخ: 20 مئی، 2017​

    دہشتگرد احسان کا انٹرویو بزنس شو تھا
    سید انور محمود

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کےسربراہ میجر جنرل آصف غفور نے 17اپریل 2017 کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور کالعدم جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نے خود کو سیکورٹی فورسز کے حوالے کر دیا ہے۔ بعدازاں پاک فوج نے احسان اللہ احسان کا اعترافی ویڈیو بیان جاری کیا، جس میں اس نے ٹی ٹی پی کے بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ اور افغانستان کی ’این ڈی ایس‘ سے روابط کا انکشاف کرنے کے علاوہ یہ بھی بتایا تھا کہ کالعدم تنظیم اسرائیل سے بھی مدد لینے کے لیے تیارتھی۔ اسی اعترافی ویڈیو میں احسان اللہ احسان کا کہنا تھا کہ وہ 2008 میں کالعدم تحریک طالبان میں شامل ہوا تھا۔ 17 اپریل کو ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ احسان اللہ احسان کا خود کو سیکورٹی فورسز کے حوالے کرنا دراصل آپریشن رد الفساد کی کامیابی ہے۔لیکن ٹی ٹی پی کے ایک ترجمان نے ذرائع ابلاغ کے ایک حصے کو بتایا تھا کہ سابق طالبان ترجمان کو پاک فوج نے افغانستان سے گرفتار کیا تھا۔ آئی ایس پی آر کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ پاک فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنے والوں میں احسان اللہ احسان اکیلا نہیں ہے بلکہ مستقبل میں ایسی اور اطلاعات سے بھی میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔ احسان اللہ احسان کو اپنے آپ کو فوج کے حوالے کیے ہوئے ایک ماہ گزر چکا ہے لیکن ابھی تک کوئی دوسرا بڑا دہشتگرد سامنے نہیں آیا جس نے اپنے آپ کوخود پاک فوج کے حوالے کیا ہو۔سال 2014 میں احسان اللہ احسان مبینہ طور پر ٹی ٹی پی سے الگ ہونے والے دھڑے ’جماعت الحرار‘ کا ترجمان بن گیا تھا۔

    اس مضمون سے پہلے میں نے 29 اپریل 2017 کو ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے بارئے میں ایک مضمون ’’دہشتگرد کا انٹرویو، جیو کی دوکانداری‘‘ کے نام سے تحریر کیا تھا ۔ 26 اپریل کو جیو نیوز کے ایک اشتہار میں اعلان کیا جارہا تھا کہ اگلے روز 27 اپریل کو وہ اپنے پروگرام ’’جرگہ‘‘ میں دہشتگردوں کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کا انٹرویو نشر کرئے گا جو جیو نیوزکے اینکر اور طالبان دہشتگردوں کے نئے ہمدرد سلیم صافی لیں گے۔ اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا جس کے بعد پیمرا نے اس انٹرویو کےنشر کرنے پر پابندی لگادی۔ اس موقعہ پر پیمرا کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی ایک دہشتگرد تنظیم ہے اور احسان اللہ احسان اس دہشتگرد تنظیم کا ترجمان رہا ہے، اس شخص نے تنظیم کے رکن کے طور پر ہزاروں پاکستانیوں کو شہید کرنے کا گھنائونا اعتراف کیا ہے۔ ایسے شخص کا کسی بھی چینل کے پلیٹ فارم پر انٹرویو کرنا اُس کو دکھانا اُن ہزاروں فوجیوں، سویلین اور شہید بچوں کے والدین، رشتہ داروں، دوستوں اور کروڑوں پاکستانیوں کیلئے ایک انتہائی تکلیف دہ عمل ہے۔ اس موقعہ پرجیو نیوز نےانسانیت کو خیرباد کہتے ہوئے عدالت میں جانے کا فیصلہ کیا، اور عام لوگوں نے پیمرا کی تعریف کی۔ لیکن ایسا ہوا نہیں جیسا عام لوگوں اور پیمرا نے سوچا تھا۔

