Siasat.pk Forums
   
Page 1 of 3 1 2 3 LastLast
Results 1 to 20 of 41
  1. #1
    Intermediate
    Join Date
    Nov 2011
    Location
    Islamabad
    Posts
    458
    Age
    29
    Post Thanks / Like

    نواز شریف کے ساتھ عدلیہ بھی ٹاپ گیئر میں




    اسلام آباد ( رؤف کلاسرا) سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمعرات کو نواز شریف، شہباز شریف اور ان کی پارٹی کے دوسرے رہنماؤں کی آمد اور نواز شریف کے چیف جسٹں کے سامنے دیے گئے دلائل سے پاکستانی جمہوریت ایک دفعہ پھر ہچکولے کھانا شروع ہو گئی ہے کیونکہ جس طریقے سے حکومت کو نوٹس جاری کیے بغیر مسلم لیگ نواز کی منشاء کے مطابق فیصلہ کیا گیا اس کے بعد ان لوگوں کے لیے بھی عدالت کے اس فیصلے کا دفاع کرنا مشکل ہو گیا ہے جو اس کے حمایتیوں میں شمار ہوتے تھے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ شیر آیا شیر آیا کی گردان پڑھنے والوں کی سنی گئی اور اب کی دفعہ نواز شریف خود عدالت میں پیش ہو کر زرداری کے خلاف دلائل دیتے ہوے پائے گئے۔ اب زرداری صاحب کو بھی احساس ہو چکا ہے کہ کچھ ان کے ساتھ ہونے والا ہے لہذا انہوں نے ایک روز قبل ایوان صدر سے ایک بیان جاری کرایا تھا کہ ان کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں جس سے یہ تاثر گہرا ہو کہ بات کچھ آگے نکل گئی تھی کہ زرداری صاحب کو خود بیان دینا پڑا۔ اب وہ کہتے ہیں کہ وہ بھٹو کے روحانی بیٹے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بھٹو کی طرح سولی چڑھنے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
    جمعرات کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کہ ایک کمیشن ا س ’میمو گیٹ‘ واقعہ کی تحقیق کرے گا حکومت سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کو ملک سے باہر نہ جانے دیا، جائے جس سے کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ رہی سہی کسر اس وقت پوری ہو گئی جب پیپلز پارٹی کے چار لیڈروں نے جس طرح پرس کانفرنس میں ججوں اور شریفوں کو ریلیف برادرز کا نام دے کر ان پر تنقید کی، اس سے صاف پتہ چلتا تھا کہ حکومت اس موڈ میں نہیں ہے کہ وہ کسی طرح بھی عدالتوں کے سامنے جھکے خصوصاً جب اب نواز شریف خود دلائل دینے رہے ہیں۔
    نواز شریف کا عدالت میں خود پیش ہو کر دلائل دینا اور چیف جسٹں کا صرف ان دلائل کی روشنی میں وفاق کو نوٹس دیے بغیر اپنا مختصر فیصلہ دینے سے کشیدگی اونچے لیول پر پہنچ گئی ہے جو اتنی آسانی سے ختم نہیں ہو گی۔ اس کا احساس اور تو اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو بھی ہو گیا ہے جن کے چہرے پر چھائی افسردگی، تھکاوٹ اور بیزاری پرائم منسٹر آن لائن پرگروام میں واضح نظر آرہی تھی۔ وزیراعظم گیلانی کو اس سے پہلے کبھی اتنا تھکا اور بیزار نہیں دیکھا گیا اور لگ رہا تھا کہ انہیں شاید نیند پوری ہونے سے پہلے ہی اٹھا کر ان کے انٹرویو کرنے والے صحافی ارشد شریف اور سعدیہ افضال کے سامنے بٹھا دیا گیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گیلانی جیسے مزاج کے سیاستدان جن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ہر قسمی مشکل سیاسی صورت حال کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کو بھی یوں لگ رہا ہے کہ شاید حالات ان کے قابو سے نکل جائیں گے کیونکہ وہ بھی توقع نہیں رکھتے ہوں گے کہ نواز شریف چیف جسٹں کے سامنے خود دلائل دیں گے اور ان کی مرضی کا فیصلہ سنایا جائے گا۔
    ججوں کو بھی توقع نہیں تھی کہ نواز شریف اور شہباز شریف ان کے سامنے خود پیش ہو کر صدر آصف زرداری کے خلاف دلائل دیں گے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ دراصل یہ بھی نواز اور شہباز شریف کا جان بوجھ کر کھیلا ہوا ترپ کا پتہ تھا کہ جس سے میڈیا اور عوام کو یہ پیغام دینا تھا کہ انہوں نے اب فرینڈلی اپوزیشن کا رول ختم کرکے زرداری کو ہٹوانے کا کام شروع کر دیا ہے اور اپنے جلسے جلوسوں اور ریلیوں کے بعد اب انہوں نے عدالت میں پیٹشن دائر کر کے اس کی بیناد بھی رکھ دی ہے۔ نواز شریف کی پارٹی پر میڈیا یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ وہ حکومت کی دوستی نبھا رہے تھے جس سے ملک کی حالت خراب ہو رہی تھی۔
    تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس طرح کی فرینڈلی اپوزیشن کے طعنوں والے سوالات بھی میاں برادران کی خواہشات پر صحافی کرتے تھے اور اس کے جواب میں وہ بتاتے تھے کہ ان پر کتنا بوجھ ہے جو انہوں نے پی پی پی حکومت کو بچا کر اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا تھا۔ اس فرینڈلی اپوزیشن کے درمیان کسی نے پنجاب میں بگڑتے ہوئے حالات پر غور نہیں کیا اور اب ایک سرکاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دو ہزار دس میں پورے ملک میں پانچ لاکھ جرائم ہوئے جن میں سے چار لاکھ صرف پنجاب میں ہوئے جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس صوبے میں گورنس کی کیا درگت بن چکی ہے لیکن پھر بھی مسلم لیگ نواز کو کہیں سے بھی کسی قسم کی تنقید یا سوال و جواب ، یا سپریم کورٹ میں کسی ریفرنس یا سوموٹو کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور انہوں نے توپوں کا رخ وفاقی حکومت کی طرف کیے رکھا۔
    ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مسلم لیگ نواز نے عمران خان کے لاہور میں کامیاب جلسہ کے بعد اپنا پلان بدلا ہے اور انہیں احساس ہوا ہے کہ شاید لوگوں کو اکھٹا کرکے وہ زرداری یا ان کی حکومت کو نہیں ہٹا سکیں گے کیونکہ اب یہ سٹریٹ پاور عمران کے پاس آگئی ہے جس کی ایک کال پر اب نوجوان، عورتیں، بچے اور بوڑھے سڑکوں پر آ سکتے ہیں لہذا بہتر ہو گا کہ وہ عدالتوں میں پیش ہوں۔
    تجزیہ کاروں کے خیال میں نواز شریف کو اس بات کا احساس ہے کہ اگر زرداری حکومت ایک سال مزید چلتی ہے اور عمران خان کو مزید وقت مل جاتا ہے کہ وہ پنجاب میں لوگوں تک پہنچے تو پھر شاید نواز شریف کے لیے اگلا الیکشن جیتنا مشکل ہو جائے گا اور پارٹی کا حشر وہی ہو گا جو اس کا دو ہزار دو کے انتخابات میں ہوا تھا جب پارٹی کو بیس کے قریب سیٹیں ملی تھیں۔ یہ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ نواز کو اپنی سیاسی بقاء اس میں نظر آتی ہے کہ چاہے دو سال کے لیے جمہوریت کا بستر گول ہوتا ہے ہو جائے لیکن وہ کسی صورت زرداری کو حکومت میں نہیں رہنے دیں گے اور نہ ہی وہ عمران کو ایک سال مزید دیں گے تاکہ وہ ان کا ووٹ بنک پوری طرح نہ لوٹا جا سکے۔
    ذرائع یہ بھی کہتے ہیں کہ اس وقت موجودہ سسٹم کو ختم کرنے کا سب سے بڑا فائدہ نواز شریف کو ہوگا اور نقصان پی پی پی کے بعد عمران کو ہو گا جو کہ ابھی اتنی جلدی نئے انتخابات کے لیے تیار نہیں ہے اور نواز کو مزید وقت دینے سے نفرت ہے کیونکہ مزید وقت کا مطلب ان کی ممکنہ سیاسی موت ہے۔
    مبصرین کے خیال میں عدالت نے بھی نواز شریف کو دیکھ کر کچھ جلدی کی ہے جس سے بابر اعوان کو کھل کر ججوں پر وار کرنے کا موقع مل گیا اور انہوں نے اس موقع سے خوب فائدہ اٹھایا۔ بابر اعوان نے اس پورے عدالتی اور سیاسی کھیل کی کڑیاں موجودہ چیف جسٹں افتخار محمد چوہدری اور پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ سے یہ کہ کر ملا دیں کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے کزن ہیں۔ بابر اعوان تاہم کزن کو ٹیلنٹڈ کہنے سے اپنے آپ کو نہ روک سکے تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان میں سے ٹیلنٹڈ کون ہے۔ چیف جسٹں یا رانا ثناء اللہ؟
    تاہم بابر اعوان اپنی دھواں دھار پریس کانفرنس جس کے لیے وہ مشہور ہیں، دن بھر کی عدالت کارروائی، نواز شریف کے دلائل اور اس کے بعد دیے گئے فیصلوں کے اثرات کافی حد تک زائل کرنے میں کامیاب رہے۔ بابر اعوان نے کھل کر ججوں پر حملے کیے کیونکہ ایک وکیل ہونے کے ناطے انہیں یہ احساس ہو گیا تھا کہ چیف جسٹں نے نواز شریف کے کیس میں کچھ ضرورت سے زیادہ کام کر دیا ہے۔ انہیں اس بات کا احساس تھا کہ چیف جسٹں نے ایک ایسا کام کیا ہے جس پر سب سے پہلے وکلاء برادری کے لوگ اختلاف کریں گے اور پھر میڈیا سوالات اٹھائے گا۔
    اور شام تک یہی ہوا جب جسٹں طارق محمود جیسے ریٹائرڈ ججوں نے بھی نہ چاہتے ہوئے حکومت کے موقف کی ہاں میں ہاں ملائی کہ سپریم کورٹ نے کچھ کام جلدی میں کر دیئے ہیں اور انہوں نے سب پارٹیوں کو بلا کر سننے کی بجائے، محض نواز شریف کے کہنے پر کمیشن کی تشکیل کے علاوہ حسین حقانی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ڈال دیا جس سے پتہ چلا کہ معاملہ اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے جتنا ہم سن رہے تھے۔
    اس سارے معاملے کو مزید ہوا اس وقت ملی جب حسین حقانی نے نواز شریف پر شدید جوابی حملہ کیا اور کہا کہ ان کا سعودی عرب میں کوئی گھر انتظار نہیں کر رہا لہذا وہ اپنا نام ای سی ایل پر نہ ہونے کے باوجود پاکستان چھوڑنے کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتے تھے۔ ان کا اشارہ نواز شریف کے دس سال پہلے ایک ڈیل کے بعد جدہ جانے کے پس منظر میں کیا گیا تھا۔
    بابر اعوان اپنی پریس کانفرنس میں ججوں پر خوب حملے کے اور انکشاف کیا کہ کیسے صوبائی عدالتوں کے جج نواز شریف کے کاروباری مفادات اور ٹیکس سے متعلقہ کاغذات جمع کرانے کے لیے تیار نہیں تھے اور ہر معاملے پر نواز شریف کو دھڑا دھڑ سٹے آڈرز مل رہے تھے۔
    تجزیہ کاروں کا کہنا کہ حالات بہت خرابی کی طرف جارہے ہیں کیونکہ جمعرات کو ہونے والے حیران کن واقعات نے پاکستان کے پہلے سے ہی لڑکھڑاتے سیاسی ڈھانچے کو مزید کمزور کردیا ہے اور کمزور کرنے والا اور کوئی نہیں بلکہ وہ سیاستدان ہیں جو سیاسی ایشوز پارلمینٹ سے اٹھا کر اب عدالتوں میں لے آئے ہیں جس سے سپریم کورٹ پر بھی دباو بڑھ گیا ہے کہ وہ فیصلے دے جو لیڈر اور عوام سننا چاہتے ہی، لیکن ایک مبصر کے بقول اس پورے پس منظر میں سپریم کورٹ کا اپنا امیج خراب ہونے کا بھی خدشہ ہے جس کا ثبوت بابر اعوان اور ان کے ساتھ بیٹھے وزیروں کی پریس کانفرنس اور کچھ عدلیہ نواز وکیلوں کی ٹاک شوز میں کی گئی گفتگو سے کیا جا سکتا ہے۔
    پرنٹ کریں
    http://************************/situat...judiciary-move

