asifukp liked this post
Mashallah.
That's what may u can shear.
![]()
Chachens pakistan muslamano balkay baqi dunya ke muslims say zyada Denndar or Islam per marnay walay loog he, aagar yaqeen nahi aata to google per search kerlay or apni ankhoo say dekh le.
adnan apml bhai thankyou very much to sharing this video ALLAH apko khush rakhey ameen![]()
Last edited by Zobina; 24-Dec-2011 at 08:44 AM.
roshansachai liked this post
sohails thanked for this post
What a great feeling, mix with tears and joy... Allah o Akbar...
Mashallah Mashallah
Chechan will get fredom very soon , because of their respect towards the Prophet
Insha Allah.
roshansachai liked this post
Beautiful Post i have ever seen......................Jazakallah
brother. This video brought tears in my eyes.
again.
Khalid thanked for this post
very good vedio, 100 saal se ziyada ye chachan musalmaan russia k qabzay mein rahay,wahan par masjid bananay ki ijazat nahi thi,lekin ALLAH Rabb ul Izzat ne apni aur apnay Mehboob
ki mohabbat in k dil mein zinda rakhi,isi ummat k liay tu farmaya hay NABI
ne,عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَيَأْتِيَنَّ عَلَي أَحَدِکُمْ يَوْمٌ وَلَا يَرَانِي، ثُمَّ لَأَنْ يَرَانِي أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ مَعَهُمْ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَهَذَا لَفْظُ مُسْلِمٍ. الحديث رقم 20 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : المناقب، باب : علاماتِ النبوة في الإسلام، 3 / 315، الرقم : 3394، ومسلم في الصحيح، کتاب : الفضائل، باب : فضل النظر إليه صلي الله عليه وآله وسلم وتمنيه، 4 / 1836، الرقم : 2364، وابن حبان في الصحيح، 15 / 167، الرقم : 6765، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 313، الرقم : 8126، والعسقلاني في فتح الباري، 6 / 607، والنووي في شرحه علي صحيح مسلم، 15 / 118، والسيوطي في الديباج، 6 / 348، الرقم : 2364.
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد مصطفیٰ کی جان ہے! تم لوگوں پر ایک دن ایسا ضرور آئے گا کہ تم مجھے دیکھ نہیں سکو گے، لیکن میری زیارت کرنا (اس وقت) ہر مومن کے نزدیک اس کے اہل اور مال سے زیادہ محبوب ہو گی۔ ‘‘,,,,عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِي يَأْتُوْنَ بَعْدِي يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوِ اشْتَرَي رُؤْيَتِي بِأَهْلِهِ وَمَالِهِ.
رَوَاهُ الْحَاکِمُ.
وَقَالَ الْحَاکِمُ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِْسْنَادِ.
الحديث رقم 24 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 4 / 95، الرقم : 6991.
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یقیناً میری اُمت میں میرے بعد ایسے لوگ بھی آئیں گے جن میں سے ہر ایک کی خواہش یہ ہوگی کہ وہ اپنے اہل و مال کے بدلے (اگر) میرا دیدار (ملے تو وہ) خرید لے (یعنی اپنے اہل و مال کی قربانی دے کر ایک مرتبہ مجھے دیکھ لے)۔ ‘‘
825 / 25. عَنْ عَمَرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيْهِ، عَنْ جدِّهِ رضي الله عنهم قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : أَيُّ الْخَلْقِ أَعْجَبُ إِلَيْکُمْ إِيْمَانًا؟ قَالُوْا : الْمَلَائِکَةُ. قَالَ : وَمَا لَهُمْ لاَ يُؤْمِنُوْنَ وَهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ؟ قَالُوْا : فَالنَّبِيُّوْنَ. قَالَ : وَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ عَلَيْهِمْ؟ قَالُوْا : فَنَحْنُ. قَالَ : وَمَا لَکُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِکُمْ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : إِنَّ أَعْجَبَ الْخَلْقِ إِلَيَّ إِيْمَانًا لَقَوْمٌ يَکُوْنُوْنَ مِنْ بَعْدِي يَجِدُوْنَ صُحُفًا فِيْهَا کِتَابٌ يُؤْمِنُوْنَ بِمَا فِيْهَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَبُوْيَعْلَي وَالْحَاکِمُ.