    بارہ مئی کو جیونیوزکو احسان اللہ احسان کا انٹرویو نشر کرنے کی اجازت مل گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامرفاروق نے آئی ایم سی کی اپیل منظور کرلی۔پیمرا کی جانب سے انٹرویو نشر کرنے پر پابندی کا حکم کالعدم قرار دے دیا، اور جیو نے بغیر کسی انتظار کے اپنے پروگرام’جرگہ‘ میں احسان اللہ احسان کا انٹرویو نشر کردیا۔ احسان اللہ احسان کا انٹرویو آئی ایس پی آر کے تعاون سے ریکارڈ کیا گیا تھا۔پاکستان میں اب تک ایک اندازہ کے مطابق ستر ہزار افراد دہشتگردوں کے ہاتھوں بے گناہ مارئے گئے ہیں اور ایک مرنے والےکےلیے حقیقی رونے والوں کی تعداد کم از کم دس افراد ضرور ہوتی ہے، اگر ہم وقتی طور دس کے عدد کو صیح تسلیم کرلیں تو پاکستان میں سات لاکھ لوگوں کا کوئی نہ کوئی حقیقی پیارا مارا گیا ہے۔افسوس اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامرفاروق یا فوج کے بڑوں نے ایک منٹ کے لیے بھی نہیں سوچا کہ ان سترہزار مقتولین جن میں سےپانچ ہزار کا تعلق فوج سے ہےان کے پیاروں پر کیا گزرئے گئی جب وہ یہ انٹرویو دیکھیں گے، کم ازکم اس انٹرویو کی اجازت دینے سے پہلے جسٹس عامرفاروق پشاور کے آرمی پبلک اسکول کے 134 بچوں کے قتل عام کی وہ ویڈیو ہی دیکھ لیتے جو 16 دسمبر 2014 کو طالبان دہشتگردوں نے برپا کیا تھا۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ قانون اندھا ہوتا لیکن آج کے تو جج اندھے بھی ہیں اور بہرئے بھی ، اگر ایسا نہیں ہوتا تو دہشتگردوں کے ترجمان کا انٹرویو کبھی بھی نشر نہیں ہوتا۔

    بارہ مئی کی رات جب گیارہ بجے کے بعد جیو نے اپنا پروگرام جرگہ شروع کیا تو اس سے پہلے اسی دن بلوچستان میں سینیٹ کےڈپٹی چئیرمین اورجمعیت علمائے اسلام (ف) کے جنرل سیکرٹری مولانا عبدالغفورحیدری اور انکےقافلے کے ساتھیوں پر کو مستونگ (صوبہ بلوچستان) میں ہونے والے دھماکے میں 30 افراد کے ہلاک ہونے اور 37 افراد کے زخمی ہونے کا کرنا ہے جو اس دہشتگرد واقعہ کا شکار ہوئے، مولانا عبدالغفورحیدری نے 6 اپریل کو ان دہشتگردوں کو بچانے کے لیے ان کو اپنی پارٹی میں شرکت کی دعوت دی تھی مگر دہشتگردوں نے ان پر ہی حملہ کردیا۔ بارہ مئی کو دن میں لوگ اپنے ان تازہ مرنے والوں کےلیے رو رہے تھے اور بارہ مئی کی رات ایک ایسے درندئے کو جیونیوز پر دیکھ رہے جو سترہزار انسانوں کے قاتلوں کا ترجمان تھا۔ 29 منٹ اور 21 سیکنڈ کے اس انٹرویو میں جیو نیوز کے پروگرام ’جرگہ‘ کا مہمان احسان اللہ احسان بہت پرسکون تھا اور بہت ہی خفیف مسکراہٹ اس کے چہرئے پر تھی۔ کسی طرح بھی یہ ظاہر نہیں ہورہا تھا کہ یہ ایک قاتل درندہ ہے، اس کو دیکھ کر مجھے لال مسجد کا دہشتگرد ملا عبدالعزیز یاد آگیا کہ جب اس کو پی ٹی وی پر پیش کیا تو اس نے برقعہ پہنا ہوا تھا، وہ برقعہ پہن کر ہی لال مسجد سے بھاگا تھا، ’جرگہ‘ کا مہمان احسان اللہ احسان بلکل صاف کپڑئے پہنے ہوئے تھا کم از کم اس کو اسکرین پر لانے سے پہلے اس پر تھوڑا بہت خون ڈال دیا جاتا تو کم از کم دیکھنے والے اچھی طرح سمجھ جاتے کہ یہ درندہ ہے۔ سلیم صافی نے اس انٹرویو میں طے شدہ 27 سوالات کیے جن کے جوابات بھی پہلے سے ہی طے شدہ تھے۔

