اسلام آباد ( رؤف کلاسرا) سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمعرات کو نواز شریف، شہباز شریف اور ان کی پارٹی کے دوسرے رہنماؤں کی آمد اور نواز شریف کے چیف جسٹں کے سامنے دیے گئے دلائل سے پاکستانی جمہوریت ایک دفعہ پھر ہچکولے کھانا شروع ہو گئی ہے کیونکہ جس طریقے سے حکومت کو نوٹس جاری کیے بغیر مسلم لیگ نواز کی منشاء کے مطابق فیصلہ کیا گیا اس کے بعد ان لوگوں کے لیے بھی عدالت کے اس فیصلے کا دفاع کرنا مشکل ہو گیا ہے جو اس کے حمایتیوں میں شمار ہوتے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ شیر آیا شیر آیا کی گردان پڑھنے والوں کی سنی گئی اور اب کی دفعہ نواز شریف خود عدالت میں پیش ہو کر زرداری کے خلاف دلائل دیتے ہوے پائے گئے۔ اب زرداری صاحب کو بھی احساس ہو چکا ہے کہ کچھ ان کے ساتھ ہونے والا ہے لہذا انہوں نے ایک روز قبل ایوان صدر سے ایک بیان جاری کرایا تھا کہ ان کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں جس سے یہ تاثر گہرا ہو کہ بات کچھ آگے نکل گئی تھی کہ زرداری صاحب کو خود بیان دینا پڑا۔ اب وہ کہتے ہیں کہ وہ بھٹو کے روحانی بیٹے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بھٹو کی طرح سولی چڑھنے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
جمعرات کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کہ ایک کمیشن ا س ’میمو گیٹ‘ واقعہ کی تحقیق کرے گا حکومت سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کو ملک سے باہر نہ جانے دیا، جائے جس سے کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ رہی سہی کسر اس وقت پوری ہو گئی جب پیپلز پارٹی کے چار لیڈروں نے جس طرح پرس کانفرنس میں ججوں اور شریفوں کو ریلیف برادرز کا نام دے کر ان پر تنقید کی، اس سے صاف پتہ چلتا تھا کہ حکومت اس موڈ میں نہیں ہے کہ وہ کسی طرح بھی عدالتوں کے سامنے جھکے خصوصاً جب اب نواز شریف خود دلائل دینے رہے ہیں۔
نواز شریف کا عدالت میں خود پیش ہو کر دلائل دینا اور چیف جسٹں کا صرف ان دلائل کی روشنی میں وفاق کو نوٹس دیے بغیر اپنا مختصر فیصلہ دینے سے کشیدگی اونچے لیول پر پہنچ گئی ہے جو اتنی آسانی سے ختم نہیں ہو گی۔ اس کا احساس اور تو اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو بھی ہو گیا ہے جن کے چہرے پر چھائی افسردگی، تھکاوٹ اور بیزاری پرائم منسٹر آن لائن پرگروام میں واضح نظر آرہی تھی۔ وزیراعظم گیلانی کو اس سے پہلے کبھی اتنا تھکا اور بیزار نہیں دیکھا گیا اور لگ رہا تھا کہ انہیں شاید نیند پوری ہونے سے پہلے ہی اٹھا کر ان کے انٹرویو کرنے والے صحافی ارشد شریف اور سعدیہ افضال کے سامنے بٹھا دیا گیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گیلانی جیسے مزاج کے سیاستدان جن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ہر قسمی مشکل سیاسی صورت حال کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کو بھی یوں لگ رہا ہے کہ شاید حالات ان کے قابو سے نکل جائیں گے کیونکہ وہ بھی توقع نہیں رکھتے ہوں گے کہ نواز شریف چیف جسٹں کے سامنے خود دلائل دیں گے اور ان کی مرضی کا فیصلہ سنایا جائے گا۔