    ADVERTISING


    Last edited by Waseem; 02-Dec-2011 at 01:23 PM.

  2. Thanks wez4all thanked for this post
    Likes Nice2MU liked this post
    Dislikes reliable disliked this post

  3. #2
    Advanced
    Join Date
    Sep 2011
    Location
    Islamabad
    Posts
    1,172
    Age
    28
    Post Thanks / Like

    Re: نواز شریف کے ساتھ عدلیہ بھی ٹاپ گیئر میں

    nawaz shareef is oppurtunist

  4. Likes reliable, wez4all, Hamaad, noman3000 liked this post
    Dislikes PMLN97 disliked this post

  5. #3
    Intermediate
    Join Date
    Nov 2011
    Location
    Islamabad
    Posts
    458
    Age
    29
    Post Thanks / Like

    Re: نواز شریف کے ساتھ عدلیہ بھی ٹاپ گیئر میں

    Exactly NS is an opportunist.

  6. Likes wez4all, Tutor, Hamaad, noman3000 liked this post
    Dislikes PMLN97 disliked this post

  7. #4
    Regular Member
    Join Date
    Nov 2011
    Location
    Canada
    Posts
    105
    Age
    27
    Post Thanks / Like

    Re: نواز شریف کے ساتھ عدلیہ بھی ٹاپ گیئر میں

    Imran khan bhi iss leye adalt nai gaye koinki ye adalten nawaz adalten bun gae hein....

  8. Likes jeaysind, wez4all, Tutor, noman3000, Hamaad, fahab liked this post
    Dislikes PMLN97 disliked this post

  9. #5
    Professional
    Join Date
    Jun 2010
    Posts
    2,858
    Post Thanks / Like

    Re: نواز شریف کے ساتھ عدلیہ بھی ٹاپ گیئر میں

    These Brothers will completely destroy Pakistan,bcz they don,t have anything in Pakistan except bankloan which will be never collected from them.Its no way constitutional or justice to listen one party Cj very much exposed as Raiwind adliya chief.