وَقَالً الْحَاکِمُ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيحُ الإِْسْنَادِ.
الحديث رقم 25 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 12 / 87، الرقم : 12560، وأبو يعلي عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه في المسند، 1 / 147، الرقم : 160، و الحاکم في المستدرک، 4 / 96، الرقم : 6993، والخطيب التبريزي في مشکاة المصابيح، 3 / 403، الرقم : 6288، والحسيني في البيان والتعريف، 1 / 130، الرقم : 346، والهيثمي عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه في مجمع الزوائد، 8 / 330، 6 / 65، وقال : رواه البزار وأحمد .
’’حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ بواسطہ اپنے والد، اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام سے فرمایا : کون سی مخلوق تمہارے نزدیک ایمان کے لحاظ سے سب سے عجیب تر ہے؟ صحابہ نے عرض کیا : فرشتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : فرشتے کیوں ایمان نہ لائیں جبکہ وہ ہر وقت اپنے رب کی حضوری میں رہتے ہیں۔ انہوں نے عرض کیا : پھر انبیاء کرام علیہم السلام۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اور انبیاء کرام علیہم السلام کیوں ایمان نہ لائیں جبکہ ان پر تو وحی نازل ہوتی ہے۔ انہوں نے عرض کیا : تو پھر ہم (ہی ہوں گے)۔ فرمایا : تم ایمان کیوں نہیں لاؤ گے جبکہ بنفس نفیس میں خود تم میں جلوہ افروز ہوں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مخلوق میں میرے نزدیک پسندیدہ اور عجیب تر ایمان ان لوگوں کا ہے جو میرے بعد پیدا ہوں گے۔ کئی کتابوں کو پائیں گے مگر (صرف میری) کتاب میں جو کچھ لکھا ہو گا (بن دیکھے) اس پر ایمان لائیں گے۔ ‘‘
826 / 26. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : وَدِدْتُ أَنِّي لَقِيْتُ إِخْوَانِي، قَالَ : فَقَالَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم : أَوَ لَيْسَ نَحْنُ إِخْوَانَکَ؟ قَالَ : أَنْتُمْ أَصْحَابِي، وَلَکِنْ إِخْوَانِي الَّذِيْنَ آمَنُوْا بِي وَلَمْ يَرَوْنِي. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ.
الحديث رقم 26 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 3 / 155، الرقم : 12601، والطبراني في المعجم الکبير، 1 / 212، الرقم : 576، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 67، والحسيني في البيان والتعريف، 1 / 32، الرقم : 60 : 2 / 94، الرقم : 1161.
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں نے یہ خواہش کی کہ میں اپنے بھائیوں سے ملوں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا : (یا رسول اللہ!) کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم میرے صحابہ ہو لیکن میرے بھائی وہ ہوں گے جو مجھ پر ایمان لائیں گے حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا بھی نہیں ہو گا۔ ‘‘
827 / 27. عَنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عُمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ رضي الله عنه عَنْ أَبِيْهِ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : (يَارَسُوْلَ اﷲ) أَ رَأَيْتَ مَنْ آمَنَ بِکَ وَلَمْ يَرَکَ وَصَدَّقَکَ وَلَمْ يَرَکَ؟ قَالَ : طُوْبَي لَهُمْ طُوْبَي لَهُمْ أُوْلئِکَ مِنَّا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.
الحديث رقم 27 : أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 8 / 276، الرقم : 8624.
’’حضرت عبدالرحمن بن ابی عمرہ انصاری رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرنے ہیں کہ انہوں نے بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں عرض کیا : (یا رسول اﷲ!) آپ ان لوگوں کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو آپ پر ایمان لائے حالانکہ انہوں نے آپ کو دیکھا تک نہیں، آپ کی تصدیق کی حالانکہ آپ کو دیکھا تک نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ان کے لئے خوشخبری ہے ان کے لئے خوشخبری ہے وہ ہم میں سے ہی ہیں۔ ‘‘
828 / 28. عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم قَالَ : طُوْبَي لِمَنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي وَطُوْبَي سَبْعَ مَرَّاتٍ لِمَنْ لَمْ يَرَنِي وَآمَنَ بِي.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ.