ججوں کو بھی توقع نہیں تھی کہ نواز شریف اور شہباز شریف ان کے سامنے خود پیش ہو کر صدر آصف زرداری کے خلاف دلائل دیں گے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ دراصل یہ بھی نواز اور شہباز شریف کا جان بوجھ کر کھیلا ہوا ترپ کا پتہ تھا کہ جس سے میڈیا اور عوام کو یہ پیغام دینا تھا کہ انہوں نے اب فرینڈلی اپوزیشن کا رول ختم کرکے زرداری کو ہٹوانے کا کام شروع کر دیا ہے اور اپنے جلسے جلوسوں اور ریلیوں کے بعد اب انہوں نے عدالت میں پیٹشن دائر کر کے اس کی بیناد بھی رکھ دی ہے۔ نواز شریف کی پارٹی پر میڈیا یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ وہ حکومت کی دوستی نبھا رہے تھے جس سے ملک کی حالت خراب ہو رہی تھی۔
تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس طرح کی فرینڈلی اپوزیشن کے طعنوں والے سوالات بھی میاں برادران کی خواہشات پر صحافی کرتے تھے اور اس کے جواب میں وہ بتاتے تھے کہ ان پر کتنا بوجھ ہے جو انہوں نے پی پی پی حکومت کو بچا کر اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا تھا۔ اس فرینڈلی اپوزیشن کے درمیان کسی نے پنجاب میں بگڑتے ہوئے حالات پر غور نہیں کیا اور اب ایک سرکاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دو ہزار دس میں پورے ملک میں پانچ لاکھ جرائم ہوئے جن میں سے چار لاکھ صرف پنجاب میں ہوئے جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس صوبے میں گورنس کی کیا درگت بن چکی ہے لیکن پھر بھی مسلم لیگ نواز کو کہیں سے بھی کسی قسم کی تنقید یا سوال و جواب ، یا سپریم کورٹ میں کسی ریفرنس یا سوموٹو کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور انہوں نے توپوں کا رخ وفاقی حکومت کی طرف کیے رکھا۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مسلم لیگ نواز نے عمران خان کے لاہور میں کامیاب جلسہ کے بعد اپنا پلان بدلا ہے اور انہیں احساس ہوا ہے کہ شاید لوگوں کو اکھٹا کرکے وہ زرداری یا ان کی حکومت کو نہیں ہٹا سکیں گے کیونکہ اب یہ سٹریٹ پاور عمران کے پاس آگئی ہے جس کی ایک کال پر اب نوجوان، عورتیں، بچے اور بوڑھے سڑکوں پر آ سکتے ہیں لہذا بہتر ہو گا کہ وہ عدالتوں میں پیش ہوں۔
تجزیہ کاروں کے خیال میں نواز شریف کو اس بات کا احساس ہے کہ اگر زرداری حکومت ایک سال مزید چلتی ہے اور عمران خان کو مزید وقت مل جاتا ہے کہ وہ پنجاب میں لوگوں تک پہنچے تو پھر شاید نواز شریف کے لیے اگلا الیکشن جیتنا مشکل ہو جائے گا اور پارٹی کا حشر وہی ہو گا جو اس کا دو ہزار دو کے انتخابات میں ہوا تھا جب پارٹی کو بیس کے قریب سیٹیں ملی تھیں۔ یہ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ نواز کو اپنی سیاسی بقاء اس میں نظر آتی ہے کہ چاہے دو سال کے لیے جمہوریت کا بستر گول ہوتا ہے ہو جائے لیکن وہ کسی صورت زرداری کو حکومت میں نہیں رہنے دیں گے اور نہ ہی وہ عمران کو ایک سال مزید دیں گے تاکہ وہ ان کا ووٹ بنک پوری طرح نہ لوٹا جا سکے۔
ذرائع یہ بھی کہتے ہیں کہ اس وقت موجودہ سسٹم کو ختم کرنے کا سب سے بڑا فائدہ نواز شریف کو ہوگا اور نقصان پی پی پی کے بعد عمران کو ہو گا جو کہ ابھی اتنی جلدی نئے انتخابات کے لیے تیار نہیں ہے اور نواز کو مزید وقت دینے سے نفرت ہے کیونکہ مزید وقت کا مطلب ان کی ممکنہ سیاسی موت ہے۔