  10. Likes wez4all, Tutor, noman3000, Hamaad liked this post
    Dislikes PMLN97 disliked this post

  11. #6
    Intermediate
    Join Date
    Jul 2010
    Location
    対面授業で国語力を身に
    Posts
    909
    Age
    72
    Post Thanks / Like

    Re: نواز شریف کے ساتھ عدلیہ بھی ٹاپ گیئر میں

    [IMG][/IMG]

  12. Likes Tutor, Hamaad liked this post

  13. #7
    Intermediate
    Join Date
    May 2011
    Posts
    676
    Post Thanks / Like

    Re: نواز شریف کے ساتھ عدلیہ بھی ٹاپ گیئر میں

    کلاسرہ صاحب پی پی کے حمایتی ہیں اور کوئی موقعہ ہاتھہ سے نہیں جانے دیتے عدالتوں پر تنقید کا۔ انہیں پی پی کی توہین عدالت نظر نہیں آتی۔ این آر او کیس ہو یا کوئی اور معاملہ یہ منحوس ہمیشہ ملک توڑنے اور ملک کو لوٹنے والی پی پی کی ہی شان میں قصیدے پڑھے گا۔ کیا قوم کو پتہ نہیں چلنا چاہیئے کہ میمو کے پیچھے اصل ہاتھہ کس مہان ہستی کا ہے؟ زرداری؟ کیانی یا پاشا؟
    کیا بابر حیوان کل خود عدالت میں موجود نہیں تھا؟ کیا اٹارنی جنرل عدالت میں موجود نہیں تھا؟ عدالت نے کمیشن قاعم کئے جانے پر اٹارنی جنرل سے پوچھا تھا کہ آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں؟ اس نے کہا نہیں کوئی اعتراض نہیں۔
    ان پی پی والوں منحوسوں ملک توڑنے والوں کے کرتوتوں کا جب بھی پول کھلنے لگتا ہے یہ ملک توڑنے والے منحوس ہمیشہ سندھہ کارڈ کھیلنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس کلاسرے کو بھی بابر حیوان اور آصف مداری کی کرپشن نظر نہیں آتی۔
    Last edited by Politician; 02-Dec-2011 at 11:28 AM.

  14. Likes عام آدمی, PMLN97 liked this post
    Dislikes fvistr01, Nice2MU disliked this post

  15. #8
    Professional lafatah's Avatar
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    karachi
    Posts
    2,728
    Age
    28
    Post Thanks / Like

    You fool me once shame on you, You fool me twice shame on me !



    After ruining the country for 2 terms in the 90's and then doing nothing for the past 4 years in Punjab, PML N claims that it will turn the country around.

    There is an English sayin that i wrote in the title....But they didnt extend it to "you fool me thrice..."

    Please think rationally and vote...after ruling Punjab for 25 years since 1980's and ruling Pakistan for 6 years, with a 2/3 majority in 1997, when we nearly went bankrupt.....here they are again...

  16. Thanks D'Invincible thanked for this post
    Likes Tutor, raz30, Aamir Awan, cashkash, CA 5 O, Huma, laisaf liked this post
    Dislikes PMLN97 disliked this post

  17. #9
    Regular Member
    Join Date
    Nov 2011
    Location
    A, A
    Posts
    126
    Age
    18
    Post Thanks / Like

    Re: نواز شریف کے ساتھ عدلیہ بھی ٹاپ گیئر میں

    Nawaz shareef an oppertiunist

  18. Dislikes PMLN97 disliked this post

  19. #10
    Intermediate
    Join Date
    May 2011
    Posts
    676
    Post Thanks / Like

    Re: نواز شریف کے ساتھ عدلیہ بھی ٹاپ گیئر میں

    Quote Originally Posted by bisha View Post
    Imran khan bhi iss leye adalt nai gaye koinki ye adalten nawaz adalten bun gae hein....
    یہ بیغیرت اس لئے عدالت نہیں گیا کیوں کہ اس بیغیرت کو اس کے آقاؤں کا حکم نہیں تھا۔

  20. Likes Pakistani., PMLN97 liked this post
    Dislikes Tutor disliked this post

  21. #11
    Intermediate
    Join Date
    May 2011
    Posts
    676
    Post Thanks / Like

    Re: نواز شریف کے ساتھ عدلیہ بھی ٹاپ گیئر میں

    Quote Originally Posted by Kahlown View Post
    نواز شریف کے ساتھ عدلیہ بھی ٹاپ گیئر میں

    Published on 02. Dec, 2011
    [IMG]http://************************/wp-content/uploads/2011/12/nawazsharif.jpeg[/IMG]اسلام آباد ( رؤف کلاسرا) سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمعرات کو نواز شریف، شہباز شریف اور ان کی پارٹی کے دوسرے رہنماؤں کی آمد اور نواز شریف کے چیف جسٹں کے سامنے دیے گئے دلائل سے پاکستانی جمہوریت ایک دفعہ پھر ہچکولے کھانا شروع ہو گئی ہے کیونکہ جس طریقے سے حکومت کو نوٹس جاری کیے بغیر مسلم لیگ نواز کی منشاء کے مطابق فیصلہ کیا گیا اس کے بعد ان لوگوں کے لیے بھی عدالت کے اس فیصلے کا دفاع کرنا مشکل ہو گیا ہے جو اس کے حمایتیوں میں شمار ہوتے تھے۔
    ذرائع کا کہنا ہے کہ شیر آیا شیر آیا کی گردان پڑھنے والوں کی سنی گئی اور اب کی دفعہ نواز شریف خود عدالت میں پیش ہو کر زرداری کے خلاف دلائل دیتے ہوے پائے گئے۔ اب زرداری صاحب کو بھی احساس ہو چکا ہے کہ کچھ ان کے ساتھ ہونے والا ہے لہذا انہوں نے ایک روز قبل ایوان صدر سے ایک بیان جاری کرایا تھا کہ ان کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں جس سے یہ تاثر گہرا ہو کہ بات کچھ آگے نکل گئی تھی کہ زرداری صاحب کو خود بیان دینا پڑا۔ اب وہ کہتے ہیں کہ وہ بھٹو کے روحانی بیٹے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بھٹو کی طرح سولی چڑھنے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
    جمعرات کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کہ ایک کمیشن ا س ’میمو گیٹ‘ واقعہ کی تحقیق کرے گا حکومت سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کو ملک سے باہر نہ جانے دیا، جائے جس سے کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ رہی سہی کسر اس وقت پوری ہو گئی جب پیپلز پارٹی کے چار لیڈروں نے جس طرح پرس کانفرنس میں ججوں اور شریفوں کو ریلیف برادرز کا نام دے کر ان پر تنقید کی، اس سے صاف پتہ چلتا تھا کہ حکومت اس موڈ میں نہیں ہے کہ وہ کسی طرح بھی عدالتوں کے سامنے جھکے خصوصاً جب اب نواز شریف خود دلائل دینے رہے ہیں۔
    نواز شریف کا عدالت میں خود پیش ہو کر دلائل دینا اور چیف جسٹں کا صرف ان دلائل کی روشنی میں وفاق کو نوٹس دیے بغیر اپنا مختصر فیصلہ دینے سے کشیدگی اونچے لیول پر پہنچ گئی ہے جو اتنی آسانی سے ختم نہیں ہو گی۔ اس کا احساس اور تو اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو بھی ہو گیا ہے جن کے چہرے پر چھائی افسردگی، تھکاوٹ اور بیزاری پرائم منسٹر آن لائن پرگروام میں واضح نظر آرہی تھی۔ وزیراعظم گیلانی کو اس سے پہلے کبھی اتنا تھکا اور بیزار نہیں دیکھا گیا اور لگ رہا تھا کہ انہیں شاید نیند پوری ہونے سے پہلے ہی اٹھا کر ان کے انٹرویو کرنے والے صحافی ارشد شریف اور سعدیہ افضال کے سامنے بٹھا دیا گیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گیلانی جیسے مزاج کے سیاستدان جن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ہر قسمی مشکل سیاسی صورت حال کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کو بھی یوں لگ رہا ہے کہ شاید حالات ان کے قابو سے نکل جائیں گے کیونکہ وہ بھی توقع نہیں رکھتے ہوں گے کہ نواز شریف چیف جسٹں کے سامنے خود دلائل دیں گے اور ان کی مرضی کا فیصلہ سنایا جائے گا۔
    ججوں کو بھی توقع نہیں تھی کہ نواز شریف اور شہباز شریف ان کے سامنے خود پیش ہو کر صدر آصف زرداری کے خلاف دلائل دیں گے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ دراصل یہ بھی نواز اور شہباز شریف کا جان بوجھ کر کھیلا ہوا ترپ کا پتہ تھا کہ جس سے میڈیا اور عوام کو یہ پیغام دینا تھا کہ انہوں نے اب فرینڈلی اپوزیشن کا رول ختم کرکے زرداری کو ہٹوانے کا کام شروع کر دیا ہے اور اپنے جلسے جلوسوں اور ریلیوں کے بعد اب انہوں نے عدالت میں پیٹشن دائر کر کے اس کی بیناد بھی رکھ دی ہے۔ نواز شریف کی پارٹی پر میڈیا یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ وہ حکومت کی دوستی نبھا رہے تھے جس سے ملک کی حالت خراب ہو رہی تھی۔
    تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس طرح کی فرینڈلی اپوزیشن کے طعنوں والے سوالات بھی میاں برادران کی خواہشات پر صحافی کرتے تھے اور اس کے جواب میں وہ بتاتے تھے کہ ان پر کتنا بوجھ ہے جو انہوں نے پی پی پی حکومت کو بچا کر اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا تھا۔ اس فرینڈلی اپوزیشن کے درمیان کسی نے پنجاب میں بگڑتے ہوئے حالات پر غور نہیں کیا اور اب ایک سرکاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دو ہزار دس میں پورے ملک میں پانچ لاکھ جرائم ہوئے جن میں سے چار لاکھ صرف پنجاب میں ہوئے جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس صوبے میں گورنس کی کیا درگت بن چکی ہے لیکن پھر بھی مسلم لیگ نواز کو کہیں سے بھی کسی قسم کی تنقید یا سوال و جواب ، یا سپریم کورٹ میں کسی ریفرنس یا سوموٹو کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور انہوں نے توپوں کا رخ وفاقی حکومت کی طرف کیے رکھا۔
    ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مسلم لیگ نواز نے عمران خان کے لاہور میں کامیاب جلسہ کے بعد اپنا پلان بدلا ہے اور انہیں احساس ہوا ہے کہ شاید لوگوں کو اکھٹا کرکے وہ زرداری یا ان کی حکومت کو نہیں ہٹا سکیں گے کیونکہ اب یہ سٹریٹ پاور عمران کے پاس آگئی ہے جس کی ایک کال پر اب نوجوان، عورتیں، بچے اور بوڑھے سڑکوں پر آ سکتے ہیں لہذا بہتر ہو گا کہ وہ عدالتوں میں پیش ہوں۔
    تجزیہ کاروں کے خیال میں نواز شریف کو اس بات کا احساس ہے کہ اگر زرداری حکومت ایک سال مزید چلتی ہے اور عمران خان کو مزید وقت مل جاتا ہے کہ وہ پنجاب میں لوگوں تک پہنچے تو پھر شاید نواز شریف کے لیے اگلا الیکشن جیتنا مشکل ہو جائے گا اور پارٹی کا حشر وہی ہو گا جو اس کا دو ہزار دو کے انتخابات میں ہوا تھا جب پارٹی کو بیس کے قریب سیٹیں ملی تھیں۔ یہ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ نواز کو اپنی سیاسی بقاء اس میں نظر آتی ہے کہ چاہے دو سال کے لیے جمہوریت کا بستر گول ہوتا ہے ہو جائے لیکن وہ کسی صورت زرداری کو حکومت میں نہیں رہنے دیں گے اور نہ ہی وہ عمران کو ایک سال مزید دیں گے تاکہ وہ ان کا ووٹ بنک پوری طرح نہ لوٹا جا سکے۔
    ذرائع یہ بھی کہتے ہیں کہ اس وقت موجودہ سسٹم کو ختم کرنے کا سب سے بڑا فائدہ نواز شریف کو ہوگا اور نقصان پی پی پی کے بعد عمران کو ہو گا جو کہ ابھی اتنی جلدی نئے انتخابات کے لیے تیار نہیں ہے اور نواز کو مزید وقت دینے سے نفرت ہے کیونکہ مزید وقت کا مطلب ان کی ممکنہ سیاسی موت ہے۔
    مبصرین کے خیال میں عدالت نے بھی نواز شریف کو دیکھ کر کچھ جلدی کی ہے جس سے بابر اعوان کو کھل کر ججوں پر وار کرنے کا موقع مل گیا اور انہوں نے اس موقع سے خوب فائدہ اٹھایا۔ بابر اعوان نے اس پورے عدالتی اور سیاسی کھیل کی کڑیاں موجودہ چیف جسٹں افتخار محمد چوہدری اور پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ سے یہ کہ کر ملا دیں کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے کزن ہیں۔ بابر اعوان تاہم کزن کو ٹیلنٹڈ کہنے سے اپنے آپ کو نہ روک سکے تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان میں سے ٹیلنٹڈ کون ہے۔ چیف جسٹں یا رانا ثناء اللہ؟
    تاہم بابر اعوان اپنی دھواں دھار پریس کانفرنس جس کے لیے وہ مشہور ہیں، دن بھر کی عدالت کارروائی، نواز شریف کے دلائل اور اس کے بعد دیے گئے فیصلوں کے اثرات کافی حد تک زائل کرنے میں کامیاب رہے۔ بابر اعوان نے کھل کر ججوں پر حملے کیے کیونکہ ایک وکیل ہونے کے ناطے انہیں یہ احساس ہو گیا تھا کہ چیف جسٹں نے نواز شریف کے کیس میں کچھ ضرورت سے زیادہ کام کر دیا ہے۔ انہیں اس بات کا احساس تھا کہ چیف جسٹں نے ایک ایسا کام کیا ہے جس پر سب سے پہلے وکلاء برادری کے لوگ اختلاف کریں گے اور پھر میڈیا سوالات اٹھائے گا۔
    اور شام تک یہی ہوا جب جسٹں طارق محمود جیسے ریٹائرڈ ججوں نے بھی نہ چاہتے ہوئے حکومت کے موقف کی ہاں میں ہاں ملائی کہ سپریم کورٹ نے کچھ کام جلدی میں کر دیئے ہیں اور انہوں نے سب پارٹیوں کو بلا کر سننے کی بجائے، محض نواز شریف کے کہنے پر کمیشن کی تشکیل کے علاوہ حسین حقانی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ڈال دیا جس سے پتہ چلا کہ معاملہ اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے جتنا ہم سن رہے تھے۔
    اس سارے معاملے کو مزید ہوا اس وقت ملی جب حسین حقانی نے نواز شریف پر شدید جوابی حملہ کیا اور کہا کہ ان کا سعودی عرب میں کوئی گھر انتظار نہیں کر رہا لہذا وہ اپنا نام ای سی ایل پر نہ ہونے کے باوجود پاکستان چھوڑنے کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتے تھے۔ ان کا اشارہ نواز شریف کے دس سال پہلے ایک ڈیل کے بعد جدہ جانے کے پس منظر میں کیا گیا تھا۔
    بابر اعوان اپنی پریس کانفرنس میں ججوں پر خوب حملے کے اور انکشاف کیا کہ کیسے صوبائی عدالتوں کے جج نواز شریف کے کاروباری مفادات اور ٹیکس سے متعلقہ کاغذات جمع کرانے کے لیے تیار نہیں تھے اور ہر معاملے پر نواز شریف کو دھڑا دھڑ سٹے آڈرز مل رہے تھے۔
    تجزیہ کاروں کا کہنا کہ حالات بہت خرابی کی طرف جارہے ہیں کیونکہ جمعرات کو ہونے والے حیران کن واقعات نے پاکستان کے پہلے سے ہی لڑکھڑاتے سیاسی ڈھانچے کو مزید کمزور کردیا ہے اور کمزور کرنے والا اور کوئی نہیں بلکہ وہ سیاستدان ہیں جو سیاسی ایشوز پارلمینٹ سے اٹھا کر اب عدالتوں میں لے آئے ہیں جس سے سپریم کورٹ پر بھی دباو بڑھ گیا ہے کہ وہ فیصلے دے جو لیڈر اور عوام سننا چاہتے ہی، لیکن ایک مبصر کے بقول اس پورے پس منظر میں سپریم کورٹ کا اپنا امیج خراب ہونے کا بھی خدشہ ہے جس کا ثبوت بابر اعوان اور ان کے ساتھ بیٹھے وزیروں کی پریس کانفرنس اور کچھ عدلیہ نواز وکیلوں کی ٹاک شوز میں کی گئی گفتگو سے کیا جا سکتا ہے۔
    پرنٹ کریں
    http://************************/situat...judiciary-move

    غصے میں پریس کانفرنس میں پارٹی رہنماؤں کا لب و لہجہ اورڈھب منصوبہ بند مزاحمت، قصداً تند و تیز اظہار اور نامعلوم اور نہ بنائے گئے حقیقی خدشات کا مجموعہ تھی۔حکومت کے غیر معمولی سخت ردّ عمل سے کئی سوال پیدا ہوتے ہیں، کون سے ڈراؤنے سچ سے اسلام آباد ڈر گیا ہے ؟ایک میمو جس پر حکومت کا اصرار ہے کہ وہ جعلی ہے اس کی عدالتی تحقیقات نے کیوں حقیقی خوف پیدا کر دیئے ہیں؟ حکومت جان بوجھ کر ایک سادہ انکوائری کی مخالفت کر کے موجودہ حکومت کو نکالنے بننے والے عدلیہ فوج اپوزیشن اتحاد میں تبدیل کر رہی ہے ؟ بنگلہ دیش ماڈل کے ساتھ کھلا تقابل کیوں ، جہاں عدلیہ اور فوجی حکام تبدیلی کے لیے اکٹھے ہو گئے تھے ؟ عدالت سے کیوں نہ کہا گیا کہ وہ فیڈریشن کے موقف کا انتظار کرے ، صرف اس پر غیر ضروری جلدبازی کا الزام عائد کرنے کے لئے؟حکومت کا فاضل عدالت پر ”فیڈریشن کا موقف نہ سننے“ کا الزام غیر حقیقی ہے کیونکہ عدالت نے ایک سے زیادہ مرتبہ اٹارنی جنرل آف پاکستان سے پوچھا کہ اگر وفاق کو کمیشن کی تشکیل پر کوئی اعتراض تو نہیں ۔جس کا اٹارنی جنرل نے نفی میں جواب دیا ۔ اٹارنی جنرل کو عدالت سے اعلیٰ حکام کے ساتھ مشاورت کیلئے وقت لینا چاہیے تھا اور پھرجواب دیتے ۔یقینا عدالت اس جواب پر مثبت ردّ عمل ظاہر کرتی کیونکہ ایسی صورت میں اس کے پاس کوئی آپشن نہیں تھا ۔ یہاں ایک اور سوال ہے کہ خاص طور پر حکومت کے قانونی ماہر ڈاکٹر بابر اعوان صرف چند منٹ کے فاصلے پر بیٹھے تھے ، انہوں نے ایسا کیوں نہ کیا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ خفیہ ہاتھوں سے باخبرلوگ ان شواہد کے بارے میں جانتے ہیں جو ان تحقیقات کے نتیجے میں افشا ہونیوالی ہیں اور وہ محسوس کر چکے ہیں کہ اس معاملے کو ایک سیاسی کھیل میں تبدیل کر کے ہی نجات ہے ۔ اگر معاملہ خالص سیاسی ڈرامے میں تبدیل ہو گیا تو عدالت میں نہیں بلکہ عوامی سیاست کے تھیٹر میں نمٹایا جائے گا ۔ جمعرات کو سپریم کورٹ کی 4گھنٹے طویل سماعت مستقبل کا تاریخی سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے ۔مولن کو بھیجا جانیوالا میمو نصف دنیا کا سفر کرنے کے بعد بالآخر عدالت کے سرد کمرے میں پہنچ گیا اور شعلہ بن کر بھڑک اُٹھا، اگرچہ حتمی نقصان کی پیش گوئی کرنا قبل از وقت ہو گا تا ہم چند سو میٹر دور پہاڑی چوٹی پر واقع عمارت کے اندر اس کی حدت واضح طور پر محسوس کی جا رہی ہے ۔ مختصر فیصلہ مختصر تو ہے مگر طویل سائے پھیلنے کا خدشہ ہے ۔ کیونکہ اس نے معاملہ بے اثر اور وسائل سے محروم خصوصی کمیٹی کے پاس گھسیٹنے کی کھلی حکومتی کوشش کو بے کار کر دیا ہے
    رپورٹ :…محمد مالک
    روزنامہ جنگ

  22. Likes PMLN97 liked this post

  23. #12
    Member
    Join Date
    Dec 2011
    Location
    00
    Posts
    29
    Age
    33
    Post Thanks / Like

    Re: You fool me once shame on you, You fool me twice shame on me !

    well done guys .keep this idiot out of the power for good

  24. Dislikes PMLN97 disliked this post

  25. #13
    Expert xiaahmad's Avatar
    Join Date
    Aug 2010
    Posts
    5,309
    Post Thanks / Like

    Re: You fool me once shame on you, You fool me twice shame on me !

    only fool will support him again

  26. Likes CA 5 O liked this post
    Dislikes PMLN97 disliked this post

  27. #14
    Member
    Join Date
    Oct 2011
    Location
    Pakistan
    Posts
    38
    Age
    24
    Post Thanks / Like

    Re: You fool me once shame on you, You fool me twice shame on me !

    Quote Originally Posted by xiaahmad View Post
    only fool will support him again
    Shaitan will support Shaitan Khan

  28. Likes rana -, jeaysind, Politician, PMLN97 liked this post
    Dislikes D'Invincible, cashkash, CA 5 O disliked this post

  29. #15
    Professional lafatah's Avatar
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    karachi
    Posts
    2,728
    Age
    28
    Post Thanks / Like

    Re: You fool me once shame on you, You fool me twice shame on me !

    Quote Originally Posted by Pakistani. View Post
    Shaitan will support Shaitan Khan
    He has ruled Punjab (the largest provine of Pakistan) for 25 years and still you think PML N can turn the country around ?

    I dont know what these people are made of.

  30. Dislikes PMLN97 disliked this post

  31. #16
    Intermediate CA 5 O's Avatar
    Join Date
    Nov 2011
    Location
    canada
    Posts
    911
    Age
    30
    Post Thanks / Like

    Re: You fool me once shame on you, You fool me twice shame on me !

    Quote Originally Posted by Pakistani. View Post
    Shaitan will support Shaitan Khan
    Wow, it didn't take long for a nawaz supporter to prove xiaahmad's point.

  32. Dislikes PMLN97 disliked this post

  33. #17
    Intermediate Aamir Awan's Avatar
    Join Date
    Oct 2011
    Location
    lahore
    Posts
    521
    Age
    26
    Post Thanks / Like

    Re: You fool me once shame on you, You fool me twice shame on me !

    Einstein's definition of insanity: Doing the same thing over and over again and expecting different results.

  34. Likes raz30 liked this post

  35. #18
    Expert xiaahmad's Avatar
    Join Date
    Aug 2010
    Posts
    5,309
    Post Thanks / Like

    Nawaz drove 2 Murree alone 2 Meet top military authorities 4 a briefing



    Dateline Islamabad story yesterday that Nawaz drove 2 Murree alone 2 have interaction w top military authorities 4 a briefing in Supreme Court


    So it seem Nawaz is going back to ARMY again for support
    Last edited by xiaahmad; 02-Dec-2011 at 01:01 PM.

  36. Thanks Benito thanked for this post

  37. #19
    Professional lafatah's Avatar
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    karachi
    Posts
    2,728
    Age
    28
    Post Thanks / Like

    Re: You fool me once shame on you, You fool me twice shame on me !

    I just dont understand why would anyone vote for these goons and looters...I seriosly think Pakistan is on the brink of destruction. Not because of NATO or Terrorist, but beause of the incompetence and curroption of these people.There will be so much flight of capital next year that Pakistan will go bankrupt in a matter of months.And only the PEOPLE of Pakistan can save this country. It is a fool's hope that whatever happens in the country will not impact us, everyone, no matter how rich will bear the brunt.I came from USA to Paksitan, so i can be a part of my country, but another Govt. like this and I will go back or somewhere else as I have a duty towards my family also.

  38. Likes CA 5 O liked this post

  39. #20
    Regular Member
    Join Date
    Oct 2011
    Location
    Lahore
    Posts
    66
    Age
    24
    Post Thanks / Like

    Re: Nawaz drove 2 Murree alone 2 Meet top military authorities 4 a briefing

    source of the news???


Page 1 of 3 1 2 3 LastLast

Thread Information

Users Browsing this Thread

There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)

Similar Threads

  1. Replies: 11
    Last Post: 07-Dec-2012, 10:00 PM
  2. مدھیہ پردیش میں عیسائیوں کی پروفائلنگ
    By shamsheer in forum India/International Siasat
    Replies: 1
    Last Post: 15-Apr-2011, 08:58 PM
  3. Replies: 1
    Last Post: 15-Apr-2011, 08:58 PM
  4. Replies: 1
    Last Post: 05-Jan-2011, 05:00 AM
  5. Replies: 23
    Last Post: 30-Sep-2010, 04:15 AM

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •  
Siasat.pk Forums