الحديث رقم 28 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 5 / 257، الرقم : 22268، 22192، 22331، وابن حبان في الصحيح، 16 / 216، الرقم : 7233، والحاکم عن عبداﷲ بن بُسر رضي الله عنه، في المستدرک، 4 / 96، الرقم : 6994، والطبراني في المعجم الکبير، 8 / 259، الرقم : 8009، وفي المعجم الصغير، 2 / 104، الرقم : 858، وأبويعلي عن أنس بن مالک رضي الله عنه في المسند، 6 / 119، الرقم : 3391، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 9 / 99، الرقم : 87، والروياني في المسند، 2 / 311، الرقم : 1266.
’’حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : خوشخبری اور مبارک باد ہو اس کے لئے جس نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا اور سات بار خوشخبری اور مبارک باد ہو اس کے لئے جس نے مجھے دیکھا بھی نہیں اور مجھ پر ایمان لایا۔ ‘‘
829 / 29. عَنْ أَبِي جُمْعَةَ رضي الله عنه قَالَ : تَغَدَّيْنَا مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم وَ مَعَنَا أَبُوْ عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، قَالَ : قَالَ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ! هَلْ أَحْدٌ خَيْرٌ مِنَّا؟ أَسْلَمْنَا مَعَکَ، وَجَاهَدْنَا مَعَکَ، قَالَ : نَعَمْ، قَوْمٌ يَکُوْنُوْنَ مِنْ بَعْدِکُمْ يُؤْمِنُوْنَ بِي وَلَمْ يَرَوْنِي. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ.
وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ : رِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
الحديث رقم 29 : أخرجه الدارمي في السنن، 2 / 398، الرقم : 2844، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 106، الرقم : 17017، والطبراني في المعجم الکبير، 4 / 22، الرقم : 3537، وأبويعلي في المسند، 3 / 128، الرقم : 1559، وابن منده في الإيمان، 1 / 372، الرقم : 210، والهيثي في ممجع الزوائد، 10 / 66.
’’حضرت ابوجمعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے ایک مرتبہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دن کا کھانا کھایا ہمارے ساتھ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ! ہم سے بھی کوئی بہتر ہو گا؟ ہم آپ کی معیت میں ایمان لائے، اور آپ کی ہی معیت میں ہم نے جہاد کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں وہ لوگ جو تمہارے بعد آئیں گے وہ مجھ پر ایمان لائیں گے حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا بھی نہیں ہو گا (وہ اس جہت سے تم سے بھی بہتر ہوں گے)۔ ‘‘
830 / 30. عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْعُلاءِ الْحَضَرَمِيِّ رضي الله عنه قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صلي الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : إِنَّهُ سَيَکُوْنُ فِي آخِرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ قَوْمٌ لَهُمْ مِثْلُ أَجْرِ أَوَّلِهِمْ، يَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ، وَيُقَاتِلُوْنَ أَهْلَ الْفِتَنِ.
رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ .
الحديث رقم 30 : أخرجه البيهقي في دلائل النّبوّة، 6 / 513، والسّيوطي في مفتاح الجنة، 1 / 68.
’’حضرت عبد الرحمن بن علاء حضرمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ مجھے اس (صحابی) نے بتایا جس نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : بے شک اس امت کے آخر (دور) میں ایسے لوگ ہوں گے جن کے لئے اجر اس امت کے اولین (دور کے لوگوں) کے برابر ہو گا، وہ نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے اور فتنہ پرور لوگوں سے جہاد کریں گے۔ ‘‘
[QUOTE=dellacer;817043]![]()
]
Khalid thanked for this post
Khalid liked this post
Thanks for this great video look at Ramzan Qadirov as a leader of Chechnya nation he is doing for his people and Islam on the other hand look at our president & prime minister and ruling elite what they are doing shame on them.
There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)