    اس انٹرویو کے شروع میں میزبان سلیم صافی نے احسان اللہ احسان کے بارئے میں بہت ہی مودبانہ انداز میں بتایاکہ یہ طالبان کے ترجمان تھے اور کچھ عرصہ پہلے تک یہ خوف و دہشت کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ اس کے بعد وہ اپنے طے شدہ سوال کرتے رہے اور انہیں جواب ملتے رہے، 27 سوالات میں صرف دو سوال ایسے تھے جو عام لوگوں کی دلچسپی کے تھے، پہلا ملالا یوسفزی پر طالبان کا جان لیوا حملہ، دوسرئے پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں ہونے والے بچوں کی ہلاکت۔ دونوں سوالات کے جواب احسان نے ایسے دیے جیسے وہ خود بہت مظلوم ہے۔ جنگ گروپ کے بانی میر خلیل الرحمان کہتے تھے کہ میں اپنےاخبارکو کاروبار کے طور پر شایع کرتا ہوں چیریٹی کے لیے نہیں، ان کا بیٹا میر شکیل الرحمان بھی بھی وہی کررہا ہے ، اسکو 70 ہزار مقتولوں سے کوئی غرض نہیں تھی، 12 مئی کو جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں دکھایا جانے والا احسان کا انٹرویو ایک کامیاب بزنس شو تھا۔اس انٹرویو پر تبصرہ کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ نگار کاشف رفیق محسن کہتے ہیں کہ ’’ہمیں قطعی طور پر کوئی حیرت نہیں کہ لاہور بم دھماکہ، کوئٹہ بم دھماکہ ، پارا چنار بم دھماکہ اور لعل شہباز قلندر کی درگاہ پر ہونے والے بم دھماکے کہ جس کی زمہ داری جماعت الاحرار نے قبول کی تھی ان سے متعلق کوئی سوال احسان اللہ احسان سے کیوں نہیں پوچھا گیا ۔ یوسف رضا گیلانی اور سلمان تاثیر کے فرزندوں کے اغوا سے متعلق کوئی سوال کیوں نہیں کیا گیا ۔ آرمی پبلک اسکول میں بے دردی سے ذبح کیئے جانے والے 134 بچوں سے متعلق کوئی سوال کوئی استفسار کیوں نہیں کیا گیا ‘‘۔

    مہمند ایجنسی کا رہنے والایہ درندہ جو طالبان اور جماعت الحرار کا ترجمان تھا اس کا اصل نام لیاقت علی ہے لیکن دہشتگردوں کی دنیا میں یہ ’’احسان اللہ احسان‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ احسان اللہ احسان کے خلاف اب تک کسی قسم کی قانونی کارروائی کے نہ ہونے پر سول سوسائٹی حیران ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اتنے اہم مسئلے پر خاموش کیوں ہے اور وزیر داخلہ چوہدری نثار بتایں کہ ایک ایسا شخص جس نے سینکڑوں افراد کے قتل کی زمہ داری قبول کی ہو۔ اس کے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی کیوں نہیں ہوئی۔ ہماری فوجی عدالتوں نے دہشتگردی میں اعانت کرنے والوں کو پھانسی لگا دی ہے لیکن یہ جو اتنا بڑا دہشتگرد پکڑا گیا ہے، اسے اب تک کیوں بیٹھا کر رکھا ہے۔ اسے پھانسی کیوں نہیں لگائی جارہی۔ احسان اللہ احسان سمیت وہ تمام دہشتگرد جنہوں نے اپنے آپ کو قانون کے حوالے کیا ہے، ان کو انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب کرنے پر عبرتناک سزا دی جائے۔ ایسے دہشتگردوں کو میڈیا پر بالکل بھی جگہ نہ دی جائے۔ پاکستانی سینیٹ کی ایک کمیٹی نے بھی احسان اللہ احسان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، سینیٹ کی کمیٹی نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ اس کے خلاف مقدمات قائم کئے جائیں۔

    ستر ہزارانسانوں کے قاتلوں کا ترجمان ابھی تک آئی ایس پی آر مہمان بنا ہوا ہے، پاکستان کی کسی بھی عدالت میں اب تک پیش نہیں کیا گیا ہے، جبکہ عام پاکستانی اور متاثرہ لوگ اس بات پر حیران ہیں کہ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ اتنے اہم مسئلے پر خاموش کیوں ہے۔ ستر ہزار پاکستانیوں کے خون میں اپنے ہاتھ رنگین کرکے ببانگ دہل دعویٰ کرنے والے کا انٹرویو نشر کرنے کی اجازت دنیے والے جج ، آئی ایس پی آر اور جیو نیوز نے یقیناً ستر ہزار مقتولین کے لواحقین کے زخموں پر نمک چھڑکا ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    احسان اللہ احسان کا انٹرویو کا لنک
    https://youtu.be/9XeD0hrO0os


