امریکی فوجیوں کی عظیم غیر ارادی طاقت
امریکی صدر بارک اوباما نے پاکستانی ہم منصب آصف علی زرداری سے رابطہ کرکے مہمند ایجنسی کے واقعہ پر اظہار افسوس کی وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق بارک اوباما نے پاکستانی صدر سے واقعہ پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی سرحد پر قائم سلالہ چیک پوسٹ پر ناٹو کی جانب سے جو کچھ ہوا وہ جان بوجھ کر نہیں کیا گیا۔ دوران گفتگو امریکی صدر نے بھی پاکستانی چیک پوسٹ پر ناٹو حملے کو غیر اردای قرار دیا -
اس کا مطلب یہ ہوا کہ غیر ارادی طور پر امریکی ہیلی کاپٹر نے ٹیک آف کیا، غیر ارادی طور پر اس کا رخ پاکستان کی طرف ہوا، غیر ارادی طور پروہ پاکستانی دفاعی پوسٹ کے پاس پہنچا، غیر ارادی طور پر اس نے پوسٹ کا نشانہ لیا، غیر ارادی طور پر ھیلی کاپٹر میں بیٹھے فوجی کا ہاتھ بم کے بٹن سے لگ گیا اور بٹن دب گیا۔ بعد ازاں ھیلی کاپٹر کے پائلٹ نے غلطی سے ھیلی کاپٹر دوسری چوکی کی طرف موڑا اور غیر ارادی طور پر ایک اور فائر کر دیا۔
اگر ایسا ہی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ امریکی فوجی تو دنیا میں سب سے زیادہ خطر ناک ہیں، کہیں غیر ارادی طور پر ان کے کسی جہاز کا رخ پینٹا گون یا وائٹ ہاؤس کی طرف ہو گیا، اور غیر ارادی طور پر وہاں پہنچنے کے بعد اس نے فائر کر دیا؟ پھر غیرارادی طور پر مزید دو چار فائر کر دیے تو یقیننا ایک بڑا نقصان ہو جائے گا۔ اسی طرح امریکی فوج کے پاس جو پچاس ہزار ایٹمی ہتھیار ہیں ان میں سے چند ایک بموں کے آپریٹرز نے غیر ارادی طور پر چلا دیے تو امریکہ کا وجود تو خطرے میں پڑ جائے گا۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ دنیا کی سب سے زیادہ خوفزدہ قوم کو سب سے بڑا خطرہ اپنے ہی فوجیوں اور سیکورٹی حکام کی طرف سے ہے، لیکن کوئی بات نہیں، امریکی اتنا سا رسک تو لے ہی سکتے ہیں، وائٹ ہاؤس اور پینٹا گون تباہ ہونے کے بعد تحقیقات سے پتہ چل ہی جائے گا کہ ذمہ دار کون تھا اور پھر اس ذمہ دار پر دنیا کے سب سے بڑی عدالت میں مقدمہ بھی چلایا جائے گا اور اسے قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ اور پینٹا گون کی تباہی پر یورپی یونین، برطانیہ اور تمام امریکی آفیشیل افسوس کا اظہار بھی ضرور کریں گے۔ لیکن یاد رکھیے یہ سب ارادی طور پر نہیں کیا گیا۔