مبصرین کے خیال میں عدالت نے بھی نواز شریف کو دیکھ کر کچھ جلدی کی ہے جس سے بابر اعوان کو کھل کر ججوں پر وار کرنے کا موقع مل گیا اور انہوں نے اس موقع سے خوب فائدہ اٹھایا۔ بابر اعوان نے اس پورے عدالتی اور سیاسی کھیل کی کڑیاں موجودہ چیف جسٹں افتخار محمد چوہدری اور پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ سے یہ کہ کر ملا دیں کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے کزن ہیں۔ بابر اعوان تاہم کزن کو ٹیلنٹڈ کہنے سے اپنے آپ کو نہ روک سکے تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان میں سے ٹیلنٹڈ کون ہے۔ چیف جسٹں یا رانا ثناء اللہ؟
تاہم بابر اعوان اپنی دھواں دھار پریس کانفرنس جس کے لیے وہ مشہور ہیں، دن بھر کی عدالت کارروائی، نواز شریف کے دلائل اور اس کے بعد دیے گئے فیصلوں کے اثرات کافی حد تک زائل کرنے میں کامیاب رہے۔ بابر اعوان نے کھل کر ججوں پر حملے کیے کیونکہ ایک وکیل ہونے کے ناطے انہیں یہ احساس ہو گیا تھا کہ چیف جسٹں نے نواز شریف کے کیس میں کچھ ضرورت سے زیادہ کام کر دیا ہے۔ انہیں اس بات کا احساس تھا کہ چیف جسٹں نے ایک ایسا کام کیا ہے جس پر سب سے پہلے وکلاء برادری کے لوگ اختلاف کریں گے اور پھر میڈیا سوالات اٹھائے گا۔
اور شام تک یہی ہوا جب جسٹں طارق محمود جیسے ریٹائرڈ ججوں نے بھی نہ چاہتے ہوئے حکومت کے موقف کی ہاں میں ہاں ملائی کہ سپریم کورٹ نے کچھ کام جلدی میں کر دیئے ہیں اور انہوں نے سب پارٹیوں کو بلا کر سننے کی بجائے، محض نواز شریف کے کہنے پر کمیشن کی تشکیل کے علاوہ حسین حقانی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ڈال دیا جس سے پتہ چلا کہ معاملہ اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے جتنا ہم سن رہے تھے۔
اس سارے معاملے کو مزید ہوا اس وقت ملی جب حسین حقانی نے نواز شریف پر شدید جوابی حملہ کیا اور کہا کہ ان کا سعودی عرب میں کوئی گھر انتظار نہیں کر رہا لہذا وہ اپنا نام ای سی ایل پر نہ ہونے کے باوجود پاکستان چھوڑنے کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتے تھے۔ ان کا اشارہ نواز شریف کے دس سال پہلے ایک ڈیل کے بعد جدہ جانے کے پس منظر میں کیا گیا تھا۔
بابر اعوان اپنی پریس کانفرنس میں ججوں پر خوب حملے کے اور انکشاف کیا کہ کیسے صوبائی عدالتوں کے جج نواز شریف کے کاروباری مفادات اور ٹیکس سے متعلقہ کاغذات جمع کرانے کے لیے تیار نہیں تھے اور ہر معاملے پر نواز شریف کو دھڑا دھڑ سٹے آڈرز مل رہے تھے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا کہ حالات بہت خرابی کی طرف جارہے ہیں کیونکہ جمعرات کو ہونے والے حیران کن واقعات نے پاکستان کے پہلے سے ہی لڑکھڑاتے سیاسی ڈھانچے کو مزید کمزور کردیا ہے اور کمزور کرنے والا اور کوئی نہیں بلکہ وہ سیاستدان ہیں جو سیاسی ایشوز پارلمینٹ سے اٹھا کر اب عدالتوں میں لے آئے ہیں جس سے سپریم کورٹ پر بھی دباو بڑھ گیا ہے کہ وہ فیصلے دے جو لیڈر اور عوام سننا چاہتے ہی، لیکن ایک مبصر کے بقول اس پورے پس منظر میں سپریم کورٹ کا اپنا امیج خراب ہونے کا بھی خدشہ ہے جس کا ثبوت بابر اعوان اور ان کے ساتھ بیٹھے وزیروں کی پریس کانفرنس اور کچھ عدلیہ نواز وکیلوں کی ٹاک شوز میں کی گئی گفتگو سے کیا جا سکتا ہے۔
پرنٹ کریں
http://************************/situat...judiciary-move








[/IMG]