    Quick reply to this message Reply  

  2. Thanks khan_sultan Thanked

  3. #2
    Professional Xiggs's Avatar
    Join Date
    Nov 2012
    Location
    Home Sweet Home!
    Posts
    2,839
    Age
    30
    Post Thanks / Like

    Re: دہشتگرد احسان کا انٹرویو بزنس شو تھا۔

    Suna hai choudhary nisar aajkal ehsan ullah ehsan ke saath sota hai. sirf press conference kerne ke liye bed se utarta hai.
    Quick reply to this message Reply  

  4. Thanks zaigham Thanked
    Likes khan_sultan Liked

  5. #3
    Intermediate
    Join Date
    Apr 2010
    Posts
    790
    Post Thanks / Like

    Re: دہشتگرد احسان کا انٹرویو بزنس شو تھا۔

    Quote Originally Posted by Xiggs View Post
    Suna hai choudhary nisar aajkal ehsan ullah ehsan ke saath sota hai. sirf press conference kerne ke liye bed se utarta hai.
    .
    ان بابا جی کے لگتا ہے دن تھوڑے ہیں آج کل ناپاک فوج اور ایف ائی اے ان جسے فوج کے خلاف بولنے والوں کو اٹھا رہے ہے . جناب فوج نے احسان کے ساتھ ڈیل کر لی ہے آپ میں کون . میں جو آپ کو کہتا تھا یہ چل ہی نہیں سکتے ان کے بغیر ابھی تھوڑے دن ٹھر جائیں پھر دیکھیں کیا ہوتا ہے ..رکھیل شریف کی اتنی اوقات نہیں کے سات کروڑ ویسے ہی دے دیں مہینے کا . جنرل حمید گل نے اپنے وقت کی سپر پاور کو دھول چٹائی تھی آپ کا کیا خیال اگر رکھیل شریف کو یہ موواقہ دیا گیا تو حمید گل کو یہ افر نہیں ہووے . مگر اس نے پاکستان سے باھر تو دور پاکستان میں کسی سویلین محکمے میں بیٹھنا پسند نہیں کیا . وہ پاکستان کا جنرل تھا راحیل شریف نے ایک آپریشن خود نہیں کیا جنرل اشفاق ندیم تھا جس کو کراس کر کے باجی واہ کو بنایا گیا جیسے راحیل کو ہارون اسلم کو کراس کر کے بنایا گیا وہ تھا اصل ہیرو .
    جنرل حمید گل نے پاکستان کو ہمیشہ اولیت دی مگر لوگ شاید جانتے نہیں کس طرح دو دفع اس نے ایران کو بھی بچایا کبھی بہت غوسہ آیا تو لکھ دوں گا ..
    یہ دیکھو اس کی سروس کے اعترف میں ایرانی پریذیڈنٹ کا اس سے ملنا ... راحیل تو اتنا خود پسند ہے خانہ کعبہ میں بھی پروٹوکول لے کر چلتا تھا وہ پاکستان کی تاریخ کا دوسرا جنرل ہے جس نے یہ حرکتیں کی اسس سے پہلے مشرف یہ حرکتیں کرتا تھا .. حمید گل اور ہارون اسلم وہ واحد جنرل تھے جو بغیر پروٹوکول کے جوانو میں گھول مل جاتے تھے . جب تم کہتے تھے کتا مار موھم شورو کی ہے میں تمہے سمجھاتا تھا جن لوگون نے انھے اپنے بچے دے یہ ان کے ساتھ مخلص نہیں تمہارے ساتھ کیسے ہوں گیں میں تمہے کہتا تھا یہ ان کے بغیر نہیں چل سکتے آنے والے دنون میں یہ پھر شیر شکر ہوں گے
    اس ملک کی بقا کے لیے بہت ضروری ہے ادارہ جسے ریکومنڈ کرے وہ چیف بنے حمید گل الی کلی ہارون اسلم اشفاق ندیم جسے چاہے ہمے .
    .. یہ دیکھو حمید گل اور احمدی نجاد .

    <span style="font-family:jameel noori nastaleeq;"><font size="4">


    never happened in the history of pakistan where a general lead operation with 8 troops after hameed gul and haroon aslam






    raheel ko allah ke ghar bhi shaheed hona ka dar hai wahan bhi protocol ..

    Last edited by zaigham; 20-May-2017 at 10:26 AM.
    Quick reply to this message Reply  


  6. #4
    Professional There is only 1's Avatar
    Join Date
    May 2015
    Location
    Punjab
    Posts
    3,121
    Age
    32
    Post Thanks / Like

    Re: دہشتگرد احسان کا انٹرویو بزنس شو تھا۔

    موجودہ آرمی چیف تو خباثت میں اپنی مثال آپ ہے


    ایک ایک کر کے تمام سیاسی دہشت گردوں کو چھوڑا
    دہشت گردوں کو فری ہینڈ دیا ، اب وہ جہاں چاہیں کروائی کرتے ہیں
    آرمی چیف کہتا ہے ہر معاملے میں انہیں نہ گھسیٹو ، انہیں ویلا بیٹھ کر کھانے دو


    نواز شریف اپنے اقتدار اور کاروبار کو بچانے کے لئے کسی بھی حد تک گر سکتا ہے اور موجودہ آرمی چیف اس کا پالتو بنا ہوا ہے
    Quick reply to this message Reply  

  7. Likes Xiggs Liked

  8. #5
    Professional There is only 1's Avatar
    Join Date
    May 2015
    Location
    Punjab
    Posts
    3,121
    Age
    32
    Post Thanks / Like

    Re: دہشتگرد احسان کا انٹرویو بزنس شو تھا۔

    ریلوے کے ملازم انتہائی سست اور کاہل ہوتے ہیں جہاں ایک کی ضرورت ہے وہاں بیس بیس بھرتی ہیں ، اب ان میں سے ہر ایک کا یہی ذہن ہوتا ہے کہ اگر اس نے ایک گھنٹہ کام کیا ہے تو باقی انیس بھی ایک ایک گھنٹہ کام کریں پھر اس کی باری آئے گی ، اگر اسے دوسروں کے کام کرنے سے پہلے دوبارہ کام کرنے کا کہہ دیں تو وہ اسے اپنی حق تلفی سمجھتا ہے اور اجتجاج کرنے لگتا ہے


    مجھے شک ہے کہ موجودہ آرمی چیف ایسے ہی کسی ریلوے ملازم کی اولاد ہے

    sponsored links

    Quick reply to this message Reply  


  9. #6
    Professional Xiggs's Avatar
    Join Date
    Nov 2012
    Location
    Home Sweet Home!
    Posts
    2,839
    Age
    30
    Post Thanks / Like

    Re: دہشتگرد احسان کا انٹرویو بزنس شو تھا۔

    Quote Originally Posted by There is only 1 View Post
    موجودہ آرمی چیف تو خباثت میں اپنی مثال آپ ہے


    ایک ایک کر کے تمام سیاسی دہشت گردوں کو چھوڑا
    دہشت گردوں کو فری ہینڈ دیا ، اب وہ جہاں چاہیں کروائی کرتے ہیں
    آرمی چیف کہتا ہے ہر معاملے میں انہیں نہ گھسیٹو ، انہیں ویلا بیٹھ کر کھانے دو


    نواز شریف اپنے اقتدار اور کاروبار کو بچانے کے لئے کسی بھی حد تک گر سکتا ہے اور موجودہ آرمی چیف اس کا پالتو بنا ہوا ہے

    is general ka naam to "general qamar nikaltay hi bajwana" hona chahiye tha
    Quick reply to this message Reply  

  10. Thanks There is only 1 Thanked

  11. #7
    Professional Xiggs's Avatar
    Join Date
    Nov 2012
    Location
    Home Sweet Home!
    Posts
    2,839
    Age
    30
    Post Thanks / Like

    Re: دہشتگرد احسان کا انٹرویو بزنس شو تھا۔

    Quote Originally Posted by There is only 1 View Post
    ریلوے کے ملازم انتہائی سست اور کاہل ہوتے ہیں جہاں ایک کی ضرورت ہے وہاں بیس بیس بھرتی ہیں ، اب ان میں سے ہر ایک کا یہی ذہن ہوتا ہے کہ اگر اس نے ایک گھنٹہ کام کیا ہے تو باقی انیس بھی ایک ایک گھنٹہ کام کریں پھر اس کی باری آئے گی ، اگر اسے دوسروں کے کام کرنے سے پہلے دوبارہ کام کرنے کا کہہ دیں تو وہ اسے اپنی حق تلفی سمجھتا ہے اور اجتجاج کرنے لگتا ہے


    مجھے شک ہے کہ موجودہ آرمی چیف ایسے ہی کسی ریلوے ملازم کی اولاد ہے

    shakal se to bacha jamhoora bin bhaand lagta hai...
    Quick reply to this message Reply  


Quick Reply Quick Reply


Tags for this Thread

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •